مالدار کا ٹال مٹول کرنے کی حرمت اور حوالہ کے جواز اور جب قرض مالدار پر اتارا جائے تو اس کے قبول کرنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُکُمْ عَلَی مَلِيئٍ فَلْيَتْبَعْ
یحییٰ بن یحیی، مالک، ابی زناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مالدار کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور جب تمہارا قرض کسی مالدار کے حوالے کردیا جائے گا تو اسی کا پیچھا کرنا چاہیے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Delay (in the payment of debt) on the part of a rich man is injustice, and when one of you is retired to a rich man, he should follow him.
مالدار کا ٹال مٹول کرنے کی حرمت اور حوالہ کے جواز اور جب قرض مالدار پر اتارا جائے تو اس کے قبول کرنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَا جَمِيعًا حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ ؓ نے نبی کریم ﷺ سے اسی طرح حدیث کی ہے۔
A hadith like this has been transmitted on the authority of Abu Huraira (Allah be pleased with him).
جنگلی زائد پانی کی بیع کی حرمت جبکہ لوگوں کو اس کی گھاس چرانے کے لئے ضرورت ہو اور اس سے روکنے کی حرمت اور جفتی کرانے کی بیع کی حرمت کے بیان میں۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ أَخْبَرَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ فَضْلِ الْمَائِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، محمد بن حاتم، یحییٰ بن سعید، ابن جریج، ابی زبیر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے زائد پانی کے فروخت کرنے سے منع فرمایا۔
Jabir bin Abdullah (, Allah be pleased with him) reported that Allahs Messenger ﷺ forbade the sale of excess water.
جنگلی زائد پانی کی بیع کی حرمت جبکہ لوگوں کو اس کی گھاس چرانے کے لئے ضرورت ہو اور اس سے روکنے کی حرمت اور جفتی کرانے کی بیع کی حرمت کے بیان میں۔
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ ضِرَابِ الْجَمَلِ وَعَنْ بَيْعِ الْمَائِ وَالْأَرْضِ لِتُحْرَثَ فَعَنْ ذَلِکَ نَهَی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اسحاق بن ابراہیم، روح بن عبادہ، ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبدا اللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اونٹ کی جفتی فروخت کرنے اور پانی اور کاشتکاری کے لئے زمین کی فروخت سے منع فرمایا۔
Jabir bin Abdullah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ forbade the hiring of a Camel to cover a she-Camel and from selling water and land to be tilled. So from all this the Messenger of Allah ﷺ forbade.
جنگلی زائد پانی کی بیع کی حرمت جبکہ لوگوں کو اس کی گھاس چرانے کے لئے ضرورت ہو اور اس سے روکنے کی حرمت اور جفتی کرانے کی بیع کی حرمت کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَائِ لِيُمْنَعَ بِهِ الْکَلَأُ
یحییٰ بن یحیی، مالک، قتیبہ بن سعید، لیث، ابی زناد، اعرج، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا زائد پانی سے منع نہ کیا جائے تاکہ اس کی وجہ سے گھاس کو بھی روک دیا جائے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Excess water must not be withheld so that the growth of herbage may be hindered.
جنگلی زائد پانی کی بیع کی حرمت جبکہ لوگوں کو اس کی گھاس چرانے کے لئے ضرورت ہو اور اس سے روکنے کی حرمت اور جفتی کرانے کی بیع کی حرمت کے بیان میں۔
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَمْنَعُوا فَضْلَ الْمَائِ لِتَمْنَعُوا بِهِ الْکَلَأَ
ابوطاہر، حرملہ، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، سعید بن مسیب، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا زائد پانی سے منع نہ کرو تاکہ اس کے ذریعہ گھاس کو روکو۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Do not withhold excess of water, so that you may prevent the growth of herbage.
جنگلی زائد پانی کی بیع کی حرمت جبکہ لوگوں کو اس کی گھاس چرانے کے لئے ضرورت ہو اور اس سے روکنے کی حرمت اور جفتی کرانے کی بیع کی حرمت کے بیان میں۔
و حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاکُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ أَنَّ هِلَالَ بْنَ أُسَامَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُبَاعُ فَضْلُ الْمَائِ لِيُبَاعَ بِهِ الْکَلَأُ
احمد بن عثمان نوفلی، ابوعاصم ضحاک بن مخلد، ابن جریج، زیاد ابن سعد، ہلال بن اسامہ، اباسلمہ بن عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا زائد پانی کی خریدو فروخت نہ کرو تاکہ اس کے ذریعہ گھاس کی بیع کی جائے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The excess of water should not be sold in order to enable the sate of herbage.
کتے کی قیمت اور کا ہن کی مٹھائی اور سر کش عورت کے مہر کی حرمت اور بلی کی بیع سے رو کنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ ثَمَنِ الْکَلْبِ وَمَهْرِ الْبَغِيِّ وَحُلْوَانِ الْکَاهِنِ
یحییٰ بن یحیی، مالک، ابن شہاب، ابی بکر بن عبدالرحمن، حضرت ابومسعود انصاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کتے کی قیمت اور فاحشہ کی اجرت اور کاہن کی مٹھائی سے منع فرمایا
Aba Masud al-Ansari (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ forbade the charging of price of the dog, and earnings of a prostitute and sweets offered to a kahin.
کتے کی قیمت اور کا ہن کی مٹھائی اور سر کش عورت کے مہر کی حرمت اور بلی کی بیع سے رو کنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ کِلَاهُمَا عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَفِي حَدِيثِ اللَّيْثِ مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ رُمْحٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا مَسْعُودٍ
قتیبہ بن سعید، محمد بن رمح، لیث بن سعد، ابوبکر بن ابی شیبہ، سفیان بن عیینہ، زہری، لیث، ابا مسعود اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے۔
A hadith like this is reported on the authority of Abu Masud through another chain of transmitters.
کتے کی قیمت اور کا ہن کی مٹھائی اور سر کش عورت کے مہر کی حرمت اور بلی کی بیع سے رو کنے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ قَالَ سَمِعْتُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ يُحَدِّثُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ شَرُّ الْکَسْبِ مَهْرُ الْبَغِيِّ وَثَمَنُ الْکَلْبِ وَکَسْبُ الْحَجَّامِ
محمد بن حاتم، یحییٰ بن سعید قطان، محمد بن یوسف، سائب بن یزید، حضرت رافع خدیج ؓ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا سب سے بری کمائی فاحشہ کی اجرت اور کتے کی قیمت اور پچھنے لگانے والے کی کمائی ہے۔
Rafi bin Khadij (RA) reported: I heard Allahs Apostle ﷺ as saying: The worst earning is the earning of a prostitute, the price of a dog and the earning of a cupper.
کتے کی قیمت اور کا ہن کی مٹھائی اور سر کش عورت کے مہر کی حرمت اور بلی کی بیع سے رو کنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ قَارِظٍ عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَمَنُ الْکَلْبِ خَبِيثٌ وَمَهْرُ الْبَغِيِّ خَبِيثٌ وَکَسْبُ الْحَجَّامِ خَبِيثٌ
اسحاق بن ابراہیم، ولید بن مسلم، اوزاعی، یحییٰ بن ابی کثیر، ابراہیم بن قارظ، سائب ابن یزید، حضرت رافع بن خدیج ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کتے کی قیمت ناپاک ہے اور سرکش عورت کی اجرت ناپاک ہے اور پچھنے لگانے والے کی کمائی ناپاک ہے۔
Rafi bin Khadij reported Allah Messenger ﷺ as saying: The price of a dog is evil, the earning of a prostitute is evil and the earning of a cupper is evil.
کتے کی قیمت اور کا ہن کی مٹھائی اور سر کش عورت کے مہر کی حرمت اور بلی کی بیع سے رو کنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
اسحاق بن ابراہیم، عبدالرزاق، معمر، یحییٰ بن ابی کثیر اسی حدیث کی دوسری اسناد ذکر ہے۔
A hadith like this has been narrated on the authority of Rafi b. Khadij through another chain of transmitters.
کتے کی قیمت اور کا ہن کی مٹھائی اور سر کش عورت کے مہر کی حرمت اور بلی کی بیع سے رو کنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ حَدَّثَنَا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
اسحاق بن ابراہیم، نضر بن شمیل، ہشام، یحییٰ بن ابی کثیر، ابراہیم بن عبداللہ، سائب بن یزید، رافع بن خدیج ایک اور سند سے بھی یہ حدیث روایت کی گئی ہے۔
A hadith like this has been narrated on the authority of Rafi b. Khadij through another chain of transmitters.
کتے کی قیمت اور کا ہن کی مٹھائی اور سر کش عورت کے مہر کی حرمت اور بلی کی بیع سے روکنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ ثَمَنِ الْکَلْبِ وَالسِّنَّوْرِ قَالَ زَجَرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِکَ
سلمہ بن شبیب، حسن بن اعین، معقل، حضرت ابوالز بیر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت جابر ؓ سے کتے اور بلی کی قیمت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا نبی کریم ﷺ نے اس سے ڈانٹا ہے یعنی منع کیا ہے۔
Abu Zubair said: I asked Jabir about the price of a dog and a cat; he said: Allahs Messenger ﷺ disapproved of that.
کتوں کے مار ڈالنے کے حکم اور اس کے منسوخ ہونے کے بیان میں شکار کھیتی یا جانوروں کی حفاظت وغیرہ کے علاوہ کتے پالنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْکِلَابِ
یحییٰ بن یحیی، مالک، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کتوں کے مار ڈالنے کا حکم دیا
Ibn Umar (RA) reported Allahs Messenger ﷺ giving command for killing dogs.
کتوں کے مار ڈالنے کے حکم اور اس کے منسوخ ہونے کے بیان میں شکار کھیتی یا جانوروں کی حفاظت و غیرہ کے علاوہ کتے پالنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْکِلَابِ فَأَرْسَلَ فِي أَقْطَارِ الْمَدِينَةِ أَنْ تُقْتَلَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، عبیداللہ، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کتوں کے مارنے کا حکم دیا اور کتوں کو قتل کرنے کے لئے اطراف مدینہ میں آدمی بھیجے۔
Ibn Umar (RA) reported: Allahs Messenger ﷺ ordered to kill dogs, and he sent (men) to the corners of Madinah that they should be killed.
کتوں کے مار ڈالنے کے حکم اور اس کے منسوخ ہونے کے بیان میں شکار کھیتی یا جانوروں کی حفاظت وغیرہ کے علاوہ کتے پالنے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ أُمَيَّةَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْکِلَابِ فَنَنْبَعِثُ فِي الْمَدِينَةِ وَأَطْرَافِهَا فَلَا نَدَعُ کَلْبًا إِلَّا قَتَلْنَاهُ حَتَّی إِنَّا لَنَقْتُلُ کَلْبَ الْمُرَيَّةِ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ يَتْبَعُهَا
حمید بن مسعدہ، بشر ابن مفضل، اسماعیل، ابن امیہ، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ کتوں کے مارنے کا حکم کرتے تھے پھر مدینہ اور اس کے گرد ونواح میں کتوں کا پیچھا کیا گیا تو ہم نے کوئی کتا مارے بغیر نہ چھوڑا یہاں تک کہ ہم نے دیہاتیوں کی اونٹنی کے ساتھ ساتھ رہنے والے کتے کو بھی مار ڈالا۔
Abdullah (b. Umar) (RA) reported: Allahs Messenger ﷺ ordered the killing of dogs and we would send (men) in Madinah and its corners and we did not spare any dog that we did not kill, so much so that we killed the dog that accompanied the wet she-camel belonging to the people of the desert.
کتوں کے مار ڈالنے کے حکم اور اس کے منسوخ ہونے کے بیان میں شکار کھیتی یا جانوروں کی حفاظت وغیرہ کے علاوہ کتے پالنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْکِلَابِ إِلَّا کَلْبَ صَيْدٍ أَوْ کَلْبَ غَنَمٍ أَوْ مَاشِيَةٍ فَقِيلَ لِابْنِ عُمَرَ إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ أَوْ کَلْبَ زَرْعٍ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ إِنَّ لِأَبِي هُرَيْرَةَ زَرْعًا
یحییٰ بن یحیی، حماد بن زید، عمرو بن دینار، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کتوں کے مارنے کا حکم دیا سوائے شکاری کتے یا بکریوں یا مویشیوں کی حفاظت کرنے والے کتوں کے تو ابن عمر ؓ سے کہا گیا کہ حضرت ابوہریرہ ؓ کھیت کے کتے کو مستثنی کرتے ہیں ابن عمر ؓ نے فرمایا بیشک حضرت ابوہریرہ ؓ کے پاس کھیت بھی ہیں اس لئے انہیں اس کا حکم بھی یاد ہے۔
Ibn Umar (RA) reported that Allahs Messenger (may peace be, upon him) ordered the killing of dogs except the dog tamed for hunting, or watching of the herd of sheep or other domestic animals. It was said to Ibn Umar (RA) that Abu Hurairah (RA) talks of (exception) about the dog for watching the field, whereupon he said: Since Abu Hurairah (RA) possessed land.
کتوں کے مار ڈالنے کے حکم اور اس کے منسوخ ہونے کے بیان میں شکار کھیتی یا جانوروں کی حفاظت وغیرہ کے علاوہ کتے پالنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ ح و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْکِلَابِ حَتَّی إِنَّ الْمَرْأَةَ تَقْدَمُ مِنْ الْبَادِيَةِ بِکَلْبِهَا فَنَقْتُلُهُ ثُمَّ نَهَی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِهَا وَقَالَ عَلَيْکُمْ بِالْأَسْوَدِ الْبَهِيمِ ذِي النُّقْطَتَيْنِ فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ
محمد بن احمد بن ابی خلف، روح، اسحاق بن منصور، روح ابن عبادہ، ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے کتوں کے مارنے کا حکم دیا تو اگر کوئی عورت دیہات سے اپنا کتا لے کر آتی تو ہم اسے بھی مار ڈالتے پھر نبی کریم ﷺ نے اس کے مارنے سے منع کردیا اور ارشاد فرمایا تم پر سیاہ کتا دو نقطوں والا مارنا لازم ہے کیونکہ وہ شیطان ہے۔
Abu Zubair heard Jabir bin Abdullah (RA) saying: Allahs Messenger ﷺ ordered us to kill dogs, and we carried out this order so much so that we also kill the dog coming with a woman from the desert. Then Allahs Apostle ﷺ forbade their killing. He (the Holy Prophet ﷺ further) said: It is your duty the jet-black (dog) having two spots (on the eyes), for it is a devil.
کتوں کے مار ڈالنے کے حکم اور اس کے منسوخ ہونے کے بیان میں شکار کھیتی یا جانوروں کی حفاظت وغیرہ کے علاوہ کتے پالنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ سَمِعَ مُطَرِّفَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ الْمُغَفَّلِ قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْکِلَابِ ثُمَّ قَالَ مَا بَالُهُمْ وَبَالُ الْکِلَابِ ثُمَّ رَخَّصَ فِي کَلْبِ الصَّيْدِ وَکَلْبِ الْغَنَمِ
عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، ابی التیاح، مطرف بن عبداللہ، حضرت ابن مغفل ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کتوں کے مارنے کا حکم دیا پھر ارشاد فرمایا کتے ان کا کیا بگاڑتے اور تکلیف دیتے ہیں پھر شکاری کتے اور بکریوں کے حفاظتی کتے کی اجازت دے دی۔
Ibn Mughaffal reported: Allahs Messenger ﷺ ordered the killing of dogs and then said: what is the trouble with them (the people of Madinah)? How dogs are nuisance to them (the citizens of Madinah)? He then permitted keeping of dogs for hunting and (the protection of) herds. In the hadith transmitted on the authority of Yahya, he (the Holy Prophet ﷺ) permitted the keeping of dogs for (the protection of) herds, for hunting and (the protection of) cultivated land.