سیدنا عبداللہ بن سلام (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ قَالَ قَيْسُ بْنُ عُبَادٍ کُنْتُ فِي حَلَقَةٍ فِيهَا سَعْدُ بْنُ مَالِکٍ وَابْنُ عُمَرَ فَمَرَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ فَقَالُوا هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَقُمْتُ فَقُلْتُ لَهُ إِنَّهُمْ قَالُوا کَذَا وَکَذَا قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ مَا کَانَ يَنْبَغِي لَهُمْ أَنْ يَقُولُوا مَا لَيْسَ لَهُمْ بِهِ عِلْمٌ إِنَّمَا رَأَيْتُ کَأَنَّ عَمُودًا وُضِعَ فِي رَوْضَةٍ خَضْرَائَ فَنُصِبَ فِيهَا وَفِي رَأْسِهَا عُرْوَةٌ وَفِي أَسْفَلِهَا مِنْصَفٌ وَالْمِنْصَفُ الْوَصِيفُ فَقِيلَ لِيَ ارْقَهْ فَرَقِيتُ حَتَّی أَخَذْتُ بِالْعُرْوَةِ فَقَصَصْتُهَا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمُوتُ عَبْدُ اللَّهِ وَهُوَ آخِذٌ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَی
محمد بن عمر بن عباد بن جبلہ ابی رواء حرمی بن عمارہ قرہ بن خالد بن محمد ابن سیرین حضرت قیس بن عباد ؓ سے روایت ہے کہ میں ایک حلقہ میں بیٹھا ہوا تھا جس میں حضرت سعد بن مالک اور ابن عمر ؓ بھی تشریف فرما تھے حضرت عبداللہ بن سلام ؓ گزرے تو لوگوں نے کہا یہ اہل آدمی جنت میں سے ہے پس میں کھڑا ہوا اور اس سے کہا انہوں نے اس اس طرح کہا ہے اس نے کہا سُبْحَانَ اللَّهِ ان کے لئے مناسب نہ تھا کہ وہ ایسی بات کرتے جس کے بارے میں انہیں علم نہ تھا میں نے (خواب میں) دیکھا گویا کہ ایک ستون ہے جسے سرسبز باغ میں بنایا گیا ہے اور اس کے درمیان میں گاڑھ دیا گیا ہے اور سرے پر ایک حلقہ ہے اور اس کے نیچے ایک مصنف یعنی خدمت گزار کھڑا ہے پس مجھے کہا گیا کہ اس پر چڑھو پس میں چڑھا یہاں تک کہ اس حلقہ کو پکڑ لیا میں نے یہاں سارا قصہ رسول اللہ ﷺ سے بیان کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عبداللہ اس حال میں فوت ہوگا کہ عروہ الوثقی اسلام کی مضبوط رسی کو پکڑنے والا ہوگا۔
Qais bin Ubaida reported: I was (sitting) in a company in which there were (besides others) Sad bin Malik and Ibn Umar that Abdullah bin Saliim happened to pass (by that side). They (the people sitting in that company) said: He is a person from amongst the dwellers of Paradise. I stood up and said to him: They say such and such (thing about you), whereupon he said: Hallowed be Allah, it is not meet for them to say (anything) of which They have no knowledge. Verily I saw as if a pillar had been raised in a green garden and there had been fixed at its (upper) end a handhold and there was a helper at its base. It was said to me: Climb up. So I climbed up and caught hold of the haildhold. I narrated (the contents of this dream) to Allahs Messenger ﷺ , whereupon he said: Abdullah would die in a state that he would be catching hold of the firmest handhold (he would die holding fast to the faith).
سیدنا عبداللہ بن سلام (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ قَالَ کُنْتُ جَالِسًا فِي حَلَقَةٍ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ قَالَ وَفِيهَا شَيْخٌ حَسَنُ الْهَيْئَةِ وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ قَالَ فَجَعَلَ يُحَدِّثُهُمْ حَدِيثًا حَسَنًا قَالَ فَلَمَّا قَامَ قَالَ الْقَوْمُ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَی رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَلْيَنْظُرْ إِلَی هَذَا قَالَ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَأَتْبَعَنَّهُ فَلَأَعْلَمَنَّ مَکَانَ بَيْتِهِ قَالَ فَتَبِعْتُهُ فَانْطَلَقَ حَتَّی کَادَ أَنْ يَخْرُجَ مِنْ الْمَدِينَةِ ثُمَّ دَخَلَ مَنْزِلَهُ قَالَ فَاسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ فَأَذِنَ لِي فَقَالَ مَا حَاجَتُکَ يَا ابْنَ أَخِي قَالَ فَقُلْتُ لَهُ سَمِعْتُ الْقَوْمَ يَقُولُونَ لَکَ لَمَّا قُمْتَ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَی رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَلْيَنْظُرْ إِلَی هَذَا فَأَعْجَبَنِي أَنْ أَکُونَ مَعَکَ قَالَ اللَّهُ أَعْلَمُ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ وَسَأُحَدِّثُکَ مِمَّ قَالُوا ذَاکَ إِنِّي بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ أَتَانِي رَجُلٌ فَقَالَ لِي قُمْ فَأَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ قَالَ فَإِذَا أَنَا بِجَوَادَّ عَنْ شِمَالِي قَالَ فَأَخَذْتُ لِآخُذَ فِيهَا فَقَالَ لِي لَا تَأْخُذْ فِيهَا فَإِنَّهَا طُرُقُ أَصْحَابِ الشِّمَالِ قَالَ فَإِذَا جَوَادُّ مَنْهَجٌ عَلَی يَمِينِي فَقَالَ لِي خُذْ هَاهُنَا فَأَتَی بِي جَبَلًا فَقَالَ لِيَ اصْعَدْ قَالَ فَجَعَلْتُ إِذَا أَرَدْتُ أَنْ أَصْعَدَ خَرَرْتُ عَلَی اسْتِي قَالَ حَتَّی فَعَلْتُ ذَلِکَ مِرَارًا قَالَ ثُمَّ انْطَلَقَ بِي حَتَّی أَتَی بِي عَمُودًا رَأْسُهُ فِي السَّمَائِ وَأَسْفَلُهُ فِي الْأَرْضِ فِي أَعْلَاهُ حَلْقَةٌ فَقَالَ لِيَ اصْعَدْ فَوْقَ هَذَا قَالَ قُلْتُ کَيْفَ أَصْعَدُ هَذَا وَرَأْسُهُ فِي السَّمَائِ قَالَ فَأَخَذَ بِيَدِي فَزَجَلَ بِي قَالَ فَإِذَا أَنَا مُتَعَلِّقٌ بِالْحَلْقَةِ قَالَ ثُمَّ ضَرَبَ الْعَمُودَ فَخَرَّ قَالَ وَبَقِيتُ مُتَعَلِّقًا بِالْحَلْقَةِ حَتَّی أَصْبَحْتُ قَالَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَصَصْتُهَا عَلَيْهِ فَقَالَ أَمَّا الطُّرُقُ الَّتِي رَأَيْتَ عَنْ يَسَارِکَ فَهِيَ طُرُقُ أَصْحَابِ الشِّمَالِ قَالَ وَأَمَّا الطُّرُقُ الَّتِي رَأَيْتَ عَنْ يَمِينِکَ فَهِيَ طُرُقُ أَصْحَابِ الْيَمِينِ وَأَمَّا الْجَبَلُ فَهُوَ مَنْزِلُ الشُّهَدَائِ وَلَنْ تَنَالَهُ وَأَمَّا الْعَمُودُ فَهُوَ عَمُودُ الْإِسْلَامِ وَأَمَّا الْعُرْوَةُ فَهِيَ عُرْوَةُ الْإِسْلَامِ وَلَنْ تَزَالَ مُتَمَسِّکًا بِهَا حَتَّی تَمُوتَ
قتیبہ بن سعید، اسحاق بن ابراہیم، قتیبہ جریر، اعمش، سلیمان مسہر حضرت خرشہ بن حُر (رح) سے روایت ہے کہ میں مدینہ کی مسجد میں ایک حلقہ میں بیٹھا ہوا تھا اور اس مجلس میں ایک بزرگ خوبصورت شکل و صورت والے بھی تھے جو عبداللہ بن سلام ؓ تھے اور انہوں نے لوگوں سے عمدہ باتیں کرنا شروع کردیں جب وہ اٹھ گئے تو لوگوں نے کہا جس آدمی کو یہ پسند ہو کہ وہ جنتی آدمی کو دیکھے اسے چاہئے کہ وہ اس آدمی کو دیکھ لے۔ میں نے کہا اللہ کی قسم میں اس کے پیچھے پیچھے جاؤں گا تاکہ اس کے گھر کا پتہ کرسکوں پس میں ان کے پیچھے چلا وہ چلتے رہے یہاں تک کہ مدینہ سے نکلنے کے قریب ہوئے پھر اپنے گھر میں داخل ہوگئے میں نے ان کے پاس حاضر ہونے کی اجازت مانگی تو مجھے اجازت دے دی پھر فرمایا اے بھیجتے تجھے کیا کام ہے میں نے کہا میں نے لوگوں سے آپ کے بارے میں کہتے ہوئے سنا کہ جب آپ کھڑے ہوئے کہ جسے یہ بات پسندیدہ ہو کہ جنتی آدمی کو دیکھے تو اسے چاہئے کہ انہیں دیکھ لے تو مجھے پسند آیا کہ میں آپ کے ساتھ ہی رہوں انہوں نے کہا اہل جنت کے بارے میں تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے اور میں تمہیں بیان کرتا ہوں جس وجہ سے انہوں نے یہ کہا ہے اس دوران کہ میں سویا ہوا تھا میرے پاس ایک آدمی آیا اس نے مجھے کہا کھڑا ہوجا میرا ہاتھ پکڑا اور میں اس کے ساتھ چل پڑا مجھے راستہ میں اپنی بائیں طرف کچھ راہیں ملی جن میں میں نے جانا چاہا تو اس نے مجھے کہاں میں مت جاؤ کیونکہ یہ بائیں طرف کے راستے ہیں پھر دائیں طرف ایک راستہ نظر آیا تو اس نے مجھ سے کہا اس میں چلے جاؤ پھر وہ ایک پہاڑ پر لے چلا پھر مجھے سے کہا اس پر چڑھ جاؤ پس میں نے چڑھنا شروع کیا لیکن جب میں چڑھنے کا ارادہ کرتا تو سیرین کے بل گرپڑتا یہاں تک کہ مجھے ایک ستون کے پاس لایا جس کا (اوپر والا) سرا آسمان میں اور نچلا حصہ زمین میں تھا اور اس کی بلندی میں ایک حلقہ تھا تو اس نے مجھے کہا اس کے اوپر چڑھو میں نے کہا میں اس پر کیسے چڑھوں حالانکہ اس کا سرا تو آسمان میں ہے پس اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اوپر چڑھا دیا میں نے دیکھا کہ میں حلقہ کو پکڑے ہوئے کھڑا ہوں پھر اس نے اس ستون پر ایک ضرب ماری جس سے وہ گرگیا لیکن میں حلقہ کے ساتھ ہی لٹکا رہا یہاں تک کہ میں نے صبح کی تو نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ کو یہ سارا قصہ سنایا آپ ﷺ نے فرمایا وہ راستے جو تو نے اپنے طرف دیکھے وہ تو بائیں طرف (جہنم) والوں کے راستے تھے اور وہ راستے جو تو نے اپنی دائیں طرف دیکھے وہ دائیں طرف (جنت) والوں کے راستے تھے اور وہ پہاڑ شہداء کا مقام ہے جسے تم حاصل نہ کرسکو گے اور ستون اسلام کا ستون ہے اور حلقہ تو یہ اسلام کا حلقہ ہے اور تو مرتے دم تک اسلام کے حلقہ کو پکڑے رکھے گا۔
Kharasha bin Hurr reported: I was sitting in a circle in the mosque of Madinah and there was an old man, quite handsome. He was Abdullah bin Salim. He was telling good things to them (to the people sitting in that company). As he stood up (to depart) the people said: He who is desirous of looking at a person from amongst the people of Paradise should see him. I said: By Allah, I will follow him, and would try to know his residence. So I followed him and he walked on until he reached the outskirts of Madinah. He then entered his house. I sought permission from him to get in, and he granted me the permission, saying: My nephew, what is the need (that has brought you here)? I said to him: As you stood up, I heard people say about you: He who is desirous of seeing a person from among the people of Paradise should look at him. So I became desirous of accompanying you. He (Abdullah bin Salim) said: It is Allah Who knows best about the people of Paradise. I would, however, narrate to you as to why they said like it. (The story is) that while I was asleep (one night) there came to me a person (in the dream) who asked me to stand up. (So I stood up) and he caught hold of my hand and I walked along with him, and, lo, I found some paths on my left and I was about to set out upon them. Thereupon he said to me Do not set yourself on (them) for these are the paths of the leftists (denizens of Hell-fire). Then there were paths leading to the right side, whereupon he said: Set yourself on these paths. We came across a hill and he said to me: Climb up, and I attempted to climb up that I fell upon my buttocks. I made several attempts (but failed to succeed). He led until he came to a pillar (so high) that its upper end touched the sky and its base was in the earth. And there was a handhold at its upper end. He said to me Climb over it. I said: How can I climb upon it, as its upper end touches the sky? He cought hold of my hand and pushed me up and I found myself suspended with the handhold. He then struck the pillar and it fell down, but I remained attached to that handhold until it was morning (and the dream was thus over). I came to Allahs Apostle ﷺ and narrated it to him. He said: So far as the paths which you saw on your left are concerned, these are paths of the leftists (denizens of Hell) and the paths which you saw on your right, these are the paths of the rightists (the dwellers of Paradise) and the mountain represents the destination of the martyrs which you would not be able to attain. The pillar implies the pillar of Islam. and so far as the handhold is concerned, it implies the handhold of Islam, and you would hold to it fastly until you would meet death.
سیدنا حسان بن ثابت (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ کُلُّهُمْ عَنْ سُفْيَانَ قَالَ عَمْرٌو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ عُمَرَ مَرَّ بِحَسَّانَ وَهُوَ يُنْشِدُ الشِّعْرَ فِي الْمَسْجِدِ فَلَحَظَ إِلَيْهِ فَقَالَ قَدْ کُنْتُ أُنْشِدُ وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْکَ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَی أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ أَنْشُدُکَ اللَّهَ أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَجِبْ عَنِّي اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ قَالَ اللَّهُمَّ نَعَمْ
عمرو ناقد اسحاق بن ابراہیم، ابی عمر سفیان، عمرو سفیان، عیینہ زہری، سعید حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ حضرت حسان ؓ کے پاس سے گزرے اور وہ مسجد میں شعر کہہ رہے تھے پس انہوں نے (حضرت عمر ؓ کی طرف غصہ سے دیکھا تو انہوں نے کہا میں اس وقت بھی شعر کہتا تھا جبکہ آپ سے بہتر اس میں موجود ہوتے تھے پھر انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی طرف متوجہ ہو کر کہا میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کیا تو نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری طرف سے جواب دو اے اللہ اس کی روح القدس کے ذریعہ نصرت و مدد فرما۔ ( ابوہریرہ ؓ نے کہا: اے تو جانتا ہے، جی ہاں! (میں نے سنا ہے)۔
Abu Hurairah (RA) reported that Umar happened to pass by Hassan as he was reciting verses in the mosque. He (Hadrat Umar) looked towards him (meaningfully), whereupon he (gassin) said: I used to recite (verses) when one better than you (the Holy Prophet) had been present (here). He then looked towards Abu Hurairah (RA) and said to him: I adjure you by Allah (to tell) if you had not heard Allahs Messenger ﷺ as saying: (Hassan), give a reply on my behalf; Allah I help him with Ruh-ul-Qudus. He ( Abu Hurairah (RA) ) said: By Allah, it is so (i. e. the Holy Prophet ﷺ actually said these words).
سیدنا حسان بن ثابت (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ حَسَّانَ قَالَ فِي حَلْقَةٍ فِيهِمْ أَبُو هُرَيْرَةَ أَنْشُدُکَ اللَّهَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ مِثْلَهُ
اسحاق بن ابراہیم، محمد بن رافع بن حمید عبدالرزاق، معمر، زہری، حضرت ابن مسیب ؓ سے روایت ہے کہ حضرت حسان ؓ نے ایک حلقہ میں بیٹھے ہوئے حضرت ابوہریرہ ؓ سے کہا اے ابوہریرہ! میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا تو نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ باقی حدیث اسی طرح ذکر کی۔
Ibn Musayyib reported that Hassan said to a circle in which there was also Abu Hurairah (RA) : Abu Hurairah (RA) , I adjure you by Allah (to tell) whether you-had not heard Allahs Messenger ﷺ saying like this.
سیدنا حسان بن ثابت (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ حَسَّانَ بْنَ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيَّ يَسْتَشْهِدُ أَبَا هُرَيْرَةَ أَنْشُدُکَ اللَّهَ هَلْ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَا حَسَّانُ أَجِبْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ نَعَمْ
عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، ابویمان شعیب زہری، حسان بن ثابت انصاری حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمن (رح) سے روایت ہے کہ اس نے حضرت حسان بن ثابت انصاری ؓ سے حضرت ابوہریرہ ؓ کو گواہ بناتے ہوئے سنا انہوں نے کہا میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں تو نے نبی ﷺ سے سنا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا اے حسان رسول اللہ کی طرف سے جواب دے اے اللہ اس کی روح القدس کے ذریعہ نصرت فرما۔ ابوہریرہ ؓ نے کہا ہاں۔
Abdul Rahman reported that he heard Hassin bin Thabit al-Ansari call Abu Hurairah (RA) to bear witness by saying: I adjure you by Allah if you had not heard Allahs Apostle ﷺ saying: Hassin, give a reply on behalf of the Messenger of Allah. O Allah, help him with Ruh-ul-Qudus. Abu Hurairah (RA) said: Yes, it is so.
سیدنا حسان بن ثابت (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَدِيٍّ وَهُوَ ابْنُ ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَائَ بْنَ عَازِبٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ اهْجُهُمْ أَوْ هَاجِهِمْ وَجِبْرِيلُ مَعَکَ
عبیداللہ بن معاذ ابی شعبہ، عدی ابن ثابت، براء بن عازب سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے حضرت حسان بن ثابت ؓ کو فرماتے ہوئے سنا ان کی ہجو کرو اور جبرائیل (علیہ السلام) بھی تیرے ساتھ ہیں۔
Al-Bara bin Azib (RA) reported: I heard Allahs Messenger ﷺ as saying: Hassan bin Thabit, write satire (against the non-believers) ; Gabriel (علیہ السلام) is with you.
سیدنا حسان بن ثابت (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ح و حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ کُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
زہیر بن حرب، عبدالرحمن ابوبکر بن نافع غندر ابن بشار محمد بن جعفر عبدالرحمن شعبہ، ان اسناد سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Shubah with the same chain of transmitters.
سیدنا حسان بن ثابت (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ حَسَّانَ بْنَ ثَابِتٍ کَانَ مِمَّنْ کَثَّرَ عَلَی عَائِشَةَ فَسَبَبْتُهُ فَقَالَتْ يَا ابْنَ أُخْتِي دَعْهُ فَإِنَّهُ کَانَ يُنَافِحُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابواسامہ، ہشام، حسان بن ثابت، حضرت عروہ ؓ سے روایت ہے کہ حسان بن ثابت ؓ نے عائشہ ؓ کے متعلق باتیں کی تھیں تہمت والے قصہ میں میں نے انہیں برا بھلا کہا تو سیدہ عائشہ ؓ نے کہا اے میرے بھانجے انہیں چھوڑ دو کیونکہ یہ نبی ﷺ کی مدافعت کرتے تھے۔
Hisham reported on the authority of his father that Hassan bin Thabit talked much about Aisha. I scolded him, whereupon she said: My nephew, leave him for he defended Allahs Messenger ﷺ .
سیدنا حسان بن ثابت (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
عثمان بن ابی شیبہ عبدہ ہشام اس سند سے بھی یہ حدیث مبارکہ مروی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters.
سیدنا حسان بن ثابت (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي الضُّحَی عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَی عَائِشَةَ وَعِنْدَهَا حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ يُنْشِدُهَا شِعْرًا يُشَبِّبُ بِأَبْيَاتٍ لَهُ فَقَالَ حَصَانٌ رَزَانٌ مَا تُزَنُّ بِرِيبَةٍ وَتُصْبِحُ غَرْثَی مِنْ لُحُومِ الْغَوَافِلِ فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ لَکِنَّکَ لَسْتَ کَذَلِکَ قَالَ مَسْرُوقٌ فَقُلْتُ لَهَا لِمَ تَأْذَنِينَ لَهُ يَدْخُلُ عَلَيْکِ وَقَدْ قَالَ اللَّهُ وَالَّذِي تَوَلَّی کِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ فَقَالَتْ فَأَيُّ عَذَابٍ أَشَدُّ مِنْ الْعَمَی إِنَّهُ کَانَ يُنَافِحُ أَوْ يُهَاجِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
بشر بن خالد محمد بن جعفر، شعبہ، سلیمان ضحی حضرت مسروق (رح) سے روایت ہے کہ میں سیدہ عائشہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کے پاس حضرت حسان ؓ شعر کہہ رہے تھے اپنے تغزل آمیز شعر انہیں سنا رہے تھے تو کہا سیدہ عائشہ پاک دامن اور عقلمند ہیں اور ان پر کسی شک کی بنا پر تہمت نہیں لگائی جاسکتی اور وہ اس حال میں صبح کرتی ہیں کہ ناواقف عورتوں کے گوشت سے بھوکی ہوتی ہیں۔ تو سیدہ عائشہ ؓ نے ان سے کہا لیکن تم تو ایسے نہیں ہو۔ مسروق (رح) نے کہا میں نے ان سے کہا آپ انہیں اپنے پاس آنے کی اجازت کیوں دیتی ہیں حالا ن کہ اللہ تبارک وتعالی نے فرمایا وَالَّذِي تَوَلَّی کِبْرَهُ اور جس نے ان میں سے (بہتان) میں بڑا حصہ لیا اس کے لئے بہت بڑا عذاب ہے تو انہوں نے کہا اس سے بڑا عذاب کیا ہوگا کہ وہ (حسان ؓ نابینا ہوگئے ہیں یہ وہ ہیں جو رسول اللہ ﷺ کی (کفار کی طرف سے) مدافعت کرتے تھے یا ان کی ہجو کرتے تھے۔
Masruq reported: I visited Aisha when Hassin was sitting there and reciting verses from his compilation: She is chaste and prudent. There is no calumny against her and she rises up early in the morning without eating the meat of the un- mindful. Aisha said: But you are not so. Masruq said: I said to her: Why do you permit him to visit you, whereas Allah has said:" And as for him among them who took upon himself the main part thereof, he shall have a grievous punishment" (XXIV. ll)? Thereupon she said: What tornient can be more severe than this that he has become blind? He used to write satire as a rebuttal on behalf of Allahs Messenger ﷺ .
سیدنا حسان بن ثابت (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَاه ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ قَالَتْ کَانَ يَذُبُّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَذْکُرْ حَصَانٌ رَزَانٌ
ابن مثنی ابن ابی عدی، شعبہ، اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے اس میں یہ ہے کہ سیدہ عائشہ ؓ نے کہا وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے جواب دیتے تھے اور اس میں شعر مذکورہ نہیں۔
This hadith has been reported on the authority of Shubah with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording.
سیدنا حسان بن ثابت (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّائَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ حَسَّانُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي فِي أَبِي سُفْيَانَ قَالَ کَيْفَ بِقَرَابَتِي مِنْهُ قَالَ وَالَّذِي أَکْرَمَکَ لَأَسُلَّنَّکَ مِنْهُمْ کَمَا تُسَلُّ الشَّعْرَةُ مِنْ الْخَمِيرِ فَقَالَ حَسَّانُ وَإِنَّ سَنَامَ الْمَجْدِ مِنْ آلِ هَاشِمٍ بَنُو بِنْتِ مَخْزُومٍ وَوَالِدُکَ الْعَبْدُ قَصِيدَتَهُ هَذِهِ
یحییٰ بن یحیی، یحییٰ بن زکریا، ہشام بن عروہ سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ حسان ؓ نے کہا اے اللہ کے رسول! مجھے ابوسفیان کے بارے میں کچھ کہنے کی اجازت دیں آپ ﷺ نے فرمایا اس کے ساتھ میری قرابت کا لحاظ کیسے کرو گے حسان ؓ نے عرض کیا اس ذات کی قسم! جس نے آپ ﷺ کو معزز و مکرم بنایا میں آپ ﷺ کو ان سے ایسے نکال لوں گا جیسے آٹے میں سے بال کو نکال لیا جاتا ہے حسان نے کہا اور بیشک خاندان بنو ہاشم میں سے بنت مخزوم کی اولاد ہی عظمت و بزرگی والی ہے۔ ابوسفیان! تیرا والد تو غلام تھا جیسے بیان کیا گیا۔
Aisha reported that Hassin said: Allahs Messenger, permit me to write satire against Abu Sufyan (RA) , whereupon he said: How can it be because I am also related to him? Thereupon he (Hassan) said: By Him Who has honoured you. I shall draw you out from them (their family) just as hair is drawn out from the fermented (flour). Thereupon Hassan said: The dignity and greatness belongs to the tribe of Bint Makhzum from amongst the tribe of Hisham, whereas your father was a slave.
سیدنا حسان بن ثابت (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَتْ اسْتَأْذَنَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هِجَائِ الْمُشْرِکِينَ وَلَمْ يَذْکُرْ أَبَا سُفْيَانَ وَقَالَ بَدَلَ الْخَمِيرِ الْعَجِينِ
عثمان بن ابی شیبہ عبدہ ہشام بن عروہ حسان بن ثابت ؓ سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ حسان بن ثابت نے نبی ﷺ سے مشرکین کی ہجو کرنے کی اجازت طلب کی اس سند میں ابوسفیان کا نام ذکر نہیں کیا اور خمیر کی جگہ عجین کہا ہے۔
Urwa reported on the same chain of transmitters that Hassan b. Thabit sought permission from Allahs Apostle (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) to satirise against the polytheists, but he did not mention Abu Sufyan. And instead of the word al- Khamir, the word al-Ajin was used.
سیدنا حسان بن ثابت (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي هِلَالٍ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اهْجُوا قُرَيْشًا فَإِنَّهُ أَشَدُّ عَلَيْهَا مِنْ رَشْقٍ بِالنَّبْلِ فَأَرْسَلَ إِلَی ابْنِ رَوَاحَةَ فَقَالَ اهْجُهُمْ فَهَجَاهُمْ فَلَمْ يُرْضِ فَأَرْسَلَ إِلَی کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَی حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ قَالَ حَسَّانُ قَدْ آنَ لَکُمْ أَنْ تُرْسِلُوا إِلَی هَذَا الْأَسَدِ الضَّارِبِ بِذَنَبِهِ ثُمَّ أَدْلَعَ لِسَانَهُ فَجَعَلَ يُحَرِّکُهُ فَقَالَ وَالَّذِي بَعَثَکَ بِالْحَقِّ لَأَفْرِيَنَّهُمْ بِلِسَانِي فَرْيَ الْأَدِيمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَعْجَلْ فَإِنَّ أَبَا بَکْرٍ أَعْلَمُ قُرَيْشٍ بِأَنْسَابِهَا وَإِنَّ لِي فِيهِمْ نَسَبًا حَتَّی يُلَخِّصَ لَکَ نَسَبِي فَأَتَاهُ حَسَّانُ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ لَخَّصَ لِي نَسَبَکَ وَالَّذِي بَعَثَکَ بِالْحَقِّ لَأَسُلَّنَّکَ مِنْهُمْ کَمَا تُسَلُّ الشَّعْرَةُ مِنْ الْعَجِينِ قَالَتْ عَائِشَةُ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِحَسَّانَ إِنَّ رُوحَ الْقُدُسِ لَا يَزَالُ يُؤَيِّدُکَ مَا نَافَحْتَ عَنْ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَقَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَجَاهُمْ حَسَّانُ فَشَفَی وَاشْتَفَی قَالَ حَسَّانُ هَجَوْتَ مُحَمَّدًا فَأَجَبْتُ عَنْهُ وَعِنْدَ اللَّهِ فِي ذَاکَ الْجَزَائُ هَجَوْتَ مُحَمَّدًا بَرًّا تَقِیَّا رَسُولَ اللَّهِ شِيمَتُهُ الْوَفَائُ فَإِنَّ أَبِي وَوَالِدَهُ وَعِرْضِي لِعِرْضِ مُحَمَّدٍ مِنْکُمْ وِقَائُ ثَکِلْتُ بُنَيَّتِي إِنْ لَمْ تَرَوْهَا تُثِيرُ النَّقْعَ مِنْ کَنَفَيْ کَدَائِ يُبَارِينَ الْأَعِنَّةَ مُصْعِدَاتٍ عَلَی أَکْتَافِهَا الْأَسَلُ الظِّمَائُ تَظَلُّ جِيَادُنَا مُتَمَطِّرَاتٍ تُلَطِّمُهُنَّ بِالْخُمُرِ النِّسَائُ فَإِنْ أَعْرَضْتُمُو عَنَّا اعْتَمَرْنَا وَکَانَ الْفَتْحُ وَانْکَشَفَ الْغِطَائُ وَإِلَّا فَاصْبِرُوا لِضِرَابِ يَوْمٍ يُعِزُّ اللَّهُ فِيهِ مَنْ يَشَائُ وَقَالَ اللَّهُ قَدْ أَرْسَلْتُ عَبْدًا يَقُولُ الْحَقَّ لَيْسَ بِهِ خَفَائُ وَقَالَ اللَّهُ قَدْ يَسَّرْتُ جُنْدًا هُمْ الْأَنْصَارُ عُرْضَتُهَا اللِّقَائُ لَنَا فِي کُلِّ يَوْمٍ مِنْ مَعَدٍّ سِبَابٌ أَوْ قِتَالٌ أَوْ هِجَائُ فَمَنْ يَهْجُو رَسُولَ اللَّهِ مِنْکُمْ وَيَمْدَحُهُ وَيَنْصُرُهُ سَوَائُ وَجِبْرِيلٌ رَسُولُ اللَّهِ فِينَا وَرُوحُ الْقُدُسِ لَيْسَ لَهُ کِفَائُ
عبدالملک بن شعیب بن لیث، ابی جدی خالد بن یزید سعید بن ابی ہلال عمارہ بن غزیہ محمد بن ابراہیم، ابوسلمہ بن عبدالرحمن سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قریش کی ہجو کرو کیونکہ یہ انہیں تیروں کی بوچھاڑ سے بھی زیادہ سخت محسوس ہوتی ہے آپ ﷺ نے ابن رواحہ کی طرف پیغام بھیجا تو فرمایا ان کی ہجو کرو انہوں نے ہجو بیان کی لیکن آپ ﷺ خوش نہ ہوئے پھر حضرت کعب بن مالک ؓ کی طرف پیغام بھیجا پھر حسان بن ثابت کو بلوایا جب حسان ؓ آپ ﷺ کے پاس حاضر ہوئے تو عرض کیا اب وہ وقت آگیا ہے کہ اس دم ہلاتے ہوئے شیر کو تم میری طرف چھوڑ دو پھر اپنی زبان کو نکالا اور اسے حرکت دینا شروع کردیا اور عرض کیا اس ذات کی قسم! جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے میں انہیں اپنی زبان سے چیر پھاڑ کر رکھ دوں گا جس طرح چمڑے کو چیر دیا جاتا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جلدی مت کرو بیشک ابوبکر ؓ قریش کے نسب کو خوب جانتے ہیں اور تیرا نسب قریش کے نصب سے بالکل واضح کردیں گے۔ پس حضرت حسان ؓ حضرت ابوبکر ؓ کے پاس آئے اور پھر واپس گئے تو عرض کیا اے اللہ کے رسول تحقیق انہوں نے مجھے آپ ﷺ کا نسب واضح کردیا ہے اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺ کو حق دے کر مبعوث فرمایا ہے میں آپ ﷺ کو اس سے ایسے نکال لوں گا جیسے آٹے سے بال نکال لیا جاتا ہے سیدہ عائشہ ؓ نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ سے حضرت حسان کو فرماتے ہوئے سنا جب تک اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے مدافعت کرتا رہے گا روح القدس برابر تیری نصرت و مدد کرتا رہے گا اور کہتی ہیں میں نے رسول اللہ کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا کہ حسان نے کفار کی ہجو بیان کر کے مسلمانوں کو شفاء یعنی خوشی دی اور کفار کو بیمار کردیا ہے حسان نے کہا۔ تو نے محمد کی ہجو کی ہے ان کی طرف سے میں جواب دیتا ہوں اور اس میں اللہ ہی کے پاس جزا اور بدلہ ہوگا تو نے محمد کی ہجو کی جو نیک اور دین حنیف کے مطابق تقوی اختیار کرنے والے اللہ کے رسول ہیں وعدہ وفا کرنا ان کی صفت ہے بیشک میرے باپ اور میری ماں اور میری عزت محمد ﷺ کو تم سے بچانے کے لئے صدقہ اور قربان ہیں میں اپنے آپ پر آہ وزاری کروں اگر تم نہ دیکھو اس کو کہ کداء کے دونوں طرف سے غبار کو اڑا دے گا وہ گھوڑے جو باگوں پر زور کریں اپنی قوت و طاقت سے اوپر چڑھتے ہوئے ان کے کندھوں پر خون کے پیاسے نیزے ہیں ہمارے گھوڑے دوڑتے ہوئے آئیں گے اور ان کے نتھنوں کو عورتیں اپنے دوپٹوں سے صاف کریں گی اگر تم ہم سے رو گردانی و اعراض کرو تو ہم عمرہ کریں گے اور فتح ہوجانے سے پردہ اٹھ جائے گا ورنہ صبر کرو اس دن کی مار کے لئے جس دن اللہ جسے چاہے گا عزت عطا کرے گا اور اللہ نے فرمایا ہے تحقیق میں نے اپنا بندہ بھیجا ہے جو حق بات کہتا ہے جس میں کوئی پوشیدہ بات نہیں ہے اور اللہ نے کہا ہے کہ میں نے ایک لشکر تیار کردیا ہے اور انصار ہیں کہ انکا مقصد صرف دشمن سے مقابلہ ہے وہ ہر دن کسی نہ کسی تیاری میں ہے کبھی گالیاں دی جاتی ہیں یا لڑائی یا ہجو ہے۔ پس تم میں سے جو بھی رسول اللہ ﷺ کی ہجو کرے یا آپ ﷺ کی تعریف کرے اور آپ ﷺ کی مدد کرے سب برابر ہے ہم میں اللہ کا پیغام لانے والے جبرائیل و روح القدس موجود ہیں جن کا کوئی ہمسر اور برابر کرنے والا نہیں ہے۔
Aisha reported that Allahs Messenger (may peace be upon him) said. Satirise against the (non-believing amongst the) Quraish, for (the satire) is more grievous to them than the hurt of an arrow. So he (the Holy Prophet) sent (someone) to Ibn Rawiha and asked him to satirise against them, and he composed a satire, but it did not appeal to him (to the Holy Prophet). He then sent (someone) to Kab bin Malik (to do the same, but what he composed did not appeal to the Holy Prophet). He then sent one to Hassan bin Thabit. As he got into his presence, Hassan said: Now you have called for this lion who strikes (the enemies) with his tail. He then brought out his tongue and began to move it and said: By Him Who has sent you with Truth, I shall tear them with my tongue as the leather is torn. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: Dont be hasty; (let) Abu Bakr (RA) who has the best know- ledge of the lineage of the Quraish draw a distinction for you in regard to my lineage, as my lineage is the same as theirs. Hassan then came to him (Abu Bakr) and after making inquiry (in regard to the lineage of the Holy Prophet) came back to him (the holy Prophet) and said: Allahs Messenger, he (Abu Bakr) has drawn a distinction in vour lineage (and that of the Quraish) By Him Who has sent you with Truth, I shall draw out from them (your name) as hair is drawn out from the flour. Aisha said: I heard Allahs Messenger ﷺ as saying to Hassin: Verily Ruh-ul- Qudus would continue to help you so long as you put up a defence on behalf of Allah and His Messenger. And she said: I heard Allahs Messenger ﷺ saying: Hassan satirised against them and gave satisfaction to the (Muslims) and disquieted (the non-Muslims).
You satirised Muhammad, but I replied on his behalf,
And there is reward with Allah for this.
You satirised Muhammad. Virtuous, righteous,
The Apostle of Allah ﷺ , whose nature is truthfulness.
So verily my father and his father and my honour
Are a protection to the honour of Muhammad;
May I lose my dear daughter, if you dont see her,
Wiping away the dust from the two sides of Kada,
They pull at the rein, going upward;
On their shoulders are spears thirsting (for the blood of the enemy) ;
our steeds are sweating-our women wipe them with their mantles.
If you had not interfered with us, we would have performed the Umrah,
And (then) there was the Victory, and the darkness cleared away.
Otherwise wait for the fighting on the day in which Allah will honour whom He pleases.
And Allah said: I have sent a servant who says the Truth in which there is no ambiguity;
And Allah said: I have prepared an army-they are the Ansar whose object is fighting (the enemy),
There reaches every day from Maadd abuse, or fighting or satire;
Whoever satirises the Apostle ﷺ from amongst you, or praises him and helps it is all the same,
And Gabriel (علیہ السلام), the Apostle of Allah ﷺ is among us, and the Holy Spirit who has no match.
سیدنا ابوہریرہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْيَمَامِيُّ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ أَبِي کَثِيرٍ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ کُنْتُ أَدْعُو أُمِّي إِلَی الْإِسْلَامِ وَهِيَ مُشْرِکَةٌ فَدَعَوْتُهَا يَوْمًا فَأَسْمَعَتْنِي فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَکْرَهُ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْکِي قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي کُنْتُ أَدْعُو أُمِّي إِلَی الْإِسْلَامِ فَتَأْبَی عَلَيَّ فَدَعَوْتُهَا الْيَوْمَ فَأَسْمَعَتْنِي فِيکَ مَا أَکْرَهُ فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَهْدِيَ أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اهْدِ أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ فَخَرَجْتُ مُسْتَبْشِرًا بِدَعْوَةِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا جِئْتُ فَصِرْتُ إِلَی الْبَابِ فَإِذَا هُوَ مُجَافٌ فَسَمِعَتْ أُمِّي خَشْفَ قَدَمَيَّ فَقَالَتْ مَکَانَکَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ وَسَمِعْتُ خَضْخَضَةَ الْمَائِ قَالَ فَاغْتَسَلَتْ وَلَبِسَتْ دِرْعَهَا وَعَجِلَتْ عَنْ خِمَارِهَا فَفَتَحَتْ الْبَابَ ثُمَّ قَالَتْ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ قَالَ فَرَجَعْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ وَأَنَا أَبْکِي مِنْ الْفَرَحِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَبْشِرْ قَدْ اسْتَجَابَ اللَّهُ دَعْوَتَکَ وَهَدَی أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ وَقَالَ خَيْرًا قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُحَبِّبَنِي أَنَا وَأُمِّي إِلَی عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ وَيُحَبِّبَهُمْ إِلَيْنَا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ حَبِّبْ عُبَيْدَکَ هَذَا يَعْنِي أَبَا هُرَيْرَةَ وَأُمَّهُ إِلَی عِبَادِکَ الْمُؤْمِنِينَ وَحَبِّبْ إِلَيْهِمْ الْمُؤْمِنِينَ فَمَا خُلِقَ مُؤْمِنٌ يَسْمَعُ بِي وَلَا يَرَانِي إِلَّا أَحَبَّنِي
عمرو ناقد عمرو بن یونس یمامی عکرمہ عمار ابی کثیر یزید بن عبدالرحمن حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ میں اپنی والدہ کو اسلام کی طرف دعوت دیتا تھا اور وہ مشرکہ تھیں میں نے ایک دن انہیں دعوت دی تو اس نے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں ایسے الفاظ مجھے سنائے جنہیں میں گورا نہ کرتا تھا میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس حال میں کہ میں رو رہا تھا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں اپنی والدہ کو اسلام کی طرف دعوت دیتا تھا اور وہ انکار کرتی تھی میں نے آج انہیں دعوت دی تو اس نے ایسے الفاظ آپ ﷺ کے بارے میں مجھے سنائے جنہیں (سننا) مجھے گوارا نہ تھا آپ ﷺ اللہ سے دعا کریں کہ وہ ابوہریرہ ؓ کی والدہ کو ہدایت عطا فرمائے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے اللہ ابوہریرہ ؓ کی والدہ کو ہدایت عطا فرما میں نبی ﷺ کی دعا لے کر خوشی سے نکلا جب میں آیا اور دروازہ پر پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ بند کیا ہوا ہے پس میری والدہ نے میرے قدموں کی آہٹ سنی تو کہا اے ابوہریرہ اپنی جگہ پر رک جاؤ اور میں نے پانی گرنے کی آواز سنی پس اس نے غسل کیا اور اپنی قمیض پہنی اور اپنا دوپٹہ اوڑھتے ہوئے جلدی سے باہر آئیں اور دروازہ کھولا پھر کہا اے ابوہریرہ (أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ) میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی مبعود نہیں اور میں گواہی دیتی ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں میں رسول اللہ ﷺ کی طرف لوٹا اور میں خوشی سے رو رہا تھا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! خوشخبری ہو اللہ نے آپ ﷺ کی دعا کو قبول فرما لیا اور ابوہریرہ ؓ کی والدہ کو ہدایت عطا فرما دی پس آپ ﷺ نے اللہ عزوجل کی تعریف اور اس کی صفت بیان کی اور کچھ بھلائی کے جملے ارشاد فرمائے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! اللہ سے دعا مانگیں کہ وہ میری اور میری والدہ کی محبت اپنے مومن بندوں کے دلوں میں ڈال دے اور ہمارے دلوں میں ان کی محبت پیدا فرما دے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے اللہ! اپنے بندوں کے ہاں محبوب بنا دے اور مؤمنین کی محبت ان کے دلوں میں ڈال دے اور کوئی مومن ایسا پیدا نہیں ہوا جس نے میرا ذکر سنایا مجھے دیکھا ہوا اور اس نے مجھ سے محبت نہ کی ہو۔
Abu Hurairah (RA) reported: I invited my mother, who was a polytlieist, to Islam. I invited her one day and she said to me something about Allahs Messenger ﷺ which I hated. I came to Allahs Messenger ﷺ weeping and said: Allahs Messenger, I invited my mother to Islam but she did not accept (my invitation). I invited her today but she said to me something which I did not like. (Kindly) supplicate Allah that He may set the mother of Abu Hurairah (RA) right. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: O Allah, set the mother of Abu Hurairah (RA) on the right path. I came out quite pleased with the supplication of Allahs Apostle ﷺ and when I came near the door it was closed from within. My mother heard the noise of my footsteps and she said: Abu Hurairah (RA) , just wait, and I heard the noiee of falling of water. She took a bath and put on the shirt and quickly covered her head with a headdress and opened the door and then said: Abu Hurairah (RA) , I bear witness to the fact that there is no god but Allah and Mubammad is His bondsman and His Messenger. He ( Abu Hurairah (RA) ) said: I went back to Allahs Messenger ﷺ and (this time) I was shedding the tears of joy. I said: Allahs Messenger, be happy, for Allah has responded to your supplication and He has set on the right path the mother of Abu Hurairah (RA) . He (the Holy Prophet) praised Allah, and extolled Him and uttered good words. I said: Allahs Messenger, supplicate to Allah so that He may instil love of mine and that of my mother too in the believing servants and let our hearts be filled with their love, whereupon Allahs Messenger ﷺ said: O Allah, let there be love of these servants of yours, i. e. Abu Hurairah (RA) and his mother, in the hearts of the believing servants and let their hearts be filled with the love of the believing servants. ( Abu Hurairah (RA) said: This prayer) was so well granted by Allah that no believer was ever born who heard of me and who saw me but did not love me.
سیدنا ابوہریرہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ الْأَعْرَجِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا إِنَّکُمْ تَزْعُمُونَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُکْثِرُ الْحَدِيثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهُ الْمَوْعِدُ کُنْتُ رَجُلًا مِسْکِينًا أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی مِلْئِ بَطْنِي وَکَانَ الْمُهَاجِرُونَ يَشْغَلُهُمْ الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ وَکَانَتْ الْأَنْصَارُ يَشْغَلُهُمْ الْقِيَامُ عَلَی أَمْوَالِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَبْسُطْ ثَوْبَهُ فَلَنْ يَنْسَی شَيْئًا سَمِعَهُ مِنِّي فَبَسَطْتُ ثَوْبِي حَتَّی قَضَی حَدِيثَهُ ثُمَّ ضَمَمْتُهُ إِلَيَّ فَمَا نَسِيتُ شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْهُ
قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، سفیان، زہیر سفیان بن عیینہ، زہری، حضرت اعرج (رح) سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ تم خیال کرتے ہو کہ ابوہریرہ رسول اللہ ﷺ سے کثرت کے ساتھ احادیث روایت کرتا ہے اور اللہ ہی وعدہ کی جگہ ہے میں غریب و مسکین آدمی تھا اور میں رسول اللہ کی خدمت میں اپنے پیٹ بھرنے پر کیا کرتا تھا اور مہاجرین کو بازار کے معاملات میں مشغولیت رہتی تھی اور انصار اپنے اموال کی حفاظت میں مصروف رہتے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو اپنے کپڑے کو پھیلائے گا وہ مجھ سے سنی ہوئی کوئی بات کبھی بھی نہ بھلائے گا پس میں نے اپنا کپڑا پھیلا دیا یہاں تک کہ آپ ﷺ نے اپنی حدیث پوری کی پھر میں نے اس کپڑے کو اپنے ساتھ چمٹا لیا اور اس میں سے کوئی بھی حدیث نہ بھولا جو آپ ﷺ سے سن چکا تھا۔
Al-Araj reported that he heard Abu Hurairah (RA) as saying: You are under the impression that Abu Hurairah (RA) transmits so many ahadith from Allahs Messenger (may peace up upon him) ; (bear in mind) Allah is the great Reckoner. I was a poor man and I served Allahs Messenger ﷺ being satisfied with bare subsistence, whereas the immigrants remained busy with transactions in the bazar; while the Ansar had been engaged in looking after their properties. (He further reported) that Allahs Messenger ﷺ said: He who spreads the cloth would not forget anything that he would hear from me. I spread my cloth until he narrated something. I then pressed it against my (chest), so I never forgot anything that I heard from him.
سیدنا ابوہریرہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ يَحْيَی بْنِ خَالِدٍ أَخْبَرَنَا مَعْنٌ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ کِلَاهُمَا عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ أَنَّ مَالِکًا انْتَهَی حَدِيثُهُ عِنْدَ انْقِضَائِ قَوْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ وَلَمْ يَذْکُرْ فِي حَدِيثِهِ الرِّوَايَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَبْسُطْ ثَوْبَهُ إِلَی آخِرِهِ
عبداللہ بن جعفر بن یحییٰ بن خالد، مالک بن انس، عبد بن حمید، عبدالرزاق اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے البتہ یہ حدیث ابوہریرہ ؓ کے قول پر پوری ہوجاتی ہے اور اس میں نبی ﷺ کا قول اپنے کپڑے کو جو پھیلائے گا سے آخر حدیث تک مذکور نہیں ہے۔
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Huraira but with the variation that the hadith transmitted on the authority of Malik conclude with the words of Abu Huraira and there is no mention of a transmission of these from Allahs Apostle (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ):
" who spreads his cloth," to the end.
سیدنا ابوہریرہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی التُّجِيبِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ أَلَا يُعْجِبُکَ أَبُو هُرَيْرَةَ جَائَ فَجَلَسَ إِلَی جَنْبِ حُجْرَتِي يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْمِعُنِي ذَلِکَ وَکُنْتُ أُسَبِّحُ فَقَامَ قَبْلَ أَنْ أَقْضِيَ سُبْحَتِي وَلَوْ أَدْرَکْتُهُ لَرَدَدْتُ عَلَيْهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَکُنْ يَسْرُدُ الْحَدِيثَ کَسَرْدِکُمْ
حرملہ بن یحییٰ تجیبی ابن وہب، یونس ابن شہاب عروہ بن زبیر عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ کیا تم حضرت ابوہریرہ ؓ پر تعجب نہیں کرتے وہ آئے اور میرے حجرہ کے ایک طرف بیٹھ کر مجھے رسول اللہ ﷺ سے مروی حدیثیں سنانے لگے اور میں تسبیح کر رہی تھی اور میری تسبیح پوری ہونے سے پہلے ہی وہ اٹھ کر چلے گئے اور اگر میں ان کو پالیتی تو تردید کرتی کہ رسول اللہ تمہاری طرح مسلسل احادیث بیان نہ کرتے تھے
Aisha reported:
Dont you feel surprised at Abu Huraira? He came (one day) and sat beside the nook of my apartment and began to narrate (the hadith of Allahs Apostle). I was hearing while I was engaged in extolling Allah (reciting Subhan Allah) constantly. He stood up before I finished my repetition of Subhan Allah. if I were to meet him I would have warned him in stern words that Allahs Messenger (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) did not speak so quickly as you talk.
سیدنا ابوہریرہ (رض) کے فضائل کے بیان میں
قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَقَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ يَقُولُونَ إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَدْ أَکْثَرَ وَاللَّهُ الْمَوْعِدُ وَيَقُولُونَ مَا بَالُ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ لَا يَتَحَدَّثُونَ مِثْلَ أَحَادِيثِهِ وَسَأُخْبِرُکُمْ عَنْ ذَلِکَ إِنَّ إِخْوَانِي مِنْ الْأَنْصَارِ کَانَ يَشْغَلُهُمْ عَمَلُ أَرَضِيهِمْ وَإِنَّ إِخْوَانِي مِنْ الْمُهَاجِرِينَ کَانَ يَشْغَلُهُمْ الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ وَکُنْتُ أَلْزَمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی مِلْئِ بَطْنِي فَأَشْهَدُ إِذَا غَابُوا وَأَحْفَظُ إِذَا نَسُوا وَلَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا أَيُّکُمْ يَبْسُطُ ثَوْبَهُ فَيَأْخُذُ مِنْ حَدِيثِي هَذَا ثُمَّ يَجْمَعُهُ إِلَی صَدْرِهِ فَإِنَّهُ لَمْ يَنْسَ شَيْئًا سَمِعَهُ فَبَسَطْتُ بُرْدَةً عَلَيَّ حَتَّی فَرَغَ مِنْ حَدِيثِهِ ثُمَّ جَمَعْتُهَا إِلَی صَدْرِي فَمَا نَسِيتُ بَعْدَ ذَلِکَ الْيَوْمِ شَيْئًا حَدَّثَنِي بِهِ وَلَوْلَا آيَتَانِ أَنْزَلَهُمَا اللَّهُ فِي کِتَابِهِ مَا حَدَّثْتُ شَيْئًا أَبَدًا إِنَّ الَّذِينَ يَکْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنْ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَی إِلَی آخِرِ الْآيَتَيْنِ و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ عَنْ شُعَيْبٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ إِنَّکُمْ تَقُولُونَ إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُکْثِرُ الْحَدِيثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ
ابن مسیب ؓ نے بیان کیا کہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے کہا لوگ کہتے ہیں کہ بیشک ابوہریرہ ؓ کثرت کے ساتھ احادیث روایت کرتا ہے اور اللہ ہی وعدہ کی جگہ ہے اور لوگ کہتے ہیں کہ مہاجرین اور انصار کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ اس کی احادیث روایت نہیں کرتے میں ابھی تمہیں اس بارے میں خبر دوں گا میرے انصاری بھائیوں کو زمین (کھیتی باڑی) کی مصروفیت تھی اور میرے مہاجرین بھائی بازار اور تجارت میں مشغول تھے اور میں نے اپنے آپ کو پیٹ بھرنے کے بعد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ لازم کرلیا تھا جب وہ غائب ہوتے تو میں حاضر ہوتا تھا جب وہ بھول جاتے میں یاد کرتا تھا اور ایک دن رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے جو اپنے کپڑے کو پھیلائے گا وہ میری ان احادیث کو لے لے گا پھر انہیں اپنے سینہ میں جمع کرلے گا پھر وہ آپ ﷺ سے سنی ہوئی کوئی بات بھی کبھی نہ بھلائے پس میں نے اپنی چادر کو بچھا دیا یہاں تک کہ آپ ﷺ اپنی بات سے فارغ ہوگئے اور پھر میں نے اسے سمیٹ کر اپنے سینہ سے چمٹا لیا اور اس کے بعد آج تک میں کوئی حدیث نہ بھولا جو آپ ﷺ نے مجھ سے بیان کی اور اگر اللہ نے اپنی کتاب میں یہ دو آیات مبارکہ نہ نازل کی ہوتیں تو میں کبھی بھی کوئی حدیث روایت نہ کرتا ( إِنَّ الَّذِينَ يَکْتُمُونَ ) بیشک وہ لوگ جو چھپاتے ہیں ہماری نشانیاں اور ہدایت کی باتیں جو ہم نے اتاری ہیں آخر تک عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، ابویمان شعیب زہری، سعید بن مسیب ابوسلمہ بن عبدالرحمن حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ تم کہتے ہو کہ ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ کثرت کے احادیث روایت کرتے ہیں باقی حدیث گزر چکی۔
Ibn Shihab transmitted on the authority of Ibn Musayyib that Abu Huraira said:
People say that Abu Huraira transmits so many ahadith, whereas Allah is the Reckoner, and they say: How is it with Muhajirs and the Ansar that they do not narrate ahadith like him (like Abu Huraira)? Abu Huraira said: I tell you that my brothers from Ansar remained busy with their lands and my brothers Muhajirs were busy in transactions in the bazars, but I always kept myself attached to Allahs Messenger (ﷺ) with bare subsistence. I remained present (in the company of the Holy Prophet), whereas they had been absent. I retained in my mind (what the Prophet said), whereas they forgot it. One day Allahs Messenger (ﷺ) said: He who amongst you spreads the cloth and listens to my talk and would then press it against his chest would never forget anything heard from me. So I spread my mantle and when he had concluded his talk I then pressed it against my chest and so I never forgot after that day anything that he (the Holy Prophet) said. And if these two verses would not have been revealed in the Book I would have never transmitted anything (to anybody):" Those who conceal the clear evidence and the guidance that We revealed" (ii. 159) tip to the last verse.
حاطب بن ابی بلتعہ (رض) اور اہل بدر (رض) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ وَهُوَ کَاتِبُ عَلِيٍّ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يَقُولُ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَالزُّبَيْرَ وَالْمِقْدَادَ فَقَالَ ائْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ فَإِنَّ بِهَا ظَعِينَةً مَعَهَا کِتَابٌ فَخُذُوهُ مِنْهَا فَانْطَلَقْنَا تَعَادَی بِنَا خَيْلُنَا فَإِذَا نَحْنُ بِالْمَرْأَةِ فَقُلْنَا أَخْرِجِي الْکِتَابَ فَقَالَتْ مَا مَعِي کِتَابٌ فَقُلْنَا لَتُخْرِجِنَّ الْکِتَابَ أَوْ لَتُلْقِيَنَّ الثِّيَابَ فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ عِقَاصِهَا فَأَتَيْنَا بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا فِيهِ مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَی نَاسٍ مِنْ الْمُشْرِکِينَ مِنْ أَهْلِ مَکَّةَ يُخْبِرُهُمْ بِبَعْضِ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا حَاطِبُ مَا هَذَا قَالَ لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي کُنْتُ امْرَأً مُلْصَقًا فِي قُرَيْشٍ قَالَ سُفْيَانُ کَانَ حَلِيفًا لَهُمْ وَلَمْ يَکُنْ مِنْ أَنْفُسِهَا أَکَانَ مِمَّنْ کَانَ مَعَکَ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ لَهُمْ قَرَابَاتٌ يَحْمُونَ بِهَا أَهْلِيهِمْ فَأَحْبَبْتُ إِذْ فَاتَنِي ذَلِکَ مِنْ النَّسَبِ فِيهِمْ أَنْ أَتَّخِذَ فِيهِمْ يَدًا يَحْمُونَ بِهَا قَرَابَتِي وَلَمْ أَفْعَلْهُ کُفْرًا وَلَا ارْتِدَادًا عَنْ دِينِي وَلَا رِضًا بِالْکُفْرِ بَعْدَ الْإِسْلَامِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ فَقَالَ عُمَرُ دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ فَقَالَ إِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَمَا يُدْرِيکَ لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَی أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَکُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّکُمْ أَوْلِيَائَ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَبِي بَکْرٍ وَزُهَيْرٍ ذِکْرُ الْآيَةِ وَجَعَلَهَا إِسْحَقُ فِي رِوَايَتِهِ مِنْ تِلَاوَةِ سُفْيَانَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، ابن ابی عمر عمرو اسحاق سفیان بن عیینہ، عمرو حسن بن محمد عبیداللہ بن ابی رافع علی حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے، زبیر اور مقداد کو بھیجا اور فرمایا کہ خاخ باغ کی طرف جاؤ وہاں ایک اونٹ سوار عورت ملے گی جس کے پاس خط ہوگا پس تم وہ خط اس سے لے لینا۔ پس گھوڑے دوڑاتے ہوئے چل پڑے پس جب تم عورت کے پاس پہنچے تو اس سے کہا خط نکالو اس نے کہا میرے پاس کوئی خط نہیں ہے ہم نے کہا خط نکال دے ورنہ اپنے کپڑے اتار۔ پس اس نے وہ خط اپنے سر کی میں مینڈھیوں سے نکال کر دے دیا ہم وہ خط لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ تو اس میں یہ لکھا تھا حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے اہل مکہ کے مشرکین لوگوں کی طرف اور انہیں رسول اللہ ﷺ کے بعض معاملات کی خبر دی تھی تو نبی ﷺ نے فرمایا اے حاطب یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میرے متعلق جلدی میں کوئی فیصلہ نہ کریں میں قریش سے ملا ہوا یعنی ان کا حلیف آدمی تھا سفیان (رح) نے کہا کہ وہ مشرکین کا حلیف تھا لیکن ان کے خاندان سے نہ تھا اور جو آپ ﷺ کے ساتھ مہاجرین میں سے صحابہ ہیں ان کی وہ ان رشتہ داریاں ہیں اور انہی رشتہ داریوں کی وجہ سے وہ ان کے اہل و عیال کی حفاظت کریں گے پس میں نے پسند کیا کہ ان کے ساتھ میرا نسبی تعلق تو ہے نہیں کہ میں ان پر ایک احسان ہی کر دوں جس کی وجہ سے وہ میرے رشتہ داروں کی بھی حفاظت کریں گے اور میں نے ایسا نہ تو کفر کی وجہ سے کیا ہے اور نہ ہی اپنے دین سے مرتد ہونے کی وجہ سے کیا ہے اور نہ ہی اسلام قبول کرنے کے بعد کفر پر راضی رہنے کی وجہ سے تو نبی ﷺ نے فرمایا اس نے سچ کہا ہے حضرت عمر ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیں تاکہ میں اس منافق کی گردن اڑا دوں آپ ﷺ نے فرمایا یہ غزوہ بدر میں شریک ہوگیا ہے اور تمہیں کیا معلوم کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کے ( آئندہ) حالات سے واقفیت کے باوجود فرمایا ہے تم جو چاہو عمل کرو تحقیق میں نے تمہیں معاف کردیا تو اللہ رب العزت نے یہ آیت نازل فرمائی (يٰ اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّيْ وَعَدُوَّكُمْ اَوْلِيَا ءَ ) 66۔ الممتحنہ: 1) اے ایمان والوں میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔
Ubaidullah bin Rafi, who was the scribe of All, reported: I heard Ali (RA) as saying: Allahs Messenger ﷺ sent me and Zubair and Miqdad saying: Go to the garden of, Khakh [it is a place between Madinah and Makkah at a distance of twelve miles from Madinah] and there you will find a woman riding a camel. She would be in possession of a letter, which you must get from her. So we rushed on horses and when we met that woman, we asked her to deliver that letter to us. She said: There is no letter with me. We said: Either bring out that letter or we would take off your clothes. She brought out that letter from (the plaited hair of) her head. We delivered that letter to Allahs Messenger ﷺ in which Hatib bin Abu Baltaa had informed some people amongst the polytheists of Makkah about the affairs of Allahs Messenger ﷺ . Allahs Messenger ﷺ said: Hatib, what is this? He said: Allahs messenger, do not be hasty in judging my intention. I was a person attached to the Quraish. Sufyan said: He was their ally but had no relationship with them. (Hatib further said): Those who are with you amongst the emigrants have blood-relationship with them (the Quraish) and thus they would protect their families. I wished that when I had no blood-relationship with them I should find some supporters from (amongst them) who would help my family. I have not done this because of any unbelief or apostasy and I have no liking for the unbelief after I have (accepted) Islam. Thereupon Allahs Apostle ﷺ said: You have told the truth. Umar said: Allahs Messenger, permit me to strike the neck of this hypocrite. But he (the Holy Prophet) said: He was a participant in Badr and you little know that Allah revealed about the people of Badr: Do what you like for there is forgiveness for you. And Allah, the Exalted and Glorious, said:" O you who believe, do not take My enemy and your enemy for friends" (lx. 1). And there is no mention of this verse in the hadith transmitted on the authority of Abu Bakr (RA) and Zubair and Ishaq has in his narration made a mention of the recitation of this verse by Sufyan.