حج یا عمرہ یا ان دونوں کا احرام باندھنے والے پر خشکی کا شکار کرنے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ صَالِحِ بْنِ کَيْسَانَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ کَيْسَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا مُحَمَّدٍ مَوْلَی أَبِي قَتَادَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ يَقُولُا خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی إِذَا کُنَّا بِالْقَاحَةِ فَمِنَّا الْمُحْرِمُ وَمِنَّا غَيْرُ الْمُحْرِمِ إِذْ بَصُرْتُ بِأَصْحَابِي يَتَرَائَوْنَ شَيْئًا فَنَظَرْتُ فَإِذَا حِمَارُ وَحْشٍ فَأَسْرَجْتُ فَرَسِي وَأَخَذْتُ رُمْحِي ثُمَّ رَکِبْتُ فَسَقَطَ مِنِّي سَوْطِي فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي وَکَانُوا مُحْرِمِينَ نَاوِلُونِي السَّوْطَ فَقَالُوا وَاللَّهِ لَا نُعِينُکَ عَلَيْهِ بِشَيْئٍ فَنَزَلْتُ فَتَنَاوَلْتُهُ ثُمَّ رَکِبْتُ فَأَدْرَکْتُ الْحِمَارَ مِنْ خَلْفِهِ وَهُوَ وَرَائَ أَکَمَةٍ فَطَعَنْتُهُ بِرُمْحِي فَعَقَرْتُهُ فَأَتَيْتُ بِهِ أَصْحَابِي فَقَالَ بَعْضُهُمْ کُلُوهُ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لَا تَأْکُلُوهُ وَکَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَامَنَا فَحَرَّکْتُ فَرَسِي فَأَدْرَکْتُهُ فَقَالَ هُوَ حَلَالٌ فَکُلُوهُ
قتیبہ بن سعید، سفیان، صالح بن کیسان، ابن ابی عمر، سفیان، صالح بن کیسان، محمد مولیٰ ابی قتادہ، حضرت ابوقتادہ ؓ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ جب ہم قاحہ کے مقام پر پہنچے تو ہم میں سے کچھ لوگ احرام میں تھے اور کچھ بغیر احرام کے تو اچانک میں نے دیکھا کہ میرے ساتھی کوئی چیز دیکھ رہے ہیں میں نے دیکھا کہ وہ ایک جنگلی گدھا تھا میں نے اپنے گھوڑے پر زین کس لی اور میں نے اپنا نیزہ لیا پھر میں سوار ہوگیا مجھ سے میرا چابک گرگیا تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ مجھے میرا چابک اٹھا دو اور وہ ساتھی حالت احرام میں تھے تو وہ کہنے لگے اللہ کی قسم! اس چیز پر ہم تمہاری مدد نہیں کرسکتے پھر میں اترا اور میں نے چابک رکھا اور پھر سوار ہوگیا تو میں نے اس جنگلی گدھے کو جا کر پکڑ لیا اور وہ ایک ٹیلے کے پیچھے تھا میں نے اسے نیزہ مارا اور اس کی کونچیں کاٹ دیں اور اسے اپنے ساتھیوں کے پاس لے آیا ان میں سے کچھ ساتھیوں نے کہا کہ تم اسے نہ کھاؤ نبی ﷺ ہمارے آگے تھے میں نے اپنے گھوڑے کو دوڑا کر آپ ﷺ کو پا لیا اور آپ ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ حلال ہے تم اسے کھالو۔
Abu Qatadah (RA) reported: We went with the Messenger of Allah ﷺ till we reached al-Qaha (a place three stages away from Madinah). Some of us were in the state of Ihram and some of us were not. I saw my companions looking towards something, and as I saw I found it to be a wild ass. I saddled my horse and took up my spear and then mounted upon (the horse) and my whip fell down. I said to my companions as they were in the state of Ihram to pick up the whip for me but they said: By Allah, we cannot help you in any (such) thing (i. e. hunting). So i dismounted (the horse) and picked it (whip) up and mounted again and caught the wild ass after chasing it. It was behind a hillock and I attacked it with my spear and killed it. Then I brought it to my companions. Some of them said: Eat it, while others said: Do not eat it. The Apostle of Allah ﷺ was in front of us. I moved my horse and came to him (and asked him), whereupon he said: It is permissible, so eat it.
حج یا عمرہ یا ان دونوں کا احرام باندھنے والے پر خشکی کا شکار کرنے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ مَالِکٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ أَبِي النَّضْرِ عَنْ نَافِعٍ مَوْلَی أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ کَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی إِذَا کَانَ بِبَعْضِ طَرِيقِ مَکَّةَ تَخَلَّفَ مَعَ أَصْحَابٍ لَهُ مُحْرِمِينَ وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ فَرَأَی حِمَارًا وَحْشِيًّا فَاسْتَوَی عَلَی فَرَسِهِ فَسَأَلَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُنَاوِلُوهُ سَوْطَهُ فَأَبَوْا عَلَيْهِ فَسَأَلَهُمْ رُمْحَهُ فَأَبَوْا عَلَيْهِ فَأَخَذَهُ ثُمَّ شَدَّ عَلَی الْحِمَارِ فَقَتَلَهُ فَأَکَلَ مِنْهُ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَی بَعْضُهُمْ فَأَدْرَکُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ إِنَّمَا هِيَ طُعْمَةٌ أَطْعَمَکُمُوهَا اللَّهُ
یحییٰ بن یحیی، مالک، قتیبہ، مالک، ابی نضر، نافع مولیٰ ابی قتادہ، حضرت ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے یہاں تک کہ جب آپ ﷺ مکہ کے کسی راستے پر تھے تو حضرت ابوقتادہ ؓ اپنے احرام والے کچھ ساتھیوں کے ساتھ پیچھے رہ گئے اور خود ابوقتادہ احرام کے بغیر تھے تو حضرت ابوقتادہ ؓ نے ایک جنگلی گدھا دیکھا وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور اپنے ساتھیوں سے سوال کیا کہ وہ ان کو ان کا چابک کوڑا اٹھا دیں انہوں نے انکار کردیا پھر حضرت ابوقتادہ ؓ نے ان سے کوڑا مانگا تو انہوں نے اس سے بھی انکار کردیا تو پھر انہوں نے خود نیزہ پکڑا اور پھر اپنے گھوڑے کو دوڑا کر اس گدھے کو پکڑ کر قتل کردیا نبی ﷺ کے کچھ صحابہ ؓ نے اس میں سے کھایا اور کچھ نے انکار کردیا پھر وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور انہوں نے اس بارے میں آپ ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ ایک کھانا ہے جسے اللہ نے تمہیں کھلایا ہے۔
Abu Qatadah (RA) (RA) reported that while he was with the Messenger of Allah ﷺ on one of the highways of Makkah, he lagged behind him (the Holy Prophet) along with companions who were in the state of Ihram, whereas he was himself not Muhrim. He saw a wild ass. As he was mounting his horse he asked his companions to pick up for him his whip (which had dropped) but they refused to do so. He asked them to hand him over the spear, but they refused. He then himself took hold of it and chased the wild ass and killed it. Some of the Companions of the Apostle of Allah ﷺ ate (its meat), but some of them refused to do so. They overtook the Messenger of Allah ﷺ and asked him about it, and he said: It is a food which Allah provided you (so eat it).
حج یا عمرہ یا ان دونوں کا احرام باندھنے والے پر خشکی کا شکار کرنے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ مَالِکٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي حِمَارِ الْوَحْشِ مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي النَّضْرِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَلْ مَعَکُمْ مِنْ لَحْمِهِ شَيْئٌ
قتیبہ، مالک، زید بن اسلم، عطاء بن یسار، حضرت ابوقتادہ ؓ سے ابوالنضر کی حدیث کی طرح روایت ہے سوائے اس کے کہ زید بن اسلم کی حدیث مبارکہ میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کیا تمہارے پاس اس کے گوشت میں سے کچھ ہے؟
This hadith pertaining to the wild ass is reported on the authority of Abu Qatadah (RA). The rest of the hadith is the same but with this (variation of words) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Is there with you some of its flesh?"
حج یا عمرہ یا ان دونوں کا احرام باندھنے والے پر خشکی کا شکار کرنے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مِسْمَارٍ السُّلَمِيُّ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ انْطَلَقَ أَبِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فَأَحْرَمَ أَصْحَابُهُ وَلَمْ يُحْرِمْ وَحُدِّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَدُوًّا بِغَيْقَةَ فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَبَيْنَمَا أَنَا مَعَ أَصْحَابِهِ يَضْحَکُ بَعْضُهُمْ إِلَی بَعْضٍ إِذْ نَظَرْتُ فَإِذَا أَنَا بِحِمَارِ وَحْشٍ فَحَمَلْتُ عَلَيْهِ فَطَعَنْتُهُ فَأَثْبَتُّهُ فَاسْتَعَنْتُهُمْ فَأَبَوْا أَنْ يُعِينُونِي فَأَکَلْنَا مِنْ لَحْمِهِ وَخَشِينَا أَنْ نُقْتَطَعَ فَانْطَلَقْتُ أَطْلُبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْفَعُ فَرَسِي شَأْوًا وَأَسِيرُ شَأْوًا فَلَقِيتُ رَجُلًا مِنْ بَنِي غِفَارٍ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ فَقُلْتُ أَيْنَ لَقِيتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَرَکْتُهُ بِتَعْهِنَ وَهُوَ قَائِلٌ السُّقْيَا فَلَحِقْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَصْحَابَکَ يَقْرَئُونَ عَلَيْکَ السَّلَامَ وَرَحْمَةَ اللَّهِ وَإِنَّهُمْ قَدْ خَشُوا أَنْ يُقْتَطَعُوا دُونَکَ انْتَظِرْهُمْ فَانْتَظَرَهُمْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَدْتُ وَمَعِي مِنْهُ فَاضِلَةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْقَوْمِ کُلُوا وَهُمْ مُحْرِمُونَ
صالح بن میسمار سلمی، معاذ بن ہشام، یحییٰ بن ابی کثیر، حضرت عبداللہ بن قتادہ ؓ فرماتے ہیں کہ میرے باپ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حدیبیہ کو چلے آپ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ احرام کی حالت میں تھے اور وہ (میرے باپ) احرام کی حالت میں نہیں تھے اور رسول اللہ ﷺ سے بیان کیا گیا کہ دشمن غیقہ میں ہے تو رسول اللہ ﷺ چلے حضرت ابوقتادہ کہتے ہیں کہ میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ تھا اور وہ میری طرف دیکھ کر ہنس رہے تھے تو میں نے ایک جنگلی گدھے کو دیکھا اور میں نے اس پر حملہ کر کے اور اس پر نیزہ مار کر اسے روک لیا پھر میں نے اپنے ساتھیوں سے مدد مانگی تو انہوں نے میری مدد کرنے سے انکار کردیا پھر ہم نے اس کا گوشت کھایا اور ہمیں ڈر لگا کہ ہم رسول اللہ ﷺ سے کہیں علیحدہ نہ ہوجائیں میں رسول اللہ ﷺ کی تلاش میں نکلا کبھی گھوڑے کو بھگاتا اور کبھی آہستہ چلاتا آدھی رات کو بن غفار کے ایک آدمی سے ملاقات ہوئی تو میں نے اس سے پوچھا کہ تجھے رسول اللہ ﷺ کہاں ملے تھے؟ اس نے کہا میں نے آپ کو تعہن کے مقام میں چھوڑا ہے اور آپ سقیا کے مقام میں آرام فرمائیں گے تو میں آپ ﷺ سے اسی جگہ جا کر ملا اور میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ کے صحابہ آپ ﷺ کو سلام عرض کرتے ہیں اور انہیں یہ ڈر ہے کہ کہیں وہ آپ ﷺ سے علیحدہ نہ ہوجائیں آپ ﷺ ان کا انتظار فرمائیں تو آپ ﷺ نے ان کا انتظار فرمایا پھر میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں نے شکار کیا ہے اور اس سے بچا ہوا میرے پاس کچھ گوشت ہے تو نبی ﷺ نے قوم کے لوگوں سے فرمایا کہ تم کھاؤ حالانکہ وہ سب احرام کی حالت میں تھے۔
Abdullah bin Abu Qatadah (RA) reported: My father went with the Messenger of Allah ﷺ in the year of Hudaibiya. His Companions entered upon the state of Ihram whereas he did not, for it was conveyed to the Messenger of Allah ﷺ that the enemy (was hiding at) Ghaiqa. The Messenger of Allah ﷺ went forward. He (Abu Qatadah (RA)) said: Meanwhile I was along with his Companions, some of them smiled (to one another) as I cast a glance I saw a wild ass. I attacked it with a spear and held it, and begged for their (i. e. of his companions) assistance, but they refused to help me and we ate its meat. But we were afraid lest we should be separated (from the Messenger of Allah) ﷺ . So I proceeded on (with a view to) seeking the Messenger of Allah ﷺ . Sometimes I dashed my horse and sometimes I made it run at a leisurely pace (keeping pace with others). (In the meanwhile) I met a person from Banu Ghifar in the middle of the night. I said to him: Where did you meet the Messenger of Allah ﷺ ? He said: I left him at Tabin and he intended to halt at Suqya to spend the afternoon. I met him and said: Messenger of Allah. your Companions convey salutations and benedictions of Allah to you and they fear that they may not be separated from you (and the enemy may do harm to you), so wait for them, and he (the Holy Prophet) waited for them. I said: Messenger of Allah, I killed a game and there is left with me (some of the meat). The Apostle of Allah ﷺ said to his people: Eat it. And they were in the state of Ihram.
حج یا عمرہ یا ان دونوں کا احرام باندھنے والے پر خشکی کا شکار کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجًّا وَخَرَجْنَا مَعَهُ قَالَ فَصَرَفَ مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِمْ أَبُو قَتَادَةَ فَقَالَ خُذُوا سَاحِلَ الْبَحْرِ حَتَّی تَلْقَوْنِي قَالَ فَأَخَذُوا سَاحِلَ الْبَحْرِ فَلَمَّا انْصَرَفُوا قِبَلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْرَمُوا کُلُّهُمْ إِلَّا أَبَا قَتَادَةَ فَإِنَّهُ لَمْ يُحْرِمْ فَبَيْنَمَا هُمْ يَسِيرُونَ إِذْ رَأَوْا حُمُرَ وَحْشٍ فَحَمَلَ عَلَيْهَا أَبُو قَتَادَةَ فَعَقَرَ مِنْهَا أَتَانًا فَنَزَلُوا فَأَکَلُوا مِنْ لَحْمِهَا قَالَ فَقَالُوا أَکَلْنَا لَحْمًا وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ قَالَ فَحَمَلُوا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِ الْأَتَانِ فَلَمَّا أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا کُنَّا أَحْرَمْنَا وَکَانَ أَبُو قَتَادَةَ لَمْ يُحْرِمْ فَرَأَيْنَا حُمُرَ وَحْشٍ فَحَمَلَ عَلَيْهَا أَبُو قَتَادَةَ فَعَقَرَ مِنْهَا أَتَانًا فَنَزَلْنَا فَأَکَلْنَا مِنْ لَحْمِهَا فَقُلْنَا نَأْکُلُ لَحْمَ صَيْدٍ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ فَحَمَلْنَا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِهَا فَقَالَ هَلْ مِنْکُمْ أَحَدٌ أَمَرَهُ أَوْ أَشَارَ إِلَيْهِ بِشَيْئٍ قَالَ قَالُوا لَا قَالَ فَکُلُوا مَا بَقِيَ مِنْ لَحْمِهَا
ابوکامل حجدری، ابوعوانہ، عثمان بن عبداللہ بن موہب، حضرت عبداللہ بن ابی قتادہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حج کرنے کے لئے نکلے اور ہم بھی آپ ﷺ کے ساتھ نکلے راوی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اپنے صحابہ ؓ میں سے کچھ کو ایک طرف پھیر دیا حضرت ابوقتادہ بھی انہیں میں تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم سمندر کے ساحل پر چلو یہاں تک کہ تم مجھ سے آکر ملنا راوی کہتے ہیں کہ سب لوگ سمندر کے ساحل پر چلے تو جب وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف پھرے تو انہوں نے احرام باندھ لیا سوائے حضرت ابوقتادہ کے کہ انہوں نے احرام نہیں باندھا اسی دوران وہ چل رہے تھے کہ انہوں نے جنگلی گدھے دیکھے حضرت ابوقتادہ ؓ نے ان پر حملہ کر کے ایک گدھی کی کونچیں کاٹ دیں پھر وہ سب اترے اور انہوں نے اس گوشت سے کھایا حضرت ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ ہم نے گوشت تو کھالیا ہے حالانکہ ہم تو احرام میں ہیں حضرت ابوقتادہ کہتے ہیں کہ انہوں نے بچا ہوا گوشت ساتھ رکھ لیا اور جب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے تو انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! ہم احرام کی حالت میں تھے اور ابوقتادہ احرام میں نہیں تھے ہم نے جنگلی گدھے دیکھے تو ابوقتادہ ؓ نے ان پر حملہ کردیا اور ان میں سے ایک گدھی کی کونچیں کاٹ دیں پھر ہم اترے اور ہم نے اس گوشت سے کھایا پھر ہم نے سوچا کہ ہم تو شکار کا گوشت کھا بیٹھے ہیں حالانکہ ہم تو احرام میں ہیں اور شکار کا بچا ہوا گوشت ہم نے ساتھ اٹھا لیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم میں سے کسی کا شکار کا ارادہ تھا یا شکار کی طرف کسی نے کسی چیز کے ساتھ اشارہ کیا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ نہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ شکار سے بچا ہوا گوشت بھی تم کھالو۔
Abdullah bin Abu Qatadah (RA) reported on the authority of his father (RA) : The Messenger of Allah ﷺ set out for Pilgrimage and we also set out along with him. He (Abu Qatadah (RA)) said: There proceeded on some of his Companions and Abu Qatadah (RA) was (one of them). He, (the Holy Prophet) said: You proceed along the coastline till you meet me. He (Abu Qatadah (RA)) said: So they proceeded ahead of the Prophet ﷺ of God ﷺ , all of them had entered upon the state of Ihram, except Abu Qatadah (RA); he had not put on Ihram. As they went on they saw a wild ass, and Abu Qatadah (RA) attacked it and cut off its hind legs. They got down and ate its meat. They said: We ate meat in the state of Ihram. They carried the meat that was left of it. As they came to the Messenger of Allah ﷺ they said: Messenger of Allah, we were in the state of Ihram where as Abu Qatadah (RA) was not. We saw a wild ass and Abu Qatadah (RA) attacked it and cut off its hind legs. We got down and ate its meat and we thus ate the meat of a game while we were in the state of Ihram. We have (carried to you) what was left out of its meat. Thereupon he (the holy Prophet) said: Did anyone among you command him (to hunt) or point to him with anything (to do so)? They said: No. Thereupon he said: Then eat what is left out of its meat.
حج یا عمرہ یا ان دونوں کا احرام باندھنے والے پر خشکی کا شکار کرنے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح و حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَکَرِيَّائَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ شَيْبَانَ جَمِيعًا عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي رِوَايَةِ شَيْبَانَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمِنْکُمْ أَحَدٌ أَمَرَهُ أَنْ يَحْمِلَ عَلَيْهَا أَوْ أَشَارَ إِلَيْهَا وَفِي رِوَايَةِ شُعْبَةَ قَالَ أَشَرْتُمْ أَوْ أَعَنْتُمْ أَوْ أَصَدْتُمْ قَالَ شُعْبَةُ لَا أَدْرِي قَالَ أَعَنْتُمْ أَوْ أَصَدْتُمْ
محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، قاسم بن زکریا، عبیداللہ، حضرت شیبان کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم میں سے کسی نے یہ حکم دیا تھا کہ ابوقتادہ ؓ جنگلی گدھوں پر حملہ کریں یا اس کی طرف کسی نے اشارہ کیا؟ اور شعبہ کی روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ کیا تم نے اشارہ کیا تھا یا کیا تم نے شکار میں مدد کی تھی یا تم نے شکار کیا تھا شعبہ کہتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ آپ ﷺ نے أَعَنْتُمْ فرمایا یا أَصَدْتُمْ فرمایا۔
This hadith is narrated on the authority of Uthman bin Abdullah bin Mauhab with the same chain of transmitters. And in the narration transmitted on the authority of Shaiban (the words are): "The Messenger of Allah ﷺ said: Did any one of you command him to attack it or point towards it?" And in the narration transmitted by Shubah (the words are): "Did you point out or did you help or did you hunt?" Shubah said: I do not know whether he said: "Did you help or did you hunt?"
حج یا عمرہ یا ان دونوں کا احرام باندھنے والے پر خشکی کا شکار کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ وَهُوَ ابْنُ سَلَّامٍ أَخْبَرَنِي يَحْيَی أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ أَبَاهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ فَأَهَلُّوا بِعُمْرَةٍ غَيْرِي قَالَ فَاصْطَدْتُ حِمَارَ وَحْشٍ فَأَطْعَمْتُ أَصْحَابِي وَهُمْ مُحْرِمُونَ ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْبَأْتُهُ أَنَّ عِنْدَنَا مِنْ لَحْمِهِ فَاضِلَةً فَقَالَ کُلُوهُ وَهُمْ مُحْرِمُونَ
عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، یحییٰ بن حسان، معاویہ، ابن سلام، یحیی، حضرت عبداللہ بن ابی قتادہ ؓ فرماتے ہیں کہ ان کے باپ خبر دیتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ حدیبیہ میں تھے وہ کہتے ہیں کہ میرے علاوہ سب نے عمرہ کا احرام باندھ لیا وہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک جنگلی گدھے کا شکار کیا اور اسے اپنے احرام والے ساتھیوں کو کھلایا پھر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور میں نے آپ ﷺ کو اس کی خبر دی کہ ہمارے پاس اس کا گوشت بچ گیا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا تم اسے کھاؤ حالانکہ وہ سارے احرام کی حالت میں تھے۔
Abdullah bin Abu Qatadah (RA) narrated on the authority of his father (RA) that they went with the Messenger of Allah ﷺ on an expedition to Hudaibiya. He (further) said: They had entered upon the state of Ihram except I for Umrah. He (again) said: I (Abu Qatadah (RA)) hunted a wild ass and fed my companions in the state of their being Muhrim. I then came to the Messenger of Allah ﷺ and informed him that we had with us the meat that was left out of it. Thereupon he said: Eat it while they were in the state of Ihram.
حج یا عمرہ یا ان دونوں کا احرام باندھنے والے پر خشکی کا شکار کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّمَيْرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ مُحْرِمُونَ وَأَبُو قَتَادَةَ مُحِلٌّ وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ فَقَالَ هَلْ مَعَکُمْ مِنْهُ شَيْئٌ قَالُوا مَعَنَا رِجْلُهُ قَالَ فَأَخَذَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَکَلَهَا
احمد بن عبدہ ضبی، فضیل بن سلیمان نمیری، ابوحازم، حضرت عبداللہ بن ابی قتادہ ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ احرام کی حالت میں نکلے اور حضرت ابوقتادہ ؓ حلال تھے احرام کے بغیر اس کے بعد اسی طرح حدیث ہے اور اس میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تمہارے پاس اس میں سے کچھ ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہمارے پاس اس کا ایک پاؤں ہے تو رسول اللہ ﷺ نے وہ پاؤں ان سے لیا اور اسے کھالیا۔
Abdullah bin Abu Qatadah (RA) reported on the authority of his father (RA) that they went out with the Messenger of Allah ﷺ and they were Muhrim except Abu Qatadah (RA). The rest of the hadith is the same (but with the exception of these words): "He (the Holy Prophet) said: Is there anything out of it? They said: We have its leg with us. The Messenger of Allah ﷺ took it and ate it."
حج یا عمرہ یا ان دونوں کا احرام باندھنے والے پر خشکی کا شکار کرنے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَإِسْحَقُ عَنْ جَرِيرٍ کِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ کَانَ أَبُو قَتَادَةَ فِي نَفَرٍ مُحْرِمِينَ وَأَبُو قَتَادَةَ مُحِلٌّ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ وَفِيهِ قَالَ هَلْ أَشَارَ إِلَيْهِ إِنْسَانٌ مِنْکُمْ أَوْ أَمَرَهُ بِشَيْئٍ قَالُوا لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَکُلُوا
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوالاحوص، قتیبہ، اسحاق، جریر، عبدالعزیز بن رفیع، حضرت عبداللہ بن ابی قتادہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوقتادہ ؓ احرام کی حالت میں نہیں تھے جبکہ باقی سب احرام میں تھے آگے حدیث اسی طرح ہے اور اس میں ہے کہ کیا تم میں سے کسی انسان نے اس شکار کی طرف اشارہ کیا تھا یا اسے کسی چیز سے حکم دیا تھا؟ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا کہ نہیں اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا تو پھر تم اسے کھالو۔
Abdullah bin Abi Qatada reported that Abu Qatadah (RA) was among the party of those who had entered upon the state of Ihram whereas he was not. The rest of the hadith is the same (and herein it is also narrated): "He (the Holy Prophet) said: Did any person among you point to him (to hunt) or command him (in any form)? They said: Messenger of Allah, not at all. Thereupon he said: Then eat it."
حج یا عمرہ یا ان دونوں کا احرام باندھنے والے پر خشکی کا شکار کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْکَدِرِ عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کُنَّا مَعَ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ وَنَحْنُ حُرُمٌ فَأُهْدِيَ لَهُ طَيْرٌ وَطَلْحَةُ رَاقِدٌ فَمِنَّا مَنْ أَکَلَ وَمِنَّا مَنْ تَوَرَّعَ فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ طَلْحَةُ وَفَّقَ مَنْ أَکَلَهُ وَقَالَ أَکَلْنَاهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
زہیر بن حرب، یحییٰ بن سعید، ابن جریج، محمد بن منکدر، حضرت معاذ بن عبدالرحمن بن عثمان تیمی ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ہم حضرت طلحہ بن عبداللہ ؓ کے ساتھ ساتھ تھے اور ہم احرام کی حالت میں تھے کہ ان کے لئے ایک پرندہ ہدیہ لایا گیا اور حضرت طلحہ سو رہے تھے تو ہم میں سے کچھ نے وہ کھالیا اور کچھ نے پرہیز کیا تو جب حضرت طلحہ جاگے تو انہوں نے ان کی موافقت کی جنہوں نے کھایا تھا اور فرمایا کہ ہم نے احرام کی حالت میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھایا ہے۔
Abdul Rahman bin Uthman Taimi reported on the authority of his father; While we were with Talha bin Ubaidullah (RA) and were in the state of Ihram we were presented a (cooked) bird. Talha was sleeping. Some of us ate it and some of us refrained from (eating) it. When Talha awoke he agreed with him who ate it, and said: We ate it along with the Messenger of Allah ﷺ .
اس بات کے بیان میں کہ احرام اور غیر احرام والے کے لئے حرم اور غیر حرم میں جن جانوروں کا قتل مستحب ہے۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَی قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُکَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ مِقْسَمٍ يَقُولُ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يَقُولُ سَمِعْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَرْبَعٌ کُلُّهُنَّ فَاسِقٌ يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ الْحِدَأَةُ وَالْغُرَابُ وَالْفَأْرَةُ وَالْکَلْبُ الْعَقُورُ قَالَ فَقُلْتُ لِلْقَاسِمِ أَفَرَأَيْتَ الْحَيَّةَ قَالَ تُقْتَلُ بِصُغْرٍ لَهَا
ہارون بن سعید، احمد بن عیسی، ابن وہب، مخرمہ بن بکیر، عببد اللہ بن مقسم، قاسم بن محمد، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ چار جانور ایذاء دینے والے ہیں اور ان کو حرم اور غیرحرم میں قتل کیا جاسکتا ہے چیل، کوا، چوہا، کاٹنے والا کتا، راوی کہتے ہیں کہ میں نے قاسم سے کہا کہ سانپ کے بارے میں تیرا کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا کہ اس کی ذلت کی وجہ سے اسے قتل کیا جائے گا۔
Aisha, the wife of the Apostle of Allah ﷺ said: I heard Allahs Messenger ﷺ as saying: Four are the vicious (birds, beasts and reptiles) which should be killed in the state of Ihram or otherwise: kite (and vulture), crow, rat, and the voracious dog I (one of the narrators, Ubaid-ullah bin Miqsam) said to Qasim (the other narrator who beard it from Aisha): What about the snake? He said: Let it be killed with disgrace.
اس بات کے بیان میں کہ احرام اور غیر احرام والے کے لئے حرم اور غیر حرم میں جن جانوروں کا قتل مستحب ہے۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ خَمْسٌ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ الْحَيَّةُ وَالْغُرَابُ الْأَبْقَعُ وَالْفَأْرَةُ وَالْکَلْبُ الْعَقُورُ وَالْحُدَيَّا
ابوبکر بن ابی شیبہ، غندر، شعبہ، ابن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، قتادہ، سعید بن مسیب، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا پانچ جانور ایذاء دینے والے ہیں انہیں حرم اور غیرحرم میں قتل کیا جاسکتا ہے سانپ سیاہ وسفید، کوا، چوہا، کاٹنے والا کتا اور چیل۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: Five are the harmful things which should be killed in the state of Ihram or otherwise: snake, speckled crow, rat, voracious dog, and kite.
اس بات کے بیان میں کہ احرام اور غیر احرام والے کے لئے حرم اور غیر حرم میں جن جانوروں کا قتل مستحب ہے۔
و حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسٌ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ الْعَقْرَبُ وَالْفَأْرَةُ وَالْحُدَيَّا وَالْغُرَابُ وَالْکَلْبُ الْعَقُورُ
ابوربیع زہرانی، حماد، ابن زید، ہشام بن عروہ، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا پانچ جانور ایذاء دینے والے ہیں جن کو حرم میں بھی قتل کیا جاسکتا ہے بچھو، چوہا، چیل، کوا اور کاٹنے والا کتا۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Five are the vicious beasts which should be killed even in the state of Ihram: scorpion, rat, kite, crow and voracious dog.
اس بات کے بیان میں کہ احرام اور غیر احرام والے کے لئے حرم اور غیر حرم میں جن جانوروں کا قتل مستحب ہے۔
و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابن نمیر، حضرت ہشام نے اس سند کے ساتھ اسی طرح بیان کیا ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters.
اس بات کے بیان میں کہ احرام اور غیر احرام والے کے لئے حرم اور غیر حرم میں جن جانوروں کا قتل مستحب ہے۔
و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسٌ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ الْفَأْرَةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْغُرَابُ وَالْحُدَيَّا وَالْکَلْبُ الْعَقُورُ
عبیداللہ بن عمر قواریری، یزید بن زریع، معمر، زہری، عروہ، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا پانچ جانور ایذاء دینے والے ہیں جن کو حرم میں قتل کیا جاسکتا ہے چوہا اور بچھو اور چیل اور کوا اور کاٹنے والا کتا
Aisha reported Allahs Messenger ﷺ having said this: Five are the vicious and harmful things which should be killed even within the precincts of Haram: rat, scorpion, kite, crow and voracious dog.
اس بات کے بیان میں کہ احرام اور غیر احرام والے کے لئے حرم اور غیر حرم میں جن جانوروں کا قتل مستحب ہے۔
و حَدَّثَنَاه عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَتْ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ خَمْسِ فَوَاسِقَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ ثُمَّ ذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ
عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، حضرت زہری ؓ سے اس سند کے ساتھ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پانچ ایذاء دینے والے جانوروں کو حرم اور غیرحرم میں قتل کرنے کا حکم فرمایا پھر یزید بن زریع کی حدیث کی طرح ذکر فرمایا۔
This hadith has been narrated on the authority Zuhri with the same chain of transmitters that she (Aisha) reported: The Messenger of Allah ﷺ commanded to kill five harmful things in the state of Ihram or otherwise. The rest of the hadith is the same.
اس بات کے بیان میں کہ احرام اور غیر احرام والے کے لئے حرم اور غیر حرم میں جن جانوروں کا قتل مستحب ہے۔
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسٌ مِنْ الدَّوَابِّ کُلُّهَا فَوَاسِقُ تُقْتَلُ فِي الْحَرَمِ الْغُرَابُ وَالْحِدَأَةُ وَالْکَلْبُ الْعَقُورُ وَالْعَقْرَبُ وَالْفَأْرَةُ
ابوطاہر، حرملہ، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تمام جانوروں میں سے پانچ جانور ایذاء دینے والے ہیں جن کو حرم میں بھی قتل کیا جاسکتا ہے کوا، چیل، کاٹنے والا کتا، بچھو اور چوہا۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Five are the beasts harmful and vicious and these must be killed even within the precincts of the Ka’bah: crow, kite, voracious dog, scorpion and rat.
اس بات کے بیان میں کہ احرام اور غیر احرام والے کے لئے حرم اور غیر حرم میں جن جانوروں کا قتل مستحب ہے۔
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَمْسٌ لَا جُنَاحَ عَلَی مَنْ قَتَلَهُنَّ فِي الْحَرَمِ وَالْإِحْرَامِ الْفَأْرَةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْغُرَابُ وَالْحِدَأَةُ وَالْکَلْبُ الْعَقُورُ و قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ فِي رِوَايَتِهِ فِي الْحُرُمِ وَالْإِحْرَامِ
زہیر بن حرب، ابن ابی عمر، ابن عیینہ، زہیر، سفیان بن عیینہ، زہری، حضرت سالم اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ پانچ جانور ایسے ہیں کہ ان کو حرم میں اور احرام کی حالت میں قتل کرنا کوئی گناہ نہیں چوہا اور بچھو اور کوا اور چیل اور کانٹے والا کتا۔
Salim reported on the authority of his father (RA) that the Apostle of Allah ﷺ said: Five are the (beasts) which if one kills them in the precincts of the Ka’bah or in the state of Ihram entail no sin: rat, scorpion, crow, kite and voracious dog. In another version the words are: "as a Muhrim and in the state of Ihram".
اس بات کے بیان میں کہ احرام اور غیر احرام والے کے لئے حرم اور غیر حرم میں جن جانوروں کا قتل مستحب ہے۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَتْ حَفْصَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسٌ مِنْ الدَّوَابِّ کُلُّهَا فَاسِقٌ لَا حَرَجَ عَلَی مَنْ قَتَلَهُنَّ الْعَقْرَبُ وَالْغُرَابُ وَالْحِدَأَةُ وَالْفَأْرَةُ وَالْکَلْبُ الْعَقُورُ
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، حضرت ابن شہاب ؓ سے روایت ہے کہ حضرت سالم بن عبداللہ نے مجھے خبر دی کہ حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت حفصہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جانوروں میں سے پانچ جانور ایسے ہیں کہ جو کلی طور پر ایذاء دینے والے ہیں ان کے قتل کرنے والوں پر کوئی گناہ نہیں بچھو اور کوا اور چیل اور چوہا اور کاٹنے والا کتا۔
Hafsa, the wife of Allahs Apostle ﷺ , reported Allahs Messenger ﷺ having said this: There are five beasts, all of them are vicious and harmful and there is no sin for one who kills them (and these are): scorpion, crow, kite, rat and voracious dog.
اس بات کے بیان میں کہ احرام اور غیر احرام والے کے لئے حرم اور غیر حرم میں جن جانوروں کا قتل مستحب ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ جُبَيْرٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ مَا يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ مِنْ الدَّوَابِّ فَقَالَ أَخْبَرَتْنِي إِحْدَی نِسْوَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَمَرَ أَوْ أُمِرَ أَنْ يَقْتُلَ الْفَأْرَةَ وَالْعَقْرَبَ وَالْحِدَأَةَ وَالْکَلْبَ الْعَقُورَ وَالْغُرَابَ
احمد بن یونس، زہیر، حضرت زید بن جبیر ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر ؓ سے پوچھا کہ احرام والا کن جانوروں کو قتل کرسکتا ہے؟ حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات میں سے کسی نے مجھے خبر دی کہ آپ ﷺ نے حکم فرمایا یا فرمایا کہ احرام والے کو حکم دیا گیا کہ وہ چوہے اور بچھو اور چیل اور کاٹنے والے کتے اور کوے کو قتل کر دے۔
Zaid bin Jubair reported: A person asked Ibn Umar (RA) which beast a Muhrim could kill. Thereupon he said: One of the wives of Allahs Apostle ﷺ told me: He (the Holy Prophet) commanded to kill rat, scorpion, kite, voracious dog and crow.