جس کپڑے میں صلیب بنی ہو اس کا کیا حکم ہے
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حِطَّانَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ لَا يَتْرُكُ فِي بَيْتِهِ شَيْئًا فِيهِ تَصْلِيبٌ إِلَّا قَضَبَهُ.
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے گھر میں کسی ایسی چیز کو جس میں صلیب کی تصویر بنی ہوتی بغیر کاٹے یا توڑے نہیں چھوڑتے تھے۔
Narrated Aisha (RA) : The Messenger of Allah ﷺ never left in his house anything containing the figure of a cross without destroying it.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٩٠ (٥٩٥٢)، (تحفة الأشراف: ١٧٤٢٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٥٢، ٢٣٧، ٢٥٢) (صحیح )