صفی کا بیان
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَدِمْنَا خَيْبَرَ فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ تَعَالَى الْحِصْنَ ذُكِرَ لَهُ جَمَالُ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ وَقَدْ قُتِلَ زَوْجُهَا وَكَانَتْ عَرُوسًا فَاصْطَفَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ فَخَرَجَ بِهَا حَتَّى بَلَغْنَا سُدَّ الصَّهْبَاءِ حَلَّتْ فَبَنَى بِهَا.
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں ہم خیبر آئے (یعنی غزوہ کے موقع پر) تو جب اللہ تعالیٰ نے قلعہ فتح کرا دیا تو آپ ﷺ سے ام المؤمنین صفیہ بنت حیی ؓ کے حسن و جمال کا ذکر کیا گیا، ان کا شوہر مارا گیا تھا، وہ دلہن تھیں تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں اپنے لیے منتخب فرما لیا، پھر آپ ﷺ انہیں ساتھ لے کر روانہ ہوئے یہاں تک کہ ہم سد صہباء ١ ؎ پہنچے، وہاں وہ حلال ہوئیں (یعنی حیض سے فارغ ہوئیں اور ان کی عدت پوری ہوگئی) تو اس وقت آپ ﷺ نے ان کے ساتھ شب زفاف منائی۔
Anas bin Malik (RA) said “We came to Khaibar. We bestowed the conquest of fortress (on us), the beauty of Safiyyah daughter of Huyayy was mentioned to him (the Prophet). Her husband was killed (in the battle) and she was a bride. The Messenger of Allah ﷺ chose her for himself. He came out with her till we reached Sadd Al Sahba’ where she was purified. So he cohabited with her.