Sunan Abu Dawood 2964

محصول غنیمت اور امارت وخلافت سے متعلق ابتداء

2964Sunan Abu Dawood

ان مالوں کا بیان جن کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مال غنیمت میں سے اپنے لئے چن لیتے تھے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ: وَهُمَا يَعْنِي عَلِيًّا، وَالْعَبَّاسَ رضي الله عنهما يختصمان فيما أفاء الله على رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَمْوَالِ بَنِي النَّضِيرِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَرَادَ أَنْ لَا يُوقَعَ عَلَيْهِ اسْمُ قَسْمٍ.

اس سند سے بھی مالک بن اوس سے یہی قصہ مروی ہے اس میں ہے: اور وہ دونوں (یعنی علی اور عباس ؓ) اس مال کے سلسلہ میں جھگڑا کر رہے تھے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو بنو نضیر کے مالوں میں سے عنایت فرمایا تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: وہ (عمر ؓ) چاہتے تھے کہ اس میں حصہ و تقسیم کا نام نہ آئے ١ ؎۔

Narrating this tradition Malik bin Aws said: They i. e Ali and al-Abbas (Allah be pleased with them), were quarrelling about what Allah bestowed on His Messenger of Allah ﷺ , that is, the property of Banu al-Nadir. Abu Dawud said: He (Umar) intended that the name of division should not apply to it.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس لئے کہ تقسیم تو ملکیت میں جاری ہوتی ہے اور وہ مال کسی کی ملکیت میں تھا نہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٠٦٣٢، ١٠٦٣٣) (صحیح )