ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی فاطمہ ؓ نے (کسی کو) ابوبکر صدیق ؓ کے پاس بھیجا، وہ ان سے اپنی میراث مانگ رہی تھیں، رسول اللہ ﷺ کے اس ترکہ میں سے جسے اللہ نے آپ کو مدینہ اور فدک میں اور خیبر کے خمس کے باقی ماندہ میں سے عطا کیا تھا، تو ابوبکر ؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا ہے، ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے، محمد ﷺ کی آل اولاد اس مال سے صرف کھا سکتی ہے (یعنی کھانے کے بمقدار لے سکتی ہے) ، اور میں قسم اللہ کی! رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں صدقہ کی جو صورت حال تھی اس میں ذرا بھی تبدیلی نہ کروں گا، میں اس مال میں وہی کروں گا جو رسول اللہ ﷺ کرتے تھے، حاصل یہ کہ ابوبکر ؓ نے فاطمہ ؓ کو اس مال میں سے (بطور وراثت) کچھ دینے سے انکار کردیا۔
Narrated Aisha (RA) , wife of Prophet ﷺ : Fatimah daughter of Messenger of Allah ﷺ sent a messenger to Abu Bakr demanding from him in inheritance of the Messenger of Allah ﷺ from what Allah bestowed on him at Madina and Fadak, and what remained of the fifth of Khaibar. Abu Bakr said: The Messenger of Allah ﷺ has said: We are not inherited. Whatever we leave is sadaqah. The family of Muhammad will eat from this property. I swear by Allah I shall not change it from the former condition of its being sadaqah as it was in the time of the Messenger of Allah ﷺ . I shall deal with it as the Messenger of Allah dealt with it. Abu Bakr, therefore, refused to give anything to Fatimah from it.
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ مجھ سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ نے ان سے یہی حدیث روایت کی ہے، اس میں یہ ہے کہ فاطمہ ؓ اس وقت (اپنے والد) رسول اللہ ﷺ کے اس صدقے کی طلب گار تھیں جو مدینہ اور فدک میں تھا اور جو خیبر کے خمس میں سے بچ رہا تھا، ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں: ابوبکر ؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا ہے، ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے، محمد ﷺ کی اولاد اس مال میں سے (یعنی اللہ کے مال میں سے) صرف اپنے کھانے کی مقدار لے گی اس مال میں خورا کی کے سوا ان کا کوئی حق نہیں ہے۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : Fatimah was demanding (the property of) sadaqah of the Messenger of Allah ﷺ at Madina and Fadak, and what remained from the fifth of Khaybar. Aisha (RA) quoted Abu Bakr as saying: The Messenger of Allah ﷺ said: We are not inherited; whatever we leave is sadaqah. The family of Muhammad will eat from this property, that is, from the property of Allah. They will not take more then their sustenance.
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٦٦٣٠) (صحیح) (لیکن مال اللہ کا لفظ صحیح نہیں اور یہ مؤلف کے سوا کسی اور کے یہاں بھی نہیں ہے )
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ ؓ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں یہ ہے کہ ابوبکر ؓ نے اس کے دینے سے انکار کیا اور کہا: میں کوئی ایسی چیز چھوڑ نہیں سکتا جسے رسول اللہ ﷺ کرتے رہے ہوں، میں بھی وہی کروں گا، میں ڈرتا ہوں کہ آپ کے کسی حکم کو چھوڑ کر گمراہ نہ ہوجاؤں۔ پھر عمر ؓ نے آپ کے مدینہ کے صدقے کو علی اور عباس ؓ کی تحویل میں دے دیا، علی ؓ اس پر غالب اور قابض رہے، رہا خیبر اور فدک تو عمر ؓ نے ان دونوں کو روکے رکھا اور کہا کہ یہ دونوں آپ ﷺ کے وہ صدقے ہیں جو آپ کی پیش آمدہ ضروریات اور مشکلات و حوادث، مجاہدین کی تیاری، اسلحہ کی خریداری اور مسافروں کی خبرگیری وغیرہ امور) میں کام آتے تھے ان کا اختیار اس کو رہے گا جو والی (یعنی خلیفہ) ہو۔ راوی کہتے ہیں: تو وہ دونوں آج تک ایسے ہی رہے۔
Narrating the above tradition, Aisha (RA) added: Abu Bakr refused that to her. Her said: I am not going to leave anything the Messenger of Allah ﷺ used to do but I shall carry it out. I fear if I depart a little from his practice, I shall diverge (from the right path). As regards his sadaqah (property) at Madina, Umar had given it to Ali ad Abbas (Allah be pleased with them), and Ali dominated it. As for Khaibar and Fadak, Umar retained them. He said: They were the sadaqah (property) of the Messenger of Allah ﷺ , exclusively reserved for his purposes that happened, and for his emergent needs. Their management was assigned to the one who was in authority. He said: They are in that condition to the present day.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٢٩٦٨)، (تحفة الأشراف: ٦٦٣٠) (صحیح )
ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ اللہ نے جو فرمایا ہے: فما أوجفتم عليه من خيل ولا رکاب یعنی تم نے ان مالوں کے واسطے گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے یعنی بغیر جنگ کے حاصل ہوئے (سورۃ الحشر: ٦) تو ان کا قصہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل فدک اور کچھ دوسرے گاؤں والوں سے جن کے نام زہری نے تو لیے لیکن راوی کو یاد نہیں رہا صلح کی، اس وقت آپ ایک اور قوم کا محاصرہ کئے ہوئے تھے، اور ان لوگوں نے آپ کے پاس بطور صلح مال بھیجا تھا، اس مال کے تعلق سے اللہ نے فرمایا: فما أوجفتم عليه من خيل ولا رکاب یعنی بغیر لڑائی کے یہ مال ہاتھ آیا (اور اللہ نے اپنے رسول کو دیا) ۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں بنو نضیر کے مال بھی خالص رسول اللہ ﷺ کے لیے تھے، لوگوں نے اسے زور و زبردستی سے (یعنی لڑائی کر کے) فتح نہیں کیا تھا۔ صلح کے ذریعہ فتح کیا تھا، تو آپ نے اسے مہاجرین میں تقسیم کردیا، اس میں سے انصار کو کچھ نہ دیا، سوائے دو آدمیوں کے جو ضرورت مند تھے۔
Al-Zuhri, explaining the verse For this you made no expedition with either cavalry or camelry said: The Prophet ﷺ concluded the treaty of peace with the people of Fadak and townships which he named which I could not remember ; he blockaded some other people who sent a message to him for capitulation. He said: For this you made no expedition with either cavalry or camelry means without fighting. Al-Zuhri said: The Banu al-Nadir property was exclusively kept for the Prophet ﷺ ; they did not conquer it by fighting, but conquered it by capitulation. To Prophet ﷺ divided it among the Emigrants. He did not give anything to the Helpers except two men were needy.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٩٣٧٩) (صحیح الإسناد )
مغیرہ کہتے ہیں عمر بن عبدالعزیز جب خلیفہ ہوئے تو انہوں نے مروان بن حکم کے بیٹوں کو اکٹھا کیا پھر ارشاد فرمایا: رسول اللہ ﷺ کے پاس فدک تھا، آپ اس کی آمدنی سے (اہل و عیال، فقراء و مساکین پر) خرچ کرتے تھے، اس سے بنو ہاشم کے چھوٹے بچوں پر احسان فرماتے تھے، ان کی بیوہ عورتوں کے نکاح پر خرچ کرتے تھے، فاطمہ ؓ نے آپ ﷺ سے فدک مانگا تو آپ نے انہیں دینے سے انکار کیا، آپ ﷺ کی زندگی تک ایسا ہی رہا، یہاں تک کہ آپ ﷺ انتقال فرما گئے، پھر جب ابوبکر ؓ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے ویسے ہی عمل کیا جیسے نبی اکرم ﷺ نے اپنی زندگی میں کیا تھا، یہاں تک کہ وہ بھی انتقال فرما گئے، پھر جب عمر ؓ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے بھی ویسے ہی کیا جیسے رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر ؓ نے کیا تھا یہاں تک کہ عمر ؓ بھی انتقال فرما گئے، پھر مروان نے اسے اپنی جاگیر بنا لیا، پھر وہ عمر بن عبدالعزیز کے قبضہ و تصرف میں آیا، عمر بن عبدالعزیز کہتے ہیں: تو میں نے اس معاملے پر غور و فکر کیا، میں نے اسے ایک ایسا معاملہ جانا کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے فاطمہ (علیہا السلام) کو دینے سے منع کردیا تو پھر ہمیں کہاں سے یہ حق پہنچتا ہے کہ ہم اسے اپنی ملکیت میں رکھیں؟ تو سن لو، میں تم سب کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ اسے میں نے پھر اس کی اپنی اسی حالت پر لوٹا دیا ہے جس پر رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں تھا (یعنی میں نے پھر وقف کردیا ہے) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عمر بن عبدالعزیز خلیفہ مقرر ہوئے تو اس وقت ان کی آمدنی چالیس ہزار دینار تھی، اور انتقال کیا تو (گھٹ کر) چار سو دینار ہوگئی تھی، اور اگر وہ اور زندہ رہتے تو اور بھی کم ہوجاتی۔
Narrated Umar ibn Abdul Aziz: Al-Mughirah (ibn Shubah) said: Umar ibn Abdul Aziz gathered the family of Marwan when he was made caliph, and he said: Fadak belonged to the Messenger of Allah ﷺ , and he made contributions from it, showing repeated kindness to the poor of the Banu Hashim from it, and supplying from it the cost of marriage for those who were unmarried. Fatimah asked him to give it to her, but he refused. That is how matters stood during the lifetime of the Messenger of Allah ﷺ till he passed on (i. e. died). When Abu Bakr was made ruler he administered it as the Prophet ﷺ had done in his lifetime till he passed on. Then when Umar ibn al-Khattab was made ruler he administered it as they had done till he passed on. Then it was given to Marwan as a fief, and it afterwards came to Umar ibn Abdul Aziz. Umar ibn Abdul Aziz said: I consider I have no right to something which the Messenger of Allah ﷺ refused to Fatimah, and I call you to witness that I have restored it to its former condition; meaning in the time of the Messenger of Allah ﷺ . Abu Dawud said: When Umar bin Abd al-Aziz was made caliph its revenue was forty thousand dinars, and when he died its revenue was four hundred dinars. Had he remained alive, it would have been less than it.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٩١٤٧) (ضعیف) (اس کے راوی مغیرة بن مقسم مدلس اور کثیر الارسال ہیں )
ابوطفیل کہتے ہیں کہ فاطمہ ؓ ابوبکر ؓ کے پاس نبی اکرم ﷺ کے ترکہ سے اپنی میراث مانگنے آئیں، ابوبکر ؓ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: اللہ عزوجل جب کسی نبی کو کوئی معاش دیتا ہے تو وہ اس کے بعد اس کے قائم مقام (خلیفہ) کو ملتا ہے ، (یعنی اس کے وارثوں کو نہیں ملتا) ١ ؎۔
Narrated Abu Bakr (RA) : Abut Tufayl said: Fatimah came to Abu Bakr asking him for the inheritance of the Prophet ﷺ . Abu Bakr said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: If Allah, Most High, gives a Prophet some means of sustenance, that goes to his successor.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی دنیا میں لوگوں کی ہدایت کے لئے بھیجا جاتا ہے، دنیا کا مال حاصل کرنے کے لئے نہیں، اس لئے جو مال دولت اس کو اس کی زندگی میں مل جائے، وہ بھی اس کی وفات کے بعد صدقہ ہوگا، تاکہ لوگوں کو یہ گمان نہ ہو کہ یہ اپنے وارثوں کے لئے جمع کرنے میں مصروف تھا۔ قرآن مجید میں جو زکریا (علیہ السلام) کا قول منقول ہے يرثني ويرث من آل يعقوب ( سورة مریم: ٦) اور جو یہ فرمایا گیا ہے وورث سليمان ( سورة النمل: ١٣) تو اس سے مراد علم اور نبوت کی وراثت ہے، نہ کہ دنیا کے مال کی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٦٥٩٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤، ٦، ٩) (حسن )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میرے ورثاء میری میراث سے جو میں چھوڑ کر مروں ایک دینار بھی تقسیم نہ کریں گے، اپنی بیویوں کے نفقے اور اپنے عامل کے خرچے کے بعد جو کچھ میں چھوڑوں وہ صدقہ ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مؤنة عاملي میں عاملي سے مراد کاشتکار، زمین جوتنے، بونے والے ہیں۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ as saying: Do not distribute dinars among my heirs: Whatever I left after contribution to my wives and provisions for my governor is sadaqah (alms). Abu Dawud said: Amil means the workers or laborers on the land (i. e. Peasants).
ابوالبختری کہتے ہیں میں نے ایک شخص سے ایک حدیث سنی وہ مجھے انوکھی سی لگی، میں نے اس سے کہا: ذرا اسے مجھے لکھ کر دو، تو وہ صاف صاف لکھ کر لایا: علی اور عباس ؓ عمر ؓ کے پاس آگئے اور ان کے پاس طلحہ، زبیر، عبدالرحمٰن اور سعد ؓ (پہلے سے) بیٹھے تھے، یہ دونوں (یعنی عباس اور علی ؓ) جھگڑنے لگے، عمر ؓ نے طلحہ، زبیر، عبدالرحمٰن اور سعد ؓ سے کہا: کیا تم لوگوں کو معلوم نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: نبی کا سارا مال صدقہ ہے سوائے اس کے جسے انہوں نے اپنے اہل کو کھلا دیا یا پہنا دیا ہو، ہم لوگوں کا کوئی وارث نہیں ہوتا ، لوگوں نے کہا: کیوں نہیں (ہم یہ بات جانتے ہیں آپ نے ایسا ہی فرمایا ہے) اس پر عمر ؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ اپنے مال میں سے اپنے اہل پر صرف کرتے تھے اور جو کچھ بچ رہتا وہ صدقہ کردیتے تھے، پھر رسول اللہ ﷺ وفات پا گئے آپ کے بعد اس مال کے متولی ابوبکر ؓ دو سال تک رہے، وہ ویسے ہی کرتے رہے جیسے رسول اللہ ﷺ کرتے تھے، پھر راوی نے مالک بن اوس کی حدیث کا کچھ حصہ ذکر کیا۔
Narrated Umar ibn al-Khattab (RA) : AbulBakhtari said: I heard from a man a tradition which I liked. I said to him: Write it down for me. So he brought it clearly written to me. (It says): Al-Abbas and Ali entered upon Umar when Talhah, az-Zubayr, Abdur Rahman and Saad were with him. They (Abbas and Ali) were disputing. Umar said to Talhah, az-Zubayr, Abdur Rahman and Saad: Do you not know that the Messenger of Allah ﷺ said: All the property of the Prophet ﷺ is sadaqah (alms), except what he provided for his family for their sustenance and their clothing. We are not to be inherited. They said: Yes, indeed. He said: The Messenger of Allah ﷺ used to spend from his property on his family, and give the residue as sadaqah (alms). The Messenger of Allah ﷺ then died, and Abu Bakr ruled for two years. He would deal with it in the same manner as the Messenger of Allah ﷺ did. He then mentioned a little from the tradition of Malik ibn Aws.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٦٤٩، ٣٩٥٢) (صحیح) (شواہد و متابعات پا کر یہ حدیث بھی صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ایک مجہول راوی ہے جو پتہ نہیں صحابی ہے یاتابعی؟ )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں جب رسول اللہ ﷺ نے وفات پائی تو امہات المؤمنین نے ارادہ کیا کہ عثمان بن عفان ؓ کو ابوبکر ؓ کے پاس بھیج کر رسول اللہ ﷺ کی میراث سے اپنا آٹھواں حصہ طلب کریں، تو ام المؤمنین عائشہ ؓ نے ان سب سے کہا (کیا تمہیں یاد نہیں) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا ہے، ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے ۔
Narrated Aisha (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ died, the wives of the Prophet ﷺ intended to send Uthman bin Affan to Abu Bakr to ask him their cost of living from (the inheritance of) the Prophet ﷺ . Thereupon Aisha (RA) said: Did not the Messenger of Allah ﷺ say: We are not inherited. Whatever we leave is sadaqah.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ١٤ (٤٠٣٤)، الفرائض ٣ (٦٧٣٠)، صحیح مسلم/الجہاد ١٦ (١٧٥٨)، موطا امام مالک/ الکلام ١٢ (٢٧)، (تحفة الأشراف: ١٦٥٩٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٥، ٢٦٢) (صحیح )
اس سند سے بھی ابن شہاب زہری سے یہی حدیث اسی طریق سے مروی ہے، اس میں ہے کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ نے (دیگر امہات المؤمنین سے) کہا: تم اللہ سے ڈرتی نہیں، کیا تم لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے نہیں سنا ہے کہ آپ فرماتے تھے: ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا ہے، ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے، اور یہ مال آل محمد کی ضروریات اور ان کے مہمانوں کے لیے ہے، اور جب میرا انتقال ہوجائے گا تو یہ مال اس شخص کی نگرانی و تحویل میں رہے گا جو میرے بعد معاملہ کا والی ہوگا (مسلمانوں کا خلیفہ ہوگا) ۔
A similar tradition has been narrated by Ibn Shihab through a different chain of narrators. This version says: I said: Do you not fear Allah ? Did you not hear the Messenger of Allah ﷺ say: We are not inherited. Whatever we leave is sadaqah (alms). This property belongs to the family of Muhammad for their emergent needs and their guest. When I die, it will go to him who becomes ruler after me.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٦٤٠٧)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الشمائل (٤٠٢)، مسند احمد (٦/١٤٥) (حسن )
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ مجھے جبیر بن مطعم ؓ نے خبر دی کہ وہ اور عثمان بن عفان دونوں اس خمس کی تقسیم کے سلسلے میں گفتگو کرنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے ١ ؎ جو آپ نے بنو ہاشم اور بنو مطلب کے درمیان تقسیم فرمایا تھا، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے ہمارے بھائیوں بنو مطلب کو حصہ دلایا اور ہم کو کچھ نہ دلایا جب کہ ہمارا اور ان کا آپ سے تعلق و رشتہ یکساں ہے، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بنو ہاشم اور بنو مطلب دونوں ایک ہی ہیں ٢ ؎ جبیر ؓ کہتے ہیں: آپ ﷺ نے بنی عبد شمس اور بنی نوفل کو اس خمس میں سے کچھ نہیں دیا جیسے بنو ہاشم اور بنو مطلب کو دیا، ابوبکر ؓ ٣ ؎ بھی اپنی خلافت میں خمس کو اسی طرح تقسیم کرتے تھے جیسے رسول اللہ ﷺ تقسیم فرماتے تھے مگر وہ رسول اللہ ﷺ کے عزیزوں کو نہ دیتے تھے جب کہ نبی اکرم ﷺ ان کو دیتے تھے، عمر بن خطاب ؓ اس میں سے ان کو دیتے تھے اور ان کے بعد عثمان بن عفان ؓ بھی ان کو دیتے تھے۔
Narrated Jubair bin Mutim: That he and Uthman bin Affan went to the Messenger of Allah ﷺ talking to him about the fifth which he divided among the Banu Hisham and Abu Abd al-Muttalib. I said: Messenger of Allah, you have divided (the fifth) among our brethren Banu Abd al-Muttalib, but you have not given us anything, though our relationship to you is the same as theirs. The Prophet ﷺ said: The Banu Hisham and the Banu Abd al-Muttalib are one. Jubair said: He did not divide the fifth among the Banu Abd Shams and the Banu Nawfal as he divided among the Banu Hashim and the Banu Abd al-Muttalib. He said: Abu Bakr used to divide the fifth like the division of Messenger of Allah ﷺ except that he did not give the relatives of the Messenger of Allah ﷺ , as he gave them. Umar bin al-Khattab and Uthman after him used to give them (a portion) from it.
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ ان دونوں کے خاندان والوں کو نہیں دیا تھا جب کہ ان سب کا اصل خاندان ایک تھا عبدمناف کے چار بیٹے تھے ایک ہاشم جن کی اولاد میں رسول اللہ ﷺ تھے، دوسرے مطلب، تیسرے عبدشمس جن کی اولاد میں عثمان ؓ تھے، اور چو تھے نوفل جن کی اولاد میں جبیر بن مطعم ؓ تھے۔ ٢ ؎: یعنی ہمیشہ ایک دوسرے کی مدد کرتے رہے اسی لئے کفار نے جب مقاطعہ کا عہد نامہ لکھا تو انہوں نے اس میں بنو ہاشم اور بنو مطلب دونوں کو شریک کیا۔ ٣ ؎: ابوبکر ؓ نے اس وجہ سے نہیں دیا کہ وہ اس وقت غنی اور مالدار رہے ہوں گے، اور دوسرے لوگ ان سے زیادہ ضرورت مند رہے ہوں گے، جیسا کہ دوسری روایت میں علی ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں ایک حصہ خمس میں سے دیدیا تھا، جب عمر ؓ نے انہیں حصہ دینے کے لئے بلایا تو انہوں نے نہیں لیا اور کہا کہ ہم غنی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الخمس ١٧ (٣١٤٠)، المناقب ٢ (٣٥٠٢)، المغازي ٣٩ (٤٢٢٩)، سنن النسائی/الفيء (٤١٤١)، سنن ابن ماجہ/الجھاد ٤٦ (٢٨٨١)، (تحفة الأشراف: ٣١٨٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٨١، ٨٣، ٨٥) (صحیح )
جبیر بن مطعم ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو عبد شمس اور بنو نوفل کو خمس میں سے کچھ نہیں دیا، جب کہ بنو ہاشم اور بنو مطلب میں تقسیم کیا۔ ابوبکر ؓ بھی خمس اسی طرح تقسیم کیا کرتے تھے جیسے رسول اللہ ﷺ تقسیم کیا کرتے تھے، مگر وہ رسول اللہ ﷺ کے رشتہ داروں کو نہ دیتے جب کہ رسول اللہ ﷺ ان کو دیا کرتے تھے، البتہ عمر ؓ انہیں دیا کرتے تھے اور عمر ؓ کے بعد جو خلیفہ ہوئے وہ بھی دیا کرتے تھے ١ ؎۔
Narrated Jubair bin Mutim: The Messenger of Allah ﷺ did not divide the fifth among the Banu Abd Shams and Banu Nawfal as he divided among the Banu Hashim and Banu Abd al-Muttalib. He said: Abu Bakr used to divide (the fifth) like the division of the Messenger of Allah ﷺ , except that he did not give the relatives of the Messenger of Allah as the Messenger of Allah ﷺ himself gave them. Umar used to give them (from the fifth) and those who followed him.
Notes · وضاحت
١ ؎: ابوبکر رسول اللہ ﷺ کے رشتہ داروں کو غالباً ان کے مالدار ہونے کی وجہ سے نہ دیتے تھے۔
جبیر بن مطعم ؓ کہتے ہیں کہ جب خیبر کی جنگ ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے مال غنیمت میں سے قرابت داروں کا حصہ بنو ہاشم اور بنو مطلب میں تقسیم کیا، اور بنو نوفل اور بنو عبد شمس کو چھوڑ دیا، تو میں اور عثمان ؓ دونوں چل کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ بنو ہاشم ہیں، ہم ان کی فضیلت کا انکار نہیں کرتے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو انہیں میں سے کیا ہے، لیکن ہمارے بھائی بنو مطلب کا کیا معاملہ ہے؟ کہ آپ نے ان کو دیا اور ہم کو نہیں دیا، جب کہ آپ سے ہماری اور ان کی قرابت داری یکساں ہے، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہم اور بنو مطلب دونوں جدا نہیں ہوئے نہ جاہلیت میں اور نہ اسلام میں، ہم اور وہ ایک چیز ہیں ١ ؎، آپ ﷺ نے دونوں ہاتھ کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کیا (گویا دکھایا کہ اس طرح) ۔
Narrated Jubair bin Mutim: On the day of Khaibar the Messenger of Allah ﷺ divided the portion to his relatives among the Banu Hashim and Banu Abd al-Muttalib, and omitted Banu Nawfal and Banu Abd Shams. So I and Utham bin Affan went to the Prophet ﷺ and we said: Messenger of Allah, these are Banu Hashim whose superiority we do not deny because if the position in which Allah has placed you in relation to them ; but tell us about Banu Abd al-Muttalib to whom you have given something while omitting us though our relationship is the same as theirs. The Messenger of Allah ﷺ said: There is no distinction between us and Banu Abd al-Muttalib in pre-Islamic days and in Islam. We and they are one, and he ﷺ intertwined his fingers.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ جو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہم اور بنو مطلب دونوں جدا نہیں ہوئے، نہ جاہلیت میں اور نہ اسلام میں، تو قصہ یہ ہے کہ قریش اور بنی کنانہ نے بنی ہاشم اور بنی مطلب کے جدا کرنے پر حلف لیا تھا کہ وہ نہ ان سے نکاح کریں گے، نہ خریدو فروخت کریں گے، جب تک کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو ہمارے سپرد نہ کریں، اور اس عہد نامہ کو محصب میں لٹکا دیا تھا، اللہ تعالیٰ کی قدرت سے اسے دیمک چاٹ گئی اور کفار مغلوب ہوئے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٢٩٧٨)، (تحفة الأشراف: ٣١٨٥) (صحیح )
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ مجھے یزید بن ہرمز نے خبر دی کہ نجدہ حروری (خارجیوں کے رئیس) نے ابن زبیر ؓ کے بحران کے زمانہ میں ١ ؎ جس وقت حج کیا تو اس نے ایک شخص کو عبداللہ بن عباس ؓ کے پاس ذي القربى کا حصہ پوچھنے کے لیے بھیجا اور یہ بھی پوچھا کہ آپ کے نزدیک اس سے کون مراد ہے؟ ابن عباس ؓ نے کہا: اس سے رسول اللہ ﷺ کے عزیز و اقارب مراد ہیں، رسول اللہ ﷺ نے اسے ان سب میں تقسیم فرمایا تھا، عمر ؓ نے بھی ہمیں اس میں سے دیا تھا لیکن ہم نے اسے اپنے حق سے کم پایا تو لوٹا دیا اور لینے سے انکار کردیا۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : Yazid ibn Hurmuz said that when Najdah al-Haruri performed hajj during the rule of Ibn az-Zubayr, he sent someone to Ibn Abbas to ask him about the portion of the relatives (in the fifth). He asked: For whom do you think? Ibn Abbas replied: For the relatives of the Messenger of Allah ﷺ . The Messenger of Allah ﷺ divided it among them. Umar presented it to us but we found it less than our right. We, therefore returned it to him and refused to accept it.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ اس وقت کی بات ہے جب کہ حجاج نے مکہ پر چڑھائی کر کے عبداللہ بن زبیر ؓ کو قتل کیا تھا۔
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ میں نے علی ؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے خمس کا خمس (پانچویں حصہ کا پانچواں حصہ) دیا، تو میں اسے اس کے خرچ کے مد میں صرف کرتا رہا، جب تک رسول اللہ ﷺ زندہ رہے اور ابوبکر و عمر ؓ زندہ رہے پھر (عمر ؓ کے زمانہ میں) ان کے پاس مال آیا تو انہوں نے مجھے بلایا اور کہا: اس کو لے لو، میں نے کہا: میں نہیں لینا چاہتا، انہوں نے کہا: لے لو تم اس کے زیادہ حقدار ہو، میں نے کہا: اب ہمیں اس مال کی حاجت نہیں رہی (ہمیں اللہ نے اس سے بےنیاز کردیا ہے) تو انہوں نے اسے بیت المال میں داخل کردیا۔
Narrated Abdur-Rahman bin Abi Laila (RA) : I heard Ali say: The Messenger of Allah ﷺ assigned me the fifth (of the booty). I spent it on its beneficiaries during the lifetime of the Messenger of Allah ﷺ and Abu Bakr and of Umar. Some property was brought to him (Umar) and he called me and said: Take it. I said: I dod not want it. He said: Take it ; you have right to it. I said: We do not need it. So he deposited in the government treasury.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠٢٢٤) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ابوجعفر رازی ضعیف ہیں )
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں: میں نے علی ؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں، عباس، فاطمہ اور زید بن حارثہ ؓ چاروں رسول اللہ ﷺ کے پاس جمع ہوئے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر آپ مناسب سمجھیں تو ہمارا جو حق خمس میں کتاب اللہ کے موافق ہے وہ ہمارے اختیار میں دے دیجئیے تاکہ آپ ﷺ کے نہ رہنے کے بعد مجھ سے کوئی جھگڑا نہ کرے، تو آپ نے ایسا ہی کیا، پھر میں جب تک رسول اللہ ﷺ زندہ رہے اسے تقسیم کرتا رہا پھر ابوبکر ؓ نے مجھے اس کا اختیار سونپا، یہاں تک کہ عمر ؓ کی خلافت کے آخری سال میں آپ کے پاس بہت سا مال آیا، آپ نے اس میں سے ہمارا حق الگ کیا، پھر مجھے بلا بھیجا، میں نے کہا: اس سال ہم کو مال کی ضرورت نہیں جب کہ دوسرے مسلمان اس کے حاجت مند ہیں، آپ ان کو دے دیجئیے، عمر ؓ نے ان کو دے دیا، عمر ؓ کے بعد پھر کسی نے مجھے اس مال (یعنی خمس الخمس) کے لینے کے لیے نہیں بلایا، عمر ؓ کے پاس سے نکلنے کے بعد میں عباس ؓ سے ملا، تو وہ کہنے لگے: علی! تم نے ہم کو آج ایسی چیز سے محروم کردیا جو پھر کبھی لوٹ کر نہ آئے گی (یعنی اب کبھی یہ حصہ ہم کو نہ ملے گا) اور وہ ایک سمجھدار آدمی تھے (انہوں نے جو کہا تھا وہی ہوا) ۔
Narrated Ali ibn Abu Talib: I, al-Abbas, Fatimah and Zayd ibn Harithah gathered with the Prophet ﷺ and I said: Messenger of Allah, if you think to assign us our right (portion) in this fifth ( of the booty) as mentioned in the Book of Allah, and this I may divide during your lifetime so that no one may dispute me after you, then do it. He said: He did that. He said: I divided it during the lifetime of the Messenger of Allah ﷺ . Abu Bakr then assigned it to me. During the last days of the caliphate of Umar a good deal of property came to him and took out our portion. I said to him: We are well to do this year; but the Muslims are needy, so return it to them. He, therefore, returned it to them. No one called me after Umar. I met al-Abbas when I came out from Umar. He said: Ali, today you have deprived us of a thing that will never be returned to us. He was indeed a man of wisdom.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠٢١٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٨٤) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی حسین بن میمون لین الحدیث ہیں، لیکن پچھلی روایت اور یہ روایت دونوں آپس میں ایک دوسرے سے مل کر اس واقعہ کی اصلیت کو حسن لغیرہ کے درجہ تک پہنچا دیتی ہیں )
عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب نے خبر دی کہ ان کے والد ربیعہ بن حارث اور عباس بن عبدالمطلب ؓ نے ان سے اور فضل بن عباس ؓ سے کہا کہ تم دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس جاؤ اور آپ سے عرض کرو کہ اللہ کے رسول! ہم جس عمر کو پہنچ گئے ہیں وہ آپ دیکھ ہی رہے ہیں، اور ہم شادی کرنے کے خواہاں ہیں، اللہ کے رسول! آپ لوگوں میں سب سے زیادہ نیک اور سب سے زیادہ رشتہ و ناتے کا خیال رکھنے والے ہیں، ہمارے والدین کے پاس مہر ادا کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے، اللہ کے رسول! ہمیں صدقہ وصولی کے کام پر لگا دیجئیے جو دوسرے عمال وصول کر کے دیتے ہیں وہ ہم بھی وصول کر کے دیں گے اور جو فائدہ (یعنی حق محنت) ہوگا وہ ہم پائیں گے۔ عبدالمطلب ؓ کہتے ہیں کہ ہم اسی حال میں تھے کہ علی بن ابی طالب ؓ گئے اور انہوں نے ہم سے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: قسم اللہ کی! ہم تم میں سے کسی کو بھی صدقہ کی وصولی کا عامل نہیں بنائیں گے ١ ؎۔ اس پر ربیعہ ؓ نے کہا: یہ تم اپنی طرف سے کہہ رہے ہو، تم نے رسول اللہ ﷺ کی دامادی کا شرف حاصل کیا تو ہم نے تم سے کوئی حسد نہیں کیا، یہ سن کر علی ؓ اپنی چادر بچھا کر اس پر لیٹ گئے اور کہنے لگے: میں ابوالحسن سردار ہوں (جیسے اونٹوں میں بڑا اونٹ ہوتا ہے) قسم اللہ کی! میں یہاں سے نہیں ٹلوں گا جب تک کہ تمہارے دونوں بیٹے رسول اللہ ﷺ کے پاس سے اس بات کا جواب لے کر نہ آجائیں جس کے لیے تم نے انہیں اللہ کے نبی کریم ﷺ کے پاس بھیجا ہے۔ عبدالمطلب ؓ کہتے ہیں: میں اور فضل بن عباس ؓ دونوں گئے، ہم نبی کریم ﷺ کے دروازے کے پاس پہنچے ہی تھے کہ ظہر کھڑی ہوگئی ہم نے سب کے ساتھ نماز جماعت سے پڑھی، نماز پڑھ کر میں اور فضل دونوں جلدی سے نبی اکرم ﷺ کے حجرے کے دروازے کی طرف لپکے، آپ اس دن ام المؤمنین زینب بنت حجش ؓ کے پاس تھے، اور ہم دروازے پر کھڑے ہوگئے، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ آگئے اور (پیار سے) میرے اور فضل کے کان پکڑے، اور کہا: بولو بولو، جو دل میں لیے ہو ، یہ کہہ کر آپ ﷺ گھر میں چلے گئے اور مجھے اور فضل کو گھر میں آنے کی اجازت دی، تو ہم اندر چلے گئے، اور ہم نے تھوڑی دیر ایک دوسرے کو بات چھیڑنے کے لیے اشارہ کیا (تم کہو تم کہو) پھر میں نے یا فضل نے (یہ شک حدیث کے راوی عبداللہ کو ہوا) آپ سے وہی بات کہی جس کا ہمارے والدین نے ہمیں حکم دیا تھا، یہ سن کر رسول اللہ ﷺ ایک گھڑی تک چپ رہے، پھر نگاہیں اٹھا کر گھر کی چھت کی طرف دیر تک تکتے رہے، ہم نے سمجھا کہ شاید آپ ﷺ ہمیں کوئی جواب نہ دیں، یہاں تک کہ ہم نے دیکھا کہ پردے کی آڑ سے (ام المؤمنین) زینب ؓ اشارہ کر رہی ہیں کہ تم جلدی نہ کرو (گھبراؤ نہیں) رسول اللہ ﷺ تمہارے ہی مطلب کی فکر میں ہیں، اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے اپنے سر کو نیچا کیا، اور فرمایا: یہ صدقہ تو لوگوں (کے مال) کا میل (کچیل) ہے، اور یہ محمد ﷺ کے لیے اور محمد ﷺ کی آل (و اولاد) کے لیے حلال نہیں ہے، (یعنی بنو ہاشم کے لیے صدقہ لینا درست نہیں ہے) نوفل بن حارث کو میرے پاس بلاؤ چناچہ نوفل بن حارث ؓ کو آپ کے پاس بلایا گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: نوفل! اپنی بیٹی کا نکاح عبدالمطلب سے کر دو ، تو نوفل نے اپنی بیٹی کا نکاح مجھ سے کردیا۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: محمیہ بن جزء کو میرے پاس بلاؤ ، محمیۃ بن جزء ؓ بنو زبید کے ایک فرد تھے، رسول اللہ ﷺ نے انہیں خمس کی وصولی کا عامل بنا رکھا تھا (وہ آئے) آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: تم فضل کا (اپنی بیٹی سے) نکاح کر دو ، تو انہوں نے ان کا نکاح کردیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے (ان سے) کہا: جاؤ مال خمس میں سے ان دونوں کا مہر اتنا اتنا ادا کر دو ۔ (ابن شہاب کہتے ہیں) عبداللہ بن حارث نے مجھ سے مہر کی مقدار بیان نہیں کی۔
Narrated Abdul Muttalib ibn Rabiah ibn al-Harith (RA) : Abdul Muttalib ibn Rabiah ibn al-Harith said that his father, Rabiah ibn al-Harith, and Abbas ibn al-Muttalib said to Abdul Muttalib ibn Rabiah and al-Fadl ibn Abbas (RA) : Go to the Messenger of Allah ﷺ and tell him: Messenger of Allah, we are now of age as you see, and we wish to marry. Messenger of Allah, you are the kindest of the people and the most skilled in matchmaking. Our fathers have nothing with which to pay our dower. So appoint us collector of sadaqah (zakat), Messenger of Allah, and we shall give you what the other collectors give you, and we shall have the benefit accruing from it. Ali came to us while we were in this condition. He said: The Messenger of Allah ﷺ said: No, I swear by Allah, he will not appoint any of you collector of sadaqah (zakat). Rabiah said to him: This is your condition; you have gained your relationship with the Messenger of Allah ﷺ by marriage, but we did not grudge you that. Ali then put his cloak on the earth and lay on it. He then said: I am the father of Hasan, the chief. I swear by Allah, I shall not leave this place until your sons come with a reply (to the question) for which you have sent them to the Prophet ﷺ . Abdul Muttalib said: So I and al-Fadl went towards the door of the apartment of the Prophet ﷺ . We found that the noon prayer in congregation had already started. So we prayed along with the people. I and al-Fadl then hastened towards the door of the apartment of the Prophet ﷺ . He was (staying) with Zaynab, daughter of Jahsh, that day. We stood until the Messenger of Allah ﷺ came. He caught my ear and the ear of al-Fadl. He then said: Reveal what you conceal in your hearts. He then entered and permitted me and al-Fadl (to enter). So we entered and for a little while we asked each other to talk. I then talked to him, or al-Fadl talked to him (the narrator, Abdullah was not sure). He said: He spoke to him concerning the matter about which our fathers ordered us to ask him. The Messenger of Allah ﷺ remained silent for a moment and raised his eyes towards the ceiling of the room. He took so long that we thought he would not give any reply to us. Meanwhile we saw that Zaynab was signalling to us with her hand from behind the veil, asking us not to be in a hurry, and that the Messenger of Allah ﷺ was (thinking) about our matter. The Messenger of Allah ﷺ then lowered his head and said to us: This sadaqah (zakat) is a dirt of the people. It is legal neither for Muhammad nor for the family of Muhammad. Call Nawfal ibn al-Harith to me. So Nawfal ibn al-Harith was called to him. He said: Nawfal, marry Abdul Muttalib (to your daughter). So Nawfal married me (to his daughter). The Prophet ﷺ then said: Call Mahmiyyah ibn Jazi to me. He was a man of Banu Zubayd, whom the Messenger of Allah ﷺ had appointed collector of the fifths. The Messenger of Allah ﷺ said to Mahmiyyah: Marry al-Fadl (to your daughter). So he married him to her. The Messenger of Allah ﷺ said: Stand up and pay the dower from the fifth so-and-so on their behalf. Abdullah ibn al-Harith did not name it (i. e. the amount of the dower).
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ نبی اکرم ﷺ کا یہ طریقہ تھا کہ کسی منصب اور ذمہ داری کے خواہاں کو آپ ذمہ داری نہیں سونپتے تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الزکاة ٥١ (١٠٧٢)، سنن النسائی/الزکاة ٩٥ (٢٦١٠)، (تحفة الأشراف: ٩٧٣٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٦٦) (صحیح )
علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ میرے پاس ایک زیادہ عمر والی اونٹنی تھی جو مجھے بدر کے دن مال غنیمت کی تقسیم میں ملی تھی اور اسی دن مجھے رسول اللہ ﷺ نے ایک اور بہت عمر والی اونٹنی مال خمس میں سے عنایت فرمائی تھی تو جب میں نے ارادہ کیا کہ میں فاطمہ بنت رسول اللہ ﷺ کو اپنے گھر لاؤں، تو میں نے بنو قینقاع کے ایک سنار سے وعدہ لے لیا کہ وہ میرے ساتھ چلے اور ہم دونوں جا کر اذخر (ایک خوشبودار گھاس ہے) لائیں میرا ارادہ یہ تھا کہ میں اسے سناروں سے بیچ کر اپنے ولیمہ کی تیاری میں اس سے مدد لوں، اسی دوران کہ میں اپنی اونٹنیوں کے لیے پالان، گھاس کے ٹوکرے اور رسیاں (وغیرہ) اکٹھا کر رہا تھا اور میری دونوں اونٹنیاں ایک انصاری کے حجرے کے بغل میں بیٹھی ہوئی تھیں، جو ضروری سامان میں مہیا کرسکتا تھا کر کے لوٹ کر آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ دونوں اونٹنیوں کے کوہان کاٹ دئیے گئے ہیں اور پیٹ چاک کر دئیے گئے ہیں، اور ان کے کلیجے نکال لیے گئے ہیں، جب میں نے یہ منظر دیکھا تو میں اپنی آنکھوں پر قابو نہ پاسکا میں نے کہا: یہ کس نے کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ سب حمزہ بن عبدالمطلب نے کیا ہے، وہ اس گھر میں چند انصاریوں کے ساتھ شراب پی رہے ہیں، ایک مغنیہ نے ان کے اور ان کے ساتھیوں کے سامنے یوں گا یا: ألا يا حمز للشرف النواء ١ ؎ (اے حمزہ ان موٹی موٹی اونٹنیوں کے لیے جو میدان میں بندھی ہوئی ہیں اٹھ کھڑے ہو) یہ سن کر وہ تلوار کی طرف جھپٹے اور جا کر ان کے کوہان کاٹ ڈالے، ان کے پیٹ چاک کر ڈالے، اور ان کے کلیجے نکال لیے، میں وہاں سے چل کر رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچا، آپ کے پاس زید بن حارثہ ؓ بیٹھے ہوئے تھے، رسول اللہ ﷺ نے (میرے چہرے کو دیکھ کر) جو (صدمہ) مجھے لاحق ہوا تھا اسے بھانپ لیا، آپ ﷺ نے فرمایا: تمہیں کیا ہوا؟ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے آج کے دن کے جیسا کبھی نہیں دیکھا، حمزہ نے میری اونٹنیوں پر ظلم کیا ہے، ان کے کوہان کاٹ ڈالے، ان کے پیٹ پھاڑ ڈالے اور وہ یہاں ایک گھر میں شراب پینے والوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی چادر منگوائی اور اس کو اوڑھ کر چلے، میں بھی اور زید بن حارثہ ؓ بھی آپ ﷺ کے پیچھے پیچھے چلے یہاں تک کہ آپ ﷺ اس گھر میں پہنچے جہاں حمزہ تھے، آپ نے اندر جانے کی اجازت مانگی تو اجازت دے دی گئی، جب اندر گئے تو دیکھا کہ سب شراب پئے ہوئے ہیں، رسول اللہ ﷺ حمزہ کو ان کے کئے پر ملامت کرنے لگے، دیکھا تو حمزہ نشے میں تھے، آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں، حمزہ نے رسول اللہ ﷺ کی طرف دیکھا، پھر تھوڑی نظر بلند کی تو آپ کے گھٹنوں کو دیکھا، پھر تھوڑی نظر اور بلند کی، اور آپ ﷺ کی ناف کی طرف دیکھا، پھر تھوڑی نظر اور بلند کی اور آپ ﷺ کے چہرہ کو دیکھا، پھر بولے: تم سب میرے باپ کے غلام ہی تو ہو، اس وقت رسول اللہ ﷺ نے جان لیا کہ حمزہ نشے میں دھت ہیں (یہ دیکھ کر) رسول اللہ ﷺ الٹے پاؤں وہاں سے پلٹے اور نکل آئے اور آپ کے ساتھ ہم بھی نکل آئے (اس وقت تک شراب حرام نہ ہوئی تھی) ۔
Ali bin Abi Talib said “I had an old she Camel that I got as my share from the booty on the day of Badr. The Messenger of Allah ﷺ also gave me an old she camel from the fifth that day. When I intended to cohabit with Fathimah daughter of the Messenger of Allah ﷺ , I made arrangement with a man who was a goldsmith belonging to Banu Qainuqa’ to go with me so that we may bring grass. I intended to sell it to the goldsmith there by seeking help in my wedding feast. While I was collecting for my old Camels saddles, baskets and ropes both of she Camels were seated in a corner of the apartment of a man of the Ansar. When I collected what I collected (i. e., equipment) I turned (towards them). I suddenly found that the humps of she Camels were cut off and their hips were pierced and their lives were taken out. I could not control my eyes (to weep) when I saw that scene. I said “Who has done this?” They (the people) replied “Hamzah bin Abd Al Muttalib”. He is among the drunkards of the Ansar in this house. A singing girl is singing for him and his Companions. While singing she said “Oh Hamza, rise to these plumpy old she Camels. So he jumped to the sword and cut off their humps, pierced their hips and took out their livers. ” Ali said “I went till I entered upon the Messenger of Allah ﷺ while Zaid bin Harithah was with him. ” The Messenger of Allah ﷺ realized what I had met with. The Messenger of Allah ﷺ aid “What is the matter with you?” I said Messenger of Allah ﷺ , I never saw the thing that happened with me today. Hamzah wronged my she Camels, he cut off their humps, pierced their hips. Lo! He is in a house with drunkards. The Messenger of Allah ﷺ asked for his cloak. It was brought to him. He then went out, I and Zaid bin Harithah followed him until we reached the house where Hamzah was. He asked permission ( to entre). He was permitted. He found drunkards there. The Messenger of Allah ﷺ began to rebuke him (Hamzah) for his action. Hamzah was intoxicated and his eyes were reddish. Hamzah looked at the Messenger of Allah ﷺ . He then raised his eyes and looked at his knees, he then raised his eyes and looked at his navel and he then raised his eyes and looked at his face. Hamzah then said “Are you but the salves of my father? Then the Messenger of Allah ﷺ knew that he was intoxicated. So the Messenger of Allah ﷺ moved backward. He then went out and we also went out with him. ”
Notes · وضاحت
١ ؎؎: باقی اشعار اس طرح ہیں: أَلا يَا حَمْزُ لِلشُّرُفِ النِّوَاء وَهُنَّ ممقَّلاتٌ بالفناء ضَع السکين في اللبات منها وضرجهن حمزة بالدماء وعجل من أطايبها لشرب قديدًا من طبيخ أو شواء اے حمزہ ان موٹی موٹی اونٹنیوں کے لئے جو میدان میں بندھی ہوئی ہیں اٹھ کھڑے ہو اور ان کے حلق پر چھری پھیر کر انہیں خون میں لت پت کردے اور ان کے پاکیزہ ٹکڑوں یعنی کوہان اور جگر سے پکا ہوا یا بھنا ہوا گوشت شراب پینے والوں کے لئے جلدی تیار کرو۔
فضل بن حسن ضمری کہتے ہیں کہ ام الحکم یا ضباعہ ؓ (زبیر بن عبدالمطلب کی دونوں بیٹیوں) میں سے کسی ایک نے دوسرے کے واسطے سے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ قیدی آئے تو میں اور میری بہن اور رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی فاطمہ ؓ تینوں آپ کے پاس گئیں، اور ہم نے اپنی تکالیف ١ ؎ کا آپ ﷺ سے تذکرہ کیا اور درخواست کی کہ کوئی قیدی آپ ہمیں دلوا دیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: بدر کی یتیم لڑکیاں تم سے سبقت لے گئیں (یعنی تم سے پہلے آ کر انہوں نے قیدیوں کی درخواست کی اور انہیں لے گئیں) ، لیکن (دل گرفتہ ہونے کی بات نہیں) میں تمہیں ایسی بات بتاتا ہوں جو تمہارے لیے اس سے بہتر ہے، ہر نماز کے بعد (٣٣) مرتبہ اللہ اکبر، (٣٣) مرتبہ سبحان اللہ، (٣٣) مرتبہ الحمداللہ، اور ایک بار لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملک وله الحمد وهو على كل شىء قدير کہہ لیا کرو ۔ عیاش کہتے ہیں کہ یہ (ضباعہ اور ام الحکم ؓ) دونوں نبی اکرم ﷺ کی چچا زاد بہنیں تھیں ٢ ؎۔
Umm Al Hakam or Dubaah daughters of Al Zibair bin Abd Al Muttalib said “Some captives of war were brought to the Messenger of Allah ﷺ . I and my sister Fatimah, daughter of Messenger of Allah ﷺ went (to the Prophet) and complained to him about our existing condition. We asked him to order (to give) us some captives. The Messenger of Allah ﷺ said “the orphans of the people who were killed in the battle of Badr came before you (and they asked for the captives). But I tell you something better than that. You should utter “Allaah is Most Great” after each prayer thirty three times, “Glory be to Allaah” thirty three times, “Praise be to Allaah” thirty three times and “there is no god but Allaah alone, He has no associate, the Kingdom belongs to Him and praise is due to Him and He has power over all things. ” The narrator Ayyash said “They were daughters of Uncle of the Prophet ﷺ . ”
Notes · وضاحت
١ ؎: مفلسی کے سبب سے ہمیں کوئی غلام یا لونڈی میسر نہیں ہے، سارے کام اپنے ہاتھ سے خود کرنے پڑتے ہیں۔ ٢ ؎: یعنی زبیر بن عبد المطلب کی بیٹیاں تھیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٩١٢، ١٥٣١٤)، ویأتی ہذا الحدیث فی الأدب (٥٠٦٦) (ضعیف) (اس حدیث کی البانی نے صحیحة ٢ ؍ ١٨٨، اور صحیح ابی داود ٢٦٤٤، میں پہلے تصحیح کی تھی، بعد میں ابن ام الحکم کی جہالت کی وجہ سے اسے ضعیف قرار دیا، ملاحظہ ہو: ضعیف ابی داود ٢ ؍ ٤٢٤ )