حج کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 17 · 608 hadiths · Page 5 of 31

2871Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ احرام اور غیر احرام والے کے لئے حرم اور غیر حرم میں جن جانوروں کا قتل مستحب ہے۔

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ مَا يَقْتُلُ الرَّجُلُ مِنْ الدَّوَابِّ وَهُوَ مُحْرِمٌ قَالَ حَدَّثَتْنِي إِحْدَی نِسْوَةِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ کَانَ يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْکَلْبِ الْعَقُورِ وَالْفَأْرَةِ وَالْعَقْرَبِ وَالْحُدَيَّا وَالْغُرَابِ وَالْحَيَّةِ قَالَ وَفِي الصَّلَاةِ أَيْضًا

شیبان بن فروخ، ابوعوانہ، حضرت زید بن جبیر سے روایت ہے فرمایا کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر ؓ سے پوچھا کہ احرام کی حالت میں کن جانوروں کو قتل کیا جاسکتا ہے؟ حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے کی کسی زوجہ مطہرہ نے مجھ سے بیان کیا کہ آپ ﷺ کاٹنے والے کتے، چوہے اور بچھو اور کوا اور سانپ کے قتل کرنے کا حکم فرماتے تھے اور فرمایا کہ نماز میں بھی انہیں قتل کردیا جائے۔

Zaid bin Jubair reported: A person asked Ibn Umar which beast a Muhrim could kill, whereupon he said: One of the wives of Allabs Apostle ﷺ told me: He (the Holy Prophet) commanded to kill voracious dog, rat, scorpion, kite, crow, and snake (and this is allowed) likewise in prayer.

2872Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ احرام اور غیر احرام والے کے لئے حرم اور غیر حرم میں جن جانوروں کا قتل مستحب ہے۔

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَمْسٌ مِنْ الدَّوَابِّ لَيْسَ عَلَی الْمُحْرِمِ فِي قَتْلِهِنَّ جُنَاحٌ الْغُرَابُ وَالْحِدَأَةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْفَأْرَةُ وَالْکَلْبُ الْعَقُورُ

یحییٰ بن یحیی، مالک، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ پانچ جانور ایسے ہیں کہ جن کو قتل کرنے میں احرام والے پر کوئی گناہ نہیں کوا، چیل، بچھو، چوہا، کاٹنے ولا کتا۔

Ibn Umar (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Five are the beasts for killing which there is no sin for the Muhrim: crow, kite, scorpiou, rat and voracious dog.

2873Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ احرام اور غیر احرام والے کے لئے حرم اور غیر حرم میں جن جانوروں کا قتل مستحب ہے۔

و حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ قُلْتُ لِنَافِعٍ مَاذَا سَمِعْتَ ابْنَ عُمَرَ يُحِلُّ لِلْحَرَامِ قَتْلَهُ مِنْ الدَّوَابِّ فَقَالَ لِي نَافِعٌ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ خَمْسٌ مِنْ الدَّوَابِّ لَا جُنَاحَ عَلَی مَنْ قَتَلَهُنَّ فِي قَتْلِهِنَّ الْغُرَابُ وَالْحِدَأَةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْفَأْرَةُ وَالْکَلْبُ الْعَقُورُ

ہارون بن عبداللہ، محمد بن بکر، ابن جریج، حضرت ابن جریج بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت نافع ؓ سے کہا کہ آپ نے احرام والے کے لئے جانوروں کے قتل کرنے کے بارے میں حضرت ابن عمر ؓ سے کیا سنا؟ حضرت نافع ؓ نے مجھ سے فرمایا کہ حضرت عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جانوروں میں سے پانچ ایسے جانور ہیں کہ ان کے قتل کرنے میں احرام والے پر کوئی گناہ نہیں کوا، چیل، بچھو، چوہا، کاٹنے والا کتا۔

Ibn Juraij reported: I said to Nafi (RA) : What is that which you heard Ibn Umar (RA) declaring permissible for a Muhrim to kill some of the beasts? Nafi, said to me that Abdullah had reported: I heard Allahs Messenger ﷺ as saying: Five are the beasts in killing which or their being killed, there is no sin: crow, kite, scorpion, rat and voracious dog.

2874Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ احرام اور غیر احرام والے کے لئے حرم اور غیر حرم میں جن جانوروں کا قتل مستحب ہے۔

و حَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ وَابْنُ رُمْحٍ عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ح و حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ جَمِيعًا عَنْ نَافِعٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي جَمِيعًا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ح و حَدَّثَنِي أَبُو کَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ کُلُّ هَؤُلَائِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِکٍ وَابْنِ جُرَيْجٍ وَلَمْ يَقُلْ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَنْ نَافعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا ابْنُ جُرَيْجٍ وَحْدَهُ وَقَدْ تَابَعَ ابْنَ جُرَيْجٍ عَلَی ذَلِکَ ابْنُ إِسْحَقَ

قتیبہ، ابن رمح، لیث بن سعد، شیبان بن فروخ، جریر یعنی ابن حازم، نافع، ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، ابن نمیر، عبیداللہ، ابوکامل، حماد، ایوب، ابن مثنی، یزید بن ہارون، یحییٰ بن سعید، نافع، ابن عمران سندوں کے ساتھ حضرت نافع نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا پھر اسی طرح آگے حدیث بیان کی۔

This hadith has been narrated on the authority of Ibn Umar through be upon him) as saying: "Five (are the beasts) in killing which or their being killed in the precinct of the Ka’bah there is no sin." The rest of the hadith is the same.

2875Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ احرام اور غیر احرام والے کے لئے حرم اور غیر حرم میں جن جانوروں کا قتل مستحب ہے۔

و حَدَّثَنِيهِ فَضْلُ بْنُ سَهْلٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ عَنْ نَافِعٍ وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ خَمْسٌ لَا جُنَاحَ فِي قَتْلِ مَا قُتِلَ مِنْهُنَّ فِي الْحَرَمِ فَذَکَرَ بِمِثْلِهِ

فضل بن سہل، یزید بن ہارون، محمد بن اسحاق، نافع، عبیداللہ بن عبداللہ، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ پانچ جانور ایسے ہیں کہ جن کے قتل کرنے میں کوئی گناہ نہیں وہ جانور کہ جن کو حرم میں قتل کیا جائے پھر اسی طرح حدیث ذکر فرمائی۔

This hadith has been narrated on the authority of Ibn Umar (peace be upon him) as saying: "Five (are the beasts) in killing which or their being killed in the precinct of the Ka’bah there is no sin." The rest of the hadith is the same.

2876Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ احرام اور غیر احرام والے کے لئے حرم اور غیر حرم میں جن جانوروں کا قتل مستحب ہے۔

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَيَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالَ يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسٌ مَنْ قَتَلَهُنَّ وَهُوَ حَرَامٌ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ فِيهِنَّ الْعَقْرَبُ وَالْفَأْرَةُ وَالْکَلْبُ الْعَقُورُ وَالْغُرَابُ وَالْحُدَيَّا وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی بْنِ يَحْيَی

یحییٰ بن یحیی، یحییٰ بن ایوب، قتیبہ، ابن حجر، یحییٰ ابن یحیی، اسماعیل بن جعفر، عبداللہ بن دینار، حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا پانچ جانور ایسے ہیں کہ جو ان کو احرام کی حالت میں قتل کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ان جانوروں میں بچھو، چوہا، کاٹنے والا کتا، کوا اور چیل ہیں۔

Abdullah bin Umar (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Five (are the animals) which, if one kills them In the state of Ihram, entail no sin for one (who does it): scorpion, rat, voracious dog, crow and kite.

2877Sahih Muslim

محرم کو جب کوئی تکلیف وغیرہ پیش آجائے تو سر منڈانے فدیہ اور اس کی مقدار کے بیان میں

و حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ ح و حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ قَالَ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَی عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَی عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ وَأَنَا أُوقِدُ تَحْتَ قَالَ الْقَوَارِيرِيُّ قِدْرٍ لِي و قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ بُرْمَةٍ لِي وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَی وَجْهِي فَقَالَ أَيُؤْذِيکَ هَوَامُّ رَأْسِکَ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَاحْلِقْ وَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاکِينَ أَوْ انْسُکْ نَسِيکَةً قَالَ أَيُّوبُ فَلَا أَدْرِي بِأَيِّ ذَلِکَ بَدَأَ

عبیداللہ بن عمر قواریری، حماد یعنی ابن زید، ایوب، ابوربیع، حماد، ایوب، مجاہد، عبدالرحمن بن ابی لیلی، حضرت کعب بن عجرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ حدیبیہ والے سال میرے ہاں تشریف لائے اور میں ہانڈی کے نیچے آگ جلا رہا تھا اور میرے چہرے پر جوئیں گر رہیں تھیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تجھے جوئیں بہت تکلیف دے رہی ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو اپنا سر منڈا دے اور تین دنوں کے روزے رکھ لے یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دے یا ایک قربانی کر۔ ایوب راوی نے کہا کہ میں نہیں جانتا کہ آپ ﷺ نے ابتداء میں کس چیز کا ذکر فرمایا۔

Kab bin Ujra (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ came to me on the occasion of Hudaibiya and I was kindling fire under my cooking pot and lice were creeping on my face. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Do the vermins harm your head? I said: Yes. He said: Get your head shaved and (in lieu of it) observe fasts for three days or feed six needy persons, or offer sacrifice (of an animal). Ayyub said: I do not know with what (type of expiation) did he commence (the statement).

2878Sahih Muslim

محرم کو جب کوئی تکلیف وغیرہ پیش آجائے تو سر منڈانے فدیہ اور اس کی مقدار کے بیان میں

حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ

علی بن حجر سعدی، زہیر بن حرب، یعقوب بن ابراہیم، ابن علیہ، حضرت ایوب ؓ سے اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث مبارکہ کی طرح نقل کی گئی ہے

This hadith is narrated on the authority of Ayyub.

2879Sahih Muslim

محرم کو جب کوئی تکلیف وغیرہ پیش آجائے تو سر منڈانے فدیہ اور اس کی مقدار کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَی عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فِيَّ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًی مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُکٍ قَالَ فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ ادْنُهْ فَدَنَوْتُ فَقَالَ ادْنُهْ فَدَنَوْتُ فَقَالَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُؤْذِيکَ هَوَامُّکَ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ وَأَظُنُّهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَأَمَرَنِي بِفِدْيَةٍ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُکٍ مَا تَيَسَّرَ

محمد بن مثنی، ابن ابی عدی، ابن عون، مجاہد، عبدالرحمن بن ابی لیلی، حضرت کعب بن عجرہ ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ میرے بارے میں یہ آیت نازل کی گئی تم میں سے جو آدمی بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو تو وہ فدیہ کے طور پر روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے حضرت کعب ؓ کہتے ہیں کہ میں آپ ﷺ کی خدمت میں آیا آپ ﷺ نے فرمایا قریب ہوجاؤ تو میں اور قریب ہوگیا آپ ﷺ نے فرمایا قریب ہوجاؤ تو میں قریب ہوگیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تجھے جوئیں بہت تکلیف دیتی ہیں؟ ابن عون کہتے ہیں اور راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ حضرت کعب ؓ نے عرض کیا جی ہاں حضرت کعب کہتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ نے مجھے فدیہ کے طور پر روزوں کا یا صدقہ کرنے کا یا قربانی کرنے کا جو آسانی سے ہو سکے کرنے کا حکم فرمایا۔

Kalb bin Ujra (RA) reported: It was I for whom this verse was revealed (to the Holy Prophet): "Whoever among you is sick or has an ailment of the head, he (may effect) a compensation by fasting or alms or a sacrifice" He said: I came to him (the Holy Prophet) and he said: Come near. So I went near. He (again) said: Come near. So I went near. Thereupon the Messenger of Allah ﷺ said: Do the vermins trouble you? Ibn Aun (one of the narrators) said: I think he (Kab bin Ujra) replied in the affirmative. He (the Holy Prophet) then commanded to do compensation by fasting or by giving sadaqa (feeding six needy persons) or by sacrifice (of a animal) that is available.

2880Sahih Muslim

محرم کو جب کوئی تکلیف وغیرہ پیش آجائے تو سر منڈانے فدیہ اور اس کی مقدار کے بیان میں

و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا سَيْفٌ قَالَ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يَقُولُ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَی حَدَّثَنِي کَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ عَلَيْهِ وَرَأْسُهُ يَتَهَافَتُ قَمْلًا فَقَالَ أَيُؤْذِيکَ هَوَامُّکَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَاحْلِقْ رَأْسَکَ قَالَ فَفِيَّ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًی مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُکٍ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ تَصَدَّقْ بِفَرَقٍ بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاکِينَ أَوْ انْسُکْ مَا تَيَسَّرَ

ابن نمیر، سییف، مجاہد، عبدالرحمن بن ابی لیلی، حضرت کعب بن عجرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ان پر کھڑے ہوئے اس حال میں کہ میرے سر سے جوئیں جھڑ رہی تھیں تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تجھے تکلیف دیتی ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو اپنا سر منڈالے حضرت کعب ؓ کہتے ہیں کہ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی تم میں سے جو کوئی بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو تو وہ فدیہ کے طور پر روزے رکھ لے یا صدقہ دے دے یا قربانی کرلے تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ تو تین دن کے روزے رکھ یا ایک ٹو کرا چھ مسکینوں کے درمیان صدقہ کر دے یا تو قربانی کر غرض یہ کہ جو تجھے آسانی ہو کرلے۔

Kab bin Ujra (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ stood near him and lice were falling from his head. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Do these vermins trouble you? I said: Yes. Thereupon he said: Then shave your head; and it was in connection with me that this verse was revealed: "Whoever among you is sick or has an ailment of the head, he (may effect) a compensation by fasting or alms or a sacrifice". He (the Holy Prophet, therefore) said to me: Observe fast for three days or give a quantity of alms enough to feed six needy persons or offer sacrifice (of an animal) that is available.

2881Sahih Muslim

محرم کو جب کوئی تکلیف وغیرہ پیش آجائے تو سر منڈانے فدیہ اور اس کی مقدار کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ وَأَيُّوبَ وَحُمَيْدٍ وَعَبْدِ الْکَرِيمِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَی عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ بِالْحُدَيْبِيَةِ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ مَکَّةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَهُوَ يُوقِدُ تَحْتَ قِدْرٍ وَالْقَمْلُ يَتَهَافَتُ عَلَی وَجْهِهِ فَقَالَ أَيُؤْذِيکَ هَوَامُّکَ هَذِهِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَاحْلِقْ رَأْسَکَ وَأَطْعِمْ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاکِينَ وَالْفَرَقُ ثَلَاثَةُ آصُعٍ أَوْ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ انْسُکْ نَسِيکَةً قَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ أَوْ اذْبَحْ شَاةً

محمد بن ابی عمر، سفیان، ابن ابی نجیح، ایوب، حمید، عبدالکریم، مجاہد، حضرت کعب بن عجرہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ان کے پاس سے گزرے اور حال یہ کہ آپ حدیبیہ میں تھے اور ابھی تک آپ ﷺ مکہ مکرمہ میں داخل نہیں ہوئے تھے اور میں احرام کی حالت میں ہانڈی کے نیچے آگ جلا رہا تھا اور جوئیں میرے چہرے پر سے جھڑ رہی تھیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تجھے جوئیں بہت تکلیف دے رہی ہیں؟ حضرت کعب ؓ نے عرض کیا کہ جی یہاں آپ ﷺ نے فرمایا کہ اپنا سر منڈا دے اور چھ مسکینوں کے درمیان ایک فرق کا کھانا تقسیم کر اور فرق تین صاع کا ہوتا ہے یا تین دنوں کے روزے رکھ یا قربانی کر ابن ابی نجیح کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا یا ایک بکری ذبح کر۔

Kab bin Ujra (RA) reported that the Apostle of Allah ﷺ happened to pass by him at Hudaibiya before entering Makkah in a state of Ihram and he (Kab) was kindling fire under the cooking pot and virmins were creeping on his (Kabs) face. Thereupon (the Holy Prophet) said: Do these vermins trouble you? He (Kab) said: Yes. The Messenger of Allah ﷺ said: Shave your head and give some quantity of food enough to feed six needy persons (faraq is equal to three sas), or observe fast for three days or offer sacrifice of a sacrificial animal. Ibn Najih (one of the narrators) said: "Or sacrifice a goat."

2882Sahih Muslim

محرم کو جب کوئی تکلیف وغیرہ پیش آجائے تو سر منڈانے فدیہ اور اس کی مقدار کے بیان میں

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَی عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فَقَالَ لَهُ آذَاکَ هَوَامُّ رَأْسِکَ قَالَ نَعَمْ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْلِقْ رَأْسَکَ ثُمَّ اذْبَحْ شَاةً نُسُکًا أَوْ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ ثَلَاثَةَ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ عَلَی سِتَّةِ مَسَاکِينَ

یحییٰ بن یحیی، خالد بن عبداللہ، خالد، ابی قلابہ، عبدالرحمن بن ابی لیلی، حضرت کعب بن عجرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ حدیبیہ والے سال ان کے پاس سے گزرے اور فرمایا کہ کیا تجھے جوئیں بہت تکلیف دے رہی ہیں؟ حضرت کعب نے عرض کیا کہ جی ہاں تو نبی ﷺ نے ان سے فرمایا کہ اپنے سر کو منڈا دو پھر ایک بکری ذبح کر کے قربانی کر یا تین دنوں کے روزے رکھ یا کھجوروں میں سے تین صاع چھ مسکینوں کو کھلا دے۔

Kab bin Ujra (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ happened to pass by him during the period of Hudaibiya. Thereupon he (the Holy Prophet) said to him (Kab bin Ujra): Do these vermins trouble your head? He said: Yes. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Shave your head. Then sacrifice a goat or observe fasts for three days or give three sits of dates to feed six needy persons.

2883Sahih Muslim

محرم کو جب کوئی تکلیف وغیرہ پیش آجائے تو سر منڈانے فدیہ اور اس کی مقدار کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ قَالَ قَعَدْتُ إِلَی کَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُکٍ فَقَالَ کَعْبٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَزَلَتْ فِيَّ کَانَ بِي أَذًی مِنْ رَأْسِي فَحُمِلْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَی وَجْهِي فَقَالَ مَا کُنْتُ أُرَی أَنَّ الْجَهْدَ بَلَغَ مِنْکَ مَا أَرَی أَتَجِدُ شَاةً فَقُلْتُ لَا فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُکٍ قَالَ صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ أَوْ إِطْعَامُ سِتَّةِ مَسَاکِينَ نِصْفَ صَاعٍ طَعَامًا لِکُلِّ مِسْکِينٍ قَالَ فَنَزَلَتْ فِيَّ خَاصَّةً وَهِيَ لَکُمْ عَامَّةً

محمد بن مثنی، ابن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، عبدالرحمن بن اصبہانی، حضرت عبداللہ بن معقل سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں کعب کے پاس مسجد میں بیٹھا تھا تو میں نے ان سے اس آیت کے بارے میں پوچھا (فَفِدْيَةٌ مِّنْ صِيَامٍ اَوْ صَدَقَةٍ اَوْ نُسُكٍ ) 2۔ البقرۃ: 196) کعب ؓ نے فرمایا کہ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی تھی میرے سر میں تکلیف تھی تو مجھے رسول اللہ ﷺ کی طرف بلایا گیا حال یہ تھا کہ جوئیں میرے چہرے پر سے جھڑ رہی تھیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ تجھے بہت تکلیف پہنچ رہی ہے کیا تو ایک بکری لے سکتا ہے؟ میں نے کہا نہیں تو یہ آیت نازل ہوئی (فَفِدْيَةٌ مِّنْ صِيَامٍ اَوْ صَدَقَةٍ اَوْ نُسُكٍ ) 2۔ البقرۃ: 196) کہ اس کا فدیہ روزے ہیں یا صدقہ یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلانا یا ہر مسکین کے لئے آدھا آدھا صاع کھانا کھلانا کعب فرماتے ہیں کہ یہ آیت خاص طور پر میرے بارے میں نازل ہوئی لیکن اس کا حکم تمہارے لئے بھی عام ہے۔

Abdullah bin Maqil said: I sat with Kab (RA) and he was in the mosque. I asked him about this verse: "Compensation in (the form of) fasting, or Sadaqa or sacrifice." Kab (RA) said: It was revealed in my case. There was some trouble in my head. I was taken to the Messenger of Allah ﷺ and lice were creeping upon my face. Thereupon he said: I did not think that your trouble had become so unbearable as I see. Would you be able to afford (the sacrificing) of a goat? I (Kab) said: Then this verse was revealed: "Compensation (in the form of) fasting or alms or a sacrifice." He (the Holy Prophet) said: (It implies) fasting for three days, or feeding six needy persons, half sa of food for every needy person. This verse was revealed particularly for me and (now) its application is general for all of you.

2884Sahih Muslim

محرم کو جب کوئی تکلیف وغیرہ پیش آجائے تو سر منڈانے فدیہ اور اس کی مقدار کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ عَنْ زَکَرِيَّائَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَعْقِلٍ حَدَّثَنِي کَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمًا فَقَمِلَ رَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ فَبَلَغَ ذَلِکَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَدَعَا الْحَلَّاقَ فَحَلَقَ رَأْسَهُ ثُمَّ قَالَ لَهُ هَلْ عِنْدَکَ نُسُکٌ قَالَ مَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ فَأَمَرَهُ أَنْ يَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ يُطْعِمَ سِتَّةَ مَسَاکِينَ لِکُلِّ مِسْکِينَيْنِ صَاعٌ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ خَاصَّةً فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًی مِنْ رَأْسِهِ ثُمَّ کَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، زکریا بن ابی زائدہ، عبدالرحمن بن اصبہانی، عبداللہ بن معقل، حضرت کعب بن عجرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی ﷺ کے ساتھ احرام کی حالت میں نکلے تو ان کے سر اور داڑھی میں جوئیں پڑگئیں یہ بات نبی ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے اس کی طرف پیغام بھیج کر اس کو بلا لیا اور ایک حجام کو بلوا کر اس کا سر منڈوادیا پھر آپ ﷺ نے فرمایا کیا تیرے پاس قربانی ہے؟ حضرت کعب ؓ نے عرض کیا کہ میں اس کی قدرت نہیں رکھتا تو آپ ﷺ نے حضرت کعب کو حکم فرمایا کہ تین روزے رکھیں یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلائیں ہر دو مسکینوں کے لئے ایک صاع کا کھانا ہو تو اللہ تعالیٰ نے خاص ایسے وقت آیت نازل فرمائی (فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيْضًا اَوْ بِه اَذًى مِّنْ رَّاْسِه) 2۔ البقرۃ: 196) پھر اس آیت کا حکم مسلمانوں کے لئے عام ہوگیا۔

Kab bin Ujra (RA) reported that he went out with the Apostle of Allah ﷺ in the state of Ihram, and his (Kabs) head and beard were infested with lice. This was conveyed to the Apostle of Allah ﷺ . He sent for him (Kab) and called a barber (who) shaved his head. He (the Holy Prophet) said: Is there any sacrificial animal with you? He (Kalb) said: I cannot afford it. He then commanded him to observe fasts for three days or feed six needy persons, one sa for every two needy persons. And Allah the Exalted and Majestic revealed this (verse) particular with regard to him: "So whosoever among you is sick and has an ailment of the head.." ; then (its application) became general for the Muslims.

2885Sahih Muslim

محرم کے پچھنے لگوانے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ طَاوُسٍ وَعَطَائٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ

ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، اسحاق، سفیان بن عیینہ، عمرو، طاؤس، عطاء، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے احرام کی حالت میں پچھنے لگوائے۔

Ibn Abbas (RA) reported that the Apostle of Allah ﷺ got himself cupped in the state of Ihram.

2886Sahih Muslim

محرم کے پچھنے لگوانے کے جواز کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا الْمُعَلَّی بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ ابْنِ بُحَيْنَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ بِطَرِيقِ مَکَّةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَسَطَ رَأْسِهِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، معلی بن منصور، سلیمان بن بلال، علقمہ بن ابی علقمہ، عبدالرحمن اعرج، حضرت ابن بحینہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے احرام کی حالت میں مکہ کے راستے میں اپنے سر مبارک کے درمیانی حصہ میں پچھنے لگوائے۔

Ibn Buhaina reported that the Apostle of Allah ﷺ got himself cupped in the middle of his head on his way to Makkah.

2887Sahih Muslim

احرام والے کے لئے اپنی آنکھوں کا علان کروانے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَی عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ حَتَّی إِذَا کُنَّا بِمَلَلٍ اشْتَکَی عُمَرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ عَيْنَيْهِ فَلَمَّا کُنَّا بِالرَّوْحَائِ اشْتَدَّ وَجَعُهُ فَأَرْسَلَ إِلَی أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ يَسْأَلُهُ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ أَنْ اضْمِدْهُمَا بِالصَّبِرِ فَإِنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّجُلِ إِذَا اشْتَکَی عَيْنَيْهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ ضَمَّدَهُمَا بِالصَّبِرِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، زہیر بن حرب، ابن عیینہ، ابوبکر، سفیان بن عیینہ، ابوب بن موسی، نبیہ بن وہب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم ابان بن عثمان ؓ کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ جب ہم ملل کے مقام پر پہنچے تو عمر بن عبیداللہ کی آنکھوں میں تکلیف ہوئی اور جب روحاء کے مقام پر پہنچے تو شدید درد ہونے لگا تب انہوں نے ابان بن عثمان کی طرف اس مسئلہ کے بارے میں اپنا قاصد بھیجا چناچہ ابان نے ان کو جواب بھیجا کہ ایلوے کا لیپ لگالو کیونکہ عثمان ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی کی آنکھوں میں تکلیف پڑگئی اور وہ آدمی احرام کی حالت میں تھا تو نبی ﷺ نے اس کی آنکھوں پر ایلوے کا لیپ کرایا۔

Nubaih bin Wabb reported: We went with Aban bin Uthman (in a state of Ihram). When we were at Malal the eyes of Umar bin Ubaidullah became sore and, when we reached Rauba the pain grew intense. He (Nubaib bin Wahb) sent (one) to Aban bin Uthman to ask him (what to do). He sent him (the message) to apply aloes to them, for Uthman (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ applied aloes to the person whose eyes were sore and he was in the state of Ihram.

2888Sahih Muslim

احرام والے کے لئے اپنی آنکھوں کا علان کروانے کے جواز کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنِي نُبَيْهُ بْنُ وَهْبٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ رَمِدَتْ عَيْنُهُ فَأَرَادَ أَنْ يَکْحُلَهَا فَنَهَاهُ أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ وَأَمَرَهُ أَنْ يُضَمِّدَهَا بِالصَّبِرِ وَحَدَّثَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ فَعَلَ ذَلِکَ

اسحاق بن ابراہیم حنظلی، عبدالصمد بن عبدالوارث، ایوب بن موسی، حضرت نبیہ بن وہب بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبیداللہ بن معمر کی آنکھیں دکھنے لگیں تو انہوں نے اپنی آنکھوں میں سرمہ لگوانا چاہا تو حضرت ابان بن عثمان نے ان کو منع فرما دیا اور انہیں حکم فرمایا کہ ایلوے کا لیپ لگا لو کیونکہ حضرت عثمان بن عفان نبی ﷺ سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے ایسے ہی کیا تھا۔

Nubaih b Wahb reported that the eyes of Umar bin Ubaidnllah bin Mamar were swollen, and he decided to use antimony. Aban bin Uthman forbade him to do so and commanded him to apply aloes on them, and reported on the authority of Uthman bin Affan that the Apostle of Allah ﷺ had done that.

2889Sahih Muslim

احرام والے کو اپنا سر اور بدن دھونے کے جواز کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَهَذَا حَدِيثُهُ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ أَنَّهُمَا اخْتَلَفَا بِالْأَبْوَائِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ وَقَالَ الْمِسْوَرُ لَا يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ فَأَرْسَلَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَی أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِکَ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ بَيْنَ الْقَرْنَيْنِ وَهُوَ يَسْتَتِرُ بِثَوْبٍ قَالَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَنْ هَذَا فَقُلْتُ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُنَيْنٍ أَرْسَلَنِي إِلَيْکَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ أَسْأَلُکَ کَيْفَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَوَضَعَ أَبُو أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَدَهُ عَلَی الثَّوْبِ فَطَأْطَأَهُ حَتَّی بَدَا لِي رَأْسُهُ ثُمَّ قَالَ لِإِنْسَانٍ يَصُبُّ اصْبُبْ فَصَبَّ عَلَی رَأْسِهِ ثُمَّ حَرَّکَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ ثُمَّ قَالَ هَکَذَا رَأَيْتُهُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، زہیر بن حرب، قتیبہ بن سعید، سفیان بن عیینہ، زید ابن اسلم، قتیبہ بن سعید، مالک بن انس، حضرت ابراہیم بن عبداللہ بن حنین اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت مسور بن مخرمہ ؓ کے درمیان ابواء کے مقام پر اختلاف ہوگیا حضرت عبداللہ فرماتے تھے کہ احرام والا آدمی اپنا سر دھو سکتا ہے اور حضرت مسور فرماتے تھے کہ احرام والا آدمی اپنے سر کو نہیں دھو سکتا تو حضرت ابن عباس ؓ نے مجھے حضرت ابوایوب انصاری ؓ کی طرف اس مسئلہ کے بارے میں پوچھنے کے لئے بھیجا تو میں نے ان کو لکڑیوں کے درمیان ایک کپڑے سے پردہ کئے ہوئے غسل کرتے ہوئے پایا راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان پر سلام کیا تو انہوں نے فرمایا کون ہے؟ میں نے کہا کہ میں عبداللہ بن حنین ہوں مجھے حضرت ابن عباس ؓ نے آپ کی طرف اس لئے بھیجا ہے تاکہ میں آپ سے پوچھوں کہ کیا رسول اللہ ﷺ احرام کی حالت میں اپنا سر دھوتے تھے؟ حضرت ایوب نے اپنے ہاتھ سے کپڑے کو نیچے کیا یہاں تک کہ آپ کا سر ظاہر ہوا پھر انہوں نے کسی پانی ڈالنے والے کو فرمایا کہ پانی ڈالو تو اس نے آپ کے سر پر پانی ڈالا پھر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کو ہلایا پھر ہاتھوں کو سر پر پھیر کر آگے سے پیچھے کی طرف لائے اور پیچھے سے آگے کی طرف لائے پھر حضرت ابوایوب ؓ فرمانے لگے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔

Ibrahim bin Abdullah narrated on the authorrity of his father that there cropped up a difference of opinion betweenAbdullah bin Abbas and al-Miswar bin Makhrama at a place (called) Abwa.Abdullah bin Abbas contended that a Muhrim (is permitted) to wash his head, whereas Miswar contended that a Muhrim is not (permitted) to wash his head. So Ibn Abbas (RA) sent me (the father of Ibrabim) to Abu Ayyub al- Ansiri to ask him about it. (So I went to him) and found him taking bath behind two poles covered by a cloth. I gave him salutation, whereupon be asked: Who is this? I said: I am Abdullah bin Hunain. Abdullah bin Abbas has sent me to you to find out how the Messenger of Allah ﷺ washed his head in the state of Ihram. Abu Ayyub (RA) placed his hand on the cloth and lowered it (a little) till his head became visible to me; and he said to the man who was pouring water upon him to pour water. He poured water on his head. He then moved his head with the help of his hands and moved them (the hands) forward and backward and then said: This is how I saw him (the Messenger of Allah) ﷺ doing.

2890Sahih Muslim

احرام والے کو اپنا سر اور بدن دھونے کے جواز کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ فَأَمَرَّ أَبُو أَيُّوبَ بِيَدَيْهِ عَلَی رَأْسِهِ جَمِيعًا عَلَی جَمِيعِ رَأْسِهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ فَقَالَ الْمِسْوَرُ لِابْنِ عَبَّاسٍ لَا أُمَارِيکَ أَبَدًا

اسحاق بن ابراہیم، علی بن خشرم، عیسیٰ بن یونس، ابن جریج، حضرت زید بن اسلم سے اس سند کے ساتھ روایت ہے کہ حضرت ابوایوب ؓ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے سر پر آگے اور پیچھے پھیرا تو حضرت مسور نے حضرت ابن عباس ؓ سے کہا کہ میں کبھی بھی آپ سے حجت نہیں کروں گا۔

This hadith has been narrated on the authority of Zaid bin Aslam with the same chain of transmitters that Abu Ayyub rubbed his whole head with his hands and then moved them forward and backward. Miswar said to Ibn Abbas (RA) : I would never dispute with you (in future).