Sunan Abu Dawood 2974

محصول غنیمت اور امارت وخلافت سے متعلق ابتداء

2974Sunan Abu Dawood

ان مالوں کا بیان جن کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مال غنیمت میں سے اپنے لئے چن لیتے تھے

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَقْتَسِمُ وَرَثَتِي دِينَارًا مَا تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي وَمُؤْنَةِ عَامِلِي فَهُوَ صَدَقَةٌ، قَالَ أَبُو دَاوُد: مُؤْنَةُ عَامِلِي يَعْنِي أَكَرَةَ الْأَرْضِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میرے ورثاء میری میراث سے جو میں چھوڑ کر مروں ایک دینار بھی تقسیم نہ کریں گے، اپنی بیویوں کے نفقے اور اپنے عامل کے خرچے کے بعد جو کچھ میں چھوڑوں وہ صدقہ ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مؤنة عاملي میں عاملي سے مراد کاشتکار، زمین جوتنے، بونے والے ہیں۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ as saying: Do not distribute dinars among my heirs: Whatever I left after contribution to my wives and provisions for my governor is sadaqah (alms). Abu Dawud said: Amil means the workers or laborers on the land (i. e. Peasants).

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوصایا ٣٢ (٣٠٩٦)، فرض الخمس ٣ (٢٧٧٦)، الفرائض ٣ (٦٧٢٩)، صحیح مسلم/الجھاد ١٦ (١٧٦٠)، (تحفة الأشراف: ١٣٨٠٥)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ الکلام ١٢ (٢٨)، مسند احمد (٢/٣٧٦) (صحیح )