جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بستروں اور بچھونوں کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ایک بستر تو آدمی کو چاہیئے، ایک اس کی بیوی کو چاہیئے اور ایک مہمان کے لیے اور چوتھا بستر شیطان کے لیے ہوتا ہے ۔
Narrated Jabir bin Abdullah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ mentioned bedding and said: There should be bedding for a man, bedding for his wife, and third for a guest, but a fourth for the devil.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللباس ٨ (٢٠٨٤)، سنن النسائی/النکاح ٨٢ (٣٣٨٧)، (تحفة الأشراف: ٢٣٧٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٩٣، ٣٢٤) (صحیح )
جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے گھر میں داخل ہوا تو آپ کو ایک تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے دیکھا۔ ابن الجراح نے على يساره کا اضافہ کیا ہے یعنی آپ اپنے بائیں پہلو پر ٹیک لگائے تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسحاق بن منصور نے اسے اسرائیل سے روایت کیا ہے اس میں بھی على يساره کا لفظ ہے۔
Narrated Jabir ibn Samurah (RA) : When I came to the Prophet ﷺ in his house, I saw him sitting reclining on a pillow. The narrator Ibn al-Jarrah added: on his left side. Abu Dawud said: Ishaq bin Mansur transmitted it from Israil, also mentioning the words on his left side.
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اہل یمن کے سفر کے چند ساتھیوں کو دیکھا ان کے بچھونے چمڑوں کے تھے، تو انہوں نے کہا: جسے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ سے سب سے زیادہ مشابہت رکھنے والے رفقاء کو دیکھنا پسند ہو تو وہ انہیں دیکھ لے۔
Saeed ibn Amr al-Qurashi quoting his father said: Ibn Umar (once) saw some fellow travellers of the Yemen. They had their saddles (on camels) of leather. He said: If anyone likes to see the fellow travellers most resembling to the Companions of the Messenger of Allah ﷺ , he should see them.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٧٠٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٢٠) (صحیح الإسناد )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم نے تو شک اور گدے بنا لیے؟ میں نے عرض کیا: ہمیں گدے کہاں میسر ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: عنقریب تمہارے پاس گدے ہوں گے ۔
Narrated Jabir: The Messenger of Allah ﷺ said to me: Have you made cushions ? I said: How can we afford cushions ? He said: Soon you will have cushions.
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا تکیہ، جس پر آپ رات کو سوتے تھے، ایسے چمڑے کا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری تھی۔
Narrated Aisha (RA) : The pillow of the Messenger of Allah ﷺ on which he slept at night (according to the version on Ibn Mani) was of leather stuffed with palm fibre (according to the agreed version).
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فاطمہ ؓ کے پاس تشریف لائے اور ان کے دروازے پر ایک پردہ لٹکتے دیکھا تو آپ اندر داخل نہیں ہوئے بہت کم ایسا ہو تاکہ آپ اندر جائیں اور پہلے فاطمہ ؓ سے نہ ملیں، اتنے میں علی ؓ آگئے تو فاطمہ ؓ کو غمگین دیکھا تو پوچھا: کیا بات ہے؟ فاطمہ ؓ نے کہا: نبی اکرم ﷺ میرے پاس تشریف لائے تھے لیکن اندر نہیں آئے، علی ؓ یہ سن کر آپ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ فاطمہ ؓ پر یہ بات بڑی گراں گزری ہے کہ آپ ان کے پاس تشریف لائے اور اندر نہیں آئے، آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے دنیا سے کیا سروکار، مجھے نقش و نگار سے کیا واسطہ؟ یہ سن کر وہ واپس فاطمہ ؓ کے پاس آئے، اور آپ نے جو فرمایا تھا انہیں بتایا، اس پر فاطمہ ؓ نے کہا: جا کر رسول اللہ ﷺ سے پوچھیے کہ اس پردے کے متعلق آپ مجھے کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: اس سے کہو: اسے وہ بنی فلاں کو بھیج دے ۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Messenger of Allah ﷺ came to Fatimah and found a curtain hanging at her door, so he did not enter. Whenever he entered (the house), he would visit her first. Then Ali came and found that Fatimah was grieved. He asked: What is the matter with you? She replied: The Messenger of Allah ﷺ came to me but did not enter (the house). Ali then came to him and said: Messenger of Allah, Fatimah felt it keenly that you came to visit her but did not go in. He replied: What have I to do with this world? What have I to do with prints and figures (on the curtain)? He (Ali) then went to Fatimah and informed her of what the Messenger of Allah ﷺ had said. She said: Ask the Messenger of Allah ﷺ what he me to do about it. He (the Prophet) said: Tell her that she must send it to so-and-so.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الھبة وفضلھا ٢٧ (٢٦١٣)، (تحفة الأشراف: ٨٢٥٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢١) (صحیح )
فضیل سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ وہ ایک منقش پردہ تھا۔
The tradition mentioned above has also been transmitted through a different chain of narrators by Ibn Fudail on his fathers authority. This version has: The curtain was embellished.
علی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر، کتا، یا جنبی (ناپاک شخص) ہو ۔
Narrated Ali ibn Abu Talib: The Prophet ﷺ said: The angels do not enter a house which contains a picture, a dog, or a man who is impure by sexual defilement.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٢٢٧)، (تحفة الأشراف: ١٠٢٩١) (صحیح )
ابوطلحہ انصاری ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا: فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا مجسمہ ہو ۔ زید بن خالد نے جو اس حدیث کے راوی ہیں سعید بن یسار سے کہا: میرے ساتھ ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس چلو ہم ان سے اس بارے میں پوچھیں گے چناچہ ہم گئے اور جا کر پوچھا: ام المؤمنین! ابوطلحہ نے ہم سے حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے ایسا ایسا فرمایا ہے تو کیا آپ نے بھی نبی اکرم ﷺ کو اس کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے؟ آپ نے کہا: نہیں، لیکن میں نے جو کچھ آپ کو کرتے دیکھا ہے وہ میں تم سے بیان کرتی ہوں، رسول اللہ ﷺ کسی غزوہ میں نکلے، میں آپ کی واپسی کی منتظر تھی، میں نے ایک پردہ لیا جو میرے پاس تھا اور اسے دروازے کی پڑی لکڑی پر لٹکا دیا، پھر جب آئے تو میں نے آپ کا استقبال کیا اور کہا: سلامتی ہو آپ پر اے اللہ کے رسول! اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، شکر ہے اس اللہ کا جس نے آپ کو عزت بخشی اور اپنے فضل و کرم سے نوازا، آپ ﷺ نے گھر پر نظر ڈالی، تو آپ کی نگاہ پردے پر گئی تو آپ نے میرے سلام کا کوئی جواب نہیں دیا، میں نے آپ کے چہرہ پر ناگواری دیکھی، پھر آپ ﷺ پردے کے پاس آئے اور اسے اتار دیا اور فرمایا: اللہ نے ہمیں یہ حکم نہیں دیا ہے کہ ہم اس کی عطا کی ہوئی چیزوں میں سے پتھر اور اینٹ کو کپڑے پہنائیں پھر میں نے کاٹ کر اس کے دو تکیے بنا لیے، اور ان میں کھجور کی چھال کا بھراؤ کیا، تو آپ ﷺ نے میرے اس کام پر کوئی نکیر نہیں فرمائی۔
Narrated Abu Talhat al-Ansari (RA) : I heard the Prophet ﷺ say: The angels do not enter a house which contains a dog or a picture. Zaid bin Khalid al-Juhani said to Saeed bin Yasar al-Ansari, the transmitter of this tradition: Go with me to Aisha (RA) , Mother of Faithful, so that we ask about it. So we went and said to her: Mother of Faithful, Abu Talhah has transmitted to us a tradition so-and-so. Have you heard the Prophet ﷺ mentioning that ? She replied: No but I tell what I saw him doing. The Messenger of Allah ﷺ went on an expedition and I was waiting for his return. I got a carpet which I hung as a screen on a stick over the door. When he came I received him and said: Peace be upon you, Messenger of Allah, His mercy and His blessings. Praise to be Allah Who gave you dominance and respect. Then he looked at the house and saw the carpet; and he did not respond to me at all. I found (signs of) disapproval in his face. He then came to the carpet and tore it down. He then said: Allah has not commanded us to clothe stones and clay out of the sustenance He has given us. She said: I then cut it to pieces and made two pillows out of it and stuffed them with palm fibre, and he did not disapprove of it to me.
اس سند سے بھی سہیل سے اسی طرح مروی ہے اس میں فقلنا يا أم المؤمنين إن أبا طلحة حدثنا عن رسول الله ﷺ کے بجائے فقلت يا أمه إن هذا حدثني أن النبي ﷺ قال ہے نیز اس میں سعيد بن يسار الأنصاري کے بجائے سعيد بن يسار مولى بني النجار ہے۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Suhail through a different chain of narrators like the previous one. This version has: I said: Mother, he has told me that the Prophet ﷺ has said: He also said the words ; Saeed bin yasir client of Banu al-Najjar.
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٦٠٨٩) (صحیح الإسناد )
زید بن خالد ؓ ابوطلحہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فرشتے اس گھر میں نہیں جاتے ہیں جس میں تصویر ہو ۔ بسر جو حدیث کے راوی ہیں کہتے ہیں: پھر زید بن خالد بیمار ہوئے تو ہم ان کی عیادت کرنے کے لیے گئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ان کے دروازے پر ایک پردہ لٹک رہا ہے جس میں تصویر ہے تو میں نے ام المؤمنین میمونہ کے ربیب (پروردہ) عبیداللہ خولانی سے کہا: کیا زید نے ہمیں تصویر کی ممانعت کے سلسلہ میں اس سے پہلے حدیث نہیں سنائی تھی (پھر یہ کیا ہوا؟ ) تو عبیداللہ نے کہا: کیا آپ نے ان سے نہیں سنا تھا انہوں نے یہ بھی تو کہا تھا سوائے اس نقش و نگار کے جو کپڑے پر ہو ۔
Narrated Abu Talhah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ as saying: The angels do not enter the house which contains a picture. Busr (b. Saeed), the transmitter of this tradition, said: Zaid (b. Khalid al-Juhani) then fell it and we paid him a sick visit. There was a curtain with a picture hanging at his door. I then said to Ubaid Allah al-Khawlani, the step-son of Maimunah, wife of the Prophet ﷺ : Did Zaid not tell us about pictures on the first day ? Ubaid Allah said: Did you not hear him when he said: Except a figure on a garment.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٤١٥٣)، (تحفة الأشراف: ٣٧٧٥) (صحیح )
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فتح مکہ کے وقت جب آپ بطحاء میں تھے عمر بن خطاب ؓ کو حکم دیا کہ وہ کعبہ میں جائیں اور جتنی تصویریں ہوں سب کو مٹا ڈالیں، آپ اس وقت تک کعبہ کے اندر تشریف نہیں لے گئے جب تک سبھی تصویریں مٹا نہ دی گئیں۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ ordered Umar ibn al-Khattab who was in al-Batha at the time of the conquest (of Makkah) to visit the Kabah and obliterate all images in it. The Prophet ﷺ did not enter it until all the images were obliterated.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٣١٣٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٣٥، ٣٣٦، ٣٨٣، ٣٨٥، ٣٩٦) (حسن صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے ام المؤمنین میمونہ ؓ نے بیان کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جبرائیل (علیہ السلام) نے آج رات مجھ سے ملنے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ مجھ سے نہیں ملے پھر آپ کو خیال آیا کہ ہماری چارپائی کے نیچے کتے کا پلا ہے، چناچہ آپ ﷺ نے حکم دیا تو وہ نکالا گیا، پھر اپنے ہاتھ میں پانی لے کر آپ نے وہاں چھڑکاؤ کیا تو جبرائیل آپ سے ملے اور کہنے لگے: ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو پھر صبح ہوئی تو نبی اکرم ﷺ نے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا یہاں تک کہ آپ چھوٹے باغوں کے کتوں کو بھی مار ڈالنے کا حکم دے رہے تھے صرف آپ بڑے باغوں کے کتوں کو چھوڑ رہے تھے (کیونکہ بغیر کتوں کے ان کی دیکھ ریکھ دشوار ہوتی ہے) ۔
Narrated Ibn Abbas (RA) : Maimunah, wife of the Prophet ﷺ reported him as saying: Gabriel ﷺ promised to visit me last night, but he did not visit me. Then it occurred to him that there was a pup under his bed. So he ordered and it was turned out. He then got water in his hand and sprinkled it on its place. When Gabriel ﷺ met him, he said: We do not enter a house which contains a dog or a picture. When the morning came, the Prophet ﷺ ordered to kill dogs. He ordered to kill the dog which guarded a small orchard, and left the dog which guarded the big orchard.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللباس ٢٦ (٢١٠٥)، سنن النسائی/الصید ٩ (٢٤٨١)، ١١ (٤٢٨٨)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٦٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٣٠) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے پاس جبرائیل (علیہ السلام) نے آ کر کہا: میں کل رات آپ کے پاس آیا تھا لیکن اندر نہ آنے کی وجہ صرف وہ تصویریں رہیں جو آپ کے دروازے پر تھیں اور آپ کے گھر میں (دروازے پر) ایک منقش پردہ تھا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں، اور گھر میں کتا بھی تھا تو آپ کہہ دیں کہ گھر میں جو تصویریں ہوں ان کا سر کاٹ دیں تاکہ وہ درخت کی شکل کی ہوجائیں، اور پردے کو پھاڑ کر اس کے دو غالیچے بنالیں تاکہ وہ بچھا کر پیروں سے روندے جائیں اور حکم دیں کہ کتے کو باہر نکال دیا جائے ، تو رسول اللہ ﷺ نے ایسا ہی کیا، اسی دوران حسن یا حسین ؓ کا کتا ان کے تخت کے نیچے بیٹھا نظر آیا، آپ نے حکم دیا تو وہ بھی باہر نکال دیا گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نضد چارپائی کی شکل کی ایک چیز ہے جس پر کپڑے رکھے جاتے ہیں۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: Gabriel ﷺ came to me and said: I came to you last night and was prevented from entering simply because there were images at the door, for there was a decorated curtain with images on it in the house, and there was a dog in the house. So order the head of the image which is in the house to be cut off so that it resembles the form of a tree; order the curtain to be cut up and made into two cushions spread out on which people may tread; and order the dog to be turned out. The Messenger of Allah ﷺ then did so. The dog belonged to al-Hasan or al-Husayn and was under their couch. So he ordered it to be turned out. Abu Dawud said: Al-Nadd means a thing on which clothes are placed like a couch.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأدب ٤٤ (٢٨٠٦)، سنن النسائی/الزینة من المجتبی ٦٠ (٥٣٦٧)، (تحفة الأشراف: ١٤٣٤٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٠٥، ٣٠٨، ٤٧٨) (صحیح )
اور اس میں اتنا اضافہ ہے: آپ ﷺ نے اسے نکال دیا، اور وہ بیداء میں رہنے لگا، ہر جمعہ کو وہ کھانا مانگنے آیا کرتا تھا۔
The tradition mentioned about has also been transmitted by Aishah through a different chain of narrators. This version has: He (the Prophet) exiled him and he lived in a desert (outside Madina). He would come every Friday asking for food.