ان صفات کے بیان میں کہ جن کے ذریعہ دنیا ہی میں جنت والوں اور دوزخ والوں کو پہچان لیا جاتا ہے۔
حَدَّثَنِي أَبُو عَمَّارٍ حُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی عَنْ الْحُسَيْنِ عَنْ مَطَرٍ حَدَّثَنِي قَتَادَةُ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ أَخِي بَنِي مُجَاشِعٍ قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ خَطِيبًا فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ هِشَامٍ عَنْ قَتَادَةَ وَزَادَ فِيهِ وَإِنَّ اللَّهَ أَوْحَی إِلَيَّ أَنْ تَوَاضَعُوا حَتَّی لَا يَفْخَرَ أَحَدٌ عَلَی أَحَدٍ وَلَا يَبْغِ أَحَدٌ عَلَی أَحَدٍ وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ وَهُمْ فِيکُمْ تَبَعًا لَا يَبْغُونَ أَهْلًا وَلَا مَالًا فَقُلْتُ فَيَکُونُ ذَلِکَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ وَاللَّهِ لَقَدْ أَدْرَکْتُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَرْعَی عَلَی الْحَيِّ مَا بِهِ إِلَّا وَلِيدَتُهُمْ يَطَؤُهَا
ابوعمار حسین بن حریث فضل بن موسیٰ حسین مطرف قتادہ مطرف بن عبداللہ بن شخیر حضرت عیاض بن حمار ؓ بنی مجاشع کے بھائی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ایک دن ہمیں خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ پھر مذکورہ حدیث کی طرح حدیث نقل کی اور اسی حدیث میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی فرمائی کہ تم لوگ عاجزی اختیار کرو یہاں تک کہ کوئی کسی پر فخر نہ کرے اور نہ ہی کوئی کسی پر زیادتی کرے اور اسی روایت میں ہے کہ وہ لوگ تم میں مطیع و تابعدار ہیں کہ وہ نہ گھر والوں کو چاہتے ہیں اور نہ ہی مال کو میں نے کہا اے ابوعبداللہ کیا یہ اسی طرح ہوگا انہوں نے کہا ہاں اللہ کی قسم میں نے جاہلیت کے زمانے میں اسی طرح دیکھ لیا ہے اور یہ کہ ایک آدمی کسی قبیلے کی بکریاں چراتا اور وہاں سے اسے گھر والوں کی لونڈی کے علاوہ اور کوئی نہ ملتا تو وہ اسی سے ہمبستری کرتا۔
Iyad. bin Himar reported tbat, while Allahs Messenger ﷺ was delivering an address, he stated that Allah commanded me The rest of the hadith is the same, and there is an addition in it:" Allah revealed to me that we should be humble amongst ourselves and none should show pride upon the others, And it does not behove one to do so, and He also said: There are among you people to follow not caring a bit for their family and property. Qatada said: Abu Abdullah, would this happen? Thereupon he said: Yes. By Allah, I found this in the days of ignorance that a person grazed the goat of a tribe and did not find anyone but their slave-girl (and he did not spare her) but committed adultery with her.
میت پر جنت یا دوزخ پیش کئے جانے قبر کے عذاب اور اس سے پناہ مانگنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَحَدَکُمْ إِذَا مَاتَ عُرِضَ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ إِنْ کَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنْ کَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمِنْ أَهْلِ النَّارِ يُقَالُ هَذَا مَقْعَدُکَ حَتَّی يَبْعَثَکَ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
یحییٰ بن یحیی، مالک نافع حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی آدمی مرجاتا ہے تو صبح و شام اس کا ٹھکانہ اس پر پیش کیا جاتا ہے اگر وہ جنت والوں میں سے ہے تو جنت والوں کا مقام اور اگر وہ دوزخ والوں میں سے ہوتا ہے تو دوزخ والوں کا مقام اسے دکھایا جاتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے کہ یہ تیرا ٹھکانہ ہے جب تک کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تجھے اٹھا کر اس جگہ نہ پہنچادے۔
Ibn Umar reported Allahs Messenger ﷺ as say- ing: When any one of you dies, he is shown his seat (in the Hereafter) morning and evening; if he is amongst the inmates of Paradise (he is shown the seat) from amongst the inmates of Paradise and if he is one from amongst the denizens of Hell (he is shown the seat) from amongst the denizens of Hell, and it would be said to him: That is your seat until Allah raises you on the Day of Resurrection (and sends you to your proper seat).
میت پر جنت یا دوزخ پیش کئے جانے قبر کے عذاب اور اس سے پناہ مانگنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَاتَ الرَّجُلُ عُرِضَ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ إِنْ کَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَالْجَنَّةُ وَإِنْ کَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَالنَّارُ قَالَ ثُمَّ يُقَالُ هَذَا مَقْعَدُکَ الَّذِي تُبْعَثُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
عبد بن حمید عبدالرزاق، معمر، زہری، سالم حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب کوئی آدمی مرجاتا ہے تو صبح شام اس کا ٹھکانہ اس پر پیش کیا جاتا ہے اگر وہ جنت والوں میں سے ہوتا ہے تو جنت اور اگر وہ دوزخ والوں میں سے ہوتا ہے تو دوزخ والوں کا مقام اسے دکھایا جاتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے کہ یہ تیرا ٹھکانہ ہے جہاں قیامت کے دن تجھے اٹھا کر پہنچا دیا جائے گا۔
Ibn Umar (RA) reported that Allahs Apostle ﷺ said: When a person dies, he is shown his seat morning and evening. If he is one amongst the inmates of Paradise (he is shown his seat) in Paradise and if he is one amongst the denizens of Hell-Fire (he is shown his seat) in the Hell-Fire. Then it is said to him: That is your seat where you would be sent on the Day of Resurrection.
میت پر جنت یا دوزخ پیش کئے جانے قبر کے عذاب اور اس سے پناہ مانگنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ قَالَ وَأَخْبَرَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَلَمْ أَشْهَدْهُ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَکِنْ حَدَّثَنِيهِ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ قَالَ بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ لِبَنِي النَّجَّارِ عَلَی بَغْلَةٍ لَهُ وَنَحْنُ مَعَهُ إِذْ حَادَتْ بِهِ فَکَادَتْ تُلْقِيهِ وَإِذَا أَقْبُرٌ سِتَّةٌ أَوْ خَمْسَةٌ أَوْ أَرْبَعَةٌ قَالَ کَذَا کَانَ يَقُولُ الْجُرَيْرِيُّ فَقَالَ مَنْ يَعْرِفُ أَصْحَابَ هَذِهِ الْأَقْبُرِ فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا قَالَ فَمَتَی مَاتَ هَؤُلَائِ قَالَ مَاتُوا فِي الْإِشْرَاکِ فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ تُبْتَلَی فِي قُبُورِهَا فَلَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا لَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُسْمِعَکُمْ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ الَّذِي أَسْمَعُ مِنْهُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ قَالُوا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ فَقَالَ تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ قَالُوا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ قَالَ تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ قَالُوا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ قَالَ تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ قَالُوا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ
یحییٰ بن ایوب، ابوبکر بن ابی شیبہ، یحییٰ بن ایوب، ابن علیہ، سعید جریر، ابی نضرہ حضرت ابوسعید ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث نبی ﷺ سے نہیں سنی ہے بلکہ یہ حدیث میں نے حضرت زید بن ثابت ؓ سے سنی ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ اپنی سواری پر سوار ہو کر بنو نجار کے باغ میں جا رہے تھے اور ہم بھی آپ ﷺ کے ساتھ تھے کہ اچانک وہ گدھا بدک گیا قریب تھا کہ وہ آپ ﷺ کو نیچے گرا دے وہاں اس جگہ دیکھا کہ چھ یا پانچ یا چار قبریں ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کیا کوئی ان قبروالوں کو پہچانتا ہے تو ایک آدمی نے عرض کیا میں ان قبر والوں کو جانتا ہوں آپ نے فرمایا یہ لوگ کب مرے ہیں اس آدمی نے عرض کیا یہ لوگ شرک کی حالت میں مرے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا اس جماعت کو ان قبروں میں عذاب ہو رہا ہے کاش کہ اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ تم لوگ اپنے مردوں کو دفن کرنا چھوڑ دو گے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ وہ تمہیں بھی قبر کا عذاب سنا دے جسے میں سن رہا ہوں پھر آپ ﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا تم لوگ دوزخ کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو صحابہ کرام نے عرض کیا ہم دوزخ کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں پھر آپ ﷺ نے فرمایا تم قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو صحابہ کرام نے عرض کیا ہم قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں آپ نے فرمایا تم ہر قسم کے ظاہری اور باطنی فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگو صحابہ کرام نے عرض کیا ہم ہر قسم کے ظاہری اور باطنی فتنوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں آپ نے فرمایا تم دجال کے فتنہ سے اللہ کی پناہ مانگو صحابہ کرام نے عرض کیا ہم دجال کے فتنہ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں۔
Abu Said al-Khudri reported: I did not hear this hadith from Allahs Apostle ﷺ directly but it was Zaid bin Thabit who narrated it from him. As Allahs Apostle ﷺ was going along with us towards the dwellings of Bani an-Najjar, riding upon his pony, it shied and he was about to fall. He found four, five or six graves there. He said: Who amongst you knows about those lying in the graves? A person said: It is I. Thereupon he (the Holy Prophet) said: In what state did they die? He said: They died as polytheists. He said: These people are passing through the ordeal in the graves. If it were not the reason that you would stop burying (your dead) in the graves on listening to the torment in the grave which I am listening to, I would have certainly made you hear that. Then turning his face towards us, he said: Seek refuge with Allah from the torment of Hell. They said: We seek refuge with Allah from the torment of Hell. He said: Seek refuge with Allah from the torment of the grave. They said: We seek refuge with Allali from the torment of the grave. He said: Seek refuge with Allah from turmoil, its visible and invisible (aspects), and they said: We seek refuge with Allah from turmoil and its visible and invisible aspects and he said: Seek refuge with Allah from the turmoil of the Dajjal, and they said We seek refuge with Allah from the turmoil of the Dajjal.
میت پر جنت یا دوزخ پیش کئے جانے قبر کے عذاب اور اس سے پناہ مانگنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا لَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُسْمِعَکُمْ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ
محمد بن مثنی، ابن بشار محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اگر مجھے اس بات کا خیال نہ ہوتا کہ تم لوگ اپنے مردوں کو دفن کرنا چھوڑ دو گے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ وہ تمہیں قبر کا عذاب سنا دے۔
Anas reported Allahs Apostle ﷺ as saying: If you were not (to abandon) the burying of the dead (in the grave), I would have certainly supplicated Allah that He should make you listen the torment of the grave.
میت پر جنت یا دوزخ پیش کئے جانے قبر کے عذاب اور اس سے پناہ مانگنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ کُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ يَحْيَی الْقَطَّانِ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِي عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ الْبَرَائِ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا غَرَبَتْ الشَّمْسُ فَسَمِعَ صَوْتًا فَقَالَ يَهُودُ تُعَذَّبُ فِي قُبُورِهَا
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، عبیداللہ بن معاذ ابی محمد بن مثنی، ابن بشار محمد بن جعفر، شعبہ، عون بن ابی جحیفہ زہیر بن حرب، محمد بن مثنی، ابن بشار یحییٰ قطان زہیر یحییٰ براء، حضرت ابوایوب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سورج غروب ہوجانے کے بعد باہر نکلے تو آپ ﷺ نے کچھ آواز سنی تو آپ نے فرمایا یہودیوں کو ان کی قبروں میں عذاب ہو رہا ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Ayyub through some other chains of transmitters (and the words are):" Allahs Messenger ﷺ went out after the sun had set and he heard some sound and said: It is the Jews who are being tormented in their graves.
میت پر جنت یا دوزخ پیش کئے جانے قبر کے عذاب اور اس سے پناہ مانگنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ قَالَ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَتَوَلَّی عَنْهُ أَصْحَابُهُ إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ قَالَ يَأْتِيهِ مَلَکَانِ فَيُقْعِدَانِهِ فَيَقُولَانِ لَهُ مَا کُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ قَالَ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَيَقُولُ أَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ قَالَ فَيُقَالُ لَهُ انْظُرْ إِلَی مَقْعَدِکَ مِنْ النَّارِ قَدْ أَبْدَلَکَ اللَّهُ بِهِ مَقْعَدًا مِنْ الْجَنَّةِ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَرَاهُمَا جَمِيعًا قَالَ قَتَادَةُ وَذُکِرَ لَنَا أَنَّهُ يُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ سَبْعُونَ ذِرَاعًا وَيُمْلَأُ عَلَيْهِ خَضِرًا إِلَی يَوْمِ يُبْعَثُونَ
عبد بن حمید یونس بن محمد بن شیبان عبدالرحمن قتادہ، حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا جب کسی بندے کو قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی اس سے منہ پھیر کر واپس چلے جاتے ہیں تو وہ مردہ ان کی جوتیوں کی آواز سنتا ہے آپ نے فرمایا اس مردے کے پاس دو فرشتے آتے ہیں وہ اس مردے کو بٹھا کر کہتے ہیں کہ تو اس آدمی (یعنی رسول اللہ ﷺ کے بارے میں کیا کہتا ہے اگر وہ مومن ہو تو کہتا ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں تو پھر اس سے کہا جاتا ہے کہ اپنے دوزخ والے ٹھکانے کو دیکھ اس کے بدلے میں اللہ نے تجھے جنت میں ٹھکانہ دیا ہے اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا وہ مردہ دونوں ٹھکانوں کو دیکھتا ہے حضرت قتادہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم سے یہ بات کردی گئی کہ اس مومن کی قبر میں ستر ہاتھ کشادگی کردی جاتی ہے اور قیامت کے دن تک کے لئے اس کی قبر کو راحت و آرام سے بھر دیا جاتا ہے۔
Anas bin Malik (RA) reported Allahs Apostle ﷺ having said: When the servant is placed in his grave and his companions retrace their steps arid he hears the noise of the footsteps, then two angels come to him and make him sit and say to him: What you have to say about this person (the Holy Prophet)? If he is d believer, lie would say: I bear testimony to the fact that he is a servant of Allali and His Messenger. Then it would be said to him: Look to your seat in the Hell- Fire, for Allah has substituted (the seat of yours) with a seat in Paradise. Allahs Messenger ﷺ said: He would be shown both the seats. Qatada said: It was mentioned to us that his grave (the grave of a believer) expands to seventy cubits and is full with verdure until the Day when they would be resurrected.
میت پر جنت یا دوزخ پیش کئے جانے قبر کے عذاب اور اس سے پناہ مانگنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمَيِّتَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ إِنَّهُ لَيَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِهِمْ إِذَا انْصَرَفُوا
محمد بن منہال ضریر یزید بن زریع سعید بن ابی عروبہ قتادہ، حضرت انس بن مالک ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میت کو جب اس کی قبر میں رکھ دیا جاتا ہے جب واپس جاتے ہیں تو یہ مردہ ان کی جوتیوں کی آواز سنتا ہے۔
Anas bin Malik (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said: When the dead body. is placed in the grave, he listens to the sound of the shoes (as his friends and relatives return after burying him).
میت پر جنت یا دوزخ پیش کئے جانے قبر کے عذاب اور اس سے پناہ مانگنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَطَائٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَتَوَلَّی عَنْهُ أَصْحَابُهُ فَذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ شَيْبَانَ عَنْ قَتَادَةَ
عمر بن زرارہ عبد الوہاب ابن عطاء، سعید قتادہ، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا جب بندے کو اس کی اپنی قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی اس سے منہ پھیر کر واپس ہوتے ہیں پھر شیبان عن قتادہ کی حدیث کی طرح حدیث ذکر کی۔
Anas bin Malik (RA) reported that Allahs Apostle ﷺ said: When the servant is placed in his grave and his friends retrace their steps. The rest of the liadith is the same as transmitted by Qatada.
میت پر جنت یا دوزخ پیش کئے جانے قبر کے عذاب اور اس سے پناہ مانگنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارِ بْنِ عُثْمَانَ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ قَالَ نَزَلَتْ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ فَيُقَالُ لَهُ مَنْ رَبُّکَ فَيَقُولُ رَبِّيَ اللَّهُ وَنَبِيِّي مُحَمَّدٌ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَلِکَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ
محمد بن بشار، ابن عثمان عبدی محمد بن جعفر، شعبہ، علقمہ بن مرثد سعید بن عبیدہ حضرت براء بن عازب ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا یہ آیت کریمہ (يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ ) 14۔ ابراہیم: 27) قبر کے عذاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے مردے سے کہا جاتا ہے کہ تیرا رب کون ہے وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے اور میرے نبی محمد ﷺ ہیں تو اللہ عزوجل کے فرمان یثبت کا یہ معنی ہے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو دنیا وآخرت کی زندگی میں ثابت قدم رکھتا ہے کہ جو قول ثابت کے ساتھ ایمان لائے۔
Al-Bara bin Azib (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: This verse:" Allah grants steadfastness to those who believe with firm word," was rereaied in connection with the torment of the grave. It would be said to him: Who is your Lord? And he would say: Allah is my Lord and Muhammad is my Apostle ﷺ , and that is (what is implied) by the words of Allah, the Exalted:" Allah keeps steadfast those who believe with firm word in this world and in the Hereafter."
میت پر جنت یا دوزخ پیش کئے جانے قبر کے عذاب اور اس سے پناہ مانگنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنُونَ ابْنَ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ خَيْثَمَةَ عَنْ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ قَالَ نَزَلَتْ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن مثنی، ابوبکر بن نافع، عبدالرحمن ابن مہدی سفیان، خیثمہ حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ یثبت اللہ الذین قبر کے عذاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
Al-Bara bin Azib (RA) reported that this verse:" Allah keeps steadfast those who believe with firm word in th;s world and the Hereafter," was revealed in con- nection with the torment of the grave.
میت پر جنت یا دوزخ پیش کئے جانے قبر کے عذاب اور اس سے پناہ مانگنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا بُدَيْلٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ إِذَا خَرَجَتْ رُوحُ الْمُؤْمِنِ تَلَقَّاهَا مَلَکَانِ يُصْعِدَانِهَا قَالَ حَمَّادٌ فَذَکَرَ مِنْ طِيبِ رِيحِهَا وَذَکَرَ الْمِسْکَ قَالَ وَيَقُولُ أَهْلُ السَّمَائِ رُوحٌ طَيِّبَةٌ جَائَتْ مِنْ قِبَلِ الْأَرْضِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْکِ وَعَلَی جَسَدٍ کُنْتِ تَعْمُرِينَهُ فَيُنْطَلَقُ بِهِ إِلَی رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ يَقُولُ انْطَلِقُوا بِهِ إِلَی آخِرِ الْأَجَلِ قَالَ وَإِنَّ الْکَافِرَ إِذَا خَرَجَتْ رُوحُهُ قَالَ حَمَّادٌ وَذَکَرَ مِنْ نَتْنِهَا وَذَکَرَ لَعْنًا وَيَقُولُ أَهْلُ السَّمَائِ رُوحٌ خَبِيثَةٌ جَائَتْ مِنْ قِبَلِ الْأَرْضِ قَالَ فَيُقَالُ انْطَلِقُوا بِهِ إِلَی آخِرِ الْأَجَلِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَيْطَةً کَانَتْ عَلَيْهِ عَلَی أَنْفِهِ هَکَذَا
عبیداللہ بن عمر قواریری حماد بن زید بدیل عبداللہ بن شقیق حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ جب کسی مومن کی روح نکلتی ہے تو دو فرشتے اسے لے کر اوپر چڑھتے ہیں تو آسمان والے کہتے ہیں کہ پاکیزہ روح زمین کی طرف سے آئی ہے اللہ تعالیٰ تجھ پر اور اس جسم پر کہ جسے تو آباد رکھتی تھی رحمت نازل فرمائے پھر اس روح کو اللہ عزوجل کی طرف لے جایا جاتا ہے پھر اللہ فرماتا ہے کہ تم اسے آخری وقت کے لئے (یعنی سدرۃ المنتہی) لے چلو آپ ﷺ نے فرمایا کافر کی روح جب نکلتی ہے تو آسمان والے کہتے ہیں کہ خبیث روح زمین کی طرف سے آئی ہے پھر اسے کہا جاتا ہے کہ تم اسے آخری وقت کے لئے سجین کی طرف لے چلو حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی چادر اپنی ناک مبارک پر اس طرح لگالی تھی (کافر کی روح کی بدبو ظاہر کرنے کے لییے آپ ﷺ نے ایسا فرمایا)۔
Abu Hurairah (RA) reported: When the soul of a believer would go out (of his body) it would be received bv two angels who would take it to the sky. Hammad (one of the narrators in the chain of transmitters) mentioned the swetness of its odour, (and further said) that the dwellers of the sky say: Here comes the pious soul from the side of the earth Let there be blessings of Allah upon the body in which it resides. And it is carried (by the angels) to its Lord, the Exalted and Glorious. He would say: Take it to its destined end. And if he is a nonbeliever and as it (the soul) leaves the body-Hammad made a mention of its foul smell and of its being cursed-the dwellers of the sky say: There comes a dirty soul from the side of the earth, and it would be said: Take it to its destined end. Abu Hurairah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ put a thin cloth which was with him upon his nose while making a mention (of the foul smell) of the soul of a non-believer.
میت پر جنت یا دوزخ پیش کئے جانے قبر کے عذاب اور اس سے پناہ مانگنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ عُمَرَ بْنِ سَلِيطٍ الْهُذَلِيُّ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ قَالَ أَنَسٌ کُنْتُ مَعَ عُمَرَ ح و حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کُنَّا مَعَ عُمَرَ بَيْنَ مَکَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَتَرَائَيْنَا الْهِلَالَ وَکُنْتُ رَجُلًا حَدِيدَ الْبَصَرِ فَرَأَيْتُهُ وَلَيْسَ أَحَدٌ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَآهُ غَيْرِي قَالَ فَجَعَلْتُ أَقُولُ لِعُمَرَ أَمَا تَرَاهُ فَجَعَلَ لَا يَرَاهُ قَالَ يَقُولُ عُمَرُ سَأَرَاهُ وَأَنَا مُسْتَلْقٍ عَلَی فِرَاشِي ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا عَنْ أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُرِينَا مَصَارِعَ أَهْلِ بَدْرٍ بِالْأَمْسِ يَقُولُ هَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ غَدًا إِنْ شَائَ اللَّهُ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ فَوَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ مَا أَخْطَئُوا الْحُدُودَ الَّتِي حَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَجُعِلُوا فِي بِئْرٍ بَعْضُهُمْ عَلَی بَعْضٍ فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی انْتَهَی إِلَيْهِمْ فَقَالَ يَا فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ وَيَا فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَکُمْ اللَّهُ وَرَسُولُهُ حَقًّا فَإِنِّي قَدْ وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي اللَّهُ حَقًّا قَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ کَيْفَ تُکَلِّمُ أَجْسَادًا لَا أَرْوَاحَ فِيهَا قَالَ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ غَيْرَ أَنَّهُمْ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يَرُدُّوا عَلَيَّ شَيْئًا
اسحاق بن عمر بن سلیط ہذلی سلیمان بن مغیرہ ثابت انس، عمر شیبان بن فروخ سلیمان بن مغیرہ ثابت حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ہم مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان میں حضرت عمر ؓ کے ساتھ تھے تو ہم سب چاند دیکھنے لگے میری نظر ذرا تیز تھی تو میں نے چاند دیکھ لیا میرے علاوہ ان میں سے کسی نے چاند نہیں دیکھا اور نہ ہی کسی نے یہ کہا کہ میں نے چاند دیکھ لیا ہے حضرت انس کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر ؓ سے کہا کیا آپ کو چاند دکھائی نہیں دے رہا حضرت عمر ؓ نے فرمایا میں عنقریب چاند دیکھوں گا اور میں اپنے بستر پر چت لیٹا ہوا تھا کہ انہوں نے ہم سے بدر والوں کا واقعہ بیان کرنا شروع کردیا اور فرمانے لگے کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں جنگ بدر سے ایک دن پہلے بدر والوں کے ٹھکانے دکھانے لگے آپ ﷺ فرماتے جاتے کہ اگر اللہ نے چاہا تو کل فلاں اس جگہ گرے گا حضرت عمر ؓ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے وہ لوگ اس حد سے نہ ہٹے کہ جو حد رسول اللہ ﷺ نے مقرر فرما دی حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ پھر وہ سب ایک کنوئیں میں ایک دوسرے پر گرا دیئے گئے پھر رسول اللہ ﷺ چل پڑے یہاں تک کہ ان کی طرف آگئے اور فرمایا اے فلاں بن فلاں اور اے فلاں بن فلاں کیا تم نے وہ کچھ پا لیا ہے کہ جس کا تم سے اللہ اور اس کے رسول نے وعدہ کیا تھا حضرت عمر ؓ عرض کرنے لگے اے اللہ کے رسول آپ ﷺ بےجان جسموں سے کیسے بات فرما رہے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا تم لوگ ان سے زیادہ میری بات سننے والے نہیں ہو سوائے اس کے کہ یہ مجھے کچھ جواب دینے کی قدرت نہیں رکھتے۔
Anas bin Malik (RA) reported: We were along with Umar between Makkah and Madinah that we began to look for the new moon. And I was a man with sharp eye- sight, so I could see it, but none except me saw it. I began to say to Umar (RA) : Dont you see it? But he would not see it. Thereupon Umar said: I would soon be able to see it (when it will shine more brightly). I lay upon bed. He then made a mention of the people of Badr to us and said: Allahs Messenger ﷺ showed us one day before (the actual battle) the place of death of the people (participating) in (the Battle) of Badr and he was saying: This would be the place of death of so and so tomorrow, if Allah wills. Umar said: By Him Who sent him with truth, they did not miss the places (of their death) which Allahs Messenger ﷺ had pointed for them. Then they were all thrown in a well one after another. Allahs Messenger ﷺ then went to them and said: O, so and so, the son of so and so; O so and so, the son of so and so, have you found correct what Allah and His Messenger had promised you? I have, however, found absolutely true what Allah had promised with me. Umar said: Allahs Messenger, how are you talking with the bodies without soul in them. Thereupon he said: You cannot hear more distinctly than (their hearing) of what I say, but with this exception that they have not power to make any reply.
میت پر جنت یا دوزخ پیش کئے جانے قبر کے عذاب اور اس سے پناہ مانگنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَکَ قَتْلَی بَدْرٍ ثَلَاثًا ثُمَّ أَتَاهُمْ فَقَامَ عَلَيْهِمْ فَنَادَاهُمْ فَقَالَ يَا أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ يَا أُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ يَا عُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ يَا شَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ أَلَيْسَ قَدْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّکُمْ حَقًّا فَإِنِّي قَدْ وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا فَسَمِعَ عُمَرُ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ کَيْفَ يَسْمَعُوا وَأَنَّی يُجِيبُوا وَقَدْ جَيَّفُوا قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ وَلَکِنَّهُمْ لَا يَقْدِرُونَ أَنْ يُجِيبُوا ثُمَّ أَمَرَ بِهِمْ فَسُحِبُوا فَأُلْقُوا فِي قَلِيبِ بَدْرٍ
ہداب بن خالد حماد بن سلمہ ثابت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بدر کے مقتولین کو تین دن تک اسی طرح چھوڑے رکھا پھر آپ ﷺ ان کے پاس آئے اور انہیں آواز دی اور فرمایا اے ابوجہل بن ہشام! اے امیہ بن خلف! اے عقبہ بن ربیعہ! اے شیبہ بن ربیعہ! کیا تم نے وہ کچھ نہیں پالیا کہ جس کا تم سے تمہارے رب نے سچا وعدہ کیا تھا میں نے تو وہ کچھ پالیا ہے کہ جس کا میرے رب نے مجھ سے سچا وعدہ کیا تھا حضرت عمر ؓ نے نبی ﷺ کا یہ فرمانا سنا تو عرض کیا اے اللہ کے رسول! (یہ تو مرچکے ہیں) یہ کیسے سن سکتے ہیں اور کیسے جواب دے سکتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے تم میری بات کو ان سے زیادہ سننے والے نہیں ہو لیکن یہ جواب دینے کی قدرت نہیں رکھتے پھر آپ ﷺ نے حکم فرمایا کہ انہیں گھسیٹ کر بدر کے کنوئیں میں ڈال دو تو انہیں ڈال دیا گیا۔
Anas bin Malik (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ let the dead bodies of the unbelievers who fought in Badr (lie unburied) for three days. He then came to them and sat by their side and called them and said: O Abu Jahl bin Hisham, O Umayya bin Khalaf, O Utba bin Rabila, O Shaiba bin Rabiah, have you not found what your Lord had promised with you to be correct? As for me, I have found the promises of my Lord to be (perfectly) correct. Umar listened to the words of Allahs Apostle ﷺ and said: Allahs Messenger, how do they listen and respond to you? They are dead and their bodies have decayed. Thereupon he (the Holy Prophet) said: By Him in Whose Hand is my life, what I am saying to them, even you cannot hear more distinctly than they, but they lack the power to reply. Thenhe commanded that they should be buried in the well of Badr.
میت پر جنت یا دوزخ پیش کئے جانے قبر کے عذاب اور اس سے پناہ مانگنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِي طَلْحَةَ ح و حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ ذَکَرَ لَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ عَنْ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ لَمَّا کَانَ يَوْمُ بَدْرٍ وَظَهَرَ عَلَيْهِمْ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِبِضْعَةٍ وَعِشْرِينَ رَجُلًا وَفِي حَدِيثِ رَوْحٍ بِأَرْبَعَةٍ وَعِشْرِينَ رَجُلًا مِنْ صَنَادِيدِ قُرَيْشٍ فَأُلْقُوا فِي طَوِيٍّ مِنْ أَطْوَائِ بَدْرٍ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَی حَدِيثِ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ
یوسف بن حماد عبدالاعلی سعید قتادہ، انس بن مالک، طلحہ محمد بن حاتم، روح بن عبادہ، سعید بن ابی عروبہ قتادہ، حضرت ابوطلحہ سے روایت ہے کہ جب بدر کا دن ہوا اور اللہ کے نبی کو کافروں پر غلبہ ہوا تو آپ نے حکم فرمایا کہ کچھ اوپر تیس آدمی اور راوی کی روایت میں ہے کہ چوبیس قریشی سرداروں کو بدر کے کنووں میں سے ایک کنوئیں میں ڈال دو اور پھر باقی روایت مذکورہ روایت ثابت عن انس کی طرح ہے۔
Aba Talha reported: When it was the Day of Badr and Allahs Apostle ﷺ had gained victory over them (the Makkahns), he commanded more than twenty persons, and in another hadith these are counted as twenty-four persons, from the non-believers of the Quraish to be thrown into the well of Badr. The rest of the hadith is the same.
قیامت کے دن حساب کے ثبوت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَعِيلَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حُوسِبَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عُذِّبَ فَقُلْتُ أَلَيْسَ قَدْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا فَقَالَ لَيْسَ ذَاکِ الْحِسَابُ إِنَّمَا ذَاکِ الْعَرْضُ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عُذِّبَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن حجر اسماعیل ابوبکر بن علیہ ایوب عبداللہ بن ابی ملیکہ ؓ سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن جس آدمی کا حساب ہوگیا وہ عذاب میں ڈال دیا گیا میں نے عرض کیا کیا اللہ عزوجل نے نہیں فرمایا فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا تو اس سے حساب لیں گے آسان حساب تو آپ ﷺ نے فرمایا یہ حساب نہیں ہے بلکہ یہ تو صرف پیشی ہے قیامت کے دن جس سے حساب مانگ لیا گیا وہ عذاب میں ڈال دیا گیا۔
Aisha reported that Allahs Messenger ﷺ said: He who is taken to account on the Day of Resurrection is in fact put to torment. I said: Has Allah, the Exalted and Glorious, not said this: He will be made subject to an easy reckoning" (Ixxxiv. 8)? Thereupon he said: (What it implies) is not the actual reckoning, but only the presentation of ones deeds to Him. He who is thoroughly examined in reckoning is put to torment.
قیامت کے دن حساب کے ثبوت کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَکِيُّ وَأَبُو کَامِلٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
ابوربیع عتکی، ابوکامل حماد بن زید ایوب حضرت ایوب اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح حدیث بیان کرتے ہیں۔
This hadith has been narrated on the authority of Ayyub with the same chain of transmitters.
قیامت کے دن حساب کے ثبوت کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَکَمِ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ الْقُشَيْرِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ أَحَدٌ يُحَاسَبُ إِلَّا هَلَکَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَيْسَ اللَّهُ يَقُولُ حِسَابًا يَسِيرًا قَالَ ذَاکِ الْعَرْضُ وَلَکِنْ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ هَلَکَ
عبدالرحمن بن بشر حکم عبدی یحییٰ ابن سعید قطان ابویونس قشیری ابن ابی ملیکہ قاسم سیدہ عائشہ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی بھی ایسا آدمی نہیں ہے کہ جس سے حساب مانگا گیا ہو اور وہ ہلاک نہ ہوگیا ہو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا اللہ تعالیٰ نے حسابا یسیرا یعنی آسان حساب نہیں فرمایا آپ ﷺ نے فرمایا یہ تو پیشی ہے لیکن جس سے حساب مانگ لیا گیا وہ ہلاک ہوگیا۔
Aisha reported Allahs Apostle ﷺ as saying: Everyone who is reckoned thoroughly is undone. I said: Allahs Messenger, has Allah not called (reckoning) as easy reckoning? Thereupon he said.. It implies only presenta- tion of (ones deeds to Him), but if one is thoroughly examined in reckoning, he in fact is undone.
قیامت کے دن حساب کے ثبوت کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنِي يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ هَلَکَ ثُمَّ ذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي يُونُسَ
عبدالرحمن بن بشر یحییٰ قطان عثمان بن اسود ابن ابی ملیکہ سیدہ عائشہ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتی ہیں آپ ﷺ نے فرمایا جس سے حساب مانگ لیا گیا وہ ہلاک ہوگیا ابویونس کی روایت کی طرح حدیث ذکر کی۔
Aisha reported Allahs Apostle ﷺ as saying: He who is examined thoroughly In reckoning is undone.
موت کے وقت اللہ تعالیٰ کی ذات سے اچھا گمان رکھنے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّائَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ وَفَاتِهِ بِثَلَاثٍ يَقُولُ لَا يَمُوتَنَّ أَحَدُکُمْ إِلَّا وَهُوَ يُحْسِنُ بِاللَّهِ الظَّنَّ
یحییٰ بن یحیی، یحییٰ بن زکریا، اعمش، ابی سفیان، حضرت جابر سے روایت فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے آپ ﷺ کی وفات کے تین دن پہلے سنا آپ نے فرمایا تم میں سے کوئی اس وقت تک نہ مرے سوائے اس کے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات سے اچھا گمان رکھتا ہو۔
Jabir reported: I heard Allahs Apostle ﷺ as saying three days before his death: None of you should court death but only hoping good from Allah