حج کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 17 · 608 hadiths · Page 7 of 31

2911Sahih Muslim

احرام کی اقسام کے بیان میں

و حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ حَتَّی قَدِمْنَا مَکَّةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ مَنْ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ وَلَمْ يُهْدِ فَلْيَحْلِلْ وَمَنْ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ وَأَهْدَی فَلَا يَحِلُّ حَتَّی يَنْحَرَ هَدْيَهُ وَمَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ فَلْيُتِمَّ حَجَّهُ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَحِضْتُ فَلَمْ أَزَلْ حَائِضًا حَتَّی کَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ وَلَمْ أُهْلِلْ إِلَّا بِعُمْرَةٍ فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَنْقُضَ رَأْسِي وَأَمْتَشِطَ وَأُهِلَّ بِحَجٍّ وَأَتْرُکَ الْعُمْرَةَ قَالَتْ فَفَعَلْتُ ذَلِکَ حَتَّی إِذَا قَضَيْتُ حَجَّتِي بَعَثَ مَعِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَکْرٍ وَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَمِرَ مِنْ التَّنْعِيمِ مَکَانَ عُمْرَتِي الَّتِي أَدْرَکَنِي الْحَجُّ وَلَمْ أَحْلِلْ مِنْهَا

عبدالملک بن شعیب بن لیث، عقیل بن خالد، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حجہالوداع کے لئے نکلے تو ہم میں سے کسی نے عمرہ کا احرام باندھا اور کسی نے حج کا احرام باندھا جب ہم مکہ آئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے عمرہ کا احرام باندھا ہے اور قربانی ساتھ نہیں لایا تو وہ حلال ہوجائے احرام کھول دے اور قربانی کر اور جس نے عمرہ کا احرام باندھا ہے اور قربانی ساتھ لایا ہے تو وہ حلال نہ ہو احرام نہ کھولے جب تک کہ اپنی قربانی ذبح نہ کرلے اور جس نے صرف حج کا احرام باندھا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے حج کو پورا کرلے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں حائضہ ہوگئی اور حالت حیض میں رہی یہاں تک کہ عرفہ کا دن آگیا اور میں نے عمرہ کا احرام باندھا ہوا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم فرمایا کہ میں اپنے سر کے بال کھول دوں اور کنگھی کرلوں اور میں حج کا احرام باندھ لوں اور عمرہ کو چھوڑ دوں حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے ایسے ہی کیا یہاں تک کہ جب میں حج سے فارغ ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ میرے بھائی کو میرے ساتھ بھیجا اور مجھے حکم فرمایا کہ میں مقام تنعیم سے عمرہ کروں اپنے اس عمرہ کے بدلہ میں جسے میں نے حائضہ ہونے کی وجہ سے چھوڑ دیا تھا اور اس عمرہ کا احرام کھولنے سے پہلے میں نے حج کا احرام باندھ لیا تھا۔

Aisha, the wife of the Apostle of Allah ﷺ , said: We went out with the Messenger of Allah ﷺ during the year of the Farewell Pilgrimage. There were some amongst us who had put on Ihram for Umrah and there were some who had put on Ihram for Hajj. (We proceeded on till) we came to Makkah. The Messenger of Allah ﷺ said: He who put on Ihram for Umrah but did not bring the sacrificial animal with him should put it off and he who put on Ihram for Umrah and he who had brought the sacrificial animal with him should not put it off until he had slaughtered the animal; and he who put on lhram for Hajj should complete it. Aisha (Allah be pleased with her) said: I was in the monthly period, and I remained in this state till the day of Arafa, and I had entered into the state of Ihram for Umrah. The Messenger of Allah ﷺ thus commanded me to undo my hair and comb them (again) and enter into the state of Ihram for Hajj, and abandon (the rites of Umrah). She (Aisha) said: I did so, and when I had completed my Pilgrimage, the Messenger of Allah ﷺ sent with me Abdul Rabman bin Abu Bakr (RA) and commanded me to (resume the rites of) Umrah at Tanim the place where (I abandoned) Umrah and put on Ihram for Hajj (before completing Umrah).

2912Sahih Muslim

احرام کی اقسام کے بیان میں

و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ وَلَمْ أَکُنْ سُقْتُ الْهَدْيَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ کَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُهْلِلْ بِالْحَجِّ مَعَ عُمْرَتِهِ ثُمَّ لَا يَحِلَّ حَتَّی يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا قَالَتْ فَحِضْتُ فَلَمَّا دَخَلَتْ لَيْلَةُ عَرَفَةَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي کُنْتُ أَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ فَکَيْفَ أَصْنَعُ بِحَجَّتِي قَالَ انْقُضِي رَأْسَکِ وَامْتَشِطِي وَأَمْسِکِي عَنْ الْعُمْرَةِ وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ قَالَتْ فَلَمَّا قَضَيْتُ حَجَّتِي أَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَکْرٍ فَأَرْدَفَنِي فَأَعْمَرَنِي مِنْ التَّنْعِيمِ مَکَانَ عُمْرَتِي الَّتِي أَمْسَکْتُ عَنْهَا

عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، عروہ، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ حجہ الوداع والے سال نکلے تو میں نے عمرہ کا احرام باندھا اور میں قربانی کا جانور نہیں لائی تھی نبی ﷺ نے فرمایا کہ جس کے پاس قربانی کا جانور ہو تو وہ اپنے عمرہ کے ساتھ حج اور عمرہ دونوں سے فارغ ہوجائے عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں حائضہ ہوگئی تو جب عرفہ کی رات آئی تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا تو اب میں اپنا حج کیسے کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا اپنے سر کے بال کھول ڈال اور کنگھی کر اور عمرہ کی ادائیگی سے رک جا اور حج کا احرام باندھ لے حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب میں اپنے حج سے فارغ ہوگئی تو آپ ﷺ نے حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ کو حکم فرمایا تو انہوں نے مجھے تنعیم سے عمرہ کرایا اور یہ میرے اس عمرہ کی جگہ تھا جسے میں نے چھوڑ دیا تھا۔

Aisha (Allah be pleased with her) reported: We went with the Messenger of Allah ﷺ during the year of the Farewell Pilgrimage. I put on Ihram for Umrah and did not bring the sacrificial animal. The Apostle of Allah ﷺ said: He who has the sacrificial animal with him should enter into the state of Ihram for Hajj along with Umrah, and he should not put the Ihram off till he has completed both of them. She (Hadrat Aisha) said: The monthly period began. When it was the night of Arafa, I said to the Messenger of Allah ﷺ : I entered into the state of Ihram for Umrah, but now how should I perform the Hajj? Thereupon he said: Undo your hair and comb them, and desist from performing Umrah, and put on Ihram for Hajj She (Aisha, said: When I had completed my Hajj he commanded Abdul Rahman bin Abu Bakr (RA) to carry me behind him (on boneback) in order to enable me to resume the rituals of Umrah from Tanim, the place where I abandoned its rituals.

2913Sahih Muslim

احرام کی اقسام کے بیان میں

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ أَرَادَ مِنْکُمْ أَنْ يُهِلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُهِلَّ بِحَجٍّ فَلْيُهِلَّ وَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَجٍّ وَأَهَلَّ بِهِ نَاسٌ مَعَهُ وَأَهَلَّ نَاسٌ بِالْعُمْرَةِ وَالْحَجِّ وَأَهَلَّ نَاسٌ بِعُمْرَةٍ وَکُنْتُ فِيمَنْ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ

ابن ابی عمر، سفیان، زہری، عروہ، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے جس کا ارادہ ہو کہ وہ حج کا احرام باندھے تو وہ حج کا احرام باندھ لے اور جس کا ارادہ ہو عمرہ کا احرام باندھ لے حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حج کا احرام باندھا اور لوگوں (صحابہ ؓ نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ حج کا احرام باندھا اور کچھ لوگوں نے آپ ﷺ کے ساتھ عمرہ اور حج دونوں کا احرام باندھا اور کچھ لوگوں نے صرف عمرہ کا احرام باندھا اور میں ان لوگوں میں سے تھی کہ جنہوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا۔

Aisha (Allah be pleased with her) reported: We went with the Messenger of Allah ﷺ (to Makkah). He said: He who intended among you to put on Ihram for Hajj and Umrah should do so. And he who intended to put on Ihram for Hajj may do so, and he who intended to put on Ihram for Umrah only may do so. Aisha (Allah be pleased with her) said: The Messenger of Allah ﷺ put on Ihram for Hajj and some people did that along with him. And some people put on Ihram for Umrah and Hajj (both), and some persons put on Ihram for Umrah only, and I was among those who put on Ihram for Umrah (only).

2914Sahih Muslim

احرام کی اقسام کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ مُوَافِينَ لِهِلَالِ ذِي الْحِجَّةِ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَرَادَ مِنْکُمْ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ فَلَوْلَا أَنِّي أَهْدَيْتُ لَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ قَالَتْ فَکَانَ مِنْ الْقَوْمِ مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنْهُمْ مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ قَالَتْ فَکُنْتُ أَنَا مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَخَرَجْنَا حَتَّی قَدِمْنَا مَکَّةَ فَأَدْرَکَنِي يَوْمُ عَرَفَةَ وَأَنَا حَائِضٌ لَمْ أَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِي فَشَکَوْتُ ذَلِکَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ دَعِي عُمْرَتَکِ وَانْقُضِي رَأْسَکِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ قَالَتْ فَفَعَلْتُ فَلَمَّا کَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ وَقَدْ قَضَی اللَّهُ حَجَّنَا أَرْسَلَ مَعِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَکْرٍ فَأَرْدَفَنِي وَخَرَجَ بِي إِلَی التَّنْعِيمِ فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ فَقَضَی اللَّهُ حَجَّنَا وَعُمْرَتَنَا وَلَمْ يَکُنْ فِي ذَلِکَ هَدْيٌ وَلَا صَدَقَةٌ وَلَا صَوْمٌ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدہ بن سلیمان، ہشام، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حجہالوداع کے لئے ذی الحجہ کے چاند کے مطابق نکلے حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے جس کا ارادہ ہو کہ وہ عمرہ کا احرام باندھے تو وہ احرام باندھ لے اگر میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا تو میں بھی عمرہ کا احرام باندھتا حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ صحابہ میں سے کچھ نے عمرہ کا احرام باندھا اور ان میں سے کچھ نے حج کا احرام باندھا حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں ان میں سے تھی جنہوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا تو ہم نکلے یہاں تک کہ مکہ آگئے تو میں نے عرفہ کا دن اس حال میں پایا کہ میں حائضہ تھی اور میں اپنے عمرہ سے حلال نہیں ہوئی تھی تو میں نے اس کی شکایت رسول اللہ ﷺ سے کی آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو اپنے عمرہ کو چھوڑ دے اور اپنے سر کے بال کھول ڈال اور کنگھی کر اور حج کا احرام باندھ لے حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے اسی طرح کیا تو جب کنکریوں کی رات ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے ہمارے حج کو پوار کردیا تو آپ ﷺ نے میرے ساتھ عبدالرحمن بن ابوبکر ؓ میرے بھائی کو بھیجا انہوں نے مجھے اپنے ساتھ سوار کیا اور تنعیم کی طرف نکلے تو میں نے عمرہ کا احرام باندھا تو اللہ تعالیٰ نے ہمارے حج اور عمرہ کو پورا فرما دیا اور اس میں نہ کوئی قربانی کا جانور تھا اور نہ ہی کوئی صدقہ اور نہ کوئی روزہ تھا۔

Aisha (Allah be pleased with her) reported: We went with the Messenger of Allah ﷺ (may peace be upon him? (in his) Farewell Pilgrimage near the time of the appearance of the new moon of DhuI-Hijja. The Messenger of Allah ﷺ said: He who amongst you intends to put on Ihram for Umrah may do so; had I not brought sacrificial animal along with me, I would have put on Ihram for Umrah. She (further said). There were some persons who put on Ihram for Umrs, and some persons who put on Ihram for hajj, and I was one of those who put on Ihram for Umrah. We went on till we reached Makkah, and on the day of Arafa I found myself in a state of menses, but I did not put off the Ihram for Umrah. I told about (this state of mine) to the Apostle of Allah ﷺ , whereupon he said: Abandon your Umrah, and undo the hair of your head and comb (them), and put on Ihram for Hajj. She (Aisha) said: I did accordingly. When it was the night at Hasba and Allah enabled us to complete our Hajj, he (the Holy Prophet) sent with me Abdul Rahman bin Abu Bakr, and he mounted me behind him on his camel and took me to Tanim and I put on Ihram for Umrah, and thus Allah enabled us to complete our Hajj and Umrah and (we were required to observe neither sacrifice nor alms nor fasting.

2915Sahih Muslim

احرام کی اقسام کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مُوَافِينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِهِلَالِ ذِي الْحِجَّةِ لَا نَرَی إِلَّا الْحَجَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحَبَّ مِنْکُمْ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ بِعُمْرَةٍ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدَةَ

ابوکریب، ابن نمیر، ہشام، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ ہم ذی الحجہ کا چاند دیکھ کر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے ہم حج کرنے کے سوا کچھ نہیں چاہتے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے جو پسند کرتا ہو کہ وہ عمرہ کا احرام باندھے تو وہ عمرہ کا احرام باندھ لے اور اس سے آگے حدیث اسی طرح ہے جس طرح گزری۔

Aisha (Allah be pleased with her) said: We set out with the Messenger of Allah ﷺ just at the appearance of the new moon of Dhul- Hijja. We had no other intention but that of performing the Hajj, whereupon the Messenger of Allah ﷺ said: He who among you intends to put on Ihram for Umrah should do so for Umrah. The rest of the hadith is the same.

2916Sahih Muslim

احرام کی اقسام کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوَافِينَ لِهِلَالِ ذِي الْحِجَّةِ مِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ فَکُنْتُ فِيمَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمَا و قَالَ فِيهِ قَالَ عُرْوَةُ فِي ذَلِکَ إِنَّهُ قَضَی اللَّهُ حَجَّهَا وَعُمْرَتَهَا قَالَ هِشَامٌ وَلَمْ يَکُنْ فِي ذَلِکَ هَدْيٌ وَلَا صِيَامٌ وَلَا صَدَقَةٌ

ابوکریب، وکیع، ہشام، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ذی الحجہ کے چاند کے مطابق نکلے ہم میں سے کچھ نے صرف عمرہ کا احرام باندھا ہوا تھا اور کچھ نے حج اور عمرہ کا احرام باندھا ہوا تھا اس سے آگے حدیث اسی طرح سے ہے جس طرح گزری اس سلسلہ میں عروہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عائشہ ؓ کے حج اور ان کے عمرہ دونوں کو پورا فرما دیا ہشام نے کہا کہ اس میں قربانی واجب ہوئی نہ روزہ اور نہ صدقہ واجب ہوا۔

Aisha (Allah be pleased with her) reported: We went with the Messenger of Allah ﷺ at the appearance of the new moon of DhuI-Hijja. There were amongst us those who had put on Ihram for Umrah, and those also who had put on Ihram both for Hajj and Umrah, and still those who had put on Ihram for Hajj (alone). I was one of those who had put on Ihram for Umrah (only). Urwa (one of the narrators) said: Allah enabled her (Hadrat Aisha) to complete both Hajj and Umrah (according to the way as mentioned above). Hisham (one of the narrators) said: She had neither the sacrificial animal nor (was she required to) fast, nor was she obliged to give alms.

2917Sahih Muslim

احرام کی اقسام کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَأَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ فَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَحَلَّ وَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ أَوْ جَمَعَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَلَمْ يَحِلُّوا حَتَّی کَانَ يَوْمُ النَّحْرِ

یحییٰ بن یحیی، مالک، ابی اسود، محمد بن عبدالرحمن بن نوفل، عروہ، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حجہ الوادع کے سال نکلے تو ہم میں سے کچھ نے عمرہ کا احرام باندھا اور کچھ نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا ہوا تھا تو جنہوں نے عمرہ کا احرام باندھا ہوا تھا وہ تو حلال ہوگئے احرام کھول دیا اور جنہوں نے حج کا احرام باندھا تھا یا حج اور عمرہ دونوں کا اکٹھا احرام باندھا تھا تو وہ یوم النحر قربانی والے دن سے پہلے حلال نہیں ہوئے احرام نہیں کھولے۔

Aisha (Allah be pleased with her) said: We proceeded with the Messenger of Allah ﷺ during the year of the Farewell Pilgrimage. There were those amongst us who had put on Ihram for Umrah, and those who had put on Ihram both for Hajj and" Umrah, and those amongst us who had put on Ihram for Hajj (only), while the Messenger of Allah ﷺ had put on Ihram for Hajj (only). He who put on Ihram for Umrah put it off (after performing Umrah), and he who had put on Ihram for Hajj or for both Hajj and Umrah did not put it off before the day of sacrifice (10th of DhuI-Hijja).

2918Sahih Muslim

احرام کی اقسام کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَرَی إِلَّا الْحَجَّ حَتَّی إِذَا کُنَّا بِسَرِفَ أَوْ قَرِيبًا مِنْهَا حِضْتُ فَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْکِي فَقَالَ أَنَفِسْتِ يَعْنِي الْحَيْضَةَ قَالَتْ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ إِنَّ هَذَا شَيْئٌ کَتَبَهُ اللَّهُ عَلَی بَنَاتِ آدَمَ فَاقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ حَتَّی تَغْتَسِلِي قَالَتْ وَضَحَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ بِالْبَقَرِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، زہیر بن حرب، ابن عیینہ، عمرو، سفیان بن عیینہ، عبدالرحمن بن قاسم، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ نکلے اور ہمارا حج کے سوا کوئی ارادہ نہیں تھا یہاں تک کہ جب سرف کے مقام پر یا اس کے قریب پہنچے تو میں حائضہ ہوگئی نبی ﷺ میری طرف تشریف لائے اور میں رو رہی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو حائضہ ہوگئی ہے؟ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا ہاں آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ تو وہ چیز ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی بیٹیوں پر لکھ دیا ہے تو تو حج کے مناسک ادا کر سوائے اس کے کہ تو بیت اللہ کا طواف نہ کر جب تک کہ تو غسل نہ کرلے حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات کی طرف سے ایک گائے کی قربانی کی۔

Aisha (Allah be pleased with her) said: We proceeded with the Apostle of Allah ﷺ with no other intention but that of performing the Hajj. As I was at Sarif or near it, I entered in the state of menses. The Apostle of Allah ﷺ came to me and I was weeping, whereupon he said: Are you in a state of menses? I said. Yes. whereupon he said: This is what Allah has ordained for all the daughters of Adam. Do whatever the pilgrim does except that you should not circumambulate the House till you have washed yourself (at the end of the menses period). And the Messenger of Allah ﷺ offered sacrifice of a cow on behalf of his wives.

2919Sahih Muslim

احرام کی اقسام کے بیان میں

حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ أَبُو أَيُّوبَ الْغَيْلَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَذْکُرُ إِلَّا الْحَجَّ حَتَّی جِئْنَا سَرِفَ فَطَمِثْتُ فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْکِي فَقَالَ مَا يُبْکِيکِ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَکُنْ خَرَجْتُ الْعَامَ قَالَ مَا لَکِ لَعَلَّکِ نَفِسْتِ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ هَذَا شَيْئٌ کَتَبَهُ اللَّهُ عَلَی بَنَاتِ آدَمَ افْعَلِي مَا يَفْعَلُ الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ حَتَّی تَطْهُرِي قَالَتْ فَلَمَّا قَدِمْتُ مَکَّةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ اجْعَلُوهَا عُمْرَةً فَأَحَلَّ النَّاسُ إِلَّا مَنْ کَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ قَالَتْ فَکَانَ الْهَدْيُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَکْرٍ وَعُمَرَ وَذَوِي الْيَسَارَةِ ثُمَّ أَهَلُّوا حِينَ رَاحُوا قَالَتْ فَلَمَّا کَانَ يَوْمُ النَّحْرِ طَهَرْتُ فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَفَضْتُ قَالَتْ فَأُتِيَنَا بِلَحْمِ بَقَرٍ فَقُلْتُ مَا هَذَا فَقَالُوا أَهْدَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ الْبَقَرَ فَلَمَّا کَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَرْجِعُ النَّاسُ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ وَأَرْجِعُ بِحَجَّةٍ قَالَتْ فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَکْرٍ فَأَرْدَفَنِي عَلَی جَمَلِهِ قَالَتْ فَإِنِّي لَأَذْکُرُ وَأَنَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ أَنْعَسُ فَيُصِيبُ وَجْهِي مُؤْخِرَةَ الرَّحْلِ حَتَّی جِئْنَا إِلَی التَّنْعِيمِ فَأَهْلَلْتُ مِنْهَا بِعُمْرَةٍ جَزَائً بِعُمْرَةِ النَّاسِ الَّتِي اعْتَمَرُوا

سلیمان بن عبیداللہ ابوایوب غیلانی ابوعامرعبدالملک بن عمرو عبدالعزیز بن ابی سلمہ ماجشون عبدالرحمن بن قاسم سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے ہم سوائے حج کے اور کوئی ذکر نہیں کر رہے تھے یہاں تک کہ جب ہم سرف کے مقام پر آئے تو میں حائضہ ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ میری طرف تشریف لائے جبکہ میں رو رہی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا کیوں رو رہی ہو؟ میں نے عرض کیا اللہ کی قسم! کاش کہ میں اس سال نہ نکلتی آپ ﷺ نے فرمایا تجھے کیا ہوا؟ شاید کہ تو حائضہ ہوگئی ہے؟ میں نے عرض کی جی ہاں آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ تو وہ چیز ہے کہ جسے اللہ نے آدم (علیہ السلام) کی بیٹیوں کے لئے لکھ دیا ہے تم اسی طرح کرو جس طرح حاجی کرتے ہیں سوائے اس کے کہ بیت اللہ کا طواف نہ کرنا جب تک کہ تو پاک نہ ہوجائے حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ہم مکہ میں آئے تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ ؓ سے فرمایا کہ تم اپنے احرام کو عمرہ کا احرام کر ڈالو تو پھر وہ لوگ تو حلال ہوگئے کہ جن کے پاس قربانی کے جانور تھے حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ، حضرت ابوبکر ؓ عمر ؓ اور دیگر مالدار لوگوں کے پاس قربانی کے جانور تھے پھر جس وقت وہ چلے تو انہوں نے احرام باندھ لیا حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب یوم النحر کا دن ہوا تو میں پاک ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم فرمایا کہ میں طواف افاضہ کرلوں حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ پھر ہمیں گائے کا گوشت دیا گیا میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کی اپنی ازواج مطہرات ؓ کی طرف سے گائے کی قربانی کی تھی۔ تو جب محصب کی رات ہوئی تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول لوگ تو حج اور عمرہ کرکے واپس لوٹیں گے اور میں صرف حج کر کے واپس لوٹوں گی حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ نے حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ کو حکم فرمایا تو وہ مجھے اپنے اونٹ پر بٹھا کر اپنے ساتھ لے گئے حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ میں ان دنوں ایک کم عمر لڑکی تھی مجھے اونگھ آجاتی تو پالان کی پچھلی لکڑی میرے چہرے کو لگتی تھی یہاں تک کہ ہم تنعیم کی طرف آگئے تو میں نے اس جگہ سے عمرہ کا احرام باندھا اور یہ عمرہ اس عمرہ کے بدلہ میں تھا جو لوگوں نے کیا تھا

Aisha (Allah be pleased with her) reported: We went with the Messenger of Allah ﷺ with no other aim but that of Hajj till we came to the place known as Sarif; and there I entered in the state of menses. The Messenger of Allah ﷺ came to me while I was weeping. He said: What makes you weep? I said: Would that I had not come (for Pilgrimage) this year. He (the Holy Prophet) said: What has happened to you? You have perhaps entered the period of menses. I said: Yes. He said: This is what has been ordained for the daughters of Adam. Do what a pilgrim does except that you should not circumambulate the House, till you are purified (of the menses). She (Aisha) said: When I came to Makkah, the Messenger of Allah ﷺ said to his companions: Make this (Ihram) the Ihram for Umrah. So the people put off Ihram except those who had sacrificial animals with them. She (Aisha) said: The Apostle of Allah ﷺ had the sacrificial animal with him, and so had Abu Bakr, Umar and other persons of means. They (those who had put off Ihram again) put on Ihram (for Hajj) when they marched (towards Mina), and it was the 8th of DhuI-Hijja. She (Aisha) said: When it was the day of sacrifice (10th of DhuI-Hijia), I was purified, and the Messenger of Allah ﷺ commanded me and I did the circumambulation of Ifada. She said that the flesh of cow was sent to us. I said: What is It? They said: The Messenger of Allah ﷺ has offered cow as sacrifice on behalf of his wives. When it was the night at Hasba, I said: Messenger of Allah, people are coming back from Hajj and Umrah, where as I am coming back from Hajj (alone). She (Aisha) reported: He (the Holy Prophet) commanded Abdul Rahman bin Abu Bakr (RA) to mount me upon his camel behind him. She (Aisha) said: I was very young and I well remember that I dozed off and my face touched the hind part of the haudaj (camel litter) till we came to Tanim, and entered into the state of Ihram in lieu of Umrah (which I for the time being abandoned) and which the people had performed.

2920Sahih Muslim

احرام کی اقسام کے بیان میں

و حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ الْغَيْلَانِيُّ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَبَّيْنَا بِالْحَجِّ حَتَّی إِذَا کُنَّا بِسَرِفَ حِضْتُ فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْکِي وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ الْمَاجِشُونِ غَيْرَ أَنَّ حَمَّادًا لَيْسَ فِي حَدِيثِهِ فَکَانَ الْهَدْيُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَکْرٍ وَعُمَرَ وَذَوِي الْيَسَارَةِ ثُمَّ أَهَلُّوا حِينَ رَاحُوا وَلَا قَوْلُهَا وَأَنَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ أَنْعَسُ فَيُصِيبُ وَجْهِي مُؤْخِرَةَ الرَّحْلِ

ابوایوب بن غیلانی، بہز، حماد، عبدالرحمن، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ ہم نے حج کا تلبیہ پڑھا (حج کا احرام باندھا) یہاں تک کہ جب ہم سرف کے مقام پر آئے تو میں حائضہ ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ میری طرف تشریف لائے جبکہ میں رو ہی تھی آگے حدیث پچھلی حدیث کی طرح ہے سوائے اس کے کہ حماد کی حدیث میں یہ نہیں ہے کہ نبی ﷺ اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر ؓ اور دوسرے صاحب ثروت صحابہ ؓ کے پاس قربانی کا جانور تھا اور نہ ہی حضرت عائشہ کا قول ہے کہ میں کم عمر لڑکی تھی اور اونگھنے لگتی تھی جس کی وجہ سے میرے چہرے پر کجاوے کی پچھلی لکڑی لگ جاتی تھی۔

Aisha (Allah be pleased with her) reported: We entered into the state of Ihram for Hajj till we were at Sarif and I was in menses. The Messenger of Allah ﷺ came to me and I was weeping. The rest of the hadith is the same but (with this portion) that there were sacrificial animals with Allahs Apostle ﷺ and with Abu Bakr, Umar and with rich persons. And they pronounced Talbiya as they proceeded on. And there is no mention of this (too): "I was a girl of tender age and I dozed off and my face touched the hind part of the Haudaj."

2921Sahih Muslim

احرام کی اقسام کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ حَدَّثَنِي خَالِي مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْرَدَ الْحَجَّ

اسماعیل بن ابی اویس، مالک بن انس، یحییٰ بن یحیی، مالک، عبدالرحمن بن قاسم، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حج افراد کیا ہے۔

Aisha reported that the Messenger of Allah ﷺ entered into the state of Ihram for Hajj Ifrid.

2922Sahih Muslim

احرام کی اقسام کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَفْلَحَ بْنِ حُمَيْدٍ عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ وَفِي حُرُمِ الْحَجِّ وَلَيَالِي الْحَجِّ حَتَّی نَزَلْنَا بِسَرِفَ فَخَرَجَ إِلَی أَصْحَابِهِ فَقَالَ مَنْ لَمْ يَکُنْ مَعَهُ مِنْکُمْ هَدْيٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ کَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلَا فَمِنْهُمْ الْآخِذُ بِهَا وَالتَّارِکُ لَهَا مِمَّنْ لَمْ يَکُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَأَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَکَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ وَمَعَ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِهِ لَهُمْ قُوَّةٌ فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْکِي فَقَالَ مَا يُبْکِيکِ قُلْتُ سَمِعْتُ کَلَامَکَ مَعَ أَصْحَابِکَ فَسَمِعْتُ بِالْعُمْرَةِ قَالَ وَمَا لَکِ قُلْتُ لَا أُصَلِّي قَالَ فَلَا يَضُرُّکِ فَکُونِي فِي حَجِّکِ فَعَسَی اللَّهُ أَنْ يَرْزُقَکِيهَا وَإِنَّمَا أَنْتِ مِنْ بَنَاتِ آدَمَ کَتَبَ اللَّهُ عَلَيْکِ مَا کَتَبَ عَلَيْهِنَّ قَالَتْ فَخَرَجْتُ فِي حَجَّتِي حَتَّی نَزَلْنَا مِنًی فَتَطَهَّرْتُ ثُمَّ طُفْنَا بِالْبَيْتِ وَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُحَصَّبَ فَدَعَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَکْرٍ فَقَالَ اخْرُجْ بِأُخْتِکَ مِنْ الْحَرَمِ فَلْتُهِلَّ بِعُمْرَةٍ ثُمَّ لِتَطُفْ بِالْبَيْتِ فَإِنِّي أَنْتَظِرُکُمَا هَا هُنَا قَالَتْ فَخَرَجْنَا فَأَهْلَلْتُ ثُمَّ طُفْتُ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَجِئْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي مَنْزِلِهِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فَقَالَ هَلْ فَرَغْتِ قُلْتُ نَعَمْ فَآذَنَ فِي أَصْحَابِهِ بِالرَّحِيلِ فَخَرَجَ فَمَرَّ بِالْبَيْتِ فَطَافَ بِهِ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَی الْمَدِينَةِ

محمد بن عبداللہ بن نمیر، اسحاق بن سلیمان، افلح بن حمید، قاسم، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ حج کے مہینوں میں ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کا احرام باندھ کر نکلے جب ہم سرف کے مقام پر آئے تو آپ ﷺ اپنے صحابہ کی طرف آئے اور فرمایا کہ تم میں سے جس کے پاس قربانی کا جانور نہ ہو اور وہ پسند کرتا ہو کہ اپنے اس احرام کو عمرہ کے احرام میں بدل لے تو وہ ایسے کرلے اور جس کے پاس قربانی کا جانور نہ ہو تو وہ اس طرح نہ کرے تو ان میں سے کچھ نے اس پر عمل کیا اور کچھ نے چھوڑ دیا اور رسول اللہ ﷺ کے پاس قربانی کا جانور تھا اور آپ ﷺ کے صحابہ ؓ میں سے جو آدمی اس کی طاقت رکھتے تھے ان کے پاس بھی ہدی تھی رسول اللہ ﷺ میری طرف تشریف لائے اور میں رو رہی تھی آپ ﷺ نے فرمایا اے عائشہ! تم کس وجہ سے رو رہی ہو میں نے عرض کیا کہ آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کو جو فرمایا میں نے سن لیا اور میں نے عمرہ کے بارے میں سنا ہے آپ ﷺ نے فرمایا تجھے اس سے کیا غرض؟ میں نے عرض کیا کہ میں نماز نہ پڑھ سکوں گی آپ ﷺ نے فرمایا کہ تجھے اس سے کوئی نقصان نہیں ہوگا تم اپنے حج میں رہو شاید کہ اللہ تمہیں عمرہ کی توفیق عطا فرما دے اور بات دراصل یہ ہے کہ تم حضرت آدم (علیہ السلام) کی بیٹیوں میں سے ہو اللہ نے تمہارے لئے بھی وہی مقدر کیا ہے جو دوسری عورتوں کے لئے مقدر کیا ہے۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں اپنے مناسک حج کی ادائیگی کے لئے نکلی یہاں تک کہ جب ہم منیٰ پہنچ گئے تو میں وہاں پاک ہوگئی پھر ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا اور رسول اللہ ﷺ وادی محصب میں اترے تو حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ کو بلایا اور فرمایا کہ اپنی بہن کے ساتھ حرم سے نکلو تاکہ یہ عمرہ کا احرام باندھ لیں پھر بیت اللہ کا طواف کریں اور میں یہاں تم دونوں کا انتظار کر رہا ہوں۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ہم نکلے میں نے احرام باندھا پھر میں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا ومروہ کا طواف (سعی) کی پھر ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس رات کے درمیانی حصہ میں آپ ﷺ کی جگہ میں آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم فارغ ہوگئی ہو؟ میں نے عرض کیا ہاں پھر آپ ﷺ نے اپنے صحابہ ؓ کو یہاں سے کوچ کرنے کی اجارت عطا فرمائی تو آپ ﷺ نکلے اور جب بیت اللہ کے پاس سے گزرے تو آپ ﷺ نے صبح کی نماز سے پہلے بیت اللہ کا طواف کیا پھر آپ ﷺ مدینہ کی طرف نکلے۔

Aisha (Allah be pleased with her) reported: We proceeded with the Messenger of Allah ﷺ putting on the Ihram for Hajj during the months of Hajj and the night of Hajj till we encamped at Sarif. He (the Holy Prophet) went to his Companiens and said: He who has no sacrificial animal with him, in his case I wish that he should perform Umrah (with this Ihram), and he who has the sacrificial animal with him should not do it. So some of them performed Hajj whereas others who had no sacrificial animals with them did not do (Hajj, but per- formed only Umrah). The Messenger of Allah ﷺ had the sacrificial animal with him and those too who could afford it (performed) Hajj). The Messenger of Allah ﷺ came to me (i. e. Aisha) while I was weeping, and he said: What makes thee weep? I said: I heard your talk with Companions about Umrah. He said: What has happened to you? I said: I do not observe prayer (due to the monthly period), whereupon he said: It would not harm you; you should perform (during this time) the rituals of Hajj (which you can do outside the House). Maybe Allah will compensate you for this. You are one among the daughters of Adam علیہ السلامعلیہ السلامand Allah has ordained for you as He has ordained for them. So I proceeded on (with the rituals of Hajj) till we came to Mina. I washed myself and then circumambulated the House, and the Messenger of Allah ﷺ encamped at Muhassab and called Abdul Rahman bin Abu Bakr (RA) and said: Take out your sister from the precincts of the Ka’bah in order to put on Ihram for Umrah and circumambulate the House and I shall wait for you here. She said: So I went out and put on Ihram and then circumambulated the House and (ran) between al-Safa and al-Marwah, and then we came to the Messenger of Allah ﷺ and he was in his house in the middle of the night. He said: Have you completed your (rituals)? I said: Yes. He then announced to his Companions to march on. He came out, and went to the House and circumambulated it before the dawn prayer and then proceeded to Madinah.

2923Sahih Muslim

احرام کی اقسام کے بیان میں

حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ مِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ مُفْرَدًا وَمِنَّا مَنْ قَرَنَ وَمِنَّا مَنْ تَمَتَّعَ

یحییٰ بن ایوب، عباد بن عباد مہلبی، عبیداللہ بن عمر، قاسم بن محمد، ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ ہم میں سے کچھ نے حج افراد کا احرام باندھا اور کچھ نے حج قران کا اور کچھ نے حج تمتع کا احرام باندھا۔

Aisha (Allah be pleased with her) said: Some among us put on Ihram for Hajj alone (Hajj Mufrad); some of us for Hajj and Umrah together (Qiran), and some of us for Tamattau (first for Umrah and after completing it for Hajj).

2924Sahih Muslim

احرام کی اقسام کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ جَائَتْ عَائِشَةُ حَاجَّةً

عبد بن حمید، محمد بن بکر، ابن جریج، عبیداللہ بن عمر، قاسم بن محمد، حضرت قاسم بن محمد ؓ نے فرمایا کہ حضرت عائشہ ؓ حج کا احرام باندھ کر آئی تھیں

AI-Qasim bin Muhammad reported that Aisha had come for Hajj.

2925Sahih Muslim

احرام کی اقسام کے بیان میں

و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَی وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَمْرَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ وَلَا نَرَی إِلَّا أَنَّهُ الْحَجُّ حَتَّی إِذَا دَنَوْنَا مِنْ مَکَّةَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَکُنْ مَعَهُ هَدْيٌ إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ أَنْ يَحِلَّ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَدُخِلَ عَلَيْنَا يَوْمَ النَّحْرِ بِلَحْمِ بَقَرٍ فَقُلْتُ مَا هَذَا فَقِيلَ ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَزْوَاجِهِ قَالَ يَحْيَی فَذَکَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ فَقَالَ أَتَتْکَ وَاللَّهِ بِالْحَدِيثِ عَلَی وَجْهِهِ

عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، سلیمان یعنی ابن بلال، یحییٰ ابن سعید، حضرت عمرۃ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ماہ ذی قعدہ سے ابھی پانچ دن باقی تھے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے اور ہمارا حج کے سوا اور کوئی ارادہ نہیں تھا یہاں تک کہ جب ہم مکہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے حکم فرمایا کہ جس کے ساتھ قربانی کا جانور نہ ہو تو وہ بیت اللہ کا طواف اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی کے بعد حلال ہوجائے احرام کھول دے حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ قربانی کے دن ہماری طرف گائے کا گوشت آیا تو میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ تو مجھے کہا گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ازواج مطہرات کی طرف سے گائے ذبح کی ہے یحییٰ کہتے ہیں کہ میں نے اس حدیث کو قاسم بن محمد سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم تو نے یہ حدیث بالکل اسی طرح بیان کی ہے۔

Umrah reported: I heard Aisha (Allah be pleased with her) as saying: We went out with the Messenger of Allah ﷺ five days before the end of Dhi Qadah, and we did see but that he intended to perform Hajj (only), but as we came near Makkah the Messenger of Allah ﷺ commanded that he who did not have the sacrificial animal with him should put off Ihram after circumambulating the House and running between al-Safa and aI-Marwah (and thus convert his Ihram from that of Hajj to Umrah). Aisha (Allah be pleased with her) said: The flesh of cow was sent to us on the Day of Sacrifice (10th of DhuI-Hijja). I said: What is this? It was said: The Messenger of Allah ﷺ sacrificed (the cow) on behalf of his wives. Yahyi said: I made a mention of this hadith (what has been stated by Umrah) to Qasim bin Muhammad, whereupon be said: By Allah, she has rightly narrated it to you.

2926Sahih Muslim

احرام کی اقسام کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَی بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ح و حَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَحْيَی بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

محمد بن مثنی، عبدالوہاب، حضرت یحییٰ بن سعید سے اس سند کی ساتھ اسی حدیث کی طرح نقل کی گئی۔

This hadlth has been narrated by Yahya through the same chain of transmitters.

2927Sahih Muslim

احرام کی اقسام کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ح وَعَنْ الْقَاسِمِ عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَصْدُرُ النَّاسُ بِنُسُکَيْنِ وَأَصْدُرُ بِنُسُکٍ وَاحِدٍ قَالَ انْتَظِرِي فَإِذَا طَهَرْتِ فَاخْرُجِي إِلَی التَّنْعِيمِ فَأَهِلِّي مِنْهُ ثُمَّ الْقَيْنَا عِنْدَ کَذَا وَکَذَا قَالَ أَظُنُّهُ قَالَ غَدًا وَلَکِنَّهَا عَلَی قَدْرِ نَصَبِکِ أَوْ قَالَ نَفَقَتِکِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن علیہ، ابن عون، ابراہیم، اسود، ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! لوگ تو دو مناسک حج اور عمرہ کر کے واپس ہوں گے اور میں ایک ہی مناسک کر کے لوٹوں گی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو انتظار کر اور جب تو پاک ہوجائے گی تو تنعیم کی طرف نکل اور وہاں سے احرام باندھ پھر ہم سے فلاں مقام کے پاس آکر مل جانا۔

Al-Qasim narrated from the Mother of the Believers (Hadrat Aisha) that she said: Messenger of Allah. the people return (from Makkah) having done two worships (both Hajj and Umrah), but I am coming back with one (only). whereupon he said: You should wait and when the period of menses is over, you should go to Tanim and put on Ihram and then meet us at such and such time (and I think he said tomorrow); and (the reward of this Umrah) is for you equal to your hardship or your spending.

2928Sahih Muslim

احرام کی اقسام کے بیان میں

و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ الْقَاسِمِ وَإِبْرَاهِيمَ قَالَ لَا أَعْرِفُ حَدِيثَ أَحَدِهِمَا مِنْ الْآخَرِ أَنَّ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَصْدُرُ النَّاسُ بِنُسُکَيْنِ فَذَکَرَ الْحَدِيثَ

ابن مثنی، ابن ابی عدی، ابن عون، قاسم، ابراہیم، ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ عرض کرتی ہیں اے اللہ کے رسول ﷺ! دوسرے لوگ تو دو عبادتیں کر کے واپس لوٹیں گے پھر اسی طرح حدیث ذکر کی۔

Ibn al-Muththanna reported on the authority of Ibn AbuAdi who transmitted on the authority of IbnAun who narrated from al-Qasim and Ibrahim having said: I cannot differentiate the hadith of one from the other (Al-Qasim and Ibrahim) that the Mother of the Believers (Allah be pleased with her) said this: Messenger of Allah, people have come back with two acts of worship. The rest of the hadith is the same.

2929Sahih Muslim

احرام کی اقسام کے بیان میں

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا و قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَرَی إِلَّا أَنَّهُ الْحَجُّ فَلَمَّا قَدِمْنَا مَکَّةَ تَطَوَّفْنَا بِالْبَيْتِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَکُنْ سَاقَ الْهَدْيَ أَنْ يَحِلَّ قَالَتْ فَحَلَّ مَنْ لَمْ يَکُنْ سَاقَ الْهَدْيَ وَنِسَاؤُهُ لَمْ يَسُقْنَ الْهَدْيَ فَأَحْلَلْنَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَحِضْتُ فَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ فَلَمَّا کَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَرْجِعُ النَّاسُ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ وَأَرْجِعُ أَنَا بِحَجَّةٍ قَالَ أَوْ مَا کُنْتِ طُفْتِ لَيَالِيَ قَدِمْنَا مَکَّةَ قَالَتْ قُلْتُ لَا قَالَ فَاذْهَبِي مَعَ أَخِيکِ إِلَی التَّنْعِيمِ فَأَهِلِّي بِعُمْرَةٍ ثُمَّ مَوْعِدُکِ مَکَانَ کَذَا وَکَذَا قَالَتْ صَفِيَّةُ مَا أُرَانِي إِلَّا حَابِسَتَکُمْ قَالَ عَقْرَی حَلْقَی أَوْ مَا کُنْتِ طُفْتِ يَوْمَ النَّحْرِ قَالَتْ بَلَی قَالَ لَا بَأْسَ انْفِرِي قَالَتْ عَائِشَةُ فَلَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُصْعِدٌ مِنْ مَکَّةَ وَأَنَا مُنْهَبِطَةٌ عَلَيْهَا أَوْ أَنَا مُصْعِدَةٌ وَهُوَ مُنْهَبِطٌ مِنْهَا و قَالَ إِسْحَقُ مُتَهَبِّطَةٌ وَمُتَهَبِّطٌ

زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، جریر، منصور، ابراہیم، اسود، ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے اور حج کے علاوہ ہمارا اور کوئی ارادہ نہیں تھا تو جب ہم مکہ آگئے تو ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا پھر رسول اللہ ﷺ نے حکم فرمایا کہ جو آدمی ہدی (قربانی کا جانور) لے کر نہ آیا ہو تو وہ حلال ہوجائے احرام کھول دے حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جو لوگ ہدی ساتھ نہیں لائے تھے وہ تو حلال ہوگئے اور آپ ﷺ کی ازواج مطہرات ؓ بھی ہدی ساتھ نہیں لائی تھیں اس لئے انہوں نے بھی احرام کھول دئیے حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں حائضہ ہوگئی اور میں بیت اللہ کا طواف نہ کرسکی تو جب حصبہ کی رات ہوئی تو حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا اللہ کے رسول ﷺ لوگ تو عمرہ اور حج کر کے واپس لوٹیں گے اور میں صرف حج کے ساتھ واپس لوٹوں گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا اے عائشہ! کیا جن راتوں میں ہم مکہ آئے تھے اس وقت تم نے طواف نہیں کیا تھا؟ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا نہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم اپنے بھائی کے ساتھ تنعیم کی طرف جاؤ اور وہاں سے عمرہ کا احرام باندھ کر عمرہ کرلو اور پھر فلاں فلاں جگہ ہم سے آکر مل جانا حضرت صفیہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں تمہیں روکنے والی ہوں آپ ﷺ نے (پیار سے) فرمایا زخمی اور سر منڈی کیا تو نے قربانی کے دن (یوم نحر) طواف نہیں کیا تھا؟ حضرت صفیہ ؓ نے عرض کی جی ہاں آپ ﷺ نے فرمایا کوئی حرج نہیں اب چلو حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے میں اس حال میں ملی کہ آپ ﷺ مکہ سے بلندی پر چڑھ رہے تھے اور میں اتر رہی تھی یا میں بلندی پر چڑھ رہی تھی اور آپ ﷺ اتر رہے تھے۔

Aisha (Allah be pleased with her) reported: We went with the Messenger of Allah ﷺ and we did not see but that he (intended to perform) Hajj (only), but when we reached Makkah we circumambulated the House; and the Messenger of Allah ﷺ commanded that he who did not have with him a sacrificial animal should put off Ihram. She (Aisha) said: (And consequently) those who did not bring the sacrificial animals with them put off Ihram; and among his wives (too) who had not brought the sacrificial animals with them put off Ihram. Aisha said: I entered in the monthly period and could not (therefore) circumambulate the House. When it was the night of Hasba she said: Messenger of Allah, people are coming back (after having performed both) Hajj andUmrah, whereas I am coming back only with Hajj, whereupon he said: Did you not circumambulate (the Ka’bah) that very night we entered Makkah? She (Aisha) said: No, whereupon he said: Go along with your brother to Tanim and put on the Ihram for Umrah, and it is at such and such a place that you can meet (us). (In the meanwhile) Safiyya (the wife of the Holy Prophet) said: I think, I will detain you (since I have entered in the monthly) period and you shall have to wait for me for the farewell circuit. Thereupon he (the Holy Prophet) said: May you be wounded and your head shorn did you not circumambulate on the Day of Sacrifice (10th of DhuI-Hijja)? She said: Yes. The Holy Prophet ﷺ said: There is no harm. You should go forward. Aisha said: The Messenger of Allah ﷺ was going upwards to the side of Makkah, whereas I was coming down from it, or I was going upward, whereas he was coming down. Ishaq said: She was climbing down, and he was climbing down.

2930Sahih Muslim

احرام کی اقسام کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُلَبِّي لَا نَذْکُرُ حَجًّا وَلَا عُمْرَةً وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَی حَدِيثِ مَنْصُورٍ

سوید بن سعید، علی بن مسہر، اعمش، ابراہیم، اسود، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تلبیہ پڑھتے ہوئے نکلے نہ ہم نے حج کا ذکر کیا اور نہ ہی عمرہ کا ذکر کیا۔

Aisha (Allah be pleased, with her) reported: We went out with the Messenger of Allah ﷺ pronouncing Talbiya having no explicit intention of Pilgrimage or Umrah. The rest of the hadith is the same.