ابومریم ازدی (اسدی) ؓ کہتے ہیں کہ میں معاویہ بن ابی سفیان ؓ کے پاس گیا، انہوں نے کہا: اے ابوفلاں! بڑے اچھے آئے، میں نے کہا: میں آپ کو رسول اللہ ﷺ سے سنی ہوئی ایک حدیث بتارہا ہوں، میں نے آپ کو فرماتے سنا ہے: جسے اللہ مسلمانوں کے کاموں میں سے کسی کام کا ذمہ دار بنائے پھر وہ ان کی ضروریات اور ان کی محتاجی و تنگ دستی کے درمیان رکاوٹ بن جائے ١ ؎ تو اللہ اس کی ضروریات اور اس کی محتاجی و تنگ دستی کے درمیان حائل ہوجاتا ہے ٢ ؎۔ یہ سنا تو معاویہ ؓ نے ایک شخص کو مقرر کردیا جو لوگوں کی ضروریات کو سنے اور اسے پورا کرے۔
Narrated Abu Maryam al-Azdi: When I entered upon Muawiyah, he said: How good your visit is to us, O father of so-and-so. (This is an idiom used by the Arabs on such occasions). I said: I tell you a tradition which I heard (from the Prophet). I heard the Messenger of Allah ﷺ say: If Allah puts anyone in the position of authority over the affairs of the Muslims, and he secludes himself (from them), not fulfilling their needs, wants, and poverty, Allah will keep Himself away from him, not fulfilling his need, want and poverty. He said: He (Muawiyah) appointed a man to fulfil the needs of the people.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان کی ضروریات پوری نہ کرے اور ان کی محتاجی و تنگ دستی دور نہ کرے۔ ٢ ؎: یعنی اللہ تعالیٰ بھی اس کی حاجت و ضروریات پوری نہیں کرتا۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں تم کو کوئی چیز نہ اپنی طرف سے دیتا ہوں اور نہ ہی اسے دینے سے روکتا ہوں میں تو صرف خازن ہوں میں تو بس وہیں خرچ کرتا ہوں جہاں مجھے حکم ہوتا ہے ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: It is not on my own that I give you or withhold from you: I am just a treasure, putting it where I have been commanded.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤٧٩٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/فرض الخمس ٧ (٣١١٧)، مسند احمد (٢/ ٣١٤، ٤٨٢) (صحیح )
مالک بن اوس بن حدثان کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب ؓ نے ایک دن فیٔ (بغیر جنگ کے ملا ہوا مال) کا ذکر کیا اور کہا کہ میں اس فیٔ کا تم سے زیادہ حقدار نہیں ہوں اور نہ ہی کوئی دوسرا ہم میں سے اس کا دوسرے سے زیادہ حقدار ہے، لیکن ہم اللہ کی کتاب اور رسول اللہ ﷺ کی تقسیم کے اعتبار سے اپنے اپنے مراتب پر ہیں، جو شخص اسلام لانے میں مقدم ہوگا یا جس نے (اسلام کے لیے) زیادہ مصائب برداشت کئے ہونگے یا عیال دار ہوگا یا حاجت مند ہوگا تو اسی اعتبار سے اس میں مال تقسیم ہوگا، ہر شخص کو اس کے مقام و مرتبہ اور اس کی ضرورت کے اعتبار سے مال فیٔ تقسیم کیا جائے گا۔
Narrated Umar ibn al-Khattab (RA) : Malik ibn Aws ibn al-Hadthan said: One day Umar ibn al-Khattab mentioned the spoils of war and said: I am not more entitled to this spoil of war than you; and none of us is more entitled to it than another, except that we occupy our positions fixed by the Book of Allah, Who is Great and Glorious, and the division made by the Messenger of Allah ﷺ , people being arranged according to their precedence in accepting Islam, the hardship they have endured their having children and their need.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠٦٣٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤٢) (حسن )
زید بن اسلم کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر ؓ معاویہ ؓ کے پاس آئے، معاویہ ؓ نے ان سے پوچھا: ابوعبدالرحمٰن! کس ضرورت سے آنا ہوا؟ کہا: آزاد کئے ہوئے غلاموں کا حصہ لینے، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا تھا کہ جب آپ کے پاس فیٔ کا مال آتا تو سب سے پہلے آپ ﷺ آزاد غلاموں کا حصہ دینا شروع کرتے ١ ؎۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : Zayd ibn Aslam said: Abdullah ibn Umar entered upon Muawiyah. He asked: (Tell me) your need, Abu Abdur Rahman. He replied: Give (the spoils) to those who were set free, for I saw the first thing the Messenger of Allah ﷺ did when anything came to him was to give something to those who had been set free.
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ آزاد غلاموں کا نام حکومت کے رجسٹر میں نہیں رہتا تھا اس لئے وہ بیچارے محروم رہ جاتے تھے، یہی وجہ ہے کہ عبداللہ بن عمر ؓ نے معاویہ ؓ کو ان غلاموں کی بابت یاد دلایا اور ان کے حق میں عطیات کے سلسلہ میں سفارش کی۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک تھیلا لایا گیا جس میں خونگے (قیمتی پتھر) تھے تو آپ ﷺ نے انہیں آزاد عورتوں اور لونڈیوں میں تقسیم کردیا۔ ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں: میرے والد (ابوبکر ؓ) آزاد مردوں اور غلاموں میں تقسیم کرتے تھے ١ ؎۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Prophet ﷺ was brought a pouch containing bead and divided it among free women and slave women. Aisha (RA) said: My father used to divide things between free men and slave.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ مونگوں کی تقسیم عورتوں کے لئے مخصوص نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٦٣٥٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٥٦، ١٥٩، ٢٣٨) (صحیح )
عوف بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جس دن مال فیٔ آتا آپ اسی دن اسے تقسیم کردیتے، شادی شدہ کو دو حصے دیتے اور کنوارے کو ایک حصہ دیتے، تو ہم بلائے گئے، اور میں عمار ؓ سے پہلے بلایا جاتا تھا، میں بلایا گیا تو مجھے دو حصے دئیے گئے کیونکہ میں شادی شدہ تھا، اور میرے بعد عمار بن یاسر ؓ بلائے گئے تو انہیں صرف ایک حصہ دیا گیا (کیونکہ وہ کنوارے تھے) ۔
Narrated Awf bin Malik: When the spoils (fai) came to the Messenger of Allah ﷺ , he divided it that day ; he gave two portions to a married man and one to a bachelor. The narrator Ibn al-Musaffa added: We were summoned, and I would be summoned before Ammar. So I was summoned and he gave me two portions, for I had a family ; then Ammar bin Yasir was summoned after me and given one.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٠٩٠٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٥، ٢٩) (صحیح )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے: میں مسلمانوں سے ان کی اپنی جان سے بھی زیادہ قریب ہوں (بس) جو مرجائے اور مال چھوڑ جائے تو وہ مال اس کے گھر والوں کا حق ہے اور جو قرض چھوڑ جائے یا عیال، تو وہ (قرض کی ادائیگی اور عیال کی پرورش) میرے ذمہ ہے ۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ said: I am nearer to the believers than themselves, so if anyone leaves property, it goes to his heirs, and if anyone leaves debt and dependants, let the matter come to me and I shall be responsible.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ٧ (٤٥)، والصدقات ١٣ (٢٤١٦)، (تحفة الأشراف: ٢٦٠٥)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجمعة ١٣ (٨٦٧)، سنن النسائی/العیدین ٢١ (١٥٧٩)، والجنائز ٦٧ (١٩٦٤)، مسند احمد (٣/٣٧١) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو مال چھوڑ کر جائے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے، اور جو عیال چھوڑ کر مرجائے تو ان کی پرورش ہمارے ذمہ ہے ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyone leaves property, it goes to his heirs. And if anyone leaves dependents (without resources), they come to us.
جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ فرماتے تھے: میں ہر مسلمان سے اس کی جان سے بھی زیادہ قریب ہوں، تو جو مرجائے اور قرض چھوڑ جائے تو اس کی ادائیگی میرے ذمہ ہے، اور جو مال چھوڑ کر مرے تو وہ مال اس کے وارثوں کا ہے ۔
Narrated Jabir bin Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ as saying: I am nearer to every believer than himself, and if anyone leaves, it goes to his heirs.
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ وہ غزوہ احد کے دن نبی اکرم ﷺ کے سامنے پیش کئے گئے اس وقت ان کی عمر (١٤) سال تھی، آپ ﷺ نے انہیں غزوہ میں شرکت کی اجازت نہیں دی، پھر وہ غزوہ خندق کے موقع پر پیش کئے گئے اس وقت وہ پندرہ سال کے ہوگئے تھے، آپ ﷺ نے انہیں غزوہ میں شرکت کی اجازت دے دی۔
Narrated Nafi (RA) : That Ibn Umar was presented before the Prophet ﷺ on the day of Uhud, when he was fourteen years old, but he did not allow him. He was again presented to him on the day of Khandaq (the battle of Trench) when he was fifteen years old, he allowed him.
سلیم بن مطیر کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ وہ حج کرنے کے ارادے سے نکلے، جب مقام سویدا پر پہنچے تو انہیں ایک (بوڑھا) شخص ملا، لگتا تھا کہ وہ دوا اور رسوت ١ ؎ کی تلاش میں نکلا ہے، وہ کہنے لگا: مجھے ایک ایسے شخص نے خبر دی ہے جس نے رسول اللہ ﷺ سے حجۃ الوداع میں اس حال میں سنا کہ آپ لوگوں کو نصیحت کر رہے تھے، انہیں نیکی کا حکم دے رہے تھے اور بری باتوں سے روک رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: لوگو! (امام و حاکم کے) عطیہ کو لے لو جب تک کہ وہ عطیہ رہے ٢ ؎، اور پھر جب قریش ملک و اقتدار کے لیے لڑنے لگیں، اور عطیہ (بخشش) دین کے بدلے ٣ ؎ میں ملنے لگے تو اسے چھوڑ دو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس روایت کو ابن مبارک نے محمد بن یسار سے انہوں نے سلیم بن مطیر سے روایت کیا ہے۔
Narrated A man: Sulaym ibn Mutayr reported on the authority of his father that Mutayr went away to perform hajj. When he reached as-Suwaida, a man suddenly came searching for medicine and ammonium anthorhizum extract, and he said: A man who heard the Messenger of Allah ﷺ addressing the people commanding and prohibiting them, told me that he said: O people, accept presents so long as they remain presents; but when the Quraysh quarrel about the rule, and the presents are given for the religion of one of you, then leave them alone. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Ibn al-Mubarak from Muhammad bin Yasar from Sulaim bin Mutair.
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک کڑوی دوا جو اکثر آنکھوں اور پھنسیوں کی دوا میں استعمال ہوتی ہے۔ ٢ ؎: یعنی شریعت کے مطابق وہ مال حاصل کیا گیا ہو اور شریعت کے مطابق تقسیم بھی کیا گیا ہو۔ ٣ ؎: یعنی حاکم عطیہ دے کر تم سے کوئی ناجائز کام کرانا چاہتا ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٥٤٦) (ضعیف) (اس کی سند میں ضعیف اور مجہول راوی ہیں )
وادی القری کے باشندہ سلیم بن مطیر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ان سے بیان کیا کہ میں نے ایک شخص کو کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے حجۃ الوداع میں سنا آپ نے (لوگوں کو اچھی باتوں کا) حکم دیا (اور انہیں بری باتوں سے) منع کیا پھر فرمایا: اے اللہ! کیا میں نے (تیرا پیغام) انہیں پہنچا دیا ، لوگوں نے کہا: ہاں، پہنچا دیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: جب قریش کے لوگ حکومت اور ملک و اقتدار کے لیے لڑنے لگیں اور عطیہ کی حیثیت رشوت کی بن جائے (یعنی مستحق کے بجائے غیر مستحق کو ملنے لگے) تو اسے چھوڑ دو ۔ پوچھا گیا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے کہا: یہ رسول اللہ ﷺ کے صحابی ذوالزوائد ١ ؎ ہیں۔
Narrated Dhul-Zawaid: Mutayr said: I heard a man say: I heard the Messenger of Allah ﷺ in the Farewell Pilgrimage. He was commanding and prohibiting them (the people). He said: O Allah, did I give full information? They said: Yes. He said: When the Quraysh quarrel about the rule among themselves, and the presents become bribery, them leave them. The people were asked: Who was he (who narrated this tradition)? They said: This was Dhul-Zawaid, a Companion of the Messenger of Allah ﷺ .
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ اہل مدینہ میں سے ایک صحابی کا لقب ہے، ان کے نام کا پتہ نہیں چل سکا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٥٤٦) (ضعیف) (اس کی سند میں ضعیف اور مجہول راوی ہیں )
عبداللہ بن کعب بن مالک انصاری کہتے ہیں کہ انصار کا ایک لشکر اپنے امیر کے ساتھ سر زمین فارس میں تھا اور عمر ؓ ہر سال لشکر تبدیل کردیا کرتے تھے، لیکن عمر ؓ کو (خیال نہیں رہا) دوسرے کام میں مشغول ہوگئے جب میعاد پوری ہوگئی تو اس لشکر کے لوگ لوٹ آئے تو وہ ان پر برہم ہوئے اور ان کو دھمکایا جب کہ وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ تھے، تو وہ کہنے لگے: عمر! آپ ہم سے غافل ہوگئے، اور آپ نے وہ قاعدہ چھوڑ دیا جس پر عمل کرنے کا رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا تھا کہ ایک کے بعد ایک لشکر بھیجنا تاکہ پہلا لشکر لوٹ آئے اور اس کی جگہ وہاں دوسرا لشکر رہے۔
Narrated Abdullah bin Kab bin Malik al-Ansari (RA) : An expedition of the Ansar was operating in Persia with their leader. Umar used to send expeditions by turns every year, but he neglected them. When the expired, the people of expedition appointed on the frontier came back. He (Umar) took serious action against them and threatened them, though they were the Companions of the Messenger of Allah ﷺ . They said: Umar you neglected us, and abandoned the practice for which the Messenger of Allah ﷺ commanded to send the detachments by turns.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٦١٥) (صحیح الإسناد )
عدی بن عدی کندی کے ایک لڑکے کا بیان ہے کہ عمر بن عبدالعزیز نے لکھا کہ جو کوئی شخص پوچھے کہ مال فیٔ کہاں کہاں صرف کرنا چاہیئے تو اسے بتایا جائے کہ جہاں جہاں عمر بن خطاب ؓ نے حکم دیا ہے وہیں خرچ کیا جائے گا، عمر ؓ کے حکم کو مسلمانوں نے انصاف کے موافق اور نبی اکرم ﷺ کے قول: جعل الله الحق على لسان عمر وقلبه (اللہ نے عمر کی زبان اور دل پر حق کو جاری کردیا ہے) کا مصداق جانا، انہوں نے مسلمانوں کے لیے عطیے مقرر کئے اور دیگر ادیان والوں سے جزیہ لینے کے عوض ان کے امان اور حفاظت کی ذمہ داری لی، اور جزیہ میں نہ خمس (پانچواں حصہ) مقرر کیا اور نہ ہی اسے مال غنیمت سمجھا۔
Narrated Umar ibn al-Khattab (RA) : A son of Adi ibn Adi al-Kindi said that Umar ibn Abdul Aziz wrote (to his governors): If anyone asks about the places where spoils (fay) should be spent, that should be done in accordance with the decision made by Umar ibn al-Khattab (Allah be pleased with him). The believers considered him to be just, according to the saying of the Prophet ﷺ : Allah has placed truth upon Umars tongue and heart. He fixed stipends for Muslims, and provided protection for the people of other religions by levying jizyah (poll-tax) on them, deducting no fifth from it, nor taking it as booty.
Notes · وضاحت
١ ؎: مال غنیمت مجاہدین میں تقسیم کیا جاتا ہے اور اس میں سے پانچواں حصہ اللہ و رسول کے حق کے طور پر نکالا جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود (ضعیف الإسناد) (عدی بن عدی کے لڑکے مبہم ہیں )
مالک بن اوس بن حدثان کہتے ہیں کہ عمر ؓ نے مجھے دن چڑھے بلوا بھیجا، چناچہ میں آیا تو انہیں ایک تخت پر جس پر کوئی چیز بچھی ہوئی نہیں تھی بیٹھا ہوا پایا، جب میں ان کے پاس پہنچا تو مجھے دیکھ کر کہنے لگے: مالک! تمہاری قوم کے کچھ لوگ میرے پاس آئے ہیں اور میں نے انہیں کچھ دینے کے لیے حکم دیا ہے تو تم ان میں تقسیم کر دو، میں نے کہا: اگر اس کام کے لیے آپ کسی اور کو کہتے (تو اچھا رہتا) عمر ؓ نے کہا: نہیں تم (جو میں دے رہا ہوں) لے لو (اور ان میں تقسیم کر دو ) اسی دوران یرفاء ١ ؎ آگیا، اس نے کہا: امیر المؤمنین! عثمان بن عفان، عبدالرحمٰن بن عوف، زبیر بن عوام اور سعد بن ابی وقاص ؓ آئے ہوئے ہیں اور ملنے کی اجازت چاہتے ہیں، کیا انہیں بلا لوں؟ عمر ؓ نے کہا: ہاں (بلا لو) اس نے انہیں اجازت دی، وہ لوگ اندر آگئے، جب وہ اندر آگئے، تو یرفا پھر آیا، اور آ کر کہنے لگا: امیر المؤمنین! ابن عباس اور علی ؓ آنا چاہتے ہیں؛ اگر حکم ہو تو آنے دوں؟ کہا: ہاں (آنے دو ) اس نے انہیں بھی اجازت دے دی، چناچہ وہ بھی اندر آگئے، عباس ؓ نے کہا: امیر المؤمنین! میرے اور ان کے (یعنی علی ؓ کے) درمیان (معاملے کا) فیصلہ کر دیجئیے، (تاکہ جھگڑا ختم ہو) ٢ ؎ اس پر ان میں سے ایک شخص نے کہا: ہاں امیر المؤمنین! ان دونوں کا فیصلہ کر دیجئیے اور انہیں راحت پہنچائیے۔ مالک بن اوس کہتے ہیں کہ میرا گمان یہ ہے کہ ان دونوں ہی نے ان لوگوں (عثمان، عبدالرحمٰن، زبیر اور سعد بن ابی وقاص ؓ) کو اپنے سے پہلے اسی مقصد سے بھیجا تھا (کہ وہ لوگ اس قضیہ کا فیصلہ کرانے میں مدد دیں) ۔ عمر ؓ نے کہا: اللہ ان پر رحم کرے! تم دونوں صبر و سکون سے بیٹھو (میں ابھی فیصلہ کئے دیتا ہوں) پھر ان موجود صحابہ کی جماعت کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے کہا: میں تم سے اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ہم انبیاء کا کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم جو کچھ چھوڑ کر مرتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے؟ ، سبھوں نے کہا: ہاں ہم جانتے ہیں۔ پھر وہ علی اور عباس ؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور ان دونوں سے کہا: میں تم دونوں سے اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے حکم سے زمین، و آسمان قائم ہیں، کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ہمارا (گروہ انبیاء کا) کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے؟ ، ان دونوں نے کہا: ہاں ہمیں معلوم ہے۔ عمر ؓ نے کہا: اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو ایک ایسی خصوصیت سے سرفراز فرمایا تھا جس سے دنیا کے کسی انسان کو بھی سرفراز نہیں کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وما أفاء الله على رسوله منهم فما أوجفتم عليه من خيل ولا رکاب ولکن الله يسلط رسله على من يشاء والله على كل شىء قدير اور ان کا جو مال اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے ہاتھ لگایا ہے جس پر نہ تو تم نے اپنے گھوڑے دوڑائے ہیں اور نہ اونٹ بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو جس پر چاہے غالب کردیتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے (سورۃ الحشر: ٦) چناچہ اللہ نے اپنے رسول کو بنو نضیر کا مال دلایا، لیکن قسم اللہ کی رسول اللہ ﷺ نے اسے تمہیں محروم کر کے صرف اپنے لیے نہیں رکھ لیا، رسول اللہ ﷺ اس مال سے صرف اپنے اور اپنے اہل و عیال کا سال بھر کا خرچہ نکال لیتے تھے، اور جو باقی بچتا وہ دوسرے مالوں کی طرح رہتا (یعنی مستحقین اور ضرورت مندوں میں خرچ ہوتا) ۔ پھر عمر ؓ صحابہ کی جماعت کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے: میں تم سے اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں، کیا تم اس بات کو جانتے ہو (یعنی یہ کہ رسول اللہ ﷺ ایسا کرتے تھے) انہوں نے کہا: ہاں ہم جانتے ہیں، پھر عمر ؓ عباس اور علی ؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے کہا: میں اس اللہ کی ذات کو گواہ بنا کر تم سے پوچھتا ہوں جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں کیا تم اس کو جانتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں ہم جانتے ہیں (یعنی ایسا ہی ہے) پھر جب رسول اللہ ﷺ انتقال فرما گئے تو ابوبکر ؓ نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کا خلیفہ ہوں، پھر تم اور یہ ابوبکر ؓ کے پاس آئے، تم اپنے بھتیجے (یعنی رسول اللہ ﷺ ) کے ترکہ میں سے اپنا حصہ مانگ رہے تھے اور یہ اپنی بیوی (فاطمہ ؓ) کی میراث مانگ رہے ہیں جو انہیں ان کے باپ کے ترکہ سے ملنے والا تھا، پھر ابوبکر (اللہ ان پر رحم کرے) نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا ہے ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے ، اور اللہ جانتا ہے کہ ابوبکر ؓ سچے نیک اور حق کی پیروی کرنے والے تھے، پھر ابوبکر ؓ اس مال پر قابض رہے، جب انہوں نے وفات پائی تو میں نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر ؓ کا خلیفہ ہوں، اور اس وقت تک والی ہوں جب تک اللہ چاہے۔ پھر تم اور یہ (علی) آئے تم دونوں ایک ہی تھے، تمہارا معاملہ بھی ایک ہی تھا تم دونوں نے اسے مجھ سے طلب کیا تو میں نے کہا تھا: اگر تم چاہتے ہو کہ میں اسے تم دونوں کو اس شرط پردے دوں کہ اللہ کا عہد کر کے کہو اس مال میں اسی طرح کام کرو گے جس طرح رسول اللہ ﷺ متولی رہتے ہوئے کرتے تھے، چناچہ اسی شرط پر وہ مال تم نے مجھ سے لے لیا۔ اب پھر تم دونوں میرے پاس آئے ہو کہ اس کے سوا دوسرے طریقہ پر میں تمہارے درمیان فیصلہ کر دوں ٣ ؎ تو قسم اللہ کی! میں قیامت تک تمہارے درمیان اس کے سوا اور کوئی فیصلہ نہ کروں گا، اگر تم دونوں ان مالوں کا (معاہدہ کے مطابق) اہتمام نہیں کرسکتے تو پھر اسے مجھے لوٹا دو (میں اپنی تولیت میں لے کر پہلے کی طرح اہتمام کروں گا) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ان دونوں حضرات نے اس بات کی درخواست کی تھی کہ یہ ان دونوں کے درمیان آدھا آدھا کردیا جائے، ایسا نہیں کہ انہیں نبی اکرم ﷺ کا فرمان:لا نورث ما ترکنا صدقة ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے معلوم نہیں تھا بلکہ وہ بھی حق ہی کا مطالبہ کر رہے تھے، اس پر عمر ؓ نے کہا: میں اس پر تقسیم کا نام نہ آنے دوں گا (کیونکہ ممکن ہے بعد والے میراث سمجھ لیں) بلکہ میں اسے پہلی ہی حالت پر باقی رہنے دوں گا۔
Narrated Malik bin Aws bin Al-Hadathan: Umar sent for me when the day rose high. I found him sitting on a couch without cover. When I entered upon him, he said: Malik, some people of you tribe gradually came here, and I have ordered to give them something, so distribute it among them. I said: If you assigned this (work) to some other person, (it would be better). He said: Take it. Then Yarfa came to him and said: Commander of the Faithful, will you permit Uthman bin Affan, Abdur-Rahman bin Awf, al-Zubair bin al-Awwam, and Saad b, Abi Waqqas (to enter) ? He said: Yes. So he permitted them and they entered. Yarfa again came to him and said: Commander of the Faithful, would you permit al-Abbas and Ali ? He said: Yes. He then permitted them and they entered. Al-Abbas said: Commander of Faithful, decide between me and this, referring to Ali. Some of them said: Yes, Commander of the Faithful, decide between them and give them comfort. Malik bin Aws said: It occurred to me that both of them brought the other people for this. Umar said: Show patience (do not make haste). He then turned towards those people and said: I adjure you by Allah by Whose order the heaven and earth stand. Do you know that Messenger of Allah ﷺ said: We are not inherited whatever we leave is sadaqah (alms). They said: Yes. He then turned towards Ali and al-Abbas and said: I adjure you by Allah by Whose order the heaven and earth stand. Do you know that Messenger of Allah ﷺ said: We are not inherited whatever we leave is sadaqah (alms). They said: Yes. He then said: Allah has appointed for the Messenger of Allah ﷺ a special portion (in the booty) which he did not do for anyone. Allah, Most High, said: What Allah has bestowed on His Messenger (and taken away) from them - for this ye made no expedition with either cavalry or camelry. But Allah gives power to His Messengers over any He pleases ; and Allah has power over all things. Allah bestowed (the property of) Banu al-Nadir on His Messenger. I swear by Allah, he did not reserve it for himself, nor did he take it over and above you. The Messenger of Allah ﷺ used to his share for his maintenance annually, or used to take his contribution and give his family their annual contribution (from this property), then take what remained and deal with it as he did with Allahs property. He then turned towards those people and said: I adjure you by Allah by Whose order the heaven and earth stand. Do you know that ? They said: Yes. He then turned towards Ali and al-Abbas and said: I adjure you by Allah by Whose order the heaven and earth stand. Do you know that ? They said: Yes. When the Messenger of Allah ﷺ died, Abu Bakr said: I am the protector of the Messenger of Allah ﷺ . Then you and this (Ali) came to Abu Bakr, demanding a share from the inheritance of your cousin, and this (Ali) demanding the share of his wife from (the property of her) father. Abu Bakr then said: The Messenger of Allah ﷺ said: We are not inherited. Whatever we leave is sadaqah. Allah knows that he (Abu Bakr) was true, faithful, rightly-guided, and the follower of Triuth. Abu Bakr then administered it (property of the Prophet). When Abu Bakr died, I said: I am the protector of the Messenger of Allah ﷺ and Abu Bakr. So I administered whatever Allah wished. Then you and this (Ali) came. Both of you are at one, and your matter is the same. So they asked me for it (property), and I said: If you wish I give it to you on condition that you are bound by the covenant of Allah, meaning that you will administer it as the Messenger of Allah ﷺ used to administer. So you took it from me on that condition. Then again you have come to me so that I decide between you other than that. I swear by Allah, I shall not decide between you other than that till the Last Hour comes. If you helpless, return it to me. Abu Dawud said: They asked him for making it half between them, and not that they were ignorant of the fact the Prophet ﷺ said: We are not inherited. Whatever we leave is sadaqah (alms). They were also seeking the truth. Umar then said: I do not apply the name of division to it ; It leave it on its former condition.
Notes · وضاحت
١ ؎: یرفأ عمر ؓ کے دربان کا نام تھا، وہ ان کا غلام تھا۔ ٢ ؎: معاملہ تھا بنو نضیر کے فِدَک اور خیبر کے اموال کی وراثت کا جوا للہ نے اپنے نبی کو عطا کیا تھا۔ ٣ ؎: یعنی اس مال کو تم دونوں میں تقسیم کر دوں اور وہ تم میں سے ہر ایک کے ملک میں ہوجائے۔
اس سند سے بھی مالک بن اوس سے یہی قصہ مروی ہے اس میں ہے: اور وہ دونوں (یعنی علی اور عباس ؓ) اس مال کے سلسلہ میں جھگڑا کر رہے تھے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو بنو نضیر کے مالوں میں سے عنایت فرمایا تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: وہ (عمر ؓ) چاہتے تھے کہ اس میں حصہ و تقسیم کا نام نہ آئے ١ ؎۔
Narrating this tradition Malik bin Aws said: They i. e Ali and al-Abbas (Allah be pleased with them), were quarrelling about what Allah bestowed on His Messenger of Allah ﷺ , that is, the property of Banu al-Nadir. Abu Dawud said: He (Umar) intended that the name of division should not apply to it.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس لئے کہ تقسیم تو ملکیت میں جاری ہوتی ہے اور وہ مال کسی کی ملکیت میں تھا نہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٠٦٣٢، ١٠٦٣٣) (صحیح )
عمر ؓ کہتے ہیں بنو نضیر کا مال اس قسم کا تھا جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو عطا کیا تھا اور مسلمانوں نے اس پر گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے تھے (یعنی جنگ لڑ کر حاصل نہیں کیا تھا) اس مال کو رسول اللہ ﷺ اپنے گھر والوں پر خرچ کرتے تھے۔ ابن عبدہ کہتے ہیں: کہ آپ ﷺ اس سے اپنے گھر والوں کا ایک سال کا خرچہ لے لیا کرتے تھے اور جو بچ رہتا تھا اسے گھوڑے اور جہاد کی تیاری میں صرف کرتے تھے، ابن عبدہ کی روایت میں: في الکراع والسلاح کے الفاظ ہیں، (یعنی مجاہدین کے لیے گھوڑے اور ہتھیار کی فراہمی میں خرچ کرتے تھے) ۔
Narrated Umar (RA) : The properties of Banu al-Nadir were part of what Allah bestowed on His Messenger from what the Muslims has not ridden on horses or camels to get; so they belonged specially to the Messenger of Allah ﷺ who gave his family their annual contribution. Ibn Abdah said: His family (ahlihi) and not the members of his houses (ahl baitihi) ; then applied what remained for horses and weapons in Allahs path.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٢٩٦٣)، (تحفة الأشراف: ١٠٦٣١) (صحیح )
ابن شہاب زہری کہتے ہیں (عمر ؓ) نے کہا اللہ نے فرمایا: وما أفاء الله على رسوله منهم فما أوجفتم عليه من خيل ولا رکاب جو مال اللہ نے اپنے رسول کو عنایت فرمایا، اور تم نے اس پر اپنے گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے (سورۃ الحشر: ٦) زہری کہتے ہیں: عمر ؓ نے کہا: اس آیت سے رسول اللہ ﷺ کے لیے عرینہ کے چند گاؤں جیسے فدک وغیرہ خاص ہوئے، اور دوسری آیتیں ما أفاء الله على رسوله من أهل القرى فلله وللرسول ولذي القربى واليتامى والمساکين وابن السبيل گاؤں والوں کا جو (مال) اللہ تعالیٰ تمہارے لڑے بھڑے بغیر اپنے رسول کے ہاتھ لگائے وہ اللہ کا ہے اور رسول کا اور قرابت والوں کا اور یتیموں، مسکینوں کا اور مسافروں کا ہے (سورۃ الحشر: ٧) ، اور للفقراء الذين أخرجوا من ديارهم وأموالهم (فئی کا مال) ان مہاجر مسکینوں کے لیے ہے جو اپنے گھروں سے اور اپنے مالوں سے نکال دئیے گئے ہیں (سورۃ الحشر: ٨) والذين تبوء وا الدار والإيمان من قبلهم اور (ان کے لیے) جنہوں نے اس گھر میں (یعنی مدینہ) اور ایمان میں ان سے پہلے جگہ بنا لی ہے (سورۃ الحشر: ٩) والذين جاء وا من بعدهم اور (ان کے لیے) جو ان کے بعد آئیں (سورۃ الحشر: ١٠) تو اس آیت نے تمام لوگوں کو سمیٹ لیا کوئی ایسا مسلمان باقی نہیں رہا جس کا مال فیٔ میں حق نہ ہو۔ ایوب کہتے ہیں: یا فيها حق کے بجائے،، فيها حظ کہا، سوائے بعض ان چیزوں کے جن کے تم مالک ہو (یعنی اپنے غلاموں اور لونڈیوں کے) ۔
Narrated Al-Zuhri (RA) : Umar said explaining the verse: What Allah has bestowed on His Messenger (and taken away) from them - for this ye made no expedition with either cavalry or camelry this belonged specially to the Messenger of Allah ﷺ : lands of Urainah, Fadak, and so-and-so. What Allah as bestowed on His Messenger (and taken away) from the people of the townships - belong to Allah - to the Messenger, and to kindred and orphans, the needy and the wayfarer, to the indigent emigrants, those who were expelled from their homes and their property, and to those who, before them, had homes (in Madina), and had adopted the faith, and to those who came after them. This verse completely covered all the people ; they remained no one from Muslims but he had his right in it, or share (according to Ayyubs version) except the slaves.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠٦٣٨) (صحیح) ( پچھلی اور اگلی روایات سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں زہری اور عمر ؓ کے درمیان انقطاع ہے )
مالک بن اوس بن حدثان کہتے ہیں کہ عمر ؓ نے جس بات سے دلیل قائم کی وہ یہ تھی کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس تین صفایا ١ ؎ (منتخب مال) تھے: بنو نضیر، خیبر، اور فدک، رہا بنو نضیر کی زمین سے ہونے والا مال، وہ رسول ﷺ کی (ہنگامی) ضروریات کے کام میں استعمال کے لیے محفوظ ہوتا تھا ٢ ؎، اور جو مال فدک سے حاصل ہوتا تھا وہ محتاج مسافروں کے استعمال کے کام میں آتا تھا، اور خیبر کے مال کے رسول اللہ ﷺ نے تین حصے کئے تھے، دو حصے عام مسلمانوں کے لیے تھے، اور ایک اپنے اہل و عیال کے خرچ کے لیے، اور جو آپ ﷺ کے اہل و عیال کے خرچہ سے بچتا اسے مہاجرین کے فقراء پہ خرچ کردیتے۔
Narrated Umar ibn al-Khattab (RA) : Malik ibn Aws al-Hadthan said: One of the arguments put forward by Umar was that he said that the Messenger of Allah ﷺ received three things exclusively to himself: Banu an-Nadir, Khaybar and Fadak. The Banu an-Nadir property was kept wholly for his emergent needs, Fadak for travellers, and Khaybar was divided by the Messenger of Allah ﷺ into three sections: two for Muslims, and one as a contribution for his family. If anything remained after making the contribution of his family, he divided it among the poor Emigrants.
Notes · وضاحت
١ ؎: صفايا: صفیہ کی جمع ہے، صفیہ اس مال کو کہتے ہیں جسے امام تقسیم سے پہلے مال غنیمت میں سے اپنے لئے چھانٹ لے، یہ صرف رسول اللہ ﷺ کے لئے خاص تھا کہ خمس کے ساتھ اور بھی جو چیزیں چاہیں لے لیں۔ ٢ ؎: جیسے مہمانوں کی ضیافت اور مجاہدین کے لئے ہتھیار و سواری کی فراہمی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠٦٣٥) (حسن الإسناد )