فضائل کا بیان

Sahih Muslim · Chapter 46 · 558 hadiths · Page 24 of 29

6402Sahih Muslim

حاطب بن ابی بلتعہ (رض) اور اہل بدر (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ح و حَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْوَاسِطِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ کُلُّهُمْ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا مَرْثَدٍ الْغَنَوِيَّ وَالزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ وَکُلُّنَا فَارِسٌ فَقَالَ انْطَلِقُوا حَتَّی تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ فَإِنَّ بِهَا امْرَأَةً مِنْ الْمُشْرِکِينَ مَعَهَا کِتَابٌ مِنْ حَاطِبٍ إِلَی الْمُشْرِکِينَ فَذَکَرَ بِمَعْنَی حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ عَلِيٍّ

ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن فضیل اسحاق بن ابراہیم، عبداللہ بن ادریس رفاعہ بن ہیثم واسطی خلاد بن عبداللہ حصین سعد بن عیبدہ ابوعبدالرحمن سلمی علی حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے، ابومرثد غنوی اور زبیر بن عوام کو بھیجا اور ہم سب گھوڑوں پر سوار تھے آپ ﷺ نے فرمایا جاؤ یہاں تک کہ تم باغ خاخ میں پہنچو وہاں مشرکین میں سے ایک عورت ہوگی جس کے پاس حاطب کی طرف سے مشرکین کے نام ایک خط ہوگا باقی حدیث گزر چکی۔

Ali reported that Allahs Messenger ﷺ sent me and Abu Marthad al-Ghitnavi and Zubair bin Awwam and we were all riders, and he said: Ride on until you reach the garden of Khakh for there is a woman amongst the polytheists and there is a letter with her sent by Hatib to the polytheists; the rest of the hadith is the same.

6403Sahih Muslim

حاطب بن ابی بلتعہ (رض) اور اہل بدر (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ عَبْدًا لِحَاطِبٍ جَائَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْکُو حَاطِبًا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيَدْخُلَنَّ حَاطِبٌ النَّارَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَذَبْتَ لَا يَدْخُلُهَا فَإِنَّهُ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ

قتیبہ بن سعید، لیث، محمد بن رمح، لیث، ابی زبیر جابر، عبد حاطب حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت حاطب ؓ کا ایک غلام رسول اللہ کی خدمت میں حاطب کی شکایت کرنے کے لئے حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! حاطب تو جہنم میں داخل ہوجائے گا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تو نے جھوٹ کہا وہ جہنم میں داخل نہ ہوگا کیونکہ وہ بدر اور حدیبیہ میں شریک ہوا۔

Jabir reported that a slave of Hatib came to Allahs Messenger ﷺ complaining against Hatib and said: Hatib will definitely go to Hell. (But) Allahs Messenger ﷺ said: You tell a lie; he would not get into that for he had taken part in Badr and in (the expedition of) Hudaibiya.

6404Sahih Muslim

اصحاب شجرہ یعنی بیعت رضوان میں شریک (صحابہ (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ أَخْبَرَتْنِي أُمُّ مُبَشِّرٍ أَنَّهَا سَمِعَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عِنْدَ حَفْصَةَ لَا يَدْخُلُ النَّارَ إِنْ شَائَ اللَّهُ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ أَحَدٌ الَّذِينَ بَايَعُوا تَحْتَهَا قَالَتْ بَلَی يَا رَسُولَ اللَّهِ فَانْتَهَرَهَا فَقَالَتْ حَفْصَةُ وَإِنْ مِنْکُمْ إِلَّا وَارِدُهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا

ہارون بن عبداللہ حجاج بن محمد ابن جریج، ابوزبیر، جابر بن عبداللہ، حضرت ام مبشر سے روایت ہے کہ اس نے نبی ﷺ کو سیدہ حفصہ ؓ سے فرماتے ہوئے سنا انشاء اللہ اصحاب شجرہ میں سے کوئی ایک بھی جہنم میں داخل نہ ہوگا جنہوں نے اس درخت کے نیچے بیعت کی تھی۔ انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیوں نہیں تو آپ ﷺ نے انہیں جھڑکا تو سیدہ حفصہ ؓ نے عرض کیا (وَإِنْ مِنْکُمْ إِلَّا وَارِدُهَا) یعنی تم میں سے کوئی ایسا نہیں جو جہنم پر پیش نہ کیا جائے تو نبی ﷺ نے فرمایا تحقیق اللہ رب العزت نے فرمایا (ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا) پھر ہم پرہیز گاروں کو نجات دے دیں گے اور ظالموں کو گھٹنوں کے بل اس میں چھوڑ دیں گے۔

Umm Mubashshir reported that she heard Allahs Apostle ﷺ as saying in presence of Hafsa: God willing, the people of the Tree would never enter the fire of Hell one amongst those who owed allegiance under that. She said: Allahs Messenger, why not? He scolded her. Hafsa said: And there is none amongst you but shall have to pass over that (narrow Bridge). Thereupon Allahs Apostle ﷺ said: Allah, the Exalted and Glorious, has said: We would rescue those persons who are God-conscious and we would leave the tyrants to their fate there (xix. 72).

6405Sahih Muslim

سیدنا ابو موسیٰ اشعری اور سیدنا ابو عامر اشعری (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْأَشْعَرِيُّ وَأَبُو کُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي أُسَامَةَ قَالَ أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ کُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ نَازِلٌ بِالْجِعْرَانَةِ بَيْنَ مَکَّةَ وَالْمَدِينَةِ وَمَعَهُ بِلَالٌ فَأَتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ أَلَا تُنْجِزُ لِي يَا مُحَمَّدُ مَا وَعَدْتَنِي فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْشِرْ فَقَالَ لَهُ الْأَعْرَابِيُّ أَکْثَرْتَ عَلَيَّ مِنْ أَبْشِرْ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی أَبِي مُوسَی وَبِلَالٍ کَهَيْئَةِ الْغَضْبَانِ فَقَالَ إِنَّ هَذَا قَدْ رَدَّ الْبُشْرَی فَاقْبَلَا أَنْتُمَا فَقَالَا قَبِلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ فِيهِ مَائٌ فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ فِيهِ وَمَجَّ فِيهِ ثُمَّ قَالَ اشْرَبَا مِنْهُ وَأَفْرِغَا عَلَی وُجُوهِکُمَا وَنُحُورِکُمَا وَأَبْشِرَا فَأَخَذَا الْقَدَحَ فَفَعَلَا مَا أَمَرَهُمَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَادَتْهُمَا أُمُّ سَلَمَةَ مِنْ وَرَائِ السِّتْرِ أَفْضِلَا لِأُمِّکُمَا مِمَّا فِي إِنَائِکُمَا فَأَفْضَلَا لَهَا مِنْهُ طَائِفَة

ابوعامر ابوکریب ابی اسماہ ابوعامر ابواسامہ برید جدہ ابوبردہ حضرت ابوموسی ؓ سے روایت ہے کہ میں نبی ﷺ کے پاس حاضر تھا اس حال میں کہ آپ ﷺ مکہ اور مدینہ کے درمیان مقام جعرانہ پر قیام پذیر تھے اور آپ ﷺ کے ساتھ حضرت بلال ؓ بھی تھے تو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک دیہاتی نے حاضر ہو کر عرض کیا اے محمد ﷺ آپ مجھ سے کیا ہوا وعدہ پورا نہ کریں گے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا خوشخبری ہو تو اس اعرابی نے آپ ﷺ سے کہا کیا آپ ﷺ نے مجھے کثرت کے ساتھ کہا تو خوش ہوجاؤ تو رسول اللہ ﷺ حضرت ابوموسی اور بلال کی طرف غصہ کی حالت میں متوجہ ہوئے اور فرمایا یہ وہ آدمی ہے جس نے بشارت کو رد کردیا ہے تم دونوں قبول کرلو انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ہم نے قبول کیا پھر رسول اللہ ﷺ نے پانی کا ایک پیالہ منگوایا اور اس میں اپنے ہاتھوں اور چہرے کو دھویا اور اسی میں کلی بھی کی پھر فرمایا اس میں سے تم دونوں پی لو اور اپنے چہروں اور سینوں پر انڈیل لو اور خوش ہوجاؤ پس انہوں نے پیالہ لے کر اسی طرح کیا جو انہیں رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا تھا پھر انہیں پردہ کے پیچھے سے ام سلمہ ؓ نے آواز دی کہ اپنی والدہ کے لئے بھی اپنے برتنوں سے بچا لینا پس انہوں نے انہیں بھی اس سے بچا ہوا دے دیا۔

Abu Musa reported: I was in the company of Allahs Apostle ﷺ as he had been sitting in Jirana (a place) between Makkah and Madinah and Bilal (RA) was also there, that there came to Allahs Apostle ﷺ a desert Arab, and he said: Muhammad, fulfill your promise that you made with me. Allahs Messenger ﷺ said to him: Accept glad tidings. Thereupon the desert Arab said: You shower glad tidings upon me very much; then Allahs Messenger ﷺ turned towards Abu Musa and Bilal (RA) seemingly in a state of annoyance and said: Verily he has rejected glad tidings but you two should accept them. We said: Allahs Messenger, we have readily accepted them. Then Allahs Messenger ﷺ called for a cup of water and washed his hands in that and face too and put the saliva in it and then said: Drink out of it and pour it over your faces and over your chest and gladden yourselves. They took hold of the cup and did as Allahs Messenger ﷺ had commanded them to do. Thereupon Umm Salamah called from behind the veil: Spare some water in your vessel for your mother also, and they also gave some water which had been spared for her.

6406Sahih Muslim

سیدنا ابو موسیٰ اشعری اور سیدنا ابو عامر اشعری (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ أَبُو عَامِرٍ الْأَشْعَرِيُّ وَأَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ وَاللَّفْظُ لِأَبِي عَامِرٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمَّا فَرَغَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حُنَيْنٍ بَعَثَ أَبَا عَامِرٍ عَلَی جَيْشٍ إِلَی أَوْطَاسٍ فَلَقِيَ دُرَيْدَ بْنَ الصِّمَّةِ فَقُتِلَ دُرَيْدٌ وَهَزَمَ اللَّهُ أَصْحَابَهُ فَقَالَ أَبُو مُوسَی وَبَعَثَنِي مَعَ أَبِي عَامِرٍ قَالَ فَرُمِيَ أَبُو عَامِرٍ فِي رُکْبَتِهِ رَمَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي جُشَمٍ بِسَهْمٍ فَأَثْبَتَهُ فِي رُکْبَتِهِ فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ يَا عَمِّ مَنْ رَمَاکَ فَأَشَارَ أَبُو عَامِرٍ إِلَی أَبِي مُوسَی فَقَالَ إِنَّ ذَاکَ قَاتِلِي تَرَاهُ ذَلِکَ الَّذِي رَمَانِي قَالَ أَبُو مُوسَی فَقَصَدْتُ لَهُ فَاعْتَمَدْتُهُ فَلَحِقْتُهُ فَلَمَّا رَآنِي وَلَّی عَنِّي ذَاهِبًا فَاتَّبَعْتُهُ وَجَعَلْتُ أَقُولُ لَهُ أَلَا تَسْتَحْيِي أَلَسْتَ عَرَبِيًّا أَلَا تَثْبُتُ فَکَفَّ فَالْتَقَيْتُ أَنَا وَهُوَ فَاخْتَلَفْنَا أَنَا وَهُوَ ضَرْبَتَيْنِ فَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ فَقَتَلْتُهُ ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَی أَبِي عَامِرٍ فَقُلْتُ إِنَّ اللَّهَ قَدْ قَتَلَ صَاحِبَکَ قَالَ فَانْزِعْ هَذَا السَّهْمَ فَنَزَعْتُهُ فَنَزَا مِنْهُ الْمَائُ فَقَالَ يَا ابْنَ أَخِي انْطَلِقْ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْرِئْهُ مِنِّي السَّلَامَ وَقُلْ لَهُ يَقُولُ لَکَ أَبُو عَامِرٍ اسْتَغْفِرْ لِي قَالَ وَاسْتَعْمَلَنِي أَبُو عَامِرٍ عَلَی النَّاسِ وَمَکَثَ يَسِيرًا ثُمَّ إِنَّهُ مَاتَ فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ فِي بَيْتٍ عَلَی سَرِيرٍ مُرْمَلٍ وَعَلَيْهِ فِرَاشٌ وَقَدْ أَثَّرَ رِمَالُ السَّرِيرِ بِظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَنْبَيْهِ فَأَخْبَرْتُهُ بِخَبَرِنَا وَخَبَرِ أَبِي عَامِرٍ وَقُلْتُ لَهُ قَالَ قُلْ لَهُ يَسْتَغْفِرْ لِي فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَائٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهُ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعُبَيْدٍ أَبِي عَامِرٍ حَتَّی رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَوْقَ کَثِيرٍ مِنْ خَلْقِکَ أَوْ مِنْ النَّاسِ فَقُلْتُ وَلِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَاسْتَغْفِرْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ذَنْبَهُ وَأَدْخِلْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُدْخَلًا کَرِيمًا قَالَ أَبُو بُرْدَةَ إِحَدَاهُمَا لِأَبِي عَامِرٍ وَالْأُخْرَی لِأَبِي مُوسَی

عبداللہ بن براء، ابوعامر اشعری ابوکریب محمد بن علاء، ابی عامر ابواسامہ یزید حضرت ابوبردہ ؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب نبی ﷺ غزوہ حنین سے فارغ ہوئے تو آپ ﷺ نے ابوعامر ؓ کو ایک لشکر کے ہمراہ طاؤس کی طرف بھیجا پس درید بن صمہ سے ان کا مقابلہ ہوا تو درید کا قتل روک دیا گیا اور اللہ نے اس کے ساتھیوں کو شکست سے دوچار کیا ابوموسی نے کہا مجھے بھی ابوعامر کے ہمراہ بھیجا تھا پس ابوعامر کے گھٹنے میں تیر مارا گیا جو کہ بنو جشم کے ایک آدمی نے پھینکا تھا اور وہ تیر آ کر ان کے گھٹنے میں چبھ گیا میں ان کی طرف بڑھا تو میں نے کہا اے چچا جان آپ کو کس نے تیر مارا ہے تو ابوعامر نے اشارہ کے ذریعہ ابوموسی کو بتایا کہ وہ جسے تم دیکھ رہے ہو وہ میرا قاتل ہے اور اسی نے مجھے تیر مارا ہے ابوموسی نے کہا میں اسے (مارنے) کے ارادہ سے چل دیا اور اسے جا پہنچا پس اس نے مجھے دیکھا تو مجھ سے پیٹھ پھیر کر بھاگنا شروع کردیا میں بھی اس کے پیچھے چل دیا اور اسے کہنا شروع کردیا کیا تجھے حیاء نہیں آتی کیا تو عربی نہیں ہے کیا تو نہیں ٹھہرے گا وہ رک گیا پھر میرا اور اس کا مقابلہ ہوا پس اس نے بھی وار کیا اور میں نے بھی وار کیا بالآخر میں نے اسے قتل کردیا ہے اس نے کہا یہ تیر نکالو میں نے اسے نکالا تو اس کی جگہ سے پانی نکلنا شروع ہوگیا تو انہوں نے کہا اے بھیجتے رسول اللہ ﷺ کی طرف جا اور آپ کو میری طرف سے سلام عرض کر اور آپ سے عرض کر کہ ابوعامر آپ سے عرض کرتا ہے کہ میرے لئے مغفرت طلب فرمائیں اور ابوعامر نے مجھے لوگوں پر امیر مقرر کردیا پھر وہ تھوڑی ہی دیر کے بعد شہید ہوگئے پس جب میں نبی ﷺ کی طرف لوٹا اور آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ گھر میں بان کی چار پائی پر لیٹے ہوئے تھے جس پر بستر نہ تھا اس وجہ سے چارپائی کے نشانات آپ ﷺ کے پہلؤوں اور کمر پر نمایاں تھے پس میں نے آپ ﷺ کو اپنی اور ابوعامر کی خبر دی اور آپ ﷺ سے عرض کیا ابوعامر ؓ نے آپ ﷺ سے عرض کیا تھا کہ آپ ﷺ میرے لئے دعائے مغفرت فرمائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے پانی منگوایا اور اس سے وضو فرمایا پھر ہاتھ اٹھا کر فرمایا اے اللہ عبید ابوعامر کی مغفرت فرما یہاں تک کہ میں نے آپ ﷺ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی پھر فرمایا اے اللہ اسے قیامت کے دن اپنی اکثر مخلوق یا لوگوں سے بلندی و عظمت عطا فرما میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اور میرے لئے بھی دعائے مغفرت فرما دیں تو نبی ﷺ نے فرمایا اے اللہ عبداللہ بن قیس کے گناہوں کو معاف فرما دے اور اسے قیامت کے دن معزز جگہ میں داخل فرما ابوبردہ نے کہا ان میں ایک دعا ابوعامر اور دوسری دعا ابوموسی کے لئے کی گئی۔

Abu Burda reported on the authority of his father that when Allahs Apostle ﷺ had been free from the Battle of Hunain, he sent Abu Amir as the head of the army of Autas. He had an encounter with Duraid bin as_Simma. Duraid was killed and Allah gave defeat to his friends. Abu Musa said: He (the Holy Prophet) sent me along with Abu Amir and Abu Amir received a wound in his knee from the arrow, (shot by) a person of Bani Jusham. It stuck in his knee. I went to him and said: Uncle, who shot an arrow upon you? Abu Amir pointed out to Abu Musa and said: Verily that one who shot an arrow upon me in fact killed me. Abu Musa said: I followed him with the determination to kill him and overtook him and when he saw me he turned upon his heels. I followed him and I said to him: Dont you feel ashamed (that you run), arent you an Arab? Why dont you stop? He stopped and I had an encounter with him and we exchanged the strokes of (swords). I struck him with the sword and killed him. Then I came back to Abu Amir and said: Verily Allah has killed the one who killed you. And he said: Now draw out this arrow. I drew out the arrow and there came out from that (wound) water. Abu Amir said: My nephew, go to Allahs Messenger ﷺ and convey my greetings to him and tell him that Abu Amir begs you to ask forgiveness for him. And Abu Amir appointed me as the chief of the people and he died after a short time. When I came to Allahs Apostle ﷺ I visited him and he had been lying on the cot woven by strings and there was (no) bed over it and so there had been marks of the strings on the back of Allahs Messenger ﷺ and on his sides. I narrated to him what had happened to us and narrated to him about Abu Amir and said to him that he had made a request to the effect that forgiveness should be sought for him (from Allah). Thereupon Allahs Messenger (may peace be. upon him) called for water and performed ablution with it. He then lifted his hands and said. O Allah, grant pardon to Thy servant Abu Amir. (The Holy Prophet ﷺ had raised his hands so high for supplication) that I saw the whiteness of his armpits. He again said: O Allah, grant him distinction amongst the majority of Thine created beings or from amongst the people. I said: Allahs Messenger, ask forgiveness for me too. Thereupon Allahs Apostle ﷺ said: Allah, forgive the sins of Abdullah bin Qais (RA) (Abu Musa Ashari) and admit him to an elevated place on the Day of Resurrection. Abu Burda said: One prayer is for abu Amir and the other is tor Abu Musa.

6407Sahih Muslim

اشعری (رضی اللہ عنہم) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَعْرِفُ أَصْوَاتَ رُفْقَةِ الْأَشْعَرِيِّينَ بِالْقُرْآنِ حِينَ يَدْخُلُونَ بِاللَّيْلِ وَأَعْرِفُ مَنَازِلَهُمْ مِنْ أَصْوَاتِهِمْ بِالْقُرْآنِ بِاللَّيْلِ وَإِنْ کُنْتُ لَمْ أَرَ مَنَازِلَهُمْ حِينَ نَزَلُوا بِالنَّهَارِ وَمِنْهُمْ حَکِيمٌ إِذَا لَقِيَ الْخَيْلَ أَوْ قَالَ الْعَدُوَّ قَالَ لَهُمْ إِنَّ أَصْحَابِي يَأْمُرُونَکُمْ أَنْ تَنْظُرُوهُمْ

ابوکریب محمد بن علاء، ابواسامہ برید حضرت ابوموسی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اشعری حضرات جب رات کے وقت گھروں کی طرف قرآن مجید پڑھتے ہوئے آتے ہیں تو میں ان کی آوازوں کو پہچان لیتا ہوں اور ان کے گھروں کو رات کے وقت قرآن پڑھنے کی آواز سے پہچان لیتا ہوں حالانکہ دن میں ان کے گھروں کو نہیں دیکھا جب وہ دن کے وقت اترتے ہیں اور ان میں سے ایک آدمی حکیم ہے جب وہ کافروں کے سواروں یا دشمنوں سے مقابلہ کرتا ہے تو انہیں کہتا ہے میرے ساتھی تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم ان کا انتظار کرو۔

Abu Musa reported that Allahs Messenger ﷺ said: I recognise the voice of the Asharites while they recite the Quran as they arrive during the night and I also recognise their station from the recital of the Quran during the night time, although I have not seen their encampments as they encamp during the day time. And there is a person amongst them, Hakim; when he encounters the horsemen or the enemies he says to them: My friends command you to wait for them.

6408Sahih Muslim

اشعری (رضی اللہ عنہم) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْأَشْعَرِيُّ وَأَبُو کُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي أُسَامَةَ قَالَ أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنِي بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْأَشْعَرِيِّينَ إِذَا أَرْمَلُوا فِي الْغَزْوِ أَوْ قَلَّ طَعَامُ عِيَالِهِمْ بِالْمَدِينَةِ جَمَعُوا مَا کَانَ عِنْدَهُمْ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ثُمَّ اقْتَسَمُوهُ بَيْنَهُمْ فِي إِنَائٍ وَاحِدٍ بِالسَّوِيَّةِ فَهُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ

ابوعامر اشعری ابوکریب ابی اسامہ ابوعامر ابواسامہ برید بن عبداللہ بن جدہ حضرت ابوموسی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بیشک اشعری حضرت جب جہاد میں محتاج ہوجاتے ہیں یا مدینہ میں ان کے اہل و عیال کے لئے کھانا کم پڑجاتا ہے تو اپنے پاس موجود سب کچھ ایک کپڑے میں جمع کرلیتے ہیں پھر اسے آپس میں ایک برتن میں برابر برابر تقسیم کرلیتے ہیں وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔

Abu Musa reported that Allahs Messenger ﷺ said: When the Asharites run short of provisions in the campaigns or run short of food for their children in Madinah they collect whatever is with them in the cloth and then partake equally from one vessel. They are from me and I am from them.

6409Sahih Muslim

سیدنا ابوسفیان بن حرب (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَعْقِرِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا النَّضْرُ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ الْيَمَامِيُّ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ کَانَ الْمُسْلِمُونَ لَا يَنْظُرُونَ إِلَی أَبِي سُفْيَانَ وَلَا يُقَاعِدُونَهُ فَقَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ثَلَاثٌ أَعْطِنِيهِنَّ قَالَ نَعَمْ قَالَ عِنْدِي أَحْسَنُ الْعَرَبِ وَأَجْمَلُهُ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ أُزَوِّجُکَهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ وَمُعَاوِيَةُ تَجْعَلُهُ کَاتِبًا بَيْنَ يَدَيْکَ قَالَ نَعَمْ قَالَ وَتُؤَمِّرُنِي حَتَّی أُقَاتِلَ الْکُفَّارَ کَمَا کُنْتُ أُقَاتِلُ الْمُسْلِمِينَ قَالَ نَعَمْ قَالَ أَبُو زُمَيْلٍ وَلَوْلَا أَنَّهُ طَلَبَ ذَلِکَ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَعْطَاهُ ذَلِکَ لِأَنَّهُ لَمْ يَکُنْ يُسْأَلُ شَيْئًا إِلَّا قَالَ نَعَمْ

عباس بن عبدالعظیم عنبر احمد بن جعفر معقری نضر ابن محمد یمامی عکرمہ ابوزمیل حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ مسلمان نہ تو ابوسفیان کی طرف دیکھتے تھے اور نہ ہی ان کے پاس بیٹھتے تھے۔ تو ابوسفیان ؓ نے نبی ﷺ سے عرض کیا اے اللہ کے نبی تین باتیں مجھے عطا فرمائیں آپ نے فرمایا: جی ہاں! بتاؤ۔ عرض کیا: میری بیٹی ام حبیبہ بنت ابوسفیان اہل عرب سے حسین و جمیل ہیں میں اس کا نکاح آپ ﷺ سے کرتا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا: بہتر عرض کیا اور معاویہ ؓ کو اپنے لئے کاتب مقرر کرلیں آپ ﷺ نے فرمایا: بہتر آپ ﷺ مجھے حکم دیں کہ میں کفار سے لڑتا رہوں جیسا کہ میں مسلمانوں سے لڑتا تھا آپ ﷺ نے فرمایا بہتر ابوزمیل نے کہا اگر یہ خود نبی ﷺ سے ان باتوں کا مطالبہ نہ کرتے تو آپ ﷺ یہ کام نہ فرماتے کیونکہ آپ ﷺ کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ آپ ﷺ سے جس بھی چیز کا مطالبہ کیا جاتا تو آپ ﷺ اس کے جواب میں ہاں ہی فرماتے تھے۔

Ibn Abbas (RA) reported that the Muslims neither looked to Abu Sufyan (RA) (with respect) nor did they sit in his company. he ( Abu Sufyan (RA) ) said to Allahs Apostle ﷺ : Allahs Apostle, confer upon me three things. He replied in the affirmative. He (further) said: I have with me the most handsome and the best (woman) Umm Habiba, daughter of Abu Sufyan (RA) ; marry her, whereupon he said: Yes. And he again said: Accept Muawiyah to serve as your scribe. He said: Yes. He again said: Make me the commander (of the Muslim army) so that I should fight against the unbelievers as I fought against the Muslims. He said: Yes. Abu Zumnail said: If he had not asked for these three things from Allahs Apostle ﷺ , he would have never conferred them upon him, for it was (his habit) to accede to everybodys (earnest) request.

6410Sahih Muslim

سیدنا جعفر بن ابوطالب (رض) اور سیدہ اسماء بنت عمیس (رض) اور کشتی والوں کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ الْهَمْدَانِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنِي بُرَيْدٌ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ بَلَغَنَا مَخْرَجُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ بِالْيَمَنِ فَخَرَجْنَا مُهَاجِرِينَ إِلَيْهِ أَنَا وَأَخَوَانِ لِي أَنَا أَصْغَرُهُمَا أَحَدُهُمَا أَبُو بُرْدَةَ وَالْآخَرُ أَبُو رُهْمٍ إِمَّا قَالَ بِضْعًا وَإِمَّا قَالَ ثَلَاثَةً وَخَمْسِينَ أَوْ اثْنَيْنِ وَخَمْسِينَ رَجُلًا مِنْ قَوْمِي قَالَ فَرَکِبْنَا سَفِينَةً فَأَلْقَتْنَا سَفِينَتُنَا إِلَی النَّجَاشِيِّ بِالْحَبَشَةِ فَوَافَقْنَا جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَأَصْحَابَهُ عِنْدَهُ فَقَالَ جَعْفَرٌ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنَا هَاهُنَا وَأَمَرَنَا بِالْإِقَامَةِ فَأَقِيمُوا مَعَنَا فَأَقَمْنَا مَعَهُ حَتَّی قَدِمْنَا جَمِيعًا قَالَ فَوَافَقْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ فَأَسْهَمَ لَنَا أَوْ قَالَ أَعْطَانَا مِنْهَا وَمَا قَسَمَ لِأَحَدٍ غَابَ عَنْ فَتْحِ خَيْبَرَ مِنْهَا شَيْئًا إِلَّا لِمَنْ شَهِدَ مَعَهُ إِلَّا لِأَصْحَابِ سَفِينَتِنَا مَعَ جَعْفَرٍ وَأَصْحَابِهِ قَسَمَ لَهُمْ مَعَهُمْ قَالَ فَکَانَ نَاسٌ مِنْ النَّاسِ يَقُولُونَ لَنَا يَعْنِي لِأَهْلِ السَّفِينَةِ نَحْنُ سَبَقْنَاکُمْ بِالْهِجْرَةِ

عبداللہ بن براء، اشعری محمد بن علاء، ہمدانی ابواسامہ برید حضرت ابوموسی ؓ سے روایت ہے کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ کے روانہ ہونے کی خبر پہنچی تو ہم یمن میں تھے پس ہم آپ ﷺ کی طرف ہجرت کرتے ہوئے روانہ ہوگئے میں اور میرے دو بھائی تھے اور میں ان دونوں سے چھوٹا تھا ان میں سے ایک کا نام ابوبردہ اور دوسرے کا نام ابورہم تھا ہمارے ساتھ چند آدمی یا کہا ترپن یا باون آدمی ہمارے قبیلہ کے بھی تھے پس ہم کشتی میں سوار ہوئے ہمیں ہماری کشتی نے حبشہ میں نجاشی کے پاس جا چھوڑا پس ہمیں اس کے پاس سیدنا جعفر ؓ نے کہا رسول اللہ ﷺ نے ہمیں یہاں بھیجا ہے اور ہمیں یہاں قیام کرنے کا حکم دیا ہے تم بھی ہمارے ساتھ رہو پس ہم ان کے ساتھ ٹھہر گئے یہاں تک کہ ہم سب اکٹھے ہو کر آئے پھر ہم رسول اللہ ﷺ سے اس وقت ملے جب خبیر فتح ہوچکا تھا تو آپ ﷺ نے ہمارے لئے حصہ مقرر کیا یا ہمیں بھی خیبر سے عطا کیا اور فتح خیبر میں شریک لوگوں کے علاوہ غائب لوگوں میں سے کسی کو بھی اس کے مال غنیمت میں سے کچھ بھی عطا نہیں کیا تھا اور ہماری کشتی والوں کو بھی حضرت جعفر ؓ اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ فتح خیبر میں شریک لوگوں کے ساتھ تقسیم غنیمت میں حصہ عطا فرمایا پس لوگوں میں بعض نے ہمیں یعنی کشتی والوں سے کہا ہم نے ہجرت میں تم سے سبقت کی۔

Abu Musa reported: We were in Yemen when we heard of the migration of Allahs Messenger ﷺ . We also set out as immigrants to him. And I was accompanied by two brothers of mine, I being the youngest of them; one of them was Abu Burda and the other one was Abu Ruhm, and there were some other persons with them. Some say they were fifty-three or fifty-two persons of my tribe. We embarked upon a boat, and the boat sailed away to the Negus of Abyssinia. There we met Jafar bin Abu Talib and his companions. Jafar said: Allalls Messenger ﷺ has sent us here and has commanded us to stay here and you should also stay with us. So we stayed with him and we came back (to Madinah) and met Allahs Messenger ﷺ when Khaibar had been conquered. He (the Holy Prophet) allocated a share to us and in the ordinary course he did not allocate the share to one who had been absent on the occasion of the conquest of Khaibar but conferred (a share) upon him only who had been present there with him. He, however, made an exception for the people of the boat, viz. for Jafar and his companions. He allocated a share to them, and some persons from amongst the people said to us, viz. the people of the boat: We have preceded you in migration.

6411Sahih Muslim

سیدنا جعفر بن ابوطالب (رض) اور سیدہ اسماء بنت عمیس (رض) اور کشتی والوں کے فضائل کے بیان میں

قَالَ فَدَخَلَتْ أَسْمَائُ بِنْتُ عُمَيْسٍ وَهِيَ مِمَّنْ قَدِمَ مَعَنَا عَلَی حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَائِرَةً وَقَدْ کَانَتْ هَاجَرَتْ إِلَی النَّجَاشِيِّ فِيمَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِ فَدَخَلَ عُمَرُ عَلَی حَفْصَةَ وَأَسْمَائُ عِنْدَهَا فَقَالَ عُمَرُ حِينَ رَأَی أَسْمَائَ مَنْ هَذِهِ قَالَتْ أَسْمَائُ بِنْتُ عُمَيْسٍ قَالَ عُمَرُ الْحَبَشِيَّةُ هَذِهِ الْبَحْرِيَّةُ هَذِهِ فَقَالَتْ أَسْمَائُ نَعَمْ فَقَالَ عُمَرُ سَبَقْنَاکُمْ بِالْهِجْرَةِ فَنَحْنُ أَحَقُّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْکُمْ فَغَضِبَتْ وَقَالَتْ کَلِمَةً کَذَبْتَ يَا عُمَرُ کَلَّا وَاللَّهِ کُنْتُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطْعِمُ جَائِعَکُمْ وَيَعِظُ جَاهِلَکُمْ وَکُنَّا فِي دَارِ أَوْ فِي أَرْضِ الْبُعَدَائِ الْبُغَضَائِ فِي الْحَبَشَةِ وَذَلِکَ فِي اللَّهِ وَفِي رَسُولِهِ وَايْمُ اللَّهِ لَا أَطْعَمُ طَعَامًا وَلَا أَشْرَبُ شَرَابًا حَتَّی أَذْکُرَ مَا قُلْتَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ کُنَّا نُؤْذَی وَنُخَافُ وَسَأَذْکُرُ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَسْأَلُهُ وَ وَاللَّهِ لَا أَکْذِبُ وَلَا أَزِيغُ وَلَا أَزِيدُ عَلَی ذَلِکَ قَالَ فَلَمَّا جَائَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّ عُمَرَ قَالَ کَذَا وَکَذَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بِأَحَقَّ بِي مِنْکُمْ وَلَهُ وَلِأَصْحَابِهِ هِجْرَةٌ وَاحِدَةٌ وَلَکُمْ أَنْتُمْ أَهْلَ السَّفِينَةِ هِجْرَتَانِ قَالَتْ فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا مُوسَی وَأَصْحَابَ السَّفِينَةِ يَأْتُونِي أَرْسَالًا يَسْأَلُونِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ مَا مِنْ الدُّنْيَا شَيْئٌ هُمْ بِهِ أَفْرَحُ وَلَا أَعْظَمُ فِي أَنْفُسِهِمْ مِمَّا قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو بُرْدَةَ فَقَالَتْ أَسْمَائُ فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا مُوسَی وَإِنَّهُ لَيَسْتَعِيدُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنِّي

اسماء بنت عمیس حفصہ ؓ حضرت ابوموسی ؓ سے روایت ہے کہ حضرت اسماء ؓ کی خدمت میں جو ہمارے ساتھ آئی تھیں وہ زوجہ نبی ﷺ کی خدمت میں ملاقات کرنے لئے حاضر ہوئیں اور اس نے مہاجرین کے ساتھ نجاشی کی طرف ہجرت کی تھی پس حضرت عمر ؓ سیدہ حفصہ ؓ کے پاس آئے اور ان کے پاس حضرت اسماء ؓ کو دیکھا تو کہا یہ کون ہے؟ سید حفصہ ؓ نے کہا اسماء بنت عمیس ؓ۔ حضرت عمر ؓ نے کہا یہ حبشہ بحریہ ہے اسماء ؓ نے کہا ہاں تو حضرت عمر ؓ نے کہا ہم نے تم سے پہلے ہجرت کی ہم تم سے زیادہ رسول اللہ کے حقدار ہیں وہ ناراض ہوگئیں اور ایک بات کہی کہ اے عمر آپ نے غلط کہا ہے ہرگز نہیں اللہ کی قسم تم رسول اللہ کے ساتھ تھے جو تمہارے بھوکوں کو کھلاتے اور تمہارے جاہلوں کو نصیحت کرتے تھے اور ہم ایسے علاقے میں تھے جو دور دراز اور دشمن ملک حبشہ میں تھے اور وہاں صرف اور صرف اللہ اور اس کے رسول کی رضا کے لئے تھے اللہ کی قسم میں اس وقت تک نہ کوئی کھانا کھاؤں گی اور نہ پینے کی کوئی چیز پیوں گی جب تک آپ کی کہی بات کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے نہ کرلوں اور ہمیں تکلیف دی جاتی تھی اور ڈرایا جاتا تھا میں عنقریب رسول اللہ ﷺ سے اس کا تذکرہ کروں گی اور آپ ﷺ سے اس بارے میں سوال کروں گی اور اللہ کی قسم نہ میں جھوٹ بولوں گی نہ بےراہ چلوں گی اور نہ ہی اس پر کوئی زیادتی کروں گی جب نبی ﷺ تشریف لائے تو اسماء نے کہا اے اللہ کے نبی ﷺ حضرت عمر ؓ نے اس اس طرح کہا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ تم سے زیادہ میرے (قرب کے) حقدار نہیں اس نے اس کے ساتھیوں نے ایک مرتبہ ہجرت کی تمہارے اور کشتی والوں کے لئے دو ہجرتیں ہیں اسماء نے کہا تحقیق میں نے ابوموسی اور کشتی والوں کو دیکھا کہ وہ میرے پاس گروہ در گروہ آتے اور وہ یہ حدیث سنتے تھے دنیا کی کوئی چیز انہیں اس سے زیادہ خوش کرنے والی اور اس فرمان نبی ﷺ سے زیادہ عظمت والی ان کے ہاں نہ تھی۔ سیدہ نے کہا میں نے ابوموسی کو دیکھا کہ وہ یہ حدیث مجھ سے بار بار دہرایا کرتے تھے۔

Asma bint Umais who had migrated to Abyssinia and had come back along with them (along with immigrants) visited Hafsa, the wife of Allahs Apostle ﷺ . (Accordingly), Umar had been sitting with her (Hafsa). As Umar saw Asma, he said: Who is she? She (Hafsa) said: She is Asma, daughter of Umais. He said: She is an Abyssinian and a sea-woman. Asma said: Yes, it is so. Thereupon Umar said: We preceded you in migration and so we have more right to Allahs Messenger ﷺ as compared with you. At this she felt annoyed and said: Umar, you are not stating the fact; by Allah, you had the privilege of being in the company of the Messenger ﷺ who fed the hungry among you and instructed the ignorant amongst you, whereas we had been far (from here) in the land of Abyssinia amongst the enemies and that was all for Allah and Allahs Messenger ﷺ and, by Allah, I would never take food nor take water unless I make a mention to Allahs Messenger ﷺ of what you have said. We remained in that country in constant trouble and dread and I shall talk about it to Allahs Messenger (way peace be upon him) and ask him (about it). By Allah, I shall not tell a lie and deviate (from the truth) and add anything to that. So, when Allahs Apostle ﷺ came, she said: Allahs Apostle, Umar says so and so. Upon this Allahs Messenger ﷺ said: His right is not more than yours, for him and his companions there is one migration, but for you, i. e. for the people of the boat, there are two migrations. She said: I saw Abu Musa and the people of the boat coming to me in groups and asking me about this hadith, because there was nothing more pleasing and more significant for them than this. Abu Burda reported that Asma said: I saw Abu Musa, asking me to repeat this hadith to him again and again.

6412Sahih Muslim

سیدنا سلیمان، صہیب اور بلال (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ أَتَی عَلَی سَلْمَانَ وَصُهَيْبٍ وَبِلَالٍ فِي نَفَرٍ فَقَالُوا وَاللَّهِ مَا أَخَذَتْ سُيُوفُ اللَّهِ مِنْ عُنُقِ عَدُوِّ اللَّهِ مَأْخَذَهَا قَالَ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ أَتَقُولُونَ هَذَا لِشَيْخِ قُرَيْشٍ وَسَيِّدِهِمْ فَأَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ يَا أَبَا بَکْرٍ لَعَلَّکَ أَغْضَبْتَهُمْ لَئِنْ کُنْتَ أَغْضَبْتَهُمْ لَقَدْ أَغْضَبْتَ رَبَّکَ فَأَتَاهُمْ أَبُو بَکْرٍ فَقَالَ يَا إِخْوَتَاهْ أَغْضَبْتُکُمْ قَالُوا لَا يَغْفِرُ اللَّهُ لَکَ يَا أَخِي

محمد بن حاتم، بہز حماد بن سلمہ ثابت معاویہ بن قرہ عابد بن عمرو ابوسفیان، سلمان صہیب ؓ بلال ؓ حضرت عائذ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابوسفیان، سیدنا سلمان، صہیب اور بلال ؓ کے پاس آئے کچھ لوگ بھی ان کے پاس موجود تھے تو انہوں نے کہا اللہ کی قسم! اللہ کی تلواریں اللہ کے دشمن کی گردنوں میں اپنی جگہ پر نہیں پہنچی ہیں تو حضرت ابوبکر ؓ نے کہا کیا تم قریش کے اس شیخ اور ان کے سردار کے بارے میں ایسے کہتے ہو؟ پھر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو اس بات کی خبر دی تو آپ ﷺ نے فرمایا اے ابوبکر شاید تو نے ان کو ناراض کردیا ہو اگر تو نے انہیں ناراض کردیا؟ تو تیرا رب تجھ پر ناراض ہوجائے گا پھر ابوبکر ان کے پاس آئے تو کہا اے میرے بھائیوں میں نے تمہیں ناراض کردیا انہوں نے کہا نہیں اے میرے بھائی اللہ آپ کی مغفرت فرمائے۔

Aidh bin Amr reported that Abu Sufyan (RA) came to Salman, Suhaib and Bilal (RA) in the presence of a group of persons. They said: By Allah, the sword of Allah did not reach the neck of the enemy of Allah as it was required to reach. Thereupon Abu Bakr (RA) said: Do you say this to the old man of the Quraish and their chief? Then he came to Allahs Apostle ﷺ (may peace be uponhim) and informed him of this. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Abu Bakr, you have perhaps annoyed them and if you annoyed them you have in fact annoyed your Lord. So Abu Bakr (RA) came to them and said: O my brothers, I have annoyed you. They said: No, our brother, may Allah forgive you

6413Sahih Muslim

سیدنا سلیمان، صہیب اور بلال (رض) کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ وَاللَّفْظُ لِإِسْحَقَ قَالَا أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ فِينَا نَزَلَتْ إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْکُمْ أَنْ تَفْشَلَا وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا بَنُو سَلِمَةَ وَبَنُو حَارِثَةَ وَمَا نُحِبُّ أَنَّهَا لَمْ تَنْزِلْ لِقَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا

اسحاق بن ابراہیم حنظلی، احمد بن عبدہ اسحاق سفیان، عمرو، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ یہ آیت کریمہ (اِذْ ھَمَّتْ طَّا ى ِفَتٰنِ مِنْكُمْ ) 3۔ آل عمران: 122) ہمارے بارے میں یعنی بنو سلمہ اور بنو حارثہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی اور ہم یہ نہیں چاہتے تھے کہ یہ آیت کریمہ نازل نہ ہوتی کیونکہ اللہ عزوجل نے واللہ ولیہما فرما دیا ہے۔ (یعنی ان دو جماعتوں کا مددگار اللہ ہے)۔

Jabir bin Abdullah (RA) reported that it was concerning them (the Ansar) that this verse was revealed, that when the two groups amongst you were about to lose heart and Allah was the Guardian of them both. This concerned Banu Salama and Banu Haritha and we did not like that Allah, the Exalted and Glorious, should not have revealed this verse for the fact that Allah (gave an assurance) of being the Guardian of both.

6414Sahih Muslim

انصار کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَائِ الْأَنْصَارِ وَأَبْنَائِ أَبْنَائِ الْأَنْصَارِ

محمد بن مثنی، محمد بن جعفر عبدالرحمن بن مہدی، شعبہ، قتادہ، نضر بن انس، حضرت زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے اللہ انصار کی اور انصار کے بیٹوں کی اور انصار کے بیٹوں کے بیٹوں کی مغفرت فرما۔

Zaid bin Arqam reported that Allahs Messenger ﷺ said: O Allah,, grant forgiveness to the Ansar, the offspring of the Ansar and the offspring of the offspring of the Ansar.

6415Sahih Muslim

انصار کے فضائل کے بیان میں

و حَدَّثَنِيهِ يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ

یحییٰ بن حبیب، خالد بن حارث، حضرت شعبہ ؓ اس سند کے ساتھ روایت بیان کرتے ہیں۔

This hadith has been narrated on the authority of Shulba with the same chain of transmitters.

6416Sahih Muslim

انصار کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَغْفَرَ لِلْأَنْصَارِ قَالَ وَأَحْسِبُهُ قَالَ وَلِذَرَارِيِّ الْأَنْصَارِ وَلِمَوَالِي الْأَنْصَارِ لَا أَشُکُّ فِيهِ

ابومعن رقاشی عمر بن یونس عکرمہ ابن عمار اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ، حضرت انس ؓ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے انصار کے لئے اور انصار کی اولاد کے لئے اور انصار کے غلاموں کے لئے مغفرت کی دعا فرمائی۔

Anas reported that Allahs Messenger ﷺ sought forgiveness for the Ansar and he said: I think (he also sought forgiveness) for the children of the Ansar and the slaves and the freed men of the Ansar. I have no doubt about it.

6417Sahih Muslim

انصار کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَی صِبْيَانًا وَنِسَائً مُقْبِلِينَ مِنْ عُرْسٍ فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُمْثِلًا فَقَالَ اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ يَعْنِي الْأَنْصَارَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، ابن علیہ، زہیر اسماعیل عبدالعزیز ابن صہیب حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے کچھ بچوں اور کچھ عورتوں کو ایک شادی میں سے آتے ہوئے دیکھا تو اللہ کے نبی ﷺ سیدھے کھڑے ہوگئے اور پھر فرمایا اللہ کی قسم! اے انصار تم مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب ہو اللہ کی قسم! اے انصار تم مجھے لوگوں میں سے سب سے زیادہ محبوب ہو۔

Anas reported that Allahs Messenger ﷺ saw children and women of the Ansar coming back from a wedding feast. Allahs Apostle ﷺ stood up motionless (as a mark of respect) and said: O Allah, (bear witness) (and addressing the Ansar), said: You are dearest to me amongst people, (and said: O Allah (bear witness) (and addressing the Ansar), said: You are dearest to me amongst people. And he meant Ansar.

6418Sahih Muslim

انصار کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ غُنْدَرٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يَقُولُا جَائَتْ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَخَلَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّکُمْ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ

محمد بن مثنی، ابن بشار غندر ابن مثنی محمد بن جعفر، شعبہ، ہشام بن زید حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ انصار کی ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئی تو رسول اللہ ﷺ اس عورت کی (بات سننے کیلئے) علیحدگی میں ہوگئے اور آپ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے تم لوگوں میں سے مجھے سب سے زیادہ محبوب ہو (آپ ﷺ نے یہ بات) تین مرتبہ فرمائی۔

Anas bin Malik (RA) reported that a woman from the Ansar came to Allahs Messenger ﷺ and Allahs Messenger ﷺ stood aside with her and said: By Him in Whose Hand is my life, you are dearest to me amongst the people. He repeated it thrice.

6419Sahih Muslim

انصار کے فضائل کے بیان میں

و حَدَّثَنِيهِ يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ کِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ

یحییٰ بن حبیب، خالد بن حارث، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب ابن ادریس، حضرت شعبہ ؓ اس سند کے ساتھ روایت نقل کرتے ہیں۔

This hadith has been reported on the authority of Shubah with the same chain of transmitters.

6420Sahih Muslim

انصار کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْأَنْصَارَ کَرِشِي وَعَيْبَتِي وَإِنَّ النَّاسَ سَيَکْثُرُونَ وَيَقِلُّونَ فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَاعْفُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ

محمد بن مثنی، محمد بن بشار، ابن مثنی محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، جضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انصار کے لوگ میرے بااعتماد اور مخصوص لوگوں میں سے ہیں اور لوگ تو بڑھتے چلے جائیں گے لیکن یہ کم ہوتے چلے جائیں گے لہذا ان کی نیکیوں کو قبول کرو اور ان کی خطاؤں کو معاف کردو۔

Anas bin Malik (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The Ansar are my family and my trusted friends. and the people would increase in number whereas they (the Ansar) would become less and less, so appreciate the deeds of those from amongst them who do good and overlook their failings.

6421Sahih Muslim

انصار کے گھرانوں میں سے بہتر گھرانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ دُورِ الْأَنْصَارِ بَنُو النَّجَّارِ ثُمَّ بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ ثُمَّ بَنُو سَاعِدَةَ وَفِي کُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ فَقَالَ سَعْدٌ مَا أَرَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا قَدْ فَضَّلَ عَلَيْنَا فَقِيلَ قَدْ فَضَّلَکُمْ عَلَی کَثِيرٍ

محمد بن مثنی، ابن بشار ابن مثنی محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ حضرت ابواسید ؓ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انصار کے گھرانوں میں سے بہترین گھرانہ بنی نجار کا گھرانہ ہے پھر بن عبدالاشہل کا پھر نبو حارث بن خزرج کا پھر بنو ساعدہ کا اور انصار کے سب گھروں میں خیر ہے حضرت سعد کہتے ہیں کہ میرے خیال میں رسول اللہ ﷺ نے دوسرے لوگوں کو ہم پر فضیلت عطا فرمائی ہے تو ان سے لوگوں نے کہا کہ آپ ﷺ کو بھی تو بہت سوں پر فضیلت دی گئی ہے۔

Abu Usaid reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The worthiest clans of the Ansar are Banu Najjar, thereafter Banu al-Ashhal; thereafter Banu Harith bin Banu Khazraj; thereafter Banu Saidah and there is goodness in all clans of the Ansar. Sad said: I see that he (the Holy Prophet) has placed others above us. It was said to (him): He has placed you above many others.