حج تمتع کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي خَلَفٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ جَمِيعًا عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ حَدِيثِهِمَا وَفِي حَدِيثِ سُفْيَانَ الْمُتْعَةُ فِي الْحَجِّ
عمرو ناقد، ابواحمدزبیری، سفیان، محمد بن ابی خلف، روح بن عبادہ، شعبہ، حضرت سلیمان تیمی ؓ سے اس سند کے ساتھ ان دونوں حدیثوں کی طرح روایت ہے اور سفیان کی حدیث میں حج میں تمتع کے الفاظ ہیں۔
This hadith has been transmitted on the authority of Sulaiman (but with a slight modification of words).
حج تمتع کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي الْعَلَائِ عَنْ مُطَرِّفٍ قَالَ قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ إِنِّي لَأُحَدِّثُکَ بِالْحَدِيثِ الْيَوْمَ يَنْفَعُکَ اللَّهُ بِهِ بَعْدَ الْيَوْمِ وَاعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْمَرَ طَائِفَةً مِنْ أَهْلِهِ فِي الْعَشْرِ فَلَمْ تَنْزِلْ آيَةٌ تَنْسَخُ ذَلِکَ وَلَمْ يَنْهَ عَنْهُ حَتَّی مَضَی لِوَجْهِهِ ارْتَأَی کُلُّ امْرِئٍ بَعْدُ مَا شَائَ أَنْ يَرْتَئِيَ
زہیر بن حرب، اسماعیل بن ابراہیم، جریری، ابی العلاء، حضرت مطرف ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا حضرت عمران بن حصین ؓ نے مجھ سے فرمایا کہ میں تجھے آج ایک ایسی حدیث بیان کروں گا کہ آج کے بعد اس حدیث کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ تجھے نفع عطاء فرمائیں گے اور جان لے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے گھر والوں میں سے ایک جماعت کو ذی الحج کے عشرہ میں عمرہ کروایا تو کوئی آیت اس کو منسوخ کرنے والی نازل نہیں ہوئی اور نہ آپ ﷺ نے اس سے منع فرمایا یہاں تک کہ آپ اس (فانی دنیا) سے رخصت ہوگئے۔ اس کے بعد ہر آدمی جس طرح چاہے اپنی رائے سے بیان کرے۔
Mutarrif reported: Imran bin Husain said to me: Should I not narrate to you a hadith today by which Allah will benefit you subsequently-and bear in mind that Allahs Messenger ﷺ made some members of his family perform Umrah within ten days of Dhul-Hijja. No verse was revealed to abrogate that, and he (the Holy Prophet) did not refrain from doing it till he died. So after him everyone said as he liked, (but it would be his personal opinion and not the verdict of the Shariah).
حج تمتع کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ کِلَاهُمَا عَنْ وَکِيعٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْجُرَيْرِيِّ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ و قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ فِي رِوَايَتِهِ ارْتَأَی رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَائَ يَعْنِي عُمَرَ
اسحاق بن ابراہیم، محمد بن حاتم، وکیع، سفیان، حضرت جریری ؓ نے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی ہے اور ابن حاتم ؓ نے اپنی روایت میں کہا کہ پھر ایک آدمی نے اپنی رائے سے جو چاہا کہہ دیا یعنی حضرت عمر ؓ۔
This hadith been narrated on the authority of Jurairi with the same chain of transmitters, and Ibn Hatim said in his narration: "A person said according to his personal opinion, and it was Umar."
حج تمتع کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ مُطَرِّفٍ قَالَ قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ أُحَدِّثُکَ حَدِيثًا عَسَی اللَّهُ أَنْ يَنْفَعَکَ بِهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ حَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ ثُمَّ لَمْ يَنْهَ عَنْهُ حَتَّی مَاتَ وَلَمْ يَنْزِلْ فِيهِ قُرْآنٌ يُحَرِّمُهُ وَقَدْ کَانَ يُسَلَّمُ عَلَيَّ حَتَّی اکْتَوَيْتُ فَتُرِکْتُ ثُمَّ تَرَکْتُ الْکَيَّ فَعَادَ
عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، حمید بن ہلال، حضرت مطرف ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ مجھے عمران بن حصین ؓ نے فرمایا کہ میں تجھ سے ایک حدیث بیان کروں گا شاید کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ سے تجھے نفع دے وہ یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے حج اور عمرہ دونوں کو ایک ساتھ اکٹھا کیا پھر ان سے منع بھی نہیں فرمایا یہاں تک کہ آپ ﷺ دنیا سے رحلت فرما گئے اور نہ ہی اس کی حرمت کے بارے میں قرآن نازل ہوا اور مجھ پر سلام کیا جاتا تھا جب تک کہ میں نے داغ نہیں لگوایا تو جب میں نے داغ لیا تو سلام چھوٹ گیا پھر میں نے داغ لینا چھوڑا تو مجھ پر پھر سلام کیا جانے لگا۔
Imran bin Husain reported: I am narrating to you a hadith by which Allah will benefit you (and the hadith is) that Allahs Messenger ﷺ combined Hajj and Umrah, and he did not forbid (this combination) till he died. (Moreover) nothing was revealed in the Holy Quran which forbade it. And I was always blessed till I was branded and then it (blessing) was abandoned. I then abandoned branding and it (the blessing was restored).
حج تمتع کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ قَالَ سَمِعْتُ مُطَرِّفًا قَالَ قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ مُعَاذٍ
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، حضرت حمید بن ہلال ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت مطرف ؓ سے سنا انہوں نے فرمایا کہ مجھے حضرت عمران بن حصین ؓ اور حضرت معاذ ؓ کی حدیث کی طرح فرمایا۔
This hadith has been narrated on the authority of Mutarrif with the same chain of transmitters.
حج تمتع کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفٍ قَالَ بَعَثَ إِلَيَّ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ فَقَالَ إِنِّي کُنْتُ مُحَدِّثَکَ بِأَحَادِيثَ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَنْفَعَکَ بِهَا بَعْدِي فَإِنْ عِشْتُ فَاکْتُمْ عَنِّي وَإِنْ مُتُّ فَحَدِّثْ بِهَا إِنْ شِئْتَ إِنَّهُ قَدْ سُلِّمَ عَلَيَّ وَاعْلَمْ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَمَعَ بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ فِيهَا کِتَابُ اللَّهِ وَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَجُلٌ فِيهَا بِرَأْيِهِ مَا شَائَ
محمد بن مثنی، ابن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، حضرت مطرف ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ حضرت عمران بن حصین ؓ نے اپنی اس بیماری میں کہ جس میں وہ وفات پا گئے مجھے بلا بھیج کر فرمایا کہ میں تجھ سے کچھ احادیث بیان کروں گا شاید کہ میرے بعد اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ سے تجھے نفع عطا فرمائے تو اگر میں زندہ رہا تو تم ان احادیث کو میرے نام سے ظاہر نہ کرنا اور اگر میں وفات پا گیا تو اگر تو چاہے تو اسے بیان کردینا کیونکہ مجھ پر فرشتوں کی طرف سے سلام کیا گیا اور میں اچھی طرح سے جانتا ہوں کہ نبی ﷺ نے حج اور عمرہ دونوں کو ایک ساتھ اکٹھے ادا فرمایا پر اس کے بارے میں اللہ کی کتاب میں کوئی حکم بھی نازل نہیں ہوا اور نہ ہی نبی ﷺ نے اس سے منع فرمایا کوئی آدمی اس بارے میں اپنی رائے سے جو چاہے کہہ دے۔
Mutarrif reported: Imran bin Husain sent for me during his illness of which he died, and said: I am narrating to you some ahadith which may benefit you after me. If I live you conceal (the fact that these have been transmitted by me), and if I die, then you narrate them if you like (and these are): I am blessed, and bear in mind that the Messenger of Allah ﷺ combined Hajj and Umrah. Then no verse was revealed in regard to it in the Book of Allah (which abrogated it) and the Apostle of Allah ﷺ did not forbid (from doing it). And whatever a person (Umar) said was out of his personal opinion.
حج تمتع کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ فِيهَا کِتَابٌ وَلَمْ يَنْهَنَا عَنْهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِيهَا رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَائَ
اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، سعیدابن ابی عروبہ، قتادہ، مطرف بن عبداللہ بن شخیر، حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے حج اور عمرہ دونوں ایک ساتھ اکٹھے ادا فرمائے پھر اس کے بارے میں قرآن بھی نازل نہیں ہوا اور نہ ہی رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں حج اور عمرہ کا اکٹھا ادا کرنے سے منع فرمایا تو ایک آدمی نے اس بارے میں اپنی رائے سے جو چاہا کہہ دیا۔
Imran bin al-Husain (RA) said: Know well that Allahs Messenger ﷺ combined Hajj and Umrah, and nothing was revealed in the Book (to abrogate it), and the Messenger of Allah ﷺ too did not forbid us from (combining) them. And whatever a person said was out of his personal opinion.
حج تمتع کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَنْزِلْ فِيهِ الْقُرْآنُ قَالَ رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَائَ
محمد بن مثنی، عبدالصمد، ہمام، قتادہ، مطرف، حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج تمتع کیا اور اس بارے میں قرآن میں نازل نہیں ہوا تو ایک آدمی نے اس بارے میں اپنی رائے سے جو چاہا کہہ دیا۔
Imran bin Husain (RA) reported: We performed Tamattu (Hajj and Umrah combining together) in the company of Allahs Messenger ﷺ , and nothing was revealed in the Quran (concerning the abrogation of this practice), and whatever a person (Hadhrat Umar) said was his personal opinion. Imran bin Husain narrated this hadith (in these words also): "Allahs Apostle ﷺ performed Hajj Tamattu and we also performed it along with him."
حج تمتع کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ وَاسِعٍ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ تَمَتَّعَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَمَتَّعْنَا مَعَهُ
حجاج بن شاعر، عبیداللہ بن عبدالمجید، اسماعیل بن مسلم، محمد بن واسع، مطرف بن عبداللہ بن شخیر، حضرت عمران بن حصین ؓ نے اس حدیث کے ساتھ روایت کیا ہے انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے حج تمتع فرمایا اور ہم نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ حج تمتع کیا۔
Imran bin Husain said: There was revealed the verse of Tamattu in Hajj in the Book of Allah and the Messenger of Allah ﷺ commanded us to perform it. and then no verse was revealed abrogating the Tamattu (form of Hajj), and the Messenger of Allah ﷺ did not forbid to do it till he died. So whatever a person said was his personal opinion. A hadith like this is transmitted on the authority of Imran bin Husain, but with this variation that he (Imran) said: We did that (Tamattu) in the company of Allahs Messenger ﷺ and he did not say anything but he (the Holy Prophet) commanded us to do it.
حج تمتع کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَکْرَاوِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِي رَجَائٍ قَالَ قَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ نَزَلَتْ آيَةُ الْمُتْعَةِ فِي کِتَابِ اللَّهِ يَعْنِي مُتْعَةَ الْحَجِّ وَأَمَرَنَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ لَمْ تَنْزِلْ آيَةٌ تَنْسَخُ آيَةَ مُتْعَةِ الْحَجِّ وَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی مَاتَ قَالَ رَجُلٌ بِرَأْيِهِ بَعْدُ مَا شَائَ
حامد بن عمر بکروای، محمد بن ابی بکر مقدمی، بشربن مفضل، عمران بن مسلم، حضرت ابورجاء ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ حضرت عمران بن حصین ؓ نے فرمایا کہ حج میں تمتع کی آیت اللہ کی کتاب قرآن مجید میں نازل ہوئی اور رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اسے کرنے کا حکم فرمایا پھر کوئی آیت نازل نہیں ہوئی کہ جس آیت نے حج میں تمتع کی آیت کو منسوخ کردیا ہو اور نہ ہی رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا یہاں تک کہ آپ ﷺ اس دینا سے رحلت فرما گئے۔ اب اس کے بعد اس بارے میں ایک آدمی نے اپنی رائے سے جو چاہا کہہ دیا۔
Imran bin Husain said: There was revealed the verse of Tamattu in Hajj in the Book of Allah and the Messenger of Allah ﷺ commanded us to perform it. and then no verse was revealed abrogating the Tamattu (form of Hajj), and the Messenger of Allah ﷺ did not forbid to do it till he died. So whatever a person said was his personal opinion. A hadith like this is transmitted on the authority of Imran bin Husain, but with this variation that he (Imran) said: We did that (Tamattu) in the company of Allahs Messenger ﷺ and he did not say anything but he (the Holy Prophet) commanded us to do it.
حج تمتع کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عِمْرَانَ الْقَصِيرِ حَدَّثَنَا أَبُو رَجَائٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَفَعَلْنَاهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَقُلْ وَأَمَرَنَا بِهَا
محمد بن حاتم، یحییٰ بن سعید، عمران، قصیر، ابورجاء، حضرت عمران بن حصین ؓ نے اسی حدیث کی طرح روایت کیا ہے سوائے اس کے کہ اس میں انہوں نے فرمایا (وَفَعَلْنَاهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ) یعنی ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اس کو کیا اور اس حدیث میں أَمَرَنَا بِهَا یعنی ہمیں آپ ﷺ نے اس کا حکم فرمایا یہ نہیں فرمایا۔
Imran bin Husain said: There was revealed the verse of Tamattu in Hajj in the Book of Allah and the Messenger of Allah ﷺ commanded us to perform it. and then no verse was revealed abrogating the Tamattu (form of Hajj), and the Messenger of Allah ﷺ did not forbid to do it till he died. So whatever a person said was his personal opinion. A hadith like this is transmitted on the authority of Imran bin Husain, but with this variation that he (Imran) said: We did that (Tamattu) in the company of Allahs Messenger ﷺ and he did not say anything but he (the Holy Prophet) commanded us to do it.
حج تمتع کرنے والوں پر قربانی کے واجب ہونے اور اس بات کے بیان میں کہ قربانی کی استطاعت نہ ہونے کی صورت میں حج دنوں میں تین روزے اور اپنے گھر کی طرف لوٹ کر سات روزے رکھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَی الْحَجِّ وَأَهْدَی فَسَاقَ مَعَهُ الْهَدْيَ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَبَدَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ ثُمَّ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَتَمَتَّعَ النَّاسُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعُمْرَةِ إِلَی الْحَجِّ فَکَانَ مِنْ النَّاسِ مَنْ أَهْدَی فَسَاقَ الْهَدْيَ وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ يُهْدِ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَکَّةَ قَالَ لِلنَّاسِ مَنْ کَانَ مِنْکُمْ أَهْدَی فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ مِنْ شَيْئٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّی يَقْضِيَ حَجَّهُ وَمَنْ لَمْ يَکُنْ مِنْکُمْ أَهْدَی فَلْيَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلْيُقَصِّرْ وَلْيَحْلِلْ ثُمَّ لِيُهِلَّ بِالْحَجِّ وَلْيُهْدِ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا فَلْيَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَی أَهْلِهِ وَطَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَدِمَ مَکَّةَ فَاسْتَلَمَ الرُّکْنَ أَوَّلَ شَيْئٍ ثُمَّ خَبَّ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ مِنْ السَّبْعِ وَمَشَی أَرْبَعَةَ أَطْوَافٍ ثُمَّ رَکَعَ حِينَ قَضَی طَوَافَهُ بِالْبَيْتِ عِنْدَ الْمَقَامِ رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَانْصَرَفَ فَأَتَی الصَّفَا فَطَافَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعَةَ أَطْوَافٍ ثُمَّ لَمْ يَحْلِلْ مِنْ شَيْئٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّی قَضَی حَجَّهُ وَنَحَرَ هَدْيَهُ يَوْمَ النَّحْرِ وَأَفَاضَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ حَلَّ مِنْ کُلِّ شَيْئٍ حَرُمَ مِنْهُ وَفَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَهْدَی وَسَاقَ الْهَدْيَ مِنْ النَّاسِ
عبدالملک بن شعیب بن لیث، عقیل بن خالد، ابن شہاب، حضرت سالم بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے۔ کہ حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے حجہ الوداع میں عمرہ کے ساتھ حج ملا کر فرمایا اور قربانی کی اور قربانی کے جانور ذی الحلیفہ سے اپنے ساتھ لے گئے اور شروع میں رسول اللہ ﷺ نے عمرہ کا تلبیہ پڑھا پھر اس کے بعد حج کا تلبیہ پڑھا اور لوگوں نے بھی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عمرہ کے ساتھ حج کا تمتع کیا اور لوگوں میں سے کسی کے پاس اپنی قربانی نہیں تھی پھر جب رسول اللہ ﷺ مکہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے لوگوں سے فرمایا کہ تم میں سے جس کے پاس قربانی ہو تو وہ ان کاموں میں سے کسی سے حلال نہ ہو جن سے احرام کی حالت میں دور رہا تھا جب تک کہ وہ حج سے فارغ نہ ہوجائے اور تم میں سے جس کے پاس قربانی نہ ہو وہ بیت اللہ اور صفا ومروہ کا طواف کر کے بال کٹوا لے اور حلال ہوجائے پھر حج کا تلبیہ پڑھے احرام باندھے اور اس کے بعد قربانی کرے اور اگر قربانی نہ پائے تو پھر وہ حج کے دنوں میں تین روزے رکھے جب اپنے گھر کی طرف واپس لوٹے تو سات روزے رکھے۔ الغرض جس وقت رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے طواف کیا اور حجر اسود کو استلام کیا پھر طواف کے سات چکروں میں سے تین چکروں میں رمل فرمایا اور باقی چار چکروں میں اپنی حالت میں چلے پھر جب طواف سے فارغ ہوئے تو بیت اللہ میں مقام ابراہیم کے پاس دو رکعت پڑھیں پھر سلام پھیرا اور لوٹے اور صفا پر تشریف لائے اور صفا اور مروہ کے درمیان سات چکر لگائے پھر ان چیزوں میں سے کسی کو اپنے اوپر حلال نہیں فرمایا جن کو احرام کی وجہ سے اپنے اوپر حرام کیا تھا یہاں تک کہ اپنے حج سے فارغ ہوگئے اور قربانی کے دن اپنی قربانی ذبح کی اور پھر مکہ واپس لوٹ آئے اور طواف افاضہ کیا اور ان چیزوں کو جن کو احرام کیوجہ سے اپنے اوپر حرام کیا حلال کرلیا اور لوگوں میں سے جو لوگ اپنے ساتھ قربانی لائے تھے انہوں نے بھی اسی طرح کیا جس طرح رسول اللہ ﷺ نے کیا۔
Abdullah bin Umar (RA) reported: Allahs Messenger ﷺ observed Tamattu in Hajjat-ul-Wada. He first put on Ihram for Umrah and then for Hajj. and then offered animal sacrifice. So he drove the sacrificial animals with him from Dhul-Hulaifa. Allahs Messenger ﷺ commenced Ihram of Umrah and thus pronounced Talbiya for Umrah. and then (put on Ihram for Hajj) and pronounced Talbiya for Hajj. And the people performed Tamattu in the company of Allahs Messenger ﷺ . They put on Ihram for Umrah (first) and then for Hajj. Some of them had sacrificial animals which they had brought with them, whereas some of them had none to sacrifice. So when Allahs Messenger ﷺ came to Makkah, he said to the people: He who amongst you has brought sacrificial animals along with him must not treat as lawful anything which has become unlawful for him till he has completed the Hajj; and he, who amongst you has not brought the sacrificial animals should circumambulate the House, and run between al-Safa and al-Marwah and clip (his hair) and put off the Ihram, and then again put on the Ihram for Hajj and offer sacrifice of animals. But he who does not find the sacrificial animal, he should observe fast for three days during the Hajj and for seven days when he returns to his family. Allahs Messenger ﷺ circumambulated (the House) when he came to Makkah: he first kissed the corner (of the Ka’bah containing the Black Stone), then ran in three circuits out of seven and walked in four circuits. And then when he had finished the circumambulation of the House he observed two rakahs of prayer at the Station (of Ibrahim), and then pronounced Salaam (for concluding the rakahs), and departed and came to al-Safa and ran seven times between al-Safa and al-Marwah. After that he did not treat anything as lawful which had become unlawful till he had completed his Hajj and sacrificed his animal on the day of sacrifice (10th of Dhul-Hijja). and then went back quickly (to Makkah) and performed circumambulation of the House (known as tawaf ifada) after which all that was unlawful for him became lawful; and those who had brought the sacrificial animals along with them did as Allahs Messenger ﷺ had done.
حج تمتع کرنے والوں پر قربانی کے واجب ہونے اور اس بات کے بیان میں کہ قربانی کی استطاعت نہ ہونے کی صورت میں حج دنوں میں تین روزے اور اپنے گھر کی طرف لوٹ کر سات روزے رکھے۔
و حَدَّثَنِيهِ عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَمَتُّعِهِ بِالْحَجِّ إِلَی الْعُمْرَةِ وَتَمَتُّعِ النَّاسِ مَعَهُ بِمِثْلِ الَّذِي أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
عبدالملک بن شعیب بن لیث، عقیل، ابن شہاب، حضرت عروہ بن زبیر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ خبر دیتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے آپ ﷺ کے تمتع بالحج اور آپ ﷺ کے ساتھ لوگوں کے تمتع بالحج کی روایت اسی طرح نقل فرمائی جس طرح کہ حضرت سالم بن عبداللہ ؓ نے حضرت عبداللہ ؓ سے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Aisha. The wife of Allahs Messenger ﷺ , concerning his Tamattu of Hajj and Umrah and performing of Tamattu by people in his company.
اس بات کے بیان میں کہ قارن اس وقت احرام کھولے جس وقت کہ مفرد بالحج احرام کھولتا ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ حَفْصَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا وَلَمْ تَحْلِلْ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِکَ قَالَ إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي وَقَلَّدْتُ هَدْيِي فَلَا أَحِلُّ حَتَّی أَنْحَرَ
یحییٰ بن یحیی، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت حفصہ ؓ نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ عرض کرتی ہیں اے اللہ کے رسول ﷺ کیا وجہ ہے کہ لوگ اپنے عمرہ سے حلال ہوگئے اور آپ ﷺ اپنے عمرہ سے حلال نہیں ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے اپنے سر کے بالوں کو جمایا ہے اور اپنی قربانی کو قلادہ ڈالا ہے تو میں حلال نہیں ہوں گا جب تک کہ قربانی نہ کرلوں۔
Hafsa (Allah be pleased with her), the wife of Allahs Apostle ﷺ , said: Messenger of Allah. what about people who have put off Ihram whereas you have not put it off after your Umrah? He said: I have stuck my hair and have driven my sacrificial animal, and would not, therefore, put off Ihram until I have sacrificed the animal.
اس بات کے بیان میں کہ قارن اس وقت احرام کھولے جس وقت کہ مفرد بالحج احرام کھولتا ہے۔
و حَدَّثَنَاه ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ عَنْ مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَکَ لَمْ تَحِلَّ بِنَحْوِهِ
ابن نمیر، خالد بن مخلد، مالک، نافع، ابن عمر، حضرت حفصہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ کو کیا ہوا کہ آپ ﷺ حلال نہیں ہوئے باقی روایت اسی طرح سے ہے۔
Hafsa (Allah be pleased with her) reported: I said: Messenger of Allah ﷺ what is the matter with you that you have not put off Ihram? The rest of the hadith is the same.
اس بات کے بیان میں کہ قارن اس وقت احرام کھولے جس وقت کہ مفرد بالحج احرام کھولتا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ قَالَتْ قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا وَلَمْ تَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِکَ قَالَ إِنِّي قَلَّدْتُ هَدْيِي وَلَبَّدْتُ رَأْسِي فَلَا أَحِلُّ حَتَّی أَحِلَّ مِنْ الْحَجِّ
محمد بن مثنی، یحییٰ بن سعید، عبیداللہ، نافع، ابن عمر، حضرت حفصہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ کیا بات ہے کہ لوگ اپنے عمرہ سے حلال ہوگئے اور آپ ﷺ اپنے عمرہ سے حلال نہیں ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے اپنی قربانی کو قلادہ ڈالا ہے اور اپنے سر کے بال جمائے ہیں تو میں حلال نہیں ہوں گا جب تک کہ حج کا احرام نہ کھول دوں۔
Hafsa (Allah be pleased with her) reported: I said to Allahs Messenger ﷺ : What is the matter with people that they have put off Ihram, whereas you have not put it off after your Umrah? He said: I have driven my sacrificial animal and stuck my hair, and it is not permissible for me to put off Ihram unless I have completed the Hajj.
اس بات کے بیان میں کہ قارن اس وقت احرام کھولے جس وقت کہ مفرد بالحج احرام کھولتا ہے۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِکٍ فَلَا أَحِلُّ حَتَّی أَنْحَرَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، عبیداللہ، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت حفصہ ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ پھر آگے مالک کی حدیث کی طرح نقل کیا اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں حلال نہیں ہوں گا جب تک کہ قربانی نہ کرلوں۔
Hafsa (Allah be pleased with her) said: Messenger of Allah; the rest of the hadith is the same and (the concluding words of the Holy Prophet): "I wont put off Ihram until I have sacrificed the animal."
اس بات کے بیان میں کہ قارن اس وقت احرام کھولے جس وقت کہ مفرد بالحج احرام کھولتا ہے۔
و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَخْزُومِيُّ وَعَبْدُ الْمَجِيدِ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يَحْلِلْنَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ قَالَتْ حَفْصَةُ فَقُلْتُ مَا يَمْنَعُکَ أَنْ تَحِلَّ قَالَ إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي وَقَلَّدْتُ هَدْيِي فَلَا أَحِلُّ حَتَّی أَنْحَرَ هَدْيِي
ابن ابی عمر، ہشام بن سلیمان مخزومی، عبدالمجید، ابن جریج، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ مجھ سے حضرت حفصہ ؓ نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے حجہ الوداع کے سال اپنی ازواج مطہرات ؓ کو حکم فرمایا کہ وہ حلال ہوجائیں تو میں نے عرض کیا کہ آپ ﷺ کو کس چیز نے حلال ہونے سے روکا ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے اپنے سر کے بالوں کو جمایا ہے اور اپنی قربانی کو قلادہ ڈال رکھا ہے تو میں حلال نہیں ہوں گا جب تک کہ میں اپنی قربانی ذبح نہ کرلوں۔
Hafsa (Allah be pleased with her) said that Allahs Apostle ﷺ commanded his wives that they should put off Ihram during the year of Hajj (at-ul-Wada) whereupon she (Hafsa) said: What hinders you that you have not put off Ihram? Thereupon he said: I have stuck my hair and driven my sacrificial animal along with me and it is not permissible to put off Ihram (under this condition until I have sacrificed the animal.
احصار کے وقت احرام کھولنے کے جوازقران اور قارن کے لئے ایک ہی طواف اور ایک ہی سعی کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا خَرَجَ فِي الْفِتْنَةِ مُعْتَمِرًا وَقَالَ إِنْ صُدِدْتُ عَنْ الْبَيْتِ صَنَعْنَا کَمَا صَنَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ فَأَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَسَارَ حَتَّی إِذَا ظَهَرَ عَلَی الْبَيْدَائِ الْتَفَتَ إِلَی أَصْحَابِهِ فَقَالَ مَا أَمْرُهُمَا إِلَّا وَاحِدٌ أُشْهِدُکُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ الْحَجَّ مَعَ الْعُمْرَةِ فَخَرَجَ حَتَّی إِذَا جَائَ الْبَيْتَ طَافَ بِهِ سَبْعًا وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعًا لَمْ يَزِدْ عَلَيْهِ وَرَأَی أَنَّهُ مُجْزِئٌ عَنْهُ وَأَهْدَی
یحییٰ بن یحیی، مالک، نافع ؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ فتنہ کے دور میں عمرہ کی ادائیگی کے لئے نکلے اور فرمایا کہ اگر ہمیں بیت اللہ تک جانے سے روک دیا گیا جس طرح کہ ہم (قریش) نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کیا تھا وہ نکلے اور عمرہ کا احرام باندھا اور چلے یہاں تک کہ جب مقام حج اور عمرہ یبداء پر آئے تو اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا حج اور عمرہ دونوں کا ایک ہی حکم ہے میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرہ کے ساتھ حج کو واجب کرلیا ہے تو وہ نکلے یہاں تک کہ جب وہ بیت اللہ پر آئے تو اس کے سات چکر لگائے اور صفا اور مروہ کے درمیان بھی سات چکر لگائے اس پر کچھ زیادہ نہیں کیا اور اسی کو کافی خیال کیا اور قربانی کی۔
Nafi reported that Abdullah bin Umar (RA) set out for Umrah during the turmoil, and he said: If I am detained (from going to) the House, we would do the same as we did with Allahs Messenger ﷺ . So he went out and put on Ihram for Umrah and moved on until he reached al-Baida. He turned towards his Companions and said: There is one command for both of them and I call you as my witness (and say) that verify I have made Hajj with Umrah compulsory for me. He proceeded until, when he came to the House, he circumambulated it seven times and ran between al-Safa and al-Marwah seven times, and made no addition to it and thought it to be sufficient for him and offered sacrifice.
احصار کے وقت احرام کھولنے کے جوازقران اور قارن کے لئے ایک ہی طواف اور ایک ہی سعی کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِي نَافِعٌ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ کَلَّمَا عَبْدَ اللَّهِ حِينَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ لِقِتَالِ ابْنِ الزُّبَيْرِ قَالَا لَا يَضُرُّکَ أَنْ لَا تَحُجَّ الْعَامَ فَإِنَّا نَخْشَی أَنْ يَکُونَ بَيْنَ النَّاسِ قِتَالٌ يُحَالُ بَيْنَکَ وَبَيْنَ الْبَيْتِ قَالَ فَإِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَعَلْتُ کَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ حِينَ حَالَتْ کُفَّارُ قُرَيْشٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ أُشْهِدُکُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً فَانْطَلَقَ حَتَّی أَتَی ذَا الْحُلَيْفَةِ فَلَبَّی بِالْعُمْرَةِ ثُمَّ قَالَ إِنْ خُلِّيَ سَبِيلِي قَضَيْتُ عُمْرَتِي وَإِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَعَلْتُ کَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ ثُمَّ تَلَا لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ثُمَّ سَارَ حَتَّی إِذَا کَانَ بِظَهْرِ الْبَيْدَائِ قَالَ مَا أَمْرُهُمَا إِلَّا وَاحِدٌ إِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْعُمْرَةِ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْحَجِّ أُشْهِدُکُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجَّةً مَعَ عُمْرَةٍ فَانْطَلَقَ حَتَّی ابْتَاعَ بِقُدَيْدٍ هَدْيًا ثُمَّ طَافَ لَهُمَا طَوَافًا وَاحِدًا بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ لَمْ يَحِلَّ مِنْهُمَا حَتَّی حَلَّ مِنْهُمَا بِحَجَّةٍ يَوْمَ النَّحْرِ
محمد بن مثنی، یحییٰ (قطان)، عبیداللہ، نافع، عبداللہ بن عبداللہ، سالم بن عبداللہ، حضرت نافع ؓ نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن عبداللہ ؓ اور حضرت سالم بن عبداللہ ؓ نے حضرت عبداللہ ؓ سے کہا جس وقت کہ حجاج حضرت ابن زبیر ؓ سے قتال کے لئے آیا کہ آپ کا کوئی نقصان نہیں ہوگا اگر آپ اس سال حج نہ کریں کیونکہ ہمیں ڈر ہے کہ لوگوں کے درمیان قتال واقع نہ ہوجائے حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان یہ چیز حائل ہوئی تو میں بھی اسی طرح کروں گا جس طرح کہ رسول اللہ ﷺ نے کیا تھا اور میں آپ ﷺ کے ساتھ تھا جس وقت کہ کفار قریش آپ ﷺ اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہوگئے تھے میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے اوپر عمرہ واجب کرلیا ہے۔ چناچہ حضرت عبداللہ چلے جب ذوالحلیفہ آئے تو آپ نے عمرہ کا تلبیہ پڑھا۔ اس کے بعد فرمایا کہ اگر میرا راستہ چھوڑ دیا گیا تو میں اپنا عمرہ پورا کرلوں گا اور اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان رکاوٹ پیدا کردی گئی تو میں وہی کروں گا جس طرح کہ رسول اللہ ﷺ نے کیا تھا اور میں آپ کے ساتھ تھا۔ پھر یہ آیت تلاوت کی، (لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ) 33۔ الأحزاب: 21)، پھر چلے یہاں تک کہ جب بیداء کے مقام پر آئے تو فرمایا کہ حج اور عمرہ دونوں کا ایک ہی حکم ہے اگر میرے اور عمرہ کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی تو حج کے درمیان بھی رکاوٹ ڈال دی جائے گی۔ تو میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے عمرہ کے ساتھ حج کو بھی واجب کرلیا ہے۔ تو آپ نکلے اور مقام قدید سے قربانی خریدی اور حج اور عمرہ دونوں کے لئے بیت اللہ کا ایک طواف کیا اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی پھر ان سے حلال نہیں ہوئے یہاں تک کہ یوم النحر کے دن حج کے ساتھ دونوں سے حلال ہوئے۔
Nafi reported that Abdullah bin Abdullah and Salim binAbdullah said to Abdullah (b. Umar) at the time when Hajjaj came to fight against Ibn Zubair: There would be no harm if you do not (proceed) for Hajj this year, for we fear that there would be fight among people which would cause obstruction between you and the House, whereupon he said: If there would be obstruction between me and that (Ka’bah), I would do as Allahs Messenger ﷺ did. I was with him (the Holy Prophet) when the infidels of Quraish caused obstructions between him (the Holy Prophet) and the House. I call you as my witness (to the fact) that I have made Umrah essential for me. He proceeded until he came to Dhul-Hulaifa and pronounced Talbiya for Umrah, and said: If the way Is clear forme, I would then complete my Umrah but If there is some obstruction between me and that (the Ka’bah). I would then do what Allahs Messenger ﷺ had done (at the occasion of Hudaibiya), and I was with him (the Holy Prophet). and then recited: "Verily in the Messenger of Allah, there is a model pattern for you" (xxxiii. 21). He then moved on until he came to the rear side of al-Baida and said: There is one command for both of them automatically) (Hajj and Umrah). If I am detained (in the performance) of Umrah, I am ( automatically detained (in the performance) of Hajj (too). I call you as witness that Hajj along with Umrah I had made essential for me. (I am performing Hajj and Umrah as Qiran.) He then bought sacrificial animals at Qudaid and then circumambulated the House and ran between al-Safa and al-Marwah once (covering both Hajj and Umrah), and did not put off Ihram until on the Day of Sacrifice in the month of Dhul-Hijja.