حج کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 17 · 608 hadiths · Page 8 of 31

2931Sahih Muslim

احرام کی اقسام کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ غُنْدَرٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَکَمِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنْ ذَکْوَانَ مَوْلَی عَائِشَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ أَوْ خَمْسٍ فَدَخَلَ عَلَيَّ وَهُوَ غَضْبَانُ فَقُلْتُ مَنْ أَغْضَبَکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَدْخَلَهُ اللَّهُ النَّارَ قَالَ أَوَمَا شَعَرْتِ أَنِّي أَمَرْتُ النَّاسَ بِأَمْرٍ فَإِذَا هُمْ يَتَرَدَّدُونَ قَالَ الْحَکَمُ کَأَنَّهُمْ يَتَرَدَّدُونَ أَحْسِبُ وَلَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ مَعِي حَتَّی أَشْتَرِيَهُ ثُمَّ أَحِلُّ کَمَا حَلُّوا

ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن مثنی، ابن بشار، غندر، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، حکم، علی بن حسین، ذکوان مولیٰ عائشہ، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ذی الحجہ کے چار یا پانچ دن گزرے تھے کہ غصہ حالت میں میرے پاس تشریف لائے تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ کو کس نے ناراض کیا ہے؟ اللہ اس کو دوزخ میں داخل کرے آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم نہیں جانتیں کہ میں نے لوگوں کو ایک کام کے کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ لوگ اس میں تردد کر رہے ہیں حکم راوی کہتے ہیں گویا کہ وہ لوگ تردد میں ہیں اور میں گمان کرتا ہوں کہ اگر مجھے میرے معاملہ کا پہلے علم ہوجاتا تو میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا یہاں تک کہ میں قربانی کا جانور خریدتا پھر میں حلال ہوتا جس طرح کہ وہ حلال ہوئے احرام کھولا۔

Aisha (Allah be pleased with her) reported that the Messenger of Allah ﷺ came out on the 4th or 5th of DhulI-Hijja (for Pilgrimage to Makkah) and came to me, and he was very angry. I said: Messenger of Allah, who has annoyed you? May Allah cast him in fire. He said: Dont you know that I commanded the people to do an act, but they are hesitant. (Hakam said: I think that he said: They seem to be hesitant.) And if I were to know my affair before what I had to do subsequently, I would not have brought with me the sacrificial animals, and would have bought them (at Makkah) and would have put off Ihram as others have done.

2932Sahih Muslim

احرام کی اقسام کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَکَمِ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ عَنْ ذَکْوَانَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَرْبَعٍ أَوْ خَمْسٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ بِمِثْلِ حَدِيثِ غُنْدَرٍ وَلَمْ يَذْکُرْ الشَّکَّ مِنْ الْحَکَمِ فِي قَوْلِهِ يَتَرَدَّدُونَ

عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، حکم، علی بن حسین، ذکوان، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ ذی الحجہ کے چار پانچ دن گزرے ہوں گے کہ نبی کریم ﷺ تشریف لائے حدیث اسی طرح سے ہے۔

Aisha (Allah be pleased with her) reported that the Apostle of Allah ﷺ came out (for Pilgrimage) on the 4th or 5th of Dhul Hijja. The rest of the hadith is the same, but he (the narrator) made no mention of the doubt of Hakam about his (the Prophets) words: "They were reluctant."

2933Sahih Muslim

احرام کی اقسام کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا أَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ فَقَدِمَتْ وَلَمْ تَطُفْ بِالْبَيْتِ حَتَّی حَاضَتْ فَنَسَکَتْ الْمَنَاسِکَ کُلَّهَا وَقَدْ أَهَلَّتْ بِالْحَجِّ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّفْرِ يَسَعُکِ طَوَافُکِ لِحَجِّکِ وَعُمْرَتِکِ فَأَبَتْ فَبَعَثَ بِهَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِلَی التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرَتْ بَعْدَ الْحَجِّ

محمد بن حاتم، بہز، وہیب، عبیداللہ بن طاؤس، سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عمرہ کا احرام باندھا اور مکہ آگئیں اور ابھی بیت اللہ کا طواف نہیں کیا تھا کہ وہ حائضہ ہوگئیں تو پھر انہوں نے حج کا احرام باندھ کر حج کے تمام مناسک ادا کئے تو نبی ﷺ نے واپسی والے دن حضرت عائشہ ؓ سے فرمایا کہ تیرا طواف تیرے حج اور عمرہ کے لئے کافی ہوجائے گا تو حضرت عائشہ ؓ نے انکار کیا اس کو مناسب نہ سمجھا تو آپ ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ کو حضرت عبدالرحمن ؓ کے ساتھ تنعیم کی طرف بھیجا پھر انہوں نے حج کے بعد عمرہ ادا کیا۔

Aisha (Allah be pleased with her) reported that she put on Ihram for, Umrah and arrived at Makkah, but did not circumambulate the House as she had entered in the period of menses, and then put on Ihram for Hajj and performed all the rituals concerning it (except circumambulating the House). The Apostle of Allah ﷺ said to her on the day of march (when pilgrims come to Mina): Your circumambulation would suffice both Hajj and Umrah. She, however, felt reluctant. Thereupon the Holy Prophet ﷺ sent her with Abdul Rahman to Tanim and she performed Umrah (with separate rituals) after Hajj.

2934Sahih Muslim

احرام کی اقسام کے بیان میں

و حَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا حَاضَتْ بِسَرِفَ فَتَطَهَّرَتْ بِعَرَفَةَ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجْزِئُ عَنْکِ طَوَافُکِ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ عَنْ حَجِّکِ وَعُمْرَتِکِ

حسن بن علی حلوانی، زید بن حباب، ابراہیم بن نافع، عبداللہ بن ابی نجیح، مجاہد، سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ سرف کے مقام پر حائضہ ہوگئیں اور عرفہ کے دن حیض سے پاک ہوئیں تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے فرمایا کہ صفا اور مروہ کا طواف تیرے حج اور تیرے عمرہ کے طواف سے کفایت کر جائے گا۔

Aisha (Allah be pleased with her) reported that she entered in the monthly period at Sarif, and took bath at Arafa (after the period was over). The Messenger of Allah ﷺ said to her: Your circumambulation between al Safa and al-Marwah is enough for your Hajj and Umrah.

2935Sahih Muslim

احرام کی اقسام کے بیان میں

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا قُرَّةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ حَدَّثَتْنَا صَفِيَّةُ بِنْتُ شَيْبَةَ قَالَتْ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَرْجِعُ النَّاسُ بِأَجْرَيْنِ وَأَرْجِعُ بِأَجْرٍ فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَکْرٍ أَنْ يَنْطَلِقَ بِهَا إِلَی التَّنْعِيمِ قَالَتْ فَأَرْدَفَنِي خَلْفَهُ عَلَی جَمَلٍ لَهُ قَالَتْ فَجَعَلْتُ أَرْفَعُ خِمَارِي أَحْسُرُهُ عَنْ عُنُقِي فَيَضْرِبُ رِجْلِي بِعِلَّةِ الرَّاحِلَةِ قُلْتُ لَهُ وَهَلْ تَرَی مِنْ أَحَدٍ قَالَتْ فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ ثُمَّ أَقْبَلْنَا حَتَّی انْتَهَيْنَا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْحَصْبَةِ

یحییٰ بن حبیب حارثی، خالد بن حارث، قرہ، عبدالحمید بن جبیر بن شیبہ، صفیہ، بنت شیبہ، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا لوگ دو اجر لے کر واپس لوٹیں گے اور میں ایک اجر لے کر واپس لوٹوں گی تو آپ ﷺ نے حضرت عبدالرحمن بن ابی ابکر ؓ کو حکم فرمایا کہ وہ حضرت عائشہ ؓ کو تنعیم لے کر چلیں حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ انہوں نے مجھے اپنے پیچھے اپنے اونٹ پر بٹھا لیا حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں اپنے دو پٹے کو اپنی گردن سے ہٹاتی تو وہ سواری کے بہانے میرے پاؤں پر مارتے میں نے ان سے کہا کہ کیا تم کسی کو دیکھ رہے ہو؟ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے عمرہ کا احرام باندھا پھر ہم واپس آئے یہاں تک کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس وادی حصبہ میں پہنچ گئے۔

Safiyya bint Shaiba reported that Aisha (Allah be pleased with her) said: Messenger of Allah, lo! the people are returning with two rewards whereas I am returning with one reward. Thereupon he commanded Abdul Rahman bin Abu Bakr (RA) to take her to al-Tanim. She (Aisha) said: He seated me behind him on his camel. She (further) stated: I lifted my head covering and took it off from my neck. He struck my foot as if he was striking the camel. I said to him: Do you find anyone here? She (further) said: I entered into the state of Ihram for Umrah till we reached the Messenger of Allah ﷺ and he was at Hasba.

2936Sahih Muslim

احرام کی اقسام کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو أَخْبَرَهُ عَمْرُو بْنُ أَوْسٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَکْرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يُرْدِفَ عَائِشَةَ فَيُعْمِرَهَا مِنْ التَّنْعِيمِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، سفیان، عمرو، عمرو بن اوس، حضرت عبدالرحمن بن ابی بکرہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے انہیں حکم فرمایا کہ وہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو تنعیم سے عمرہ کروا لائیں

Abdul Rahman bin Abu Bakr (RA) reported that the Apostle of Allah ﷺ ordered him to mount Aisha behind him and enable her to (enter into the state of Ihram for Umrah) at Tanim.

2937Sahih Muslim

احرام کی اقسام کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ جَمِيعًا عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ أَقْبَلْنَا مُهِلِّينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَجٍّ مُفْرَدٍ وَأَقْبَلَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِعُمْرَةٍ حَتَّی إِذَا کُنَّا بِسَرِفَ عَرَکَتْ حَتَّی إِذَا قَدِمْنَا طُفْنَا بِالْکَعْبَةِ وَالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحِلَّ مِنَّا مَنْ لَمْ يَکُنْ مَعَهُ هَدْيٌ قَالَ فَقُلْنَا حِلُّ مَاذَا قَالَ الْحِلُّ کُلُّهُ فَوَاقَعْنَا النِّسَائَ وَتَطَيَّبْنَا بِالطِّيبِ وَلَبِسْنَا ثِيَابَنَا وَلَيْسَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا أَرْبَعُ لَيَالٍ ثُمَّ أَهْلَلْنَا يَوْمَ التَّرْوِيَةِ ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَوَجَدَهَا تَبْکِي فَقَالَ مَا شَأْنُکِ قَالَتْ شَأْنِي أَنِّي قَدْ حِضْتُ وَقَدْ حَلَّ النَّاسُ وَلَمْ أَحْلِلْ وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَالنَّاسُ يَذْهَبُونَ إِلَی الْحَجِّ الْآنَ فَقَالَ إِنَّ هَذَا أَمْرٌ کَتَبَهُ اللَّهُ عَلَی بَنَاتِ آدَمَ فَاغْتَسِلِي ثُمَّ أَهِلِّي بِالْحَجِّ فَفَعَلَتْ وَوَقَفَتْ الْمَوَاقِفَ حَتَّی إِذَا طَهَرَتْ طَافَتْ بِالْکَعْبَةِ وَالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ قَالَ قَدْ حَلَلْتِ مِنْ حَجِّکِ وَعُمْرَتِکِ جَمِيعًا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي أَنِّي لَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ حَتَّی حَجَجْتُ قَالَ فَاذْهَبْ بِهَا يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَأَعْمِرْهَا مِنْ التَّنْعِيمِ وَذَلِکَ لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ

قتیبہ بن سعید، محمد بن رمح، لیث بن سعد، قتیبہ، ابوزبیر، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج افراد کا احرام باندھا اور حضرت عائشہ ؓ عمرہ کا احرام باندھ کر گئیں یہاں تک کہ جب ہم مقام سرف پر پہنچے تو حضرت عائشہ ؓ حیض میں مبتلا ہوگئیں تو جب ہم مکہ آگئے اور ہم نے کعبۃ اللہ کا طواف کیا اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کی تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم فرمایا کہ ہم میں سے جس آدمی کے پاس قربانی کا جانور نہ ہو تو وہ حلال ہوجائے یعنی احرام کھول دے ہم نے عرض کیا کہ حلال ہونے کا کیا مطلب؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ سارا حلال ہوجائے تو ہم اپنی عورتوں سے ہمبستر ہوئے اور ہم نے خوشبو لگائی اور ہم نے سلے ہوئے کپڑے پہنے اور ہمارے اور عرفہ کے درمیان صرف چار راتیں باقی تھیں پھر ہم نے یوم ترویہ یعنی آٹھ ذی الحجہ کے حج کا احرام باندھ لیا پھر رسول اللہ ﷺ حضرت عائشہ ؓ کے پاس گئے تو ان کو روتا ہوا پایا تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا ہوا؟ حضرت عائشہ ؓ نے عرض کیا کہ میں حائضہ ہوگئی ہوں اور لوگ حلال ہوگئے اور میں حلال نہیں ہوئی اور نہ ہی میں نے بیت اللہ کا طواف کیا ہے اور لوگ اب حج کی طرف جا رہے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ ایک ایسا امر ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی بیٹیوں کے لئے لکھ دیا ہے غسل کر پھر حج کا احرام باندھ تو حضرت عائشہ ؓ نے اسی طرح کیا اور تمام ٹھہرنے کی جگہوں پر ٹھہریں یہاں تک کہ جب وہ پاک ہوگئیں تو حضرت عائشہ ؓ نے کعبہ کا طواف کیا اور صفا ومروہ کی سعی کی پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم اپنے حج اور عمرہ سے حلال ہوگئی ہو۔ حضرت عائشہ ؓ نے عرض کی کہ میں اپنے جی میں یہ بات محسوس کرتی ہوں کہ میں نے حج سے پہلے بیت اللہ کا طواف نہیں کیا آپ ﷺ نے فرمایا اے عبدالرحمن عائشہ ؓ کو لے جاؤ اور ان کو تنعیم سے عمرہ کراؤ اور یہ وادی محصب کی رات کی بات ہے۔

Jabir (RA) said: We, in the state of Ihram, came with the Messenger of Allah ﷺ for Hajj Mufrad (with the aim of Hajj only), and Aisha set out for Umrah, and when we reached Sarif, she (Hadrat Aisha) entered in the state of monthly period; we proceeded on till we reached (Makkah) and circumambulated the Ka’bah and ran between (al-Safa) and al-Marwah; and the Messenger of Allah ﷺ commanded that one who amongst us had no sacrificial animal with him should put off Ihram. We said: What does this "Putting off" imply? He said: Getting out completely from the state of Ihram, (so we put off Ihram), and we turned to our wives and applied perfume and put on our clothes, and we were at a four nights distance from Arafa. And we again put on Ihram on the day of Tarwiya (8th of Dhul-Hijja). The Messenger of Allah ﷺ came to Aisha (Allah be pleased with her) and found her weeping, and said: What is the matter with you? She said: The matter is that I have entered in the monthly period, and the people had put off Ihram, but I did not and I did not circumambulate the House, and the people are going for Hajj now (but I cant go), whereupon he said: It is the matter which Allah has ordained for the daughters of Adam, so now take a bath and put on Ihram for Hajj. She (Aisha) did accordingly, and stayed at the places of staying till the monthly period was over. She then circumambulated the House, and (ran between) al-Safa and al-Marwah. He (the Holy Prophet) then said: Now both your Hajj and Umrah are complete, whereupon she said: I feel in my mind that I did not circumambulate the House till I performed Hajj (I missed the circumambulation of Umrah). Thereupon he (Allahs Apostle) ﷺ said: Abdul Rahman, take her to Tanim (so as to enable her) to perform Umrah (separately), and it was the night at Hasba.

2938Sahih Muslim

احرام کی اقسام کے بیان میں

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا وَقَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُا دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَهِيَ تَبْکِي فَذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ إِلَی آخِرِهِ وَلَمْ يَذْکُرْ مَا قَبْلَ هَذَا مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ

محمد بن حاتم، عبد بن حمید، ابن حاتم، عبد، محمد بن بکر، ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ کے پاس اس حال میں تشریف لے گئے کہ وہ رو رہی تھیں پھر اس سے آگے آخر تک اسی طرح حدیث ذکر فرمائی۔

Jabir binAbdullah (RA) is reported to have said that the Apostle of Allah ﷺ came to Aisha (Allah be pleased with her) and she was weeping. The rest of the hadith is the same.

2939Sahih Muslim

احرام کی اقسام کے بیان میں

و حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ مَطَرٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَی حَدِيثِ اللَّيْثِ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ قَالَ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا سَهْلًا إِذَا هَوِيَتْ الشَّيْئَ تَابَعَهَا عَلَيْهِ فَأَرْسَلَهَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ فَأَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ مِنْ التَّنْعِيمِ قَالَ مَطَرٌ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ فَکَانَتْ عَائِشَةُ إِذَا حَجَّتْ صَنَعَتْ کَمَا صَنَعَتْ مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابوغسان مسمعی، معاذ ابن ہشام، مطر، ابی زبیر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے نبی ﷺ کے ساتھ حج وعمرہ کا احرام باندھا پھر اس کے بعد لیث کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور اس حدیث میں یہ زائد ہے راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نرم دل آدمی تھے حضرت عائشہ ؓ جب بھی آپ ﷺ سے کسی چیز کا مطالبہ کرتیں تو آپ ﷺ اسے پورا فرما دیتے آپ ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ کو حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ کے ساتھ بھیجا تو انہوں نے آپ کو تنعیم سے احرام بندھوا کر عمرہ کرایا ایک روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ ؓ جب حج کرتیں تو اسی طرح کرتیں جس طرح انہوں نے نبی ﷺ کے ساتھ حج کیا۔

Jabir bin Abdullah reported that Aisha (Allah be pleased with her) entered into the state of Ihram (separately) for Umrah while the Prophet ﷺ was performing Hajj. The rest of the hadith is the same, but with this addition: The Messenger of Allah ﷺ was a person of gentle disposition, so when she (Aisha) wished for a thing, he accepted it (provided it did not contravene the teachings of Islam). So he (in pursuance of her desire for a separate Ihram for Umrah) sent her with Abdul Rahman bin Abu Bakr (RA) and she put on Ihram for Umrah at al-Tanim. Matar and Abu Zubair (the two narrators amongst the chain of transmitters) said: Whenever Aisha performed Hajj she did as she had done along with Allahs Apostle ﷺ .

2940Sahih Muslim

احرام کی اقسام کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ مَعَنَا النِّسَائُ وَالْوِلْدَانُ فَلَمَّا قَدِمْنَا مَکَّةَ طُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالمَرْوَةِ فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَکُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحْلِلْ قَالَ قُلْنَا أَيُّ الْحِلِّ قَالَ الْحِلُّ کُلُّهُ قَالَ فَأَتَيْنَا النِّسَائَ وَلَبِسْنَا الثِّيَابَ وَمَسِسْنَا الطِّيبَ فَلَمَّا کَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ وَکَفَانَا الطَّوَافُ الْأَوَّلُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَشْتَرِکَ فِي الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ کُلُّ سَبْعَةٍ مِنَّا فِي بَدَنَةٍ

احمد بن یونس، زہیر، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کا احرام باندھے ہوئے تھے جبکہ عورتیں اور بچے بھی ہمارے ساتھ تھے جب ہم مکہ آگئے تو ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کی تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں فرمایا کہ جس آدمی کے پاس ہدی قربانی کا جانور نہ ہو تو وہ حلال ہوجائے راوی کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا کہ حلال کیسے ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ کلی طور پر حلال ہوجاؤ راوی کہتے ہیں کہ پھر ہم نے اپنی عورتوں سے مقاربت کی اور سلے ہوئے کپڑے پہنے اور خوشبو لگائی پھر جب ترویہ کا دن ہوا تو ہم نے حج کا احرام باندھا اور ہمیں صفا مروہ کا پہلا طواف ہی کافی ہوگیا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم فرمایا کہ اونٹ اور گائے کی قربانی میں ہم میں سے سات آدمی شریک ہوجائیں یعنی سات آدمی مل کر ایک اونٹ یا ایک گائے کی قربانی کریں۔

Jabir (RA) said: We went with Allahs Messenger ﷺ in a state of Ihram for the Hajj. There were women and children with us. When we reached Makkah we circumambulated the House and (ran) between al-Safa and al-Marwah. The Messenger of Allah ﷺ said: He who has no sacrificial animal with him should put off Ihram. We said: What kind of putting off? He said: Getting out of Ihram completely. So we came to our wives, and put on our clothes and applied perfume. When it was the day of Tarwiya, we put on Ihram for Hajj. and the first circumambulation and (running) between al-Safa and al-Marwah sufficed us. Allahs Messenger ﷺ commanded us to become seven partners (in the sacrifice) of a camel and a cow.

2941Sahih Muslim

احرام کی اقسام کے بیان میں

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَحْلَلْنَا أَنْ نُحْرِمَ إِذَا تَوَجَّهْنَا إِلَی مِنًی قَالَ فَأَهْلَلْنَا مِنْ الْأَبْطَحِ

محمد بن حاتم، یحییٰ بن سعید، ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ جب ہم حلال ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم فرمایا کہ ہم احرام باندھ کر منیٰ جائیں حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں جبکہ ہم نے ابطح کے مقام سے احرام باندھا۔

Jabir binAbdullah (RA) reported that the Apostle of Allah ﷺ ordered us to put on Ihram (again) as we proceeded towards Mina after we had put it off (i. e. on the 8th of Dhul-Hijja). So we pronounced Talbiya at al-Abtah.

2942Sahih Muslim

احرام کی اقسام کے بیان میں

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُا لَمْ يَطُفْ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَصْحَابُهُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ إِلَّا طَوَافًا وَاحِدًا زَادَ فِي حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ بَکْرٍ طَوَافَهُ الْأَوَّلَ

محمد بن حاتم، یحییٰ بن سعید، ابن جریج، عبد بن حمید، محمد بن بکر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے طواف کیا اور نہ ہی آپ ﷺ نے صفا اور مروہ کے درمیان طواف (سعی) کیا مگر ایک ہی طواف کیا محمد بن بکر کی حدیث میں یہ زائد ہے کہ پہلے والا طواف کیا۔

Jabir binAbdullah (RA) is reported to have said: Neither Allahs Apostle ﷺ nor his Companions circumambulated the Ka’bah and ran between al-Safa and al-Marwah but once (sufficing both for Hajj and Umrah). But in the hadith transmitted by Muhammad bin Bakr there is an addition: "That is first circumambulation."

2943Sahih Muslim

احرام کی اقسام کے بیان میں

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَائٌ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي نَاسٍ مَعِي قَالَ أَهْلَلْنَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ خَالِصًا وَحْدَهُ قَالَ عَطَائٌ قَالَ جَابِرٌ فَقَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُبْحَ رَابِعَةٍ مَضَتْ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ فَأَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ قَالَ عَطَائٌ قَالَ حِلُّوا وَأَصِيبُوا النِّسَائَ قَالَ عَطَائٌ وَلَمْ يَعْزِمْ عَلَيْهِمْ وَلَکِنْ أَحَلَّهُنَّ لَهُمْ فَقُلْنَا لَمَّا لَمْ يَکُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا خَمْسٌ أَمَرَنَا أَنْ نُفْضِيَ إِلَی نِسَائِنَا فَنَأْتِيَ عرَفَةَ تَقْطُرُ مَذَاکِيرُنَا الْمَنِيَّ قَالَ يَقُولُ جَابِرٌ بِيَدِهِ کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی قَوْلِهِ بِيَدِهِ يُحَرِّکُهَا قَالَ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِينَا فَقَالَ قَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي أَتْقَاکُمْ لِلَّهِ وَأَصْدَقُکُمْ وَأَبَرُّکُمْ وَلَوْلَا هَدْيِي لَحَلَلْتُ کَمَا تَحِلُّونَ وَلَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَمْ أَسُقْ الْهَدْيَ فَحِلُّوا فَحَلَلْنَا وَسَمِعْنَا وَأَطَعْنَا قَالَ عَطَائٌ قَالَ جَابِرٌ فَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنْ سِعَايَتِهِ فَقَالَ بِمَ أَهْلَلْتَ قَالَ بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهْدِ وَامْکُثْ حَرَامًا قَالَ وَأَهْدَی لَهُ عَلِيٌّ هَدْيًا فَقَالَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِکِ بْنِ جُعْشُمٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِأَبَدٍ فَقَالَ لِأَبَدٍ

محمد بن حاتم، یحییٰ بن سعید قطان، ابن جریج، عطاء، حضرت جابر فرماتے ہیں کہ ذی الحجہ کی چار تاریخ کی صبح کو نبی ﷺ تشریف لائے اور ہمیں حکم فرمایا کہ ہم حلال ہوجائیں احرام کھول دیں عطاء کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم حلال ہوجاؤ اور اپنی بیویوں کے پاس جاؤ عطاء کہتے ہیں کہ یہ حکم ان پر ضروری نہ تھا لیکن ان کی بیویاں ان کے لئے حلال ہوگئی تھیں ہم نے کہا کہ اب عرفہ میں صرف پانچ دن رہ گئے ہیں اور آپ ﷺ نے ہمیں اپنی بیویوں سے مقاربت کا حکم فرمایا تو کیا ہم اس حال میں عرفہ میں آئیں گے کہ ہم سے مقاربت کے اثرات ظاہر ہو رہے ہوں گے عطاء کہتے ہیں کہ حضرت جابر ؓ یہ کہتے ہوئے اٹھے ہاتھوں کو ہلا رہے تھے راوی کہتے ہیں کہ نبی ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ تم خوب جانتے ہو کہ میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور تم میں سے سب سے زیادہ سچا ہوں اور تم میں سے سب سے زیادہ نیک ہوں اور اگر میں نے ہدی نہ بھیجی ہوتی تو میں بھی حلال ہوجاتا جیسا کہ تم حلال ہوئے ہو۔ اور اگر میں اس معاملہ کی طرف پہلے متوجہ ہوجاتا جس طرف بعد میں متوجہ ہوا تو میں ہدی ہی نہ بھیجتا اب تم حلال ہوجاؤ تو ہم نے اطاعت کی عطاء کہتے ہیں کہ حضرت جابر ؓ نے فرمایا کہ حضرت علی صدقات وغیرہ وصول کر کے آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو نے احرام باندھا تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا کہ اپنی ہدی بھیج دو اور احرام کی حالت میں ٹھہرے رہو راوی کہتے ہیں کہ حضرت علی ؓ آپ ﷺ کے لئے ہدی لائے سراقہ بن مالک بن جعثم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! کیا یہ حکم صرف اس سال کے لئے ہے یا ہمیشہ کے لئے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہمیشہ کے لئے۔

Atareported: I, along with some people, heard Jabir bin Abdullah saying: We, the Companions of Muhammad ﷺ put on Ihram for Hajj only. Ata further said that Jabir stated: Allahs Apostle ﷺ came on the 4th of Dhul-Hijja and he commanded us to put off Ihram. Atasaid that he (Allahs Apostle) ﷺ commanded them to put off Ihram and to go to their wives (for intercourse). Ata said: It was not obligatory for them, but (intercourse) with them had become permissible. We said: When only five days had been left to reach Arafa, he (the Holy Prophet) commanded us to have intercourse with our wives. And we reached Arafa in a state as if we had just intercoursed (with tbem). He (Ata) said: Jabir pointed with his hand and I (perceive) as if I am seeing his hand as it moved. In the (meantime) the Apostle of Allah ﷺ stood amongst us and said: You are well aware that I am the most God-fearing, most truthful and most pious amongst you. And if there were not sacrificial animals with me, I would also have put off Ihram as you have put off. And if I were to know this matter of mine what I have come to know later on. I would not have brought sacrificial animals with me. So they (the Companions) put off Ihram and we also put off and listened to (the Holy Prophet) and obeyed (his command). Jabir said: All came with the revenue of the taxes (from Yemen). He (the Holy Prophet) said: For what (purpose) have you entered into the state of Ihram (whether you entered into the state purely for Hajj and Umrah jointly or Hajj and Umrah separately)? He said: For the purpose for which the Apostle of Allah ﷺ had entered. (The Holy Prophet ﷺ had entered as a Qiran, i. e. Ihram covering both Umrah and Hajj simultaneously.) Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: Offer a sacrifice of animal, and retain Ihram. And Ali brought a sacrificial animal for him (for the Holy Prophet). Suraqa bin Malik bin Jushum said: Messenger of Allah, is it (this concession putting off Ihram of Hajj or Umrah) meant for this year or is it for ever?. He said: It is for ever.

2944Sahih Muslim

احرام کی اقسام کے بیان میں

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَهْلَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ فَلَمَّا قَدِمْنَا مَکَّةَ أَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ وَنَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَکَبُرَ ذَلِکَ عَلَيْنَا وَضَاقَتْ بِهِ صُدُورُنَا فَبَلَغَ ذَلِکَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا نَدْرِي أَشَيْئٌ بَلَغَهُ مِنْ السَّمَائِ أَمْ شَيْئٌ مِنْ قِبَلِ النَّاسِ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ أَحِلُّوا فَلَوْلَا الْهَدْيُ الَّذِي مَعِي فَعَلْتُ کَمَا فَعَلْتُمْ قَالَ فَأَحْلَلْنَا حَتَّی وَطِئْنَا النِّسَائَ وَفَعَلْنَا مَا يَفْعَلُ الْحَلَالُ حَتَّی إِذَا کَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ وَجَعَلْنَا مَکَّةَ بِظَهْرٍ أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ

ابن نمیر، عبدالملک بن ابی سلیمان، عطاء، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہم نے حج کا احرام باندھا تو جب ہم مکہ میں آگئے تو آپ ﷺ نے ہمیں حکم فرمایا کہ ہم حلال ہوجائیں اور اس احرام کو عمرہ کے احرام میں بدل لیں تو یہ بات ہم کو دشوار لگی اور ہم نے اپنے سینوں میں تنگی محسوس کی یہ بات نبی ﷺ تک پہنچ گئی ہم نہیں جانتے کہ آپ ﷺ تک یہ بات کیسے پہنچی؟ آسمان سے یا لوگوں میں سے کسی نے آپ ﷺ تک یہ بات پہنچائی تو آپ ﷺ نے فرمایا اے لوگو! تم حلال ہوجاؤ احرام کھول دو اور اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں بھی اسی طرح کرتا جس طرح کہ تم نے کیا راوی کہتے ہیں کہ پھر ہم نے احرام کھول دیا اور ہم نے اپنی بیویوں سے جماع کیا اور وہ سارے کام کئے جو ایک حلال کرتا ہے یہاں تک کہ جب ترویہ کا دن آیا یعنی ذی الحجہ کی آٹھ تاریخ ہوئی تو ہم نے مکہ سے پشت پھیری اور ہم نے حج کا احرام باندھا۔

Jabir bin Abdullah (RA) reported: We entered with the Messenger of Allah ﷺ in the state of Ihram for Hajj. When we came to Makkah he commanded us to put off Ihram and make it for Umrah. We felt it (the command) hard for us, and our hearts were anguished on account of this and it (this reaction of the people) reached the Apostle of Allah ﷺ . We do not know whether he received (this news) from the Heaven (through revelation) or from the people. (Whatever the case might be) he said; O people, put off Ihram. If there were not the sacrificial animals with me, I would have done as you do. So we put off the Ihram (after performing Umrah), and we had intercourse with our wives and did everything which a non-Muhrim does (applying perfume, putting on clothes, etc.), and when it was the day of Tarwiya (8th of Dhul-Hijja) we turned our back to Makkah (in order to go to Mina, Arafat) and we put on Ihram for Hajj.

2945Sahih Muslim

احرام کی اقسام کے بیان میں

و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ نَافِعٍ قَالَ قَدِمْتُ مَکَّةَ مُتَمَتِّعًا بِعُمْرَةٍ قَبْلَ التَّرْوِيَةِ بِأَرْبَعَةِ أَيَّامٍ فَقَالَ النَّاسُ تَصِيرُ حَجَّتُکَ الْآنَ مَکِّيَّةً فَدَخَلْتُ عَلَی عَطَائِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ فَاسْتَفْتَيْتُهُ فَقَالَ عَطَائٌ حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ حَجَّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ سَاقَ الْهَدْيَ مَعَهُ وَقَدْ أَهَلُّوا بِالْحَجِّ مُفْرَدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحِلُّوا مِنْ إِحْرَامِکُمْ فَطُوفُوا بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَقَصِّرُوا وَأَقِيمُوا حَلَالًا حَتَّی إِذَا کَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ فَأَهِلُّوا بِالْحَجِّ وَاجْعَلُوا الَّتِي قَدِمْتُمْ بِهَا مُتْعَةً قَالُوا کَيْفَ نَجْعَلُهَا مُتْعَةً وَقَدْ سَمَّيْنَا الْحَجَّ قَالَ افْعَلُوا مَا آمُرُکُمْ بِهِ فَإِنِّي لَوْلَا أَنِّي سُقْتُ الْهَدْيَ لَفَعَلْتُ مِثْلَ الَّذِي أَمَرْتُکُمْ بِهِ وَلَکِنْ لَا يَحِلُّ مِنِّي حَرَامٌ حَتَّی يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ فَفَعَلُوا

ابن نمیر، ابونعیم، حضرت موسیٰ بن نافع کہتے ہیں کہ میں عمرہ کے احرام سے تمتع کا احرام کر کے ذی الحجہ کی آٹھ یوم ترویہ سے چار دن پہلے مکہ آگیا تو لوگوں نے کہا کہ اب تمہارا حج مکہ والوں کے حج کی طرح ہوجائے گا میں عطاء بن ابی رباح کے پاس گیا اور ان سے اس بارے میں پوچھا تو عطاء نے کہا کہ مجھے حضرت جابر بن عبداللہ انصاری ؓ نے یہ حدیث بیان کی کہ انہوں نے جس سال رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کیا تھا اسی سال آپ ﷺ کی ہدی آپ ﷺ کے ساتھ تھی اور کچھ صحابہ نے حج افراد کا احرام باندھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم ایسے احرام سے حلال ہوجاؤ اور تم بیت اللہ کا طواف کرو اور صفا مروہ کے درمیان سعی کرو اور بال کٹواؤ اور حلال ہو کر رہو یہاں تک کہ جب ترویہ کا دن آٹھ ذی الحجہ ہوگا تو تم حج کا احرام باندھ لینا اور اپنے پہلے والے احرام کو تمتع کرلو لوگوں نے عرض کیا کہ ہم اسے تمتع کیسے کریں اور ہم نے تو حج کی نیت کی تھی آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس کا میں تمہیں حکم دے رہا ہوں اور میں اپنے احرام سے اس وقت تک حلال نہیں ہوسکتا جب تک کہ ہدی اپنی جگہ نہ پہنچ جائے تب انہوں نے اسی طرح کرلیا۔

Musa bin Nafi reported: I came to Makkah as a Mutamatti for Umrah (performing Umrah first and then putting off Ihram and again entering into the state of Ihram for Hajj) four days before the day of Tarwiya (i. e. on the 4th of Dhul-Hijja). Thereupon the people said: Now yours is the Hajj of the Makkahns. I went to Ata bin Abi Rabah and asked his religious verdict. Ata said: Jabir bin Abdullah alAns-ari (RA) narrated to me that he peirforfned Hajj with the Messenger of Allah ﷺ in the year when he took sacrificial animals with him (i. e. during the 10th year of Hijra known as the Farewell Pilgrimage) and they had put on Ihram for Hajj only (as Mufrid). The Messenger of Allah ﷺ said: Put off Ihram and circumambulate the House, and (run) between al-Safa and al-Marwah and get your hair cut and stay as non-Muhrims. When it was the day of Tarwiya, then put on Ihram for Hajj and make Ihram for Muta (you had put on Ihram for Hajj, but take it off after performing Umrah and then again put on Ihram for Hajj). They said: How should we make it Muta although we entered upon Ihram in the name of Hajj? He said: Do whatever I command you to do. Had I not brought sacrificial animals with me, I would have done as I have commanded you to do. But it is not permissible for me to put off Ihram till the sacrifice is offered. Then they also did accordingly.

2946Sahih Muslim

احرام کی اقسام کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْقَيْسِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَجْعَلَهَا عُمْرَةً وَنَحِلَّ قَالَ وَکَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً

محمد بن معمر بن ربعی قیسی، ابوہشام مغیرہ، ابن سلمہ مخزومی، ابی عوانہ، ابی بشر، عطاء بن ابی رباح، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کا احرام باندھے ہوئے آئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہم اس حج کے احرام کو عمرہ کا احرام کردیں اور ہم حلال ہوجائیں عمرہ کرکے احرام کھولتے ہیں راوی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ کے ساتھ قربانی کا جانور تھا اس لئے آپ ﷺ اپنے اس حج کے احرام کو عمرہ کا احرام نہ کرسکے۔

Jabir bin Abdullah (RA) reported: We set out with Allahs Messenger ﷺ as Muhrim for Hajj. The Messenger of Allah ﷺ commanded us to make this Ihram for Umrah, and some put it off (after performing Umrah), but the Prophet ﷺ had sacrificial animals with him, so he could not make it (this Ihram) as that of Umrah.

2947Sahih Muslim

حج اور عمرہ میں تمتع کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ کَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَأْمُرُ بِالْمُتْعَةِ وَکَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَنْهَی عَنْهَا قَالَ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ عَلَی يَدَيَّ دَارَ الْحَدِيثُ تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قَامَ عُمَرُ قَالَ إِنَّ اللَّهَ کَانَ يُحِلُّ لِرَسُولِهِ مَا شَائَ بِمَا شَائَ وَإِنَّ الْقُرْآنَ قَدْ نَزَلَ مَنَازِلَهُ فَ أَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ کَمَا أَمَرَکُمْ اللَّهُ وَأَبِتُّوا نِکَاحَ هَذِهِ النِّسَائِ فَلَنْ أُوتَی بِرَجُلٍ نَکَحَ امْرَأَةً إِلَی أَجَلٍ إِلَّا رَجَمْتُهُ بِالْحِجَارَةِ

محمد بن مثنی، ابن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، حضرت ابونضرہ ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا کہ حضرت ابن عباس ؓ ہمیں حج تمتع کرنے کا حکم فرماتے تھے اور حضرت ابن زیبر حج تمتع سے منع فرماتے تھے راوی کہتے ہیں کہ میں نے اس کا ذکر حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ حدیث تو میرے ہی ہاتھوں سے لوگوں میں پھیلی ہے ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج تمتع کیا ہے تو جب حضرت عمر ؓ کھڑے ہوئے خلیفہ بنے تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کے لئے جو چاہتا ہے جس طرح چاہتا ہے حلال کرتا ہے اور قرآن مجید نے اس کے احکام نازل فرمائے ہیں کہ تم حج اور عمرہ پورا کرو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے اور ان عورتوں سے نکاح کرو تو کوئی آدمی ایسا نہ لایا جائے جس نے ایک عورت سے مقررہ مدت تک نکاح کیا ہو (متعہ) ورنہ میں پتھروں کے ساتھ مار مار کر اس کو رجم کر دوں گا۔

Abu Nadra reported: IbnAbbas commanded the performance of Tamattu putting Ihram for Umrah during the montnhs of DhuI-Hijja and after completing it, then putting on Ihram for Hajj), but Ibn Zubair forbade to do it. I made a mention of it to Jabir binAbdullah (RA) and he said: It is through me that this hadith has been circulated. We entered into the state of Ihram as Tamattu with the Messenger of Allah ﷺ . When Umar was installed as Caliph, he said: Verily Allah made permissible for His Messenger ﷺ whatever He liked and as He liked. And (every command) of the Holy Quran has been revealed for every occasion. So accomplish Hajj and Umrah for Allah as Allah has commanded you; and confirm by (proper conditions) the marriage of those women (with whom you have performed Muta). And any person would come to me with a marriage of appointed duration (Muta), I would stone him (to death).

2948Sahih Muslim

حج اور عمرہ میں تمتع کے بیان میں

و حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ فَافْصِلُوا حَجَّکُمْ مِنْ عُمْرَتِکُمْ فَإِنَّهُ أَتَمُّ لِحَجِّکُمْ وَأَتَمُّ لِعُمْرَتِکُمْ

زہیر بن حرب، عفان، ہمام، قتادہ، حضرت قتادہ ؓ نے اس سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی ہے جس میں ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ تم اپنے حج کو اپنے عمرہ سے علیحدہ کرو کیونکہ اس سے تمہارا حج بھی پورا ہوجائے گا اور تمہارا عمرہ بھی پورا ہوگا۔

Qatada narrated this hadith with the same chain of transmitters saying: (That Umar also said): Separate your Hajj from Umrah, for that is the most complete Hajj, and complete your Umrah.

2949Sahih Muslim

حج اور عمرہ میں تمتع کے بیان میں

و حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ وَأَبُو الرَّبِيعِ وَقُتَيْبَةُ جَمِيعًا عَنْ حَمَّادٍ قَالَ خَلَفٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ قَالَ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَقُولُ لَبَّيْکَ بِالْحَجِّ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَجْعَلَهَا عُمْرَةً

خلف بن ہشام، ابوربیع، قتیبہ، حماد، حماد بن زید، ایوب، مجاہد، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آئے اس حال میں کہ ہم حج کا تلبیہ پڑھ رہے تھے حج کا احرام باندھا ہوا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم فرمایا کہ ہم اس حج کے احرام کو عمرہ کا احرام کردیں۔

Jabir bin Abdullah (RA) reported: We came with the Messenger of Allah ﷺ (May peace be upon him) pronouncing Talbiya for Hajj, and the Messenger of Allah ﷺ (May peace be upon him) commanded us to make (our Ihram) into that of Umrah.

2950Sahih Muslim

نبی ﷺ کے حج کی کیفیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ حَاتِمٍ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَعِيلَ الْمَدَنِيُّ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ دَخَلْنَا عَلَی جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فَسَأَلَ عَنْ الْقَوْمِ حَتَّی انْتَهَی إِلَيَّ فَقُلْتُ أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ فَأَهْوَی بِيَدِهِ إِلَی رَأْسِي فَنَزَعَ زِرِّي الْأَعْلَی ثُمَّ نَزَعَ زِرِّي الْأَسْفَلَ ثُمَّ وَضَعَ کَفَّهُ بَيْنَ ثَدْيَيَّ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ شَابٌّ فَقَالَ مَرْحَبًا بِکَ يَا ابْنَ أَخِي سَلْ عَمَّا شِئْتَ فَسَأَلْتُهُ وَهُوَ أَعْمَی وَحَضَرَ وَقْتُ الصَّلَاةِ فَقَامَ فِي نِسَاجَةٍ مُلْتَحِفًا بِهَا کُلَّمَا وَضَعَهَا عَلَی مَنْکِبِهِ رَجَعَ طَرَفَاهَا إِلَيْهِ مِنْ صِغَرِهَا وَرِدَاؤُهُ إِلَی جَنْبِهِ عَلَی الْمِشْجَبِ فَصَلَّی بِنَا فَقُلْتُ أَخْبِرْنِي عَنْ حَجَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بِيَدِهِ فَعَقَدَ تِسْعًا فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَکَثَ تِسْعَ سِنِينَ لَمْ يَحُجَّ ثُمَّ أَذَّنَ فِي النَّاسِ فِي الْعَاشِرَةِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجٌّ فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ بَشَرٌ کَثِيرٌ کُلُّهُمْ يَلْتَمِسُ أَنْ يَأْتَمَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَعْمَلَ مِثْلَ عَمَلِهِ فَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّی أَتَيْنَا ذَا الْحُلَيْفَةِ فَوَلَدَتْ أَسْمَائُ بِنْتُ عُمَيْسٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَکْرٍ فَأَرْسَلَتْ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَيْفَ أَصْنَعُ قَالَ اغْتَسِلِي وَاسْتَثْفِرِي بِثَوْبٍ وَأَحْرِمِي فَصَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ رَکِبَ الْقَصْوَائَ حَتَّی إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ عَلَی الْبَيْدَائِ نَظَرْتُ إِلَی مَدِّ بَصَرِي بَيْنَ يَدَيْهِ مِنْ رَاکِبٍ وَمَاشٍ وَعَنْ يَمِينِهِ مِثْلَ ذَلِکَ وَعَنْ يَسَارِهِ مِثْلَ ذَلِکَ وَمِنْ خَلْفِهِ مِثْلَ ذَلِکَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا وَعَلَيْهِ يَنْزِلُ الْقُرْآنُ وَهُوَ يَعْرِفُ تَأْوِيلَهُ وَمَا عَمِلَ بِهِ مِنْ شَيْئٍ عَمِلْنَا بِهِ فَأَهَلَّ بِالتَّوْحِيدِ لَبَّيْکَ اللَّهُمَّ لَبَّيْکَ لَبَّيْکَ لَا شَرِيکَ لَکَ لَبَّيْکَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِيکَ لَکَ وَأَهَلَّ النَّاسُ بِهَذَا الَّذِي يُهِلُّونَ بِهِ فَلَمْ يَرُدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ شَيْئًا مِنْهُ وَلَزِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلْبِيَتَهُ قَالَ جَابِرٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَسْنَا نَنْوِي إِلَّا الْحَجَّ لَسْنَا نَعْرِفُ الْعُمْرَةَ حَتَّی إِذَا أَتَيْنَا الْبَيْتَ مَعَهُ اسْتَلَمَ الرُّکْنَ فَرَمَلَ ثَلَاثًا وَمَشَی أَرْبَعًا ثُمَّ نَفَذَ إِلَی مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَرَأَ وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّی فَجَعَلَ الْمَقَامَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ فَکَانَ أَبِي يَقُولُ وَلَا أَعْلَمُهُ ذَکَرَهُ إِلَّا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّکْعَتَيْنِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْکَافِرُونَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَی الرُّکْنِ فَاسْتَلَمَهُ ثُمَّ خَرَجَ مِنْ الْبَابِ إِلَی الصَّفَا فَلَمَّا دَنَا مِنْ الصَّفَا قَرَأَ إِنَّ الصَّفَا والْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ أَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ فَبَدَأَ بِالصَّفَا فَرَقِيَ عَلَيْهِ حَتَّی رَأَی الْبَيْتَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَوَحَّدَ اللَّهَ وَکَبَّرَهُ وَقَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَيْئٍ قَدِيرٌ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ أَنْجَزَ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ ثُمَّ دَعَا بَيْنَ ذَلِکَ قَالَ مِثْلَ هَذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ نَزَلَ إِلَی الْمَرْوَةِ حَتَّی إِذَا انْصَبَّتْ قَدَمَاهُ فِي بَطْنِ الْوَادِي سَعَی حَتَّی إِذَا صَعِدَتَا مَشَی حَتَّی أَتَی الْمَرْوَةَ فَفَعَلَ عَلَی الْمَرْوَةِ کَمَا فَعَلَ عَلَی الصَّفَا حَتَّی إِذَا کَانَ آخِرُ طَوَافِهِ عَلَی الْمَرْوَةِ فَقَالَ لَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَمْ أَسُقْ الْهَدْيَ وَجَعَلْتُهَا عُمْرَةً فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ لَيْسَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحِلَّ وَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً فَقَامَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِکِ بْنِ جُعْشُمٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِأَبَدٍ فَشَبَّکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَهُ وَاحِدَةً فِي الْأُخْرَی وَقَالَ دَخَلَتْ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ مَرَّتَيْنِ لَا بَلْ لِأَبَدٍ أَبَدٍ وَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنْ الْيَمَنِ بِبُدْنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مِمَّنْ حَلَّ وَلَبِسَتْ ثِيَابًا صَبِيغًا وَاکْتَحَلَتْ فَأَنْکَرَ ذَلِکَ عَلَيْهَا فَقَالَتْ إِنَّ أَبِي أَمَرَنِي بِهَذَا قَالَ فَکَانَ عَلِيٌّ يَقُولُ بِالْعِرَاقِ فَذَهَبْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحَرِّشًا عَلَی فَاطِمَةَ لِلَّذِي صَنَعَتْ مُسْتَفْتِيًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا ذَکَرَتْ عَنْهُ فَأَخْبَرْتُهُ أَنِّي أَنْکَرْتُ ذَلِکَ عَلَيْهَا فَقَالَ صَدَقَتْ صَدَقَتْ مَاذَا قُلْتَ حِينَ فَرَضْتَ الْحَجَّ قَالَ قُلْتُ اللَّهُمَّ إِنِّي أُهِلُّ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُکَ قَالَ فَإِنَّ مَعِيَ الْهَدْيَ فَلَا تَحِلُّ قَالَ فَکَانَ جَمَاعَةُ الْهَدْيِ الَّذِي قَدِمَ بِهِ عَلِيٌّ مِنْ الْيَمَنِ وَالَّذِي أَتَی بِهِ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةً قَالَ فَحَلَّ النَّاسُ کُلُّهُمْ وَقَصَّرُوا إِلَّا النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ کَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلَمَّا کَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ تَوَجَّهُوا إِلَی مِنًی فَأَهَلُّوا بِالْحَجِّ وَرَکِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّی بِهَا الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ وَالْفَجْرَ ثُمَّ مَکَثَ قَلِيلًا حَتَّی طَلَعَتْ الشَّمْسُ وَأَمَرَ بِقُبَّةٍ مِنْ شَعَرٍ تُضْرَبُ لَهُ بِنَمِرَةَ فَسَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَشُکُّ قُرَيْشٌ إِلَّا أَنَّهُ وَاقِفٌ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ کَمَا کَانَتْ قُرَيْشٌ تَصْنَعُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأَجَازَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی أَتَی عَرَفَةَ فَوَجَدَ الْقُبَّةَ قَدْ ضُرِبَتْ لَهُ بِنَمِرَةَ فَنَزَلَ بِهَا حَتَّی إِذَا زَاغَتْ الشَّمْسُ أَمَرَ بِالْقَصْوَائِ فَرُحِلَتْ لَهُ فَأَتَی بَطْنَ الْوَادِي فَخَطَبَ النَّاسَ وَقَالَ إِنَّ دِمَائَکُمْ وَأَمْوَالَکُمْ حَرَامٌ عَلَيْکُمْ کَحُرْمَةِ يَوْمِکُمْ هَذَا فِي شَهْرِکُمْ هَذَا فِي بَلَدِکُمْ هَذَا أَلَا کُلُّ شَيْئٍ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ تَحْتَ قَدَمَيَّ مَوْضُوعٌ وَدِمَائُ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعَةٌ وَإِنَّ أَوَّلَ دَمٍ أَضَعُ مِنْ دِمَائِنَا دَمُ ابْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ کَانَ مُسْتَرْضِعًا فِي بَنِي سَعْدٍ فَقَتَلَتْهُ هُذَيْلٌ وَرِبَا الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ وَأَوَّلُ رِبًا أَضَعُ رِبَانَا رِبَا عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَإِنَّهُ مَوْضُوعٌ کُلُّهُ فَاتَّقُوا اللَّهَ فِي النِّسَائِ فَإِنَّکُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانِ اللَّهِ وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِکَلِمَةِ اللَّهِ وَلَکُمْ عَلَيْهِنَّ أَنْ لَا يُوطِئْنَ فُرُشَکُمْ أَحَدًا تَکْرَهُونَهُ فَإِنْ فَعَلْنَ ذَلِکَ فَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ وَلَهُنَّ عَلَيْکُمْ رِزْقُهُنَّ وَکِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَقَدْ تَرَکْتُ فِيکُمْ مَا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ إِنْ اعْتَصَمْتُمْ بِهِ کِتَابُ اللَّهِ وَأَنْتُمْ تُسْأَلُونَ عَنِّي فَمَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ قَالُوا نَشْهَدُ أَنَّکَ قَدْ بَلَّغْتَ وَأَدَّيْتَ وَنَصَحْتَ فَقَالَ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ يَرْفَعُهَا إِلَی السَّمَائِ وَيَنْکُتُهَا إِلَی النَّاسِ اللَّهُمَّ اشْهَدْ اللَّهُمَّ اشْهَدْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَذَّنَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّی الظُّهْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّی الْعَصْرَ وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا ثُمَّ رَکِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی أَتَی الْمَوْقِفَ فَجَعَلَ بَطْنَ نَاقَتِهِ الْقَصْوَائِ إِلَی الصَّخَرَاتِ وَجَعَلَ حَبْلَ الْمُشَاةِ بَيْنَ يَدَيْهِ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفًا حَتَّی غَرَبَتْ الشَّمْسُ وَذَهَبَتْ الصُّفْرَةُ قَلِيلًا حَتَّی غَابَ الْقُرْصُ وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ خَلْفَهُ وَدَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ شَنَقَ لِلْقَصْوَائِ الزِّمَامَ حَتَّی إِنَّ رَأْسَهَا لَيُصِيبُ مَوْرِکَ رَحْلِهِ وَيَقُولُ بِيَدِهِ الْيُمْنَی أَيُّهَا النَّاسُ السَّکِينَةَ السَّکِينَةَ کُلَّمَا أَتَی حَبْلًا مِنْ الْحِبَالِ أَرْخَی لَهَا قَلِيلًا حَتَّی تَصْعَدَ حَتَّی أَتَی الْمُزْدَلِفَةَ فَصَلَّی بِهَا الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ بِأَذَانٍ وَاحِدٍ وَإِقَامَتَيْنِ وَلَمْ يُسَبِّحْ بَيْنَهُمَا شَيْئًا ثُمَّ اضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی طَلَعَ الْفَجْرُ وَصَلَّی الْفَجْرَ حِينَ تَبَيَّنَ لَهُ الصُّبْحُ بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ ثُمَّ رَکِبَ الْقَصْوَائَ حَتَّی أَتَی الْمَشْعَرَ الْحَرَامَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَدَعَاهُ وَکَبَّرَهُ وَهَلَّلَهُ وَوَحَّدَهُ فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفًا حَتَّی أَسْفَرَ جِدًّا فَدَفَعَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ وَکَانَ رَجُلًا حَسَنَ الشَّعْرِ أَبْيَضَ وَسِيمًا فَلَمَّا دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتْ بِهِ ظُعُنٌ يَجْرِينَ فَطَفِقَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهِنَّ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَی وَجْهِ الْفَضْلِ فَحَوَّلَ الْفَضْلُ وَجْهَهُ إِلَی الشِّقِّ الْآخَرِ يَنْظُرُ فَحَوَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ مِنْ الشِّقِّ الْآخَرِ عَلَی وَجْهِ الْفَضْلِ يَصْرِفُ وَجْهَهُ مِنْ الشِّقِّ الْآخَرِ يَنْظُرُ حَتَّی أَتَی بَطْنَ مُحَسِّرٍ فَحَرَّکَ قَلِيلًا ثُمَّ سَلَکَ الطَّرِيقَ الْوُسْطَی الَّتِي تَخْرُجُ عَلَی الْجَمْرَةِ الْکُبْرَی حَتَّی أَتَی الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الشَّجَرَةِ فَرَمَاهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُکَبِّرُ مَعَ کُلِّ حَصَاةٍ مِنْهَا مِثْلِ حَصَی الْخَذْفِ رَمَی مِنْ بَطْنِ الْوَادِي ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَی الْمَنْحَرِ فَنَحَرَ ثَلَاثًا وَسِتِّينَ بِيَدِهِ ثُمَّ أَعْطَی عَلِيًّا فَنَحَرَ مَا غَبَرَ وَأَشْرَکَهُ فِي هَدْيِهِ ثُمَّ أَمَرَ مِنْ کُلِّ بَدَنَةٍ بِبَضْعَةٍ فَجُعِلَتْ فِي قِدْرٍ فَطُبِخَتْ فَأَکَلَا مِنْ لَحْمِهَا وَشَرِبَا مِنْ مَرَقِهَا ثُمَّ رَکِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَفَاضَ إِلَی الْبَيْتِ فَصَلَّی بِمَکَّةَ الظُّهْرَ فَأَتَی بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَسْقُونَ عَلَی زَمْزَمَ فَقَالَ انْزِعُوا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَلَوْلَا أَنْ يَغْلِبَکُمْ النَّاسُ عَلَی سِقَايَتِکُمْ لَنَزَعْتُ مَعَکُمْ فَنَاوَلُوهُ دَلْوًا فَشَرِبَ مِنْهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، حاتم، ابوبکر، حاتم بن اسماعیل مدنی، حضرت جعفر بن محمد ؓ نے اپنے باپ سے روایت نقل کی ہے فرماتے ہیں کہ ہم حضرت جابر بن عبداللہ ؓ کے پاس گئے تو انہوں نے ہم لوگوں کے بارے میں پوچھا یہاں تک کہ میری طرف متوجہ ہوئے میرے بارے میں پوچھا تو میں نے عرض کیا کہ میں محمد بن علی بن حسین ؓ ہوں تو حضرت جابر ؓ نے اپنا ہاتھ میرے سر پر رکھا اور انہوں نے میری قمیص کا سب سے اوپر والا بٹن کھولا پھر نیچے والا بٹن کھولا پھر حضرت جابر ؓ نے اپنی ہتھیلی میرے سینے کے درمیان میں رکھی اور میں ان دنوں ایک نوجوان لڑکا تھا تو حضرت جابر ؓ نے فرمایا اے میرے بھتیجے خوش آمدید جو چاہے تو مجھ سے پوچھ تو میں نے حضرت جابر ؓ سے پوچھا اور حضرت جابر نابینا ہوچکے تھے اور نماز کا وقت بھی آگیا تو حضرت جابر ؓ ایک چادر اوڑھے ہوئے کھڑے ہوگئے جب بھی اپنی اس چادر کے دونوں کناروں کو اپنے کندھوں پر رکھتے تو چادر چھوٹی ہونے کی وجہ سے دو کنارے نیچے گرجاتے اور ان کے بائیں طرف ایک کھونٹی کے ساتھ ایک چادر لٹکی ہوئی تھی حضرت جابر ؓ نے ہمیں نماز پڑھائی پھر میں نے عرض کیا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کے حج کے بارے میں خبر دیں پھر انہوں نے اپنے ہاتھ سے نو کا اشارہ کیا اور فرمانے لگے کہ نبی ﷺ نو سال تک مدینہ میں رہے اور آپ ﷺ نے حج نہیں فرمایا پھر دسویں سال لوگوں میں اعلان کیا گیا کہ رسول اللہ ﷺ حج کرنے والے ہیں چناچہ مدینہ منورہ سے بہت لوگ آگئے اور وہ سارے کے سارے اس بات کے متلاشی تھے کہ آپ ﷺ کے ساتھ حج کے لئے جائیں تاکہ وہ آپ ﷺ کے اعمال حج کی طرح اعمال کریں۔ ہم آپ ﷺ کے ساتھ نکلے جب ہم ذوالحلیفہ آئے تو حضرت اسماء بنت عمیس ؓ کے ہاں محمد بن ابی بکر کی پیدائش ہوئی حضرت اسماء ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ میں اب کیا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم غسل کرو اور ایک کپڑے کا لنگوٹ باندھ کر اپنا احرام باندھ لو تو رسول اللہ ﷺ نے مسجد میں نماز پڑھی پھر قصویٰ اونٹنی پر سوار ہوئے یہاں تک کہ جب آپ ﷺ کی اونٹنی بیداء کے مقام پر سیدھی کھڑی ہوگئی تو میں نے انتہائی نظر تک اپنے سامنے دیکھا تو مجھے سواری پر اور پیدل چلتے ہوئے لوگ نظر آئے اور میرے دائیں بائیں اور پیدل چلتے ہوئے لوگوں کا ہجوم تھا اور رسول اللہ ﷺ ہمارے ساتھ تھے اور آپ ﷺ پر قرآن نازل ہوتا تھا جس کی مراد آپ ﷺ ہی زیادہ جانتے تھے اور آپ ﷺ جو عمل کرتے تھے تو ہم بھی وہی عمل کرتے تھے اور آپ ﷺ نے توحید کے ساتھ تلبیہ کے کلمات پر اضافہ پڑھا ( لَبَّيْکَ اللَّهُمَّ لَبَّيْکَ لَبَّيْکَ لَا شَرِيکَ لَکَ لَبَّيْکَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِيکَ لَکَ ) اور لوگوں نے بھی اسی طرح پڑھا اور رسول اللہ ﷺ نے ان تلبیہ کے کلمات پر اضافہ نہیں فرمایا اور رسول اللہ ﷺ یہی تلبیہ کے کلمات پڑھتے رہے حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے صرف حج کی نیت کی تھی اور ہم عمرہ کو نہیں پہچانتے تھے یہاں تک کہ جب ہم بیت اللہ آئے تو آپ ﷺ نے حجر اسود کا استلام فرمایا اور طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل کیا اور باقی چار چکروں میں عام چال چلے پھر آپ ﷺ مقام ابراہیم کی طرف آئے اور آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی (وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّی) 2۔ البقرۃ: 125) اور تم بناؤ مقام ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ، پھر آپ ﷺ نے مقام ابراہیم کو اپنے اور بیت اللہ کے درمیان کیا آپ ﷺ نے دو رکعت نماز پڑھائی اور ان دو رکعتوں میں آپ ﷺ نے ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اور قُلْ يَا أَيُّهَا الْکَافِرُونَ ) پڑھی پھر آپ ﷺ حجر اسود کی طرف آئے اور اس کا استلام کیا پھر آپ ﷺ دروازہ سے صفا کی طرف نکلے تو جب آپ ﷺ صفا کے قریب ہوگئے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں وہاں سے شروع کروں گا جہاں سے اللہ نے شروع کیا ہے پھر آپ ﷺ نے صفا سے آغاز فرمایا اور صفا پر چڑھے آپ ﷺ نے بیت اللہ کو دیکھا اور قبلہ کی طرف رخ کیا اور اللہ کی توحید اور اس کی بڑائی بیان کی اور فرمایا اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کی ملک ہے اور اسی کے لئے ساری تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے اللہ کے سوا کوئی مبعود نہیں وہ اکیلا ہے اس نے اپنا وعدہ پورا کیا اور اپنے بندے کی مدد کی اور اس نے اکیلے سارے لشکروں کو شکست دی پھر آپ ﷺ نے دعا کی اور تین مرتبہ اسی طرح فرمایا پھر آپ ﷺ مروہ کی طرف اترے یہاں تک کہ جب آپ ﷺ کے قدم مبارک بطن وادی میں پہنچے تو آپ ﷺ دوڑے یہاں تک کہ ہم بھی چڑھ گئے اور پھر آہستہ چلے یہاں تک کہ مروہ پر آگئے اور مروہ پر بھی اسی طرح کیا جس طرح کہ صفا پر کیا تھا یہاں تک کہ جب مروہ پر آخری چکر ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ لوگوں میں اس طرف پہلے متوجہ ہوجاتا جس طرف کہ بعد میں متوجہ ہوا ہوں تو میں ہدی نہ بھیجتا اور میں اس احرام کو عمرہ کا احرام کردیتا تو تم میں سے جس آدمی کے ساتھ ہدی نہ ہو تو وہ حلال ہوجائے اور اسے عمرہ کے احرام میں بدل لے تو سراقہ بن جعثم کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! کیا یہ حکم اس سال کے لئے ہے یا ہمیشہ کے لئے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالیں اور فرمایا کہ عمرہ حج میں داخل ہوگیا ہے دو مرتبہ نہیں بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اور حضرت علی ؓ یمن سے نبی ﷺ کا اونٹ لے کر آئے تو انہوں نے حضرت فاطمہ ؓ کو بھی انہیں میں پایا جو کہ حلال ہوگئے، احرام کھول دیا ہے اور حضرت فاطمہ ؓ نے رنگین کپڑے پہنے ہوئے ہیں اور سرمہ لگایا ہوا ہے تو حضرت علی ؓ نے ان پر اعتراض فرمایا تو حضرت فاطمہ ؓ نے فرمایا کہ مجھے میرے ابا نے اس کا حکم دیا راوی کہتے ہیں کہ حضرت علی ؓ عراق میں یہ کہہ رہے تھے کہ میں حضرت فاطمہ ؓ کے احرام کھولنے کی شکایت لے کر رسول اللہ ﷺ کی طرف گیا اور فاطمہ ؓ نے جو کچھ مجھے بتایا اس کی خبر میں نے رسول اللہ ﷺ کو دی اور اپنے اعتراض کرنے کا بھی ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ (حضرت) فاطمہ نے سچ کہا سچ کہا جس وقت تم نے حج کا ارادہ کیا تھا تو کیا کہا تھا؟ حضرت علی ؓ نے کہا کہ میں نے کہا اے اللہ میں اس چیز کا احرام باندھتا ہوں کہ جس کے ساتھ رسول اللہ ﷺ نے احرام باندھا ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرے پاس تو ہدی ہے تو تم حلال نہ ہونا راوی کہتے ہیں کہ حضرت علی ؓ یمن سے جو اونٹ لے کر آئے تھے اور جو اونٹ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے سارے جمع کر کے سو اونٹ ہوگئے تھے راوی کہتے ہیں کہ پھر سب لوگ حلال ہوگئے اور انہوں نے بال کٹوالئے سوائے نبی ﷺ کے اور ان لوگوں کے جن کے ساتھ ہدی تھی تو جب ترویہ کا دن ہوا آٹھ ذی الحجہ تو انہوں نے منیٰ کی طرف جا کر حج کا احرام باندھا اور رسول اللہ ﷺ بھی سوار ہوئے اور آپ ﷺ نے منٰی میں ظہر، عصر، مغرب اور عشاء اور فجر کی نمازیں پڑھیں پھر آپ ﷺ کچھ دیر ٹھہرے یہاں تک کہ سورج طلوع ہوگیا اور آپ ﷺ نے بالوں سے بنے ہوئے ایک خیمہ کو نمرہ کے مقام پر لگانے کا حکم فرمایا پھر رسول اللہ ﷺ چلے اور قریش کو اس بات کا یقین تھا کہ آپ ﷺ مشعر حرام کے پاس ٹھہریں گے جس طرح کہ قریش جاہلیت کے زمانہ میں کرتے تھے پھر رسول اللہ ﷺ تیار ہوئے یہاں تک کہ آپ ﷺ عرفات کے میدان میں آگئے وہاں آپ ﷺ نے نمرہ کے مقام پر اپنا لگا ہوا خیمہ پایا آپ ﷺ اس خیمے میں ٹھہرے یہاں تک کہ سورج ڈھل گیا پھر آپ ﷺ نے اپنی اونٹنی قصوی کو تیار کرنے کا حکم فرمایا اور بطن وادی میں آکر لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا اور فرمایا کہ تمہارا خون اور تمہارا مال ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہے جس طرح یہ آج کا دن یہ مہینہ اور یہ شہر حرام ہیں آگاہ رہو کہ جاہلیت کے زمانہ کے کاموں میں سے ہر چیز میرے قدموں کے نیچے پامال ہے اور جاہلیت کے زمانہ کے خون معاف کرتا ہوں اور وہ خون ابن ربیعہ بن حارث کا خون ہے جب کہ نبو سعد دودھ پیتا بچہ تھا جسے ہذیل نے بنو سعد سے جنگ کے دوران قتل کردیا تھا اور جاہلیت کے زمانہ کا سود بھی پامال کردیا گیا ہے اور میں اپنے سود میں سب سے پہلے اپنے چچا عباس بن عبدالمطلب کا سود معاف کرتا ہوں تم لوگ عورتوں کے حقوق ادا کرنے میں اللہ سے ڈرو کیونکہ اللہ کی امانت کے ساتھ انہیں حاصل کیا ہے اور تم نے اللہ کے حکم سے ان کی شرم گاہوں کو حلال سمجھا ہے اور تمہارے لئے ان پر یہ حق ہے کہ وہ تمہارے بستروں پر ایسے کسی آدمی کو نہ آئے دیں کہ جن کو تم ناپسند کرتے ہو اگر وہ اس طرح کریں تو تم انہیں مار سکتے ہو مگر ایسی مار کہ ان کو چوٹ نہ لگے اور ان عورتوں کا تم پر بھی حق ہے کہ تم انہیں حسب استطاعت کھانا پینا اور لباس دو اور میں تم میں ایک چیز چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہیں ہوگے اور تم لوگ اللہ کی کتاب قرآن مجید کو مضبوطی سے پکڑے رکھنا اور تم سے میرے بارے میں پوچھا جائے گا تو تم کیا کہو گے؟ انہوں نے کہا کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ہمیں اللہ کے احکام کی تبلیغ کردی اور آپ ﷺ نے اپنا فرض ادا کردیا اور آپ ﷺ نے خیر خواہی کی یہ سن آپ ﷺ نے شہادت والی انگلی کو آسمان کی طرف بلند کرتے ہوئے اور لوگوں کی طرف منہ موڑتے ہوئے فرمایا اے اللہ! گواہ رہنا، اے اللہ! گواہ رہنا، گواہ رہنا، آپ ﷺ نے تین مرتبہ یہ کلمات کہے پھر اذان اور اقامت ہوئی اور آپ ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھائی پھر اقامت ہوئی تو آپ ﷺ نے عصر کی نماز پڑھائی اور ان دونوں نمازوں کے درمیان اور کوئی نفل وسنن وغیرہ نہیں پڑھی پھر رسول اللہ ﷺ سوار ہو کر موقف میں آئے اور آپ ﷺ نے اپنی اونٹنی قصوی کا پیٹ پتھروں کی طرف کردیا جو کہ جبل رحمت کے دامن میں بچھے ہوئے تھے اور آپ ﷺ حبل المشاہ کو سامنے لے کر قبلہ کی طرف رخ کر کے کھڑے ہوگئے اور آپ ﷺ دیر تک کھڑے رہے یہاں تک کہ سورج غروب ہونے لگا اور کچھ زردی جاتی رہی یہاں تک کہ ٹکیہ غروب ہوگئی۔ اس وقت آپ ﷺ نے حضرت اسامہ ؓ کو اپنے پیچھے اونٹنی پر سوار کیا اور آپ ﷺ چل پڑے اور اونٹنی قصویٰ کی مہار اتنی کھنچی ہوئی تھی کہ اس کا سر کجاوے کے اگلے حصے سے لگ رہا تھا اور آپ ﷺ اپنے دائیں ہاتھ کے اشارے سے فرما رہے تھے اے لوگو آہستہ آہستہ چلو اور جب کوئی پہاڑ کا ٹیلہ آجاتا تو مہار ڈھیلی چھوڑ دیتے تھے تاکہ اونٹنی آسانی سے اوپر چڑھ سکے یہاں تک کہ مزدلفہ آگیا تو یہاں آپ ﷺ نے ایک اذان اور دو اق امتوں کے ساتھ مغرب اور عشاء کی نمازیں پڑھائیں اور ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی نفل وغیرہ نہیں پڑھے پھر رسول اللہ ﷺ آرام کرنے کے لئے لیٹ گئے یہاں تک کہ فجر طلوع ہوگئی اور جس وقت کہ صبح ظاہر ہوئی تو آپ ﷺ نے اذان اور اقامت کے ساتھ فجر کی نماز پڑھائی پھر آپ ﷺ قصویٰ اونٹنی پر سوار ہو کر مشعر حرام آئے اور قبلے کی طرف رخ کر کے دعا، تکبیر اور تہلیل و توحید میں مصروف رہے دیر تک وہاں کھڑے رہے جب خوب اجالا ہوگیا تو آپ ﷺ نے حضرت فضل بن عباس ؓ کو اپنے پیچھے سوار کیا اور طلوع آفتاب سے پہلے وہاں سے چل پڑے حضرت فضل بن عباس خوبصورت بالوں والے اور گورے رنگ والے ایک خوبصورت آدمی تھے رسول اللہ ﷺ جب انہیں ساتھ لے کر چلے تو کچھ عورتوں کی سواریاں بھی چلتی ہوئی انہیں ملیں تو فضل ان کی طرف دیکھنے لگے آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ مبارک فضل کے چہر پر رکھ کر ادھر سے چہرہ پھیر دیا فضل دوسری طرف بھی عورتوں کی سواریاں دیکھنے لگے آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ مبارک سے اس طرف سے بھی فضل کا چہرہ پھیر دیا یہاں تک کہ وادی محسر میں پہنچ گئے آپ ﷺ نے اونٹنی کو ذرا تیز چلایا اور اس درمیانی راستہ سے چلنا شروع کیا کہ جو جمرہ کبری کی طرف جانکلتا ہے یہاں تک کہ درخت کے پاس جو جمرہ ہے اس کے پاس پہنچ گئے اور اسے سات کنکریاں ماریں اور ہر کنکری پر اللہ اکبر فرمایا اور آپ ﷺ نے ہر کنکری وادی کے اندر سے شہادت والی انگلی کے اشارہ سے ماری جیسے چٹکی سے پکڑ کر کوئی چیز پھینکی جاتی ہے پھر آپ ﷺ قربان گاہ کی طرف آئے اور آپ ﷺ نے اپنے ہاتھوں سے تریسٹھ اونٹ قربان کئے (ذبح کئے) پھر حضرت علی ؓ کو برچھا عطا فرمایا اور انہوں نے باقی قربانیاں ذبح کیں آپ ﷺ نے اپنی قربانیوں میں حضرت علی ؓ کو شریک کرلیا تھا پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ قربانی کے ہر جانور میں سے ایک ایک بوٹی کٹوا کر ہانڈی میں پکوائی جائے پھر آپ ﷺ اور علی ؓ نے اس گوشت میں سے کچھ کھایا اور شوربہ بھی پیا پھر نبی ﷺ سوار ہو کر بیت اللہ کی طرف آئے اور آپ ﷺ نے طواف افاضہ فرمایا اور مکہ میں ظہر کی نماز پڑھ کر بنو عبدالمطلب کے پاس آئے جو کہ زم زم پر کھڑے ہو کر لوگوں کو پانی پلا رہے تھے آپ ﷺ نے فرمایا اے عبدالمطلب کے خاندان والو! پانی زم زم سے کھینچتے رہو اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ لوگ تمہارے اس پانی پلانے کی خدمت پر غالب آجائیں گے تو میں بھی تمہارے ساتھ مل کر پانی کھینچتا تو لوگوں نے آپ ﷺ کو ایک ڈول پانی کا دیا اور آپ ﷺ نے اس میں سے کچھ پیا۔

Jafar b Muhammad reported on the authority of his father: We went to Jabir binAbdullah (RA) and he began inquiring about the people (who had gone to see him) till it was my turn. I said: I am Muhammad bin Ali bin Husain. He placed his hand upon my head and opened my upper button and then the lower one and then placed his palm on my chest (in order to bless me), and I was, during those days, a young boy, and he said: You are welcome, my nephew. Ask whatever you want to ask. And I asked him but as he was blind (he could not respond to me immediately), and the time for prayer came. He stood up covering himself in his mantle. And whenever he placed its ends upon his shoulders they slipped down on account of being short (in size). Another mantle was, however, lying on the clothes rack near by. And he led us in the prayer. I said to him: Tell me about the Hajj of Allahs Messenger (May peace be upon him). And he pointed with his hand nine, and then stated: The Messenger of Allah ﷺ stayed in (Madinah) for nine years but did not perform Hajj, then he made a public announcement in the tenth year to the effect that Allahs Messenger ﷺ was about to perform the Hajj. A large number of persons came to Madinah and all of them were anxious to follow the Messenger of Allah ﷺ (May peace be upon him) and do according to his doing. We set out with him till we reached Dhul-Hulaifa. Asma daughter of Umais gave birth to Muhammad bin Abu Bakr. She sent message to the Messenger of Allah ﷺ (May peace be upon him) asking him: What should I do? He (the Holy Prophet) said: Take a bath, bandage your private parts and put on Ihram. The Messenger of Allah ﷺ (May peace be upon him) then prayed in the mosque and then mounted al-Qaswa (his she-camel) and it stood erect with him on its back at al-Baida. And I saw as far as I could see in front of me but riders and pedestrians, and also on my right and on my left and behind me like this. And the Messenger of Allah ﷺ was prominent among us and the (revelation) of the Holy Quran was descending upon him. And it is he who knows (its true) significance. And whatever he did, we also did that. He pronounced the Oneness of Allah (saying): "Labbaik, O Allah, Labbaik, Labbaik. Thou hast no partner, praise and grace is Thine and the Sovereignty too; Thou hast no partner." And the people also pronounced this Talbiya which they pronounce (today). The Messenger of Allah ﷺ (May peace be upon him) did not reject anything out of it. But the Messenger of Allah ﷺ (May peace be upon him) adhered to his own Talbiya. Jabir (RA) said: We did not have any other intention but that of Hajj only, being unaware of the Umrah (at that season), but when we came with him to the House, he touched the pillar and (made seven circuits) running three of them and walking four. And then going to the Station of Ibrahim, he recited: "And adopt the Station of Ibrahim as a place of prayer." And this Station was between him and the House. My father said (and I do not know whether he had made a mention of it but that was from Allahs Apostle ﷺ [May peace be upon him] that he recited in two rakahs: "say: He is Allah One," and say: "Say: O unbelievers." He then returned to the pillar (Hajar Aswad) and kissed it. He then went out of the gate to al-Safa and as he reached near it he recited: "Al-Safa and al-Marwah are among the signs appointed by Allah," (adding:) I begin with what Allah (has commanded me) to begin. He first mounted al-Safa till he saw the House, and facing Qibla he declared the Oneness of Allah and glorified Him, and said: "There is no god but Allah, One, there is no partner with Him. His is the Sovereignty. To Him praise is due. And He is Powerful over everything. There is no god but Allah alone, Who fulfilled His promise, helped His servant and routed the confederates alone." He then made supplication in the course of that saying such words three times. He then descended and walked towards al-Marwah, and when his feet came down in the bottom of the valley, he ran, and when he began to ascend he walked till he reached al-Marwah. There he did as he had done at al-Safa. And when it was his last running at al-Marwah he said: If I had known beforehand what I have come to know afterwards, I would not have brought sacrificial animals and would have performed an Umrah. So, he who among you has not the sacrificial animals with him should put off Ihram and treat it as an Umrah. Suraqa bin Malik bin Jusham got up and said: Messenger of Allah, does it apply to the present year, or does it apply forever? Thereupon the Messenger of Allah ﷺ (May peace be upon him) intertwined the fingers (of one hand) into another and said twice: The Umrah has become incorporated in the Hajj (adding): "No, but forever and ever." All came from the Yemen with the sacrificial animals for the Prophet ﷺ (May peace be upon him) and found Fatimah (Allah be pleased with her) to be one among those who had put off Ihram and had put on dyed clothes and had applied antimony. He (HadratAli) showed disapproval to it, whereupon she said: My father has commanded me to do this. He (the narrator) said that Ali used to say in Iraq: I went to the Messenger of Allah ﷺ showing annoyance at Fatimah for what she had done, and asked the (verdict) of Allahs Messenger ﷺ regarding what she had narrated from him, and told him that I was angry with her, whereupon he said: She has told the truth, she has told the truth. (The Holy Prophet ﷺ then asked Ali): What did you say when you undertook to go for Hajj? I (Ali) said: O Allah, I am putting on Ihram for the same purpose as Thy Messenger has put it on. He said: I have with me sacrificial animals, so do not put off the Ihram. He (Jabir) said: The total number of those sacrificial animals brought by Ali from the Yemen and of those brought by the Apostle ﷺ was one hundred. Then all the people except the Apostle ﷺ and those who had with them sacrificial animals, put off Ihram, and got their hair clipped; when it was the day of Tarwiya (8th of Dhul-Hijja) they went to Mina and put on the Ihram for Hajj and the Messenger of Ailah ﷺ rode and led the noon, afternoon, sunset Isha and dawn prayers. He then waited a little till the sun rose, and commanded that a tent of hair should be pitched at Namira. The Messenger of Allah ﷺ then set out and the Quraish did not doubt that he would halt at al-Mashar al-Haram (the sacred site) as the Quraish used to do in the pre-Islamic period. The Messenger of Allah ﷺ , however, passed on till he came to Arafa and he found that the tent had been pitched for him at Namira. There he got down till the sun had passed the meridian; he commanded that al-Qaswa should be brought and saddled for him. Then he came to the bottom of the valley, and addressed the people saying: Verily your blood, your property are as sacred and inviolable as the sacredness of this day of yours, in this month of yours, in this town of yours. Behold! Everything pertaining to the Days of Ignorance is under my feet completely abolished. Abolished are also the blood-revenges of the Days of Ignorance. The first claim of ours on blood-revenge which I abolish is that of the son of Rabia bin al-Harith, who was nursed among the tribe of Sad and killed by Hudhail. And the usury of she pre-Islamic period is abolished, and the first of our usury I abolish is that of Abbas bin Abdul Muttalib, for it is all abolished. Fear Allah concerning women! Verily you have taken them on the security of Allah, and intercourse with them has been made lawful unto you by words of Allah. You too have right over them, and that they should not allow anyone to sit on your bed whom you do not like. But if they do that, you can chastise them but not severely. Their rights upon you are that you should provide them with food and clothing in a fitting manner. I have left among you the Book of Allah, and if you hold fast to it, you would never go astray. And you would be asked about me (on the Day of Resurrection), (now tell me) what would you say? They (the audience) said: We will bear witness that you have conveyed (the message), discharged (the ministry of Prophethood) and given wise (sincere) counsel. He (the narrator) said: He (the Holy Prophet) then raised his forefinger towards the sky and pointing it at the people (said): "O Allah, be witness. O Allah, be witness," saying it thrice. ( Bilal (RA) then) pronounced Adhan and later on Iqama and he (the Holy Prophet) led the noon prayer. He ( Bilal (RA) ) then uttered Iqama and he (the Holy Prophet) led the afternoon prayer and he observed no other prayer in between the two. The Messenger of Allah ﷺ then mounted his camel and came to the place of stay, making his she-camel al-Qaswa, turn towards the side where there we are rocks, having the path taken by those who went on foot in front of him, and faced the Qibla. He kept standing there till the sun set, and the yellow light had somewhat gone, and the disc of the sun had disappeared. He made Usama sit behind him, and he pulled the nosestring of Qaswa so forcefully that its head touched the saddle (in order to keep her under perfect control), and he pointed out to the people with his right hand to be moderate (in speed), and whenever he happened to pass over an elevated tract of sand, he slightly loosened it (the nose-string of his camel) till she climbed up and this is how he reached al-Muzdalifa. There he led the evening and Isha prayers with one Adhan and two Iqamas and did not glorify (Allah) in between them (i. e. he did not observe supererogatory rakahs between Maghrib and Isha prayers). The Messenger of Allah ﷺ then lay down till dawn and offered the dawn prayer with an Adhan and Iqama when the morning light was clear. He again mounted al-Qaswa, and when he came to al-Mashar al-Haram, he faced towards Qibla, supplicated Him, Glorified Him, and pronounced His Uniqueness (La ilaha illa Allah) and Oneness, and kept standing till the daylight was very clear. He then went quickly before the sun rose, and seated behind him was al-Fadl bin Abbas and he was a man having beautiful hair and fair complexion and handsome face. As the Messenger of Allah ﷺ (May peace be upon him) was moving on, there was also going a group of women (side by side with them). Al-Fadl began to look at them. The Messenger of Allah ﷺ placed his hand on the face of Fadl who then turned his face to the other side, and began to see, and the Messenger of Allah ﷺ turned his hand to the other side and placed it on the face of al-Fadl. He again turned his face to the other side till he came to the bottom of Muhassir. He urged her (al-Qaswa) a little, and, following the middle road, which comes out at the greatest jamra, he came to the jamra which is near the tree. At this he threw seven small pebbles, saying Allah-o-Akbar while throwing every one of them in a manner in which the small pebbles are thrown (with the help of fingers) and this he did in the bottom of the valley. He then went to the place of sacrifice, and sacrificed sixty-three (camels) with his own hand. Then he gave the remaining number to Ali who sacrificed them, and he shared him in his sacrifice. He then commanded that a piece of flesh from each animal sacrificed should be put in a pot, and when it was cooked, both of them (the Holy Prophet ﷺ and Hadrat Ali) took some meat out of it and drank its soup. The Messenger of Allah ﷺ (May peace be upon him) again rode and came to the House, and offered the Zuhr prayer at Makkah. He came to the tribe of Abdul Muttalib, who were supplying water at Zamzam, and said: Draw water. O Bani Abdul Muttalib; were it not that people would usurp this right of supplying water from you, I would have drawn it along with you. So they handed him a basket and he drank from it.