ابوذر (رض) کے فضائل کے بیان میں
و حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ السَّامِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَتَقَارَبَا فِي سِيَاقِ الْحَدِيثِ وَاللَّفْظُ لِابْنِ حَاتِمٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا الْمُثَنَّی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي جَمْرَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا بَلَغَ أَبَا ذَرٍّ مَبْعَثُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَکَّةَ قَالَ لِأَخِيهِ ارْکَبْ إِلَی هَذَا الْوَادِي فَاعْلَمْ لِي عِلْمَ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ يَأْتِيهِ الْخَبَرُ مِنْ السَّمَائِ فَاسْمَعْ مِنْ قَوْلِهِ ثُمَّ ائْتِنِي فَانْطَلَقَ الْآخَرُ حَتَّی قَدِمَ مَکَّةَ وَسَمِعَ مِنْ قَوْلِهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَی أَبِي ذَرٍّ فَقَالَ رَأَيْتُهُ يَأْمُرُ بِمَکَارِمِ الْأَخْلَاقِ وَکَلَامًا مَا هُوَ بِالشِّعْرِ فَقَالَ مَا شَفَيْتَنِي فِيمَا أَرَدْتُ فَتَزَوَّدَ وَحَمَلَ شَنَّةً لَهُ فِيهَا مَائٌ حَتَّی قَدِمَ مَکَّةَ فَأَتَی الْمَسْجِدَ فَالْتَمَسَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يَعْرِفُهُ وَکَرِهَ أَنْ يَسْأَلَ عَنْهُ حَتَّی أَدْرَکَهُ يَعْنِي اللَّيْلَ فَاضْطَجَعَ فَرَآهُ عَلِيٌّ فَعَرَفَ أَنَّهُ غَرِيبٌ فَلَمَّا رَآهُ تَبِعَهُ فَلَمْ يَسْأَلْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ عَنْ شَيْئٍ حَتَّی أَصْبَحَ ثُمَّ احْتَمَلَ قِرْبَتَهُ وَزَادَهُ إِلَی الْمَسْجِدِ فَظَلَّ ذَلِکَ الْيَوْمَ وَلَا يَرَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی أَمْسَی فَعَادَ إِلَی مَضْجَعِهِ فَمَرَّ بِهِ عَلِيٌّ فَقَالَ مَا أَنَی لِلرَّجُلِ أَنْ يَعْلَمَ مَنْزِلَهُ فَأَقَامَهُ فَذَهَبَ بِهِ مَعَهُ وَلَا يَسْأَلُ وَاحِدٌ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ عَنْ شَيْئٍ حَتَّی إِذَا کَانَ يَوْمُ الثَّالِثِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِکَ فَأَقَامَهُ عَلِيٌّ مَعَهُ ثُمَّ قَالَ لَهُ أَلَا تُحَدِّثُنِي مَا الَّذِي أَقْدَمَکَ هَذَا الْبَلَدَ قَالَ إِنْ أَعْطَيْتَنِي عَهْدًا وَمِيثَاقًا لَتُرْشِدَنِّي فَعَلْتُ فَفَعَلَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ فَإِنَّهُ حَقٌّ وَهُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا أَصْبَحْتَ فَاتَّبِعْنِي فَإِنِّي إِنْ رَأَيْتُ شَيْئًا أَخَافُ عَلَيْکَ قُمْتُ کَأَنِّي أُرِيقُ الْمَائَ فَإِنْ مَضَيْتُ فَاتَّبِعْنِي حَتَّی تَدْخُلَ مَدْخَلِي فَفَعَلَ فَانْطَلَقَ يَقْفُوهُ حَتَّی دَخَلَ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَخَلَ مَعَهُ فَسَمِعَ مِنْ قَوْلِهِ وَأَسْلَمَ مَکَانَهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْجِعْ إِلَی قَوْمِکَ فَأَخْبِرْهُمْ حَتَّی يَأْتِيَکَ أَمْرِي فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَصْرُخَنَّ بِهَا بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ فَخَرَجَ حَتَّی أَتَی الْمَسْجِدَ فَنَادَی بِأَعْلَی صَوْتِهِ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَثَارَ الْقَوْمُ فَضَرَبُوهُ حَتَّی أَضْجَعُوهُ فَأَتَی الْعَبَّاسُ فَأَکَبَّ عَلَيْهِ فَقَالَ وَيْلَکُمْ أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّهُ مِنْ غِفَارٍ وَأَنَّ طَرِيقَ تُجَّارِکُمْ إِلَی الشَّامِ عَلَيْهِمْ فَأَنْقَذَهُ مِنْهُمْ ثُمَّ عَادَ مِنْ الْغَدِ بِمِثْلِهَا وَثَارُوا إِلَيْهِ فَضَرَبُوهُ فَأَکَبَّ عَلَيْهِ الْعَبَّاسُ فَأَنْقَذَهُ
ابرہیم بن محمد بن عرعرہ سامی محمد بن حاتم، ابن حاتم عبدالرحمن بن مہدی، مثنی بن سعد ابی جمرہ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ابوذر ؓ کو جب نبی ﷺ کی بعثت کی خبر پہنچی تو انہوں نے اپنے بھائی سے کہا اس وادی کے طرف سوار ہو کر جاؤ اور میرے لئے اس آدمی کے بارے میں معلومات لے کر آؤ جو دعوی کرتا ہے کہ اس کے پاس آسمان سے خبریں آتی ہیں اور اس کی گفتگو سن کر میرے پاس واپس آ۔ وہ چلے یہاں تک کہ مکہ مکرمہ پہنچ گئے اور آپ ﷺ کی بات سنی پھر حضرت ابوذر ؓ کی طرف لوٹے اور کہا میں نے انہیں عمدہ اخلاق کا حکم دیتے ہوئے دیکھا ہے اور گفتگو ایسی ہے جو شعر نہیں ہے تو ابوذر ؓ نے کہا جس چیز کا میں نے ارادہ کیا تھا تم اس کی تسلی بخش جواب نہیں لائے ہو پھر انہوں نے زاد راہ لیا اور ایک مشکیزہ جس میں پانی تھا لادا یہاں تک کہ مکہ پہنچ گئے مسجد میں پہنچے اور نبی ﷺ کو ڈھونڈنا شروع کردیا اور آپ ﷺ کو پہچانتے نہ تھے اور آپ ﷺ کے بارے میں پوچھنا مناسب نہ سمجھا یہاں تک کہ رات ہوگئی اور لیٹ گئے حضرت علی ؓ نے انہیں دیکھا تو اندازہ لگایا کہ یہ مسافر ہے پس وہ انہیں دیکھنے ان کے پیچھے گئے اور ان دونوں میں سے کسی ایک نے بھی اپنے ساتھی سے کوئی گفتگو نہ کی یہاں تک کہ صبح ہوگئی انہوں نے پھر اپنی مشک اور زاد راہ اٹھایا اور مسجد کی طرف چل دئیے پس یہ دن بھی اسی طرح گزر گیا اور نبی ﷺ کو دیکھ نہ سکے یہاں تک کہ شام ہوگئی اور اپنے ٹھکانے کی طرف لوٹے پس علی ؓ ان کے پاس سے گزرے تو کہا اس آدمی کو ابھی تک اپنی منزل کا علم نہیں ہوسکا پس انہیں اٹھایا اور اپنے ساتھ لے گئے اور ان دونوں میں سے کسی ایک نے بھی اپنے ساتھی سے کسی چیز کے بارے میں نہ پوچھا یہاں تک کہ تیسرے دن بھی اسی طرح ہوا کہ حضرت علی ؓ انہیں اٹھا کر اپنے ساتھ لے گئے اور ان سے کہا کیا تم مجھے بتاؤ گے نہیں کہ تم اس شہر میں کس غرض سے آئے ہو ابوذر ؓ نے کہا اگر تم مجھ سے پختہ وعدہ کرو کہ تم میری صحیح راہنمائی کرو گے تو میں بتادیتا ہوں پس حضرت علی ؓ نے وعدہ کرلیا حضرت ابوذر ؓ نے اپنا مقصد بیان کیا تو حضرت علی ؓ نے کہا آپ ﷺ سچے اور اللہ کے رسول ہیں جب صبح ہوئی تو تم میرے ساتھ چلنا اگر میں نے تمہارے بارے میں کوئی خطرہ محسوس کیا تو میں کھڑا ہوجاؤں گا گویا کہ میں پانی بہا رہا ہوں اور اگر میں چلتا رہا تو تم میری اتباع کرنا یہاں تک کہ جہاں میں داخل ہوں تم بھی داخل ہوجانا پس انہوں نے ایسا ہی کیا کہ حضرت علی ؓ کے پیچھے پیچھے چلتے رہے یہاں تک کہ حضرت علی ؓ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ابو ذر ؓ ان کے ساتھ حاضر خدمت ہوئے اور آپ ﷺ کی گفتگو سنی اور اسی جگہ اسلام قبول کرلیا تو نبی ﷺ نے ان سے فرمایا اپنی قوم کی طرف لوٹ جا اور انہیں اس (دین کی) تبلیغ کر یہاں تک کہ تیرے پاس میرا حکم پہنچ جائے ابوذر ؓ نے عرض کیا اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے میں تو یہ بات مکہ والوں کے سامنے پکار کر کروں گا پس وہ نکلے یہاں تک کہ مسجد میں آئے اور اپنی بلند آواز سے کہا (أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ) میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوائے کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور قوم ان پر ٹوٹ پڑی انہیں مارنا شروع کردیا یہاں تک کہ انہیں لٹا دیا پس حضرت عباس ؓ آئے اور ان پر جھک گئے اور کہا تمہارے لئے افسوس ہے کیا تم جانتے نہیں ہو کہ یہ قبیلہ غفار سے ہیں اور تمہاری شام کی طرف تجارت کا راستہ ان کے پاس سے گزرتا ہے پھر ابوذر ؓ کو ان سے چھڑا لیا انہوں نے اگلی صبح پھر اسی جملہ کو دہرایا اور مشرکین ان پر ٹوٹ پڑے اور مارنا شروع کردیا حضرت عباس ؓ نے ان پر جھک کر انہیں بچایا اور چھڑا کرلے گئے۔
Ibn Abbas reported that when Abu Dharr (RA) heard of the advent of the Apostle ﷺ in Makkah he said: Brother, ride in this valley and bring information for me about the person who claims that there comes to him information from the Heavens. Listen to his words and then come to me. So he rode on until he came to Makkah and he heard his words (the sacred words of the Holy Prophet) and then came back to Abu Dharr (RA) and said: I have seen him exhorting (people) to develop good morals and his expressions can in no way be termed as poetry. He (Abu Dharr) said: I have not been satisfied with it regarding that which I had in my mind (as I sent you). So he took up provisions for the journey and a small water-skin con- taining water (and set forth) until he came to Makkah. He came to the mosque (Ka’bah) and began to find out Allahs Apostle ﷺ and he did not re- cognise him (the Holy Prophet) and he did not even like that he should ask about him from anyone until it was night, and he slept. All saw him and found him to be a stranger. So he went with him. He followed hive but one did not make any inquiry from the other about anything until it was morning. He then brought the water and his provisions to the mosque and spent a day there, but he did not see Allahs Apostle ﷺ until it was night. He then returned to his bed that there happened to pass Ali and he said: This man has not been able to find his destination until this time. He made him stand and he went with him and no one made an in- quiry from his companion about anything. And when it was the third day he did the same. Ali made him stand up and brought him along with him. He said: By Him, besides Whom there is no god, why dont you tell me (the reason) which brought you here to this town? He said: (I shall do this) provided you hold me promise and a covenant that you would guide me aright. He then did that. He (Ali) said: Verily, he Is truthful and he is a Messenger of Allah ﷺ and when it is morning, follow me and if I would say anything from which I would sense fear about you I would stand (in a manner) as if I was throwing water and if I move on, you then follow me until I get in (some house). He did that and I followed him until he came to Allahs Messenger ﷺ . He entered (the house) of Allahs Apostle ﷺ along with him and listened to his words and embraced Islam at his very place. Allahs Apostle ﷺ said to him: Go to your people and inform them until my command reaches you. Thereupon he said: By Him in Whose Hand is my life, I shall say to the people of Makkah this thing at the top of my voice So he set forth until he came to the mosque and then spoke at the top of his voice (saying): I bear testimony to the fact that there is no god but Allah and that Muhammad is the Messenger of Allah. The people attacked him and made him fall down when Abbas came and he leaned over him and said: Woe be upon you, dont you know that he is from amongst the tribe of Ghifar and your trad- ing route to Syria passes through (the settlements of this tribe), and he rescued him. He (Abu Dharr) did the same on the next day and they (the Makkahns) again attacked him and Abbas leaned upon him and he rescued him.
حضرت جریر بن عبداللہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ بَيَانٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ح و حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ بَيانٍ قَالَ سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ أَبِي حَازِمٍ يَقُولُ قَالَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَا حَجَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَلَا رَآنِي إِلَّا ضَحِکَ
یحییٰ بن یحیی، خالد بن عبداللہ، قیس بن ابی حازم، جریر بن عبداللہ، عبدالحمید بن بیان، خالد، بیان، قیس بن ابی حازم، حضرت جریر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ جب سے میں نے اسلام قبول کیا ہے رسول اللہ ﷺ نے کبھی بھی مجھے اندر آنے سے نہیں روکا ہے اور جب بھی (آپ ﷺ مجھے دیکھتے تو مسکراتے تھے۔
Jarir bin Abdullah said: Allahs Messenger ﷺ never refused me permission to see him since I embraced Islam and never looked at me but with a smile.
حضرت جریر بن عبداللہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ إِسْمَعِيلَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ قَيْسٍ عَنْ جَرِيرٍ قَالَ مَا حَجَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَلَا رَآنِي إِلَّا تَبَسَّمَ فِي وَجْهِي زَادَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ عَنْ ابْنِ إِدْرِيسَ وَلَقَدْ شَکَوْتُ إِلَيْهِ أَنِّي لَا أَثْبُتُ عَلَی الْخَيْلِ فَضَرَبَ بِيَدِهِ فِي صَدْرِي وَقَالَ اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ابواسامہ اسماعیل ابن نمیر، عبداللہ بن ادریس اسماعیل حضرت جریر ؓ سے روایت ہے کہ جب سے میں نے اسلام قبول کیا رسول ﷺ نے کبھی بھی مجھے اندر آنے سے نہیں روکا اور جب بھی مجھے دیکھتے تو میرے سامنے مسکرا دیتے ابن ادریس کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ میں نے آپ ﷺ سے شکایت کی کہ میں گھوڑے پر جم کر نہیں بیٹھ سکتا تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ مبارک کو میرے سینے پر مارا اور فرمایا اے اللہ اسے جما دے اور اسے ہدایت دینے والا اور ہدایت یافتہ بنا دے۔
Jarir reported: Since I embraced Islam Allahs Messenger ﷺ never refused to see me and he did not see me but with a smile on his face. Ibn Numair has made this addition to this hadith which has been reported on the authority of Ibn Idris that he (Jarir) made this complaint to him (to the Holy Prophet): I cannot sit upon the horse with firmness, whereupon he (Allahs Apostle) ﷺ struck his chest with his hand and prayed: O Allah, make him steadfast and rightly-guided.
حضرت جریر بن عبداللہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَبْدُ الحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ بَيَانٍ عَنْ قَيْسٍ عَنْ جَرِيرٍ قَالَ کَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ بَيْتٌ يُقَالُ لَهُ ذُو الْخَلَصَةِ وَکَانَ يُقَالُ لَهُ الْکَعْبَةُ الْيَمَانِيَةُ وَالْکَعْبَةُ الشَّامِيَّةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ أَنْتَ مُرِيحِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ وَالْکَعْبَةِ الْيَمَانِيَةِ وَالشَّامِيَّةِ فَنَفَرْتُ إِلَيْهِ فِي مِائَةٍ وَخَمْسِينَ مِنْ أَحْمَسَ فَکَسَرْنَاهُ وَقَتَلْنَا مَنْ وَجَدْنَا عِنْدَهُ فَأَتَيْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ قَالَ فَدَعَا لَنَا وَلِأَحْمَسَ
عبدالحمید ابن بیان خالد بیان حضرت جریر ؓ سے روایت ہے کہ دور جاہلیت میں ایک گھر تھا جسے ذوالخلصہ کہا جاتا تھا اور اسی کو کعبہ یمانیہ اور کعبہ شامیہ بھی کہا جاتا تھا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تو مجھے ذوالخلصہ اور کعبہ یمانہ اور شامیہ کی فکر سے آرام پہنچائے گا پس میں قبیلہ احمس سے ایک سو پچاس آدمیوں کو لے کر اس کی طرف چل پڑا ہم نے اسے توڑ دیا اور جسے اس کے پاس پایا اسے قتل کردیا پھر میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ کو اس کی خبر دی تو آپ ﷺ نے ہمارے لئے اور قبیلہ احمس کے لئے دعا فرمائی۔
Jabir reported that there was in pre-Islamic days a temple called Dhul- Khalasah and it was called the Yamanite Ka’bah or the northern Ka’bah. Allahs Messenger ﷺ said unto me: Will you rid me of Dhul-Khalasah and so I went forth at the head of 35O horsemen of the tribe of Ahmas and we destroyed it and killed whomsoever we found there. Then we came back to him (to the Holy Prophet) and informed him and he blessed us and the tribe of Ahmas
حضرت جریر بن عبداللہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا جَرِيرُ أَلَا تُرِيحُنِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ بَيْتٍ لِخَثْعَمَ کَانَ يُدْعَی کَعْبَةَ الْيَمَانِيَةِ قَالَ فَنَفَرْتُ فِي خَمْسِينَ وَمِائَةِ فَارِسٍ وَکُنْتُ لَا أَثْبُتُ عَلَی الْخَيْلِ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبَ يَدَهُ فِي صَدْرِي فَقَالَ اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا قَالَ فَانْطَلَقَ فَحَرَّقَهَا بِالنَّارِ ثُمَّ بَعَثَ جَرِيرٌ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُبَشِّرُهُ يُکْنَی أَبَا أَرْطَاةَ مِنَّا فَأَتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ مَا جِئْتُکَ حَتَّی تَرَکْنَاهَا کَأَنَّهَا جَمَلٌ أَجْرَبُ فَبَرَّکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی خَيْلِ أَحْمَسَ وَرِجَالِهَا خَمْسَ مَرَّاتٍ
اسحاق بن ابراہیم، جریر، اسماعیل بن ابی خالد قیس بن ابی حازم حضرت جریر بن عبداللہ بجلی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا اے جریر کیا تم مجھے خثعم کے گھر ذوالخلصہ کے معاملہ سے آزاد نہیں کردیتے اسے کعبہ یمانیہ کہا جاتا تھا پس میں ایک سو پچاس سواروں کے ساتھ اس کی طرف چل پڑا اور میں گھوڑے پر جم کر نہ بیٹھ سکتا تھا میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر مار کر فرمایا اے اللہ اسے ثابت قدمی عطا فرما اور اسے ہدایت دینے والا اور ہدایت یافتہ بنا پس میں گیا اور اسے آگ میں جلا ڈالا پھر حضرت جریر ؓ نے ہم میں سے ایک آدمی کو جس کی کنیت ابوارطاہ تھی رسول اللہ ﷺ کی طرف خوشخبری دینے کے لئے بھیجا پس وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا ہم ذوالخلصہ کو خارش زدہ اونٹ کی طرح کر کے چھوڑ کر آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں پس رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ احمس کے سواروں اور پیادوں کے لئے پانچ مرتبہ برکت کی دعا کی۔
Jarir bin Abdullah al-Bajali said: Allahs Messenger ﷺ said to me: Cant on rid me of DhuI-Khalasah, the idol-house of Khatham, and this idol-house was called the Yamanite Ka’bah. So I went along with 15O horsemen and I could not sit with steadfastness upon the horse. I made the mention of it to Allahs Messenger ﷺ and he struck his hand on my chest and said: O Allah, grant him steadfastness and make him the guide of righteousness and the rightly-guided one. So he went away and he set fire to it. Then Jarir sent some person to Allahs Messenger ﷺ whose Kunya was Abu Arta to give him the happy news about that. He came to Allahs Messenger ﷺ and said: I have not come to you (but with the news) that we have left Dhul-Khalasah as a scabed camel. Thereupon Allahs Messenger ﷺ blessed the horses of Ahmas and the men of their tribe five times.
حضرت جریر بن عبداللہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ کُلُّهُمْ عَنْ إِسْمَعِيلَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ فِي حَدِيثِ مَرْوَانَ فَجَائَ بَشِيرُ جَرِيرٍ أَبُو أَرْطَاةَ حُصَيْنُ بْنُ رَبِيعَةَ يُبَشِّرُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ابن نمیر، ابی محمد بن عباد سفیان، ابن ابی عمر مروان فزاری محمد بن رافع ابواسامہ اسماعیل ان اسنا سے بھی یہ حدیث مروی ہے اور مروان کی حدیث میں ہے کہ پس جریر کی طرف سے خوشخبری لانے والا ابوارطاہ حصین بن ربیعہ تھا جس نے نبی ﷺ کو خوشخبری دی۔
This hadith has been narrated on the authority of Ismail with different chains of transmitters and in the hadith transmitted on the authority of Marwan (the words are):" A person giving the glad tidings on behalf of Jarir came or Abu Husain bin Rabiah came in order to give glad tidings to Allahs Apostle ﷺ .
سیدنا عبداللہ بن عباس (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ النَّضْرِ قَالَا حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا وَرْقَائُ بْنُ عُمَرَ الْيَشْکُرِيُّ قَالَ سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي يَزِيدَ يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَی الْخَلَائَ فَوَضَعْتُ لَهُ وَضُوئًا فَلَمَّا خَرَجَ قَالَ مَنْ وَضَعَ هَذَا فِي رِوَايَةِ زُهَيْرٍ قَالُوا وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَکْرٍ قُلْتُ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ اللَّهُمَّ فَقِّهْهُ
زہیر بن حرب، ابوبکر بن نضر ہاشم بن قاسم ورقاء بن عمر بشکری عبیداللہ بن ابی یزید حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ قضائے حاجت کے لئے تشریف لے گئے تو میں نے آپ کے لئے پانی رکھا جب آپ ﷺ بیت الخلاء سے نکلے تو فرمایا یہ کس نے رکھا ہے صحابہ ؓ نے عرض کیا یا میں نے عرض کیا ابن عباس ؓ نے آپ ﷺ نے فرمایا اے اللہ اسے دین کی فقاہت و سمجھ عطا فرما۔
Ibn Abbas reported that Allahs Messenger ﷺ came to privy and I placed for him water for ablution, When he came out he said: Who placed it here? And in a version of Zuhair they (the Companions) said, and in the version of Abu Bakr (RA) (the words are): I said: It is Ibn Abbas (who has done that), whereupon he (the Holy Prophet) said: May Allah grant him deep understanding of religion.
سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَکِيُّ وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ وَأَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ کُلُّهُمْ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ کَأَنَّ فِي يَدِي قِطْعَةَ إِسْتَبْرَقٍ وَلَيْسَ مَکَانٌ أُرِيدُ مِنْ الْجَنَّةِ إِلَّا طَارَتْ إِلَيْهِ قَالَ فَقَصَصْتُهُ عَلَی حَفْصَةَ فَقَصَّتْهُ حَفْصَةُ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَی عَبْدَ اللَّهِ رَجُلًا صَالِحًا
ابوربیع خلف بن ہشام ابوکامل جحدری حماد بن زید ابوربیع حماد بن زید ایوب نافع حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا گویا کہ میرے ہاتھ میں استبرق کا ایک ٹکڑا ہے اور جنت کے جس مکان کی طرف میں جانے کا ارادہ کرتا ہوں وہ اڑ کر اس جگہ پہنچ جاتا ہے پس میں نے اس کا پورا قصہ حضرت حفصہ ؓ سامنے بیان کیا پھر حضرت حفصہ ؓ نے نبی ﷺ سے بیان کیا تو نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا میرا خیال ہے کہ عبداللہ ایک نیک آدمی ہوں گے۔
Ibn Umar reported: I saw in a state of sleep as if I have in my hand a piece of silk cloth and there is no place in the Paradise where I intend to reach but that piece of cloth does not fly towards it. I made a mention of it to Hafsa (the sister of Ibn Umar) and Hafsa made a mention of it to Allahs Apostle ﷺ , whereupon Allahs Apostle ﷺ said: I find Abdullah b Umar a pious person.
سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَاللَّفْظُ لِعَبْدٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ کَانَ الرَّجُلُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَی رُؤْيَا قَصَّهَا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَمَنَّيْتُ أَنْ أَرَی رُؤْيَا أَقُصُّهَا عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَکُنْتُ غُلَامًا شَابًّا عَزَبًا وَکُنْتُ أَنَامُ فِي الْمَسْجِدِ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُ فِي النَّوْمِ کَأَنَّ مَلَکَيْنِ أَخَذَانِي فَذَهَبَا بِي إِلَی النَّارِ فَإِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ کَطَيِّ الْبِئْرِ وَإِذَا لَهَا قَرْنَانِ کَقَرْنَيْ الْبِئْرِ وَإِذَا فِيهَا نَاسٌ قَدْ عَرَفْتُهُمْ فَجَعَلْتُ أَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ النَّارِ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ النَّارِ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ النَّارِ قَالَ فَلَقِيَهُمَا مَلَکٌ فَقَالَ لِي لَمْ تُرَعْ فَقَصَصْتُهَا عَلَی حَفْصَةَ فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللَّهِ لَوْ کَانَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ قَالَ سَالِمٌ فَکَانَ عَبْدُ اللَّهِ بَعْدَ ذَلِکَ لَا يَنَامُ مِنْ اللَّيْلِ إِلَّا قَلِيلًا
اسحاق بن ابراہیم، عبد بن حمید عبدالرزاق، معمر، زہری، سالم بن عمر حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی زندگی مبارک میں کوئی آدمی جو بھی خواب دیکھتا اسے رسول اللہ کے سامنے بیان کرتا اور میں غیر شدہ نوجوان تھا اور رسول اللہ ﷺ کے زمانہ مبارک میں میں مسجد میں سویا کرتا تھا پس میں نے نیند میں دیکھا گویا کہ دو فرشتوں نے مجھے پکڑا اور مجھے دوزخ کی طرح لے گئے تو وہ کنوئیں کی دو لکڑیوں کی طرح لکڑیاں بھی تھیں اور اس میں لوگ تھے جنہیں میں پہچانتا تھا پس میں نے (اَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ النَّارِ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ النَّارِ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ النَّارِ ) میں آگ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں دہرانا شروع کردیا ان دو فرشتوں میں سے ایک اور فرشتہ ملا تو اس نے مجھ سے کہا تو خوف نہ کر پس میں نے حضرت حفصہ سے اس کا تذکرہ کیا تو حضرت حفصہ نے رسول اللہ ﷺ سے بیان کیا تو نبی ﷺ نے فرمایا عبداللہ کتنا اچھا آدمی ہے کاش یہ اٹھ کر رات کو نماز پڑھے سالم نے کہا اس کے بعد حضرت عبداللہ ؓ رات کو تھوڑی دیر ہی سویا کرتے تھے۔
Ibn Umar reported that when a person saw anything in sleep during the lifetime of Allahs Messenger ﷺ he narrated it to Allahs Messenger, and I also had a longing that I should also see in a dream something which I should narrate to Allahs Apostle ﷺ and I was at that time an unmarried young man. I was sleeping in the mosque during the lifetime of Allahs Messenger ﷺ I saw in a dream as if two Angels have taken hold of me and they have carried me to the fire, and, lo, it was built like the easing of a well and had two pillars like those of a well; and, lo, there were people in it whom I knew and I cried out: I seek refuge with Allah from Hell-fire; I seek refuge with Allah from Hell-fire. Then another Angel joined the two others, and said unto me: You need not fear.I narrated this dream to Hafsa and she narrated it to Allahs Messenger, whereupon Allahs Apostle ﷺ said: Worthy is this man Abdullah, O that he would pray at night, and Salim added that Abdullah afterwards slept only but for a small part of the night.
سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا مُوسَی بْنُ خَالِدٍ خَتَنُ الْفِرْيَابِيِّ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ الْفَزَارِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ کُنْتُ أَبِيتُ فِي الْمَسْجِدِ وَلَمْ يَکُنْ لِي أَهْلٌ فَرَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ کَأَنَّمَا انْطُلِقَ بِي إِلَی بِئْرٍ فَذَکَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَی حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ
عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، موسیٰ بن خالد ابواسحاق فزاری عبیداللہ بن عمر نافع ابن عمر حضرت ابن زبیر ؓ سے روایت ہے کہ میں رات مسجد میں گزار کرتا تھا اور میری بیوی نہ تھی پس میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا کہ مجھے ایک کنوئیں کی طرف لے جایا گیا ہے باقی حدیث مبارکہ اسی طرح مذکور ہے۔
Ibn Umar (RA) reported: I used to spend nights in the mosque and by that time I had no wife and children. I saw in a dream as if I am being taken to a well. I made a mention of it to Allahs Messenger (may peacebe upon him). The rest of the hadith is the same.
سیدنا انس بن مالک (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ أَنَّهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ خَادِمُکَ أَنَسٌ ادْعُ اللَّهَ لَهُ فَقَالَ اللَّهُمَّ أَکْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ وَبَارِکْ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتَهُ
محمد بن مثنی، ابن بشار محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، انس، حضرت ام سلیم ؓ سے روایت ہے کہ اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول یہ انس آپ ﷺ کا خادم ہے اللہ سے اس کے لئے دعا کردیں تو آپ ﷺ نے فرمایا اے اللہ اس کے مال اور اولاد میں کثرت و زیادتی کر جو تو اسے عطا کر اس میں برکت عطا فرما۔
Anas reported that Umm Sulaim said (to the Holy Prophet) Allahs Messenger, here is your servant Anas, invoke blessings of Allah upon him. Thereupon he (the Holy Prophet) said: O Allah, make an increase in his wealth, and progeny, and confer blessings upon him in everything Thou hast bestowed upon him.
سیدنا انس بن مالک (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ خَادِمُکَ أَنَسٌ فَذَکَرَ نَحْوَهُ
محمد بن مثنی، ابن بشار ابوداؤد شعبہ، قتادہ، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ام سلیم ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! یہ انس آپ ﷺ کا خادم ہے۔ باقی حدیث مذکورہ حدیث کی طرح ہے۔
Anas reported (that his mother) Umm Sulaim said (to the Holy Prophet) Allahs Messenger, here is your servant Anas. The rest of the hadith is the same.
سیدنا انس بن مالک (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يَقُولُا مِثْلَ ذَلِکَ
محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، ہشام ابن زید اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔
This hadith has been reported on the authority of Anas through another chain of transmitters.
سیدنا انس بن مالک (رض) کے فضائل کے بیان میں
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا وَمَا هُوَ إِلَّا أَنَا وَأُمِّي وَأُمُّ حَرَامٍ خَالَتِي فَقَالَتْ أُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ خُوَيْدِمُکَ ادْعُ اللَّهَ لَهُ قَالَ فَدَعَا لِي بِکُلِّ خَيْرٍ وَکَانَ فِي آخِرِ مَا دَعَا لِي بِهِ أَنْ قَالَ اللَّهُمَّ أَکْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ وَبَارِکْ لَهُ فِيهِ
زہیر بن حرب، ہاشم بن قاسم سلیمان بن ثابت حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ہمارے گھر تشریف لائے اور اس وقت میں میری امی اور میری خالہ ام حرام کے علاوہ وہاں کوئی بھی موجود نہ تھا تو میری والدہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول یہ آپ ﷺ کا ادنیٰ سا خادم ہے اللہ سے اس کے لئے دعا مانگیں تو آپ ﷺ نے میر لئے ہر بھلائی کی دعا مانگی اور میرے لئے جو دعا مانگی اس کے آخر میں یہ کہا اے اللہ اس کے مال اور اولاد کو زیادہ کر اور اس میں اس کے لئے برکت فرما۔
Anas reportedAllahs Apostle ﷺ visited us and there was none else (in the house) but I, my mother and my mothers sister Umm Haram. My mother said to him: Allahs Messenger, here is a small servant of yours, invoke blessings of Allah upon him. And he invoked blessings for me (that I should be bestowed upon) every good and this was what he (said) at the end of what be supplicated for me: O Allah, make an increase in his wealth, and progeny, and cqnfer blessings (upon him) in (each one) of them.
سیدنا انس بن مالک (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ حَدَّثَنَا أَنَسٌ قَالَ جَائَتْ بِي أُمِّي أُمُّ أَنَسٍ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَزَّرَتْنِي بِنِصْفِ خِمَارِهَا وَرَدَّتْنِي بِنِصْفِهِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا أُنَيْسٌ ابْنِي أَتَيْتُکَ بِهِ يَخْدُمُکَ فَادْعُ اللَّهَ لَهُ فَقَالَ اللَّهُمَّ أَکْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ قَالَ أَنَسٌ فَوَاللَّهِ إِنَّ مَالِي لَکَثِيرٌ وَإِنَّ وَلَدِي وَوَلَدَ وَلَدِي لَيَتَعَادُّونَ عَلَی نَحْوِ الْمِائَةِ الْيَوْمَ
ابومعن رقاشی عمر بن یونس عکرمہ اسحاق حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ میری امی جان مجھے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے گئیں اور تحقیق انہوں نے مجھے اپنے آدھے دوپٹے کی چادر بنادی اور آدھے کو مجھے اوڑھا دیا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول! یہ میرا بیٹا انس ہے میں آپ ﷺ کے پاس آپ کی خدمت کرنے کے لئے پیش کرنے کو لائی ہوں آپ ﷺ اللہ سے اس کے لئے دعا مانگیں تو آپ ﷺ نے فرمایا اے اللہ اس کے مال اور اولاد میں زیادتی کر۔ انس ؓ نے کہا اللہ کی قسم میرا مال بہت کثیر ہے اور میری اولاد اور میری اولاد کی اولاد کی تعداد آج کل تقریبا ایک سو ہے۔
Anas reported: My mother Umm Anas came to Allahs Messenger ﷺ . And she prepared my lower garment out of the half of her headdress and (with the other half) she covered my upper body and said: Allahs Messenger, here is my son Unais; I have brought him to you for serving you. Invoke blessings of Allah upon him. Thereupon he (the Holy Prophet) said: O Allah, make an increase in his wealth, and progeny. Anas said: By Allah, my fortune is huge and my children, and grand-children are now more than one hundred.
سیدنا انس بن مالک (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ عَنْ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَتْ أُمِّي أُمُّ سُلَيْمٍ صَوْتَهُ فَقَالَتْ بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ أُنَيْسٌ فَدَعَا لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ دَعَوَاتٍ قَدْ رَأَيْتُ مِنْهَا اثْنَتَيْنِ فِي الدُّنْيَا وَأَنَا أَرْجُو الثَّالِثَةَ فِي الْآخِرَةِ
قتیبہ بن سعید، جعفر ابن سلیمان ابن عثان، مالک حضرت انس بن مالک ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ گزرے تو میری والدہ ام سلیم نے آپ ﷺ کی آواز سنی تو عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان اے اللہ کے رسول یہ چھوٹا انس ہے۔ پس رسول اللہ ﷺ نے میرے لئے تین دعائیں کیں ان میں سے دو دنیا میں دیکھ چکا ہوں اور تیسری کا آخرت میں امیدوار ہوں۔
Anas bin Malik (RA) said: Allahs Messenger ﷺ passed (by our house) that my mother Umm Sulaim listened to his voice and said: Allahs Messenger, let my father and mother be sacrificed for thee, here is Unais (and requested him to invoke blessings upon me). So Allahs Messenger ﷺ invoked three blessings upon me. I have seen (the results) of the two in this very world (in regard to wealth and progeny) and I hope to see (the result) of the third one in the Hereafter.
سیدنا انس بن مالک (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَتَی عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ قَالَ فَسَلَّمَ عَلَيْنَا فَبَعَثَنِي إِلَی حَاجَةٍ فَأَبْطَأْتُ عَلَی أُمِّي فَلَمَّا جِئْتُ قَالَتْ مَا حَبَسَکَ قُلْتُ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ قَالَتْ مَا حَاجَتُهُ قُلْتُ إِنَّهَا سِرٌّ قَالَتْ لَا تُحَدِّثَنَّ بِسِرِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا قَالَ أَنَسٌ وَاللَّهِ لَوْ حَدَّثْتُ بِهِ أَحَدًا لَحَدَّثْتُکَ يَا ثَابِتُ
ابوبکر بن نافع بہز حماد سلمہ ثابت، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا آپ ﷺ نے ہمیں سلام کیا پھر مجھے کسی کام کے لئے بھیجا پس میں اپنی والدہ کے پاس دیر سے گیا جب میں ان کے پاس پہنچا تو اس نے کہا تجھے کس چیز نے روکے رکھا میں نے کہا مجھے رسول اللہ ﷺ نے کسی کام کے لئے بھیج دیا تھا انہوں نے کہا آپ ﷺ کا کیا کام تھا میں نے کہا وہ راز کی بات ہے انہوں نے کہا تم رسول اللہ ﷺ کے راز کو کسی سے بھی بیان نہ کرنا انس ؓ نے کہا اللہ کی قسم اگر میں وہ بات کسی سے بیان کرتا تو اے ثابت تجھ سے بیان کردیتا۔
Anas reported: Allahs Messenger ﷺ came to me as I was playing with playmates. He greeted and sent me on an errand and I made delay in going to my mother. When I came to her she said: What detained you? I said: Allahs Messenger ﷺ sent me on an errand. She said: What was the purpose? I said: It is something secret. Therupon she said: Do not then divulge the secret of Allahs Messenger ﷺ to anyone. Anas said: By Allah, if I were to divulge it to anyone, then, O Thabit, I would have divulged it to you.
سیدنا انس بن مالک (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ أَسَرَّ إِلَيَّ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرًّا فَمَا أَخْبَرْتُ بِهِ أَحَدًا بَعْدُ وَلَقَدْ سَأَلَتْنِي عَنْهُ أُمُّ سُلَيْمٍ فَمَا أَخْبَرْتُهَا بِهِ
حجاج بن شاعر، عارم بن فضل معتمر ابن سلیمان حضرت انس ؓ بن مالک سے ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے مجھے ایک راز کی بات کی اور میں نے اس کے بعد کسی کو بھی اس کی خبر نہیں دی اور میرے والدہ ام سلیم نے بھی مجھ سے اس راز کے بارے میں سوال کیا لیکن میں نے انہیں بھی نہ بتایا۔
Anas bin Malik (RA) reported that Allahs Apostle ﷺ told me something secretly. I informed none about that and Umm Sulaim asked me about it, but I did not tell her even.
سیدنا عبداللہ بن سلام (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ عِيسَی حَدَّثَنِي مَالِکٌ عَنْ أَبِي النَّضْرِ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُا مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِحَيٍّ يَمْشِي إِنَّهُ فِي الْجَنَّةِ إِلَّا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ
زہیر بن حرب، اسحاق بن عیسیٰ مالک ابی نضر حضرت عامر بن سعد ؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے زمین پر زندہ چلنے والوں میں سے حضرت عبداللہ بن سلام ؓ کے علاوہ کسی کے بارے میں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ وہ جنتی ہے۔
Amir bin Sad reported that he heard his father (Sad bin Abi Waqqas) say: never heard Allahs Messenger ﷺ say unto one living and moving about that he was in Paradise except to Abdullah bin Salim.
سیدنا عبداللہ بن سلام (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی الْعَنَزِيُّ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ قَالَ کُنْتُ بِالْمَدِينَةِ فِي نَاسٍ فِيهِمْ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَائَ رَجُلٌ فِي وَجْهِهِ أَثَرٌ مِنْ خُشُوعٍ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَصَلَّی رَکْعَتَيْنِ يَتَجَوَّزُ فِيهِمَا ثُمَّ خَرَجَ فَاتَّبَعْتُهُ فَدَخَلَ مَنْزِلَهُ وَدَخَلْتُ فَتَحَدَّثْنَا فَلَمَّا اسْتَأْنَسَ قُلْتُ لَهُ إِنَّکَ لَمَّا دَخَلْتَ قَبْلُ قَالَ رَجُلٌ کَذَا وَکَذَا قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ مَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ مَا لَا يَعْلَمُ وَسَأُحَدِّثُکَ لِمَ ذَاکَ رَأَيْتُ رُؤْيَا عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَصَصْتُهَا عَلَيْهِ رَأَيْتُنِي فِي رَوْضَةٍ ذَکَرَ سَعَتَهَا وَعُشْبَهَا وَخُضْرَتَهَا وَوَسْطَ الرَّوْضَةِ عَمُودٌ مِنْ حَدِيدٍ أَسْفَلُهُ فِي الْأَرْضِ وَأَعْلَاهُ فِي السَّمَائِ فِي أَعْلَاهُ عُرْوَةٌ فَقِيلَ لِي ارْقَهْ فَقُلْتُ لَهُ لَا أَسْتَطِيعُ فَجَائَنِي مِنْصَفٌ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ وَالْمِنْصَفُ الْخَادِمُ فَقَالَ بِثِيَابِي مِنْ خَلْفِي وَصَفَ أَنَّهُ رَفَعَهُ مِنْ خَلْفِهِ بِيَدِهِ فَرَقِيتُ حَتَّی کُنْتُ فِي أَعْلَی الْعَمُودِ فَأَخَذْتُ بِالْعُرْوَةِ فَقِيلَ لِيَ اسْتَمْسِکْ فَلَقَدْ اسْتَيْقَظْتُ وَإِنَّهَا لَفِي يَدِي فَقَصَصْتُهَا عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ تِلْکَ الرَّوْضَةُ الْإِسْلَامُ وَذَلِکَ الْعَمُودُ عَمُودُ الْإِسْلَامِ وَتِلْکَ الْعُرْوَةُ عُرْوَةُ الْوُثْقَی وَأَنْتَ عَلَی الْإِسْلَامِ حَتَّی تَمُوتَ قَالَ وَالرَّجُلُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ
محمد بن مثنی، معاذ عبداللہ بن عون محمد بن سیرین حضرت قیس بن عباد ؓ سے روایت ہے کہ مدینہ میں میں کچھ لوگوں کے پاس بیٹھا ہوا تھا جن میں سے بعض رسول اللہ کے صحابہ بھی تھے پس ایک آدمی جس کے چہرے پر اللہ کے خوف کے آثار نمایاں تھے تو بعض لوگوں نے کہا یہ آدمی جنت والوں میں سے ہے یہ آدمی اہل جنت میں سے ہے اس نے دو رکعتیں ادا کیں لیکن ان میں اختصار کیا پھر چل دیا میں بھی اس کے پیچھے پیچھے چلا وہ اپنے گھر میں داخل ہوا اور میں بھی داخل ہوگیا پھر اس نے ہم سے گفتگو کی جب اس سے مانوسیت ہوگئی تو میں نے اس سے کہا جب آپ اس سے پہلے مسجد میں داخل ہوئے تو ایک آدمی نے اس اس طرح کہا انہوں نے کہا سُبْحَانَ اللَّهِ کسی کے لئے بھی یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ ایسی بات کرے جس کے بارے میں علم نہیں رکھتا اور میں ابھی بتاتا ہوں کہ یہ کیوں ہے میں نے رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک خواب دیکھا جسے میں نے رسول اللہ ﷺ سے بیان کیا میں نے اپنے خواب میں دیکھا اور پھر اسے اس کی وسعت پیداوار اور سرسبزی کو بیان کیا اور باغ کے درمیان میں لوہے کا ایک ستون تھا اس کا نچلا حصہ زمین اور اوپر کا حصہ آسمانوں میں اور اس کی بلندی میں ایک حلقہ تھا پس مجھے کہا گیا کہ اس پر چڑھو میں نے اس سے کہا کہ میں تو چڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا پس میرے پاس ایک مِنصَف آیا ابن عون نے کہا مِنصَف خادم کو کہتے ہیں اس نے میرے پیچھے سے میرے کپڑے اٹھائے اور بیان کیا کہ اس نے اس کے پیچھے سے اپنے ہاتھ سے اسے اٹھایا پس میں چڑھ گیا یہاں تک کہ اس ستون کی بلندی تک پہنچ گیا۔ پس میں نے اس حلقہ کو پکڑ لیا پھر مجھے کہا گیا اسے مضبوطی سے پکڑے رکھو پھر میں بیدار ہوگیا اور وہ حلقہ میرے ہاتھ میں ہی تھا میں نے یہ خواب نبی ﷺ سے بیان کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا وہ باغ اسلام ہے اور وہ ستون اسلام کا ستون ہے اور وہ حلقہ عروہ الوثقی یعنی مضبوط حلقہ ہے اور تیری موت اسلام پر ہی آئے گی کہا کہ وہ آدمی حضرت عبداللہ بن سلام ؓ تھے۔
Qais bin Ubadah reported: I was in the company of some persons, amongst whom some were the Companions of Allahs Apostle ﷺ in Madinah, that there came a person whose face depicted the fear (of Allah). Some people said: He is a person from amongst the people of Paradise; he is a person from amongst the people of Paradise. He observed two short rakahs of prayer and then went out. I followed him and he got into his house and I also got in and we began to converse with each other. And when he became familiar (with me) I said to Him: When you entered (the mosque) before (your entrance in the house) a person said so and so (that you are amongst the people of Paradise), whereupon he said: It is not meet for anyone to say anything which he does not know. I shall (now) tell you why they (say) this. I saw a dream during the lifetime of Allahs Messenger ﷺ and narrated it to him. I seemed to be in a garden [he described its vastness, its rich fructification and its verdure]; in the midst of it, there stood an iron pillar, with its base in the earth and its summit in the sky: and upon its summit there was a handhold. It was said to me: Climb up this (pillar). I said to him (visitant in the dream): I am unable to do it. Thereupon a helper came to me, and he (supported) me (by catching hold of my) garment from behind and thus helped me with his hand and so I climbed up till I was at the summit of the pillar, and grasped the handhold. It was said to me: Ho d it tightly. It was at this that I woke up when (the handhold) was in fthe grip) of my hand. I narrated it (the dream) to Allahs Apostle ﷺ , whereupon he said: That garden implies al-Islam and that pillar implies the pillar of Islam. And that handhold is the firmest faith (as refered to in the Quran). And you will remain attached to Islam until you shall die. And that man was Abdullah bin Salim.