ابن اعبد کہتے ہیں کہ علی ؓ نے مجھ سے کہا: کیا میں تمہیں اپنے اور رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی جو آپ کو اپنے تمام کنبے والوں میں سب سے زیادہ محبوب اور پیاری تھیں کے متعلق نہ بتاؤں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، ضرور بتائیے، آپ نے کہا: فاطمہ ؓ نے چکی پیسی یہاں تک کہ ان کے ہاتھوں میں نشان پڑگئے، اور پانی بھربھر کر مشک لاتیں جس سے ان کے سینے میں درد ہونے لگا اور گھر میں جھاڑو دیتیں جس سے ان کے کپڑے خاک آلود ہوجاتے، نبی اکرم ﷺ کے پاس کچھ غلام اور لونڈیاں آئیں تو میں نے ان سے کہا: اچھا ہوتا کہ تم اپنے ابا جان کے پاس جاتی، اور ان سے اپنے لیے ایک خادمہ مانگ لیتی، چناچہ وہ آپ ﷺ کے پاس آئیں تو دیکھا کہ وہاں کچھ لوگ آپ سے گفتگو کر رہے ہیں تو لوٹ آئیں، دوسرے دن آپ ﷺ خود فاطمہ ؓ کے پاس تشریف لے آئے اور پوچھا: تم کس ضرورت سے آئی تھیں؟ ، وہ چپ رہیں تو میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں آپ کو بتاتا ہوں، چکی پیستے پیستے ان کے ہاتھ میں نشان (گٹھا) پڑگیا، مشک ڈھوتے ڈھوتے سینے میں درد رہنے لگا اب آپ کے پاس خادم آئے ہیں تو میں نے ان سے کہا کہ وہ آپ کے پاس جائیں، اور آپ سے ایک خادم مانگ کر لائیں، جس کے ذریعہ اس شدت و تکلیف سے انہیں نجات ملے جس سے وہ دو چار ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: فاطمہ! اللہ سے ڈرو اور اپنے رب کے فرائض ادا کرتی رہو، اور اپنے گھر کے کام کیا کرو، اور جب سونے چلو تو (٣٣) بار سبحان اللہ، (٣٣) بار الحمدللہ، اور (٣٤) بار اللہ اکبر کہہ لیا کرو، یہ کل سو ہوئے یہ تمہارے لیے خادمہ سے بہتر ہیں ١ ؎۔ فاطمہ ؓ نے کہا: میں اللہ عزوجل اور اس کے رسول ﷺ سے خوش ہوں۔
Ibn A’bud said, Ali said to me “May I not narrate you about me and Fathimah daughter of the Messenger of Allah ﷺ ? She was most favorite to him of his family. ” I said “Yes”. He said “She pulled the grinding stone with her hand so much that it affected her hand, she carried water in a water bag so much so that it affected the upper portion of her chest, she swept the house so much so that her clothes became dirty. The Prophet ﷺ acquired some slaves”. So I said “Would that you go to your father and ask him for a slave. She then came to him and found some people with him talking to him. She therefore returned. Next day she came again. He asked (her), what was your need? But she kept silence. So I said, I inform you, Messenger of Allah ﷺ . She pulled grinding stone so much that it affected her hand, she carried water bag so much so that it affected the upper portion of her chest. When the slaves were brought to you I asked her to come to you and to ask you for a slave to save her from the exertion she is suffering. ” He said “Fear Allaah, Fathimah and perform the duty of your Lord and do the work of your family. ” When you go to bed say “Glory be to Allaah” thirty three times, “Praise be to Allaah” thirty three times, “Allaah is Most Great” thirty four times. This is hundred times. That will be better for you than a servant. She said “I am pleased with Allaah, Most High and with his Messenger ﷺ . ”
Notes · وضاحت
١ ؎: شاید اسی میں مصلحت رہی ہو کہ رسول اللہ ﷺ کی آل واولاد کو دنیا میں تکلیف وتنگ دستی رہے، تاکہ یہ چیز آخرت میں ان کے لئے بلندی درجات کا سبب بنے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود بہذا الیساق: (اتقي اللّٰہ یا فاطمة، وأدي فریضة ربک، واعملي عمل أہلک)، وأما البقیة من الحدیث فقد رواہ کل من: صحیح البخاری/فرض الخمس ٦ (٣١١٣)، فضائل الصحابة ٩ (٣٧٠٥)، النفقات ٦ (٥٣٦١)، الدعوات ١١ (٦٣١٨)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء ١٩ (٢٧٢٧)، سنن الترمذی/الدعوات ٢٤ (٣٤٠٨)، (تحفة الأشراف: ١٠٢٤٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٩٦)، ویأتی ہذا الحدیث فی الأدب (٥٠٦٢) (ضعیف) (مذکورہ جملے کے اضافہ کے ساتھ ضعیف ہے کیونکہ اس سے راوی ابوالورد لین الحدیث ہیں اور ابن اعبد مجہول ہیں، بقیہ حصہ توصحیحین میں ہے )
علی بن حسین سے بھی یہی واقعہ مروی ہے اس میں یہ ہے کہ اس میں یہ ہے کہ آپ ﷺ نے انہیں خادم نہیں دیا ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ali bin Hussain through a different chain of narrators. This version adds “He (the Prophet) did not provide her with a slave. ”
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (ضعیف) (علی بن حسین زیدالعابدین نے اپنے نانا علی کو نہیں پایا ہے لیکن واقعہ صحیح ہے )
مجاعہ ؓ کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس اپنے بھائی کی دیت مانگنے آئے جسے بنو ذہل میں سے بنی سدوس نے قتل کر ڈالا تھا، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر میں کسی مشرک کی دیت دلاتا تو تمہارے بھائی کی دیت دلاتا، لیکن میں اس کا بدلہ تمہیں دلائے دیتا ہوں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے بنو ذہل کے مشرکین سے پہلے پہل حاصل ہونے والے خمس میں سے سو اونٹ اسے دینے کے لیے لکھ دیا۔ مجاعہ ؓ کو ان اونٹوں میں سے کچھ اونٹ بنو ذہل کے مسلمان ہوجانے کے بعد ملے، اور مجاعہ ؓ نے اپنے باقی اونٹوں کو ابوبکر صدیق ؓ سے ان کے خلیفہ ہونے کے بعد طلب کئے اور انہیں رسول اللہ ﷺ کی کتاب (تحریر) دکھائی تو ابوبکر ؓ نے مجاعہ ؓ کے یمامہ کے صدقے میں سے بارہ ہزار صاع دینے کے لیے لکھ دیا، چار ہزار صاع گیہوں کے، چار ہزار صاع جو کے اور چار ہزار صاع کھجور کے۔ رسول اللہ ﷺ نے مجاعہ کو جو کتاب (تحریر) لکھ کردی تھی اس کا مضمون یہ تھا: شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے، یہ کتاب محمد نبی کی جانب سے مجاعہ بن مرارہ کے لیے ہے جو بنو سلمی میں سے ہیں، میں نے اسے بنی ذہل کے مشرکوں سے حاصل ہونے والے پہلے خمس میں سے سو اونٹ اس کے مقتول بھائی کے عوض میں دیا ١ ؎۔
Narrated Mujjaah ibn Mirarah al-Yamani (RA) : Mujjaah went to the Prophet ﷺ asking him for the blood-money of his brother whom Banu Sadus from Banu Dhuhl had killed. The Prophet ﷺ said: Had I appointed blood-money for a polytheist, I should have appointed it for your brother. But I shall give you compensation for him. So the Prophet ﷺ wrote (a document) for him that he should be given a hundred camels which were to be acquired from the fifth taken from the polytheists of Banu Dhuhl. So he took a part of them, for Banu Dhuhl embraced Islam. He then asked Abu Bakr for them later on, and brought to him the document of the Prophet ﷺ . So Abu Bakr wrote for him that he should be given one thousand two hundred sas from the sadaqah of al-Yamamah; four thousand (sas) of wheat, four thousand (sas) of barley, and four thousand (sas) of dates. The text of the document written by the Prophet ﷺ for Mujjaah was as follows: In the name of Allah, the Beneficent, the Merciful. This document is from Muhammad, the Prophet, to Mujjaah ibn Mirarah of Banu Sulma. I have given him one hundred camels from the first fifth acquired from the polytheist of Banu Dhuhl as a compensation for his brother.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مشرک کی کوئی دیت نہیں، البتہ جو مشرک ذمی ہو یعنی اسلامی حکومت کا باشندہ ہو، اور اس سے جزیہ لیا جاتا ہو تو اس کو اگر کوئی کافر مار ڈالے تو اس پر قصاص ہوگا، یا دیت ہوگی، اور جو مسلمان مار ڈالے تو دیت دینی ہوگی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١٢١٢) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی دخیل مجہول الحال، اور ہلال لین الحدیث ہیں )
عامر شعبی کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کا ایک حصہ تھا، جس کو صفي کہا جاتا تھا آپ اگر کوئی غلام، لونڈی یا کوئی گھوڑا لینا چاہتے تو مال غنیمت میں سے خمس سے پہلے لے لیتے۔
Amir Al Shabi said “The Prophet ﷺ had a special portion in the booty called safi. This would be a slave if he desired or a slave girl if he desired or a horse if he desired. He would choose it before taking out the fifth. ”
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الفيء ١ (٤١٥٠)، (تحفة الأشراف: ١٨٨٦٨) (ضعیف الإسناد) (عامر تابعی ہیں، اس لئے یہ روایت مرسل ہے )
ابن عون کہتے ہیں میں نے محمد (محمد ابن سیرین) سے نبی اکرم ﷺ کے حصے اور صفي کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کا بھی حصہ لگایا جاتا تھا اگرچہ آپ لڑائی میں شریک نہ ہوتے اور سب سے پہلے خمس میں سے ١ ؎ صفی آپ کے لیے لیا جاتا تھا۔
Ibn Awn said “I asked Muhammad about the portion of the Prophet ﷺ and safi. He replied “A portion was taken for him along with the Muslims, even if he did not attend (the battle) and safi (special portion) was taken from the fifth before everything. ”
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ صفي خمس میں سے ہوتا تھا اور اس سے پہلے شعبی والی روایت دلالت کرتی ہے کہ صفي خمس سے پہلے پورے مال غنیمت میں سے ہوتا تھا دونوں میں تطبیق کے لئے تاویل یہ کی جاتی ہے کہ قبل الخمس سے مراد قبل أن يقسم الخمس ہے یعنی صفی خمس میں سے ہوتا تھا لیکن خمس کی تقسیم سے پہلے اسے نکالا جاتا تھا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٩٢٩٥) (ضعیف الإسناد) (یہ بھی مرسل ہے، محمد بن سیر ین تابعی ہیں )
قتادہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ جب خود لڑائی میں شریک ہوتے تو ایک حصہ چھانٹ کر جہاں سے چاہتے لے لیتے، ام المؤمنین صفیہ ؓ (جو جنگ خیبر میں آپ ﷺ کو ملیں) اسی حصے میں سے آئیں اور جب آپ لڑائی میں شریک نہ ہوتے تو ایک حصہ آپ ﷺ کے لیے لگایا جاتا اور اس میں آپ کو انتخاب کا اختیار نہ ہوتا کہ جو چاہیں چھانٹ کرلے لیں۔
Qatadah said “When the Messenger of Allah ﷺ participated in battle there was for him a special portion which he took from where he desired. Safiyyah was from that portion. But when he did not participate himself in his battle, a portion was taken out for him, but he had no choice. ”
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٩٢١٤) (ضعیف الإسناد) (قتادہ تابعی ہیں، اس لئے یہ روایت بھی مرسل ہے )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں ہم خیبر آئے (یعنی غزوہ کے موقع پر) تو جب اللہ تعالیٰ نے قلعہ فتح کرا دیا تو آپ ﷺ سے ام المؤمنین صفیہ بنت حیی ؓ کے حسن و جمال کا ذکر کیا گیا، ان کا شوہر مارا گیا تھا، وہ دلہن تھیں تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں اپنے لیے منتخب فرما لیا، پھر آپ ﷺ انہیں ساتھ لے کر روانہ ہوئے یہاں تک کہ ہم سد صہباء ١ ؎ پہنچے، وہاں وہ حلال ہوئیں (یعنی حیض سے فارغ ہوئیں اور ان کی عدت پوری ہوگئی) تو اس وقت آپ ﷺ نے ان کے ساتھ شب زفاف منائی۔
Anas bin Malik (RA) said “We came to Khaibar. We bestowed the conquest of fortress (on us), the beauty of Safiyyah daughter of Huyayy was mentioned to him (the Prophet). Her husband was killed (in the battle) and she was a bride. The Messenger of Allah ﷺ chose her for himself. He came out with her till we reached Sadd Al Sahba’ where she was purified. So he cohabited with her.
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین صفیہ ؓ پہلے دحیہ کلبی ؓ کے حصے میں آگئی تھیں پھر رسول اللہ ﷺ کے حصے میں آئیں۔
Anas bin Malik (RA) said “Safiyyah first fell to Dihyat Al Kalbi, the she fell to the Messenger of Allah ﷺ .
Notes · وضاحت
١ ؎: آپ ﷺ نے ان کی جگہ دحیہ ؓ کو دوسری لونڈی دے دی، اور ام المومنین صفیہ ؓ کو اپنے لئے منتخب کرلیا، صفیہ قریظہ اور نضیر کے سردار کی بیٹی تھیں، اس لئے ان کا ایک عام صحابی کے پاس رہنا مناسب نہ تھا، کیونکہ اس سے دوسروں کو رشک ہوتا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/ النکاح ٤٢ (١٩٥٧)، (تحفة الأشراف: ١٠١٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٨٠) وانظر حدیث رقم (٢٠٥٤) (صحیح )
انس ؓ کہتے ہیں دحیہ کلبی ؓ کے حصے میں ایک خوبصورت لونڈی آئی تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں سات غلام دے کر خرید لیا اور انہیں ام سلیم ؓ کے حوالے کردیا کہ انہیں بنا سنوار دیں۔ حماد کہتے ہیں: میں سمجھتا ہوں کہ آپ ﷺ نے ام المؤمنین صفیہ بنت حیی ؓ کو ام سلیم ؓ کے حوالے کردیا کہ وہ وہاں عدت گزار کر پاک و صاف ہو لیں۔
Anas said “A beautiful slave girl fell to Dihyah”. The Messenger of Allah ﷺ purchased her for seven slaves. He then gave her to Umm Sulaim for decorating her and preparing her for marriage. The narrator Hammad said, I think he said “Safiyyah daughter of Huyayy should pass her waiting period in her (Umm Sulaims’) house. ”
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، وانظر حدیث رقم (٢٠٥٤) (تحفة الأشراف: ٣٧٧، ٣٩٠) (صحیح )
انس ؓ کہتے ہیں خیبر میں سب قیدی جمع کئے گئے تو دحیہ کلبی ؓ آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان قیدیوں میں سے مجھے ایک لونڈی عنایت فرما دیجئیے، آپ ﷺ نے فرمایا: جاؤ ایک لونڈی لے لو ، دحیہ نے صفیہ بنت حیی ؓ کو لے لیا، تو ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور بولا: اللہ کے رسول! آپ نے (صفیہ بنت حیی کو) دحیہ کو دے دیا، صفیہ بنت حیی قریظہ اور نضیر (کے یہودیوں) کی سیدہ (شہزادی) ہے، وہ تو صرف آپ کے لیے موزوں و مناسب ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: دحیہ کو صفیہ سمیت بلا لاؤ ، جب آپ ﷺ نے صفیہ ؓ کو دیکھا تو آپ نے دحیہ ؓ سے کہا تم کوئی اور لونڈی لے لو، پھر رسول اللہ ﷺ نے صفیہ کو آزاد کردیا اور ان سے نکاح کرلیا۔
Anas said “Captives were gathered at Khaibar. Dihyah came out and said “Messenger of Allah ﷺ give me a slave girl from the captives. ” He said “Go and take a slave girl. He took Safiyyah daughter of Huyayy. A man then came to the Prophet ﷺ and said “You gave Safiyyah daughter of Huyayy, chief lady of Quraizah and Al Nadir to Dihyah? This is according to the version of Ya’qub. Then the agreed version goes “she is worthy of you. ” He said “call him along with her. When the Prophet ﷺ looked at her, he said to him “take another slave girl from the captives. The Prophet ﷺ then set her free and married her.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ الصلاة ١٢ (٣٧١)، صحیح مسلم/ النکاح ١٤ (١٣٦٥)، سنن النسائی/ النکاح ٦٤ (٣٣٤٢)، (تحفة الأشراف: ٩٩٠، ١٠٥٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٠١، ١٨٦) (صحیح )
یزید بن عبداللہ کہتے ہیں ہم مربد (ایک گاؤں کا نام ہے) میں تھے اتنے میں ایک شخص آیا جس کے سر کے بال بکھرے ہوئے تھے اور اس کے ہاتھ میں سرخ چمڑے کا ایک ٹکڑا تھا ہم نے کہا: تم گویا کہ صحراء کے رہنے والے ہو؟ اس نے کہا: ہاں ہم نے کہا: چمڑے کا یہ ٹکڑا جو تمہارے ہاتھ میں ہے تم ہمیں دے دو، اس نے اس کو ہمیں دے دیا، ہم نے اسے پڑھا تو اس میں لکھا تھا: یہ محمد ﷺ کی طرف سے زہیر بن اقیش کے لیے ہے (انہیں معلوم ہو کہ) اگر تم اس بات کی گواہی دینے لگ جاؤ گے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور محمد ﷺ اللہ کے بھیجے ہوئے رسول ہیں، اور نماز قائم کرنے اور زکاۃ دینے لگو گے اور مال غنیمت میں سے (خمس جو اللہ و رسول کا حق ہے) اور نبی اکرم ﷺ کے حصہ صفی کو ادا کرو گے تو تمہیں اللہ اور اس کے رسول کی امان حاصل ہوگی ، تو ہم نے پوچھا: یہ تحریر تمہیں کس نے لکھ کردی ہے؟ تو اس نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے۔
Narrated Yazid ibn Abdullah (RA) : We were at Mirbad. A man with dishevelled hair and holding a piece of red skin in his hand came. We said: You appear to be a bedouin. He said: Yes. We said: Give us this piece of skin in your hand. He then gave it to us and we read it. It contained the text: From Muhammad, Messenger of Allah ﷺ , to Banu Zuhayr ibn Uqaysh. If you bear witness that there is no god but Allah, and that Muhammad is the Messenger of Allah, offer prayer, pay zakat, pay the fifth from the booty, and the portion of the Prophet ﷺ and his special portion (safi), you will be under by the protection of Allah and His Messenger. We then asked: Who wrote this document for you? He replied: The Messenger of Allah ﷺ .
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٥٦٨٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٧٧، ٧٨، ٣٦٣) (صحیح الإسناد )
کعب بن مالک ؓ سے روایت ہے (اور آپ ان تین لوگوں میں سے ایک ہیں جن کی غزوہ تبوک کے موقع پر توبہ قبول ہوئی ١ ؎ ) : کعب بن اشرف (یہودی) رسول اللہ ﷺ کی ہجو کیا کرتا تھا اور کفار قریش کو آپ کے خلاف اکسایا کرتا تھا، نبی اکرم ﷺ جب مدینہ تشریف لائے اس وقت وہاں سب قسم کے لوگ ملے جلے تھے ان میں مسلمان بھی تھے، اور مشرکین بھی جو بتوں کو پوجتے تھے، اور یہود بھی، وہ سب رسول اللہ ﷺ کو اور آپ کے صحابہ کو بہت ستاتے تھے تو اللہ عزوجل نے اپنے نبی کو صبر اور عفو و درگزر کا حکم دیا، انہیں کی شان میں یہ آیت ولتسمعن من الذين أوتوا الکتاب من قبلکم تم ان لوگوں سے جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور ان لوگوں سے جو شرک کرتے ہیں سنو گے بہت سی مصیبت یعنی تم کو برا کہیں گے، تم کو ایذا پہنچائیں گے، اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرو تو بڑا کام ہے (سورۃ آل عمران: ١٨٦) اتری تو کعب بن اشرف جب نبی اکرم ﷺ کی ایذارسانی سے باز نہیں آیا تو آپ ﷺ نے سعد بن معاذ ؓ کو حکم دیا کہ چند آدمیوں کو بھیج کر اس کو قتل کرا دیں تو آپ نے محمد بن مسلمہ ؓ کو بھیجا، پھر راوی نے اس کے قتل کا قصہ بیان کیا، جب ان لوگوں نے اسے قتل کردیا تو یہودی اور مشرکین سب خوف زدہ ہوگئے، اور دوسرے دن صبح نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، اور کہنے لگے: رات میں ہمارا سردار مارا گیا، تو نبی کریم ﷺ نے ان سے وہ باتیں ذکر کیں جو وہ کہا کرتا تھا، آپ ﷺ نے انہیں ایک بات کی دعوت دی کہ آپ کے اور ان کے درمیان ایک معاہدہ لکھا جائے جس کی سبھی لوگ پابندی کریں، پھر آپ ﷺ نے اپنے اور ان کے درمیان ایک عمومی صحیفہ (تحریری معاہدہ) لکھا۔
Kaab bin Malik who was one of those whose repentance was accepted said “Kaab bin Al Ashraf used to satire the Prophet ﷺ and incited the infidels of the Quraish against him. When the Prophet ﷺ came to Madeena, its people were intermixed, some of them were Muslims and others polytheists aho worshipped idols and some were Jews. They used to hurt the Prophet ﷺ and his Companions. Then Allaah Most High commanded His Prophet to show patience and forgiveness. So Allaah revealed about them “And ye shall certainly hear much that will grieve you from those who receive Book before you”. When Kaab bin Al Ashraf refused to desist from hurting the Prophet ﷺ the Prophet ﷺ ordered Saad bin Muadh to send a band to kill him. He sent Muhammad bin Maslamah and mentioned the story of his murder. When they killed him, the Jews and the polytheist were frightened. Next day they came to the Prophet ﷺ and said “Our Companions were attacked and night and killed. ” The Prophet ﷺ informed them about that which he would say. The Prophet ﷺ then called them so that he could write a deed of agreement between him and them and they should fulfill its provisions and desist from hurting him. He then wrote a deed of agreement between him and them and the Muslims in general. ”
Notes · وضاحت
١ ؎: سند میں عبدالرحمن بن عبدالله بن کعب بن مالک، عن أبيه ہے، اس عبارت کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ عبدالرحمن کے والد عبداللہ بن کعب بن مالک ان تین اشخاص میں سے ایک ہیں جن کی غزوہ تبوک کے موقع پر توبہ قبول ہوئی حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ وہ عبدالرحمن کے والد عبداللہ کے بجائے ان کے دادا کعب بن مالک ؓ ہیں اور باقی دو کے نام مرارہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ ؓ ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١١٥٢) (صحیح الإسناد )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں جب رسول اللہ ﷺ نے جنگ بدر میں قریش پر فتح حاصل کی اور مدینہ لوٹ کر آئے تو آپ ﷺ نے یہودیوں کو بنی قینقاع کے بازار میں اکٹھا کیا، اور ان سے کہا: اے یہود کی جماعت! تم مسلمان ہوجاؤ قبل اس کے کہ تمہارا حال بھی وہی ہو جو قریش کا ہوا ، انہوں نے کہا: محمد! تم اس بات پر مغرور نہ ہو کہ تم نے قریش کے کچھ نا تجربہ کار لوگوں کو جو جنگ سے واقف نہیں تھے قتل کردیا ہے، اگر تم ہم سے لڑتے تو تمہیں پتہ چلتا کہ مرد میدان ہم ہیں ابھی تمہاری ہم جیسے جنگجو بہادر لوگوں سے مڈبھیڑ نہیں ہوئی ہے، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری قل للذين کفروا ستغلبون کافروں سے کہہ دیجئیے کہ تم عنقریب مغلوب کئے جاؤ گے (سورۃ آل عمران: ١٢) حدیث کے راوی مصرف نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: فئة تقاتل في سبيل الله، وأخرى کافرة تک تلاوت کی۔
Ibn Abbas said “When the Messenger of Allah ﷺ had victory over Quraish in the batte of Badr and came to Madeenah he gathered the Jews in the market of Banu Qainuqa and said “O community of Jews embrace Islam before you suffer an injury as the Quraish suffered. ” They said “Muhammad, you should not deceive yourself (taking pride) that you had killed a few persons of the Quariash who were inexperienced and did not know how to fight. Had you fought with us, you would have known us. You have never met people like us. ” Allah Most High revealed about this the following verse “Say to those who reject faith, soon will ye be vanished. . . one army was fighting in the cause of Allaah, the other resisting Allaah. ”
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٥٦٠٦) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی محمد بن ابی محمد مجہول ہیں )
محیصہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہودیوں میں سے جس کسی مرد پر بھی تم قابو پاؤ اسے قتل کر دو ، تو محیصہ ؓ نے یہود کے سوداگروں میں سے ایک سوداگر کو جس کا نام شبیبہ تھا حملہ کر کے قتل کردیا، اور اس وقت تک حویصہ مسلمان نہیں ہوئے تھے اور وہ محیصہ ؓ سے بڑے تھے، تو جب محیصہ ؓ نے یہودی تاجر کو قتل کردیا تو حویصہ محیصہ کو مارنے لگے اور کہنے لگے: اے اللہ کے دشمن! قسم اللہ کی تیرے پیٹ میں اس کے مال کی بڑی چربی ہے۔
Narrated Muhayyisah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: If you gain a victory over the men of Jews, kill them. So Muhayyisah jumped over Shubaybah, a man of the Jewish merchants. He had close relations with them. He then killed him. At that time Huwayyisah (brother of Muhayyisah) had not embraced Islam. He was older than Muhayyisah. When he killed him, Huwayyisah beat him and said: O enemy of Allah, I swear by Allah, you have a good deal of fat in your belly from his property.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١٢٤٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤٣٦، ٤٣٥) (ضعیف) (اس کے دوراوی مولی زید بن ثابت اور ابنت محیصہ ضعیف ہیں )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں ہم مسجد میں تھے کہ اچانک رسول اللہ ﷺ ہماری طرف تشریف لے آئے اور فرمانے لگے: یہود کی طرف چلو ، تو ہم سب آپ کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ یہود کے پاس پہنچ گئے، پھر رسول ﷺ کھڑے ہوئے اور انہیں پکار کر کہا: اے یہود کی جماعت! اسلام لے آؤ تو (دنیا و آخرت کی بلاؤں و مصیبتوں سے) محفوظ ہوجاؤ گے ، تو انہوں نے کہا: اے ابوالقاسم! آپ نے اپنا پیغام پہنچا دیا، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے پھر یہی فرمایا: أسلموا تسلموا انہوں نے پھر کہا: اے ابوالقاسم! آپ نے اپنا پیغام پہنچا دیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرا یہی مقصد تھا ، پھر تیسری بار بھی آپ ﷺ نے یہی فرمایا اور مزید یہ بھی کہا کہ: جان لو! زمین اللہ کی، اور اس کے رسول کی ہے (اگر تم ایمان نہ لائے) تو میں تمہیں اس سر زمین سے جلا وطن کردینے کا ارادہ کرتا ہوں، تو جو شخص اپنے مال کے لے جانے میں کچھ (دقت و دشواری) پائے (اور بیچنا چاہے) تو بیچ لے، ورنہ جان لو کہ (سب بحق سرکار ضبط ہوجائے گا کیونکہ) زمین اللہ کی اور اس کے رسول کی ہے ۔
Abu Hurairah said, While we were in the mosque, the Messenger of Allah ﷺ came out and said “Come on to the Jews. So we went out with him and came to them”. The Messenger of Allah ﷺ stood up, called them and said “If you, the community of Jews accept Islam you will be safe”. They said “You have given the message Abu Al Qasim”. The Messenger of Allah ﷺ said “Accept Islam you will be safe”. They said “You have given the message Abu Al Qasim”. The Messenger of Allah ﷺ said “that I intended”. He then said the third time “Know that the land belongs to Allaah and His Messenger and I intend to deport you from this land. So, if any of you has property (he cannot take it away), he must sell it, otherwise know that the land belongs to Allaah and His Messenger ﷺ . ”
عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک ایک صحابی رسول ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ کفار قریش نے اس وقت جب کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ آگئے تھے اور جنگ بدر پیش نہ آئی تھی عبداللہ بن ابی اور اس کے اوس و خزرج کے بت پرست ساتھیوں کو لکھا کہ تم نے ہمارے ساتھی (رسول اللہ ﷺ ) کو اپنے یہاں پناہ دی ہے، ہم اللہ کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ تم اس سے لڑ بھڑ (کر اسے قتل کر دو ) یا اسے وہاں سے نکال دو، نہیں تو ہم سب مل کر تمہارے اوپر حملہ کردیں گے، تمہارے لڑنے کے قابل لوگوں کو قتل کردیں گے اور تمہاری عورتوں کو اپنے لیے مباح کرلیں گے۔ جب یہ خط عبداللہ بن ابی اور اس کے بت پرست ساتھیوں کو پہنچا تو وہ سب رسول اللہ ﷺ سے لڑنے کے لیے جمع ہوئے، جب یہ خبر نبی اکرم ﷺ کو پہنچی تو آپ جا کر ان سے ملے اور انہیں سمجھایا کہ قریش کی دھمکی اپنی انتہا کو پہنچی ہوئی دھمکی ہے، قریش تمہیں اتنا ضرر نہیں پہنچا سکتے جتنا تم خود اپنے تئیں ضرر پہنچا سکتے ہو، کیونکہ تم اپنے بیٹوں اور اپنے بھائیوں سے لڑنا چاہتے ہو، جب ان لوگوں نے نبی اکرم ﷺ سے یہ سنا تو وہ آپس میں ایک رائے نہیں رہے، بٹ گئے، (جنگ کا ارادہ سب کا نہیں رہا) تو یہ بات کفار قریش کو پہنچی تو انہوں نے واقعہ بدر کے بعد پھر اہل یہود کو خط لکھا کہ تم لوگ ہتھیار اور قلعہ والے ہو تم ہمارے ساتھی (محمد ﷺ ) سے لڑو نہیں تو ہم تمہاری ایسی تیسی کردیں گے (یعنی قتل کریں گے) اور ہمارے درمیان اور تمہاری عورتوں کی پنڈلیوں و پازیبوں کے درمیان کوئی چیز حائل نہ ہوگی، جب ان کا خط رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ لگا، تو بنو نضیر نے فریب دہی و عہدشکنی کا پلان بنا لیا اور رسول اللہ ﷺ کو کہلا بھیجا کہ آپ اپنے اصحاب میں سے تیس آدمی لے کر ہماری طرف نکلئے، اور ہمارے بھی تیس عالم نکل کر آپ سے ایک درمیانی مقام میں رہیں گے، وہ آپ کی گفتگو سنیں گے اگر آپ کی تصدیق کریں گے اور آپ پر ایمان لائیں گے تو ہم سب آپ پر ایمان لے آئیں گے، آپ ﷺ نے اپنے صحابہ سے ان کی یہ سب باتیں بیان کردیں، دوسرے دن رسول اللہ ﷺ اپنا لشکر لے کر ان کی طرف گئے اور ان کا محاصرہ کرلیا، آپ ﷺ نے ان سے کہا: اللہ کی قسم ہمیں تم پر اس وقت تک اطمینان نہ ہوگا جب تک کہ تم ہم سے معاہدہ نہ کرلو گے ، تو انہوں نے عہد دینے سے انکار کیا (کیونکہ ان کا ارادہ دھوکہ دینے کا تھا) ، آپ ﷺ نے ان سے اس دن جنگ کی، پھر دوسرے دن آپ نے اپنے لشکر کو لے کر قریظہ کے یہودیوں پر چڑھائی کردی اور بنو نضیر کو چھوڑ دیا اور ان سے کہا: تم ہم سے معاہدہ کرلو ، انہوں نے معاہدہ کرلیا کہ (ہم آپ سے نہ لڑیں گے اور نہ آپ کے دشمن کی مدد کریں گے) آپ ﷺ بنو قریظہ سے معاہدہ کر کے واپس آگئے، دوسرے دن پھر آپ ﷺ فوجی دستے لے کر بنو نضیر کی طرف بڑھے اور ان سے جنگ کی یہاں تک کہ وہ جلا وطن ہوجانے پر راضی ہوگئے تو وہ جلا وطن کر دئیے گئے، اور ان کے اونٹ ان کا جتنا مال و اسباب گھروں کے دروازے اور کاٹ کباڑ لاد کرلے جاسکے وہ سب لاد کرلے گئے، ان کے کھجوروں کے باغ رسول اللہ ﷺ کے لیے خاص ہوگئے، اللہ نے انہیں آپ کو عطا کردیا، اور آپ کے لیے خاص کردیا، اور ارشاد فرمایا: وما أفاء الله على رسوله منهم فما أوجفتم عليه من خيل ولا رکاب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو کافروں کے مال میں سے جو کچھ عطا کیا ہے وہ تمہارے اونٹ اور گھوڑے دوڑانے یعنی جنگ کرنے کے نتیجہ میں نہیں دیا ہے (سورۃ الحشر: ٦) ۔ راوی کہتے ہیں: فما أوجفتم عليه من خيل ولا رکاب کے معنی ہیں جو آپ کو بغیر لڑائی کے حاصل ہوا ہے، نبی اکرم ﷺ نے اس کا زیادہ تر حصہ مہاجرین کو دیا اور انہیں کے درمیان تقسیم فرمایا اور اس میں سے آپ نے دو ضرورت مند انصاریوں کو بھی دیا، ان دو کے علاوہ کسی دوسرے انصاری کو نہیں دیا، اور جس قدر باقی رہا وہ رسول اللہ ﷺ کا صدقہ تھا جو فاطمہ ؓ کی اولاد کے ہاتھ میں رہا۔
Narrated A man from the companions of the Prophet: Abdur Rahman ibn Kab ibn Malik reported on the authority of a man from among the companions of the Prophet ﷺ : The infidels of the Quraysh wrote (a letter) to Ibn Ubayy and to those who worshipped idols from al-Aws and al-Khazraj, while the Messenger of Allah ﷺ was at that time at Madina before the battle of Badr. (They wrote): You gave protection to our companion. We swear by Allah, you should fight him or expel him, or we shall come to you in full force, until we kill your fighters and appropriate your women. When this (news) reached Abdullah ibn Ubayy and those who were worshippers of idols, with him they gathered together to fight the Messenger of Allah ﷺ . When this news reached the Messenger of Allah ﷺ , he visited them and said: The threat of the Quraysh to you has reached its end. They cannot contrive a plot against you, greater than what you yourselves intended to harm you. Are you willing to fight your sons and brethren? When they heard this from the Prophet ﷺ , they scattered. This reached the infidels of the Quraysh. The infidels of the Quraysh again wrote (a letter) to the Jews after the battle of Badr: You are men of weapons and fortresses. You should fight our companion or we shall deal with you in a certain way. And nothing will come between us and the anklets of your women. When their letter reached the Prophet ﷺ , they gathered Banu an-Nadir to violate the treaty. They sent a message to the Prophet ﷺ : Come out to us with thirty men from your companions, and thirty rabbis will come out from us till we meet at a central place where they will hear you. If they testify to you and believe in you, we shall believe in you. The narrator then narrated the whole story. When the next day came, the Messenger of Allah ﷺ went out in the morning with an army, and surrounded them. He told them: I swear by Allah, you will have no peace from me until you conclude a treaty with me. But they refused to conclude a treaty with him. He therefore fought them the same day. Next he attacked Banu Quraysh with an army in the morning, and left Banu an-Nadir. He asked them to sign a treaty and they signed it. He turned away from them and attacked Banu an-Nadir with an army. He fought with them until they agreed to expulsion. Banu an-Nadir were deported, and they took with them whatever their camels could carry, that is, their property, the doors of their houses, and their wood. Palm-trees were exclusively reserved for the Messenger of Allah ﷺ . Allah bestowed them upon him and gave them him as a special portion. He (Allah), the Exalted, said: What Allah has bestowed on His Messenger (and taken away) from them, for this ye made no expedition with either camel corps or cavalry. He said: Without fighting. So the Prophet ﷺ gave most of it to the emigrants and divided it among them; and he divided some of it between two men from the helpers, who were needy, and he did not divide it among any of the helpers except those two. The rest of it survived as the sadaqah of the Messenger of Allah ﷺ which is in the hands of the descendants of Fatimah (Allah be pleased with her).
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٦٢٢) (صحیح الإسناد )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ بنو نضیر اور بنو قریظہ کے یہودیوں نے رسول اللہ ﷺ سے جنگ کی آپ نے بنو نضیر کو جلا وطن کردیا، اور بنو قریظہ کو رہنے دیا اور ان پر احسان فرمایا (اس لیے کہ انہوں نے آپ ﷺ سے معاہدہ کرلیا تھا) یہاں تک کہ قریظہ اس کے بعد لڑے ١ ؎ تو ان کے مرد مارے گئے، ان کی عورتیں، ان کی اولاد، اور ان کے مال مسلمانوں میں تقسیم کر دئیے گئے، ان میں کچھ ہی لوگ تھے جو رسول اللہ ﷺ سے آ کر ملے، رسول اللہ ﷺ نے انہیں امان دی، وہ مسلمان ہوگئے، باقی مدینہ کے سارے یہودیوں کو رسول اللہ ﷺ نے مدینہ سے نکال بھگایا، بنو قینقاع کے یہودیوں کو بھی جو عبداللہ بن سلام ؓ کی قوم سے تھے اور بنو حارثہ کے یہودیوں کو بھی اور جو کوئی بھی یہودی تھا سب کو مدینہ سے نکال باہر کیا۔
Ibn Umar said “The Jews Al Nadir and Quraizah fought with the Messenger of Allah ﷺ , so the Messenger of Allah ﷺ expelled Banu Al Nadir and allowed the Quraizah to stay and favored them. The Quraizah thereafter fought (with the Prophet). ” So he killed their men and divided their women, property and children among Muslims except some of them who associated with the Messenger of Allah ﷺ . He gave them protection and later on they embraced Islam. The Messenger of Allah ﷺ expelled all the Jews of Madeenah in Toto, Banu Qainuqa, they were the people of Abd Allaah bin Salam, the Jews of Banu Harith and any of Jews who resided in Madeenah.
Notes · وضاحت
١ ؎: جنگ خندق کے موقع پر انہوں نے بد عہدی کی اور در پردہ قریش کی اعانت کی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ١٤ (٤٠٢٨)، صحیح مسلم/الجھاد ٢٠ (١٧٦٦)، (تحفة الأشراف: ٨٤٥٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٤٩) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اہل خیبر سے جنگ کی، ان کی زمین، اور ان کے کھجور کے باغات قابض ہوگئے اور انہیں اپنے قلعہ میں محصور ہوجانے پر مجبور کردیا، تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس شرط پر صلح کرلی کہ سونا چاندی اور ہتھیار جو کچھ بھی ہیں وہ سب رسول اللہ ﷺ کے لیے ہوں گے اور ان کے لیے صرف وہی کچھ (مال و اسباب) ہے جنہیں ان کے اونٹ اپنے ساتھ اٹھا کرلے جاسکیں، انہیں اس کا حق و اختیار نہ ہوگا کہ وہ کوئی چیز چھپائیں یا غائب کریں، اگر انہوں نے ایسا کیا تو مسلمانوں پر ان کی حفاظت اور معاہدے کی پاس داری کی کوئی ذمہ داری نہ رہے گی تو انہوں نے حیی بن اخطب کے چمڑے کی ایک تھیلی غائب کردی، حیی بن اخطب خیبر سے پہلے قتل کیا گیا تھا، اور وہ جس دن بنو نضیر جلا وطن کئے گئے تھے اسے اپنے ساتھ اٹھا لایا تھا اس میں ان کے زیورات تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے سعیہ (یہودی) سے پوچھا: حیی بن اخطب کی تھیلی کہاں ہے؟ ، اس نے کہا: لڑائیوں میں کام آگئی اور مصارف میں خرچ ہوگئی پھر صحابہ کو وہ تھیلی مل گئی تو آپ ﷺ نے ابن ابی حقیق کو قتل کردیا، ان کی عورتوں کو قیدی بنا لیا، اور ان کی اولاد کو غلام بنا لیا، ان کو جلا وطن کردینے کا ارادہ کرلیا، تو وہ کہنے لگے: محمد! ہمیں یہیں رہنے دیجئیے، ہم اس زمین میں کام کریں گے (جوتیں بوئیں گے) اور جو پیداوار ہوگی اس کا آدھا ہم لیں گے اور آدھا آپ کو دیں گے، رسول اللہ ﷺ (اس پیداوار سے) اپنی ہر ہر بیوی کو (سال بھر میں) (٨٠، ٨٠) وسق کھجور کے اور (٢٠، ٢٠) وسق جو کے دیتے تھے۔
Narrated Abdullah Ibn Umar (RA) : The Prophet fought with the people of Khaybar, and captured their palm-trees and land, and forced them to remain confined to their fortresses. So they concluded a treaty of peace providing that gold, silver and weapons would go to the Messenger of Allah ﷺ , and whatever they took away on their camels would belong to them, on condition that they would not hide and carry away anything. If they did (so), there would be no protection for them and no treaty (with Muslims). They carried away a purse of Huyayy ibn Akhtab who was killed before (the battle of) Khaybar. He took away the ornaments of Banu an-Nadir when they were expelled. The Prophet ﷺ asked Sayah: Where is the purse of Huyayy ibn Akhtab? He replied: The contents of this purse were spent on battles and other expenses. (Later on) they found the purse. So he killed Ibn AbulHuqayq, captured their women and children, and intended to deport them. They said: Muhammad, leave us to work on this land; we shall have half (of the produce) as you wish, and you will have half. The Messenger of Allah ﷺ used to make a contribution of eighty wasqs of dates and twenty wasqs of wheat to each of his wives.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٧٨٧٧) (حسن الإسناد )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ عمر ؓ نے کہا: لوگو! رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے یہودیوں سے یہ معاملہ کیا تھا کہ ہم جب چاہیں گے انہیں یہاں سے جلا وطن کردیں گے، تو جس کا کوئی مال ان یہودیوں کے پاس ہو وہ اسے لے لے، کیونکہ میں یہودیوں کو (اس سر زمین سے) نکال دینے والا ہوں، پھر آپ ﷺ نے انہیں نکال دیا ١ ؎۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : Umar said: The Messenger of Allah ﷺ had transaction with the Jews of Khaybar on condition that we should expel them when we wish. If anyone has property (with them), he should take it back, for I am going to expel the Jews. So he expelled them.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہودیوں نے عمر ؓ سے عرض کیا کہ آپ ہمیں نکال رہے ہیں، حالانکہ آپ کے رسول نے ہمیں یہاں رکھا تھا، تو عمر ؓ نے انہیں جواب دیا کہ ہمارے رسول ﷺ نے کہا ہے کہ جزیرہ عرب میں دو دین نہ رہیں، اسی وجہ سے میں تمہیں نکال رہا ہوں۔