جنگلی زائد پانی کی بیع کی حرمت جبکہ لوگوں کو اس کی گھاس چرانے کے لئے ضرورت ہو اور اس سے روکنے کی حرمت اور جفتی کرانے کی بیع کی حرمت کے بیان میں۔
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ ضِرَابِ الْجَمَلِ وَعَنْ بَيْعِ الْمَائِ وَالْأَرْضِ لِتُحْرَثَ فَعَنْ ذَلِکَ نَهَی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اسحاق بن ابراہیم، روح بن عبادہ، ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبدا اللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اونٹ کی جفتی فروخت کرنے اور پانی اور کاشتکاری کے لئے زمین کی فروخت سے منع فرمایا۔
Jabir bin Abdullah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ forbade the hiring of a Camel to cover a she-Camel and from selling water and land to be tilled. So from all this the Messenger of Allah ﷺ forbade.