نبی ﷺ کے حج کی کیفیت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ أَتَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ حَجَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَعِيلَ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ وَکَانَتْ الْعَرَبُ يَدْفَعُ بِهِمْ أَبُو سَيَّارَةَ عَلَی حِمَارٍ عُرْيٍ فَلَمَّا أَجَازَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمُزْدَلِفَةِ بِالْمَشْعَرِ الْحَرَامِ لَمْ تَشُکَّ قُرَيْشٌ أَنَّهُ سَيَقْتَصِرُ عَلَيْهِ وَيَکُونُ مَنْزِلُهُ ثَمَّ فَأَجَازَ وَلَمْ يَعْرِضْ لَهُ حَتَّی أَتَی عَرَفَاتٍ فَنَزَلَ
عمر بن حفص بن غیاث، حضرت جعفر بن محمد (رح) بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا انہوں نے فرمایا کہ میں حضرت جابر بن عبداللہ ؓ کے پاس آیا اور میں نے آپ سے رسول اللہ ﷺ کے حج کے بارے میں پوچھا اور پھر انہوں نے حاتم بن اسماعیل کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی (اس حدیث میں ہے) کہ عرب کا دستور تھا کہ ابوسیارہ گدھے کی ننگی پشت پر سوار ہو کر ان کو مزدلفہ واپس لاتا تھا تو جب رسول اللہ ﷺ مزدلفہ سے مشعر حرام کی طرف بڑھ گئے تو اہل قریش کو کوئی شک نہ رہا کہ آپ ﷺ مشعر حرام میں قیام فرمائیں گے اور اسی جگہ پر آپ ﷺ کا پڑاؤ ہوگا لیکن آپ ﷺ تو اس سے بھی آگے بڑھ گئے اور آپ ﷺ نے اس جگہ پر کوئی تو جہ نہ دی یہاں تک کہ آپ ﷺ عرفات کے میدان میں آگئے
Jafar bin Muhammad narrated on the authority of his father thus: I came to Jabir binAbdullah (RA) and asked him about the (Farewell) Pilgrimage of Allahs Messenger ﷺ . The rest of the hadith is the same, but with the addition of this: "There was one Abu Sayyara among the Arabs, (of pre-Islamic period) who carried (people from Muzdalifa to Mini). As the Messenger of Allah ﷺ (May peace be upon him) set out from Muzdalifa to al-Mashar al-Haram, the Quraish were certain that he would halt there and that would be his station. But he passed on (without staying) there, and paid no heed to it till he came to Arafat and there he stayed."
اس بات کے بیان میں کہ عرجہ سارا ہی ٹھہرنے کی جگہ ہے۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ جَعْفَرٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَابِرٍ فِي حَدِيثِهِ ذَلِکَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَحَرْتُ هَاهُنَا وَمِنًی کُلُّهَا مَنْحَرٌ فَانْحَرُوا فِي رِحَالِکُمْ وَوَقَفْتُ هَاهُنَا وَعَرَفَةُ کُلُّهَا مَوْقِفٌ وَوَقَفْتُ هَاهُنَا وَجَمْعٌ کُلُّهَا مَوْقِفٌ
عمر بن حفص بن غیاث، جعفر، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے یہاں قربانی کی اور منیٰ ساری کی ساری قربانی کی جگہ ہے تو تم جہاں اترو وہیں قربانی کرلو اور میں یہاں ٹھہرا اور یہ سارے کا سارا میدان عرفات ہے اور ٹھہرنے کی جگہ ہے اور میں یہیں ٹھہرا مزدلفہ اور یہ ساری کی ساری ٹھہرنے کی جگہ ہے۔
Jabir reported Allahs Messenger (May peace be upon him) as saying: I have sacrificed (the animals) here, and the whole of Mina is a place for sacrifice; so sacrifice your animals at your places. I have stayed here (near these rocks), and the whole of Arafat is a place for stay. And I have stayed here (at Muzdalifa near Mashar al-Haram) and the whole of Muzdalifa is a place for stay (i. e. one is permitted to spend night in any part of it, as one likes).
اس بات کے بیان میں کہ عرجہ سارا ہی ٹھہرنے کی جگہ ہے۔
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ مَکَّةَ أَتَی الْحَجَرَ فَاسْتَلَمَهُ ثُمَّ مَشَی عَلَی يَمِينِهِ فَرَمَلَ ثَلَاثًا وَمَشَی أَرْبَعًا
اسحاق بن ابراہیم، یحییٰ بن آدم، سفیان، جعفر بن محمد، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب مکہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے حجر اسود کو استلام بوسہ کیا پھر اپنی دائیں طرف چلے اور طواف کے تین چکروں پر عمل کیا اور باقی چار چکروں میں معمول کے مطابق چل کر طواف کیا۔
Jabir binAbdullah (RA) reported that when Allahs Messenger ﷺ proceeded to Makkah, he came to it (the Black Stone). He kissed it and moved to his right, and moved quickly in three circuits, and walked in four circuits.
وقوف اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کہ جہاں سے دوسرے لوگ لوٹتے ہیں وہان سے تم بھی لوٹو کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ کَانَ قُرَيْشٌ وَمَنْ دَانَ دِينَهَا يَقِفُونَ بِالْمُزْدَلِفَةِ وَکَانُوا يُسَمَّوْنَ الْحُمْسَ وَکَانَ سَائِرُ الْعَرَبِ يَقِفُونَ بِعَرَفَةَ فَلَمَّا جَائَ الْإِسْلَامُ أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِيَّهُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتِيَ عَرَفَاتٍ فَيَقِفَ بِهَا ثُمَّ يُفِيضَ مِنْهَا فَذَلِکَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ
یحییٰ بن یحیی، ابومعاویہ، ہشام بن عروہ، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ اہل قریش اور جو ان کے دین سے موافقت رکھتے تھے وہ مزدلفہ میں ٹھہرتے تھے اور انہوں نے اپنا نام حُمَس رکھا ہوا تھا اور دیگر تمام اہل عرب عرفات کے میدان میں ٹھہرتے تھے تو جب اسلام آیا تو اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم فرمایا کہ وہ عرفات کے میدان میں آئیں اور وہیں وقوف کریں پھر واپس اسی جگہ سے لوٹیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فرمان (ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ ) میں یہی فرمایا کہ جہاں سے دوسرے لوگ لوٹتے ہیں تم بھی وہیں سے لوٹو۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported that the Quraish (of the pre-Islamic days) and those who followed their religions practices stayed at Muzdalifa, and they named themselves as Hums, whereas all other Arabs stayed at Arafa. With the advent of Islam, Allah, the Exalted and Glorious, commanded His Apostle ﷺ to come to Arafat and stay there, and then hurry from there, and this is the significance of the words of Allah: "Then hasten on from where the people hasten on."
وقوف اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کہ جہاں سے دوسرے لوگ لوٹتے ہیں وہان سے تم بھی لوٹو کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کَانَتْ الْعَرَبُ تَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرَاةً إِلَّا الْحُمْسَ وَالْحُمْسُ قُرَيْشٌ وَمَا وَلَدَتْ کَانُوا يَطُوفُونَ عُرَاةً إِلَّا أَنْ تُعْطِيَهُمْ الْحُمْسُ ثِيَابًا فَيُعْطِي الرِّجَالُ الرِّجَالَ وَالنِّسَائُ النِّسَائَ وَکَانَتْ الْحُمْسُ لَا يَخْرُجُونَ مِنْ الْمُزْدَلِفَةِ وَکَانَ النَّاسُ کُلُّهُمْ يَبْلُغُونَ عَرَفَاتٍ قَالَ هِشَامٌ فَحَدَّثَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ الْحُمْسُ هُمْ الَّذِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِمْ ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ قَالَتْ کَانَ النَّاسُ يُفِيضُونَ مِنْ عَرَفَاتٍ وَکَانَ الْحُمْسُ يُفِيضُونَ مِنْ الْمُزْدَلِفَةِ يَقُولُونَ لَا نُفِيضُ إِلَّا مِنْ الْحَرَمِ فَلَمَّا نَزَلَتْ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ رَجَعُوا إِلَی عَرَفَاتٍ
ابوکریب، ابواسامہ، ہشام اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ سوائے اہل حُمسَ (قریش) کے اہل عرب بیت اللہ کا ننگا طواف کرتے تھے اور حمس قریش اور ان کی اولاد کو کہتے ہیں یہ لوگ ننگا طواف کرتے تھے سوائے ان لوگوں کے جن کو حمس کپڑا دیں مرد مردوں کو اور عورتیں عورتوں کو کپڑا دیتی تھیں اور حمس مزدلفہ سے آگے نہیں نکلتے تھے اور باقی سارے عرفات کے میدان میں پہنچتے تھے ہشام کہتے ہیں کہ میرے باپ نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ حمس وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ نے فرمایا (ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ ) پھر تم لوٹو اس جگہ سے جہاں سے دوسرے لوگ لوٹتے ہیں حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ یہ لوگ مزدلفہ ہی سے واپس لوٹ آتے تھے اور باقی لوگ عرفات کے میدان سے واپس لوٹتے تھے اور حمس مزدلفہ سے لوٹ کر کہتے تھے کہ ہم حرم کے علاوہ کسی اور جگہ سے نہیں لوٹتے پھر جب یہ آیت نازل ہوئی (ثُمَّ اَفِيْضُوْا مِنْ حَيْثُ اَفَاضَ النَّاسُ ) 2۔ البقرۃ: 199) تو وہ لوگ عرفات سے لوٹنے لگے۔
Hisham narrated on the authority of his father that the Arabs with the exception of Hums who were Quraish, and their descendants, circumambulated the House naked. They kept circumambulating in this state of nudity unless the Hums supplied to them the clothes. The male provided (clothes) to the male and the female provided clothes to the female. And the Hums did not get out of Muzdalifa, whereas the people (other than the Quraish) went to Arafat. Hisham said on the authority of his father who related from Aisha (Allah be pleased with her) who said: Hums are those about whom Allah, the Exalted and Glorious, revealed this verse: "Then hasten to where the people hasten." She (further) said: The people hastened on from Arafat, whereas Hums hastened from Muzdalifa, and said: We do not hasten but from Haram. But when this (verse) was revealed: "Hasten on from that (place) where the people hasten on," they (the Quraish) then went to Arafat.
وقوف اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کہ جہاں سے دوسرے لوگ لوٹتے ہیں وہان سے تم بھی لوٹو کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ أَضْلَلْتُ بَعِيرًا لِي فَذَهَبْتُ أَطْلُبُهُ يَوْمَ عَرَفَةَ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا مَعَ النَّاسِ بِعَرَفَةَ فَقُلْتُ وَاللَّهِ إِنَّ هَذَا لَمِنْ الْحُمْسِ فَمَا شَأْنُهُ هَاهُنَا وَکَانَتْ قُرَيْشٌ تُعَدُّ مِنْ الْحُمْسِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، ابن عیینہ، عمرو، سفیان بن عیینہ، عمرو، محمد بن جبیر، حضرت جبیر بن مطعم ؓ فرماتے ہیں کہ میرا ایک اونٹ گم ہوگیا تو اس کو تلاش کرنے کے لئے عرفہ کے دن گیا تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو عرفات کے میدان میں وقوف کرتے ہوئے دیکھا تو میں نے کہا اللہ کی قسم! یہ تو حمس ہیں ان کو کیا ہوا کہ یہ یہاں ہیں اور قریش حمس میں سے شمار کئے جاتے تھے۔
Jubair. bin Mutim reported: I lost my camel and went in search of it on the day of Arafa, and I saw the Messenger of Allah ﷺ staying along with people in Arafat. Thereupon I said: By Allah, he is among the Hums (Quraish); what has happened to him that he has come to this (place)? The Quraish were counted among Hums.
اپنے احرام کو دوسرے محرم کے احرام کے ساتھ معلق کرنے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ قَدِمْتُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُنِيخٌ بِالْبَطْحَائِ فَقَالَ لِي أَحَجَجْتَ فَقُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ بِمَ أَهْلَلْتَ قَالَ قُلْتُ لَبَّيْکَ بِإِهْلَالٍ کَإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَدْ أَحْسَنْتَ طُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَأَحِلَّ قَالَ فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ أَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ بَنِي قَيْسٍ فَفَلَتْ رَأْسِي ثُمَّ أَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ قَالَ فَکُنْتُ أُفْتِي بِهِ النَّاسَ حَتَّی کَانَ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا أَبَا مُوسَی أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ رُوَيْدَکَ بَعْضَ فُتْيَاکَ فَإِنَّکَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي النُّسُکِ بَعْدَکَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ کُنَّا أَفْتَيْنَاهُ فُتْيَا فَلْيَتَّئِدْ فَإِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَادِمٌ عَلَيْکُمْ فَبِهِ فَأْتَمُّوا قَالَ فَقَدِمَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لَهُ فَقَالَ إِنْ نَأْخُذْ بِکِتَابِ اللَّهِ فَإِنَّ کِتَابَ اللَّهِ يَأْمُرُ بِالتَّمَامِ وَإِنْ نَأْخُذْ بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَحِلَّ حَتَّی بَلَغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ
محمد بن مثنی، ابن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، قیس بن مسلم، طارق بن شہاب، حضرت موسیٰ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ بطحا (مکہ) میں اونٹ بٹھائے ہوئے تھے تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کیا تو نے حج (کی نعت) کرلی ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تو نے احرام باندھ لیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے احرام کے ساتھ تلبیہ پڑھا ہے جس طرح کہ نبی ﷺ نے احرام باندھا ہے آپ ﷺ نے فرمایا تو نے بہت اچھا کیا اب بیت اللہ کا طواف اور صفا اور مروہ کی سعی کرو اور حلال ہوجاؤ یعنی احرام کھول دو حضرت ابوموسی ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا ومروہ کی سعی کی پھر میں قبیلہ نبی قیس کی ایک عورت کے پاس آیا اس نے میرے سر میں جوئیں دیکھیں پھر میں نے حج کا احرام باندھا اور میں لوگوں کو اسی کا فتوی دیتا تھا یہاں تک کہ حضرت عمر ؓ کی خلافت کا دور آیا تو ایک آدمی نے ان سے کہا اے ابوموسیٰ یا اے عبداللہ بن قیس اپنے بعض فتوے رہنے دو کیونکہ آپ کو معلوم نہیں کہ امیر المومنین ؓ نے آپ ﷺ کے بعد حج کے احکام میں کیا حکم بیان فرمایا ہے تو حضرت ابوموسیٰ فرمانے لگے اے لوگو! جن کو ہم نے فتویٰ دیا ہے وہ غور کریں کیونکہ حضرت امیر المومنین ؓ تمہارے پاس تشریف لانے والے ہیں تم ان ہی کی اقتداء کرو راوی کہتے ہیں کہ جب حضرت عمر ؓ عنہ[ فقدم عمر رضي اللہ عنہ فذکرت ] تشریف لائے تو میں نے ان سے اسی چیز کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر ہم اللہ تعالیٰ کی کتاب کی پیروی کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی کتاب تو حج اور عمرہ دونوں کو پورا کرنے کا حکم دیتی ہے اور اگر ہم رسول اللہ ﷺ کی سنت کی پیروی کرتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ تو اس وقت تک حلال نہیں ہوئے یعنی احرام نہیں کھولا جب تک کہ قربانی اپنی جگہ پر نہیں پہنچی۔
Abu Musa (RA) said: I came to the Messenger of Allah ﷺ as he was encamping at Batha. He said to me: Did you intend to perform Hajj? I said: Yes. He again said: With what intention have you entered into the state of Ihram (for Ifrad, Qiran or Tamattu). I said: I pronounced Talbiya (I have entered into the state of Ihram) with that very aim with which the Apostle of Allah ﷺ is pronouncing Talbiya. He (the Holy Prophet) said; You have done well. Then circumambulate the House and run between al-Safa and al-Marwah and put off Ihram (as you have not brought the sacrificial animals along with you). So I circumambulated the House, and ran between al-Safa and al-Marwah and then came to a woman of the tribe of Qais and she rid my head of the lice. I again put on Ihram for Hajj, and continued giving religious verdict (according to this practice) till during the Caliphate of Umar (RA) when a person said to him: Abu Musa, orAbdullah bin Qais (RA) , exercise restraint in delivering some religious verdict of yours, for you do not know what has been introduced after you by the Commander of the Believers in the rites (of Hajj). Thereupon he said: O people, whom we gave the religious verdict (concerning putting off Ihram) they should wait, for the Commander of the Believers is about to come to you, and you should follow him. Umar (RA) then came and I made a mention of it to him whereupon he said: If we abide by the Book of Allah (we find) the Book of Allah has commanded us to complete the Hajj and Umrah, and if we abide by the Sunnah of Allahs Messenger ﷺ , we find that Allahs Messenger ﷺ did not put off Ihram till the sacrificial animal was brought to its end (till it was sacrificed).
اپنے احرام کو دوسرے محرم کے احرام کے ساتھ معلق کرنے کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
عبیداللہ بن معاذ، حضرت شعبہ سے اس سند کے ساتھ اسی طرح یہ حدیث نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated by Shubah with the same chain of transmitters.
اپنے احرام کو دوسرے محرم کے احرام کے ساتھ معلق کرنے کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ قَيْسٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي مُوسَی رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمْتُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُنِيخٌ بِالْبَطْحَائِ فَقَالَ بِمَ أَهْلَلْتَ قَالَ قُلْتُ أَهْلَلْتُ بِإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَلْ سُقْتَ مِنْ هَدْيٍ قُلْتُ لَا قَالَ فَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ حِلَّ فَطُفْتُ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ أَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ قَوْمِي فَمَشَطَتْنِي وَغَسَلَتْ رَأْسِي فَکُنْتُ أُفْتِي النَّاسَ بِذَلِکَ فِي إِمَارَةِ أَبِي بَکْرٍ وَإِمَارَةِ عُمَرَ فَإِنِّي لَقَائِمٌ بِالْمَوْسِمِ إِذْ جَائَنِي رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّکَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي شَأْنِ النُّسُکِ فَقُلْتُ أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ کُنَّا أَفْتَيْنَاهُ بِشَيْئٍ فَلْيَتَّئِدْ فَهَذَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ قَادِمٌ عَلَيْکُمْ فَبِهِ فَأْتَمُّوا فَلَمَّا قَدِمَ قُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا هَذَا الَّذِي أَحْدَثْتَ فِي شَأْنِ النُّسُکِ قَالَ إِنْ نَأْخُذْ بِکِتَابِ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ وَإِنْ نَأْخُذْ بِسُنَّةِ نَبِيِّنَا عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَام فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَحِلَّ حَتَّی نَحَرَ الْهَدْيَ
محمد بن مثنی، عبدالرحمن ابن مہدی، سفیان، قیس، طارق بن شہاب، حضرت ابوموسیٰ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے خدمت میں آیا اور آپ ﷺ بطحائے مکہ میں اونٹ بٹھائے ہوئے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو نے احرام باندھ لیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے نبی ﷺ کے احرام کے موافق باندھا ہے آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو ہدی ساتھ لایا ہے؟ میں نے عرض کیا نہیں آپ ﷺ نے فرمایا تو پھر تو بیت اللہ کا طواف کر اور صفا اور مروہ کی سعی کر پھر حلال ہوجا احرام کھول دے تو میں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا اور مروہ کی سعی کی پھر میں اپنی قوم کی ایک عورت کے پاس آیا تو اس نے میرے سر میں کنگھی کی اور میرا سر دھویا اور میں حضرت ابوبکر ؓ کے دور خلافت اور حضرت عمر ؓ کے دور خلافت میں اسی چیز کا فتوی دیا کرتا تھا۔ تو میں حج کے موسم میں کھڑا ہوا تو ایک آدمی میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ آپ نہیں جانتے کہ حضرت امیر المومنین ؓ نے حج کے احکام کے بارے میں کیا حکم فرمایا ہے میں نے کہا اے لوگو! جن کو میں نے کسی چیز کے بارے میں فتوی دیا ہے وہ لوگ باز رہیں کیونکہ امیر المومنین ؓ تمہاری طرف آنے والے ہیں تم انہی کی اقتداء کرو پھر جب حضرت امیر المومنین ؓ تشریف لائے تو میں نے عرض کیا کہ آپ نے حج کے بارے میں کیا حکم نافذ فرمایا ہے حضرت امیر المومنین ؓ نے فرمایا کہ اگر ہم اللہ کی کتاب کی پیروی کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ حج اور عمرہ کو اللہ کے لئے پورا کرو اور اگر ہم اپنے نبی ﷺ کی سنت کی پیروی کرتے ہیں تو نبی ﷺ حلال نہیں ہوئے جب تک آپ ﷺ نے قربانی کو نحر نہیں فرما لیا۔
Abu Musa (RA) reported: I came to the Messenger of Allah ﷺ and he was encamping at Batha. He (the Holy Prophet) said: With what purpose have you entered into the state of Ihram? I said: I have entered into the state of Ihram in accordance with the Ihram of Allahs Apostle ﷺ . He said: Have you brought sacrificial animals along with you? I said: No. Whereupon he said: Then circumambulate the House and run between al-Safa and al-Marwah and put off Ihram. So I circumambulated the House, ran between al-Safa and al-Marwah, and then came to a woman of my tribe. She combed and washed my head. I used to give religious verdict (according to the above mentioned command of the Holy Prophet) during the Caliphate of Abu Bakr (RA) and also during that of Umar. And it was during the Hajj season that a person came to me and said: You (perhaps) do not know what the Commander of the Believers has introduced in the rites (of Hajj). I said: O people, those whom we have given religious verdict about a certain thing should wait, for the Commander of the Believers is about to arrive among you, so follow him. When the Commander of the Believers arrived, I said: What is this that you have introduced in the rites (of Hajj)? Whereupon he said: If we abide by the Book of Allah (we find) that there Allah, Exalted and Majestic, has said: "Complete Hajj and Umrah for Allah." And if we abide by the Sunnah of our Apostle ﷺ (we find) that the Apostle of Allah ﷺ (May peace be upon him) did not put off Ihram till he had sacrificed the animals.
اپنے احرام کو دوسرے محرم کے احرام کے ساتھ معلق کرنے کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي مُوسَی رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنِي إِلَی الْيَمَنِ قَالَ فَوَافَقْتُهُ فِي الْعَامِ الَّذِي حَجَّ فِيهِ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا مُوسَی کَيْفَ قُلْتَ حِينَ أَحْرَمْتَ قَالَ قُلْتُ لَبَّيْکَ إِهْلَالًا کَإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هَلْ سُقْتَ هَدْيًا فَقُلْتُ لَا قَالَ فَانْطَلِقْ فَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ أَحِلَّ ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ شُعْبَةَ وَسُفْيَانَ
اسحاق بن منصور، عبد بن حمید، جعفر بن عون، ابوعمیس، قیس بن مسلم، طارق بن شہاب، حضرت ابوموسی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے یمن کی طرف بھیجا اور میں اسی سال آیا جس سال آپ ﷺ نے حج کا ارادہ فرمایا تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا اے ابوموسی! تو نے کیا کہا تھا؟ آپ ﷺ نے اس وقت فرمایا جس وقت آپ ﷺ احرام باندھ رہے تھے حضرت ابوموسی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا تھا کہ میں نبی ﷺ کے احرام کے مطابق تلبیہ پڑھتا ہوں تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو ہدی لایا ہے؟ میں نے عرض کیا نہیں آپ ﷺ نے فرمایا پھر تو چل اور بیت اللہ کا طواف کر اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی کر پھر حلال ہوجا یعنی احرام کھول دے پھر آکر شعبہ اور سفیان کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی۔
Abu Musa (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ (May peace be upon im) had sent me to Yemen and I came back in the year in which he (the Holy Prophet) performed the (Farewell) Pilgrimage. Allahs Messenger (may peace be upon, him) said to me: Abu Musa, what did you say when you entered into the state of Ihram? I said: At thy beck and call; my (Ihram) is that of the Ihram of Allahs Apostle ﷺ (May peace be upon him). He said: Have you brought the sacrificial animals? I said: No. Thereupon he said: Go and circumambulate the House, and (run) between al-Safa and al-Marwah and then put off Ihram. The rest of the hadith is the same.
اپنے احرام کو دوسرے محرم کے احرام کے ساتھ معلق کرنے کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَکَمِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي مُوسَی عَنْ أَبِي مُوسَی أَنَّهُ کَانَ يُفْتِي بِالْمُتْعَةِ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ رُوَيْدَکَ بِبَعْضِ فُتْيَاکَ فَإِنَّکَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي النُّسُکِ بَعْدُ حَتَّی لَقِيَهُ بَعْدُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ عُمَرُ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ فَعَلَهُ وَأَصْحَابُهُ وَلَکِنْ کَرِهْتُ أَنْ يَظَلُّوا مُعْرِسِينَ بِهِنَّ فِي الْأَرَاکِ ثُمَّ يَرُوحُونَ فِي الْحَجِّ تَقْطُرُ رُئُوسُهُمْ
محمد بن مثنی، ابن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، حکم، عمارہ بن عمیر، ابراہیم بن ابی موسی، حضرت ابوموسی ؓ سے روایت ہے کہ وہ تمتع کا فتوی دیتے تھے تو ایک آدمی نے ان سے کہا کہ اپنے فتو وں کو رہنے دو کیونکہ آپ نہیں جانتے کہ حضرت امیر المومنین ؓ نے آپ ﷺ کے بعد حج کے بارے میں کیا حکم بیان فرمایا ہے یہاں تک کہ وہ حضرت امیر المومنین ؓ سے ملے اور اس سلسلے میں ان سے پوچھا تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ میں جانتا ہوں کہ نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے اصحاب ؓ نے اسی طرح کیا ہے لیکن میں اس بات کو پسند سمجھتا ہوں کہ لوگ پیلو کے درختوں کے نیچے عورتوں سے شب باشی کریں پھر حج میں جائیں تو ان کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے ہوں۔
Abu Musa (RA) reported that he used to deliver religious verdict in favor of Hajj Tamattu. A person said to him: Exercise restraint in delivering some of your religious verdicts, for you do not know what the Commander of Believers has introduced in the rites (of Hajj) after you (when you were away in Yemen). He (Abu Musa) met him (Hadrat Umar) subsequently and asked him (about it), whereupon Umar said: I know that Allahs Apostle ﷺ (May peace be upon him) and also his Companions did that (observed Tamattu), but I do not approve that the married persons should have intercourse with their wives under the shade of the trees, and then set out for Hajj with water trickling down from their heads.
حج تمتع کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ کَانَ عُثْمَانُ يَنْهَی عَنْ الْمُتْعَةِ وَکَانَ عَلِيٌّ يَأْمُرُ بِهَا فَقَالَ عُثْمَانُ لِعَلِيٍّ کَلِمَةً ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّا قَدْ تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَجَلْ وَلَکِنَّا کُنَّا خَائِفِينَ
محمد بن مثنی، ابن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، حضرت ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ حضرت عبداللہ بن شفیق ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان ؓ تمتع سے منع فرمایا کرتے تھے اور حضرت علی اس کا حکم فرمایا کرتے تھے۔ تو حضرت عثمان ؓ نے حضرت علی ؓ سے کوئی بات فرمائی تو پھر حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ آپ کو معلوم ہے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج تمتع کیا ہے حضرت عثمان ؓ نے فرمایا جی ہاں لیکن اس وقت ہم ڈرتے تھے۔
Abdullah bin Shaqiq reported that Uthman (RA) used to forbid Tamattu, whereas Ali (RA) ordered to do it. Uthman said a word to Ali, but Ali said: You know that we used to perform Tamattu with the Messenger of Allah ﷺ , whereupon he said: It is right, but we entertained fear.
حج تمتع کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
یحییٰ بن حبیب حارثی، خالد ابن حارث، حضرت شعبہ ؓ سے اس سند کے ساتھ اسی طرح حدیث نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated by Shubah with the same chain of transmitters.
حج تمتع کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ اجْتَمَعَ عَلِيٌّ وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بِعُسْفَانَ فَکَانَ عُثْمَانُ يَنْهَی عَنْ الْمُتْعَةِ أَوْ الْعُمْرَةِ فَقَالَ عَلِيٌّ مَا تُرِيدُ إِلَی أَمْرٍ فَعَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَنْهَی عَنْهُ فَقَالَ عُثْمَانُ دَعْنَا مِنْکَ فَقَالَ إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَدَعَکَ فَلَمَّا أَنْ رَأَی عَلِيٌّ ذَلِکَ أَهَلَّ بِهِمَا جَمِيعًا
محمد بن مثنی، محمد بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، عمرو بن مرہ، حضرت سعید بن مسیب ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ حضرت علی اور حضرت عثمان ؓ مقام عسفان میں اکٹھے ہوئے تو حضرت عثمان ؓ حج تمتع یا عمرہ سے حج کے دنوں میں منع فرماتے تھے تو حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ آپ اس کام کے بارے میں کیا چاہتے ہیں جسے خود رسول اللہ ﷺ نے کیا ہے اور آپ اس سے روک رہے ہیں تو حضرت عثمان ؓ نے فرمایا کہ تم ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دو حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ مجھے آپ کو چھوڑنے کی ہمت نہیں ہے پھر جب حضرت علی ؓ نے یہ حال دیکھا تو انہوں نے حج اور عمرہ کا اکٹھا احرام باندھا۔
Said bin al-Musayyab reported that Ali and Uthman (RA) met at Usfan; and Uthman used to forbid (people) from performing Tamattu and Umrah (during the period of Hajj), whereupon Ali said: What is your opinion about a matter which the Messenger of Allah ﷺ did, but you forbid it? Thereupon Uthman said: You leave us alone, whereupon he (Ali) said: I cannot leave you alone. When Ali saw this, he put on Ihram for both of them together (both for Hajj and Umrah).
حج تمتع کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کَانَتْ الْمُتْعَةُ فِي الْحَجِّ لِأَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً
سعید بن منصور، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، ابراہیم تیمی، حضرت ابوذر ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ حج تمتع محمد ﷺ کے صحابہ کے لئے مخصوص تھا۔
Abu Dharr (RA) said that Tamattu in Hajj was a special (concession) for the Companions of Muhammad ﷺ .
حج تمتع کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَيَّاشٍ الْعَامِرِيِّ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کَانَتْ لَنَا رُخْصَةً يَعْنِي الْمُتْعَةَ فِي الْحَجِّ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدالرحمن بن مہدی، سفیان، عیاش عامری، ابراہیم تیمی، حضرت ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان فرمایا حج میں تمتع کی ہمارے لئے رخصت تھی۔
Abu Dharr (RA) reported: Tamattu in Hajj was a special concession for us.
حج تمتع کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ فُضَيْلٍ عَنْ زُبَيْدٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَا تَصْلُحُ الْمُتْعَتَانِ إِلَّا لَنَا خَاصَّةً يَعْنِي مُتْعَةَ النِّسَائِ وَمُتْعَةَ الْحَجِّ
قتیبہ بن سعید، جریر، فضیل، زبید، ابراہیم تیمی، حضرت ابراہیم تیمی ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ حضرت ابوذر ؓ نے فرمایا کہ دو متعے کسی کے لئے درست نہیں صرف ہمارے لئے ہی مخصوص تھے یعنی عورتوں سے متعہ اور دوسرا متعہ حج
Abu Dharr (RA) said: Two are the Mutas which were not permissible but only for us, i. e. temporary marriage with women and Tamattu in Hajj.
حج تمتع کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ بَيَانٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الشَّعْثَائِ قَالَ أَتَيْتُ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيَّ وَإِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيَّ فَقُلْتُ إِنِّي أَهُمُّ أَنْ أَجْمَعَ الْعُمْرَةَ وَالْحَجَّ الْعَامَ فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ لَکِنْ أَبُوکَ لَمْ يَکُنْ لِيَهُمَّ بِذَلِکَ قَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ بَيَانٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ مَرَّ بِأَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالرَّبَذَةِ فَذَکَرَ لَهُ ذَلِکَ فَقَالَ إِنَّمَا کَانَتْ لَنَا خَاصَّةً دُونَکُمْ
قتیبہ، جریر، بیان، حضرت عبدالرحمن بن ابی شعثاء ؓ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابراہیم نخعی ؓ اور حضرت ابراہیم تیمی ؓ کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا کہ میں اس سال حج اور عمرہ اکٹھا کرنا چاہتا ہوں حضرت ابراہیم نخعی فرمانے لگے کہ تیرے والد تو اس طرح نہیں کرتے تھے حضرت ابراہیم تیمی ؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ حضرت ابوذر ؓ کے پاس سے ربذہ کے مقام میں گزرے تو انہوں نے حضرت ابوذر ؓ سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ ہمارے لئے مخصوص تھا نہ کہ تمہارے لئے۔
Abdul Rahman bin Abi al-Shatha reported: I came to Ibrahim al-Nakha and Ibrahim Taimi and said: I intend to combine Umrah and Hajj this year, whereupon Ibrahim al-Nakhai said: But your father did not make such intention. Ibrahim narrated on the authority of his father that he passed by Abu Dharr (RA) at Rabdha, and made a mention of that, whereupon he said: It was a special concession for us and not for you.
حج تمتع کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا عَنْ الْفَزَارِيِّ قَالَ سَعِيدٌ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ عَنْ غُنَيْمِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ سَأَلْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ الْمُتْعَةِ فَقَالَ فَعَلْنَاهَا وَهَذَا يَوْمَئِذٍ کَافِرٌ بِالْعُرُشِ يَعْنِي بُيُوتَ مَکَّةَ
سعید بن منصور، ابن ابی عمر، فراری، سعید، مروان بن معاویہ، سلیمان تیمی، حضرت غنیم بن قیس ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے تمتع کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم نے اس کو کیا ہے اور یہ یعنی حضرت معاویہ ؓ اس دن مکہ مکرمہ کے گھروں میں کفر کی حالت میں تھے
Ghunaim bin Qais said: I asked Sad bin Abu Waqqas (RA) about Mutah, whereupon he said: We did that, and it was the day when he was an unbeliever living in (one of the) houses of Makkah.
حج تمتع کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ فِي رِوَايَتِهِ يَعْنِي مُعَاوِيَةَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، یحییٰ بن سعید، حضرت سلیمان یتمی ؓ سے اس سند کے ساتھ روایت ہے اور ایک روایت میں انہوں نے کہا یعنی حضرت معاویہ ؓ
This hadith has been narrated on the authority of Sulaiman Taimi with the same chain of transmitters and in his narration (he) refers to Muawiyahh.