فضائل کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 46 · 558 hadiths · Page 19 of 29

6302Sahih Muslim

سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) کے فضائل کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا الْمُلَائِيُّ حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَامِرًا يَقُولُ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا

اسحاق بن ابراہیم، زکریا، ابی زئداہ عامر ابوسملہ بن عبدالرحمن سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے مذکورہ حدیثوں کی طرح فرمایا۔

This hadith has been narrated on the authority of Aisha through another chain of transmitters.

6303Sahih Muslim

سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) کے فضائل کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ زَکَرِيَّائَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

اسحاق بن ابراہیم، اسباط بن محمد، حضرت زکریا سے اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی۔

This hadith has been narrated on the authority of Zakriyya through another chain of transmitters.

6304Sahih Muslim

سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشُ هَذَا جِبْرِيلُ يَقْرَأُ عَلَيْکِ السَّلَامَ قَالَتْ فَقُلْتُ وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ قَالَتْ وَهُوَ يَرَی مَا لَا أَرَی

عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، ابویمان شعیب زہری، ابوسلمہ بن عبدالرحمن سیدہ عائشہ ؓ نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عائشہ! حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں تجھے سلام کہتے ہیں حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں میں نے کہا وعلیہ السلام و (رح) حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ وہ دیکھتے ہیں کہ جو میں نہیں دیکھتی۔

Aisha, the wife of Allahs Apostle ﷺ , reported that Allahs Messenger ﷺ said: Aisha, here is Gabriel (علیہ السلام) offering you greetings. She said: 1 made a reply: Let there be peace and blessings of Allah upon him, and added: He sees what I do not see.

6305Sahih Muslim

حدیث ام زرع کے ذکر کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ کِلَاهُمَا عَنْ عِيسَی وَاللَّفْظُ لِابْنِ حُجْرٍ حَدَّثَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ جَلَسَ إِحْدَی عَشْرَةَ امْرَأَةً فَتَعَاهَدْنَ وَتَعَاقَدْنَ أَنْ لَا يَکْتُمْنَ مِنْ أَخْبَارِ أَزْوَاجِهِنَّ شَيْئًا قَالَتْ الْأُولَی زَوْجِي لَحْمُ جَمَلٍ غَثٍّ عَلَی رَأْسِ جَبَلٍ وَعْرٍ لَا سَهْلٌ فَيُرْتَقَی وَلَا سَمِينٌ فَيُنْتَقَلَ قَالَتْ الثَّانِيَةُ زَوْجِي لَا أَبُثُّ خَبَرَهُ إِنِّي أَخَافُ أَنْ لَا أَذَرَهُ إِنْ أَذْکُرْهُ أَذْکُرْ عُجَرَهُ وَبُجَرَهُ قَالَتْ الثَّالِثَةُ زَوْجِي الْعَشَنَّقُ إِنْ أَنْطِقْ أُطَلَّقْ وَإِنْ أَسْکُتْ أُعَلَّقْ قَالَتْ الرَّابِعَةُ زَوْجِي کَلَيْلِ تِهَامَةَ لَا حَرَّ وَلَا قُرَّ وَلَا مَخَافَةَ وَلَا سَآمَةَ قَالَتْ الْخَامِسَةُ زَوْجِي إِنْ دَخَلَ فَهِدَ وَإِنْ خَرَجَ أَسِدَ وَلَا يَسْأَلُ عَمَّا عَهِدَ قَالَتْ السَّادِسَةُ زَوْجِي إِنْ أَکَلَ لَفَّ وَإِنْ شَرِبَ اشْتَفَّ وَإِنْ اضْطَجَعَ الْتَفَّ وَلَا يُولِجُ الْکَفَّ لِيَعْلَمَ الْبَثَّ قَالَتْ السَّابِعَةُ زَوْجِي غَيَايَائُ أَوْ عَيَايَائُ طَبَاقَائُ کُلُّ دَائٍ لَهُ دَائٌ شَجَّکِ أَوْ فَلَّکِ أَوْ جَمَعَ کُلًّا لَکِ قَالَتْ الثَّامِنَةُ زَوْجِي الرِّيحُ رِيحُ زَرْنَبٍ وَالْمَسُّ مَسُّ أَرْنَبٍ قَالَتْ التَّاسِعَةُ زَوْجِي رَفِيعُ الْعِمَادِ طَوِيلُ النِّجَادِ عَظِيمُ الرَّمَادِ قَرِيبُ الْبَيْتِ مِنْ النَّادِي قَالَتْ الْعَاشِرَةُ زَوْجِي مَالِکٌ وَمَا مَالِکٌ مَالِکٌ خَيْرٌ مِنْ ذَلِکَ لَهُ إِبِلٌ کَثِيرَاتُ الْمَبَارِکِ قَلِيلَاتُ الْمَسَارِحِ إِذَا سَمِعْنَ صَوْتَ الْمِزْهَرِ أَيْقَنَّ أَنَّهُنَّ هَوَالِکُ قَالَتْ الْحَادِيَةَ عَشْرَةَ زَوْجِي أَبُو زَرْعٍ فَمَا أَبُو زَرْعٍ أَنَاسَ مِنْ حُلِيٍّ أُذُنَيَّ وَمَلَأَ مِنْ شَحْمٍ عَضُدَيَّ وَبَجَّحَنِي فَبَجَحَتْ إِلَيَّ نَفْسِي وَجَدَنِي فِي أَهْلِ غُنَيْمَةٍ بِشِقٍّ فَجَعَلَنِي فِي أَهْلِ صَهِيلٍ وَأَطِيطٍ وَدَائِسٍ وَمُنَقٍّ فَعِنْدَهُ أَقُولُ فَلَا أُقَبَّحُ وَأَرْقُدُ فَأَتَصَبَّحُ وَأَشْرَبُ فَأَتَقَنَّحُ أُمُّ أَبِي زَرْعٍ فَمَا أُمُّ أَبِي زَرْعٍ عُکُومُهَا رَدَاحٌ وَبَيْتُهَا فَسَاحٌ ابْنُ أَبِي زَرْعٍ فَمَا ابْنُ أَبِي زَرْعٍ مَضْجَعُهُ کَمَسَلِّ شَطْبَةٍ وَيُشْبِعُهُ ذِرَاعُ الْجَفْرَةِ بِنْتُ أَبِي زَرْعٍ فَمَا بِنْتُ أَبِي زَرْعٍ طَوْعُ أَبِيهَا وَطَوْعُ أُمِّهَا وَمِلْئُ کِسَائِهَا وَغَيْظُ جَارَتِهَا جَارِيَةُ أَبِي زَرْعٍ فَمَا جَارِيَةُ أَبِي زَرْعٍ لَا تَبُثُّ حَدِيثَنَا تَبْثِيثًا وَلَا تُنَقِّثُ مِيرَتَنَا تَنْقِيثًا وَلَا تَمْلَأُ بَيْتَنَا تَعْشِيشًا قَالَتْ خَرَجَ أَبُو زَرْعٍ وَالْأَوْطَابُ تُمْخَضُ فَلَقِيَ امْرَأَةً مَعَهَا وَلَدَانِ لَهَا کَالْفَهْدَيْنِ يَلْعَبَانِ مِنْ تَحْتِ خَصْرِهَا بِرُمَّانَتَيْنِ فَطَلَّقَنِي وَنَکَحَهَا فَنَکَحْتُ بَعْدَهُ رَجُلًا سَرِيًّا رَکِبَ شَرِيًّا وَأَخَذَ خَطِّيًّا وَأَرَاحَ عَلَيَّ نَعَمًا ثَرِيًّا وَأَعْطَانِي مِنْ کُلِّ رَائِحَةٍ زَوْجًا قَالَ کُلِي أُمَّ زَرْعٍ وَمِيرِي أَهْلَکِ فَلَوْ جَمَعْتُ کُلَّ شَيْئٍ أَعْطَانِي مَا بَلَغَ أَصْغَرَ آنِيَةِ أَبِي زَرْعٍ قَالَتْ عَائِشَةُ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُنْتُ لَکِ کَأَبِي زَرْعٍ لِأُمِّ زَرْعٍ

علی بن حجر سعد احمد بن حباب عیسیٰ ابن حجر عیسیٰ بن یونس، ہشام بن عروہ سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ گیارہ عورتیں آپس میں یہ معاہدہ کر کے بیٹھیں کہ اپنے اپنے خاوندوں کا پورا پورا صحیح صحیح حال بیان کریں کوئی بات نہ چھپائیں ان میں سے پہلی عورت نے کہا کہ میرا خاوند ناکارہ پتلے دبلے اونٹ کی طرح ہے اور گوشت بھی سخت دشوار گزار پہاڑ کی چوٹی پہ رکھا ہوا ہو کہ نہ تو پہاڑ کا راستہ آسان ہو کہ جس کی وجہ سے اس پر چڑھنا ممکن ہو اور نہ ہی وہ گوشت ایسا ہو کہ بڑی دقت اٹھا کر اسے اتارنے کی کوشش کی جائے۔ دوسری عورت نے کہا میں اپنے خاوند کی کیا خبر بیان کروں مجھے یہ ڈر ہے کہ اگر میں اس کے عیب ذکر کرنا شروع کر دوں تو کسی عیب کا ذکر نہ چھوڑوں (یعنی سارے ہی عیب بیان کردوں) اور اگر ذکر کروں تو اس کے ظاہری اور باطنی سارے عیب ذکر کر ڈالوں۔ تیسری عورت کہنے لگی کہ میرا خاوند لم ڈھینگ اگر میں کسی بات میں بول پڑوں تو مجھے طلاق ہوجائے اور اگر خاموش رہوں تو لٹکی رہوں۔ چوتھی عورت نے کہا میرا خاوند تہامہ کی رات کی طرح ہے نہ گرم نہ سرد نہ اس سے کسی قسم کا ڈر اور رنج۔ پانچویں عورت نے کہا میرا خاوند جب گھر میں داخل ہوتا ہے تو وہ چیتا بن جاتا ہے اور جب باہر نکلتا ہے تو شیر بن جاتا ہے اور گھر میں جو کچھ ہوتا ہے اور اس بارے میں پوچھ گچھ نہیں کرتا۔ چھٹی عورت نے کہا میرا خاوند اگر کھاتا ہے تو سب ہڑپ کرجاتا ہے اور اگر پیتا ہے تو سب چڑھا جاتا ہے اور جب لیٹتا ہے تو اکیلا ہی کپڑے میں لیٹ جاتا ہے میری طرف ہاتھ نہیں بڑھاتا تاکہ میری پراگندی کا علم ہو۔ ساتویں عورت نے کہا میرا خاوند ہمبستری سے عاجز نامرد اور اس قدر بیوقوف ہے کہ وہ بات بھی نہیں کرسکتا دنیا کی ہر بیماری اس میں ہے اور سخت مزاج ایسا کہ میرا سر پھوڑ دے یا میرا جسم زخمی کر دے یا دونوں کر ڈالے۔ آٹھویں عورت کہنے لگی کہ میرا خاوند خوشبو میں زعفران کی طرح مہکتا ہے اور چھونے میں خرگوش کی طرح نرم ہے۔ نویں عورت نے کہا میرا خاوند بلند شان والا دراز قد والا بڑا ہی مہمان نواز اس کا گھر مجلس اور دارالمشور کے قریب ہے۔ دسویں عورت کہنے لگی کہ میرا خاوند مالک ہے اور میں مالک کی کیا شان بیان کروں کہ اس کے اونٹ اس قدر زیادہ ہیں جو مکان کے قریب بٹھائے جاتے ہیں چراگاہ میں کم ہی چرتے ہیں وہ اونٹ باجے کی آواز سنتے ہیں تو سمجھ جاتے ہیں کہ ہلاکت کا وقت قریب آگیا ہے۔ گیارہویں عورت کہنے لگی کہ میرا خاوند ابوزرع ہے میں ابوزرع کی کیا شان بیان کروں کہ زیوروں سے اس نے میرے کان جھکا دئے اور چربی سے میرے بازو بھر دئیے اور مجھے ایسا خوش رکھتا ہے کہ خود پسندی میں میں اپنے آپ کو بھولنے لگی مجھے اس نے ایک ایسے غریب گھرانے میں پایا تھا کہ جو بڑی مشکل سے بکریوں پر گزر اوقات کرتے تھے اور پھر مجھے اپنے خوشحال گھرانے میں لے آیا کہ جہاں گھوڑے اونٹ کھیتی باڑی کے بیل اور کسان موجود تھے اور وہ مجھے کسی بات پر نہیں ڈانٹتا تھا میں دن چڑھے تک سوتی رہتی اور کوئی مجھے جگا نہیں سکتا تھا اور کھانے پینے میں اس قدر فراخی کہ میں خوب سیر ہو کر چھوڑ دیتی ابوزرع کی ماں بھلا اس کی کیا تعریف کروں اس کے بڑے بڑے برتن ہر وقت بھرے کے بھرے رہتے ہیں اس کا گھر بڑا کشادہ ہے اور ابوزرع کا بیٹا بھلا اس کے کیا کہنے کہ وہ کبھی ایسا دبلا پتلا چھریرے جسم والا کہ اس کے سونے کی جگہ (خواب گاہ) نرم و نازک جیسے تلوار کی میان، بکری کے بچے کی ایک دست اس کا پیٹ بھرنے کے لئے کافی ابوزرع کی بیٹی کہ اس کو کیا کہنے کہ وہ اپنی ماں کی تابعدار باپ کی فرمانبردار موٹی تازی سوکن کی جلن تھی ابوزرع کی باندی کا بھی کیا کمال بیان کروں کہ گھر کی بات وہ کبھی باہر جا کر نہیں کہتی تھی کھانے کی چیز میں بغیر اجازت کے خرچ نہیں کرتی تھی اور گھر میں کوڑا کرکٹ جمع نہیں ہونے دیتی تھی بلکہ گھر صاف ستھرا رکھتی تھی ایک دن صبح جبکہ دودھ کے برتن بلوائے جا رہے تھے ابوزرع گھر سے نکلے راستے میں ایک عورت پڑی ہوئی ملی جس کی کمر کے نیچے چیتے کی طرح دو بچے دو اناروں (یعنی اس کے پستانوں) سے کھیل رہے تھے پس وہ عورت اسے کچھ ایسی پسند آگئی کہ اس نے مجھے طلاق دے دی اور اس عورت سے نکاح کرلیا پھر میں نے بھی ایک شریف سردار سے نکاح کرلیا جو کہ شہسوار ہے اور سپہ سالار ہے اس نے مجھے بہت سی نعمتوں سے نوزا اور ہر قسم کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا اس نے مجھے دیا اور یہ بھی اس نے کہا کہ اے ام زرع خود بھی کھا اور اپنے میکے میں بھی جو کچھ چاہے بھیج دے لیکن بات یہ ہے کہ اگر میں اس کی ساری عطاؤں کو اکٹھا کرلوں تو پھر بھی وہ ابوزرع کی چھوٹی سے چھوٹی عطا کے برابر نہیں ہوسکتی سیدہ عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (یہ سارا قصہ سنا کر) مجھ سے فرمایا: (اے عائشہ! ) میں بھی تیرے لئے اسی طرح سے ہوں جسطرح کہ ابوزرع ام زرع کے لئے ہے۔

Aisha reported that (one day) there sat together eleven women making an explicit promise amongst themselves that they would conceal nothing about their spouses. The first one said: My husband is a sort of the meat of a lean camel placed at the top of a hill, which it is difficult to climb up, nor (the meat) is good enough that one finds in oneself the urge to take it away (from the top of that mountain). The second one said: My husband (is so bad) that I am afraid I would not be able to describe his faults-both visible and invisible completely. The third one said: My husband is a long-statured fellow (i. e. he lacks intelligence). If I give vent to my feelings about him, he would divorce me, and if I keep quiet I would be made to live in a state of suspense (neither completely abandoned by him nor entertained as wife). The fourth one said: My husband is like the night of Tihama (the night of Hijaz and Makkah), neither too cold nor hot, neither there is any fear of him nor grief. The fifth one said: My husband is (like) a leopard as he enters the house, and behaves like a lion when he gets out, and he does not ask about that which he leaves in the house. The sixth one said: So far as my husband is concerned, he eats so much that nothing is left back and when he drinks he drinks that no drop is left behind. And when he lies down he wraps his body and does not touch me so that he may know my grief. The seventh one said: My husband is heavy in spirit, having no brightness in him, impotent, suffering from all kinds of conceivable diseases, heaving such rough manners that he may break my head or wound my body, or may do both. The eighth one said: My husband is as sweet as the sweet-smelling plant, and as soft as the softness of the hare. The ninth one said: My husband is the master of a lofty building, long-statured, having heaps of ashes (at his door) and his house is near the meeting place and the inn. The tenth one said: My husband is Malik, and how fine Malik is, much above appreciation and praise (of mine). He has many folds of his camel, more in number than the pastures for them. When they (the camels) hear the sound of music they become sure that they are going to be slaughtered. The eleventh one said: My husband is Abu Zara. How fine Abu Zara is! He has suspended in my ears heavy ornaments and (fed me liberally) that my sinews and bones are covered with fat. So he made me happy. He found me among the shepherds living in the side of the mountain, and he made me the owner of the horses, camels and lands and heaps of grain and he finds no fault with me. I sleep and get up in the morning (at my own sweet will) and drink to my hearts content. The mother of Abu Zara, how fine is the mother of Abu Zara! Her bundles are heavily packed (or receptacles in her house are filled to the brim) and the house quite spacious. So far as the son of Abu Zara is concerned, his bed is as soft as a green palm-stick drawn forth from its bark, or like a sword drawn forth from its scabbard, and whom just an arm of a lamb is enough to satiate. So far as the daughter of Abu Zara is concerned, how fine is the daughter of Abu Zara, obedient to her father, obedient to her mother, wearing sufficient flesh and a source of jealousy for her co-wife. As for the slave-girl of Abu Zara, how fine is she; she does not disclose our affairs to others (outside the four walls of the house). She does not remove our wheat, or provision, or take it forth, or squander it, but she preserves it faithfully (as a sacred trust). And she does not let the house fill with rubbish. One day Abu Zara went out (of his house) when the milk was churned in the vessels, that he met a woman, having two children like leopards playing with her pomegranates (chest) under her vest. He divorced me (Umm Zara) and married that woman (whom Abu Zara) met on the way. I (Umm Zara) later on married another person, a chief, who was an expert rider, and a fine archer: he bestowed upon me many gifts and gave me one pair of every kind of animal and said: Umm Zara, make use of everything (you need) and send forth to your parents (but the fact) is that even if I combine all the gifts that he bestowed upon me, they stand no comparison to the least gift of Abu Zara. Aisha reported that Allahs Messenger ﷺ said to me: I am for you as Abu Zara was for Umm Zara.

6306Sahih Muslim

حدیث ام زرع کے ذکر کے بیان میں

و حَدَّثَنِيهِ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ عَيَايَائُ طَبَاقَائُ وَلَمْ يَشُکَّ وَقَالَ قَلِيلَاتُ الْمَسَارِحِ وَقَالَ وَصِفْرُ رِدَائِهَا وَخَيْرُ نِسَائِهَا وَعَقْرُ جَارَتِهَا وَقَالَ وَلَا تَنْقُثُ مِيرَتَنَا تَنْقِيثًا وَقَالَ وَأَعْطَانِي مِنْ کُلِّ ذَابِحَةٍ زَوْجًا

حسن بن علی حلوانی موسیٰ بن اسماعیل سعید بن سلمہ ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے لیکن اس وقت میں معمولی لفظوں کا رد و بدل ہے۔

This hadith has been transmitted on the authority of Hisham bin Urwa but with a slight variation of wording.

6307Sahih Muslim

نبی ﷺ کی بیٹی حضرت فاطمہ (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ کِلَاهُمَا عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ ابْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ الْقُرَشِيُّ التَّيْمِيُّ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَقُولُ إِنَّ بَنِي هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ اسْتَأْذَنُونِي أَنْ يُنْکِحُوا ابْنَتَهُمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَلَا آذَنُ لَهُمْ ثُمَّ لَا آذَنُ لَهُمْ ثُمَّ لَا آذَنُ لَهُمْ إِلَّا أَنْ يُحِبَّ ابْنُ أَبِي طَالِبٍ أَنْ يُطَلِّقَ ابْنَتِي وَيَنْکِحَ ابْنَتَهُمْ فَإِنَّمَا ابْنَتِي بَضْعَةٌ مِنِّي يَرِيبُنِي مَا رَابَهَا وَيُؤْذِينِي مَا آذَاهَا

احمد بن عبداللہ بن یونس قتیبہ بن سعید، لیث، بن سعد ابن یونس لیث، عبداللہ بن عبیداللہ بن ابی ملیکہ قرشی تیمی مسور بن مخرمہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا کہ ہشام بن مغیرہ نے مجھ سے اپنی بیٹی کا نکاح حضرت علی بن ابی طالب سے کرنے کی اجازت مانگی تو میں ان کو اجازت نہیں دوں گا پھر (آپ نے فرمایا) میں ان کو اجازت نہیں دوں گا، پھر (آپ نے فرمایا) میں ان کو اجازت نہیں دوں گا مگر یہ کہ ابوطالب کے بیٹے علی میری بیٹی کو طلاق دینا پسند کریں اور ان کی بیٹی سے نکاح کریں کیونکہ میری بیٹی میرا ایک ٹکڑا ہے مجھے شک میں ڈالتا ہے جو کہ اسے شک میں ڈالتا ہے تکلیف دیتی ہے مجھے وہ چیز کہ جو اسے تکلیف دیتی ہے۔

Miswar bin Makhramali reported that he heard Allahs Messenger ﷺ say, as he sat on the pulpit: The sons of Hisham bin Mughira have asked my permission to marry their daughter with Ali Ibn Abi Talib (RA) (that refers to the daughter of Abu Jahl for whom All had sent a proposal for marriage). But I would not allow them, I would not allow them, I would not allow them (and the only alternative possible is) that Ali should divorce my daughter (and then marry their daughter), for my daughter is part of me. He who disturbs her in fact disturbs me and he who offends her offends me.

6308Sahih Muslim

نبی ﷺ کی بیٹی حضرت فاطمہ (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو مَعْمَرٍ إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْهُذَلِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي يُؤْذِينِي مَا آذَاهَا

ابومعمر، اسماعیل بن ابراہیم، ہذلی سفیان، عمرو ابن ابی ملیکہ حضرت مسورہ بن مخرمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا فاطمہ ؓ میرا ٹکڑا ہے مجھے تکلیف دیتی ہے وہ چیز کہ جو اسے تکلیف دیتی ہے۔

Miswar bin Makhramah reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Fatima is a part of me. He in fact tortures me who tortures her.

6309Sahih Muslim

نبی ﷺ کی بیٹی حضرت فاطمہ (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ الدُّؤَلِيُّ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ حَدَّثَهُ أَنَّهُمْ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ مِنْ عِنْدِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ مَقْتَلَ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا لَقِيَهُ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ فَقَالَ لَهُ هَلْ لَكَ إِلَيَّ مِنْ حَاجَةٍ تَأْمُرُنِي بِهَا قَالَ فَقُلْتُ لَهُ لَا قَالَ لَهُ هَلْ أَنْتَ مُعْطِيَّ سَيْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَغْلِبَكَ الْقَوْمُ عَلَيْهِ وَايْمُ اللَّهِ لَئِنْ أَعْطَيْتَنِيهِ لَا يُخْلَصُ إِلَيْهِ أَبَدًا حَتَّى تَبْلُغَ نَفْسِي إِنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ عَلَى فَاطِمَةَ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ فِي ذَلِكَ عَلَى مِنْبَرِهِ هَذَا وَأَنَا يَوْمَئِذٍ مُحْتَلِمٌ فَقَالَ إِنَّ فَاطِمَةَ مِنِّي وَإِنِّي أَتَخَوَّفُ أَنْ تُفْتَنَ فِي دِينِهَا قَالَ ثُمَّ ذَكَرَ صِهْرًا لَهُ مِنْ بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ فَأَثْنَى عَلَيْهِ فِي مُصَاهَرَتِهِ إِيَّاهُ فَأَحْسَنَ قَالَ حَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي وَوَعَدَنِي فَأَوْفَى لِي وَإِنِّي لَسْتُ أُحَرِّمُ حَلَالًا وَلَا أُحِلُّ حَرَامًا وَلَكِنْ وَاللَّهِ لَا تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِنْتُ عَدُوِّ اللَّهِ مَكَانًا وَاحِدًا أَبَدًا

احمد بن حنبل، یعقوب بن ابراہیم، ابی ولید بن کثیر، محمد بن عمرو بن حلحلہ دولی، ابن شہاب، علی بن حسین ؓ بیان کرتے ہیں کہ وہ جس وقت حضرت حسین کی شہادت کے بعد مدینہ منورہ میں یزید بن معاویہ کے پاس آئے تو ان سے حضرت مسور بن مخرمہ نے ملاقات کی اور اس سے کہنے لگے اگر آپ کو مجھ سے کوئی ضرورت ہو تو آپ مجھے حکم کریں انہوں نے کہا کہ میں نے ان سے کہا کہ نہیں (یعنی مجھے آپ سے کوئی کام نہیں)، حضرت مسور بن مخرمہ نے اس سے کہا کہ کیا آپ مجھے رسول اللہ کی تلوار عنایت کردیں گے (محفوظ کرنے کی خاطر) کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں لوگ زبردستی آپ سے (یہ تلوار) چھین نہ لیں اللہ کی قسم! اگر آپ وہ تلوار مجھے عنایت کردیں گے تو جب تک میری جان میں جان ہے اس تلوار کو مجھ سے کوئی نہیں لے سکے گا۔ حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے حضرت فاطمہ ؓ کے ہوتے ہوئے ابوجہل کی بیٹی کو نکاح کا پیغام بھیجا تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے سنا اور میں ان دنوں جوان ہوچکا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا فاطمہ (میرے جسم) کا ایک ٹکڑا ہے اور مجھ ڈر ہے کہ کہیں ان کے دین میں کوئی فتنہ نہ ڈال دیا جائے راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ نے اپنے ایک داماد جو کہ عبد الشمس کی اولاد میں سے تھا اس سے ذکر فرمایا اور ان کی دامادی کی خوب تعریف بیان کی اور آپ ﷺ نے فرمایا انہوں نے مجھ سے جو بات بیان کی سچی بیان کی اور انہوں نے مجھ سے جو وعدہ کیا تو اسے پورا کیا اور میں کسی حلال چیز کو حرام نہیں کرتا اور نہ ہی کسی حرام کو حلال کرتا ہوں لیکن اللہ کی قسم اللہ کے رسول کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک ہی جگہ کبھی بھی اکٹھی نہیں ہوسکتیں۔

(Imam Zain-ul-Abidin) Ali bin Husain reported that when they came to Madinah from Yazid bin Muawiyah after the martyrdom of Husain bin Ali (RA) Miswar bin Makhramah met him and said to him: Is there any work for me which you ask me to do? I said to him: No. He again said to me: Would you not give me the sword of Allahs Messenger ﷺ for I fear that the people may snatch it from you? By Allah, if you give that to me, no one would be able to take it away, so long as there is life in me. Verily Ali Ibn Abi Talib (RA) sent a proposal of marriage to the daughter of Abu Jahl in spite of (the fact that his wife) Fatima (had been living in his house). Thereupon I heard Allahs Messenger ﷺ say while addressing the people on the pulpit. I was adolescing in those days. He said: Fatima is a part of me and I fear that she may be put to trial in regard to religion. He then made a mention of his son-in law who had been from the tribe of Abd Shams and praised his behaviour as a son-in-law and said: Whatever he said to me he told the truth and whatever he promised he fulfilled it for me. I am not going to declare forbidden what is lawful and make lawful what is forbidden, but, by Allah, the daaghter of Allahs Messenger and the daughter of the enemy of Allah can never be combined at one place.

6310Sahih Muslim

نبی ﷺ کی بیٹی حضرت فاطمہ (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ وَعِنْدَهُ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا سَمِعَتْ بِذَلِکَ فَاطِمَةُ أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ لَهُ إِنَّ قَوْمَکَ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّکَ لَا تَغْضَبُ لِبَنَاتِکَ وَهَذَا عَلِيٌّ نَاکِحًا ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ قَالَ الْمِسْوَرُ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُهُ حِينَ تَشَهَّدَ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أَنْکَحْتُ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ فَحَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي وَإِنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ مُضْغَةٌ مِنِّي وَإِنَّمَا أَکْرَهُ أَنْ يَفْتِنُوهَا وَإِنَّهَا وَاللَّهِ لَا تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ وَبِنْتُ عَدُوِّ اللَّهِ عِنْدَ رَجُلٍ وَاحِدٍ أَبَدًا قَالَ فَتَرَکَ عَلِيٌّ الْخِطْبَةَ

عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، ابویمان شعیب زہری، علی بن حسین حضرت مسور بن مخرمہ ؓ خبر دیتے ہیں کہ حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے ابوجہل کی بیٹی کو نکاح کا پیغام بھیجا حالانکہ حضرت علی ؓ کے پاس رسول اللہ کی بیٹی حضرت فاطمہ ؓ تھیں تو جب حضرت فاطمہ نے یہ بات سنی تو وہ نبی ﷺ کی خدمت میں آئیں اور عرض کرنے لگیں کہ آپ ﷺ کی قوم کے لوگ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ بیٹیوں کے لئے غصے میں نہیں آتے اور علی ؓ ہیں جو کہ ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کرنے والے ہیں۔ مسور ؓ کہتے ہیں کہ پھر نبی ﷺ کھڑے ہوئے تو میں نے آپ ﷺ سے سنا جس وقت کہ آپ ﷺ نے تشہد پڑھا پھر آپ نے فرمایا اما بعد میں نے ابوالعاص بن ربیع ؓ سے اپنی بیٹی زینب کا نکاح کردیا اس نے جو بات مجھ سے بیان کی سچ بیان کی اور حضرت فاطمہ ؓ محمد ﷺ کی بیٹی میرے جگر کا ٹکڑا ہے اور میں اس بات کو ناپسند سمجھتا ہوں کہ لوگ اس کے دین پر کوئی آفت لائیں اللہ کی قسم اللہ کے رسول کی بیٹی اور اللہ کی دشمن کی بیٹی کبھی ایک آدمی کے پاس اکٹھی نہ ہوں گی راوی کہتے ہیں کہ حضرت علی ؓ نے تو نکاح کا پیغام چھوڑ دیا۔

Ali bin Husain reported that Miswar bin Makhramah informed him that Ali Ibn Abi Talib (RA) sent the proposal of marriage to the daughter of Abu Jahl as he had Fatima, the daughter of Allahs Messenger ﷺ , (as his wife). When Fatima heard about it, she came to Allahs Apostle ﷺ and said: The people say that you never feel angry on account of your daughters and now Ali is going to marry the daughter of Abu Jahl. Makhramah said: Thereupon Allahs Messenger ﷺ rose up and I heard him reciting Tashahhud and say: Now to the point. I gave a daughter of mine (Zainab) to Abul-As bin Rabi, and he spoke to me and spoke the truth. Verily Fatima, the daughter of Muhammad, is a part of me and I do not approve that she may be put to any trial and by Allah, the daughter of Allahs Messenger cannot be combined with the daughter of Gods enemy (as the co-wives) of one person. Thereupon Ali gave up (the idea of his intended) marriage.

6311Sahih Muslim

نبی ﷺ کی بیٹی حضرت فاطمہ (رض) کے فضائل کے بیان میں

و حَدَّثَنِيهِ أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ حَدَّثَنَا وَهْبٌ يَعْنِي ابْنَ جَرِيرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ يُحَدِّثُ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

ابومعن رقاشی وہب ابن جریر، نعمان ابن راشد، حضرت زہری ؓ اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کرتے ہیں۔

This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters.

6312Sahih Muslim

نبی ﷺ کی بیٹی حضرت فاطمہ (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا فَاطِمَةَ ابْنَتَهُ فَسَارَّهَا فَبَکَتْ ثُمَّ سَارَّهَا فَضَحِکَتْ فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ لِفَاطِمَةَ مَا هَذَا الَّذِي سَارَّکِ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَکَيْتِ ثُمَّ سَارَّکِ فَضَحِکْتِ قَالَتْ سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي بِمَوْتِهِ فَبَکَيْتُ ثُمَّ سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ مَنْ يَتْبَعُهُ مِنْ أَهْلِهِ فَضَحِکْتُ

منصور بن ابی مزاحم ابراہیم، ابن سعد عروہ سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ کو بلایا اور ان کے کان میں ان سے کوئی بات فرمائی تو وہ رو پڑیں پھر آپ ﷺ نے ان کے کان میں ان سے کوئی بات فرمائی تو وہ ہنس پڑیں سیدہ عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے حضرت فاطمہ سے پوچھا کہ تمہارے کان میں رسول اللہ ﷺ نے کیا فرمایا جس کی وجہ سے تم رو پڑیں پھر آپ ﷺ نے کچھ فرمایا تو تم ہنس پڑیں حضرت فاطمہ نے فرمایا کہ پہلے آپ نے میرے کان میں خبر دی کہ میری موت قریب ہے تو میں رو پڑی پھر آپ ﷺ نے میرے کان میں مجھے خبر دی کہ تو سب سے پہلے میرے گھر والوں میں سے میرا ساتھ دے گی تو پھر میں ہنس پڑی۔

Aisha reported that Allahs Messenger ﷺ called his daughter Fatima (during his last illness). He said. to her something secretly and she wept. He again said to her something secretly and she laughed. Aisha further reported that she said to Fatima: What is that which Allahs Messenger ﷺ said to you secretly and you wept and then said to you something secretly and you laughed? Thereupon she said: He informed me secretly of his death and so I wept. He then again informed me secretly that I would be the first amongst the members of his family to follow him and so I laughed.

6313Sahih Muslim

نبی ﷺ کی بیٹی حضرت فاطمہ (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ فِرَاسٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کُنَّ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهُ لَمْ يُغَادِرْ مِنْهُنَّ وَاحِدَةً فَأَقْبَلَتْ فَاطِمَةُ تَمْشِي مَا تُخْطِئُ مِشْيَتُهَا مِنْ مِشْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فَلَمَّا رَآهَا رَحَّبَ بِهَا فَقَالَ مَرْحَبًا بِابْنَتِي ثُمَّ أَجْلَسَهَا عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ شِمَالِهِ ثُمَّ سَارَّهَا فَبَکَتْ بُکَائً شَدِيدًا فَلَمَّا رَأَی جَزَعَهَا سَارَّهَا الثَّانِيَةَ فَضَحِکَتْ فَقُلْتُ لَهَا خَصَّکِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْنِ نِسَائِهِ بِالسِّرَارِ ثُمَّ أَنْتِ تَبْکِينَ فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلْتُهَا مَا قَالَ لَکِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ مَا کُنْتُ أُفْشِي عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرَّهُ قَالَتْ فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ عَزَمْتُ عَلَيْکِ بِمَا لِي عَلَيْکِ مِنْ الْحَقِّ لَمَا حَدَّثْتِنِي مَا قَالَ لَکِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ أَمَّا الْآنَ فَنَعَمْ أَمَّا حِينَ سَارَّنِي فِي الْمَرَّةِ الْأُولَی فَأَخْبَرَنِي أَنَّ جِبْرِيلَ کَانَ يُعَارِضُهُ الْقُرْآنَ فِي کُلِّ سَنَةٍ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ وَإِنَّهُ عَارَضَهُ الْآنَ مَرَّتَيْنِ وَإِنِّي لَا أُرَی الْأَجَلَ إِلَّا قَدْ اقْتَرَبَ فَاتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي فَإِنَّهُ نِعْمَ السَّلَفُ أَنَا لَکِ قَالَتْ فَبَکَيْتُ بُکَائِي الَّذِي رَأَيْتِ فَلَمَّا رَأَی جَزَعِي سَارَّنِي الثَّانِيَةَ فَقَالَ يَا فَاطِمَةُ أَمَا تَرْضَيْ أَنْ تَکُونِي سَيِّدَةَ نِسَائِ الْمُؤْمِنِينَ أَوْ سَيِّدَةَ نِسَائِ هَذِهِ الْأُمَّةِ قَالَتْ فَضَحِکْتُ ضَحِکِي الَّذِي رَأَيْتِ

ابوکامل جحدری فضیل بن حسین ابوعوانہ، فراس عامر مسروق، سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کی ساری ازواج مطہرات ؓ آپ ﷺ کے پاس موجود تھیں ان میں سے کوئی بھی زوجہ مطہرہ غیر حاضر نہیں تھی تو اسی دوران حضرت فاطمہ تشریف لائیں اور حضرت فاطمہ کا چلنے کا انداز رسول اللہ کے چلنے کی طرح تھا تو جب آپ ﷺ نے حضرت فاطمہ کو دیکھا تو آپ نے ان کو خوش آمدید اے میری بیٹی فرمایا پھر آپ نے حضرت فاطمہ کو اپنی دائیں یا اپنی بائیں طرف بٹھا لیا پھر آپ ﷺ نے حضرت فاطمہ کے کان میں خاموشی سے کوئی بات فرمائی تو وہ بہت سخت رونے لگی تو جب آپ ﷺ نے حضرت فاطمہ کا یہ حال دیکھا تو پھر دوبارہ آپ ﷺ نے ان کے کان میں کچھ فرمایا تو وہ ہنس پڑیں (سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ) میں نے فاطمہ ؓ سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات سے ہٹ کر تجھ سے کیا خاص باتیں کی ہیں پھر تم رو پڑیں پھر جب رسول اللہ کھڑے ہوئے تو میں نے ان سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ نے تم سے کیا فرمایا ہے؟ حضرت فاطمہ کہنے لگیں کہ میں رسول اللہ کا راز فاش نہیں کروں گی سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ پھر رسول اللہ وفات پا گئے تو میں نے حضرت فاطمہ کو اس حق کی قسم دی جو میرا ان پر تھا کہ مجھ سے وہ بات بیان کرو جو رسول اللہ ﷺ نے تم سے فرمائی حضرت فاطمہ کہنے لگی کہ اب میں بیان کروں گی وہ یہ کہ جس وقت آپ ﷺ نے میرے کان میں پہلی مرتبہ بات بیان فرمائی کہ حضرت جبریئل (علیہ السلام) ہر سال میرے ساتھ ایک یا دو مرتبہ قرآن مجید کا دور کیا کرتے تھے اور اس مرتبہ حضرت جبریئل نے دو مرتبہ دور کیا ہے جس کی وجہ سے میرا خیال ہے کہ موت کا وقت قریب ہوگیا ہے پس تو اللہ سے ڈرتی رہ اور صبر کر کیونکہ میں تیرے لئے بہترین پیش خیمہ ہوں میں رو پڑی جس طرح کہ تو نے مجھے روتے ہوئے دیکھا ہے تو پھر آپ نے دوبارہ میرے کان میں جو بات فرمائی (وہ یہ ہے کہ) اے فاطمہ! کیا تو اس بات پر راضی نہیں ہوجاتی کہ تم مومنوں کی عورتوں کی سردار ہو یا اس امت کی عورتوں کی سردار ہو حضرت فاطمہ فرماتی ہیں کہ میں ہنس پڑی جس طرح کہ آپ ﷺ نے مجھے ہنستے ہوئے دیکھا تھا۔

Aisha reported: We, the wives of Allahs Apostle ﷺ , were with him (during his last illness) and none was absent therefrom that Fatima, who walked after the style of Allahs Messenger ﷺ , came there, and when he saw her he welcomed her saying: You are welcome, my daughter. He their made her sit on his right side or on his left side. Then he said something secretly to her and she wept bitterly and when he found her (plunged) in grief he said to her something secretly for the second time and she laughed. I (Aisha) said to her: Allahs Messenger has singled you amongst the women (of the family) for talking (to you something secretly) and you wept. When Allahs Messenger ﷺ recovered from illness, I said to her. What did Allahs Messenger ﷺ say to you? Thereupon she said: I am not going to disclose the secret of Allahs Messenger ﷺ . When Allahs Messenger ﷺ died, I said to her: I adjure you by the right that I have upon you that you should narrate to me what Allahs Messenger ﷺ said to you. She said: Yes, now I can do that (so listen to it). When he talked to me secretly for the first time he informed me that Gabirel was in the habit of reciting the Quran along with him once or twice every year, but this year it had been twice and so he perceived his death quite near, so fear Allah and be patient (and he told me) that he would be a befitting forerunner for me and so I wept as you saw me. And when he saw me in grief he talked to me secretly for the second time and said: Fatima, are you not pleased that you should be at the head of the believing women or the head of this Umma? I laughed and it was that laughter which you saw.

6314Sahih Muslim

نبی ﷺ کی بیٹی حضرت فاطمہ (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ عَنْ زَکَرِيَّائَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ عَنْ فِرَاسٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ اجْتَمَعَ نِسَائُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُغَادِرْ مِنْهُنَّ امْرَأَةً فَجَائَتْ فَاطِمَةُ تَمْشِي کَأَنَّ مِشْيَتَهَا مِشْيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَرْحَبًا بِابْنَتِي فَأَجْلَسَهَا عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ شِمَالِهِ ثُمَّ إِنَّهُ أَسَرَّ إِلَيْهَا حَدِيثًا فَبَکَتْ فَاطِمَةُ ثُمَّ إِنَّهُ سَارَّهَا فَضَحِکَتْ أَيْضًا فَقُلْتُ لَهَا مَا يُبْکِيکِ فَقَالَتْ مَا کُنْتُ لِأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ مَا رَأَيْتُ کَالْيَوْمِ فَرَحًا أَقْرَبَ مِنْ حُزْنٍ فَقُلْتُ لَهَا حِينَ بَکَتْ أَخَصَّکِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِيثِهِ دُونَنَا ثُمَّ تَبْکِينَ وَسَأَلْتُهَا عَمَّا قَالَ فَقَالَتْ مَا کُنْتُ لِأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی إِذَا قُبِضَ سَأَلْتُهَا فَقَالَتْ إِنَّهُ کَانَ حَدَّثَنِي أَنَّ جِبْرِيلَ کَانَ يُعَارِضُهُ بِالْقُرْآنِ کُلَّ عَامٍ مَرَّةً وَإِنَّهُ عَارَضَهُ بِهِ فِي الْعَامِ مَرَّتَيْنِ وَلَا أُرَانِي إِلَّا قَدْ حَضَرَ أَجَلِي وَإِنَّکِ أَوَّلُ أَهْلِي لُحُوقًا بِي وَنِعْمَ السَّلَفُ أَنَا لَکِ فَبَکَيْتُ لِذَلِکَ ثُمَّ إِنَّهُ سَارَّنِي فَقَالَ أَلَا تَرْضَيْنَ أَنْ تَکُونِي سَيِّدَةَ نِسَائِ الْمُؤْمِنِينَ أَوْ سَيِّدَةَ نِسَائِ هَذِهِ الْأُمَّةِ فَضَحِکْتُ لِذَلِکَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، ابی زکریا، فراس عامر مسروق، سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کی تمام عورتیں اکٹھی ہوئی ان میں سے کوئی زوجہ مطہرہ بھی غائب نہیں تھی تو اسی دوران حضرت فاطمہ ؓ آئیں ان کے چلنے کا انداز رسول اللہ کے چلنے کے انداز جیسا تھا آپ نے فرمایا اے میری بیٹی خوش آمدید حضرت فاطمہ کو اپنے دائیں طرف یا بائیں طرف بٹھا لیا پھر آپ ﷺ نے حضرت فاطمہ ؓ کے کان میں کوئی بات فرمائی تو حضرت فاطمہ رو پڑیں پھر آپ نے اس طرح حضرت فاطمہ کے کان میں کوئی بات فرمائی تو پھر وہ ہنس پڑیں میں نے حضرت فاطمہ سے کہا کہ کس وجہ سے روئیں تو حضرت فاطمہ فرمانے لگیں کہ میں رسول اللہ کا زار فاش نہیں کروں گی میں نے کہا میں نے آج کی طرح کی کبھی ایسی خوشی نہیں دیکھی کہ جو رنج والم سے اس قدر قریب ہو پھر میں نے حضرت فاطمہ سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے علیحدہ ہو کر تجھ سے خاص بات فرمائی ہے پھر تم رو پڑی ہو اور میں نے حضرت فاطمہ سے اس بات کے بارے میں پوچھا کہ آپ ﷺ نے کیا فرمایا ہے حضرت فاطمہ فرمانے لگیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کا راز فاش نہیں کرنے والی ہوں یہاں تک کہ جب آپ ﷺ کی وفات ہوگئی تو میں نے حضرت فاطمہ سے پوچھا تو وہ کہنے لگیں کہ آپ نے مجھ سے بیان فرمایا تھا کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہر سال میرے ساتھ ایک مرتبہ قرآن مجید کا دور کیا کرتے تھے اور اس مرتبہ دو مرتبہ دور کیا ہے میرا خیال ہے کہ میری وفات کا وقت قریب ہے اور تو میرے گھر والوں میں سب سے پہلے مجھ سے ملو گی اور میں تیرے لئے بہترین پیش خیمہ ہوں گا اس وجہ سے میں رو پڑی پھر آپ نے میرے کان میں فرمایا: (اے فاطمہ! ) کیا تو اس بات پر راضی نہیں کہ تو مومن عورتوں کی سردار ہے یا اس امت کی عورتوں کی سردار ہے تو پھر میں ہنس پڑی۔

Aisha reported that all the wives of Allahs Apostle ﷺ had gathered (in her apartment) during the days of his (Prophets) last illness and no woman was left behind that Fatima, who walked after the style of Allahs Messenger ﷺ , came there. He welcomed her by saying: You are welcome, my daughter, and made her sit on his right side or on his left side, and then talked something secretly to her and Fitima wept. Then he talked something secretly to her and she laughed. I said to her: What makes you weep? She said; I am not going to divulge the secret of Allahs Messenger ﷺ . I (Aisha) said: I have not seen (anything happening) like today, the happiness being more close to grief (as I see today) when she wept. I said to her: Has Allahs Messenger ﷺ singled you out for saying something leaving us aside? She then wept and I asked her what he said, and she said: I am not going to divulge the secrets of Allahs Messenger ﷺ . And when he died I again asked her and she said that he (the Holy Prophet) told her: Gabriel (علیہ السلام) used to recite the Quran to me once a year and for this year it was twice and so I perceived that my death had drawn near, and that I (Aisha) would be the first amongst the members of his family who would meet him (in the Hereafter). He shall be my good forerunner and it made me weep. He again talked to me secretly (saying): Arnt you pleased that you should be the sovereign amongst the believing women or the head of women of this Umma? And this made me laugh.

6315Sahih Muslim

ام المومنیں حضرت ام سلمہ (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَی بْنُ حَمَّادٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی الْقَيْسِيُّ کِلَاهُمَا عَنْ الْمُعْتَمِرِ قَالَ ابْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ عَنْ سَلْمَانَ قَالَ لَا تَکُونَنَّ إِنْ اسْتَطَعْتَ أَوَّلَ مَنْ يَدْخُلُ السُّوقَ وَلَا آخِرَ مَنْ يَخْرُجُ مِنْهَا فَإِنَّهَا مَعْرَکَةُ الشَّيْطَانِ وَبِهَا يَنْصِبُ رَايَتَهُ قَالَ وَأُنْبِئْتُ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام أَتَی نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ أُمُّ سَلَمَةَ قَالَ فَجَعَلَ يَتَحَدَّثُ ثُمَّ قَامَ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُمِّ سَلَمَةَ مَنْ هَذَا أَوْ کَمَا قَالَ قَالَتْ هَذَا دِحْيَةُ قَالَ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ ايْمُ اللَّهِ مَا حَسِبْتُهُ إِلَّا إِيَّاهُ حَتَّی سَمِعْتُ خُطْبَةَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخْبِرُ خَبَرَنَا أَوْ کَمَا قَالَ قَالَ فَقُلْتُ لِأَبِي عُثْمَانَ مِمَّنْ سَمِعْتَ هَذَا قَالَ مِنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ

عبدالاعلی بن حماد محمد بن عبدالاعلی قیسی معتمر ابن حمد معتمر بن سلیمان حضرت سلمان ؓ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ اگر تجھ سے ہو سکے تو تو سب سے پہلے بازار میں داخل نہ ہو اور نہ ہی سب کے بعد بازار سے نکل کیونکہ بازار شیطان کا معرکہ ہے اور اس جگہ اس کا جھنڈا گاڑھا ہوا ہوتا ہے حضرت سلمان ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نبی ﷺ کی خدمت میں تشریف لائے اور حضرت ام سلمہ ؓ آپ ﷺ کے پاس تھیں راوی کہتے ہیں کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آپ ﷺ سے باتیں کرنے لگے پھر کھڑے ہوئے تو اللہ کے نبی ﷺ نے حضرت ام سلمہ ؓ سے پوچھا کہ یہ کون تھے؟ حضرت ام سلمہ ؓ نے عرض کیا کہ یہ حضرت دحیہ کلبی ؓ تھے حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ اللہ کی قسم میں تو انہیں حضرت دحیہ کلبی ہی سمجھتی رہی یہاں تک کہ میں نے اللہ کے نبی کا خطبہ سنا آپ ﷺ ہماری خبر ان سے بیان فرما رہے تھے راوی حضرت سلمان فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوعثمان ؓ سے پوچھا کہ آپ نے یہ حدیث کس سے سنی ہے انہوں نے فرمایا حضرت اسامہ بن زید ؓ سے۔

Salman reported: In case it lies in your power dont be one to enter the bazar first and the last to get out of that because there is a bustle and the standard of Satan is set there. He said: I was informed that Gabriel (علیہ السلام) (RA) came to Allahs Apostle ﷺ and there was with him Umm Salamah and he began to talk with him. He then stood up, whereupon Allahs Apostle ﷺ said to Umm Salamahh (RA) : (Do you know) who was he and what did he say? She said: He was Dihya (Kalbi). He reported Umm Salamah having said: By Allah, I did not deem him but only he (Dihya) until I heard the address of Allahs Apostle ﷺ informing him about us. He (the narrator) said: I said to Uthman: From whom did you hear it? He said: From Usama bin Zaid.

6316Sahih Muslim

ام المومنین حضرت زینب (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی السِّينَانِيُّ أَخْبَرَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَی بْنِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْرَعُکُنَّ لَحَاقًا بِي أَطْوَلُکُنَّ يَدًا قَالَتْ فَکُنَّ يَتَطَاوَلْنَ أَيَّتُهُنَّ أَطْوَلُ يَدًا قَالَتْ فَکَانَتْ أَطْوَلَنَا يَدًا زَيْنَبُ لِأَنَّهَا کَانَتْ تَعْمَلُ بِيَدِهَا وَتَصَدَّقُ

محمود بن غیلان ابواحمد فضل بن موسیٰ سیانی طلحہ بن یحییٰ بن طلحہ ام المومنین سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے سب سے پہلے مجھ سے وہ ملے گی کہ جس کے ہاتھ سب سے زیادہ لمبے ہوں گے تو ساری ازواج مطہرات ؓ اپنے اپنے ہاتھ ناپنے لگیں تاکہ پتہ چلے کہ کس کے ہاتھ لمبے ہیں سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ہم سب میں سے زیادہ لمبے ہاتھ حضرت زینب ؓ کے تھے کیونکہ وہ اپنے ہاتھ سے محنت کرتی اور صدقہ خیرات دیتی تھیں۔

Aisha, the Mother of the Faithful, reported that Allahs Messenger ﷺ said: One who has the longest hands amongst you would meet me most immediately. She farther said: They (the wives of Allahs Apostle) ﷺ used to measure the hands as to whose hand was the longest and it was the hand of Zainab that was the longest amongst them, as she used to work with her hand and spend (that income) on charity.

6317Sahih Muslim

حضرت ام ایمن (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی أُمِّ أَيْمَنَ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ فَنَاوَلَتْهُ إِنَائً فِيهِ شَرَابٌ قَالَ فَلَا أَدْرِي أَصَادَفَتْهُ صَائِمًا أَوْ لَمْ يُرِدْهُ فَجَعَلَتْ تَصْخَبُ عَلَيْهِ وَتَذَمَّرُ عَلَيْهِ

ابوکریب محمد بن علاء ابواسامہ سلیمان بن مغیرہ ثابت حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حضرت اُمِّ ایمن کی طرف تشریف لے گئے تو میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ چل پڑا حضرت ام ایمن ایک برتن میں شربت لے کر آئیں حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ آپ ﷺ روزہ کی حالت میں تھے یا آپ ﷺ نے ویسے ہی اسے واپس لوٹا دیا تو حضرت ام ایمن آپ ﷺ پر چلانے لگیں اور آپ ﷺ پر غصہ ہونے لگیں۔

Anas reported that Allahs Messenger ﷺ went to Umm Aiman and I went along with him and she served him a drink in a vessel and he reported that the narrator said: I do not know whether it was because of the fasting (or for any other reason) that he (the Holy Prophet) refused to accept that. She raised her voice and showed annoyance to him.

6318Sahih Muslim

حضرت ام ایمن (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْکِلَابِيُّ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ انْطَلِقْ بِنَا إِلَی أُمِّ أَيْمَنَ نَزُورُهَا کَمَا کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزُورُهَا فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَيْهَا بَکَتْ فَقَالَا لَهَا مَا يُبْکِيکِ مَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ لِرَسُولِهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ مَا أَبْکِي أَنْ لَا أَکُونَ أَعْلَمُ أَنَّ مَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ لِرَسُولِهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَکِنْ أَبْکِي أَنَّ الْوَحْيَ قَدْ انْقَطَعَ مِنْ السَّمَائِ فَهَيَّجَتْهُمَا عَلَی الْبُکَائِ فَجَعَلَا يَبْکِيَانِ مَعَهَا

زہیر بن حرب، عمرو بن عاصم، کلابی سلیمان بن مغیرہ ثابت حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ نے رسول اللہ کی وفات کے بعد حضرت عمر ؓ سے فرمایا کہ ہمارے ساتھ حضرت ام ایمن کی طرف چلو تاکہ ہم ان کی زیارت کریں جس طرح کہ رسول اللہ ان کی زیارت کے لئے جایا کرتے تھے تو جب ہم حضرت ام ایمن کی طرف پہنچے تو وہ رونے لگ گئیں دونوں حضرات نے حضرت ام ایمن سے فرمایا آپ کیوں روتی ہیں جو اللہ کے پاس ہے وہ اس کے رسول اللہ کے لئے بہتر ہے حضرت ام ایمن کہنے لگیں کہ میں اس وجہ سے نہیں روتی کہ میں یہ نہیں جانتی کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ اس کے رسول کے لئے بہتر ہے بلکہ میں اس وجہ سے روتی ہوں کہ آسمان سے وحی آنی منقطع ہوگئی حضرت ام ایمن کے یہ کہنے سے ان دونوں حضرات کو بھی رونا آگیا اور پھر یہ دونوں حضرات بھی حضرت ام ایمن کی ساتھ رونے لگ گئے۔

Anas reported that after the death of Allahs Messenger ﷺ Abu Bakr (RA) said to Umar (RA) : Let us visit Umm Aiman as Allahs Messenger ﷺ used to visit her. As we came to her, she wept. They ( Abu Bakr (RA) and Umar) said to her: What makes you weep? What is in store (in the next world) for Allahs-Messenger ﷺ is better than (this worldly life). She said: I weep not because I am ignorant of the fact that what is in store for Allahs Messenger ﷺ (in the next world) is better than (this world), but I weep because the revelation which came from the Heaven has ceased to come. This moved both of them to tears and they began to weep along with her.

6319Sahih Muslim

حضرت انس بن مالک کی والدہ ام سلیم اور حضرت بلال (رضی اللہ عنہم) کی فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدْخُلُ عَلَی أَحَدٍ مِنْ النِّسَائِ إِلَّا عَلَی أَزْوَاجِهِ إِلَّا أُمِّ سُلَيْمٍ فَإِنَّهُ کَانَ يَدْخُلُ عَلَيْهَا فَقِيلَ لَهُ فِي ذَلِکَ فَقَالَ إِنِّي أَرْحَمُهَا قُتِلَ أَخُوهَا مَعِي

حسن حلوانی عمرو بن عاصم، ہمام اسحاق بن عبداللہ، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ اپنی ازواج مطہرات ؓ میں سے حضرت ام سلیم ؓ کے علاوہ کسی کے ہاں نہیں جایا کرتے تھے آپ ﷺ سے اس بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا مجھے ان پر بڑا رحم آتا ہے ان کا بھائی میرے ساتھ مارا گیا۔

Anas reported that Allahs Apostle ﷺ did not enter the house of any woman except that of his wives and that of Umm Sulaim. He used to visit her. It was said to him why it was so, whereupon he said: I feel great compassion for her. Her brother was killed while he was with me.

6320Sahih Muslim

حضرت انس بن مالک کی والدہ ام سلیم اور حضرت بلال (رضی اللہ عنہم) کی فضائل کے بیان میں

و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ خَشْفَةً فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا هَذِهِ الْغُمَيْصَائُ بِنْتُ مِلْحَانَ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ

ابن ابی عمر بشر ابن سری حماد بن سلمہ ثابت، حضرت انس ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے وہاں کسی کے چلنے کی آواز سنی میں نے کہا یہ کون ہے وہاں والوں نے مجھے بتایا کہ یہ غمیصاء بنت ملحان حضرت انس کی والدہ ہیں۔

Anas reported that Allahs Apostle ﷺ said: I entered Paradise and heard the noise of steps. I said: Who is it? They said: She is Ghumaisa, daughter of Milhan, the mother of Anas bin Malik (RA).

6321Sahih Muslim

حضرت انس بن مالک کی والدہ ام سلیم اور حضرت بلال (رضی اللہ عنہم) کی فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُرِيتُ الْجَنَّةَ فَرَأَيْتُ امْرَأَةَ أَبِي طَلْحَةَ ثُمَّ سَمِعْتُ خَشْخَشَةً أَمَامِي فَإِذَا بِلَالٌ

ابوجعفر محمد بن فرج زید ابن حباب عبدالعزیز بن ابوسلمہ محمد بن منکدر حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے جنت دکھائی گئی تو میں نے ابو طلحہ کی بیوی کو وہاں دیکھا پھر میں نے اپنے آگے چلنے والے کی آواز سنی دیکھا تو وہ حضرت بلال ؓ ہیں۔

Jabir bin Abdullah reported: I was shown Paradise and I saw the wife of Abu Talha (i. e. Umm Sulaim) and I heard the noise of steps before me and, lo, it was that of Bilal (RA) .