حج کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 17 · 608 hadiths · Page 3 of 31

2831Sahih Muslim

احرام سے پہلے بدن میں خوشبو لگانے اور مشک کے استعمال کرنے اور اس بات کے بیان میں کہ خوشبو کا اثر باقی رہنے میں کوئی حرج نہیں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْکٍ أَخْبَرَنَا الضَّحَّاکُ عَنْ أَبِي الرِّجَالِ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُرْمِهِ حِينَ أَحْرَمَ وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ بِأَطْيَبِ مَا وَجَدْتُ

محمد بن رافع، ابن ابی فدیک، ضحاک، ابی رجال، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو جس وقت کہ آپ ﷺ احرام باندھنے لگتے اور احرام کھولنے لگتے خوشبو لگاتی اور یہ کہ طواف افاضہ سے قبل جو خوشبو پاتی وہ آپ ﷺ کو لگاتی۔

Aisha (Allah be pleased with her) reported: I applied the best available perfume I could find to the Messenger of Allah ﷺ before he entered upon the state of Ihram and after he was free from it.

2832Sahih Muslim

احرام سے پہلے بدن میں خوشبو لگانے اور مشک کے استعمال کرنے اور اس بات کے بیان میں کہ خوشبو کا اثر باقی رہنے میں کوئی حرج نہیں

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَأَبُو الرَّبِيعِ وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَلَمْ يَقُلْ خَلَفٌ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَلَکِنَّهُ قَالَ وَذَاکَ طِيبُ إِحْرَامِهِ

یحییٰ بن یحیی، سعید بن منصور، ابوربیع، خلف بن ہشام، قتیبہ بن سعید، یحیی، حماد بن زید، منصور، ابراہیم، اسود، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ گویا کہ میں دیکھ رہی ہوں کہ رسول اللہ ﷺ کی مانگ میں خوشبو مہک رہی ہے اس حال میں کہ آپ ﷺ احرام باندھے ہوئے ہیں خلف راوی نے یہ نہیں کہا کہ آپ ﷺ احرام کی حالت میں تھے لیکن انہوں نے کہا کہ یہ خوشبو احرام کی وجہ سے تھی۔

Aisha (Allah be pleased with her) reported: I still seem to see the glistening of the perfume where the hair parted on Allahs Messengers ﷺ head as he was in the state of Ihram, and Khalaf (one of the narrators) did not say: As he was in the state of Ihram, but said: That was the perfume of Ihram.

2833Sahih Muslim

احرام سے پہلے بدن میں خوشبو لگانے اور مشک کے استعمال کرنے اور اس بات کے بیان میں کہ خوشبو کا اثر باقی رہنے میں کوئی حرج نہیں

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَکَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُهِلُّ

یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، یحیی، ابومعاویہ، اعمش، ابراہیم، اسود، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ گویا کہ میں آپ ﷺ کو دیکھ رہی ہوں کہ رسول اللہ ﷺ کی مانگ میں خوشبو مہک رہی ہے اس حال میں کہ آپ ﷺ احرام باندھ رہے ہیں۔

Aisha (Allah be pleased with her) reported: I still seem to see the glistening of the perfume where the hair parted on Allahs Messengers ﷺ head and he was free from Ihram.

2834Sahih Muslim

احرام سے پہلے بدن میں خوشبو لگانے اور مشک کے استعمال کرنے اور اس بات کے بیان میں کہ خوشبو کا اثر باقی رہنے میں کوئی حرج نہیں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ قَالُوا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي الضُّحَی عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُلَبِّي

ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، ابوسعید اشج، وکیع، اعمش، ابی ضحی، مسروق، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ گویا کہ میں آپ ﷺ کی طرف دیکھ رہی ہوں کہ رسول اللہ ﷺ کی مانگ میں خوشبو مہک رہی تھی اس حال میں کہ آپ ﷺ تلبیہ کہہ رہے تھے۔

Aisha (Allah be pleased with her) reported: I still seem to see the glistening of the perfume where the hair parted on Allahs Messengers ﷺ head, while he was pronouncing Talbiya.

2835Sahih Muslim

احرام سے پہلے بدن میں خوشبو لگانے اور مشک کے استعمال کرنے اور اس بات کے بیان میں کہ خوشبو کا اثر باقی رہنے میں کوئی حرج نہیں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ وَعَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَکَأَنِّي أَنْظُرُ بِمِثْلِ حَدِيثِ وَکِيعٍ

احمد بن یونس، زہیر، اعمش، ابراہیم، اسود، مسلم، مسروق، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ گویا کہ میں دیکھ رہی ہوں آگے حدیث اسی طرح ہے

Aisha (Allah be pleased with her) reported: I still seem to see; the rest of the hadith is the same.

2836Sahih Muslim

احرام سے پہلے بدن میں خوشبو لگانے اور مشک کے استعمال کرنے اور اس بات کے بیان میں کہ خوشبو کا اثر باقی رہنے میں کوئی حرج نہیں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنَ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَکَمِ قَالَ سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ يُحَدِّثُ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ کَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَی وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ

محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، حکم، ابراہیم، اسود، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ گویا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی مانگ میں خوشبو مہکتی ہوئی دیکھ رہی ہوں اس حال میں کہ آپ ﷺ احرام میں ہیں۔

Aisha (Allah be pleased with her) said: I still seem to see the glistening of the perfume where the hair was parted on Allahs Messeingers ﷺ head while he was in the state of Ihram.

2837Sahih Muslim

احرام سے پہلے بدن میں خوشبو لگانے اور مشک کے استعمال کرنے اور اس بات کے بیان میں کہ خوشبو کا اثر باقی رہنے میں کوئی حرج نہیں

و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ إِنْ کُنْتُ لَأَنْظُرُ إِلَی وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ

ابن نمیر، مالک بن مغول، عبدالرحمن بن اسود، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی مانگ میں خوشبو مہکتی ہوئی دیکھتی تھی اس حال میں کہ آپ ﷺ احرام میں تھے۔

Aisha (Allah be pleased with her) reported: I still seem to perceive the glistening of perfume where the hair was parted on Allahs Messengers ﷺ head as he was in the state of Ihram.

2838Sahih Muslim

احرام سے پہلے بدن میں خوشبو لگانے اور مشک کے استعمال کرنے اور اس بات کے بیان میں کہ خوشبو کا اثر باقی رہنے میں کوئی حرج نہیں

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ وَهُوَ السَّلُولِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ وَهُوَ ابْنُ إِسْحَقَ بْنِ أَبِي إِسْحَقَ السَّبِيعِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ سَمِعَ ابْنَ الْأَسْوَدِ يَذْکُرُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُحْرِمَ يَتَطَيَّبُ بِأَطْيَبِ مَا يَجِدُ ثُمَّ أَرَی وَبِيصَ الدُّهْنِ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ بَعْدَ ذَلِکَ

محمد بن حاتم، اسحاق بن منصور، سلولی، ابراہیم بن یوسف، ابن اسحاق بن ابی اسحاق سبیعی، ابی اسحاق، اسود، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کا احرام باندھنے کا ارادہ ہوتا تھا تو میں اچھی سے اچھی خوشبو جو میں پاتی آپ ﷺ کو لگاتی پھر میں آپ ﷺ کے سر اور داڑھی مبارک میں تیل چمکتا ہوا دیکھتی۔

Aisha (Allah be pleased with her) reported that when the Messenger of Allah ﷺ intended to enter upon the state of Ihram she perfumed him with the best of perfumes which she could find and after that I saw the glistening of oil on his head and beard.

2839Sahih Muslim

احرام سے پہلے بدن میں خوشبو لگانے اور مشک کے استعمال کرنے اور اس بات کے بیان میں کہ خوشبو کا اثر باقی رہنے میں کوئی حرج نہیں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ عَنْ الْأَسْوَدِ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی وَبِيصِ الْمِسْکِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ

قتیبہ بن سعید، عبدالواحد، حسن بن عبیداللہ، ابراہیم، اسود، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں گویا کہ میں دیکھ رہی ہوں کہ رسول اللہ ﷺ کی مانگ میں مشک کی خوشبو مہک رہی ہے اس حال میں کہ آپ ﷺ احرام میں ہیں۔

Aisha (Allah be pleased with her) reported: I still seem to see the glistening of musk (in the parting of the head) of the Messenger of Allah ﷺ while he was in the state of Ihram.

2840Sahih Muslim

احرام سے پہلے بدن میں خوشبو لگانے اور مشک کے استعمال کرنے اور اس بات کے بیان میں کہ خوشبو کا اثر باقی رہنے میں کوئی حرج نہیں

و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا الضَّحَّاکُ بْنُ مَخْلَدٍ أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

اسحاق بن ابراہیم، ضحاک بن مخلد، ابوعاصم، سفیان، حضرت حسن بن عبداللہ سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت ہے۔

This hadith has been narrated by Ubaidullah with the same chain of transmitters.

2841Sahih Muslim

احرام سے پہلے بدن میں خوشبو لگانے اور مشک کے استعمال کرنے اور اس بات کے بیان میں کہ خوشبو کا اثر باقی رہنے میں کوئی حرج نہیں

و حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ کُنْتُ أُطَيِّبُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ وَيَوْمَ النَّحْرِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ بِطِيبٍ فِيهِ مِسْکٌ

احمد بن منیح، یعقوب دورقی، ہشیم، منصور، عبدالرحمن بن قاسم، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ میں نبی ﷺ کو احرام باندھنے سے پہلے اور قربانی والے دن اور بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے وہ خوشبو لگاتی تھی کہ جس میں مشک تھی۔

Aisha (Allah be pleased with her) reported: I used to perfume the Apostle of Allah ﷺ with a perfume containing musk before entering upon the state of Ihram and on the day of sacrifice (10th of Dhul-Hijja) and (at the conclusion of Ihram) before circumambulating the House (for Tawaf-i-Ifada).

2842Sahih Muslim

احرام سے پہلے بدن میں خوشبو لگانے اور مشک کے استعمال کرنے اور اس بات کے بیان میں کہ خوشبو کا اثر باقی رہنے میں کوئی حرج نہیں

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَأَبُو کَامِلٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي عَوَانَةَ قَالَ سَعِيدٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ الرَّجُلِ يَتَطَيَّبُ ثُمَّ يُصْبِحُ مُحْرِمًا فَقَالَ مَا أُحِبُّ أَنْ أُصْبِحَ مُحْرِمًا أَنْضَخُ طِيبًا لَأَنْ أَطَّلِيَ بِقَطِرَانٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَفْعَلَ ذَلِکَ فَدَخَلْتُ عَلَی عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَخْبَرْتُهَا أَنَّ ابْنَ عُمَرَ قَالَ مَا أُحِبُّ أَنْ أُصْبِحَ مُحْرِمًا أَنْضَخُ طِيبًا لَأَنْ أَطَّلِيَ بِقَطِرَانٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَفْعَلَ ذَلِکَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ أَنَا طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ إِحْرَامِهِ ثُمَّ طَافَ فِي نِسَائِهِ ثُمَّ أَصْبَحَ مُحْرِمًا

سعید بن منصور، ابوکامل، ابی عوانہ، سعید، ابوعوانہ، حضرت ابراہیم بن محمد بن منتشر ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر ؓ سے ایک ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا کہ وہ خوشبو لگاتا ہے پھر صبح کو احرام باندھتا حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا کہ میں اسے پسند نہیں کرتا کہ میں صبح کو اس حال میں احرام باندھوں کہ میرے جسم سے خوشبو پھوٹ رہی ہو اگر میں اپنے جسم پر تارکول کے دو قطرے مل لوں تو میں اس کو پسند کرتا ہوں ابراہیم بن محمد کہتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ ؓ کی خدمت میں گیا اور میں نے ان کو خبر دی کہ حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں اس کو پسند نہیں کرتا کہ میں صبح کو احرام باندھوں اس حال میں کہ میرے جسم سے خوشبو مہک رہی ہو اگر میں اپنے جسم پر تارکول کے دو قطرے لگالوں تو یہ میرے لئے زیادہ پسندیدہ ہے تو حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو خوشبو لگائی پھر آپ اپنی ازواج مطہرات ؓ پر تشریف لاتے پھر صبح کو آپ ﷺ احرام باندھتے تو خوشبو پھوٹ رہی ہوتی

Muhammad bin al-Muntashir reported on the authority of his father: I asked Abdullah bin Umar (RA) about a person who applied perfume and then (on the following) morning entered upon the state of Ihram. Thereupon he said: I do not like to enter upon the state of Ihram shaking off the perfume. Rubbing of tar (upon my body) is dearer to me than doing this (i. e. the applying of perfume), I went to Aisha (Allah be pleased with her) and told her that Ibn Umar stated: "I do not like to enter upon the state of Ihram shaking off the perfume. Rubbing of tar (upon my body) is dearer to me than doing it (the applying of perfume)." Thereupon Aisha said: I applied perfume to the Messenger of Allah ﷺ at the time of his entering upon the state of Ihram. He then went round his wives and then put on Ihram in the morning.

2843Sahih Muslim

احرام سے پہلے بدن میں خوشبو لگانے اور مشک کے استعمال کرنے اور اس بات کے بیان میں کہ خوشبو کا اثر باقی رہنے میں کوئی حرج نہیں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ کُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَطُوفُ عَلَی نِسَائِهِ ثُمَّ يُصْبِحُ مُحْرِمًا يَنْضَخُ طِيبًا

یحییٰ بن حبیب حارثی، خالد یعنی ابن حارث، شعبہ، ابراہیم بن محمد بن منتشر، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کو خوشبو لگاتی تھی پھر آپ ﷺ اپنی ازواج مطہرات ؓ پر تشریف لاتے پھر صبح کو آپ ﷺ احرام باندھتے تو خوشبو پھوٹ رہی ہوتی۔

Aisha (Allah be pleased with her) reported: I used to apply perfume to the Messenger of Allah ﷺ . He then went round his wives, and entered upon the state of Ihram in the morning and the perfume was shaken off.

2844Sahih Muslim

احرام سے پہلے بدن میں خوشبو لگانے اور مشک کے استعمال کرنے اور اس بات کے بیان میں کہ خوشبو کا اثر باقی رہنے میں کوئی حرج نہیں

و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ مِسْعَرٍ وَسُفْيَانَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُا لَأَنْ أُصْبِحَ مُطَّلِيًا بِقَطِرَانٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُصْبِحَ مُحْرِمًا أَنْضَخُ طِيبًا قَالَ فَدَخَلْتُ عَلَی عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَخْبَرْتُهَا بِقَوْلِهِ فَقَالَتْ طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ فِي نِسَائِهِ ثُمَّ أَصْبَحَ مُحْرِمًا

ابوکریب، وکیع، مسعر، سفیان، حضرت ابراہیم بن محمد بن منتشر اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں نے سنا کہ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ تارکول کے دو قطروں کو مل کر صبح کروں اس بات سے کہ میں صبح کو احرام باندھوں اور میرے جسم سے خوشبو پھوٹ رہی ہو حضرت ابراہیم بن محمد کہتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ ؓ کی خدمت میں گیا اور انہیں حضرت ابن عمر کے اس قول کی خبر دی تو حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو خوشبو لگائی پھر آپ ﷺ اپنی ازواج مطہرات ؓ میں مشغول ہوئے پھر آپ ﷺ نے صبح کو احرام باندھا۔

Muhammad bin al-Muntashir reported on the authority of his father: I heard from Ibn Omar having said this: "It is dearer to me to rub tar (on my body) than to enter upon the state of Ihram (in a state) of shaking off the perfume." He (the narrator) said: I went to Aisha and told her about this statement of his (of Ibn Umar). Thereupon she said: I applied perfume to the Messenger of Allah ﷺ and he then went round his wives and then entered upon the state of Ihram in the morning.

2845Sahih Muslim

حج یا عمرہ یا ان دونوں کا احرام باندھنے والے پر خشکی کا شکار کرنے کی حرمت کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيِّ أَنَّهُ أَهْدَی لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا وَحْشِيًّا وَهُوَ بِالْأَبْوَائِ أَوْ بِوَدَّانَ فَرَدَّهُ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَلَمَّا أَنْ رَأَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فِي وَجْهِي قَالَ إِنَّا لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْکَ إِلَّا أَنَّا حُرُمٌ

یحییٰ بن یحیی، مالک، ابن شہاب، عبیداللہ بن عبداللہ، ابن عباس، حضرت صعب بن جثامہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو ابوآ یا ودان[ ودان میں د مشدد ہے ] کے مقام پر ایک جنگلی گدھا ہدیہ پیش کیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس گدھے کو اسی پر واپس لوٹا دیا حضرت صعب کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مجھے دیکھا کہ میرے چہرے میں کچھ غم سا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے تجھے یہ گدھا واپس نہیں کیا سوائے اس کے کہ ہم احرام کی حالت میں ہیں۔

Al-Sab bin Jaththama al-Laithi reported that he presented a wild ass to Allahs Messenger ﷺ when he was at al-Abwa, or Waddan, and he refused to accept it. He (the narrator) said: When the Messenger of Allah ﷺ looked into my face (which had the mark of dejection as my present had been rejected by him) he (in order to console me) said: We have refused it only because we are in a state of Ihram.

2846Sahih Muslim

حج یا عمرہ یا ان دونوں کا احرام باندھنے والے پر خشکی کا شکار کرنے کی حرمت کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ وَقُتَيْبَةُ جَمِيعًا عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ح و حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ کُلُّهُمْ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَهْدَيْتُ لَهُ حِمَارَ وَحْشٍ کَمَا قَالَ مَالِکٌ وَفِي حَدِيثِ اللَّيْثِ وَصَالِحٍ أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ أَخْبَرَهُ

یحییٰ بن یحیی، محمد بن رمح، قتیبہ، لیث بن سعد، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، حسن حلوائی، یعقوب، صالح اس سند کے ساتھ حضرت زہری سے روایت ہے کہ حضرت صعب بن جثامہ نے خبر دی کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایک جنگلی گدھا بطور ہدیہ پیش کیا آگے حدیث اسی طرح ہے جیسے پچھلی گزری۔

A hadith (pertaining to this topic), has been narrated on the authority of Zuhri (and the words are): "I presented to him (the Holy Prophet) a wild ass."

2847Sahih Muslim

حج یا عمرہ یا ان دونوں کا احرام باندھنے والے پر خشکی کا شکار کرنے کی حرمت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ أَهْدَيْتُ لَهُ مِنْ لَحْمِ حِمَارِ وَحْشٍ

یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، سفیان بن عیینہ، حضرت زہری سے اس سند کے ساتھ روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے آپ ﷺ کو جنگلی گدھے کا گوشت ہدیہ کے طور پر پیش کیا۔

It is narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters (the narrator having) said this: "I presented to him the flesh of a wild ass."

2848Sahih Muslim

حج یا عمرہ یا ان دونوں کا احرام باندھنے والے پر خشکی کا شکار کرنے کی حرمت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَهْدَی الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارَ وَحْشٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَرَدَّهُ عَلَيْهِ وَقَالَ لَوْلَا أَنَّا مُحْرِمُونَ لَقَبِلْنَاهُ مِنْکَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، حبیب بن ابی ثابت، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضرت صعب بن جثامہ نے نبی ﷺ کو جنگلی گدھے کا ہدیہ پیش کیا اس حال میں کہ آپ ﷺ احرام میں تھے تو آپ ﷺ نے اس کو انہی پر واپس کردیا اور فرمایا کہ اگر احرام میں نہ ہوتے تو ہم تجھ سے اس کو قبول کرلیتے۔

Ibn Abbas (RA) reported that al-Sab bin Jaththama presented to the Apostle of Allah ﷺ a wild ass as he was in a state of Ihram, and he returned it to him saying: If we were not in a state of Ihram, we would have accepted it from you.

2849Sahih Muslim

حج یا عمرہ یا ان دونوں کا احرام باندھنے والے پر خشکی کا شکار کرنے کی حرمت کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ مَنْصُورًا يُحَدِّثُ عَنْ الْحَکَمِ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَکَمِ ح و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ جَمِيعًا عَنْ حَبِيبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي رِوَايَةِ مَنْصُورٍ عَنْ الْحَکَمِ أَهْدَی الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجْلَ حِمَارِ وَحْشٍ وَفِي رِوَايَةِ شُعْبَةَ عَنْ الْحَکَمِ عَجُزَ حِمَارِ وَحْشٍ يَقْطُرُ دَمًا وَفِي رِوَايَةِ شُعْبَةَ عَنْ حَبِيبٍ أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شِقُّ حِمَارِ وَحْشٍ فَرَدَّهُ

یحییٰ بن یحیی، معتمربن سلیمان، منصور، حکم، محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، حکم، عبیداللہ بن معاذ، حبیب، سعید بن جبیر، ابن عباس، حضرت حکم ؓ سے روایت ہے کہ حضرت صعب بن جثامہ نے نبی کریم ﷺ کو جنگلی گدھے کا ایک پاؤں ہدیہ کیا اور شعبہ کی روایت میں حضرت حکم سے ہے کہ انہوں نے آپ ﷺ کو جنگلی گدھے کا پچھلا دھڑ جس سے خون کے قطرے ٹپک رہے تھے ہدیہ دیا اور شعبہ کی ایک روایت پر حضرت حبیب سے ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو جنگلی گدھے کا ایک حصہ ہدیہ دیا تو آپ ﷺ نے اسے واپس فرما دیا۔

The narration transmitted by Hakam (the words are): Al-Sab bin Jaththama presented to the Apostle of Allah ﷺ the leg of a wild ass. And in the narration transmitted by Shubah (the words are): (He presented to him) the rump of a wild ass as the blood was trickling from it. In the narration transmitted by Shubah on the authority of Habib (the words are): A part of a wild ass was presented to the Apostle ﷺ (may peace he upon him) and he returned it to him (who presented it).

2850Sahih Muslim

حج یا عمرہ یا ان دونوں کا احرام باندھنے والے پر خشکی کا شکار کرنے کی حرمت کے بیان میں

و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَدِمَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَذْکِرُهُ کَيْفَ أَخْبَرْتَنِي عَنْ لَحْمِ صَيْدٍ أُهْدِيَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ حَرَامٌ قَالَ قَالَ أُهْدِيَ لَهُ عُضْوٌ مِنْ لَحْمِ صَيْدٍ فَرَدَّهُ فَقَالَ إِنَّا لَا نَأْکُلُهُ إِنَّا حُرُمٌ

زہیر بن حرب، یحییٰ بن سعید، ابن جریج، حسن بن مسلم، طاؤس، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ حضرت زید بن ارقم جب آئے تو ان سے حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ تو نے مجھے شکار کے اس گوشت کے بارے میں کیا خبر دی تھی کہ جو نبی ﷺ کو احرام کی حالت میں ہدیہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے فرمایا کہ آپ کو شکار کے گوشت کا ایک عضو ہدیہ کیا گیا تو آپ ﷺ نے اسے واپس کردیا اور فرمایا کہ ہم اسے نہیں کھاتے کیونکہ ہم احرام میں ہیں۔

Tawus reported on the authority of Ibn Abbas (RA) that one day Zaid bin Arqam went to him (Ibn Abbas) and said: Narrate how you informed me about the meat of the game presented to the Messenger of Allah ﷺ as he was in the state of Ihram. Thereupon he said: He was presented with a slice of the meat of game, but he returned it to him (who presented it) saying: We are not going to eat it, as we are in the state of Ihram.