اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وسعت اور جہنم سے نجات کے لئے ہر مسلمان کا فدیہ کافر کے ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ أَنَّ عَوْنًا وَسَعِيدَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ حَدَّثَاهُ أَنَّهُمَا شَهِدَا أَبَا بُرْدَةَ يُحَدِّثُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَمُوتُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ إِلَّا أَدْخَلَ اللَّهُ مَکَانَهُ النَّارَ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا قَالَ فَاسْتَحْلَفَهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَحَلَفَ لَهُ قَالَ فَلَمْ يُحَدِّثْنِي سَعِيدٌ أَنَّهُ اسْتَحْلَفَهُ وَلَمْ يُنْکِرْ عَلَی عَوْنٍ قَوْلَهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان بن مسلم ہمام قتادہ، سعید بن جبیر ؓ حضرت قتادہ ؓ سے روایت ہے کہ عون اور سعید بن ابوبردہ کی موجودگی میں ابوبردہ نے حضرت عمر بن عبدالعزیز سے یہ حدیث اپنے باپ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو بھی مسلمان آدمی فوت ہوتا ہے اس کے بدلے اللہ تعالیٰ یہودی یا نصرانی کو جہنم میں داخل کرتے ہیں پس عمر بن عبدالعزیز نے ابوبردہ کو تین بار اس ذات کی قسم دی جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ کیا واقعی اس کے باپ نے یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے روایت کی ہے تو انہوں نے ان کے سامنے قسم اٹھائی قتادہ نے کہا مجھ سے سعید نے قسم لینے کو بیان نہیں کیا اور نہ یہ انہوں نے عون کے اس قول پہ انکار کیا۔
Abu Burda reported on the authority of his father that Allahs Apostle ﷺ said: No Muslim would die but Allah would admit in his stead a Jew or a Christian in Hell-Fire. Umar bin Abdul Aziz (RA) took an oath: By One besides Whom there is no god but He, thrice that his father had narrated that to him from Allahs Messenger ﷺ .
اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وسعت اور جہنم سے نجات کے لئے ہر مسلمان کا فدیہ کافر کے ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ عَفَّانَ وَقَالَ عَوْنُ بْنُ عُتْبَةَ
اسحاق بن ابراہیم، محمد بن مثنی، عبدالصمد بن عبدالوارث ہمام قتادہ ؓ یہ حدیث اس سند سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
This hadith has been transmitted on the authority of Aun bin Utba.
اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وسعت اور جہنم سے نجات کے لئے ہر مسلمان کا فدیہ کافر کے ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ حَدَّثَنَا شَدَّادٌ أَبُو طَلْحَةَ الرَّاسِبِيُّ عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَجِيئُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ نَاسٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ بِذُنُوبٍ أَمْثَالِ الْجِبَالِ فَيَغْفِرُهَا اللَّهُ لَهُمْ وَيَضَعُهَا عَلَی الْيَهُودِ وَالنَّصَارَی فِيمَا أَحْسِبُ أَنَا قَالَ أَبُو رَوْحٍ لَا أَدْرِي مِمَّنْ الشَّکُّ قَالَ أَبُو بُرْدَةَ فَحَدَّثْتُ بِهِ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَقَالَ أَبُوکَ حَدَّثَکَ هَذَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ نَعَمْ
محمد بن عمرو بن عباد بن جبلہ بن ابی رواد حرمی بن عمارہ شداد ابوطلحہ راسبی غیلان بن جریر، حضرت ابوبردہ ؓ اپنے والد کے واسطہ سے نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن مسلمانوں میں سے بعض لوگ پہاڑوں کے برابر گناہوں کو یہودیوں اور نصرانیوں پر ڈال دیں گے آگے راوی کو شک ہے راوی ابوروح نے کہا مجھے معلوم نہیں کہ شک کس کو ہوا ہے ابوبردہ نے کہا تیرے باپ نے یہ حدیث نبی ﷺ سے بیان کی میں نے کہا جی ہاں
Abu Burda reported Allahs Messenger ﷺ as saying: There would come people amongst the Muslims on the Day of Resurrection with as heavy sins as a mountain, and Allah would forgive them and He would place in their stead the Jews and the Christians. (As far as I think), Abu Raub said: I do not know as to who is in doubt. Abu Burda said: I narrated it to Umar bin Abdul Aziz (RA) , whereupon he said: Was it your father who narrated it to you from Allahs Apostle ﷺ ? I said: Yes.
اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وسعت اور جہنم سے نجات کے لئے ہر مسلمان کا فدیہ کافر کے ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عُمَرَ کَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي النَّجْوَی قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ يُدْنَی الْمُؤْمِنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّی يَضَعَ عَلَيْهِ کَنَفَهُ فَيُقَرِّرُهُ بِذُنُوبِهِ فَيَقُولُ هَلْ تَعْرِفُ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ أَعْرِفُ قَالَ فَإِنِّي قَدْ سَتَرْتُهَا عَلَيْکَ فِي الدُّنْيَا وَإِنِّي أَغْفِرُهَا لَکَ الْيَوْمَ فَيُعْطَی صَحِيفَةَ حَسَنَاتِهِ وَأَمَّا الْکُفَّارُ وَالْمُنَافِقُونَ فَيُنَادَی بِهِمْ عَلَی رُئُوسِ الْخَلَائِقِ هَؤُلَائِ الَّذِينَ کَذَبُوا عَلَی اللَّهِ
زہیر بن حرب، اسماعیل بن ابراہیم، ہشام دستوائی، قتادہ، حضرت صفوان بن محرز سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ابن عمر ؓ سے کہا آپ ﷺ نے نبی ﷺ سے سرگوشی کے بارے میں کیا سنا ہے انہوں نے کہا کہ میں نے آپ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا قیامت کے دن ایک مومن اپنے رب کے قریب کیا جائے گا یہاں تک کہ اللہ اس پر اپنی رحمت کا پردہ ڈال دے گا پھر اس سے اس کے گناہوں کا اقرار کروایا جائے گا پھر اللہ فرمائے گا کیا تو جانتا ہے وہ عرض کرے گا اے رب میں جانتا ہوں اللہ فرمائے گا میں نے دنیا میں تیرے گناہوں پر پردہ ڈلا ہے اور آج کے دن تیرے گناہوں کو معاف کرتا ہوں پھر اسے اس کی نیکیوں کا اعمال نامہ دیا جائے گا اور کفار و منافقین کو علی الاعلان لوگوں کے سامنے بلایا جائے گا اور کہا جائے گا یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا۔
Safwan bin Muhriz reported that a person said to Ibn Umar (RA) : How did you hear Allahs Messenger ﷺ as saying something about intimate conversation? He said: I heard him say: A believer will be brought to his Lord, the Exalted and Glorious, on the Day of Resurrection and He would place upon him His veil (of Light) and make him confess his faults and say: Do you recognise (your faults)? He would say: My Lord, I do recognise (them). He (the Lord) would say: I concealed them for you in the world. And today I forgive them. And he would then be given the Book containing (the account of) his good deeds. And so far as the non-believers and hypocrites are concerned, there would be general announcement about them before all creation telling them that these (people, i. e. non-believers and hypocrites) told a lie about Allah.
حضرت کعب بن مالک اور ان کے دو ساتھیوں کی توبہ کی حدیث کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ مَوْلَی بَنِي أُمَيَّةَ أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ ثُمَّ غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوکَ وَهُوَ يُرِيدُ الرُّومَ وَنَصَارَی الْعَرَبِ بِالشَّامِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ کَعْبٍ کَانَ قَائِدَ کَعْبٍ مِنْ بَنِيهِ حِينَ عَمِيَ قَالَ سَمِعْتُ کَعْبَ بْنَ مَالِکٍ يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوکَ قَالَ کَعْبُ بْنُ مَالِکٍ لَمْ أَتَخَلَّفْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا قَطُّ إِلَّا فِي غَزْوَةِ تَبُوکَ غَيْرَ أَنِّي قَدْ تَخَلَّفْتُ فِي غَزْوَةِ بَدْرٍ وَلَمْ يُعَاتِبْ أَحَدًا تَخَلَّفَ عَنْهُ إِنَّمَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمُونَ يُرِيدُونَ عِيرَ قُرَيْشٍ حَتَّی جَمَعَ اللَّهُ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ عَدُوِّهِمْ عَلَی غَيْرِ مِيعَادٍ وَلَقَدْ شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْعَقَبَةِ حِينَ تَوَاثَقْنَا عَلَی الْإِسْلَامِ وَمَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِهَا مَشْهَدَ بَدْرٍ وَإِنْ کَانَتْ بَدْرٌ أَذْکَرَ فِي النَّاسِ مِنْهَا وَکَانَ مِنْ خَبَرِي حِينَ تَخَلَّفْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوکَ أَنِّي لَمْ أَکُنْ قَطُّ أَقْوَی وَلَا أَيْسَرَ مِنِّي حِينَ تَخَلَّفْتُ عَنْهُ فِي تِلْکَ الْغَزْوَةِ وَاللَّهِ مَا جَمَعْتُ قَبْلَهَا رَاحِلَتَيْنِ قَطُّ حَتَّی جَمَعْتُهُمَا فِي تِلْکَ الْغَزْوَةِ فَغَزَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرٍّ شَدِيدٍ وَاسْتَقْبَلَ سَفَرًا بَعِيدًا وَمَفَازًا وَاسْتَقْبَلَ عَدُوًّا کَثِيرًا فَجَلَا لِلْمُسْلِمِينَ أَمْرَهُمْ لِيَتَأَهَّبُوا أُهْبَةَ غَزْوِهِمْ فَأَخْبَرَهُمْ بِوَجْهِهِمْ الَّذِي يُرِيدُ وَالْمُسْلِمُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَثِيرٌ وَلَا يَجْمَعُهُمْ کِتَابُ حَافِظٍ يُرِيدُ بِذَلِکَ الدِّيوَانَ قَالَ کَعْبٌ فَقَلَّ رَجُلٌ يُرِيدُ أَنْ يَتَغَيَّبَ يَظُنُّ أَنَّ ذَلِکَ سَيَخْفَی لَهُ مَا لَمْ يَنْزِلْ فِيهِ وَحْيٌ مِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَغَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْکَ الْغَزْوَةَ حِينَ طَابَتْ الثِّمَارُ وَالظِّلَالُ فَأَنَا إِلَيْهَا أَصْعَرُ فَتَجَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمُونَ مَعَهُ وَطَفِقْتُ أَغْدُو لِکَيْ أَتَجَهَّزَ مَعَهُمْ فَأَرْجِعُ وَلَمْ أَقْضِ شَيْئًا وَأَقُولُ فِي نَفْسِي أَنَا قَادِرٌ عَلَی ذَلِکَ إِذَا أَرَدْتُ فَلَمْ يَزَلْ ذَلِکَ يَتَمَادَی بِي حَتَّی اسْتَمَرَّ بِالنَّاسِ الْجِدُّ فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَادِيًا وَالْمُسْلِمُونَ مَعَهُ وَلَمْ أَقْضِ مِنْ جَهَازِي شَيْئًا ثُمَّ غَدَوْتُ فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَقْضِ شَيْئًا فَلَمْ يَزَلْ ذَلِکَ يَتَمَادَی بِي حَتَّی أَسْرَعُوا وَتَفَارَطَ الْغَزْوُ فَهَمَمْتُ أَنْ أَرْتَحِلَ فَأُدْرِکَهُمْ فَيَا لَيْتَنِي فَعَلْتُ ثُمَّ لَمْ يُقَدَّرْ ذَلِکَ لِي فَطَفِقْتُ إِذَا خَرَجْتُ فِي النَّاسِ بَعْدَ خُرُوجِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْزُنُنِي أَنِّي لَا أَرَی لِي أُسْوَةً إِلَّا رَجُلًا مَغْمُوصًا عَلَيْهِ فِي النِّفَاقِ أَوْ رَجُلًا مِمَّنْ عَذَرَ اللَّهُ مِنْ الضُّعَفَائِ وَلَمْ يَذْکُرْنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی بَلَغَ تَبُوکَ فَقَالَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْقَوْمِ بِتَبُوکَ مَا فَعَلَ کَعْبُ بْنُ مَالِکٍ قَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَبَسَهُ بُرْدَاهُ وَالنَّظَرُ فِي عِطْفَيْهِ فَقَالَ لَهُ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ بِئْسَ مَا قُلْتَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ إِلَّا خَيْرًا فَسَکَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَيْنَمَا هُوَ عَلَی ذَلِکَ رَأَی رَجُلًا مُبَيِّضًا يَزُولُ بِهِ السَّرَابُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُنْ أَبَا خَيْثَمَةَ فَإِذَا هُوَ أَبُو خَيْثَمَةَ الْأَنْصَارِيُّ وَهُوَ الَّذِي تَصَدَّقَ بِصَاعِ التَّمْرِ حِينَ لَمَزَهُ الْمُنَافِقُونَ فَقَالَ کَعْبُ بْنُ مَالِکٍ فَلَمَّا بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ تَوَجَّهَ قَافِلًا مِنْ تَبُوکَ حَضَرَنِي بَثِّي فَطَفِقْتُ أَتَذَکَّرُ الْکَذِبَ وَأَقُولُ بِمَ أَخْرُجُ مِنْ سَخَطِهِ غَدًا وَأَسْتَعِينُ عَلَی ذَلِکَ کُلَّ ذِي رَأْيٍ مِنْ أَهْلِي فَلَمَّا قِيلَ لِي إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَظَلَّ قَادِمًا زَاحَ عَنِّي الْبَاطِلُ حَتَّی عَرَفْتُ أَنِّي لَنْ أَنْجُوَ مِنْهُ بِشَيْئٍ أَبَدًا فَأَجْمَعْتُ صِدْقَهُ وَصَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَادِمًا وَکَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ فَرَکَعَ فِيهِ رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ جَلَسَ لِلنَّاسِ فَلَمَّا فَعَلَ ذَلِکَ جَائَهُ الْمُخَلَّفُونَ فَطَفِقُوا يَعْتَذِرُونَ إِلَيْهِ وَيَحْلِفُونَ لَهُ وَکَانُوا بِضْعَةً وَثَمَانِينَ رَجُلًا فَقَبِلَ مِنْهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَانِيَتَهُمْ وَبَايَعَهُمْ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمْ وَوَکَلَ سَرَائِرَهُمْ إِلَی اللَّهِ حَتَّی جِئْتُ فَلَمَّا سَلَّمْتُ تَبَسَّمَ تَبَسُّمَ الْمُغْضَبِ ثُمَّ قَالَ تَعَالَ فَجِئْتُ أَمْشِي حَتَّی جَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ لِي مَا خَلَّفَکَ أَلَمْ تَکُنْ قَدْ ابْتَعْتَ ظَهْرَکَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي وَاللَّهِ لَوْ جَلَسْتُ عِنْدَ غَيْرِکَ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا لَرَأَيْتُ أَنِّي سَأَخْرُجُ مِنْ سَخَطِهِ بِعُذْرٍ وَلَقَدْ أُعْطِيتُ جَدَلًا وَلَکِنِّي وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُ لَئِنْ حَدَّثْتُکَ الْيَوْمَ حَدِيثَ کَذِبٍ تَرْضَی بِهِ عَنِّي لَيُوشِکَنَّ اللَّهُ أَنْ يُسْخِطَکَ عَلَيَّ وَلَئِنْ حَدَّثْتُکَ حَدِيثَ صِدْقٍ تَجِدُ عَلَيَّ فِيهِ إِنِّي لَأَرْجُو فِيهِ عُقْبَی اللَّهِ وَاللَّهِ مَا کَانَ لِي عُذْرٌ وَاللَّهِ مَا کُنْتُ قَطُّ أَقْوَی وَلَا أَيْسَرَ مِنِّي حِينَ تَخَلَّفْتُ عَنْکَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا هَذَا فَقَدْ صَدَقَ فَقُمْ حَتَّی يَقْضِيَ اللَّهُ فِيکَ فَقُمْتُ وَثَارَ رِجَالٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ فَاتَّبَعُونِي فَقَالُوا لِي وَاللَّهِ مَا عَلِمْنَاکَ أَذْنَبْتَ ذَنْبًا قَبْلَ هَذَا لَقَدْ عَجَزْتَ فِي أَنْ لَا تَکُونَ اعْتَذَرْتَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا اعْتَذَرَ بِهِ إِلَيْهِ الْمُخَلَّفُونَ فَقَدْ کَانَ کَافِيَکَ ذَنْبَکَ اسْتِغْفَارُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَکَ قَالَ فَوَاللَّهِ مَا زَالُوا يُؤَنِّبُونَنِي حَتَّی أَرَدْتُ أَنْ أَرْجِعَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُکَذِّبَ نَفْسِي قَالَ ثُمَّ قُلْتُ لَهُمْ هَلْ لَقِيَ هَذَا مَعِي مِنْ أَحَدٍ قَالُوا نَعَمْ لَقِيَهُ مَعَکَ رَجُلَانِ قَالَا مِثْلَ مَا قُلْتَ فَقِيلَ لَهُمَا مِثْلَ مَا قِيلَ لَکَ قَالَ قُلْتُ مَنْ هُمَا قَالُوا مُرَارَةُ بْنُ الرَّبِيعَةَ الْعَامِرِيُّ وَهِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ الْوَاقِفِيُّ قَالَ فَذَکَرُوا لِي رَجُلَيْنِ صَالِحَيْنِ قَدْ شَهِدَا بَدْرًا فِيهِمَا أُسْوَةٌ قَالَ فَمَضَيْتُ حِينَ ذَکَرُوهُمَا لِي قَالَ وَنَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمِينَ عَنْ کَلَامِنَا أَيُّهَا الثَّلَاثَةُ مِنْ بَيْنِ مَنْ تَخَلَّفَ عَنْهُ قَالَ فَاجْتَنَبَنَا النَّاسُ وَقَالَ تَغَيَّرُوا لَنَا حَتَّی تَنَکَّرَتْ لِي فِي نَفْسِيَ الْأَرْضُ فَمَا هِيَ بِالْأَرْضِ الَّتِي أَعْرِفُ فَلَبِثْنَا عَلَی ذَلِکَ خَمْسِينَ لَيْلَةً فَأَمَّا صَاحِبَايَ فَاسْتَکَانَا وَقَعَدَا فِي بُيُوتِهِمَا يَبْکِيَانِ وَأَمَّا أَنَا فَکُنْتُ أَشَبَّ الْقَوْمِ وَأَجْلَدَهُمْ فَکُنْتُ أَخْرُجُ فَأَشْهَدُ الصَّلَاةَ وَأَطُوفُ فِي الْأَسْوَاقِ وَلَا يُکَلِّمُنِي أَحَدٌ وَآتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُسَلِّمُ عَلَيْهِ وَهُوَ فِي مَجْلِسِهِ بَعْدَ الصَّلَاةِ فَأَقُولُ فِي نَفْسِي هَلْ حَرَّکَ شَفَتَيْهِ بِرَدِّ السَّلَامِ أَمْ لَا ثُمَّ أُصَلِّي قَرِيبًا مِنْهُ وَأُسَارِقُهُ النَّظَرَ فَإِذَا أَقْبَلْتُ عَلَی صَلَاتِي نَظَرَ إِلَيَّ وَإِذَا الْتَفَتُّ نَحْوَهُ أَعْرَضَ عَنِّي حَتَّی إِذَا طَالَ ذَلِکَ عَلَيَّ مِنْ جَفْوَةِ الْمُسْلِمِينَ مَشَيْتُ حَتَّی تَسَوَّرْتُ جِدَارَ حَائِطِ أَبِي قَتَادَةَ وَهُوَ ابْنُ عَمِّي وَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَوَاللَّهِ مَا رَدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَا قَتَادَةَ أَنْشُدُکَ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمَنَّ أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ قَالَ فَسَکَتَ فَعُدْتُ فَنَاشَدْتُهُ فَسَکَتَ فَعُدْتُ فَنَاشَدْتُهُ فَقَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَفَاضَتْ عَيْنَايَ وَتَوَلَّيْتُ حَتَّی تَسَوَّرْتُ الْجِدَارَ فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي فِي سُوقِ الْمَدِينَةِ إِذَا نَبَطِيٌّ مِنْ نَبَطِ أَهْلِ الشَّامِ مِمَّنْ قَدِمَ بِالطَّعَامِ يَبِيعُهُ بِالْمَدِينَةِ يَقُولُ مَنْ يَدُلُّ عَلَی کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ فَطَفِقَ النَّاسُ يُشِيرُونَ لَهُ إِلَيَّ حَتَّی جَائَنِي فَدَفَعَ إِلَيَّ کِتَابًا مِنْ مَلِکِ غَسَّانَ وَکُنْتُ کَاتِبًا فَقَرَأْتُهُ فَإِذَا فِيهِ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّهُ قَدْ بَلَغَنَا أَنَّ صَاحِبَکَ قَدْ جَفَاکَ وَلَمْ يَجْعَلْکَ اللَّهُ بِدَارِ هَوَانٍ وَلَا مَضْيَعَةٍ فَالْحَقْ بِنَا نُوَاسِکَ قَالَ فَقُلْتُ حِينَ قَرَأْتُهَا وَهَذِهِ أَيْضَا مِنْ الْبَلَائِ فَتَيَامَمْتُ بِهَا التَّنُّورَ فَسَجَرْتُهَا بِهَا حَتَّی إِذَا مَضَتْ أَرْبَعُونَ مِنْ الْخَمْسِينَ وَاسْتَلْبَثَ الْوَحْيُ إِذَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينِي فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُکَ أَنْ تَعْتَزِلَ امْرَأَتَکَ قَالَ فَقُلْتُ أُطَلِّقُهَا أَمْ مَاذَا أَفْعَلُ قَالَ لَا بَلْ اعْتَزِلْهَا فَلَا تَقْرَبَنَّهَا قَالَ فَأَرْسَلَ إِلَی صَاحِبَيَّ بِمِثْلِ ذَلِکَ قَالَ فَقُلْتُ لِامْرَأَتِي الْحَقِي بِأَهْلِکِ فَکُونِي عِنْدَهُمْ حَتَّی يَقْضِيَ اللَّهُ فِي هَذَا الْأَمْرِ قَالَ فَجَائَتْ امْرَأَةُ هِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هِلَالَ بْنَ أُمَيَّةَ شَيْخٌ ضَائِعٌ لَيْسَ لَهُ خَادِمٌ فَهَلْ تَکْرَهُ أَنْ أَخْدُمَهُ قَالَ لَا وَلَکِنْ لَا يَقْرَبَنَّکِ فَقَالَتْ إِنَّهُ وَاللَّهِ مَا بِهِ حَرَکَةٌ إِلَی شَيْئٍ وَ وَاللَّهِ مَا زَالَ يَبْکِي مُنْذُ کَانَ مِنْ أَمْرِهِ مَا کَانَ إِلَی يَوْمِهِ هَذَا قَالَ فَقَالَ لِي بَعْضُ أَهْلِي لَوْ اسْتَأْذَنْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي امْرَأَتِکَ فَقَدْ أَذِنَ لِامْرَأَةِ هِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ أَنْ تَخْدُمَهُ قَالَ فَقُلْتُ لَا أَسْتَأْذِنُ فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا يُدْرِينِي مَاذَا يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَأْذَنْتُهُ فِيهَا وَأَنَا رَجُلٌ شَابٌّ قَالَ فَلَبِثْتُ بِذَلِکَ عَشْرَ لَيَالٍ فَکَمُلَ لَنَا خَمْسُونَ لَيْلَةً مِنْ حِينَ نُهِيَ عَنْ کَلَامِنَا قَالَ ثُمَّ صَلَّيْتُ صَلَاةَ الْفَجْرِ صَبَاحَ خَمْسِينَ لَيْلَةً عَلَی ظَهْرِ بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِنَا فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ عَلَی الْحَالِ الَّتِي ذَکَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَّا قَدْ ضَاقَتْ عَلَيَّ نَفْسِي وَضَاقَتْ عَلَيَّ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ سَمِعْتُ صَوْتَ صَارِخٍ أَوْفَي عَلَی سَلْعٍ يَقُولُ بِأَعْلَی صَوْتِهِ يَا کَعْبَ بْنَ مَالِکٍ أَبْشِرْ قَالَ فَخَرَرْتُ سَاجِدًا وَعَرَفْتُ أَنْ قَدْ جَائَ فَرَجٌ قَالَ فَآذَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ بِتَوْبَةِ اللَّهِ عَلَيْنَا حِينَ صَلَّی صَلَاةَ الْفَجْرِ فَذَهَبَ النَّاسُ يُبَشِّرُونَنَا فَذَهَبَ قِبَلَ صَاحِبَيَّ مُبَشِّرُونَ وَرَکَضَ رَجُلٌ إِلَيَّ فَرَسًا وَسَعَی سَاعٍ مِنْ أَسْلَمَ قِبَلِي وَأَوْفَی الْجَبَلَ فَکَانَ الصَّوْتُ أَسْرَعَ مِنْ الْفَرَسِ فَلَمَّا جَائَنِي الَّذِي سَمِعْتُ صَوْتَهُ يُبَشِّرُنِي فَنَزَعْتُ لَهُ ثَوْبَيَّ فَکَسَوْتُهُمَا إِيَّاهُ بِبِشَارَتِهِ وَاللَّهِ مَا أَمْلِکُ غَيْرَهُمَا يَوْمَئِذٍ وَاسْتَعَرْتُ ثَوْبَيْنِ فَلَبِسْتُهُمَا فَانْطَلَقْتُ أَتَأَمَّمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَلَقَّانِي النَّاسُ فَوْجًا فَوْجًا يُهَنِّئُونِي بِالتَّوْبَةِ وَيَقُولُونَ لِتَهْنِئْکَ تَوْبَةُ اللَّهِ عَلَيْکَ حَتَّی دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ وَحَوْلَهُ النَّاسُ فَقَامَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ يُهَرْوِلُ حَتَّی صَافَحَنِي وَهَنَّأَنِي وَاللَّهِ مَا قَامَ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ غَيْرُهُ قَالَ فَکَانَ کَعْبٌ لَا يَنْسَاهَا لِطَلْحَةَ قَالَ کَعْبٌ فَلَمَّا سَلَّمْتُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ يَبْرُقُ وَجْهُهُ مِنْ السُّرُورِ وَيَقُولُ أَبْشِرْ بِخَيْرِ يَوْمٍ مَرَّ عَلَيْکَ مُنْذُ وَلَدَتْکَ أُمُّکَ قَالَ فَقُلْتُ أَمِنْ عِنْدِکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمْ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ فَقَالَ لَا بَلْ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سُرَّ اسْتَنَارَ وَجْهُهُ کَأَنَّ وَجْهَهُ قِطْعَةُ قَمَرٍ قَالَ وَکُنَّا نَعْرِفُ ذَلِکَ قَالَ فَلَمَّا جَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَی اللَّهِ وَإِلَی رَسُولِهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْسِکْ بَعْضَ مَالِکَ فَهُوَ خَيْرٌ لَکَ قَالَ فَقُلْتُ فَإِنِّي أُمْسِکُ سَهْمِيَ الَّذِي بِخَيْبَرَ قَالَ وَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ إِنَّمَا أَنْجَانِي بِالصِّدْقِ وَإِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ لَا أُحَدِّثَ إِلَّا صِدْقًا مَا بَقِيتُ قَالَ فَوَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ أَنَّ أَحَدًا مِنْ الْمُسْلِمِينَ أَبْلَاهُ اللَّهُ فِي صِدْقِ الْحَدِيثِ مُنْذُ ذَکَرْتُ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی يَوْمِي هَذَا أَحْسَنَ مِمَّا أَبْلَانِي اللَّهُ بِهِ وَاللَّهِ مَا تَعَمَّدْتُ کَذِبَةً مُنْذُ قُلْتُ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی يَوْمِي هَذَا وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَحْفَظَنِي اللَّهُ فِيمَا بَقِيَ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَقَدْ تَابَ اللَّهُ عَلَی النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ فِي سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْ بَعْدِ مَا کَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِيقٍ مِنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ إِنَّهُ بِهِمْ رَئُوفٌ رَحِيمٌ وَعَلَی الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا حَتَّی إِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمْ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْهِمْ أَنْفُسُهُمْ حَتَّی بَلَغَ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَکُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ قَالَ کَعْبٌ وَاللَّهِ مَا أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنْ نِعْمَةٍ قَطُّ بَعْدَ إِذْ هَدَانِي اللَّهُ لِلْإِسْلَامِ أَعْظَمَ فِي نَفْسِي مِنْ صِدْقِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا أَکُونَ کَذَبْتُهُ فَأَهْلِکَ کَمَا هَلَکَ الَّذِينَ کَذَبُوا إِنَّ اللَّهَ قَالَ لِلَّذِينَ کَذَبُوا حِينَ أَنْزَلَ الْوَحْيَ شَرَّ مَا قَالَ لِأَحَدٍ وَقَالَ اللَّهُ سَيَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَکُمْ إِذَا انْقَلَبْتُمْ إِلَيْهِمْ لِتُعْرِضُوا عَنْهُمْ فَاعْرِضُوا عَنْهُمْ إِنَّهُمْ رِجْسٌ وَمَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ جَزَائً بِمَا کَانُوا يَکْسِبُونَ يَحْلِفُونَ لَکُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ فَإِنْ تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَرْضَی عَنْ الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ قَالَ کَعْبٌ کُنَّا خُلِّفْنَا أَيُّهَا الثَّلَاثَةُ عَنْ أَمْرِ أُولَئِکَ الَّذِينَ قَبِلَ مِنْهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ حَلَفُوا لَهُ فَبَايَعَهُمْ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمْ وَأَرْجَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرَنَا حَتَّی قَضَی فِيهِ فَبِذَلِکَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَعَلَی الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا وَلَيْسَ الَّذِي ذَکَرَ اللَّهُ مِمَّا خُلِّفْنَا تَخَلُّفَنَا عَنْ الْغَزْوِ وَإِنَّمَا هُوَ تَخْلِيفُهُ إِيَّانَا وَإِرْجَاؤُهُ أَمْرَنَا عَمَّنْ حَلَفَ لَهُ وَاعْتَذَرَ إِلَيْهِ فَقَبِلَ مِنْهُ
ابوطاہر احمد بن عمرو ابن عبداللہ بن عمرو ابن سرح مولیٰ بنی امیہ ابن وہب، یونس حضرت ابن شہاب ؓ سے روایت ہے کہ پھر رسول اللہ کو غزوہ تبوک پیش آگیا اور آپ ﷺ روم اور عرب کے نصاری کے ساتھ جنگ کا ارادہ رکھتے تھے ابن شہاب نے کہا مجھے عبدالرحمن بن عبداللہ بن کعب بن مالک نے خبر دی کہ عبداللہ بن کعب جو حضرت کعب کو نابینا ہونے کی حالت میں لے کر چلنے والے بیٹے تھے نے کہا میں نے حضرت کعب بن مالک سے سنا انہوں نے اپنی وہ حدیث بیان کی جب وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ ﷺ سے پیچھے رہ گئے تھے کعب بن مالک نے کہا میں رسول اللہ ﷺ کے غزوات میں سے غزوہ تبوک کے علاوہ کسی بھی غزوہ میں پیچھے نہیں رہا اور غزوہ بدر میں بھی پیچھے رہ گیا لیکن آپ ﷺ نے اس میں پیچھے رہ جانے والوں میں سے کسی شخص پر ناراضگی کا اظہار نہیں کیا رسول اللہ ﷺ اور مسلمان قریش کے قافلہ کو لوٹنے کے ارادہ سے نکلے یہاں تک کہ اللہ نے مسلمان اور ان کے دشمنوں کے درمیان غیر اختیاری طور پر مقابلہ کروا دیا اور میں بیعت عقبہ کی رات رسول اللہ کے ساتھ حاضر تھا جب ہم نے اسلام پر وعدہ و میثاق کیا تھا اور مجھے یہ بات پسند نہ تھی کہ میں اس رات کے بدلے جنگ بدر میں شریک ہوتا گو غزوہ بدر لوگوں میں اس رات سے زیادہ معروف و مشہور ہے اور غزوہ تبوک میں رسول اللہ ﷺ سے پیچھے رہ جانے کا میرا واقعہ یہ ہے کہ میں اس غزوہ کے وقت جتنا مالدار اور طاقتور تھا اتنا اس سے پہلے کسی غزوہ میں نہ تھا اللہ کی قسم اس سے پہلے کبھی بھی میرے پاس دو سواریاں جمع نہیں ہوئی تھیں یہاں تک کہ میں نے دو سواریوں کو اس غزوہ میں جمع کرلیا تھا پس رسول اللہ ﷺ نے سخت گرمی میں جہاد کیا اور بہت لمبے سفر کا ارادہ کیا اور راستہ جنگل بیابان اور دشوار تھا اور دشمن بھی کثیر تعداد میں پیش نظر تھے پس آپ ﷺ نے مسلمانوں کو ان معاملات کی پوری پوری وضاحت کردی تاکہ وہ ان کے ساتھ جنگ کے لئے مکمل طور پر تیاری کرلیں اور جس طرف آپ ﷺ کا ارادہ تھا واضح کردیا اور رسول اللہ کے ساتھ مسلمان کثیر تعداد میں تھے اور انہیں کسی کتاب و رجسٹر میں درج نہیں کیا گیا تھا کعب نے کہا بہت کم لوگ ایسے تھے جو اس گمان سے اس غزوہ سے غائب ہونا چاہتے ہوں کہ ان کا معاملہ آپ ﷺ سے مخفی و پوشیدہ رہے گا جب تک اللہ رب العزت کی طرف سے اس معاملہ میں وحی نہ نازل کی جائے اور رسول اللہ ﷺ نے یہ غزوہ اس وقت کیا تھا جب پھل پک چکے تھے اور سائے بڑھ چکے تھے اور مجھے ان چیزوں کا بہت شوق تھا پس رسول اللہ ﷺ نے تیاری کی اور مسلمانوں نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ (تیاری کی) پس میں نے بھی صبح کو ارادہ کیا تاکہ میں بھی ان (دیگر مسلمانوں) کے ساتھ تیاری کروں لیکن میں ہر روز واپس آجاتا اور کوئی فیصلہ نہ کر پاتا اور اپنے دل ہی دل میں کہتا کہ میں اس بات پر قادر ہوں جب جانے کا ارادہ کروں گا چلا جاؤں گا پس برابر میرے ساتھ اسی طرح ہوتا رہا اور لوگ مسلسل اپنی کوشش میں مصروف رہے پس رسول اللہ ﷺ نے ایک صبح مسلمانوں کو ساتھ لیا اور چل دیئے لیکن میں اپنی تیاری کے لئے کوئی فیصلہ نہ کر پایا تھا میں نے صبح کی تو واپس آگیا اور کچھ بھی فیصلہ نہ کر پایا پس میں اسی کشمکش میں مبتلا رہا یہاں تک کہ مجاہدین آگے بڑھ گئے اور غزوہ شروع ہوگیا پس میں نے ارادہ کیا کہ میں کوچ کروں گا اور ان کو پہنچ جاؤں گا کاش میں ایسا کرلیتا لیکن یہ بات میرے مقدر میں نہ تھی رسول اللہ ﷺ کے چلے جانے کے بعد جب میں باہر لوگوں میں نکلتا تو یہ بات مجھے غمگین کردیتی کہ میں کسی کو پیروی کے قابل نہ پاتا تھا سوائے ان لوگوں کے جنہیں نفاق کی تہمت دی جاتی تھی یا وہ آدمی جسے کمزوری اور ضعیفی کی وجہ سے اللہ نے معذور قرار دیا تھا اور رسول اللہ ﷺ نے تبوک پہنچنے تک میرا ذکر نہ کیا پھر آپ نے تبوک میں لوگوں کے درمیان بیٹھے ہوئے فرمایا کعب بن مالک نے کیا کیا بنی سلمہ میں سے ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اس کی چادر نے اس کو روک رکھا ہے اور اس کے دونوں کناروں کو دیکھنے نے روکا ہے اس آدمی سے معاذ بن جبل نے کہا تم نے جو کہا اچھا نہیں کہا اللہ کی قسم اے اللہ کے رسول ہم اس کے بارے میں سوائے بھلائی کے کوئی بات نہیں جانتے (یہ سن کر) رسول اللہ ﷺ خاموش ہوگئے اس دوران آپ نے ایک سفید لباس میں ملبوس آدمی کو دھول اڑاتے ہوئے اپنی طرف آتے ہوئے دیکھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (شاید) ابوخیثمہ ہو؟ وہ واقعتا ابوخیمثہ انصاری ہی تھے اور یہ وہی تھے جنہیں منافقیں نے طعنہ پر کھجور کا ایک صاع صدقہ کیا تھا کعب بن مالک ؓ نے کہا جب مجھے یہ خبر پہنچی کہ رسول اللہ تبوک سے واپس آرہے ہیں تو میرا غم دوبارہ تازہ ہوگیا اور میں جھوٹی باتیں گھڑنے کے لئے سوچنے لگا اور میں کہتا تھا کہ کل میں رسول اللہ کی ناراضگی سے کیسے بچ سکوں گا اور میں نے اس معاملہ پر اپنے گھر والوں میں سے ہر ایک سے مدد طلب کی جب مجھے بتایا گیا کہ رسول اللہ ﷺ قریب پہنچ چکے ہیں تو میرے دل سے جھوٹے بہانے اور عذر نکل گئے اور میں نے جان لیا کہ میں آپ ﷺ سے کسی جھوٹی بات کے ذریعہ کبھی نجات حاصل نہیں کرسکتا پس میں نے سچ بولنے کی ٹھان لی اور رسول اللہ ﷺ اگلی صبح تشریف لے آئے اور آپ جب بھی سفر سے تشریف لاتے ابتداءً مسجد میں تشریف لے جاتے دو رکعات اداء کرتے پھر لوگوں سے دریافت کرنے کے لئے تشریف فرما ہوتے پس جب آپ ﷺ یہ کرچکے تو پیچھے رہ جانے والے آپ ﷺ کے پاس آئے اور قسمیں اٹھا کر آپ ﷺ سے اپنے عذر پیش کرنے لگے اور ایسے لوگ اسی سے کچھ زائد تھے پس رسول اللہ ﷺ نے ان کے ظاہر عذروں کو قبول کرلیا اور ان سے بیعت کی اور ان کے لئے مغفرت طلب کی اور ان کے باطنی معاملہ کو اللہ عزوجل کے سپرد کردیا یہاں تک کہ میں حاضر ہوا میں نے جب سلام کیا تو آپ ناراض آدمی کے مسکرانے کی طرح مسکرائے پھر فرمایا ادھر آؤ پس میں چلتا ہوا آپ کے سامنے بیٹھ گیا تو آپ ﷺ نے مجھے فرمایا تجھے کس بات نے پیچھے کردیا کیا تو نے اپنی سواری نہ خریدی تھی میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اللہ کی قسم اگر میں آپ ﷺ کے علاوہ دنیا والوں میں سے کسی کے پاس بیٹھا ہوتا تو مجھے معلوم ہے کہ میں کوئی عذر پیش کر کے اس کی ناراضگی سے بچ کر نکل جاتا کیونکہ مجھے قوت گویائی عطا کی گئی ہے اللہ کی قسم میں جانتا ہوں کہ اگر میں آج کے دن آپ ﷺ کو راضی کرنے لئے جھوٹی بات بیان کروں جس کی وجہ سے آپ ﷺ مجھ سے راضی ہو بھی جائیں تو ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مجھ پر ناراض کر دے اور اگر میں آپ ﷺ سے سچ بات بیان کروں جس کی وجہ سے آپ ﷺ مجھ پر ناراض ہوجائیں پھر بھی مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ میرا انجام اچھا کر دے گا اللہ کی قسم مجھے کوئی عذر درپیش نہ تھا اللہ کی قسم میں جب آپ سے پیچھے رہ گیا تو کوئی بھی مجھ سے زیادہ طاقتور اور خوشحال نہ تھا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس نے سچ کہا پس تم اٹھ جاؤ یہاں تک کہ اللہ تیرے بارے میں فیصلہ فرمائے پس میں کھڑا ہوا اور بنو سلمہ کے کچھ لوگ میرے پیچھے آئے انہوں نے مجھے کہا اللہ کی قسم ہم نہیں جانتے کہ آپ نے اس سے پہلے کوئی گناہ کیا ہو اب تم نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے عذر پیش کیوں نہ کیا جیسا کہ اور پیچھے رہ جانے والوں نے عذر پیش کیا حالانکہ تیرے لئے رسول اللہ کا استغفار کرنا ہی کافی ہوجاتا پس اللہ کی قسم وہ مجھے مسلسل اسی طرح متنبہ کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے ارادہ کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لوٹ کر اپنے آپ کی تکذیب و تردید کردوں پھر میں نے ان سے کہا کیا کسی اور کو میری طرح کا معاملہ پیش آیا ہے انہوں نے کہا ہاں آپ کے ساتھ دو اور آدمیوں کو بھی یہ معاملہ درپیش ہے انہوں نے بھی آپ ہی کی طرح کہا میں نے پوچھا وہ دونوں کون کون ہیں انہوں نے مرارہ بن ربیعہ عامری اور ہلال بن امیہ واقفی کا ذکر کیا انہوں نے مجھے ایسے دو نیک آدمیوں کا ذکر کیا جو بدر میں شریک ہوچکے تھے اور ان دونوں میں میرے لئے نمونہ تھا پس میں اپنی بات پر پختہ ہوگیا جب انہوں نے مجھے ان دو آدمیوں کا ذکر کیا اور رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو ہم تین آدمیوں سے گفتگو کرنے سے منع کردیا دیگر پیچھے رہنے والوں کو چھوڑ کر، پس لوگوں نے پرہیز کرنا شروع کردیا وہ ہمارے لئے غیر ہوگئے یہاں تک کہ زمین بھی میرے لئے اجنبی محسوس ہونے لگی اور زمین مجھے اپنی جان پہچان والی ہی معلوم نہ ہوتی تھی پس ہم نے پچاس راتیں اسی حالت میں گزرایں بہر حال میرے دونوں ساتھی عاجز ہو کر اپنے گھروں میں ہی بیٹھے روتے رہے لیکن میں نوجوان تھا اور ان سے زیادہ طاقتور تھا اس لئے میں باہر نکلتا نماز میں حاضر ہوتا اور بازاروں میں چکر لگاتا لیکن کوئی بھی مجھ سے گفتگو نہ کرتا میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر سلام کرتا جب نماز کے بعد اپنی جگہ پر بیٹھے ہوتے پھر میں اپنے دل میں کہتا کہ آپ نے سلام کے جواب کے لئے اپنے ہونٹوں کو حرکت دی ہے یا نہیں پھر میں آپ کے قریب نماز اداء کرتا اور آنکھیں چرا کر آپ ﷺ کو دیکھتا جب میں اپنی نماز پر متوجہ ہوتا تو آپ میری طرف دیکھتے اور جب میں آپ ﷺ کی طرف متوجہ ہوتا تو آپ مجھ سے اعراض کرلیتے یہاں تک کہ جب مسلمانوں کی سختی مجھ پر طویل ہوگئی تو میں چلا یہاں تک کہ میں اپنے چچا زاد ابوقتادہ کے باغ کی دیوار پر چڑھا اور وہ مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب تھے پس میں نے انہیں سلام کیا اللہ کی قسم انہوں نے مجھے میرے سلام کا جواب بھی نہ دیا میں نے ان سے کہا اے ابوقتادہ میں تجھے اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں پس وہ خاموش رہے میں نے دوبارہ انہیں قسم دی وہ خاموش ہی رہے پس میں نے سہ بارہ انہیں قسم دی تو انہوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں پس میری آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں اور میں دیوار سے اتر کر واپس آگیا اسی دوران کہ میں مدینہ کے پاس ہی چل رہا تھا کہ ایک نبطی شامی جو مدینہ میں غلہ بیچنے کے لئے آیا تھا کہہ رہا تھا کوئی شخص مجھے کعب بن مالک کا پتہ دے پس لوگوں نے میری طرف اشارہ کرنا شروع کردیا یہاں تک کہ وہ میرے پاس آیا اور مجھے غسان کے بادشاہ کی طرف سے ایک خط دیا چونکہ میں پڑھا لکھا تھا میں نے اسے پڑھا اس میں تھا اما بعد! ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ آپ کے ساتھی نے آپ پر زیادتی کی ہے اور اللہ نے تجھے ذلت کے گھر میں اور ضائع ہونے کی جگہ پیدا نہیں کیا تم ہمارے ساتھ مل جاؤ ہم تمہاری خاطر داری اور دلجوئی کریں گے میں نے جب اسے پڑھا تو کہا یہ بھی ایک اور آزمائش ہے پس میں نے اسے تنور میں ڈال کر جلا ڈالا یہاں تک کہ جب پچاس دن گزر گئے اور وحی بند رہی تو ایک دن رسول اللہ کا قاصد میرے پاس آیا اور کہا رسول اللہ تجھے حکم دیتے ہیں کہ تو اپنی بیوی سے جدا ہوجا میں نے کہا میں اسے طلاق دے دوں یا کیا کروں انہوں نے کہا نہیں بلکہ اس سے علیحدہ ہوجا اور اس کے قریب نہ جا پھر آپ ﷺ نے میرے دونوں ساتھیوں کے پاس بھی اس طرح پیغام بھیجا تو میں نے اپنی بیوی سے کہا تو اپنے رشتہ داروں کے پاس چلی جا اور انہیں کے پاس رہ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس معاملہ کا فیصلہ کر دے پس حضرت ہلال بن امیہ کی بیوی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ سے عرض کیا اے اللہ کے رسول ہلال بن امیہ بہت بوڑھے ہوچکے ہیں ان کا کوئی خادم بھی نہیں ہے کیا آپ ﷺ اس کی خدمت کرنے کو بھی ناپسند کرتے ہیں آپ نے فرمایا نہیں لیکن وہ تیرے ساتھ صحبت نہ کرے انہوں نے عرض کیا اللہ کی قسم اسے کسی چیز کا خیال تک نہیں ہے اور اللہ کی قسم جب سے اس کا یہ معاملہ پیش آیا ہے اس دن سے لے کر آج تک وہ رو ہی رہا ہے پس مجھے میرے بعض گھر والوں نے کہا تم بھی رسول اللہ ﷺ سے اپنی بیوی کے بارے میں اجازت لے لو جیسا کہ آپ نے ہلال بن امیہ کی بیوی کو اس کی خدمت کی اجازت دے دی ہے میں نے کہا میں اس معاملہ میں رسول اللہ ﷺ سے اجازت طلب نہ کروں گا کیونکہ مجھے معلوم نہیں کہ رسول اللہ اس بارے میں کیا ارشاد فرمائیں گے جس وقت میں آپ ﷺ سے اپنی بیوی کے بارے میں اجازت لوں گا حالانکہ میں نوجوان آدمی ہوں پس میں اسی طرح دس راتیں ٹھہرا رہا پس ہمارے لئے پچاس راتیں اس وقت سے پوری ہوگئیں جب سے رسول اللہ ﷺ نے ہماری گفتگو کو منع فرمایا تھا پھر میں نے پچاسویں رات کی صبح کو فجر کی نماز اپنے گھروں میں سے ایک گھر کی چھت پر اداء کی پس اسی دوران میں اپنے حال پر بیٹھا ہوا تھا جو اللہ نے ہمارے بارے میں ذکر کیا ہے تحقیق میرا دل تنگ ہونے لگا اور زمین مجھ پر باوجود وسیع ہونے کے تنگ ہوگئی تو میں نے اچانک سلع پہاڑ کی چوٹی سے ایک چلانے والے کی آواز سنی جو بلند آواز سے پکار رہا تھا اے کعب بن مالک خوش ہوجا میں اسی وقت سجدہ میں گرگیا اور میں نے جان لیا کہ تنگی دور ہونے کا وقت آگیا ہے پھر رسول اللہ ﷺ نے نماز فجر پڑھنے کے بعد لوگوں میں اعلان کیا کہ ہماری توبہ قبول ہوگئی ہے پس لوگ ہمیں خوشخبری دینے کیلئے چل پڑے اور کچھ صحابہ میرے دونوں ساتھیوں کو خوشخبری دینے چلے گئے اور ایک آدمی نے میری طرف گھوڑے کی ایڑ لگائی قبیلہ اسلم کے ایک آدمی نے بلند آواز دی چناچہ اس کی آواز گھوڑے کے پہنچنے سے قبل ہی پہنچ گئی پس جب میرے پاس وہ صحابی آئے جن کی میں نے خوشخبری دینے والی آواز سی تھی تو میں نے اپنے کپڑے اتار کر اسے پہنا دئیے اس کی خوشخبری دینے کی وجہ سے اللہ کی قسم اس دن میرے پاس ان دو کپڑوں کے علاوہ کوئی چیز نہ تھی اور میں نے دو کپڑے ادھار لے کر خود پہنے پھر میں رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہونے کے ارادہ سے روانہ ہوا تو صحابہ مجھے فوج درفوج ملے جو مجھے توبہ کی قبولیت کی مبارک باد دے رہے تھے کہتے تھے کہ اللہ کا تمہاری توبہ قبول کرنا تمہیں مبارک ہو یہاں تک کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو رسول اللہ ﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے اور صحابہ آپ کے اردگرد موجود تھے پس طلحہ بن عبیداللہ جلدی سے اٹھے یہاں تک کہ مجھ سے مصافحہ کیا اور مجھے مبارکباد دی۔ اللہ کی قسم! مہاجرین میں سے ان کے علاوہ کوئی بھی نہ اٹھا۔ اسی وجہ سے کعب ؓ حضرت طلحہ کو کبھی نہ بھولے تھے کعب نے کہا جب میں نے رسول اللہ کو سلام کیا تو آپ کا چہرہ اقدس خوشی کی وجہ سے چمک رہا تھا اور آپ فرما رہے تھے مبارک ہو تمہیں ایسی بھلائی والے دن کی اس جیسی خوشی کا دن تجھ پر تیری ماں کے پیدا کرنے سے آج تک نہیں گزرا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول یہ آپ کی طرف سے ہے یا اللہ عزوجل کی طرف سے آپ ﷺ نے فرمایا نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے اور رسول اللہ ﷺ جب خوش ہوتے تو آپ ﷺ کا چہرہ اور منور ہوجاتا تھا گویا کہ وہ چاند کا ٹکڑا ہو اور ہم اس علامت کو پہچانتے تھے جب میں آپ کے سامنے بیٹھا تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میری توبہ کی تکمیل یہ ہے کہ میں اپنا سارا مال اللہ اور اس کے رسول کی خدمت میں بطور صدقہ پیش کردوں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنا کچھ مال اپنے پاس رکھ یہ تیرے لئے بہتر ہے تو میں نے عرض کیا میں خبیر سے اپنے حصے کے مال کو اپنے لئے رکھتا ہوں اور میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول بیشک اللہ نے مجھے سچائی کے ذریعہ نجات عطاء فرمائی ہے اور میری توبہ کی تکمیل یہ ہے کہ میں جب تک زندہ رہوں گا کبھی سچ کے علاوہ بات نہ کروں گا اللہ کی قسم میں نہیں جانتا کہ مسلمانوں میں سے کسی ایک کو بھی اللہ عزوجل نے سچ بولنے کی وجہ سے (ایسی) آزمائش میں ڈالا ہو اور جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ کی اس آزمائش کی خوبی کا ذکر کیا تھا کا ذکر کیا تھا اس وقت سے لے کر آج تک میں نے کبھی جھوٹ کا ارادہ بھی نہیں کیا اور میں امید کرتا ہوں کہ جب تک میری زندگی باقی ہے اللہ مجھے محفوظ رکھے گا تو اللہ رب العزت نے یہ آیات مبارکہ نازل فرمائی لَقَدْ تَابَ اللَّهُ عَلَی النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ فِي سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْ بَعْدِ مَا کَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِيقٍ مِنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ إِنَّهُ بِهِمْ رَئُوفٌ رَحِيمٌ وَعَلَی الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا حَتَّی إِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمْ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْهِمْ أَنْفُسُهُمْ تحقیق اللہ نے نبی ﷺ مہاجرین اور انصار پر رحمت سے رجوع فرمایا جنہوں نے آپ ﷺ کی تنگی کے وقت میں اتباع کی اس کے بعد قریب ہے کہ ان میں سے ایک جماعت کے دل اپنی جگہ سے ہل جائیں پھر اللہ نے ان پر مہربانی فرمائی بیشک وہی ان کے ساتھ مہربان اور نہایت رحم فرمانے والا ہے اور ان تینوں پر بھی جو پیچھے رہ گئے یہاں تک کہ جب زمین ان پر اپنی وسعت کے باجود تنگ ہوگئی اور انہیں یقین ہوگیا کہ اللہ کے سوا کوئی ان کے لئے پناہ کی جگہ نہیں ہے پھر اللہ نے ان پر رحمت فرمائی تاکہ وہ توبہ کریں بیشک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہوجاؤ، حضرت کعب نے کہا اللہ کی قسم اللہ کی مجھ پر نعمتوں میں سے سب سے بڑی نعمت اسلام کے بعد میرے نزدیک میرے سچ سے بڑھ کر کوئی نہیں ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سچ بولا اور اگر میں نے جھوٹ بولا ہوتا تو میں بھی اسی طرح ہلاک ہوجاتا جیسے جھوٹ بولنے والے ہلاک ہوئے بیشک اللہ نے جب وحی نازل کی جتنا اس میں جھوٹ بولنے والے کے شر کو بیان کیا کسی اور کے شر کو اتنا بڑا کر کے بیان نہیں کیا اور اللہ رب العزت نے فرمایا عنقریب یہ تم سے اللہ کی نام پر قسمیں کھائیں گے جب تم ان کے پاس لوٹ کر جاؤ گے تاکہ تم ان سے اعراض کرو پس تم ان کی طرف سے اعراض کرو بیشک وہ ناپاک ہیں اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے یہ بدلہ ہے ان اعمال کا جو وہ کرتے ہیں وہ آپ سے قسمیں کھاتے ہیں تاکہ آپ ان سے راضی ہوجائیں پس اگر آپ ان سے راضی ہوگئے تو بیشک اللہ نافرمانی کرنے والی قوم سے راضی نہیں ہوتا کعب نے کہا ہم تینوں آدمیوں کو ان لوگوں سے پیچھے رکھا گیا جن کا عذر رسول اللہ ﷺ نے قبول کیا جب انہوں نے آپ ﷺ سے قسمیں اٹھائیں تو ان سے بیعت کی اور ان کے لئے استغفار کیا اور رسول اللہ ﷺ نے ہمارے معاملہ کو مؤخر کردیا یہاں تک کہ اللہ نے اس بارے میں فیصلہ فرمایا اسی وجہ سے اللہ رب العزت نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ان تینوں پر بھی رحمت فرمائی جن کا معاملہ مؤخر کیا گیا اس آیت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم جہاد سے پیچھے رہ گئے تھے بلکہ اس پیچھے رہ جانے سے ہمارے معاملہ کا ان لوگوں سے مؤخر رہ جانا ہے جنہوں نے آپ ﷺ سے قسم اٹھائی اور آپ ﷺ سے عذر پیش کیا اور آپ ﷺ نے ان کے عذر کو قبول کیا۔
Ibn Shihab reported that Allahs Messenger ﷺ made an expedition to Tabuk and he (the Holy Prophet) had in his mind (the idea of) threatening the Christians of Arabia in Syria and those of Rome. Ibn Shihab (further) reported that Abdul Rahman bin Abdullah bin Kab informed him that Abdullah bin Kab who served as the guide of Kab bin Malik as he became blind that he heard Kab bin Malik narrate the story of his remaining behind Allahs Messenger ﷺ from the Battle of Tabuk. Kab bin Malik said: I never remained behind Allahs Messenger ﷺ from any expedition which he undertook except the Battle of Tabuk and that of the Battle of Badr. So far as the Battle of Badr is concerned, nobody was blamed for remaining behind as Allahs Messenger ﷺ and the Muslims did not set out for attack but for waylaying the caravan of the Quraish, but it was Allah Who made them confront their enemies without their intention (to do so). I had the honour to be with Allahs Messenger ﷺ on the night of Aqabah when we pledged our allegiance to Islam and it was more dear to me than my participation in the Battle of Badr, although Badr was more popular amongst people as compared with that (Tabuk). And this is my story of remaining back from Allahs Messenger ﷺ on the occasion of the Battle of Tabuk. Never did I possess means enough and (my circumstances) more favourable than at the occasion of this expedition. And, by Allah, I had never before this expedition simultaneously in my possession two rides. Allahs Messenger ﷺ set out for this expedition in extremely hot season; the journey was long and the land (which he and his army had to cover) was waterless and he had to confront a large army, so he informed the Muslims about the actual situation (they had to face), so that they should adequately equip themselves for this expedition, and he also told them the destination where he intended to go. And the Muslims who accompanied Allahs Messenger ﷺ at that time were large in numbers but there was no proper record of them. Kab (further) said: Few were the persons who wanted to absent themselves, and were under the impression that they could easily conceal themselves (and thus remain undetected) until revelations from Allah, the Exalted and Glorious (descended in connection with them).
And Allahs Messenger ﷺ set out on an expedition when the fruits were ripe and their shadows had been lengthened. I had weakness for them and it was during this season that Allahs Messenger ﷺ made preparations and the Muslims too along with them. I also set out in the morning so that I should make preparations along with them but I came back and did nothing and said to myself: I have means enough (to make preparations) as soon as I like. And I went on doing this (postponing my preparations) until people were about to depart and it was in the morning that Allahs Messenger ﷺ set out and the Muslims too along with him, but I made no preparations. I went early in the morning and came back, but I made no decision. I continued to do so until they (the Muslims) hastened and covered a good deal of distance. I also made up my mind to march on and to meet them. Would that I had done that, but perhaps it was not destined for me. After the departure of Allahs Messenger ﷺ as I went out amongst people, I was shocked to find that I did not find anyone like me but people who were labelled as hypocrites or the people whom Allah granted exemption because of their incapacity and Allahs Messenger ﷺ took no notice of me until he had reached Tabuk. (One day as he was sitting amongst the people in Tabuk) he said: What has happened to Kab bin Malik? A person from Banu Salama said: Allahs Messenger, the (beauty) of his cloak and his appreciation of his sides have allured him and he was thus detained. Muadh bin Jabal said: Woe be upon that what you contend. Allahs Messenger, by Allah, we know nothing about him but good. Allahs Messenger ﷺ , however, kept quiet. It was during that time that he (the Holy Prophet) saw a person (dressed in all white (garment) shattering the illusion of eye (mirage).
Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: May he be Abu Khaithama and, lo, it was Abu Khaithama al-Ansari and he was that person who contributed a sa of dates and was scoffed at by the hypocrites. Kab bin Malik farther said: When this news reached me that Allahs Messenger ﷺ was on his way back from Tabuk I was greatly perturbed. I thought of fabricating false stories and asked myself how I would save myself from his anger on the following day. In this connection, I sought the help of every prudent man from amongst the members of my family and when it was said to me that Allahs Messenger ﷺ was about to arrive, all the false ideas banished (from my mind) and I came to the conclusion that nothing could save me but the telling of truth, so I decided to speak the truth and it was in the morning that Allahs Messenger ﷺ arrived (in Madinah). And it was his habit that as he came back from a journey he first went to the mosque and observed two Rakahs of nafl prayer (as a mark of gratitude) and then sat amongst people. And as he did that, those who had remained behind him began to put forward their excuses and take an oath before him and they were more than eighty persons. Allahs Messenger ﷺ accepted their excuses on the very face of them and accepted their allegiance and sought forgiveness for them and left their secret (intentions) to Allah, until I presented myself to him. I greeted him and he smiled and there was a tinge of anger in that. He (the Holy Prophet) then said to me: Come forward. I went forward until I sat in front of him. He said to me: What kept you back? Could you not afford to go in for a ride? I said: Allahs Messenger, by Allah, if I were to sit in the presence of anybody else from amongst the worldly people I would have definitely saved myself from his anger on one pretext (or the other) and I have also the knack to fall into argumentation, but, by Allah, I am fully aware of the fact that if I were to put forward before you a false excuse to please you, Allah would definitely provoke your wrath upon me, and if I speak the truth you may be annoyed with me, but I hope that Allah would make its end well and, by Allah, there is no valid excuse for me. By Allah, I never possessed so good means, and I never had such favourable conditions for me as I had when I stayed behind you (failed to join the expedition).
Thereupon, Allahs Messenger ﷺ said: This man told the truth, so get up until Allah gives a decision in your case. I stood up and some people of Banu Salama followed me in hot haste, and they said to me: By Allah, we do not know about you that you committed a sin prior to this. You, however, showed inability to put forward an excuse before Allahs Messenger ﷺ as those who stayed behind him have put forward excuses. It would have been enough for the forgiveness of your sin that Allahs Messenger ﷺ would have sought forgiveness for you. By Allah, they continued to incite me until I thought of going back to Allahs Messenger ﷺ and contradict myself. Then I said to them: Has anyone else also met the same fate? They said: Yes, two persons have met the same fate as has fallen to you and they have made the sane statement as you have made, and the same verdict has been delivered in their case as it has been delivered in your case. I said: Who are they? They said: Murara bin ar-Rabiah Amiri and Hilal bin Umayya al-Waqafi. They made a mention of these two pious persons to me who had participated in the Battle of Badr and there was an example for me in them. I went away when they named these two persons. Allahs Messenger ﷺ forbade the Nluslims to talk with three of us from amongst those (persons) who had stayed behind him. The people began to avoid us and their attitude towards us underwent a change and it seemed as if the whole atmosphere had turned (hostile) against us and it was in fact the same atmosphere ot which I was fully aware and in which I had lived (for a fairly long time). We spent fifty nights in this very state and my two friends confined themselves within their houses and spent (most of the) time in weeping, but as I was young and strong amongst them I got (out of my house), participated in congregational prayers, moved about in the bazar; but none spoke to me. I came to Allahs Messenger ﷺ as he sat amongst (people) after the prayer, greeted him and asked myself whether his lips stirred in response to my greetings (or not).
Then I observed prayer beside him and looked at him with stealing glances and when I attended to my prayer, he looked at me and when I cast a glance at him he turned away his eyes from me. And when the harsh treatment of the Muslims towards me extended to a (considerable) length of time, I walked until I climbed upon the wall of the garden of Abu Qatadah (RA), and he was my cousin, and I had the greatest love for him. I greeted him but, by Allah, he did not respond to my greetings. I said to him: Abu Qatadah (RA), I adjure you by Allah, arent you well aware of the fact that I love Allah and His Messenger ﷺ the most. He kept quiet. I again repeated saying: I adjure you by Allah. arent you well aware of the fact that I love Allah and His Messenger ﷺ the most. He kept quiet. I again adjured him, whereupon he said: Allah and the Messenger ﷺ are best aware of it. My eyes began to shed tears and I came back climbing down from the wall and as I was walking in the bazar of Madinah a Nabatean from amongst the Nabateans of Syria, who had come to sell foodgrains in Madinah, asked people to direct him to Kab bin Malik. People gave him the indication by pointing towards me. He came to me and delivered to me a letter of the King of Ghassan and as I was a scribe I read that letter and it was written like this: "Coming to my point, it has been conveyed to us that your friend (the Holy Prophet) is subjecting you to cruelty and Allah has not created you for a place where you are to be degraded and where you cannot find your right place, so you come to us that we should accord you honour. As I read that letter I said: This is also a calamity, so I burnt it in the oven. When out of the fifty days, forty days had passed and Allahs Messenger ﷺ received no revelation, there came the messenger of Allahs Messenger ﷺ to me and said: Verily, Allahs Messenger ﷺ has commanded you to remain separate from your wife. I said: Should I divorce her or what (else) should I do? He said: No, but only remain separate from her and dont have sexual contact with her.
The same message was sent to my companions. So I said to my wife: You better go to your parents and stay there with them until Allah gives the decision in my case. The wife of Hilal bin Umayya came to Allahs Messenger ﷺ and said: Allahs Messenger, Hilal bin Umayya is a senile person, he has no servant. Do you disapprove of my serving him? He said: No, but dont go near him. She said: By Allah, he has no such instinct in him. By Allah, he spends his time in weeping from that day to this day. Some of the members of my family said to me: Were you to seek permission from Allahs Messenger ﷺ in regard to your wife as he has granted permission to the wife of Hilal bin Umayya to serve him. I said: I would not seek permission from Allahs Messenger ﷺ , for I cannot say what Allahs Apostle ﷺ may say in response to seeking my permission. Moreover, I am a young man. It was in this state that I spent ten more nights and thus fifty nights had passed that (people) had observed boycott with us. It was on the morning of the fiftieth night that I observed my dawn prayer and was sitting on one of the roofs of our houses. And I was in fact sitting in that very state which Allah, the Exalted and Glorious, has described about us in these words: "Life had become hard for myself and the earth had compressed despite its vastness," that I heard the noise of an announcer from the peak of the hill of Sal saying at the top of his voice: Kab bin Malik, there is glad tidings for you. I fell down in prostration and came to realise that there was (a message of) relief for me. Allahs Messenger ﷺ had informed the people of the acceptance of our repentance by Allah as he offered the dawn prayer. So the people went on to give us glad tidings and some of them went to my friends in order to give them the glad tidings and a person galloped his horse and came from the tribe of Aslam and his horse reached me more quickly than his voice. And when he whose sound I heard, came to me, he gave me the glad tidings. I took off my clothes and clothed him with them because of his bringing good news to me and, by Allah, I possessed nothing else (in the form of clothes) than these two on that occasion, and I asked one to lend me two clothes and dressed myself in them.
I came to Allahs Messenger ﷺ and on my way I met groups of people who greeted me because of (the acceptance of) repentance and they said: Here is a greeting for you for your repentance being accepted by Allah. (I moved on) until I came to the mosque and Allahs Messenger ﷺ had been sitting there amongst persons. So Talha bin Ubaidullah got up and rushed towards me and he shook hands with me and greeted me and, by Allah, no person stood up (to greet me) from amongst the emigrants except he. Kab said that he never forgot (this good gesture of) Talha. Kab further said: I greeted Allahs Messenger ﷺ with Assalam-o-Alaikam and his face was glistening because of delight, and he said: Let there be glad tidings and blessings for you, the like of which (you have neither found nor you will find, as you find today) since your mother gave your birth. I said: Allahs Messenger, is this acceptance of repentance from you or from Allah? He said: No, (it is not from me), it is from Allah, and it was common with Allahs Messenger ﷺ that as he was happy his face brightened up and it looked like a part of the moon and it was from this that we recognised it (his delight). As I sat before him, I said: Allahs Messenger, am I allowed to give in charity my wealth for Allahs sake and for the sake of His Messenger ﷺ ? Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: Keep some property with you as it is better for you. I said: I shall keep with me that part (of my property) which fell to my lot (on the occasion of the expedition of Khaibar). I said: Allahs Messenger, verily, Allah has granted me salvation because of truth and, therefore, (I think) that repentance implies that I should not speak anything but truth as long as I live. He said: By Allah, I do not know whether anyone amongst the Muslims was put to more severe trial than I by Allah because of telling the truth. And since I made a mention of this to Allahs Messenger ﷺ up to this day I have not told any lie and, by Allah, I have decided not to tell a lie and I hope that Allah would save me (from trials) for the rest of my life and Allah, the Exalted and Glorious, revealed these verses:"
Certainly, Allah has turned in Mercy to the Prophet ﷺ and the emigrants and the helpers who followed him in the hour of hardship after the hearts of a part of them were about to deviate; then He turned to them in mercy. Surely, to them He is Compassionate, Merciful and (He turned in Mercy) to the three who were left behind until the earth despite its vastness became strait for them and their souls were also straitened to them." And this revelation reached up to the (words): "O you who believe, develop God consciousness, and be with the truthful" (ix. 117-118). Kab said: By Allah, since Allah directed me to Islam there has been no blessing more significant for me than this truth of mine which I spoke to Allahs Messenger ﷺ and if I were to tell a lie I would have been ruined as were ruined those who told lies, for in regard to those who told lies Allah used harshest words used for anyone as He descended revelation (and the words of Allah are): "They will swear by Allah to you when you return to them so that you may leave them alone. So leave them alone. Surely, they are unclean and their resort is Hell, recompense for what they earned. They will swear to you that you may be pleased with them but if you are pleased with them, yet surely Allah is not pleased with the transgressing people" (ix. 95-96). Kab said that the matter of us three persons was deferred as compared with those who took an oath in the presence of Allahs Messenger ﷺ and he accepted their allegiance and sought forgiveness for them and Allah did not give any decision in regard to us. It was Allah, the Exalted and Glorious, Who gave decisions in our case, three who remained behind. (The words of the Quran) "the three who were left behind" do not mean that we remained back from Jihad but these imply that He kept our matter behind them who took oath and presented excuse before Him.
حضرت کعب بن مالک اور ان کے دو ساتھیوں کی توبہ کی حدیث کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِإِسْنَادِ يُونُسَ عَنْ الزُّهْرِيِّ سَوَائً
محمد بن رافع حجین بن مثنی لیث، عقیل ابن شہاب یونس زہری، یہ حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters.
حضرت کعب بن مالک اور ان کے دو ساتھیوں کی توبہ کی حدیث کے بیان میں
و حَدَّثَنِي عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ عَنْ عَمِّهِ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ وَکَانَ قَائِدَ کَعْبٍ حِينَ عَمِيَ قَالَ سَمِعْتُ کَعْبَ بْنَ مَالِکٍ يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوکَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَزَادَ فِيهِ عَلَی يُونُسَ فَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَلَّمَا يُرِيدُ غَزْوَةً إِلَّا وَرَّی بِغَيْرِهَا حَتَّی کَانَتْ تِلْکَ الْغَزْوَةُ وَلَمْ يَذْکُرْ فِي حَدِيثِ ابْنِ أَخِي الزُّهْرِيِّ أَبَا خَيْثَمَةَ وَلُحُوقَهُ بِالنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
عبد بن حمید یعقوب بن ابراہیم بن سعد محمد بن عبداللہ بن مسلم ابن اخی زہری، احمد بن مسلم زہری، عبدالرحمن بن عبداللہ بن کعب بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ جو حضرت کعب کی راہنمائی کرنے والے تھے جب وہ نابینا ہوگئے تھے وہ کہتے ہیں کہ میں نے کعب بن مالک کو اپنی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا جب وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ ﷺ سے پیچھے رہ گئے تھے باقی حدیث گزر چکی اس میں مزید اضافہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب بھی کسی غزوہ میں تشریف لے جانے کا ارادہ کرتے تو کنایتاً اس کا ذکر فرما دیتے لیکن اس غزوہ میں آپ ﷺ نے پوری وضاحت کے ساتھ بتادیا تھا البتہ زہری کے بھتیجے کی حدیث میں ابوخیثمہ اور اس کے نبی ﷺ سے مل جانے کا ذکر نہیں ہے۔
Abdullah bin Kab, who was his (Kabs) guide as he became blind, reported that he heard from Kab bin Malik the story of his staying behind Allahs Messenger ﷺ from the expedition of Tabuk. The rest of the hadith is the same (but with this variation) that in the narration transmitted on the authority of Yunus (the words are): When Allahs Messenger ﷺ intended to set on any expedition he kept it as a secret, but he did not do so in this expedition. And in the narration transmitted on the authority of Muhammad bin Abdullah bin Muslim, there is no mention of Abu Khaithana (RA) and no mention of his meeting with Allahs Messenger ﷺ .
حضرت کعب بن مالک اور ان کے دو ساتھیوں کی توبہ کی حدیث کے بیان میں
و حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ عَمِّهِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ کَعْبٍ وَکَانَ قَائِدَ کَعْبٍ حِينَ أُصِيبَ بَصَرُهُ وَکَانَ أَعْلَمَ قَوْمِهِ وَأَوْعَاهُمْ لِأَحَادِيثِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي کَعْبَ بْنَ مَالِکٍ وَهُوَ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ يُحَدِّثُ أَنَّهُ لَمْ يَتَخَلَّفْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا قَطُّ غَيْرَ غَزْوَتَيْنِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ وَغَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَاسٍ کَثِيرٍ يَزِيدُونَ عَلَی عَشْرَةِ آلَافٍ وَلَا يَجْمَعُهُمْ دِيوَانُ حَافِظٍ
سلمہ بن شبیب حسن بن اعین معقل ابن عبیداللہ زہری، عبدالرحمن بن عبداللہ بن کعب بن مالک حضرت عبیداللہ بن کعب سے روایت ہے کہ جو حضرت کعب کی راہنمائی کرنے والے تھے جب ان کی بصارت ختم ہوگئی تھی اور وہ اپنی قوم میں سب سے زیادہ عالم اور رسول اللہ ﷺ کی احادیث کو محفوظ رکھنے والے تھے وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے باپ کعب بن مالک سے سنا اور وہ ان تین میں سے ایک تھے جن کی توبہ قبول کی گئی وہ بیان کرتے ہیں کہ وہ دو غزوات کے علاوہ کسی بھی غزوہ میں رسول اللہ ﷺ سے پیچھے نہیں رہے باقی حدیث گزر چکی اور اس روایت میں یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بہت کثیر لوگوں کے ہمراہ جہاد کیا جو دس ہزار سے بھی زیادہ تھے اور ان کا شمار کسی رجسٹر میں درج نہیں کیا گیا۔
It is reported on the authority of Abdullah bin Kab and he was the guide of Kab as he lost his eyesight and he was the greatest scholar amongst his people and he retained in his mind many ahadith of the Companions of Allahs Messenger ﷺ . He said: I heard my father Kab bin Malik, and he was one of those three whose repentance was accepted (by Allah). He transmitted that he never lagged behind Allahs Messenger ﷺ from any expedition that he undertook except two expeditions; the rest of the hadith is the same, and in the tradition narrated through another chain of transmitters the words are: "That Allahs Messenger ﷺ set out on an expedition with a large number of persons more than ten thousand and this could not be recorded in the census register."
تہمت کی حدیث اور تہمت لگانے والوں کی توبہ قبول ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَيْلِيُّ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ وَالسِّيَاقُ حَدِيثُ مَعْمَرٍ مِنْ رِوَايَةِ عَبْدٍ وَابْنِ رَافِعٍ قَالَ يُونُسُ وَمَعْمَرٌ جَمِيعًا عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَعَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الْإِفْکِ مَا قَالُوا فَبَرَّأَهَا اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَکُلُّهُمْ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنْ حَدِيثِهَا وَبَعْضُهُمْ کَانَ أَوْعَی لِحَدِيثِهَا مِنْ بَعْضٍ وَأَثْبَتَ اقْتِصَاصًا وَقَدْ وَعَيْتُ عَنْ کُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ الْحَدِيثَ الَّذِي حَدَّثَنِي وَبَعْضُ حَدِيثِهِمْ يُصَدِّقُ بَعْضًا ذَکَرُوا أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَأَقْرَعَ بَيْنَنَا فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا فَخَرَجَ فِيهَا سَهْمِي فَخَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَلِکَ بَعْدَ مَا أُنْزِلَ الْحِجَابُ فَأَنَا أُحْمَلُ فِي هَوْدَجِي وَأُنْزَلُ فِيهِ مَسِيرَنَا حَتَّی إِذَا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوِهِ وَقَفَلَ وَدَنَوْنَا مِنْ الْمَدِينَةِ آذَنَ لَيْلَةً بِالرَّحِيلِ فَقُمْتُ حِينَ آذَنُوا بِالرَّحِيلِ فَمَشَيْتُ حَتَّی جَاوَزْتُ الْجَيْشَ فَلَمَّا قَضَيْتُ مِنْ شَأْنِي أَقْبَلْتُ إِلَی الرَّحْلِ فَلَمَسْتُ صَدْرِي فَإِذَا عِقْدِي مِنْ جَزْعِ ظَفَارِ قَدْ انْقَطَعَ فَرَجَعْتُ فَالْتَمَسْتُ عِقْدِي فَحَبَسَنِي ابْتِغَاؤُهُ وَأَقْبَلَ الرَّهْطُ الَّذِينَ کَانُوا يَرْحَلُونَ لِي فَحَمَلُوا هَوْدَجِي فَرَحَلُوهُ عَلَی بَعِيرِيَ الَّذِي کُنْتُ أَرْکَبُ وَهُمْ يَحْسِبُونَ أَنِّي فِيهِ قَالَتْ وَکَانَتْ النِّسَائُ إِذْ ذَاکَ خِفَافًا لَمْ يُهَبَّلْنَ وَلَمْ يَغْشَهُنَّ اللَّحْمُ إِنَّمَا يَأْکُلْنَ الْعُلْقَةَ مِنْ الطَّعَامِ فَلَمْ يَسْتَنْکِرْ الْقَوْمُ ثِقَلَ الْهَوْدَجِ حِينَ رَحَلُوهُ وَرَفَعُوهُ وَکُنْتُ جَارِيَةً حَدِيثَةَ السِّنِّ فَبَعَثُوا الْجَمَلَ وَسَارُوا وَوَجَدْتُ عِقْدِي بَعْدَ مَا اسْتَمَرَّ الْجَيْشُ فَجِئْتُ مَنَازِلَهُمْ وَلَيْسَ بِهَا دَاعٍ وَلَا مُجِيبٌ فَتَيَمَّمْتُ مَنْزِلِي الَّذِي کُنْتُ فِيهِ وَظَنَنْتُ أَنَّ الْقَوْمَ سَيَفْقِدُونِي فَيَرْجِعُونَ إِلَيَّ فَبَيْنَا أَنَا جَالِسَةٌ فِي مَنْزِلِي غَلَبَتْنِي عَيْنِي فَنِمْتُ وَکَانَ صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ السُّلَمِيُّ ثُمَّ الذَّکْوَانِيُّ قَدْ عَرَّسَ مِنْ وَرَائِ الْجَيْشِ فَادَّلَجَ فَأَصْبَحَ عِنْدَ مَنْزِلِي فَرَأَی سَوَادَ إِنْسَانٍ نَائِمٍ فَأَتَانِي فَعَرَفَنِي حِينَ رَآنِي وَقَدْ کَانَ يَرَانِي قَبْلَ أَنْ يُضْرَبَ الْحِجَابُ عَلَيَّ فَاسْتَيْقَظْتُ بِاسْتِرْجَاعِهِ حِينَ عَرَفَنِي فَخَمَّرْتُ وَجْهِي بِجِلْبَابِي وَ وَاللَّهِ مَا يُکَلِّمُنِي کَلِمَةً وَلَا سَمِعْتُ مِنْهُ کَلِمَةً غَيْرَ اسْتِرْجَاعِهِ حَتَّی أَنَاخَ رَاحِلَتَهُ فَوَطِئَ عَلَی يَدِهَا فَرَکِبْتُهَا فَانْطَلَقَ يَقُودُ بِيَ الرَّاحِلَةَ حَتَّی أَتَيْنَا الْجَيْشَ بَعْدَ مَا نَزَلُوا مُوغِرِينَ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ فَهَلَکَ مَنْ هَلَکَ فِي شَأْنِي وَکَانَ الَّذِي تَوَلَّی کِبْرَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَاشْتَکَيْتُ حِينَ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ شَهْرًا وَالنَّاسُ يُفِيضُونَ فِي قَوْلِ أَهْلِ الْإِفْکِ وَلَا أَشْعُرُ بِشَيْئٍ مِنْ ذَلِکَ وَهُوَ يَرِيبُنِي فِي وَجَعِي أَنِّي لَا أَعْرِفُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللُّطْفَ الَّذِي کُنْتُ أَرَی مِنْهُ حِينَ أَشْتَکِي إِنَّمَا يَدْخُلُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُسَلِّمُ ثُمَّ يَقُولُ کَيْفَ تِيکُمْ فَذَاکَ يَرِيبُنِي وَلَا أَشْعُرُ بِالشَّرِّ حَتَّی خَرَجْتُ بَعْدَ مَا نَقَهْتُ وَخَرَجَتْ مَعِي أُمُّ مِسْطَحٍ قِبَلَ الْمَنَاصِعِ وَهُوَ مُتَبَرَّزُنَا وَلَا نَخْرُجُ إِلَّا لَيْلًا إِلَی لَيْلٍ وَذَلِکَ قَبْلَ أَنْ نَتَّخِذَ الْکُنُفَ قَرِيبًا مِنْ بُيُوتِنَا وَأَمْرُنَا أَمْرُ الْعَرَبِ الْأُوَلِ فِي التَّنَزُّهِ وَکُنَّا نَتَأَذَّی بِالْکُنُفِ أَنْ نَتَّخِذَهَا عِنْدَ بُيُوتِنَا فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَأُمُّ مِسْطَحٍ وَهِيَ بِنْتُ أَبِي رُهْمِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ وَأُمُّهَا ابْنَةُ صَخْرِ بْنِ عَامِرٍ خَالَةُ أَبِي بَکْرٍ الصِّدِّيقِ وَابْنُهَا مِسْطَحُ بْنُ أُثَاثَةَ بْنِ عَبَّادِ بْنِ الْمُطَّلِبِ فَأَقْبَلْتُ أَنَا وَبِنْتُ أَبِي رُهْمٍ قِبَلَ بَيْتِي حِينَ فَرَغْنَا مِنْ شَأْنِنَا فَعَثَرَتْ أُمُّ مِسْطَحٍ فِي مِرْطِهَا فَقَالَتْ تَعِسَ مِسْطَحٌ فَقُلْتُ لَهَا بِئْسَ مَا قُلْتِ أَتَسُبِّينَ رَجُلًا قَدْ شَهِدَ بَدْرًا قَالَتْ أَيْ هَنْتَاهْ أَوْ لَمْ تَسْمَعِي مَا قَالَ قُلْتُ وَمَاذَا قَالَ قَالَتْ فَأَخْبَرَتْنِي بِقَوْلِ أَهْلِ الْإِفْکِ فَازْدَدْتُ مَرَضًا إِلَی مَرَضِي فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَی بَيْتِي فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ کَيْفَ تِيکُمْ قُلْتُ أَتَأْذَنُ لِي أَنْ آتِيَ أَبَوَيَّ قَالَتْ وَأَنَا حِينَئِذٍ أُرِيدُ أَنْ أَتَيَقَّنَ الْخَبَرَ مِنْ قِبَلِهِمَا فَأَذِنَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجِئْتُ أَبَوَيَّ فَقُلْتُ لِأُمِّي يَا أُمَّتَاهْ مَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ فَقَالَتْ يَا بُنَيَّةُ هَوِّنِي عَلَيْکِ فَوَاللَّهِ لَقَلَّمَا کَانَتْ امْرَأَةٌ قَطُّ وَضِيئَةٌ عِنْدَ رَجُلٍ يُحِبُّهَا وَلَهَا ضَرَائِرُ إِلَّا کَثَّرْنَ عَلَيْهَا قَالَتْ قُلْتُ سُبْحَانَ اللَّهِ وَقَدْ تَحَدَّثَ النَّاسُ بِهَذَا قَالَتْ فَبَکَيْتُ تِلْکَ اللَّيْلَةَ حَتَّی أَصْبَحْتُ لَا يَرْقَأُ لِي دَمْعٌ وَلَا أَکْتَحِلُ بِنَوْمٍ ثُمَّ أَصْبَحْتُ أَبْکِي وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَأُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ حِينَ اسْتَلْبَثَ الْوَحْيُ يَسْتَشِيرُهُمَا فِي فِرَاقِ أَهْلِهِ قَالَتْ فَأَمَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَأَشَارَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالَّذِي يَعْلَمُ مِنْ بَرَائَةِ أَهْلِهِ وَبِالَّذِي يَعْلَمُ فِي نَفْسِهِ لَهُمْ مِنْ الْوُدِّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هُمْ أَهْلُکَ وَلَا نَعْلَمُ إِلَّا خَيْرًا وَأَمَّا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ لَمْ يُضَيِّقْ اللَّهُ عَلَيْکَ وَالنِّسَائُ سِوَاهَا کَثِيرٌ وَإِنْ تَسْأَلْ الْجَارِيَةَ تَصْدُقْکَ قَالَتْ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرِيرَةَ فَقَالَ أَيْ بَرِيرَةُ هَلْ رَأَيْتِ مِنْ شَيْئٍ يَرِيبُکِ مِنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَهُ بَرِيرَةُ وَالَّذِي بَعَثَکَ بِالْحَقِّ إِنْ رَأَيْتُ عَلَيْهَا أَمْرًا قَطُّ أَغْمِصُهُ عَلَيْهَا أَکْثَرَ مِنْ أَنَّهَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ تَنَامُ عَنْ عَجِينِ أَهْلِهَا فَتَأْتِي الدَّاجِنُ فَتَأْکُلُهُ قَالَتْ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی الْمِنْبَرِ فَاسْتَعْذَرَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ ابْنِ سَلُولَ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ مَنْ يَعْذِرُنِي مِنْ رَجُلٍ قَدْ بَلَغَ أَذَاهُ فِي أَهْلِ بَيْتِي فَوَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَی أَهْلِي إِلَّا خَيْرًا وَلَقَدْ ذَکَرُوا رَجُلًا مَا عَلِمْتُ عَلَيْهِ إِلَّا خَيْرًا وَمَا کَانَ يَدْخُلُ عَلَی أَهْلِي إِلَّا مَعِي فَقَامَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ أَنَا أَعْذِرُکَ مِنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ کَانَ مِنْ الْأَوْسِ ضَرَبْنَا عُنُقَهُ وَإِنْ کَانَ مِنْ إِخْوَانِنَا الْخَزْرَجِ أَمَرْتَنَا فَفَعَلْنَا أَمْرَکَ قَالَتْ فَقَامَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَهُوَ سَيِّدُ الْخَزْرَجِ وَکَانَ رَجُلًا صَالِحًا وَلَکِنْ اجْتَهَلَتْهُ الْحَمِيَّةُ فَقَالَ لِسَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ کَذَبْتَ لَعَمْرُ اللَّهِ لَا تَقْتُلُهُ وَلَا تَقْدِرُ عَلَی قَتْلِهِ فَقَامَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ وَهُوَ ابْنُ عَمِّ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَقَالَ لِسَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ کَذَبْتَ لَعَمْرُ اللَّهِ لَنَقْتُلَنَّهُ فَإِنَّکَ مُنَافِقٌ تُجَادِلُ عَنْ الْمُنَافِقِينَ فَثَارَ الْحَيَّانِ الْأَوْسُ وَالْخَزْرَجُ حَتَّی هَمُّوا أَنْ يَقْتَتِلُوا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ عَلَی الْمِنْبَرِ فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَفِّضُهُمْ حَتَّی سَکَتُوا وَسَکَتَ قَالَتْ وَبَکَيْتُ يَوْمِي ذَلِکَ لَا يَرْقَأُ لِي دَمْعٌ وَلَا أَکْتَحِلُ بِنَوْمٍ ثُمَّ بَکَيْتُ لَيْلَتِي الْمُقْبِلَةَ لَا يَرْقَأُ لِي دَمْعٌ وَلَا أَکْتَحِلُ بِنَوْمٍ وَأَبَوَايَ يَظُنَّانِ أَنَّ الْبُکَائَ فَالِقٌ کَبِدِي فَبَيْنَمَا هُمَا جَالِسَانِ عِنْدِي وَأَنَا أَبْکِي اسْتَأْذَنَتْ عَلَيَّ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَأَذِنْتُ لَهَا فَجَلَسَتْ تَبْکِي قَالَتْ فَبَيْنَا نَحْنُ عَلَی ذَلِکَ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ ثُمَّ جَلَسَ قَالَتْ وَلَمْ يَجْلِسْ عِنْدِي مُنْذُ قِيلَ لِي مَا قِيلَ وَقَدْ لَبِثَ شَهْرًا لَا يُوحَی إِلَيْهِ فِي شَأْنِي بِشَيْئٍ قَالَتْ فَتَشَهَّدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَلَسَ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ يَا عَائِشَةُ فَإِنَّهُ قَدْ بَلَغَنِي عَنْکِ کَذَا وَکَذَا فَإِنْ کُنْتِ بَرِيئَةً فَسَيُبَرِّئُکِ اللَّهُ وَإِنْ کُنْتِ أَلْمَمْتِ بِذَنْبٍ فَاسْتَغْفِرِي اللَّهَ وَتُوبِي إِلَيْهِ فَإِنَّ الْعَبْدَ إِذَا اعْتَرَفَ بِذَنْبٍ ثُمَّ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ قَالَتْ فَلَمَّا قَضَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَالَتَهُ قَلَصَ دَمْعِي حَتَّی مَا أُحِسُّ مِنْهُ قَطْرَةً فَقُلْتُ لِأَبِي أَجِبْ عَنِّي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا قَالَ فَقَالَ وَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا أَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لِأُمِّي أَجِيبِي عَنِّي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ وَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا أَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ وَأَنَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ لَا أَقْرَأُ کَثِيرًا مِنْ الْقُرْآنِ إِنِّي وَاللَّهِ لَقَدْ عَرَفْتُ أَنَّکُمْ قَدْ سَمِعْتُمْ بِهَذَا حَتَّی اسْتَقَرَّ فِي نُفُوسِکُمْ وَصَدَّقْتُمْ بِهِ فَإِنْ قُلْتُ لَکُمْ إِنِّي بَرِيئَةٌ وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنِّي بَرِيئَةٌ لَا تُصَدِّقُونِي بِذَلِکَ وَلَئِنْ اعْتَرَفْتُ لَکُمْ بِأَمْرٍ وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنِّي بَرِيئَةٌ لَتُصَدِّقُونَنِي وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَجِدُ لِي وَلَکُمْ مَثَلًا إِلَّا کَمَا قَالَ أَبُو يُوسُفَ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَی مَا تَصِفُونَ قَالَتْ ثُمَّ تَحَوَّلْتُ فَاضْطَجَعْتُ عَلَی فِرَاشِي قَالَتْ وَأَنَا وَاللَّهِ حِينَئِذٍ أَعْلَمُ أَنِّي بَرِيئَةٌ وَأَنَّ اللَّهَ مُبَرِّئِي بِبَرَائَتِي وَلَکِنْ وَاللَّهِ مَا کُنْتُ أَظُنُّ أَنْ يُنْزَلَ فِي شَأْنِي وَحْيٌ يُتْلَی وَلَشَأْنِي کَانَ أَحْقَرَ فِي نَفْسِي مِنْ أَنْ يَتَکَلَّمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيَّ بِأَمْرٍ يُتْلَی وَلَکِنِّي کُنْتُ أَرْجُو أَنْ يَرَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّوْمِ رُؤْيَا يُبَرِّئُنِي اللَّهُ بِهَا قَالَتْ فَوَاللَّهِ مَا رَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَجْلِسَهُ وَلَا خَرَجَ مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ أَحَدٌ حَتَّی أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَی نَبِيِّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَهُ مَا کَانَ يَأْخُذُهُ مِنْ الْبُرَحَائِ عِنْدَ الْوَحْيِ حَتَّی إِنَّهُ لَيَتَحَدَّرُ مِنْهُ مِثْلُ الْجُمَانِ مِنْ الْعَرَقِ فِي الْيَوْمِ الشَّاتِ مِنْ ثِقَلِ الْقَوْلِ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَيْهِ قَالَتْ فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَضْحَکُ فَکَانَ أَوَّلَ کَلِمَةٍ تَکَلَّمَ بِهَا أَنْ قَالَ أَبْشِرِي يَا عَائِشَةُ أَمَّا اللَّهُ فَقَدْ بَرَّأَکِ فَقَالَتْ لِي أُمِّي قُومِي إِلَيْهِ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَا أَقُومُ إِلَيْهِ وَلَا أَحْمَدُ إِلَّا اللَّهَ هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ بَرَائَتِي قَالَتْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ الَّذِينَ جَائُوا بِالْإِفْکِ عُصْبَةٌ مِنْکُمْ عَشْرَ آيَاتٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَؤُلَائِ الْآيَاتِ بَرَائَتِي قَالَتْ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ وَکَانَ يُنْفِقُ عَلَی مِسْطَحٍ لِقَرَابَتِهِ مِنْهُ وَفَقْرِهِ وَاللَّهِ لَا أُنْفِقُ عَلَيْهِ شَيْئًا أَبَدًا بَعْدَ الَّذِي قَالَ لِعَائِشَةَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا يَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْکُمْ وَالسَّعَةِ أَنْ يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَی إِلَی قَوْلِهِ أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَکُمْ قَالَ حِبَّانُ بْنُ مُوسَی قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَکِ هَذِهِ أَرْجَی آيَةٍ فِي کِتَابِ اللَّهِ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لِي فَرَجَعَ إِلَی مِسْطَحٍ النَّفَقَةَ الَّتِي کَانَ يُنْفِقُ عَلَيْهِ وَقَالَ لَا أَنْزِعُهَا مِنْهُ أَبَدًا قَالَتْ عَائِشَةُ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرِي مَا عَلِمْتِ أَوْ مَا رَأَيْتِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحْمِي سَمْعِي وَبَصَرِي وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ إِلَّا خَيْرًا قَالَتْ عَائِشَةُ وَهِيَ الَّتِي کَانَتْ تُسَامِينِي مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَصَمَهَا اللَّهُ بِالْوَرَعِ وَطَفِقَتْ أُخْتُهَا حَمْنَةُ بِنْتُ جَحْشٍ تُحَارِبُ لَهَا فَهَلَکَتْ فِيمَنْ هَلَکَ قَالَ الزُّهْرِيُّ فَهَذَا مَا انْتَهَی إِلَيْنَا مِنْ أَمْرِ هَؤُلَائِ الرَّهْطِ و قَالَ فِي حَدِيثِ يُونُسَ احْتَمَلَتْهُ الْحَمِيَّةُ
حضرت سعید بن مسیب عروہ بن زبیر علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ عتبہ بن مسعود سے سیدہ عائشہ زوجہ نبی کریم کی حدیث روایت ہے کہ جب تہمت سے ان کے بارے میں کہا گیا جو کہا پس اللہ نے انہیں ان کی تہمت سے پاک کیا زہری نے کہا ان سب نے مجھ سے اس حدیث کا ایک ایک حصہ روایت کیا اور ان میں سے کچھ دوسروں سے اس حدیث کو زیادہ یاد رکھنے والے تھے اور عمدہ طور پر روایت کرنے والے تھے اور میں نے ان سب سے اس حدیث کو محفوظ و یاد رکھا جو انہوں نے مجھ سے روایت کی اور ان میں سے ہر ایک کی حدیث دوسرے کی حدیث کی تصدیق کرتی ہے یہ سب روایت کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ زوجہ نبی نے فرمایا رسول اللہ جب کسی سفر پر جانے کا ارادہ کرتے تو اپنی ازوج مطہرات کے درمیان قرعہ ڈالتے پس ان میں سے جس کا قرعہ نکلتا رسول اللہ اسے اپنے ہمراہ لے جاتے تھے سیدہ عائشہ نے کہا کہ اس غزوہ میں بھی آپ نے ہمارے درمیان قرعہ ڈالا تو اس میں میرے نام کا قرعہ نکل آیا پس میں رسول اللہ کے ہمراہ گئی اور یہ پردہ کے احکام نازل ہونے کے بعد کا واقعہ ہے پس مجھے میرے محمل میں سوار کیا جاتا اور اسی میں اتارا جاتا پس ہم چلتے رہے یہاں تک کہ رسول اللہ جب غزوہ سے فارغ ہو کر لوٹے اور ہم مدینہ کے قریب ہوگئے تو آپ نے رات کو کوچ کرنے کے اعلان کیا جب آپ نے کوچ کرنے کا اعلان کیا تو میں کھڑی ہوئی اور چل دی یہاں تک کہ لشکر سے دور چلی گئی جب میں قضائے حاجت سے فارغ ہوئی اور کجاوے کی طرف لوٹ کر آئی تو میں نے اپنے سینے کو ٹٹولا تو میرا ہار ظفار کے نگینوں والا ٹوٹ چکا تھا پس میں واپس گئی اور اپنے ہار کو ڈھونڈنا شروع کردیا اور مجھے اس ہار کی تلاش نے روک لیا اور میرے کجاوے اٹھانے والی جماعت آئی پس انہوں نے میرے کجاوے کو اٹھا کر میرے اونٹ پر رکھ دیا جس پر میں سوار ہوتی تھی اور وہ گمان کرتے تھے کہ میں اس کجاوے میں ہوں اور ان دنوں عورتیں دبلی پتلی ہوا کرتی تھیں موٹی تازی اور بھاری بھر کم نہ ہوتی تھیں اور نہ گوشت سے بھر پور کیونکہ وہ کھانا کم کھایا کرتی تھیں اس وجہ سے جب ان لوگوں نے کجاوہ کو اٹھا کر سوار کیا تو وزن کا اندازہ نہ لگا سکے اور میں نوخیز نوجوان لڑکی تھی پس انہوں نے اونٹ کو اٹھایا اور روانہ ہوگئے اور میں نے لشکر کے چلے جانے کے بعد اپنے ہار کو پالیا پس میں ان کے پڑاؤ کی جگہ آئی مگر وہاں پر یہ کوئی پکارنے والا تھا اور نہ ہی کوئی جواب دینے والا میں نے اسی جگہ کا ارادہ کیا جہاں پر میں پہلے تھی اور میرا گمان تھا کہ عنقریب وہ لوگ مجھے گم پا کر میری طرف لوٹ آئیں گے اسی دوران کہ میں اپنی جگہ پر بیٹھی ہوئی تھی کہ میری آنکھوں میں نیند کا غلبہ آیا اور میں سو گئی اور حضرت صفوان بن معطل سلمی ذکوانی نے لشکر کے پیچھے رات گزاری تھی وہ پچھلی رات کو چل کر صبح سویرے ہی میری جگہ پر پہنچ گئے سو سوئے ہوئے انسان کی سیاہی دیکھ کر میرے پاس آئے اور مجھے دیکھتے ہیں پہچان گئے کیونکہ انہوں نے مجھے احکام پردہ نازل ہونے سے پہلے دیکھا ہوا تھا جب انہوں نے مجھے پہچان کر انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا تو میں بیدار ہوگئی پس میں نے اپنے چہرے کو اپنی چادر سے ڈھانپ لیا اللہ کی قسم انہوں نے مجھ سے ایک کلمہ بھی گفتگو نہیں کیا اور نہ میں نے ان سے اناللہ کے علاوہ کوئی کلمہ سنا یہاں تک کہ انہوں نے اپنی سواری کو بٹھا دیا اور میں اونٹنی پر ہاتھ کے سہارے پر سوار ہوگئی پس وہ سواری کی مہار پکڑ کر چل دئیے یہاں تک کہ ہم لشکر کو ان کے پڑاؤ کے بعد پہنچ گئے جو کہ عین دوپہر کے وقت پہنچے تھے پس جس شخص کو ہلاک ہونا تھا وہ ہلاک ہوگیا وہ شخص جس نے سب سے بڑی تہمت لگائی تھی وہ عبداللہ بن ابی بن سلول تھا ہم مدینہ پہنچ گئے اور میں مدینہ پہنچے کے بعد ایک ماہ تک بیمار رہی اور لوگوں نے تہمت لگانے والوں کی باتوں میں غور کرنا شروع کردیا اور میں اس بارے میں کچھ نہ جانتی تھی البتہ مجھ کو اس بات نے شک میں ڈالا کہ میں نے اپنی بیماری میں رسول اللہ کی وہ شفقت نہ دیکھی جو اپنی بیماریوں کے وقت اس سے پہلے دیکھتی تھی رسول اللہ تشریف لاتے سلام کرتے پھر فرماتے تمہارا کیا حال ہے یہ بات مجھے شک میں ڈالتی تھی لیکن مجھے کسی برائی کے بارے میں شعور نہ تھا یہاں تک کہ کمزور ہونے کے بعد ایک دن میں قضائے حاجت کے لئے باہر نکلی اور حضرت ام مسطح بھی میرے ساتھ مناصع کی طرف نکلیں اور وہ ہمارا بیت الخلاء تھا اور ہم صرف رات کے وقت نکلا کرتی تھیں اور یہ ہمارے گھروں کے قریب بیت الخلا بننے سے پہلے کا واقعہ ہے اور ہمارا معاملہ عرب کے پہلے لوگوں کی طرح تھا کہ ہم قضائے حاجت کے لئے جنگل میں جایا کرتی تھیں اور بیت الخلاء گھروں کے قریب بنانے سے ہم نفرت کرتے تھے پس میں اور ام مسطح چلیں اور وہ ابورہم بن عبدالمطلب بن عبدمناف کی بیٹی تھیں اور اس کی والدہ صخر بن عامر کی بیٹی تھی جو حضرت ابوبکر کی خالہ تھیں اور اس کا بیٹا مسطح اثانہ بن عباد بن عبدالمطلب کا بیٹا تھا پس جب میں اور ابورہم کی بیٹی قضائے حاجت سے فارغ ہو کر اپنے گھر کی طرف لوٹیں تو ام مسطح کا پاؤں ان کی چادر میں الجھ گیا تو اس نے کہا مسطح ہلاک ہوا میں نے اس سے کہا تو نے جو بات کی ہے وہ بری بات ہے کیا تو ایسے آدمی کو گالی دیتی ہے جو غزوہ بدر میں شریک ہوا تھا اس نے کہا اے بھولی بھالی عورت کیا تو نے وہ بات نہیں سنی جو اس نے کہی ہے میں نے کہا اس نے کیا کہا ہے پھر اس نے مجھے تہمت کی بات کے بارے میں خبر دی یہ سنتے ہی میری بیماری میں اور اضافہ ہوگیا پس جب میں اپنے گھر کی طرف لوٹی تو رسول اللہ میرے پاس تشریف لائے سلام کیا پھر فرمایا تمہارا کیا حال ہے میں نے عرض کیا آپ مجھے میرے والدین کے پاس جانے کی اجازت دیتے ہیں اور اس وقت میرا یہ ارادہ تھا کہ میں اپنے والدین کی طرف سے اس خبر کی تحقیق کروں پس رسول اللہ ﷺ نے مجھے اجازت دے دی پس میں اپنے والدین کے پاس آئی تو میں نے اپنی والدہ سے کہا اے امی جان لوگ کیا باتیں بنا رہے ہیں انہوں نے کہا اے میری پیاری بیٹی اپنے آپ پر قابو رکھ اللہ کی قسم ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ کوئی عورت اپنے خاوند کے نزدیک محبوب ہو اور اس کی سوکنیں بھی ہوں جو اس کے خلاف کوئی بات نہ بنائیں سیدہ عائشہ نے بیان کیا کہ میں نے کہا سبحان اللہ واقعتا لوگوں نے ایسی باتیں کی ہیں فرماتی ہیں کہ اس رات صبح تک روتی رہی نہ میرے آنسو رکے اور نہ ہی میں نے نیند کو آنکھوں کا سرمہ بنایا پھر میں نے روتے ہوئے صبح کی اور رسول اللہ ﷺ نے علی بن ابوطالب اور اسامہ بن زید کو بلایا اور ابھی تک وحی نازل نہیں ہوئی تھی اور ان سے اپنی اہلیہ کو جدا کرنے کا مشورہ طلب کیا پس اسامہ بن زید نے رسول اللہ کو وہی مشورہ دیا جو رسول اللہ اپنی اہلیہ کی برأت کے بارے میں جانتے تھے اور وہ جانتے تھے کہ آپ کو ان کے ساتھ محبت ہے انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول وہ آپ کے گھر والی ہے اور ہم بھلائی کے علاوہ ان میں کچھ نہیں جانتے اور بہر حال علی بن ابوطالب نے کہا اللہ نے آپ پر کوئی تنگی نہیں کی اور ان کی علاوہ بہت عورتیں موجود ہیں اور اگر آپ (سیدہ عائشہ) کی لونڈی سے پوچھیں تو وہ آپ سے سچی بات کر دے گی پس رسول اللہ ﷺ نے بریرہ کو بلوایا تو فرمایا اے بریرہ کیا تو نے کوئی ایسی چیز دیکھی ہے جس نے تجھے سیدہ عائشہ کی طرف سے شک میں ڈالا ہو آپ سے بریرہ نے عرض کیا قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے میں نے سیدہ عائشہ میں کوئی ایسی بات نہیں دیکھی جس پر نکتہ چینی کی جاسکے یا عیب لگایا جاسکے باقی یہ بات ہے کہ جو عمر نوجوان لڑکی ہے اپنے گھر والوں کا آٹا گوندھتے گوندھتے سو جاتی ہے اور بکری آکر اسے کھالیتی ہے پس رسول اللہ منبر پر کھڑے ہوئے اور عبداللہ بن ابی سلول سے جواب طلب کیا فرماتی ہیں پس رسول اللہ ﷺ نے منبر پر کھڑے ہو کر ارشاد فرمایا اے مسلمانوں کی جماعت تم میں سے کون بدلہ لے گا اس آدمی سے جس کی طرف سے مجھے اپنے اہل بیت کے بارے میں تکلیف پہنچی ہے اللہ کی قسم میں تو اپنے گھر والوں میں سوائے بھلائی کے کوئی بات نہیں جانتا اور جس آدمی کا تم ذکر کرتے ہو اس کے بارے میں بھی سوائے بھلائی کے کوئی بات نہیں جانتا اور نہ وہ میرے ساتھ کے علاوہ کبھی میرے گھر والوں کے پاس گیا ہے پس حضرت سعد بن معاذ انصاری کھڑے ہوئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول اس سے میں آپ کا بدلہ لیتا ہوں اگر وہ قبیلہ اوس سے ہے تو ہم اس کی گردن مار دیں گے اور اگر وہ ہمارے بھائیوں خزرج میں سے ہوا تو آپ جو حکم اس کے بارے میں دیں گے ہم آپ کے حکم کی تعمیل کریں گے پھر قبیلہ خزرج کے سردار سعد بن عباد کھڑے ہوئے اور وہ نیک آدمی تھے لیکن انہیں کچھ جاہلیت کی قبائلی تعصب نے بھڑکا دیا پس انہوں نے نے سعد بن معاذ سے کہا آپ نے سچ نہ کہا اللہ کی قسم تم اسے قتل نہیں کرسکتے اور نہ ہی تمہیں اس کے قتل پر قدرت حاصل ہے حضرت اسید بن حضیر سعد بن معاذ کے چچا زاد کھڑے ہوئے تو سعد بن عبادہ سے کہا تم نے بھی حق بات نہیں کی البتہ ہم ضرور بالضرور اسے قتل کریں گے تو کیا تم منافق ہو جو منافقین کی طرف سے لڑ رہے ہو الغرض اوس اور خزرج دونوں قبیلوں کو جوش آگیا یہاں تک کہ انہوں نے باہم لڑنے کا پختہ ارادہ کرلیا اور رسول اللہ منبر پر کھڑے ہوئے تھے پس رسول اللہ برابر ان کے غصہ کو ٹھنڈا کرنے کے لئے لگے رہے یہاں تک کہ وہ خاموش ہوگئے اور آپ بھی خاموش ہوگئے سیدہ فرماتی ہیں اس دن بھی روتی رہی میرے آنسو روکے نہیں رکتے تھے اور نہ میری آنکھوں نے نیند کو سرمہ بنایا پھر میں آنے والی رات میں بھی روتی رہی نہ میری آنسو رکے اور نہ ہی نیند کو سرمہ بنایا اور میرے والدین نے گمان کیا کہ رونا میرے جگر کو پھاڑ دے گا اسی دوران کہ وہ میرے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور میں رو رہی تھی کہ انصار میں سے ایک عورت نے میرے پاس آنے اجازت مانگی میں نے اسے اجازت دی پس وہ بھی بیٹھ کر رونا شروع ہوگئی پس ہم اسی حال میں تھیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمارے پاس تشریف لا کر سلام کیا پھر بیٹھ گئے فرماتی ہیں کہ جب سے میرے بارے میں باتیں کی گئیں جو کی گئیں آپ میرے پاس نہ بیٹھے تھے اور ایک مہینہ گزر چکا تھا لیکن آپ کی طرف میرے بارے میں کوئی وحی نازل نہ کی گئی تھی پھر رسول اللہ ﷺ نے بیٹھتے ہی تشہد پڑھا پھر فرمایا اما بعد اے عائشہ مجھے تیرے بارے میں ایسی ایسی خبر پہنچی ہے پس اگر تو پاک دامن ہے تو عنقریب اللہ تیری پاکدامنی واضح کر دے گا اور اگر تو گناہ میں ملوث ہوچکی ہو تو اللہ سے مغفرت طلب کر اور اس کی طرف رجوع کر پس بیشک بندہ جب گناہ کا اعتراف کرلیتا ہے پھر توبہ کرتا ہے تو اللہ بھی اس پر اپنی رحمت کے ساتھ رجوع فرماتا ہے پس جب رسول اللہ اپنی گفتگو پوری کرچکے تو میرے آنسو بالکل رک گئے یہاں تک کہ میں نے آنسوؤں سے ایک قطرہ تک محسوس نہ کیا میں نے اپنے باپ سے عرض کیا آپ میری طرف سے رسول اللہ کو ان باتوں کا جواب دیں جو آپ نے فرمائی ہیں تو انہوں نے کہا اللہ کی قسم میں نہیں جانتا کہ میں نے رسول اللہ کو کیا جواب دوں پھر میں نے اپنی والدہ سے عرض کیا کہ آپ میری طرف سے رسول اللہ کو جواب دیں تو انہوں نے کہا اللہ کی قسم میں بھی نہیں جانتی کہ میں رسول اللہ کو کیا جواب دوں تو میں نے عرض کیا میں ایک نوعمر لڑکی ہوں میں قرآن مجید کی تلاوت کثرت سے نہیں کرسکتی اور اللہ کی قسم میں جانتی ہوں کہ تم اس تہمت کی بات کو سن چکے ہو یہاں تک کہ وہ بات تمہارے دلوں میں پختہ ہوچکی ہے اور تم نے اسے سچ سمجھ لیا ہے پس اگر میں تم سے کہوں کہ میں پاک دامن ہوں اور اللہ جانتا ہے کہ میں پاک دامن ہوں تو تم میری تصدیق نہ کرو گے پس مجھے حضرت یوسف کے باپ کی بات کے علاوہ کوئی صورت اور تمہارے درمیان بطور مثال نظر نہیں آتی کہ انہوں نے کہا فصبر جمیل واللہ پس صبر ہی بہتر اور خوب ہے اور تمہاری اس گفتگو پر اللہ ہی سے مدد طلب کرتا ہوں فرماتی ہیں پھر میں نے کروٹ بدلی اور اپنے بستر پر لیٹ گئی فرماتی ہیں اللہ کی قسم میں اس وقت بھی جانتی تھی کہ میں پاک دامن ہوں اور بیشک اللہ تعالیٰ میری پاک دامنی کو واضع فرمائے گا لیکن اللہ کی قسم میرا یہ گمان بھی نہ تھا کہ میرے بارے میں ایسی وحی نازل کی جائے گی جس کی تلاوت کی جائے گی اور میں اپنی شان کو اپنے دل میں کم سمجھتی تھی اس سے کہ اللہ رب العزت میرے معاملہ میں کلام کرے گا جس کی تلاوت کی جائے گی لیکن میں تو یہ امید کرتی تھی کہ رسول اللہ نیند میں خواب دیکھیں گے جس میں اللہ میری پاکدامنی واضع کریں گے فرماتی ہیں اللہ کی قسم ابھی رسول اللہ اپنی جگہ سے نہ اٹھے تھے اور نہ ہی گھر والوں میں سے کوئی بھی باہر گیا تھا کہ اللہ رب العزت نے اپنے نبی پر وحی نازل فرمائی اور آپ کے پسینہ کے قطرات موتیوں کی طرح دکھنے لگے اس وحی کے بوجھ کی وجہ سے جو آپ پر نازل کی گئی جب رسول اللہ کی یہ حالت دور ہوگئی یعنی وحی پوری ہوگئی تو آپ مسکرانے لگے اور آپ کا پہلا کلمہ جس سے آپ نے گفتگو کی یہ تھا کہ اے عائشہ خوش ہوجا کہ اللہ نے تیری پاکدامنی واضع کردی ہے مجھ سے میری والدہ نے کہا آپ کی طرف اٹھ کر آپ کا شکریہ ادا کر میں نے کہا اللہ کی قسم میں صرف اللہ ہی کے سامنے کھڑی ہوں اور اسی اللہ کی حمد وثناء بیان کروں گی جس نے میری برأت نازل کی پس اللہ رب العزت نے یہ آیات نازل کیں ان الذین جاء وبالافک بیشک تم میں سے وہ جماعت جہنوں نے یہ تمہت لگائی ان دس آیات میں اللہ نے میری برأت نازل کی۔ فرماتی ہیں کہ حضرت ابوبکر جو مسطح پر قرابت داری اور ان کی غربت کی وجہ سے خرچ کیا کرتے تھے انہوں نے کہا اللہ کی قسم میں اس کے بعد جو اس نے عائشہ کے بارے میں کہا کبھی بھی انہیں کچھ نہ دوں گا تو اللہ رب العزت نے ولا یاتل اولو سے الا تحبون ان یغفر اللہ لکم تک آیات نازل فرمائیں تم میں سے جو لوگ صاحب فضل اور صاحب وسعت ہیں وہ یہ قسم نہ کھائیں کہ وہ اپنے رشتہ داروں اور مسکینوں اور اللہ کے راستہ میں ہجرت کرنے والوں کو نہ دیں گے اور انہیں چاہئے کہ وہ معاف کردیں اور درگزر کریں کیا تمہیں یہ پسند نہیں ہے کہ اللہ تمہیں معاف فرما دے اور اللہ بہت معاف کرنے والا بےحد مہربان ہے عبداللہ بن مالک نے کہا اللہ کی کتاب میں یہ آیت سب سے زیادہ امید کو بڑھانے والی ہے تو ابوبکر نے کہا اللہ کی قسم میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ اللہ مجھے معاف فرما دے پھر انہوں نے حضرت مسطح کو وہی خرچ دوبارہ دینا شروع کردیا جو اسے پہلے دیا کرتے تھے اور کہا میں اس سے یہ کبھی بھی نہ روکوں گا سیدہ عائشہ نے کہا رسول اللہ ﷺ نے ام المومنین حضرت زینب بنت جحش سے میرے معاملہ کے بارے میں پوچھا کہ تو کیا جانتی ہے تو نے کیا دیکھا ہے تو انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میں اپنے کانوں اور آنکھوں کی حفاظت رکھتی ہوں یعنی بن سنے یا دیکھے کوئی بات بیان نہیں کرتی اللہ کی قسم میں ان کے بارے ماسوائے بھلائی کے کچھ نہیں جانتی سیدہ عائشہ نے کہا یہی وہ عورت تھیں جو رسول اللہ کی ازواج مطہرات میں سے میرے مقابل اور برابر کی تھیں پس اللہ نے انہیں تقوی کی وجہ سے محفوظ رکھا البتہ ان کی بہن حمنہ بن جحش ان سے اس معاملہ میں لڑیں اور وہ بھی تہمت کی ہلاکت میں ہلاک ہونے والوں کے ساتھ ہلاک ہوئی زہری نے کہا یہ حدیث وہ ہے جو ہم تک اس معاملہ کے متعلق اس جماعت کے ذریعہ پہنچی ہے اور یونس کی حدیث میں کہا کہ تعصب میں شریک ہونے پر ابھارا۔
Said bin Musayyib, Urwa bin Zubair, Alqama bin Waqqas and Ubaidullah bin Abdullah bin Utba bin Masud all of them reported the story of the false allegation against Aisha, the wife of Allahs Apostle ﷺ . And they (the slanderers) said what they had to say, but Allah exonerated her of this charge and all of them reported a part of the hadith and some of them who had better memories reported more and with better retention, and I tried to retain this hadith (listening) from every one of them that they reported to me and some of them attested the other. (The summarized substance of the false allegation is this): Aisha said: Whenever Allahs Messenger ﷺ intended to set out on a journey he cast lots amongst his wives and he took one with him in whose favour the lot was cast. It so happened that he cast lots amongst us while setting out on a battle and it was cast in my favour, so I set out along with Allahs Messenger ﷺ . This relates to the period when the revelation concerning the commands of veil had been made. I was carried in a haudaj and I was brought down where we had to stay. In short, when we set out for return journey from the expedition and our caravan was near Madinah, Allahs Messenger ﷺ commanded one night to march forward. I also got up when the command for the march was given and moved on until I went out of the encampments of the army and after relieving myself I came to my place. I touched my chest and found that my necklace which had been made of the stones of zafar had been broken. I retraced my steps and tried to search my necklace and this detained me there. The group of people who saddled my ride and placed my haudaj carrying me upon the camels marched on. They were under the impression that I was in it. The women in those days were light of weight and they did not wear much flesh, as they ate less food; so they did not perceive the weight of my haudaj as they placed it upon the camel as I was a young girl at that time. So they drove the camel and set out and I found my necklace after the army had marched. I came to my place and there was none to call and none to respond (the call).
I waited at my place under the impression that when the people would not find me they would come back. So I kept sitting at my place. I was overpowered by sleep and slept. Safwan bin Muattal Sulami Dhakwini, who had lagged behind the army because of taking rest came to my place walking in the latter part of the night and he saw the body of a person who was asleep. He came to me and recognised me as he had seen me before it was enjoined to observe purda. I got up by his voice as he recited Inna lillahi wa inna ilaihi rajiun [we are for Allah and to Him we have to return.] and I covered my head with my headdress. By Allah, he did not speak to me a word and I did not hear a word from him except Inna lillahi. He made his camel kneel down and I amounted the camel as he pressed the camels foreleg and he moved on leading the camel by the nose string on which I was riding until we came to the army where it had encamped for rest because of extreme heat. Woe be upon those who harboured doubts about me and the most notorious among them was Abdullah bin Ubayy, the great hypocrite. We came to Madinah and I fell sick for a month. The people had been deliberating over the statements of those who had brought these calumnies against me. I was absolutely unaware of anything concerning that. This, however, caused doubt in my mind that I did not see Allahs Messenger (may peace be upon him.) treating me with such kindness with which he treated me as I fell ill before this. The Holy Prophet ﷺ would come and greet me with Assalam-o-Alaikum and only ask me how I was. This caused doubt in my mind, but I was unaware of the evil. I wept outside despite my failing health and there went along with me Umm Mistah and she said the daughter of Abu Rahm bin Muttalib bin Abd Manaf and his mother was the daughter of Sakhr bin Amir, the sister of the mother of Abu Bakr (RA) Sidiq and his son was Mistah bin Uthatha bin Abbad bin Muttalib. I and the daughter of Abu Rahm set towards the direction of my house. Something got into the head-dress of Umm Mistah and she said: Woe be upon Mistah. And I said. Woe be upon what you say. Do you curse people who had participated in Badr? She said: Innocent woman, have you not heard what he said? I said: What did he say? She conveyed to me the statement of those who had brought false allegations against me. So my illness was aggravated.
I went to my house and Allahs Messenger ﷺ came to me and he greeted me and then said: How is that woman? I said: Do you permit me to go to the (house) of my parents? She (further) said: I had at that time made up my mind to confirm this news from them. Allahs Messenger ﷺ permitted me. So I came to the house of my parents and said to my mother: Mother, do you know what the people are talking about? She said: My daughter, you should not worry. By Allah, if there is a handsome woman who is loved by her husband and he has co-wives also they talk many a-thing about her. I said: Hallowed be Allah, what are the people talking about? I wept during the whole night until it was morning and I did not have a wink of sleep and I wept even in the morning. As the revelation was delayed (in regard to this matter), so Allahs Messenger ﷺ called Ali ibn Abi Talib and Usama bin Zaid in order to seek their advice in regard to the separation of his wife. Usama bin Zaid told Allahs Messenger ﷺ about the innocence of his wives and what he knew about his love for them. He said: Allahs Messenger, they are your wives and we know nothing else about them but goodness. And as for Ali bin Abu Talib, he said: Allah has not put any unnecessary burden upon you (in regard to your wives). There are a number of women besides her and if you ask that maidservant (Barira) she will tell you the truth. So, Allahs Messenger ﷺ called Barira and said: Barira, did you see anything in Aisha which can cause doubt about her? Barira said: By Him Who sent thee with the truth, I have seen nothing objectionable in her but only this much that she is a young girl and she goes to sleep while kneading the flour and the lamb eats that. Thereupon Allahs Messenger ﷺ mounted the pulpit and sought vindication against Abdullah bin Ubayy bin Salul, and he further said: Who would exonerate me from imputations of that person who has troubled (me) in regard to my family? By Allah, I find nothing in my wife but goodness and the person whom the people have mentioned in this connection is, according to my knowledge, a thoroughly pious person, and he did never get into my house but along with me. Sad bin Muadh stood up and said: Allahs Messenger, I defend your honour against him. If he belong to the tribe of Aus we would strike his neck and if he belongs to the tribe of our brother Khazraj and you order us we would comply with your order.
Then Sad bin Ubadah stood up. He was chief of the Khazraj tribe. He was otherwise a pious man but he had some what tribal partisanship in him and he said to Sad bin Muadh: By the everlasting existence of Allah. you are not stating the fact, you will not be able to kill him and you will not have the power to do so. Thereupon, Usaid bin Hudair stood up, and he was the first cousin of Sad bin Muadh and said to Sad bin Ubadah: By the everlasting existence of Allah, you are not stating the fact. We would kill him. You are a hypocrite and so you argue in defence of the hypocrites, and thus both the tribes Aus and Khazraj were flared up, until they were about to fall upon one another and Allahs Messenger ﷺ kept standing upon the pulpit and Allahs Messenger ﷺ tried to subside their anger until they became silent and thus there was silence. Aisha further reported: I spent the whole day in weeping and even the night and could not have a wink of sleep even next night. My parents thought that this constant weeping of mine would break my heart. I wept and they sat beside me. In the meanwhile a woman of the Ansar came to see me. I permitted her to see me and she also began to weep. And we were in this very state that Allahs Messenger ﷺ came and he greeted me and then sat down. He had never sat with me since a month when this rumour was afloat, and there was no revelation (to clarify) my case. Allahs Messenger ﷺ recited Tashahhud (there is no god but Allah and Muhammad is His Apostle) ﷺ and then said: Coming to the point, Aisha, this is what has reached me about you and if you are innocent, Allah would Himself vindicate your honour, and if accidentally there has been a lapse on your part seek forgiveness of Allah; He will pardon thee for when a servant makes a confession of his fault and turns (to Him) penitently, Allah also turns to him (mercifully) accepting his repentance.
When Allahs Messenger ﷺ talked, my tears dried up and not even a single drop of tear was perceived by me (rolling out of my eyes). I said to my father: You give a reply to Allahs Messenger ﷺ on my behalf. He said: By Allah, I do not know what I should say to Allahs Messenger ﷺ . I then said to my mother: Give a reply to Allahs Messenger ﷺ on my behalf, but she said: By Allah, I do not know what I should say to Allahs Messenger ﷺ . I was a small girl at that time and I had not read much of the Quran (but I said): By Allah, I perceive that you have heard about this and it has settled down in your mind and you have taken it to be true, so if I say to you that I am quite innocent, and Allah knows that I am innocent, you would never believe me to be true, and if I confess to (the alleged) lapse before you, whereas Allah knows that I am completely innocent (and I have not committed this sin at all), in that case You will take me to be true and, by Allah, I, therefore, find no other alternative for me and for you except that what the father of Yousuf said: "(My course is) comely patience. And Allah it is Whose help is to be sought for in that (predicament) which ye describe" (xii 18). After this I turned my face to the other side and lay down on my bed. By Allah, I was fully aware of this fact that I was innocent but I did not expect that Allah would descend Wahy Matlu (Quranic Wahy) in my case as I did not think myself so much important that Allah, the Exalted and Glorious, would speak in this matter in words to be recited. I only hoped that Allah would in vision give an indication of my innocence to Allahs Messenger ﷺ during his sleep. And, by Allah, Allahs Messenger ﷺ had not moved an inch from where he had been sitting and none from the members of my family had gone that Allah, the Exalted and Glorious, descended revelation upon Allahs Messenger ﷺ there and then and he felt the burden which he used to feel at the time of receiving revelation. He began to perspire because of the burden of words of Allah as they descended upon him even during the winter season and there fell the drops of his sweat like silvery beads. When this state of receiving revelation was over, the Messenger of Allah ﷺ smiled and the first words which he spoke to me were that he said: Aisha, there is glad tidings for you. Verily, Allah has vindicated your honour, and my mother who had been standing by me said: Get up (and thank him, i. e. the Holy Prophet). I said: By Allah, I shall not thank him and laud him but Allah Who has descended revelation vindicating my honour. She (Aisha) said: Allah, the Exalted and Glorious, revealed: "Verily, those who spread the slander are a gang among you" (and) ten (subsequent) verses in regard to my innocence. She further said: Abu Bakr (RA) used to give to Mistah (some stipend) as a token of kinship with him and for his poverty and he (Abu Bakr) said: By Allah, now I would not spend anything for him. Aisha said: It was upon this that Allah the Exalted and Glorious revealed this verse: "And let not those who possess dignity and ease among you swear to give to the near of the kin" up to "Yearn ye not that Allah may forgive you?" Hibban bin Musa said that Abdullah bin Mubarak used to say: It is a verse contained in the Book which most (eminently) brightens the hope.
Abu Bakr (RA) said: By Allah, I wish that Allah should pardon me. I shall never stop this stipend. So he continued to give him the stipend which he had withdrawn. Aisha said that Allahs Messenger ﷺ asked Zainab, daughter of Jahsh, the wife of Allahs Apostle ﷺ , about me what she knew or what she had seen in me, and she said: Allahs Messenger, I shall not say anything without hearing (with my ears) and seeing with my eyes. By Allah, I find nothing in her but goodness. (And she stated this in spite of the fact) that she was the only lady who amongst the wives of Allahs Apostle ﷺ used to vie with me but Allah saved her in bringing false allegation against me because of her God-consciousness. Her sister Hamna bint Jahsh, however, opposed her and she was undone along with others.
تہمت کی حدیث اور تہمت لگانے والوں کی توبہ قبول ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَکِيُّ حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ح و حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحِ بْنِ کَيْسَانَ کِلَاهُمَا عَنْ الزُّهْرِيِّ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ وَمَعْمَرٍ بِإِسْنَادِهِمَا وَفِي حَدِيثِ فُلَيْحٍ اجْتَهَلَتْهُ الْحَمِيَّةُ کَمَا قَالَ مَعْمَرٌ وَفِي حَدِيثِ صَالِحٍ احْتَمَلَتْهُ الْحَمِيَّةُ کَقَوْلِ يُونُسَ وَزَادَ فِي حَدِيثِ صَالِحٍ قَالَ عُرْوَةُ کَانَتْ عَائِشَةُ تَکْرَهُ أَنْ يُسَبَّ عِنْدَهَا حَسَّانُ وَتَقُولُ فَإِنَّهُ قَالَ فَإِنَّ أَبِي وَوَالِدَهُ وَعِرْضِي لِعِرْضِ مُحَمَّدٍ مِنْکُمْ وِقَائُ وَزَادَ أَيْضًا قَالَ عُرْوَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ وَاللَّهِ إِنَّ الرَّجُلَ الَّذِي قِيلَ لَهُ مَا قِيلَ لَيَقُولُ سُبْحَانَ اللَّهِ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا کَشَفْتُ عَنْ کَنَفِ أُنْثَی قَطُّ قَالَتْ ثُمَّ قُتِلَ بَعْدَ ذَلِکَ شَهِيدًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَفِي حَدِيثِ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مُوعِرِينَ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ و قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ مُوغِرِينَ قَالَ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّزَّاقِ مَا قَوْلُهُ مُوغِرِينَ قَالَ الْوَغْرَةُ شِدَّةُ الْحَرِّ
ابو ربیع عتکی، فلیح بن سلیمان، ح، حسن بن علی حلوانی، عبد بن حمید، یعقوب بن ابراہیم بن سعد، ابوصالح بن کیسان، زہری، یونس، معمر، یہ حدیث مبارکہ ان اسناد سے بھی مروی ہے البتہ فلیح کی حدیث میں ہے کہ (حمنہ ؓ کو) تعصب نے جاہل بنادیا اور صالح کی حدیث میں ہے کہ (حمنہ ؓ کو تعصب نے (تہمت میں شریک ہونے پر) ابھارا صالح کی حدیث مبارکہ میں یہ اضافہ بھی ہے کہ حضرت عروہ نے کہا سیدہ عائشہ ؓ اپنے پاس حضرت حسان کو برا بھلا کہنے کو ناپسند کرتی تھیں کیونکہ انہوں نے کہا بیشک میرے باپ اور میری ماں اور میری عزت سب محمد ﷺ کی عزت کو تم سے بچانے کے لئے ہیں اور یہ اضافہ بھی ہے کہ سیدہ عائشہ ؓ نے کہا اللہ کی قسم جس آدمی کے بارے میں جو تہمت کیا گیا ہو وہ کہتے تھے سُبْحَانَ اللَّهِ اور کہتے تھے کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے میں نے کبھی بھی کسی عورت کا کپڑا نہیں کھولا فرماتی ہیں کہ پھر وہ اس کے بعد اللہ کے راستہ میں ہو کر رہے آگے موعرین فی نَحْرِ الظَّهِيرَةِ کا معنی بیان کیا ہے کہ اس کا معنی ہے دوپہر کے وقت سخت گرمی میں (قافلہ نے پر اؤ ڈالا)۔
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri through other chains of transmitters but with a slight variation of wording. In the hadith transmitters on the authority of Urwa, there is an addition of these words: "Aisha did not like that Hassan should be rebuked in her presence and she used to say: It was he who wrote this verse also: "Verily, my father and my mother and my honour, those are all meant for defending the honour of Muhammad against you." And Urwa further reported that Aisha said: By Allah, the person, about whom the allegation was made used to say: Hallowed be Allah, by One, in Whose hand is my life, I have never unveiled any woman, and then he died as a martyr in the cause of Allah, and in the narration transmitted on the authority of Yaqub bin Ibrahim., the word is Muirin and in the narration transmitted on theauthority of Abdul Razzaq it is Mughirin. Abd bin Humaid said: I said to Abdul Razzaq: What does this word Mughirin mean? And he said: Al- waghra means intense heat.
تہمت کی حدیث اور تہمت لگانے والوں کی توبہ قبول ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا ذُکِرَ مِنْ شَأْنِي الَّذِي ذُکِرَ وَمَا عَلِمْتُ بِهِ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا فَتَشَهَّدَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ أَشِيرُوا عَلَيَّ فِي أُنَاسٍ أَبَنُوا أَهْلِي وَايْمُ اللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَی أَهْلِي مِنْ سُوئٍ قَطُّ وَأَبَنُوهُمْ بِمَنْ وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَيْهِ مِنْ سُوئٍ قَطُّ وَلَا دَخَلَ بَيْتِي قَطُّ إِلَّا وَأَنَا حَاضِرٌ وَلَا غِبْتُ فِي سَفَرٍ إِلَّا غَابَ مَعِي وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ وَفِيهِ وَلَقَدْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتِي فَسَأَلَ جَارِيَتِي فَقَالَتْ وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَيْهَا عَيْبًا إِلَّا أَنَّهَا کَانَتْ تَرْقُدُ حَتَّی تَدْخُلَ الشَّاةُ فَتَأْکُلَ عَجِينَهَا أَوْ قَالَتْ خَمِيرَهَا شَکَّ هِشَامٌ فَانْتَهَرَهَا بَعْضُ أَصْحَابِهِ فَقَالَ اصْدُقِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی أَسْقَطُوا لَهَا بِهِ فَقَالَتْ سُبْحَانَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَيْهَا إِلَّا مَا يَعْلَمُ الصَّائِغُ عَلَی تِبْرِ الذَّهَبِ الْأَحْمَرِ وَقَدْ بَلَغَ الْأَمْرُ ذَلِکَ الرَّجُلَ الَّذِي قِيلَ لَهُ فَقَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا کَشَفْتُ عَنْ کَنَفِ أُنْثَی قَطُّ قَالَتْ عَائِشَةُ وَقُتِلَ شَهِيدًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَفِيهِ أَيْضًا مِنْ الزِّيَادَةِ وَکَانَ الَّذِينَ تَکَلَّمُوا بِهِ مِسْطَحٌ وَحَمْنَةُ وَحَسَّانُ وَأَمَّا الْمُنَافِقُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ فَهُوَ الَّذِي کَانَ يَسْتَوْشِيهِ وَيَجْمَعُهُ وَهُوَ الَّذِي تَوَلَّی کِبْرَهُ وَحَمْنَةُ
ابوبکربن ابی شیبہ، محمد بن علاء، ابواسامہ، ہشام بن عروہ، سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ جب میرے بارے میں بات پھیلائی گئی جو پھیلائی گئی اور میں جانتی بھی نہ تھی تو رسول اللہ خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے تو کلمہ شہادت پڑھا پھر اللہ کی وہ حمد وثنا بیان کی جو اس کے شایان شان ہے پھر فرمایا اما بعد مجھے ان لوگوں کے بارے میں مشورہ دو جنہوں نے میری اہلیہ پر تہمت لگائی ہے اور اللہ کی قسم میں اپنی بیوی کے بارے میں کسی بھی برائی کو نہیں جانتا اور وہ (صفیان) میرے گھر میں میری موجودگی کے علاوہ کبھی داخل نہیں ہوا اور جس سفر میں میں گیا ہوں وہ بھی میرے ساتھ ہی سفر میں رہا ہے باقی حدیث گزر چکی ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ رسول اللہ میرے گھر داخل ہوئے اور میری (بریرہ ؓ لونڈی سے پوچھا تو اس نے عرض کیا اللہ کی قسم میں نے اس میں کوئی عیب نہی پایا۔ سوائے اس کے کہ وہ سو جاتی ہے یہاں تک کہ بکری داخل ہو کر اس کا آٹا کھالیتی ہے پس آپ کے بعض اصحاب نے اسے ڈانٹا تو کہا کہ رسول اللہ ﷺ سے سچی بات کہو یہاں تک کہ انہوں نے اسے گرادیا اس نے کہا سبحان اللہ اللہ کی قسم مجھے ان کے بارے میں ایسا ہی علم ہے جیسا کہ سنار کو خالص سونے کی ڈلی کے بارے میں ہوتا ہے اور جب یہ معاملہ اس آدمی تک پہنچا جس کے بارے میں یہ بات کی گئی تھی تو اس نے کہا سبحان اللہ اللہ کی قسم میں نے تو کبھی کسی عورت کا کپڑا نہیں کھولا سیدہ نے کہا وہ اللہ کے راستہ میں شہید کئے گئے اور مزید اضافہ یہ ہے کہ جن لوگوں نے اس بہتان بازی میں گفتگو کی وہ مسطح حمنہ اور حسان تھے بہر حال عبداللہ بن ابی منافق تو اس بات کو آراستہ کر کے پھیلا ہی رہا تھا اور وہی اس بات کا ذمہ دار اور قائد تھا اور حمنہ بھی شریک تھی
Aisha reported: When I came under discussion what the people had to say about me, Allahs Messenger ﷺ stood up for delivering an address and he recited tashahhud (I bear witness to the fact that there is no god but Allah) and praised Allah, lauded Him what He rightly deserves and then said: Coming to the point. Give me an advice about them who have brought false charge about my family. By Allah, I know no evil in the members of my family and the person in connection with whom the false charge is being levelled, I know no evil in him too. And he never entered my house but in my presence and when I was away on a journey, he remained with me even in that. The rest of the hadith is the same but with this change that Allahs Messenger ﷺ came to my house and asked my maidservant and she said: By Allah, I know no fault in her but this that she sleeps, and a goat comes and eats the kneaded flour. Some of the Companions (of the Holy Prophet) scolded her and said: State the fact before Allahs Messenger ﷺ and they even made a pointed reference (to this incident). She said: Hallowed be Allah. By Allah, I know about her as does the jeweller know about the pure piece of gold. And when this news reached the person in connection with whom the allegation was made he said: Hallowed be Allah. By Allah, I have never unveiled any woman. Aisha said: He fell as a martyr in the cause of Allah, and there is this addition in this hadith that the people who had brought false allegation amongst them were Mistah and Hamna and Hassan. And so far as the hypocrite Abdullah bin Ubayy is concerned, he was one who tried his best to gather the false news and then gave them the wind. And he was in fact a fabricator and there was Hamna, daughter of Jahsh with him.
نبی ﷺ کی لونڈی کی تہمت سے برات کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا کَانَ يُتَّهَمُ بِأُمِّ وَلَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ اذْهَبْ فَاضْرِبْ عُنُقَهُ فَأَتَاهُ عَلِيٌّ فَإِذَا هُوَ فِي رَکِيٍّ يَتَبَرَّدُ فِيهَا فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ اخْرُجْ فَنَاوَلَهُ يَدَهُ فَأَخْرَجَهُ فَإِذَا هُوَ مَجْبُوبٌ لَيْسَ لَهُ ذَکَرٌ فَکَفَّ عَلِيٌّ عَنْهُ ثُمَّ أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَمَجْبُوبٌ مَا لَهُ ذَکَرٌ
زہیر بن حرب، عفان حماد بن سلمہ ثابت حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی کو رسول اللہ کی ام ولد کے ساتھ تہمت لگائی جاتی تھی تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا جاؤ اور اس کی گردن مار دو پس حضرت علی ؓ اس کے پاس آئے تو وہ ٹھنڈک حاصل کرنے کے لئے ایک کنویں میں تھا تو حضرت علی ؓ نے اس سے کہا باہر نکل پس آپ ؓ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے باہر نکالا اچانک دیکھا اس کا عضو تناسل کٹا ہوا تھا علی ؓ اسے قتل کرنے سے رک گئے پھر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر کر عرض کیا اے اللہ کے رسول وہ تو کٹے ہوئے ذکر والا ہے اور اس کا عضو تناسل نہیں ہے۔
Anas reported that a person was charged with fornication with the slave girl of Allahs Messenger ﷺ . Thereupon Allahs Messenger ﷺ said to Ali (RA) : Go and strike his neck. Ali came to him and he found him in a well making his body cool. Ali said to him: Come out, and as he took hold of his hand and brought him out, he found that his sexual organ had been cut. Hadrat Ali refrained from striking his neck. He came to Allahs Apostle ﷺ and said: Allahs Messenger, he has not even the sexual organ with him.