محرم جب انتقال کر جائے تو کیا کیا جائے ؟
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَّ رَجُلٌ مِنْ بَعِيرِهِ فَوُقِصَ فَمَاتَ فَقَالَ اغْسِلُوهُ بِمَائٍ وَسِدْرٍ وَکَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا
ابوبکر بن ابی شیبہ، سفیان بن عیینہ، عمرو، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ایک ایسے آدمی کے بارے میں کہ جو اپنے اونٹ سے گرا اور مرگیا فرمایا کہ اسے بیری کے پتوں کے پانی سے غسل دو اور اسے دو کپڑوں میں کفن دو اور اس کے سر کو نہ ڈھانپو کیونکہ اللہ عزوجل قیامت کے دن اسے تلبیہ پڑھتے ہوئے اٹھائے گا۔
Ibn Abbas (RA) reported that a person fell down from his camel (in a state of Ihram) and his neck was broken and he died. Thereupon Allahs Apostle ﷺ said: Bathe him with water mixed with the leaves of the lote tree and shroud him in his two (pieces of) cloth (Ihram), and do not cover his head for Allah will raise him on the Day of Resurrection Pronouncing Talbiya.
محرم جب انتقال کر جائے تو کیا کیا جائے ؟
و حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ وَأَيُّوبَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ وَاقِفٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ إِذْ وَقَعَ مِنْ رَاحِلَتِهِ قَالَ أَيُّوبُ فَأَوْقَصَتْهُ أَوْ قَالَ فَأَقْعَصَتْهُ و قَالَ عَمْرٌو فَوَقَصَتْهُ فَذُکِرَ ذَلِکَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اغْسِلُوهُ بِمَائٍ وَسِدْرٍ وَکَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ وَلَا تُحَنِّطُوهُ وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ قَالَ أَيُّوبُ فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا وَقَالَ عَمْرٌو فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي
ابوربیع زہرانی، حماد، عمرو بن دینار، ایوب، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ ایک آدمی عرفات کے میدان میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھڑا تھا اچانک وہ اپنی سواری پر سے گرپڑا اور اس کی گردن ٹوٹ گئی نبی ﷺ سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسے بیری کے پتوں کے پانی سے غسل دو اور دو کپڑوں میں اس کو کفن دو اور اس کو خوشبو نہ لگاؤ اور نہ ہی اس کا سر ڈھانپو کیونکہ اللہ قیامت کے دن اسے اس حال میں اٹھائے گا کہ یہ تلبیہ کہہ رہا ہوگا۔
Ibn Abbas (RA) reported: While a person was standing in Arafat with the Messenger of Allah ﷺ he fell down from his camel and broke his neck. This was mentioned to the Apostle of Allah ﷺ , whereupon he said: Bathe him with water mixed with the leaves of the lote tree and shroud him in two (pieces of) cloth and neither perfume him nor cover his head; (Ayyub said) for Allah would raise him on the Day of Resurrection in the state of pronouncing Talbiya.
محرم جب انتقال کر جائے تو کیا کیا جائے ؟
و حَدَّثَنِيهِ عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَيُّوبَ قَالَ نُبِّئْتُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا کَانَ وَاقِفًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَذَکَرَ نَحْوَ مَا ذَکَرَ حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ
عمرو ناقد، اسماعیل بن ابراہیم، ایوب، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے ساتھ احرام کی حالت میں کھڑا تھا پھر آگے اسی طرح حدیث مبارکہ ذکر فرمائی۔
(Amr. however, said): Verily Allah would raise him on the Day of Resurrection pronouncing Talbiya. Said bin Jubair narrated this hadith on the authority of Ibn Abbas (RA) that a person was standing with the Apostle of Allah ﷺ as he was in the state of Ihram. The rest of the hadith is the same.
محرم جب انتقال کر جائے تو کیا کیا جائے ؟
و حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَی يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَقْبَلَ رَجُلٌ حَرَامًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَّ مِنْ بَعِيرِهِ فَوُقِصَ وَقْصًا فَمَاتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْسِلُوهُ بِمَائٍ وَسِدْرٍ وَأَلْبِسُوهُ ثَوْبَيْهِ وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي
علی بن خشرم، عیسیٰ یعنی ابن یونس، ابن جریج، عمرو بن دینار، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ ایک آدمی احرام باندھے ہوئے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آیا اور وہ اپنے اونٹ سے گرپڑا تو اس کی گردن کی ہڈی ٹوٹ گئی اور وہ مرگیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اسے بیری کے پتوں کے پانی سے غسل دو اور اسے دو کپڑوں میں کفن دو اور اس کا سر نہ ڈھانپو کیونکہ یہ قیامت کے دن لبیک کہتا ہوا آئے گا۔
Said bin Jubair reported on the authority of Ibn Abbas (RA) that a person proceeded with the Messenger of Allah ﷺ in the state of Ihram. The rest of the hadith is the same except that he (the Holy Prophet) (is reported to have) said: He would be raised on the Day of Resurrection pronouncing Talbiya. Said bin Jubair did not name the place where he fell down.
محرم جب انتقال کر جائے تو کیا کیا جائے ؟
و حَدَّثَنَاه عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ الْبُرْسَانِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ أَخْبَرَهُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَقْبَلَ رَجُلٌ حَرَامٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا وَزَادَ لَمْ يُسَمِّ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ حَيْثُ خَرَّ
عبد بن حمید، محمد بن بکر برسانی، ابن جریج، عمرو بن دینار، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ احرام کی حالت میں آیا آگے حدیث اسی طرح ہے سوائے اس کے کہ اس میں ہے کہ وہ قیامت کے دن اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ وہ تلبیہ پڑھ رہا ہوگا۔
Ibn Abbas (RA) reported that there was a person in the state of Ihram who fell down from his camel and broke his neck and he died. Thereupon the Messenger of Allah ﷺ said: Bathe him with water mixed (with the leaves of) lote tree and shroud him in his two (pieces of) cloth and cover neither his head nor his face, for he would be raised on the Day of Resurrection pronouncing Talbiya.
محرم جب انتقال کر جائے تو کیا کیا جائے ؟
و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا أَوْقَصَتْهُ رَاحِلَتُهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَمَاتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْسِلُوهُ بِمَائٍ وَسِدْرٍ وَکَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ وَلَا وَجْهَهُ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا
ابوکریب، وکیع، سفیان، عمرو بن دینار، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی جو احرام کی حالت میں تھا اس کی سواری نے اس کی گردن توڑ دی اور وہ مرگیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اسے بیری کے پتوں کے پانی سے غسل دو اور اسے اس کے کپڑوں میں کفن دو اور اس کا چہرہ اور اس کا سر نہ ڈھانپو کیونکہ یہ قیامت کے دن لبیک لبیک پکارتا ہوا اٹھے گا۔
Ibn Abbas (RA) reported that when a person who was in the state of Ihram was in the company of the Messenger of Allah ﷺ , fell down from his camel and broke his neck and he died. Upon this the Messenger of Allah ﷺ said: Bathe him with water (mixed with the leaves) of the lote tree and shroud him in his two (pieces of) cloth and, neither perfume him nor cover his head, for he would be raised on the Day of Resurrection pronouncing Talbiya.
محرم جب انتقال کر جائے تو کیا کیا جائے ؟
وحدثنا محمد بن الصباح حدثنا هشيم اخبرنا ابوبشر حدثنا سعيد بن جبير عن ابن عباس رضی الله عنهمام وحدثنا يحي بن يحي واللفظ له اخبرنا هشيم عن ابی بشر عن سعيد بن جبيرعن ابن عباس رضی الله عنهما ان رجلا کان مع رسول الله صلی الله عليه وسلم محرما فوقصته ناقته فمات فقال رسول الله صلی الله عليه وسلم اغسلواه بمائ وسدر وکفنوه فی ثوبيه ولا تمسوه بطيب ولا تخمروا رأسه فانه يبعث يوم القيامة ملبدا
محمد بن صباح، ہشیم، ابوبشر، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی احرام کی حالت میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا وہ اپنی اونٹنی سے گرا اور مرگیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اسے بیری کے پتوں کے پانی میں غسل دو اور اسے ان ہی کپڑوں میں کفن دو اور اسے خوشبو نہ لگاؤ اور اس کا سر نہ ڈھانپو کیونکہ وہ قیامت کے دن بال جمے ہوئے ہونے کی حالت میں اٹھے گا۔
Said bin Jubair reported on the authority of Ibn Abbas (RA) that a camel broke the neck of its owner while he was in the state of Ihram and he was at that time in the company of the Messenger of Allah ﷺ . Allahs Messenger ﷺ commanded that he should be bathed with water mixed with (leaves of the) lote (tree) and no perfume should be applied to him and his head should not be covered, for he would be raised on the Day of Resurrection pronouncing Talbiya.
محرم جب انتقال کر جائے تو کیا کیا جائے ؟
و حَدَّثَنِي أَبُو کَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا وَقَصَهُ بَعِيرُهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُغْسَلَ بِمَائٍ وَسِدْرٍ وَلَا يُمَسَّ طِيبًا وَلَا يُخَمَّرَ رَأْسُهُ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّدًا
ابوکامل، فضیل بن حسین حجدری، ابوعوانہ، ابی بشر، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی جو احرام کی حالت میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا اس کے اونٹ نے اس کی گردن توڑ دی جس کی وجہ سے وہ مرگیا تو رسول اللہ ﷺ نے حکم فرمایا کہ اسے بیری کے پتوں کے پانی سے غسل دو اور اس کو خوشبو نہ لگاؤ اور اس کا سر بھی نہ ڈھانکو کیونکہ یہ قیامت کے دن بال جمے ہوئے ہونے کی حالت میں اٹھے گا۔
Said bin Jubair heard Ibn Abbas (RA) as saying: A person came to Allahs Apostle ﷺ while he was in the state of lhram. He fell down from his camel and broke his neck. Thereupon Allahs Apostle ﷺ commanded to bathe him with water (mixed with the leaves of) the lote (tree), and shroud him in two (pieces of) cloth and not to apply perfume (to him), keeping his head out (of the shroud). Shubah said: He then narrated to me after this (the words) "keeping his head out," his face out, for he would be raised on the Day of Resurrection pronouncing Talbiya.
محرم جب انتقال کر جائے تو کیا کیا جائے ؟
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ نَافعٍ قَالَ ابْنُ نَافِعٍ أَخْبَرَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بِشْرٍ يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُحَدِّثُ أَنَّ رَجُلًا أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَوَقَعَ مِنْ نَاقَتِهِ فَأَقْعَصَتْهُ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُغْسَلَ بِمَائٍ وَسِدْرٍ وَأَنْ يُکَفَّنَ فِي ثَوْبَيْنِ وَلَا يُمَسَّ طِيبًا خَارِجٌ رَأْسُهُ قَالَ شُعْبَةُ ثُمَّ حَدَّثَنِي بِهِ بَعْدَ ذَلِکَ خَارِجٌ رَأْسُهُ وَوَجْهُهُ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّدًا
محمد بن بشار، ابوبکر بن نافع، ابن نافع، غندر، شعبہ، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی احرام کی حالت میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو وہ اپنی اونٹنی سے گرپڑا اور اس کی گردن ٹوٹ گئی وہ مرگیا تو نبی ﷺ نے حکم فرمایا کہ اسے بیری کے پتوں کے پانی سے غسل دو اور اسے دو کپڑوں میں کفن دیا جائے اور اسے خوشبو نہ لگائی جائے اور اس کا سر باہر رہے شعبہ کہتے ہیں کہ اس کا سر اور اس کا چہرہ باہر رہے کیونکہ یہ قیامت کے دن تلبیہ کہتا ہوا اٹھے گا۔
Said bin Jubair reported on the authority of Ibn Abbas (RA) that the camel of a person broke his neck as he was in the company of Allahs Messenger ﷺ . The Messenger of Allah, ﷺ commanded them (Companions) to wash him with water mixed (with the leaves of) the lote (tree) and to keep his face exposed; (he, the narrator) said: And his head (too), for he would be raised on the Day of Resurrection pronouncing Talbiya.
محرم جب انتقال کر جائے تو کیا کیا جائے ؟
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ زُهَيْرٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يَقُولُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَقَصَتْ رَجُلًا رَاحِلَتُهُ وَهُوَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَغْسِلُوهُ بِمَائٍ وَسِدْرٍ وَأَنْ يَکْشِفُوا وَجْهَهُ حَسِبْتُهُ قَالَ وَرَأْسَهُ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ يُهِلُّ
ہارون بن عبداللہ، اسود بن عامر، زہیر، ابی زبیر، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی جو کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا اس کی سواری نے اس آدمی کی گردن توڑ دی وہ مرگیا تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم فرمایا کہ اسے بیری کے پتوں کے پانی سے غسل دو اور اس کا چہرہ کھلا رکھو راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اور اس کا سر کھلا رکھو کیونکہ یہ قیامت کے دن تلبیہ کہتا ہوا اٹھے گا۔
Ibn Abbas (RA) reported that there was a person in the company of Allahs Messenger (may peace be upon him) whose camel broke his neck and he died. thereupon Allahs Apostle ﷺ said: Wash him, but do not apply perfume and do not cover his face, for he would be raised (on the Day of Resurrection) pronouncing Talbiya.
محرم جب انتقال کر جائے تو کیا کیا جائے ؟
و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ کَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَوَقَصَتْهُ نَاقَتُهُ فَمَاتَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْسِلُوهُ وَلَا تُقَرِّبُوهُ طِيبًا وَلَا تُغَطُّوا وَجْهَهُ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يُلَبِّي
عبد بن حمید، عبیداللہ بن موسی، اسرائیل، منصور، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ نبی ﷺ کے ساتھ ایک آدمی تھا اونٹنی نے اس کی گردن توڑ دی تو وہ مرگیا نبی ﷺ نے فرمایا اسے غسل دو اور اس کو خوشبو نہ لگاؤ اور نہ ہی اس کا چہرہ ڈھانپو کیونکہ یہ قیامت کے دن تلبیہ پڑھتا ہوا اٹھے گا۔
Ibn Abbas (RA) reported that there was a person in the company of Allahs Messenger (may peace be upon him) whose camel broke his neck and he died. thereupon Allahs Apostle ﷺ said: Wash him, but do not apply perfume and do not cover his face, for he would be raised (on the Day of Resurrection) pronouncing Talbiya.
یہ شرط لگا کر احرام باندھنا کہ بیماری یا اور کسی عذر کی بنا پر احرام کھول دوں گا کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ فَقَالَ لَهَا أَرَدْتِ الْحَجَّ قَالَتْ وَاللَّهِ مَا أَجِدُنِي إِلَّا وَجِعَةً فَقَالَ لَهَا حُجِّي وَاشْتَرِطِي وَقُولِي اللَّهُمَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي وَکَانَتْ تَحْتَ الْمِقْدَادِ
ابوکریب، محمد بن علاء ہمدانی، ابواسامہ، ہشام، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حضرت ضباعہ بنت زبیر ؓ کے پاس تشریف لائے تو ان سے فرمایا کہ کیا تو نے حج کا ارادہ کیا ہے؟ حضرت ضباعہ نے عرض کیا اللہ کی قسم! مجھے درد کی تکلیف ہے تو آپ ﷺ نے حضرت ضباعہ ؓ سے فرمایا کہ تو حج کر اور یہ شرط لگا اور کہہ اے اللہ میرے حج کے احرام کا کھولنا اس جگہ ہوگا جس جگہ تو مجھے روک دے گا اور حضرت صباعہ ؓ حضرت مقداد ؓ کے نکاح میں تھیں
Aisha (Allah be pleased with her) reported that Allahs Messenger ﷺ went (into the house of) Dubaa bint Zubair and said to her: Did you intend to perform Hajj? She said: By Allah, (I intend to do so) but I often remain ill, whereupon he (the Holy Prophet) said to her: Perform Hajj but with condition, and say: O Allah, I shall be free from Ihram where you detain me. And she (Dubaa) was the wife of Miqdad.
یہ شرط لگا کر احرام باندھنا کہ بیماری یا اور کسی عذر کی بنا پر احرام کھول دوں گا کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ وَأَنَا شَاکِيَةٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجِّي وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي
عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، عروہ، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ حضرت ضباعہ بن زیبر بن عبدالمطلب کے پاس تشریف لائے تو حضرت ضباعہ ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں حج کرنا چاہتی ہوں اور حال یہ ہے کہ میں بیمار ہوں تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ تو حج کر اور یہ شرط لگا کہ میرے حلال ہونے احرام کھولنے کی وہی جگہ ہے جہاں تو مجھے روک دے گا۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported that Allahs Apostle ﷺ went (to the house of) Dubaa bint al-Zubair bin Abdul Muttalib. She said: Messenger of Allah, I intend to perform Hajj, but I am ill. Thereupon Allahs Apostle ﷺ said: Enter into the state of Ihram on condition that you would abandon it when Allah would detain you.
یہ شرط لگا کر احرام باندھنا کہ بیماری یا اور کسی عذر کی بنا پر احرام کھول دوں گا کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مِثْلَهُ
عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، ہشام بن عروہ، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے اسی حدیث کی طرح نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been reported on the authority of Aisha through another chain of transmitters.
یہ شرط لگا کر احرام باندھنا کہ بیماری یا اور کسی عذر کی بنا پر احرام کھول دوں گا کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ وَأَبُو عَاصِمٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا وَعِکْرِمَةَ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ ضُبَاعَةَ بِنْتَ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنِّي امْرَأَةٌ ثَقِيلَةٌ وَإِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ فَمَا تَأْمُرُنِي قَالَ أَهِلِّي بِالْحَجِّ وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ تَحْبِسُنِي قَالَ فَأَدْرَکَتْ
محمد بن بشار، عبدالوہاب بن عبدالمجید، ابوعاصم، محمد بن بکر، ابن جریج، اسحاق بن ابراہیم، محمد بن بکر، ابن جریج، ابوزبیر، طاؤس، عکرمہ مولیٰ ابن عباس، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ضباعہ بنت زبیر ؓ بن عبدالمطلب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ میں ایک عورت ہوں اور میں حج بھی کرنا چاہتی ہوں تو آپ ﷺ مجھے اس بارے میں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو حج کا احرام باندھ لے اور یہ شرط لگا لے کہ میرے احرام کھولنے کی وہی جگہ ہے جس جگہ پر تو مجھے روک دے حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس عورت نے حج پا لیا۔
Ibn Abbas (RA) reported that Dubaa bint al-Zubair bin Abdul Muttalib (Allah be pleased with her) came to Allahs Messenger ﷺ and said: I am an ailing woman but I intend to perform Hajj; what you command me (to do)? He (the Holy Prophet) said: Enter into the state of Ihram (uttering these words) of condition: I would be free from it when Thou wouldst detain me. He (the narrator) said: But she was able to complete (the Hajj without breaking down).
یہ شرط لگا کر احرام باندھنا کہ بیماری یا اور کسی عذر کی بنا پر احرام کھول دوں گا کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَعِکْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ ضُبَاعَةَ أَرَادَتْ الْحَجَّ فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَشْتَرِطَ فَفَعَلَتْ ذَلِکَ عَنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ہارون بن عبداللہ، ابوداود طیالسی، حبیب بن یزید، عمرو ہرم، سعید بن جبیر، عکرمہ، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حضرت ضباعہ ؓ نے حج کا ارادہ کیا تو نبی ﷺ نے اسے شرط لگانے کا حکم فرمایا تو حضرت ضباعہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے حکم سے ایسے ہی کیا۔
Ibn Abbas (RA) reported that Dubaa intended to perform Hajj, and the Apostle of Allah ﷺ commanded her (to enter into the state of Ihram) with condition. She did it in compliance with the command of Allahs Apostle ﷺ .
یہ شرط لگا کر احرام باندھنا کہ بیماری یا اور کسی عذر کی بنا پر احرام کھول دوں گا کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَأَبُو أَيُّوبَ الْغَيْلَانِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ وَهُوَ عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا رَبَاحٌ وَهُوَ ابْنُ أَبِي مَعْروفٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِضُبَاعَةَ حُجِّي وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ تَحْبِسُنِي وَفِي رِوَايَةِ إِسْحَقَ أَمَرَ ضُبَاعَةَ
اسحاق بن ابراہیم، ابوایوب غیلانی، احمد بن خراش، اسحاق، ابوعامر، عبدالملک بن عمرو، رباح، ابن ابی معروف، عطاء، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت ضباعہ ؓ سے فرمایا کہ تو حج کر اور یہ شرط لگا کہ میری احرام کھولنے کی وہی جگہ ہے جس جگہ تو مجھے روک دے اور اسحاق کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت ضباعہ ؓ کو اس کا حکم فرمایا تھا۔
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Abbas with a slight variation of words.0000O WHY ENGLISH TRANSLATION IS NOT MATCHING WITH URDU?????MQZ.
حیض ونفاس والی عورتوں کے احرام اور احرام کے لئے غسل کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ کُلُّهُمْ عَنْ عَبْدَةَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ نُفِسَتْ أَسْمَائُ بِنْتُ عُمَيْسٍ بِمُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ بِالشَّجَرَةِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَکْرٍ يَأْمُرُهَا أَنْ تَغْتَسِلَ وَتُهِلَّ
ہناد بن سری، زہیر بن حرب، عثمان بن ابی شیبہ، زہیر، عبدہ بن سلیمان، عبیداللہ بن عمر، عبدالرحمن بن قاسم، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ حضرت اسماء بنت عمیس ؓ کو محمد بن ابی بکر کی پیدائش کی وجہ سے ایک درخت کے پاس ذوالحلیفہ میں نفاس شروع ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ کو حکم فرمایا کہ یہ اسماء غسل کریں اور احرام باندھ لیں۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported that Asma bint Umais gave birth to Muhammad bin Abu Bakr (RA) near DhuI-Hulaifa. The Messenger of Allah ﷺ commanded Abu Bakr (RA) to convey to her that she should take a bath and then enter into the state of Ihram.
حیض ونفاس والی عورتوں کے احرام اور احرام کے لئے غسل کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي حَدِيثِ أَسْمَائَ بِنْتِ عُمَيْسٍ حِينَ نُفِسَتْ بِذِي الْحُلَيْفَةِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَبَا بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ وَتُهِلَّ
ابوغسان، محمد بن عمرو، جریر بن عبدالحمید، یحییٰ بن سعید، جعفر بن محمد، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت اسماء بنت عمیس ؓ کو جس وقت ذوالحلیفہ کے مقام پر نفاس شروع ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ کو حکم فرمایا کہ حضرت اسماء کو حکم دیں کہ وہ غسل کرے اور احرام باندھ لے۔
Jabir binAbdullah (RA) reported that when Asma bint Umais gave birth (to a child) in DhuI-Hulaifa. Allahs Messenger ﷺ commanded Abu Bakr (RA) (to convey to her) that she should take a bath and enter into the state of Ihram.
احرام کی اقسام کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ کَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُهِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ ثُمَّ لَا يَحِلُّ حَتَّی يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا قَالَتْ فَقَدِمْتُ مَکَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ لَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَشَکَوْتُ ذَلِکَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ انْقُضِي رَأْسَکِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ وَدَعِي الْعُمْرَةَ قَالَتْ فَفَعَلْتُ فَلَمَّا قَضَيْنَا الْحَجَّ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ إِلَی التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرْتُ فَقَالَ هَذِهِ مَکَانُ عُمْرَتِکِ فَطَافَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ حَلُّوا ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًی لِحَجِّهِمْ وَأَمَّا الَّذِينَ کَانُوا جَمَعُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، مالک، ابن شہاب، عروہ، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم حجہ الوداع والے سال رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے تو ہم نے عمرہ کا احرام باندھا پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس آدمی کے پاس قربانی کا جانور ہے وہ حج اور عمرہ کا احرام باندھے اور پھر اس وقت تک احرام نہ کھولے جب تک کہ حج اور عمرہ دونوں سے حلال نہیں ہوجائے۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں مکہ آئی اس حال میں کہ میں حائضہ تھی نہ تو میں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور نہ ہی میں نے صفا ومروہ کے درمیان سعی کی میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو اپنے سر کے بال چھوڑ دے حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے ایسے ہی کیا جب ہم نے حج کرلیا تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر صدیق ؓ میرے بھائی کے ساتھ تنعیم کے مقام پر بھیجا تو میں نے عمرہ کیا آپ ﷺ نے فرمایا یہ تیرے عمرے کا بدل ہے جب لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا انہوں نے بیت اللہ اور صفا ومروہ کا طواف کیا پھر وہ حلال ہوگئے پھر انہوں نے منیٰ سے واپس آنے کے بعد اپنے حج کے لئے ایک اور طواف کیا اور جن لوگوں نے حج اور عمرہ دونوں کا اکٹھا احرام باندھا تھا انہوں نے ایک ہی طواف کیا۔
Aisha (Allah be pleased with her) said: We went with the Messenger of Allah ﷺ during the year of the Farewell Pilgrimage. We entered into the state of Ihram for Umrah. Then the Messenger of Allah ﷺ said: Who has the sacrificial animal with him, he should put on Ihram for Hajj along with Umrah, and should not put it off till he has completed them (both Hajj and Umrah). She said: When I came to Makkah I was having menses, I neither circumambulated the House, nor ran between as-Safa and al-Marwah. I complained about it to the Messenger of Allah ﷺ and he said: Undo your hair, comb it, and pronounce Talbiya for Hajj, and give up Umrah (for the time being), which I did. When we had performed the Hajj, the Messenger of Allah ﷺ (may peace he upon him) sent me with Abdul Rahman bin Abu Bakr (RA) to Tanim saying: This is the place for your Umrah. Those who had put on Ihram for Umrah circumambulated the House, and ran between al-Safa and al-Marwah. They then put off Ihram and then made the last circuit after they had returned from Mina after performing their Hajj, but those who had combined the Hajj and the Umrah made only one circuit (as they had combined Hajj and Umrah).