فضائل کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 46 · 558 hadiths · Page 20 of 29

6322Sahih Muslim

ابا طلحہ انصار کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَاتَ ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ مِنْ أُمِّ سُلَيْمٍ فَقَالَتْ لِأَهْلِهَا لَا تُحَدِّثُوا أَبَا طَلْحَةَ بِابْنِهِ حَتَّی أَکُونَ أَنَا أُحَدِّثُهُ قَالَ فَجَائَ فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ عَشَائً فَأَکَلَ وَشَرِبَ فَقَالَ ثُمَّ تَصَنَّعَتْ لَهُ أَحْسَنَ مَا کَانَ تَصَنَّعُ قَبْلَ ذَلِکَ فَوَقَعَ بِهَا فَلَمَّا رَأَتْ أَنَّهُ قَدْ شَبِعَ وَأَصَابَ مِنْهَا قَالَتْ يَا أَبَا طَلْحَةَ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ قَوْمًا أَعَارُوا عَارِيَتَهُمْ أَهْلَ بَيْتٍ فَطَلَبُوا عَارِيَتَهُمْ أَلَهُمْ أَنْ يَمْنَعُوهُمْ قَالَ لَا قَالَتْ فَاحْتَسِبْ ابْنَکَ قَالَ فَغَضِبَ وَقَالَ تَرَکْتِنِي حَتَّی تَلَطَّخْتُ ثُمَّ أَخْبَرْتِنِي بِابْنِي فَانْطَلَقَ حَتَّی أَتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِمَا کَانَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَارَکَ اللَّهُ لَکُمَا فِي غَابِرِ لَيْلَتِکُمَا قَالَ فَحَمَلَتْ قَالَ فَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ وَهِيَ مَعَهُ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَی الْمَدِينَةَ مِنْ سَفَرٍ لَا يَطْرُقُهَا طُرُوقًا فَدَنَوْا مِنْ الْمَدِينَةِ فَضَرَبَهَا الْمَخَاضُ فَاحْتُبِسَ عَلَيْهَا أَبُو طَلْحَةَ وَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقُولُ أَبُو طَلْحَةَ إِنَّکَ لَتَعْلَمُ يَا رَبِّ إِنَّهُ يُعْجِبُنِي أَنْ أَخْرُجَ مَعَ رَسُولِکَ إِذَا خَرَجَ وَأَدْخُلَ مَعَهُ إِذَا دَخَلَ وَقَدْ احْتَبَسْتُ بِمَا تَرَی قَالَ تَقُولُ أُمُّ سُلَيْمٍ يَا أَبَا طَلْحَةَ مَا أَجِدُ الَّذِي کُنْتُ أَجِدُ انْطَلِقْ فَانْطَلَقْنَا قَالَ وَضَرَبَهَا الْمَخَاضُ حِينَ قَدِمَا فَوَلَدَتْ غُلَامًا فَقَالَتْ لِي أُمِّي يَا أَنَسُ لَا يُرْضِعُهُ أَحَدٌ حَتَّی تَغْدُوَ بِهِ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَصْبَحَ احْتَمَلْتُهُ فَانْطَلَقْتُ بِهِ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَصَادَفْتُهُ وَمَعَهُ مِيسَمٌ فَلَمَّا رَآنِي قَالَ لَعَلَّ أُمَّ سُلَيْمٍ وَلَدَتْ قُلْتُ نَعَمْ فَوَضَعَ الْمِيسَمَ قَالَ وَجِئْتُ بِهِ فَوَضَعْتُهُ فِي حَجْرِهِ وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَجْوَةٍ مِنْ عَجْوَةِ الْمَدِينَةِ فَلَاکَهَا فِي فِيهِ حَتَّی ذَابَتْ ثُمَّ قَذَفَهَا فِي فِي الصَّبِيِّ فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُهَا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْظُرُوا إِلَی حُبِّ الْأَنْصَارِ التَّمْرَ قَالَ فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ

محمد بن حاتم، بن میمون بہز سلیمان بن مغیرہ ثابت حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابوطلحہ ؓ کا ایک بیٹا جو کہ حضرت ام سلیم سے تھا فوت ہوگیا تو حضرت ام سلیم نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ تم ابوطلحہ کو اس کے بیٹے کی خبر نہ بیان کرنا بلکہ میں خود ان سے بات کروں گی۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ پھر حضرت ابوطلحہ آئے تو ام سلیم ان کے سامنے شام کا کھانا لائیں انہوں نے کھانا کھایا اور پیا پھر ام سلیم نے ان کے لئے خوب بناؤ سنگھار کیا یہاں تک کہ حضرت ابوطلحہ نے ام سلیم سے ہم بستری کی تو جب حضرت ابوطلحہ نے دیکھا کہ وہ خوب سیر ہوگئے ہیں اور ان کے ساتھ صحبت بھی کرلی ہے تو پھر حضرت ام سلیم کہنے لگیں اے ابوطلحہ آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر کچھ لوگ کسی کو کوئی چیز ادھار دے دیں پھر وہ لوگ اپنی چیز واپس مانگیں تو کیا وہ ان کو واپس کرنے سے روک سکتے ہیں؟ حضرت ابوطلحہ ؓ نے کہا نہیں حضرت ام سلیم ؓ کہنے لگیں کہ میں آپ کو آپ کے بیٹے کی وفات کی خبر دیتی ہوں حضرت ابوطلحہ غصے میں ہوئے کہ تو نے مجھے بتایا کیوں نہیں یہاں تک کہ جب میں آلودہ ہوا پھر تو نے مجھے میرے بیٹے کی خبر دی پھر حضرت ابوطلحہ چلے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آگئے اور آپ ﷺ کو اس چیز کی خبر دی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ تمہاری گزری رات میں برکت عطا فرمائے۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر حضرت ام سلیم حاملہ ہوگئیں رسول اللہ ﷺ کسی سفر میں تھے اور حضرت ام سلیم بھی آپ کے ساتھ تھیں اور رسول اللہ ﷺ جب سفر سے واپس مدینہ منورہ آئے تھے تو رات کو مدینہ منورہ میں داخل نہیں ہوتے تھے جب لوگ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو حضرت ام سلیم کو درد زہ شروع ہوگیا اور حضرت ابوطلحہ ان کے پاس ٹھہر گئے اور رسول اللہ ﷺ چل پڑے حضرت ابوطلحہ کہنے لگے اے میرے پروردگار تو جانتا ہے کہ مجھے تیرے رسول ﷺ کے ساتھ نکلنا پسند ہے جب آپ ﷺ نکلیں اور مجھے آپ ﷺ کے ساتھ داخل ہونا پسند ہے جب آپ ﷺ داخل ہوں (اے پروردگار! ) تو جانتا کہ جس کی وجہ سے میں رک گیا ہوں۔ حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ حضرت ام سلیم کہنے لگیں اے ابوطلحہ مجھے اب اس طرح درد نہیں ہے جس طرح پہلے درد تھی چلو ہم بھی چلتے ہیں حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ جس وقت وہ دونوں مدینہ میں آگئے تو پھر حضرت ام سلیم کو وہی درد زہ شروع ہوگئی پھر ایک بچہ پیدا ہوا۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ مجھے میری والدہ نے کہا اے انس کوئی اس بچے کو دودھ نہ پلائے یہاں تک کہ جب صبح ہوگئی تو اسے رسول ﷺ کی خدمت میں لے کے جانا پھر جب صبح ہوئی تو میں نے اس بچے کو اٹھایا اور رسول اللہ ﷺ کی طرف چل پڑا۔ حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ کے ہاتھ میں اونٹوں کو داغ دینے کا آلہ ہے تو جب آپ ﷺ نے مجھے دیکھا تو آپ ﷺ نے فرمایا شاید کہ یہ بچہ حضرت ام سلیم نے جنا ہے میں نے عرض کیا جی ہاں تو پھر آپ ﷺ نے وہ آلہ اپنے ہاتھ سے رکھ دیا اور میں نے وہ بچہ رسول اللہ ﷺ کی گود میں ڈال دیا گود میں ڈال دیا اور رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ کی عجوہ کھجور منگوائی اور پھر اسے اپنے منہ میں چبایا یہاں تک کہ جب وہ نرم ہوگئی تو وہ اس بچے کے منہ میں ڈالی بچہ اس کو چوسنے لگا حضرت انس کہتے ہیں پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دیکھو انصار کو کھجور سے کس قدر محبت ہے راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ نے اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور اس کا نام عبداللہ رکھا۔

Anas reported that the son of Abu Talha who was born of Umm Sulaim died. She (Umm Sulaim) said to the members of her family: Do not narrate to Abu Talha about his son until I narrate it to him. Abu Talha came (home) ; she presented to him the supper. He took it and drank water. She then embellished herself which she did not do before. He (Abu Talha) had a sexual intercourse with her and when she saw that he was satisfied after sexual intercourse with her, she said: Abu Talha, if some people borrow something from another family and then (the members of the family) ask for its return, would they resist its return? He said: No. She said: I inform you about the death of your son. He was annoyed, and said: You did not inform me until I had a sexual intercourse with you and you later on gave me information about my son. He went to Allahs Messenger ﷺ and informed him what had happened. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: May Allah bless both of you in the night spent by you! He (the narrator) said: She became pregnant. Allahs Messenger ﷺ was in the course of a journey and she was along with him and when Allahs Messenger ﷺ came back to Madinah from the journey he did not enter (his house) (during the night). When the people came near Madinah, she felt the pangs of delivery. He (Abu Talha) remained with her and Allahs Messenger ﷺ proceeded on. Abu Talha said: O Lord, you know that I love to go along with Allahs Messenger when he goes out and enter along with him when he enters and I have been detained as Thou seest. Umm Sulaim said: Abu Talha, I do not feel (so much pain) as I was feeling formerly, so better proceed on. So we proceeded on and she felt the pangs of delivery as they reached (Madinah) and a child was born and my mother said to me: Anas, none should suckle him until you go to Allahs Messenger ﷺ tomorrow morning. And when it was morning I carried him (the child) and went along with him to Allahs Messenger (may peace beupon him). He said: I saw that he had in his hand the instrument for the cauterisation of the camels. When he saw me. he said: This is, perhaps, what Umm Sulaim has given birth to. I said: Yes. He laid down that instrument on the ground. I brought that child to him and placed it in his lap and Allahs Messenger ﷺ asked Ajwa dates of Madinah to be brought and softened them in his month. When these had become palatable he placed them in the mouth of that child. The child began to taste them. Then Allahs Messenger ﷺ said: See what love the Ansar have for dates. He then wiped his face and named him Abdullah.

6323Sahih Muslim

ابا طلحہ انصار کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ قَالَ مَاتَ ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ

احمد بن حسن بن خراش عمرو بن عاصم، سلیمان بن مغیرہ ثابت حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوطلحہ ؓ کا ایک بیٹا فوت ہوگیا مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی۔

This hadith has been narrated on the authority of Anas bin Malik (RA) through another chain of transmitters.

6324Sahih Muslim

بلال (رض) کے فضائل کے بیان میں۔

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ الْهَمْدَانِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ أَبِي حَيَّانَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبِلَالٍ عِنْدَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ يَا بِلَالُ حَدِّثْنِي بِأَرْجَی عَمَلٍ عَمِلْتَهُ عِنْدَکَ فِي الْإِسْلَامِ مَنْفَعَةً فَإِنِّي سَمِعْتُ اللَّيْلَةَ خَشْفَ نَعْلَيْکَ بَيْنَ يَدَيَّ فِي الْجَنَّةِ قَالَ بِلَالٌ مَا عَمِلْتُ عَمَلًا فِي الْإِسْلَامِ أَرْجَی عِنْدِي مَنْفَعَةً مِنْ أَنِّي لَا أَتَطَهَّرُ طُهُورًا تَامًّا فِي سَاعَةٍ مِنْ لَيْلٍ وَلَا نَهَارٍ إِلَّا صَلَّيْتُ بِذَلِکَ الطُّهُورِ مَا کَتَبَ اللَّهُ لِي أَنْ أُصَلِّيَ

عبید بن ییش محمد بن علاء ہمدانی ابواسامہ ابی حبان محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابی ابوحیان تیمی یحییٰ بن سعید ابی زرعہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت بلال ؓ سے صبح کی نماز کے وقت فرمایا اے بلال تو مجھ سے وہ عمل بیان کر جو تو نے اسلام میں کیا ہو اور جس کے نفع کی تجھے زیادہ امید ہو کیونکہ آج رات میں نے جنت میں اپنے سامنے تیرے قدموں کی آواز سنی ہے۔ حضرت بلال ؓ نے عرض کیا میں نے اسلام میں کوئی ایسا عمل نہیں کیا کہ جس کے نفع کی مجھے زیادہ امید ہو سوائے اس کے کہ جب بھی میں رات یا دن کے وقت کامل طریقے سے وضو کرتا ہوں تو اس وضو سے جس قدر اللہ نے میرے مقدر میں لکھا ہوتا ہے نماز پڑھ لیتا ہوں۔

Abu Hurairah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said to Bilal (RA) : Bilal (RA) , narrate to me which act at the time of morning prayer you did in Islam for which you hope to receive good reward, for I heard during the night the sound of your steps before me in Paradise. Bilal (RA) said: I did not do any act in Islam for which I hope to get any benefit but this that when I perform complete ablution during the night or day I observe prayer with that purification what Allah has ordained for me to pray.

6325Sahih Muslim

سیدنا عبداللہ بن مسعود اور ان کی والدہ محترمہ (رضی اللہ عنہم) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ وَسَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ الْحَضْرَمِيُّ وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ وَالْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ قَالَ سَهْلٌ وَمِنْجَابٌ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لَيْسَ عَلَی الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا إِلَی آخِرِ الْآيَةِ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلَ لِي أَنْتَ مِنْهُمْ

منجاب بن حارث تمیمی سہل بن عثمان عبداللہ بن عامر بن زرارہ حضرمی سوید بن سعید ولید بن سجاع سہل منجاب علی بن مسہر، اعمش، ابراہیم، علقمہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت (لَيْسَ عَلَي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِيْمَا طَعِمُوْ ا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاَحْسَنُوْا وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ ) 5۔ المائدہ: 93) جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کئے انہیں اس بات پر کوئی گناہ نہیں ہے جو وہ کھاچکے ہیں ایمان اور پرہیز کے ساتھ آخر آیت تک نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے ارشاد فرمایا کیا تم ان میں سے ہو۔

Abdullah reported that when this verse was revealed:" There is no harm on persons who believe and perform good acts, what they had eaten (formerly) when they avoided it (now) and they affirmed their faith" (v. 93) up to the end. Allahs Messenger ﷺ said to me: You are one amongst them.

6326Sahih Muslim

سیدنا عبداللہ بن مسعود اور ان کی والدہ محترمہ (رضی اللہ عنہم) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ قَدِمْتُ أَنَا وَأَخِي مِنْ الْيَمَنِ فَکُنَّا حِينًا وَمَا نُرَی ابْنَ مَسْعُودٍ وَأُمَّهُ إِلَّا مِنْ أَهْلِ بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ کَثْرَةِ دُخُولِهِمْ وَلُزُومِهِمْ لَهُ و

اسحاق بن ابراہیم حنظلی، محمد بن رافع ابن رافع اسحاق یحییٰ بن آدم بن ابی زائدہ ابواسحاق اسود بن بزید حضرت ابوموسی ؓ سے روایت ہے کہ میں اور میرا بھائی یمن سے آئے تھے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ اور ان کی والدہ کا کثرت کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے گھر آنے جانے اور ان کے ساتھ رہنے کی وجہ سے ہم انہیں رسول اللہ ﷺ کے اہل بیت ہی سے سمجھتے تھے۔

Abu Musa reported: When I and my brother came from Yemen we used to consider Ibn Masud and his mother amongst the members of the household of Allahs Messenger ﷺ because of their visiting them frequently and staying there for long (periods of) time.

6327Sahih Muslim

سیدنا عبداللہ بن مسعود اور ان کی والدہ محترمہ (رضی اللہ عنہم) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ أَنَّهُ سَمِعَ الْأَسْوَدَ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا مُوسَی يَقُولُا لَقَدْ قَدِمْتُ أَنَا وَأَخِي مِنْ الْيَمَنِ فَذَکَرَ بِمِثْلِهِ

محمد بن حاتم، اسحاق بن منصور ابراہیم، بن یوسف اسحاق اسود حضرت ابوموسی ؓ سے روایت ہے کہ تحقیق میں اور میرا بھائی یمن سے آئے تھے باقی حدیث اسی طرح مذکور ہے۔

The above hadith is narrated likewise through another chain of transmitters.

6328Sahih Muslim

سیدنا عبداللہ بن مسعود اور ان کی والدہ محترمہ (رضی اللہ عنہم) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أُرَی أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ أَوْ مَا ذَکَرَ مِنْ نَحْوِ هَذَا

زہیر بن حرب، محمد بن مثنیابن بشار عبدالرحمن سفیان ابواسحاق اسود حضرت ابوموسی ؓ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے حضرت عبداللہ کو اہل بیت سے ہی تصور کرتا تھا یا اسی طرح ذکر کیا۔

Abu Musa (RA) reported: I came to Allahs Messenger ﷺ and thought that Abdullah was amongst the members of the family, or like that.

6329Sahih Muslim

سیدنا عبداللہ بن مسعود اور ان کی والدہ محترمہ (رضی اللہ عنہم) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ قَالَ شَهِدْتُ أَبَا مُوسَی وَأَبَا مَسْعُودٍ حِينَ مَاتَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ أَتُرَاهُ تَرَکَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ فَقَالَ إِنْ قُلْتَ ذَاکَ إِنْ کَانَ لَيُؤْذَنُ لَهُ إِذَا حُجِبْنَا وَيَشْهَدُ إِذَا غِبْنَا

محمد بن مثنی ابن بشار ابن مثنی محمد بن جعفر، سعبہ ابواسحاق، حضرت ابوالاحوص (رح) سے روایت ہے کہ میں نے ابن مسعود کے انتقال کے وقت حضرت ابوموسی اور حضرت ابومسعود ؓ کے پاس گیا تو ان دونوں میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا تمہارا کیا خیال ہے کہ (حضرت ابن مسعود ؓ نے اپنے بعد اپنے جیسا کوئی آدمی چھوڑا ہے تو دوسرے نے کہا اگر تم نے یہ کہا ہے تو ان کی عظمت یہ تھی کہ جب ہم کو روک دیا جاتا تو ان کے لئے اجازت دے دی جاتی تھی اور ہم جب غائب ہوجاتے تو یہ اس وقت بھی حاضر رہتے تھے۔

Abu Ishaq reported that he heard Abul-Ahwas say: I was along with Abu Musa and Abu Masud as Ibn Masud died and one of them said to the other: Do you find one like him besides him? Thereupon he said: Do you say this (no one can be his rival)? He was admitted (to the company of the Holy Prophet ﷺ) whereas we were detained and he had been present in the company of Allahs Messenger ﷺ whereas we had been absent.

6330Sahih Muslim

سیدنا عبداللہ بن مسعود اور ان کی والدہ محترمہ (رضی اللہ عنہم) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا قُطْبَةُ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ قَالَ کُنَّا فِي دَارِ أَبِي مُوسَی مَعَ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ وَهُمْ يَنْظُرُونَ فِي مُصْحَفٍ فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ فَقَالُ أَبُو مَسْعُودٍ مَا أَعْلَمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَکَ بَعْدَهُ أَعْلَمَ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنْ هَذَا الْقَائِمِ فَقَالَ أَبُو مُوسَی أَمَا لَئِنْ قُلْتَ ذَاکَ لَقَدْ کَانَ يَشْهَدُ إِذَا غِبْنَا وَيُؤْذَنُ لَهُ إِذَا حُجِبْنَا

ابوکریب محمد بن علاء، یحییٰ بن آدم قطبہ بن عبدالعزیز اعمش، مالک بن حارث حضرت ابوالاحوص (رح) سے روایت ہے کہ ہم ابوموسی ؓ کے گھر میں حضرت عبداللہ ؓ کے چند ساتھیوں کے ہمراہ موجود تھے اور وہ قرآن مجید دیکھ رہے تھے عبداللہ کھڑے ہوگئے تو ابومسعود ؓ نے کہا میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے بعد ان کھڑے ہونے والے سے بڑھ کر زیادہ اللہ کی نازل کردہ آیات کے بارے میں علم رکھنے والے کسی کو چھوڑا ہو تو ابوموسی نے کہا اگر تم نے ایسی بات کہی ہے تو ان کا حال تو یہ تھا کہ جب ہم غائب ہوتے تھے تو یہ حاضر رہتے تھے اور جب ہمیں حاضر ہونے سے روک دیا جاتا تو انہیں اجازت دی جاتی تھی۔

Abu Ahwas reported: We were in the house of Abu Musa along with some of the companions of Abdullah and they were looking at the Holy Book. Abdullah stood up, whereupon Abu Masud said: I do not know whether Allahs Messenger, ﷺ has left after him one having a better knowledge (of Islam) than the man who is standing. Abu Musa said: If you say this, that is correct, because he had been present when we had been absent and he was permitted when we were detained.

6331Sahih Muslim

سیدنا عبداللہ بن مسعود اور ان کی والدہ محترمہ (رضی اللہ عنہم) کے فضائل کے بیان میں

و حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَکَرِيَّائَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ هُوَ ابْنُ مُوسَی عَنْ شَيْبَانَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ قَالَ أَتَيْتُ أَبَا مُوسَی فَوَجَدْتُ عَبْدَ اللَّهِ وَأَبَا مُوسَی ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ کُنْتُ جَالِسًا مَعَ حُذَيْفَةَ وَأَبِي مُوسَی وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَحَدِيثُ قُطْبَةَ أَتَمُّ وَأَکْثَرُ

قاسم بن زکریا، عبیداللہ بن موسیٰ شیبان اعمش، مالک بن حارث ابی احوص ابوموسی عبداللہ ابوکریب محمد بن ابی عبیدہ ابی اعمش، زید بن وہب، حذیفہ ان دو اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے البتہ حضرت زید بن وہب ؓ سے روایت ہے کہ میں حضرت حذیفہ اور ابوموسی ؓ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا باقی حدیث گزر چکی ہے۔

Zaid bin Wahab reported: I was sitting along with Hudhaifa and Abu Musa, and the rest of the hadith is the same.

6332Sahih Muslim

سیدنا عبداللہ بن مسعود اور ان کی والدہ محترمہ (رضی اللہ عنہم) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ وَمَنْ يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثُمَّ قَالَ عَلَی قِرَائَةِ مَنْ تَأْمُرُونِي أَنْ أَقْرَأَ فَلَقَدْ قَرَأْتُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضْعًا وَسَبْعِينَ سُورَةً وَلَقَدْ عَلِمَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَعْلَمُهُمْ بِکِتَابِ اللَّهِ وَلَوْ أَعْلَمُ أَنَّ أَحَدًا أَعْلَمُ مِنِّي لَرَحَلْتُ إِلَيْهِ قَالَ شَقِيقٌ فَجَلَسْتُ فِي حَلَقِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا سَمِعْتُ أَحَدًا يَرُدُّ ذَلِکَ عَلَيْهِ وَلَا يَعِيبُهُ

اسحاق بن ابراہیم، حنظلی عبدہ بن سلیمان اعمش، شقیق حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا جس نے کسی چیز میں خیانت کی تو وہ قیامت کے دن اپنی خیانت شدہ چیز کو لے کر حاضر ہوگا پھر کہا تم مجھے کس آدمی کی قرأت کے بارے میں حکم دیتے کہ میں قرأت کروں حالانکہ میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے ستر سے کچھ اوپر سورتیں پڑھ چکا ہوں اور تحقیق رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ جانتے ہیں کہ میں ان سب سے زیادہ اللہ کی کتاب کا علم رکھنے والا ہوں اور اگر مجھے معلوم ہوتا کہ کوئی ایک مجھ سے زیادہ علم رکھنے والا ہے تو میں اس کی طرف سوار ہو کر چلا جاتا اور شقیق نے کہا میں نبی ﷺ کے صحابہ کے حلقوں میں بیٹھا ہوں میں نے کسی سے بھی نہیں سنا جس نے ابن مسعود کا رد کیا ہو یا ان پر کوئی عیب لگایا ہو۔

Abdullah (b. Masud) reported that he (said to his companions to conceal their copies of the Quran) and further said: He who conceals anything he shall have to bring that which he had concealed on the Day of Judgment, and then said: After whose mode of recitation you command me to recite? I in fact recited before AIlahs Messenger ﷺ more than seventy chapters of the Quran and the Companions of Allahs Messenger ﷺ know it that I have better understanding of the Book of Allah (than they do), and if I were to know that someone had better understanding than I, I would have gone to him. Shaqiq said: I sat in the company of the Companions of Mubkmmad ﷺ but I did not hear anyone having rejected that (that is, his recitation) or finding fault with it.

6333Sahih Muslim

سیدنا عبداللہ بن مسعود اور ان کی والدہ محترمہ (رضی اللہ عنہم) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا قُطْبَةُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ مَا مِنْ کِتَابِ اللَّهِ سُورَةٌ إِلَّا أَنَا أَعْلَمُ حَيْثُ نَزَلَتْ وَمَا مِنْ آيَةٍ إِلَّا أَنَا أَعْلَمُ فِيمَا أُنْزِلَتْ وَلَوْ أَعْلَمُ أَحَدًا هُوَ أَعْلَمُ بِکِتَابِ اللَّهِ مِنِّي تَبْلُغُهُ الْإِبِلُ لَرَکِبْتُ إِلَيْهِ

ابوکریب، یحییٰ بن آدم، قطبہ، اعمش، مسلم، حضرت مسروق ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ ؓ نے کہا اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں اللہ کی کتاب میں کوئی سورت ایسی نہیں ہے مگر میں جانتا ہوں کہ وہ کس چیز کے بارے میں نازل کی گئی تھی اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ کوئی ایک اللہ کی کتاب کو مجھ سے زیادہ جاننے والا ہے اور اس تک اونٹ پہنچ سکتے ہوں تو میں سوار ہو کر اس کی طرف جاتا۔

Abdullah reported: By Him besides Whom there is no god, there is no chapter in the Book of Allah about which I do not know as to where it was revealed and there is no verse about which I do not know in what context it was revealed, and if I were to know of one having a better understanding of the Book of Allah than I (and I could reach him) on the back of the mule, I would have definitely gone to him on camels back.

6334Sahih Muslim

سیدنا عبداللہ بن مسعود اور ان کی والدہ محترمہ (رضی اللہ عنہم) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ کُنَّا نَأْتِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو فَنَتَحَدَّثُ إِلَيْهِ وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ عِنْدَهُ فَذَکَرْنَا يَوْمًا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَ لَقَدْ ذَکَرْتُمْ رَجُلًا لَا أَزَالُ أُحِبُّهُ بَعْدَ شَيْئٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ خُذُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ مِنْ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ فَبَدَأَ بِهِ وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَأُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ وَسَالِمٍ مَوْلَی أَبِي حُذَيْفَةَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن عبداللہ بن نمیر، وکیع، اعمش، شقیق حضرت مسروق ؓ سے روایت ہے کہ ہم حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے اور ان سے محو گفتگو ہوتے ان کے پاس ایک دن ہم نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا تحقیق تم نے ایسے آدمی کا ذکر کیا ہے جن سے میں اس وقت سے محبت کرتا ہوں جب سے میں نے ان کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ فرماتے تھے کہ قرآن ان چار ابن ام عبد (ابن مسعود ؓ اور ان سے شروع کیا اور معاذ بن جبل اور ابی بن کعب اور ابوحذیفہ کے مولیٰ حضرت سالم ؓ سے حاصل کرو۔

Masruq reported: We used to go toAbdullah bin Amr and talk to him, Ibn Numair said: One day we made a mention of Abdullah bin Masud, whereupon he said: You have made mention of a person whom I love more than anything else. I heard Allahs Messenger ﷺ as saying: Learn Quran from four persons: Ibn Umm Abd (i. e. Abdullah bin Masud) he started from him-then Muadh bin Jabal and Ubayya bin Kab, then Salim the ally of Abu Hudhaifa.

6335Sahih Muslim

سیدنا عبداللہ بن مسعود اور ان کی والدہ محترمہ (رضی اللہ عنہم) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالُوا حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ کُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَذَکَرْنَا حَدِيثًا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَقَالَ إِنَّ ذَاکَ الرَّجُلَ لَا أَزَالُ أُحِبُّهُ بَعْدَ شَيْئٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ سَمِعْتُهُ يَقُولُ اقْرَئُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ مِنْ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ فَبَدَأَ بِهِ وَمِنْ أُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ وَمِنْ سَالِمٍ مَوْلَی أَبِي حُذَيْفَةَ وَمِنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَحَرْفٌ لَمْ يَذْکُرْهُ زُهَيْرٌ قَوْلُهُ يَقُولُهُ

قتیبہ بن سعید، زہیر بن حرب، عثمان بن ابی شیبہ جریر، اعمش، ابو وائل حضرت مسروق ؓ سے روایت ہے کہ ہم حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ کی خدمت میں حاضر تھے کہ ہم نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ایک حدیث ذکر کی تو انہوں نے کہا یہ وہ آدمی ہیں جس سے میں اس وقت سے محبت کرتا ہوں جب سے ان کے بارے میں میں نے رسول اللہ ﷺ سے فرماتے ہوئے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے چار آدمیوں ابن ابن ام عبد (عبداللہ بن مسعود ؓ اور ان سے ابتداء کی اور ابی بن کعب اور ابوحذیفہ کے آزاد کردہ غلام سالم اور معاذ بن جبل ؓ سے پڑھو۔

Masruq reported: We were in the company of Abdullah b Amr that we made a mention of a hadith from Abdullah bin Masud; thereupon he said: That is a person whose love ever remains (fresh in my heart) after I heard Allahs Messenger ﷺ as saying: Learn Quran from four persons: Ibn Umm Abd, i e. Abdullah bin Masud and he started from his name-then Ubayy bin Kab and Muadh b Jabal. Zuhri did not make a mention of the words yaquluhu in his narration.

6336Sahih Muslim

سیدنا عبداللہ بن مسعود اور ان کی والدہ محترمہ (رضی اللہ عنہم) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ وَوَکِيعٍ فِي رِوَايَةِ أَبِي بَکْرٍ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ قَدَّمَ مُعَاذًا قَبْلَ أُبَيٍّ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي کُرَيْبٍ أُبَيٌّ قَبْلَ مُعَاذٍ

ابوبکر بن ابی شیبہ، اعمش، جریر، وکیع، ابوبکر ابومعاویہ اس سند سے بھی یہ حدیث مبارکہ مروی ہے البتہ چاروں کے نام میں تقدیم و تاخیر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

This hadith has been reported on the authority of Abu Bakr (RA) bin Abu Shaiba and Abu Kuraib, and both of them said: Abu Muawiyahh (RA) narrated to us from Amash on the authority of Jarir and Waki, and in a narration of Abu Bakr (RA) transmitted on the authority of Abu Muawiyahh (RA) the mention of Muadh has preceded Ubayys, and in the narration transmitted on the authority of Abu Kuraib, the name of Ubayy preceded Muddhs.

6337Sahih Muslim

سیدنا عبداللہ بن مسعود اور ان کی والدہ محترمہ (رضی اللہ عنہم) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ح و حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ کِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ بِإِسْنَادِهِمْ وَاخْتَلَفَا عَنْ شُعْبَةَ فِي تَنْسِيقِ الْأَرْبَعَةِ

ابن مثنی ابن بشار ابن ابی عدی، بشر ابن خالد محمد ابن جعفر شعبہ، اعمش، ان دو اسناد سے بھی یہ حدیث مروی ہے البتہ شعبہ سے چاروں کی ترتیب میں اختلاف مذکور ہے۔

This tradition has been transmitted on the authority of Shubah through Amash, but there is a difference of order of the four.

6338Sahih Muslim

سیدنا عبداللہ بن مسعود اور ان کی والدہ محترمہ (رضی اللہ عنہم) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ ذَکَرُوا ابْنَ مَسْعُودٍ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَقَالَ ذَاکَ رَجُلٌ لَا أَزَالُ أُحِبُّهُ بَعْدَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اسْتَقْرِئُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ مِنْ ابْنِ مَسْعُودٍ وَسَالِمٍ مَوْلَی أَبِي حُذَيْفَةَ وَأُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ

محمد بن مثنی، ابن بشار محمد بن جعفر، شعبہ، عمرو بن مرہ ابراہیم، حضرت مسروق ؓ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمرو ؓ کے پاس حضرت ابن مسعود ؓ کا ذکر ہوا تو انہوں نے کہا یہ وہ آدمی ہیں جن سے میں اس وقت سے محبت کرتا ہوں جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ سے ان کے بارے میں سنا ہے کہ قرآن مجید پڑھنا ان چار سے سیکھو ابن مسعود اور ابوحذیفہ کے آزاد کردہ غلام سالم اور ابی بن کعب اور معاذ بن جبل ؓ۔

Masruq reported: They made a mention of Ibn Masud before Abdullah bin Amr (RA) , whereupon he said: He is a person whose love is always fresh in my heart after I heard Allahs Messenger ﷺ as saying: Learn the recitation of the Quran from four persons: from Ibn Masud, Salim, the ally of Abu Hudhaifa, Ubayy bin Kab, Muadh bin Jabal.

6339Sahih Muslim

سیدنا عبداللہ بن مسعود اور ان کی والدہ محترمہ (رضی اللہ عنہم) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ قَالَ شُعْبَةُ بَدَأَ بِهَذَيْنِ لَا أَدْرِي بِأَيِّهِمَا بَدَأَ

عبیداللہ بن معاذ ابی شعبہ، اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے البتہ اس میں اضافہ یہ ہے کہ شعبہ ؓ نے کہا آپ ﷺ نے ان دونوں سے ابتدا کی البتہ یہ معلوم نہیں کہ ان دو میں سے کس سے ابتداء کی تھی۔

Ubaidullah bin Muadh reported it on the authority of his father Shubah with the same chain of transmitters and he made this addition. He made a mention of these two names but I do not know whose name he mentioned first.

6340Sahih Muslim

حضرت ابی بن کعب (رض) اور انصار (رض) سے ایک جماعت کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُا جَمَعَ الْقُرْآنَ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَةٌ کُلُّهُمْ مِنْ الْأَنْصَارِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَأُبَيُّ بْنُ کَعْبٍ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَأَبُو زَيْدٍ قَالَ قَتَادَةُ قُلْتُ لِأَنَسٍ مَنْ أَبُو زَيْدٍ قَالَ أَحَدُ عُمُومَتِي

محمد بن مثنی، ابوداؤد شعبہ، قتادہ، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ مبارک میں چار آدمیوں نے قرآن مجید کو جمع کیا اور وہ سارے کے سارے انصار سے تھے معاذ بن جبل ابی بن کعب زید بن ثابت اور ابوزید ؓ۔ قتادہ ؓ نے بیان کیا کہ میں نے انس سے کہا ابو زید کون تھے؟ انہوں نے کہا وہ چچاؤں میں سے ایک تھے۔

Anas is reported to have said: Four persons collected the Quran during the lifetime of Allahs Messenger ﷺ and all of them were Ansar: Muadh bin Jabal, Ubayy bin Kab, Zaid bin Thabit, Abu Zaid. Qatada said: Anas, who was Abu Zaid? He said: He was one of my uncles.

6341Sahih Muslim

حضرت ابی بن کعب (رض) اور انصار (رض) سے ایک جماعت کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِکٍ مَنْ جَمَعَ الْقُرْآنَ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَرْبَعَةٌ کُلُّهُمْ مِنْ الْأَنْصَارِ أُبَيُّ بْنُ کَعْبٍ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَرَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُکْنَی أَبَا زَيْدٍ

ابوداؤد سلیمان بن معبد عمرو بن عاصم، ہمام قتادہ، انس بن مالک، ہمام، حضرت قتادہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے انس بن مالک ؓ سے کہا رسول اللہ ﷺ کے زمانہ مبارک میں قرآن مجید کس نے جمع کیا انہوں نے کہا چار نے اور وہ سارے انصار میں سے تھے ابی بن کعب معاذ بن جبل اور زید بن ثابت ؓ اور انصار میں سے ایک آدمی نے جن کی کنیت ابوزید تھی۔

Hammam said: I said to Anas bin Malik (RA): Who collected the Quran during the lifetime of Allahs Messenger ﷺ ? He said: Four (persons), all of them belonging to Ansar: Ubayy bin Kab, Muadh bin Jabal, Zaid bin Thabit and a person from the Ansar whose Kunya was Abu Zaid.