ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں میرے جی میں میرا معاملہ اس سے کمتر تھا کہ اللہ تعالیٰ میرے بارے میں ایسی گفتگو فرمائے گا کہ وہ ہمیشہ تلاوت کی جائے گی ١ ؎۔
Aishah said: I thought in my mind that my affair was far inferior to the speaking of Allah about me with a command that will be recited.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی میں اپنے آپ کو اس قابل نہیں سمجھتی تھی کہ اللہ تعالیٰ میرے بارے میں کلام کرے، اور قرآن میں اس کو نازل فرما دے جو ہمیشہ تلاوت کیا جائے، ان کا اشارہ واقعہ افک کی طرف تھا۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ حسن اور حسین ؓ کے لیے (ان الفاظ میں) اللہ تعالیٰ پناہ مانگتے تھے أعيذكما بکلمات الله التامة من کل شيطان وهامة ومن کل عين لامة میں تم دونوں کے لیے پناہ مانگتا ہوں اللہ کے پورے کلمات کے ذریعہ، ہر شیطان سے، ہر زہریلے کیڑے (سانپ بچھو وغیرہ) سے اور ہر نظر بد والی آنکھ سے پھر فرماتے: تمہارے باپ (ابراہیم) اسماعیل و اسحاق کے لیے بھی انہی کلمات کے ذریعہ پناہ مانگتے تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن مخلوق نہیں ہے۔
Ibn Abbas said: The Prophet ﷺ used to seek refuge in Allah for al-Hasan and al-husain, saying ; I seek refuge for both of you in the perfect words of Allah from every devil and every poisonous thing and from the evil eye which influences. He would then say; your father sought refuge in Allah by them for Ismail and Ishaq. Abu Dawud said; this is a proof of the fact that the Quran is not created.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ١٠ (٣٣٧١)، سنن الترمذی/الطب ١٨ (٢٠٦٠)، سنن ابن ماجہ/الطب ٣٦ (٣٥٢٥)، (تحفة الأشراف: ٥٦٢٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣٦، ٢٧٠) (صحیح )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ وحی کے لیے کلام کرتا ہے تو سبھی آسمان والے آواز سنتے ہیں جیسے کسی چکنے پتھر پر زنجیر کھینچی جا رہی ہو، پھر وہ بیہوش کر دئیے جاتے ہیں اور اسی حال میں رہتے ہیں یہاں تک کہ ان کے پاس جبرائیل آتے ہیں، جب جبرائیل ان کے پاس آتے ہیں تو ان کی غشی جاتی رہتی ہے، پھر وہ کہتے ہیں: اے جبرائیل! تمہارے رب نے کیا کہا؟ وہ کہتے ہیں: حق (فرمایا) تو وہ سب کہتے ہیں حق (فرمایا) حق (فرمایا) ۔
Abdullah (bin Masud) reported the Messenger of Allah ﷺ as saying ; when Allah, the exalted, speaks to send revelation the inhabitant of the heaven hear the clinging of a bell from the other heaven like pulling a chain on the mountain of al-safa, and then swoon. They continue to remain in this recover and say ; what did your lord say, Gabriel? He would say ; Truth, so they would say ; Truth, truth.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٩٥٨٠)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التوحید ٣١ (عقیب ٧٤٨٠ تعلیقًا) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: زمین ابن آدم (انسان) کے تمام اعضاء (جسم) کو بجز ریڑھ کی نچلی ہڈی کے کھا جاتی ہے اس لیے کہ وہ اسی سے پیدا ہوا ہے ١ ؎، اور اسی سے اسے دوبارہ جوڑ کر اٹھایا جائے گا ۔
Abu Hurairah reported the Messenger of AllSah ﷺ as saying: Every son of Adam will be devoured by the earth with the exception of the tail-bone from which he was created and from which he will be reconstituted.
Notes · وضاحت
١ ؎: تخلیق انسان کی ابتداء اسی سے ہوتی ہے، اور شاید وہ بہت چھوٹی ہوتی ہے جو لوگوں کو محسوس نہیں ہوتی، اس حدیث کے حکم سے انبیاء کرام مستثنیٰ ہیں کیونکہ إن الله حرم على الأرض أن تأكل أجساد الأنبياء ان کے بارے میں وارد ہے، اللہ نے زمین پر حرام قرار دے دیا ہے کہ وہ انبیاء (علیہم السلام) کے اجسام کو کھائے۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میری شفاعت ١ ؎ میری امت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لیے ہے ٢ ؎۔
Narrated Anas ibn Malik: The Prophet ﷺ said: My intercession will be for those of my people who have committed major sins.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ باب خوارج اور بعض معتزلہ کے رد میں ہے جو شفاعت رسول ﷺ کے منکر ہیں، اہل حدیث و اہل سنت شفاعت کے قائل ہیں۔ ٢ ؎: یعنی جن لوگوں کے کبیرہ گناہ ان کے جنت میں جانے سے مانع ہوں گے جبکہ وہ موحد تھے تو ان کے لئے میری شفاعت جنت میں جانے کا ذریعہ ہوگی، لیکن یہ شفاعت اللہ کے حکم اور اس کے اِذْن سے ہوگی جیسا کہ آیت الکرسی میں نیز اس آیت میں ہے يومئذ لا تنفع الشفاعة إلا من أذن له الرحمن ورضي له قولا (سورۃ طہ: ١٠٩) کسی مشرک کو شفاعت نصیب نہ ہوگی، اس لئے ہر آدمی کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ وہ شرک و بدعت کو سمجھے، اور اس بات کی پوری کوشش کرے کہ وہ ان سب سے دور رہے، اور دوسرے لوگوں کو بھی اس سے بچائے، تاکہ رسول اکرم ﷺ کی شفاعت کا مستحق ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٢٣١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢١٣) (صحیح )
عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کچھ لوگ جہنم سے محمد ( ﷺ ) کی سفارش پر نکالے جائیں گے، وہ جنت میں داخل ہوں گے، اور وہ جهنميين جہنمی کہہ کر پکارے جائیں گے ۔
Imran bin Husain reported the Prophet ﷺ as saying: People will come forth from Hell by Muhammad’s intercession, will enter paradise and be named Jahannamis.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الرقاق ٥١ (٦٥٦٦)، سنن الترمذی/صفة جہنم ١٠ (٢٦٠٠)، سنن ابن ماجہ/الزھد ٣٧ (٤٣١٥)، (تحفة الأشراف: ١٠٨٧١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٣٤) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب اللہ نے جنت کو پیدا کیا تو جبرائیل سے فرمایا: جاؤ اور اسے دیکھو، وہ گئے اور اسے دیکھا، پھر واپس آئے، اور کہنے لگے: اے میرے رب! تیری عزت کی قسم، اس کے متعلق جو کوئی بھی سنے گا وہ اس میں ضرور داخل ہوگا، پھر (اللہ نے) اسے مکروہات (ناپسندیدہ) (چیزوں) سے گھیر دیا، پھر فرمایا: اے جبرائیل! جاؤ اور اسے دیکھو، وہ گئے اور اسے دیکھا، پھر لوٹ کر آئے تو بولے: اے میرے رب! تیری عزت کی قسم! مجھے ڈر ہے کہ اس میں کوئی داخل نہ ہو سکے گا، جب اللہ نے جہنم کو پیدا کیا تو فرمایا: اے جبرائیل! جاؤ اور اسے دیکھو، وہ گئے اور اسے دیکھا، پھر واپس آئے اور کہنے لگے: اے میرے رب! تیری عزت کی قسم! جو اس کے متعلق سنے گا اس میں داخل نہ ہوگا، تو اللہ نے اسے مرغوب اور پسندیدہ چیزوں سے گھیر دیا، پھر فرمایا: جبرائیل! جاؤ اور اسے دیکھو، وہ گئے، جہنم کو دیکھا پھر واپس آئے اور عرض کیا: اے میرے رب! تیری عزت کی قسم! مجھے ڈر ہے کہ کوئی بھی ایسا نہیں بچے گا جو اس میں داخل نہ ہو ١ ؎۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: When Allah created Paradise, He said to Gabriel: Go and look at it. He went and looked at it, then came and said: O my Lord! By Thy might, no one who hears of it will fail to enter it. He then surrounded it with disagreeable things, and said: Go and look at it, Gabriel. He went and looked at it, then came and said: O my Lord! By Thy might, I am afraid that no one will enter it. When Allah created Hell, He said: Go and look at it, Gabriel. He went and looked at it, then came and said: O my Lord! By Thy might, no one who hears of it will enter it. He then surrounded it with desirable things and said: Go and look at it, Gabriel. He went, looked at it, then came and said: O my Lord! By Thy might and power, I am afraid that no one will remain who does not enter it.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ باب معتزلہ وغیرہ گمراہ فرقوں کے رد و ابطال میں ہے، جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ جنت و جہنم ابھی پیدا نہیں ہوئے ہیں جب کہ اہل حدیث و سنت کا یہ عقیدہ ہے کہ دونوں پیدا کی جا چکی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٠١٥)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الأیمان والنذور ٢ (٣٧٩٤)، مسند احمد (٢/٢٥٤، ٣٣٢، ٣٧٣) (حسن صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے سامنے (قیامت کے دن) ایک حوض ہوگا، جس کے دونوں کناروں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا جرباء اور اذرح ١ ؎ کے درمیان ہے ٢ ؎۔
Ibn Umar reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Before you there will be a pond the distance between whose sides is like that between Jarbah and Adhruh.
Notes · وضاحت
١ ؎: جرباء اور اذرح نام ہیں شام میں دو گاؤں کے ان کے درمیان تین دن کی مسافت کا فاصلہ ہے۔ ٢ ؎: حوض کے حدود کے بارے میں مختلف بیانات وارد ہیں، ان سے تحدید مقصود نہیں بلکہ مسافت کا طول مراد ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الفضائل ٩ (٢٢٩٩)، (تحفة الأشراف: ٧٥٣٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الرقاق ٥٣ (٦٥٧٧)، مسند احمد (٢/٢١، ٦/١٢٥) (صحیح )
زید بن ارقم ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، ہم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا تو آپ نے فرمایا: تم لوگ ان لوگوں کے ایک لاکھ حصوں میں کا ایک حصہ بھی نہیں ہو جو لوگ حشر میں حوض کوثر پر آئیں گے ۔ راوی (ابوحمزہ) کہتے ہیں: میں نے زید بن ارقم ؓ سے کہا: اس دن آپ لوگ کتنے تھے؟ کہا: سات سویا آٹھ سو۔
Narrated Zayd ibn Arqam (RA) : We were with the Messenger of Allah ﷺ . He said when we arrived at a halting place: You are not a hundred thousandth part of those who will come down to me at the pond. I (the narrator Abu Hamzah) asked: What was your number that day? He replied: Seven or eight hundred.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٣٦٦٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٦٧، ٣٦٩، ٣٧١) (صحیح )
مختار بن فلفل کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک ؓ کو کہتے سنا: (ایک بار) رسول اللہ ﷺ پر ہلکی اونگھ طاری ہوئی، پھر آپ ﷺ نے مسکراتے ہوئے سر اٹھایا، تو یا تو آپ نے لوگوں سے کہا، یا لوگوں نے آپ سے کہا: اللہ کے رسول! آپ کو ہنسی کیوں آئی؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ابھی میرے اوپر ایک سورت نازل ہوئی پھر آپ ﷺ نے پڑھا: بسم الله الرحمن الرحيم إنا أعطيناک الکوثر یہاں تک کہ سورت ختم کرلی، جب آپ ﷺ اسے پڑھ چکے تو آپ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کوثر کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: وہ جنت کی ایک نہر ہے جس کا وعدہ مجھ سے میرے رب نے کیا ہے اور اس پر بڑا خیر ہے، اس پر ایک حوض ہے جس پر قیامت کے دن میری امت (پینے) آئے گی، اس کے برتن ستاروں کی تعداد میں ہوں گے ۔
Anas bin Malik (RA) said: The Messenger of Allah ﷺ dozed for a short while and raised his smiling. He either said to them (people) or they said to him: Messenger of Allah! Why did you laugh? He said: A surah has been revealed to me just now, and then he recited: “In the name of Allah, Most Gracious. Most Merciful. To thee We have granted the fount (of abundance)” up to the end. When he recited, he asked: Do you know what al-kauthar is? They replied: Allah and his Messenger know best. He said: It is a river which my Lord, the Exalted, has promised me ( to grant) in Paradise: there is abundance of good and upon it there is a pond which my people will approach on the Day of Resurrection. There are vessels as numerous as stars (in the sky).
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں جب اللہ کے نبی اکرم ﷺ کو معراج میں جنت میں لے جایا گیا تو آپ کے سامنے ایک نہر لائی گئی، جس کے دونوں کنارے مجیّب یا کہا مجوّف (خول دار) یاقوت کے تھے، آپ ﷺ کے ساتھ جو فرشتہ تھا اس نے اپنا ہاتھ مارا اور اندر سے مشک نکالی، تو محمد ﷺ نے اپنے ساتھ والے فرشتے سے پوچھا یہ کیا ہے؟ اس نے کہا: یہی کوثر ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا ہے۔
Narrated Anas ibn Malik: When the Prophet of Allah ﷺ was lifted to the heavens (for travelling) in Paradise, or as he said, a river whose banks were of transparent or hollowed pearls was presented to him. The angel who was with him struck it with his hand and took out musk. Muhammad ﷺ then asked the angel who was with him: What is this? He replied: It is al-Kawthar which Allah has given you.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٢٣٤)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الرقاق ٥٣ (٦٥٨١)، التوحید ٣٧ (٧٥١٦) (صحیح )
عبدالسلام بن ابی حازم ابوطالوت بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابوبرزہ ؓ کو دیکھا وہ عبیداللہ بن زیاد کے ہاں گئے، پھر مجھ سے فلاں شخص نے بیان کیا جو ان کی جماعت میں شریک تھا، (مسلم نے اس کا نام ذکر کیا ہے) جب انہیں عبیداللہ نے دیکھا تو بولا: دیکھو تمہارا یہ محمدی موٹا ٹھگنا ہے، تو شیخ (ابوبرزہ) اس کے اس طعنہ اور توہین کو سمجھ گئے اور بولے: مجھے یہ گمان نہ تھا کہ میں ایسے لوگوں میں باقی رہ جاؤں گا جو محمد ﷺ کی صحبت کا مجھے طعنہ دیں گے، تو عبیداللہ نے ان سے کہا: محمد ﷺ کی صحبت تو آپ کے لیے فخر کی بات ہے، نہ کہ عیب کی، پھر کہنے لگا: میں نے آپ کو اس لیے بلایا ہے کہ میں آپ سے حوض کوثر کے بارے میں معلوم کروں، کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق کچھ ذکر فرماتے سنا ہے؟ تو ابوبرزہ ؓ نے کہا: ہاں ایک بار نہیں، دو بار نہیں، تین بار نہیں، چار بار نہیں، پانچ بار نہیں (یعنی بہت بار سنا ہے) تو جو شخص اسے جھٹلائے اللہ اسے اس حوض میں سے نہ پلائے، پھر غصے میں وہ نکل کر چلے گئے۔
Abdus Salam ibn Abu Hazim Abu Talut said: I saw Abu Barzah who came to visit Ubaydullah ibn Ziyad. Then a man named Muslim who was there in the company mentioned it to me. When Ubaydullah saw him, he said: This Muhammad of yours is a dwarf and fat. The old man (i. e. Abu Barzah) understood it. So he said: I did not think that I should remain among people who would make me feel ashamed of the company of Muhammad ﷺ . Thereupon Ubaydullah said: The company of Muhammad ﷺ is a honour for you, not a disgrace. He added: I called for you to ask about the reservoir. Did you hear the Messenger of Allah ﷺ mentioning anything about it? Abu Barzah said: Yes, not once, twice, thrice, four times or five times. If anyone believes it, may Allah not supply him with water from it. He then went away angrily.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١١٦٠٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤١٩، ٤٢١، ٤٢٤، ٤٢٦) (صحیح )
براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان سے جب قبر میں سوال ہوتا ہے اور وہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ۔ تو یہی مراد ہے اللہ کے قول يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت اللہ ایمان والوں کو پکی بات کے ساتھ مضبوط کرتا ہے (سورۃ ابراہیم: ٢٧) سے۔
Al-Bara bin Azib reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: When a Muslim is questioned in the grave he testifies that there is no god but Allah and that Muhammad is Allah’s Messenger. That is verified by Allah’s words: “Allah establishes those who believe with the word that stands firm. ”
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٨٦ (٣١٢٠)، و تفسیر سورة إبراہیم ٢ (٤٦٩٩)، صحیح مسلم/الجنة ١٧ (٢٨٧١)، سنن الترمذی/تفسیر سورة إبراہیم ١٥ (٣١٢٠)، سنن النسائی/الجنائز ١١٤ (٢٠٥٩)، سنن ابن ماجہ/الزھد ٣٢ (٤٢٦٩)، (تحفة الأشراف: ١٧٦٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٨٢، ٢٩١) (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی اکرم ﷺ بنی نجار کے کھجور کے ایک باغ میں داخل ہوئے، تو ایک آواز سنی، آپ ﷺ گھبرا اٹھے، فرمایا: یہ قبریں کس کی ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا: زمانہ جاہلیت میں مرنے والوں کی ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ جہنم کے عذاب سے اور دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگو لوگوں نے عرض کیا: ایسا کیوں؟ اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: مومن جب قبر میں رکھا جاتا ہے تو اس کے پاس ایک فرشتہ آتا ہے، اور اس سے کہتا ہے: تم کس کی عبادت کرتے تھے؟ تو اگر اللہ اسے ہدایت دیئے ہوتا ہے تو وہ کہتا ہے: میں اللہ کی عبادت کرتا تھا؟ پھر اس سے کہا جاتا ہے، تم اس شخص کے بارے میں کیا کہتے تھے؟ ١ ؎ تو وہ کہتا ہے: وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، پھر اس کے علاوہ اور کچھ نہیں پوچھا جاتا، پھر اسے ایک گھر کی طرف لے جایا جاتا ہے، جو اس کے لیے جہنم میں تھا اور اس سے کہا جاتا ہے: یہ تمہارا گھر ہے جو تمہارے لیے جہنم میں تھا، لیکن اللہ نے تمہیں اس سے بچا لیا، تم پر رحم کیا اور اس کے بدلے میں تمہیں جنت میں ایک گھر دیا، تو وہ کہتا ہے: مجھے چھوڑ دو کہ میں جا کر اپنے گھر والوں کو بشارت دے دوں، لیکن اس سے کہا جاتا ہے، ٹھہرا رہ، اور جب کافر قبر میں رکھا جاتا ہے، تو اس کے پاس ایک فرشتہ آتا ہے اور اس سے ڈانٹ کر کہتا ہے: تو کس کی عبادت کرتا تھا؟ تو وہ کہتا ہے: میں نہیں جانتا، تو اس سے کہا جاتا ہے: نہ تو نے جانا اور نہ کتاب پڑھی (یعنی قرآن) ، پھر اس سے کہا جاتا ہے: تو اس شخص کے بارے میں کیا کہتا تھا؟ تو وہ کہتا ہے: وہی کہتا تھا جو لوگ کہتے تھے، تو وہ اسے لوہے کے ایک گرز سے اس کے دونوں کانوں کے درمیان مارتا ہے، تو وہ اس طرح چلاتا ہے کہ اس کی آواز آدمی اور جن کے علاوہ ساری مخلوق سنتی ہے ۔
Anas bin Malik (RA) said: The Messenger of Allah ﷺ entered the garden of the palm trees of Banu al-Najjar. He heard a voice and was terrified. He asked: Who are the people buried in these graves? The people replied: Messenger of Allah! These are some people who died in the pre-Islamic times. He said: Seek refuge in Allah from the punishment of the fire, and the trail of Antichrist. They asked: Why is it that, Messenger of Allah? He said: When a man is placed in his grave, an angel comes to him and says to him: Whom did you worship? Allah then guides him and he says: I worshiped Allah. He is then asked: What was your opinion of this man? He replies: He is Allah’s servant and His Messenger. He will not then be asked about anything else. He will then be taken to his abode in Hell and will be told: This was your abode in Hell, but Allah protected you and had mercy on you substituted for you an abode in Paradise for it. He will say: Leave me so that I may go and give glad tidings to my family. He will be told: Dwell. When an infidel is placed in his grave, an angel comes to him, reprimands him and asks him: Whom did you worship? He replies: I do not know. He will be told: You neither knew nor did you follow (the believers). He is then asked: What was your opinion on this man? He replies: I held the opinion that the other people held. He will then give him a blow between his ears with an iron hammer and will utter a shout which will be heard by all the creatures (near him) with the exception of men and jinn.
Notes · وضاحت
١ ؎: بعض لوگوں نے في هذا الرجل سے یہ خیال کیا ہے کہ میت کو نبی اکرم ﷺ کی شبیہ دکھائی جاتی ہے، یا پردہ ہٹا دیا جاتا ہے، مگر یہ محض خیال ہے، اس کی کوئی دلیل قرآن وسنت میں وارد نہیں، مردہ نور ایمانی سے ان سوالوں کے جواب دے گا نا کہ دیکھنے اور جاننے کی بنیاد پر، ابوجہل نے آپ ﷺ کو دیکھا تھا منکر نکیر کے سوال پر وہ آپ کو نہیں پہچان سکتا، اور آج کا مومن موحد باوجود یہ کہ اس نے آپ کو دیکھا نہیں مگر جواب درست دے گا کیونکہ اس کا نور ایمان اس کو جواب سمجھائے گا، اگرچہ لفظ هذا محسوس قریب کے لئے آتا ہے مگر ذلك جو بعید کے لئے وضع کیا گیا ہے، اس کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے وبالعکس، وقد ذكره البخاري عن معمر بن المثنى عن أبي عبيدة پھر جواب میں هو کا لفظ موجود ہے جو ضمیر غائب ہے جو اس کے حقیقی معنی مراد لینے سے مانع ہے، فافهم۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٣٢٣١)، (تحفة الأشراف: ١٢١٤) (صحیح )
عبدالوہاب سے اسی جیسی سند سے اس طرح کی حدیث مروی ہے اس میں ہے: جب بندہ قبر میں رکھ دیا جاتا ہے، اور اس کے رشتہ دار واپس لوٹتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی چاپ سنتا ہے، اتنے میں اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اور اس سے کہتے ہیں پھر انہوں نے پہلی حدیث کے قریب قریب بیان کیا، اور اس میں اس طرح ہے: رہے کافر اور منافق تو وہ دونوں اس سے کہتے ہیں راوی نے منافق کا اضافہ کیا ہے اور اس میں ہے: اسے ہر وہ شخص سنتا ہے جو اس کے قریب ہوتا ہے، سوائے آدمی اور جن کے ١ ؎۔
The tradition mentioned above has also transmitted by Abd al-Wahhab through a different chain of narrators in a similar manner. This version has: When a man is placed in his grave and his friends leaves him, he hears the beat of his sandals. Then two angles come and speak to him. He then mentioned the rest of the tradition nearly similar to the previous one. It goes: As for the infidel and hypocrite they say to them. This version adds the word “hypocrite”. And he said: those who are near him will hear (his shout) with the exception of men and jinn.
Notes · وضاحت
١ ؎: مردہ واپس لوٹنے والوں کی جوتیوں کی آواز سنتا ہے کیونکہ وہ نیچے زمین میں ہے اور چلنے والے اوپر چل رہے ہوتے ہیں، ان کی بات چیت نہیں سنتا کیونکہ قبر پر آواز جانے کا کوئی ذریعہ نہیں، اس سے سماع موتیٰ پر استدلال کرنا محض غلط ہے، کیونکہ لوٹنے والوں کی بات سننے کا ذکر اس حدیث میں نہیں ہے، لہذا جوتیوں کی دھمک سننے سے بات چیت کے سننے کا اثبات غلط ہے، نیز حدیث میں اس خاص موقع پر مردوں کے سننے کی یہ بات آئی ہے، جیسے غزوہ بدر میں قریش کے مقتولین جو بدر کے کنویں میں ڈال دئیے گئے تھے، اور رسول اکرم ﷺ نے ان کو مخاطب کیا تھا یہ بھی مخصوص صورت حال تھی، اس طرح کے واقعات سے مردوں کے عمومی طور پر سننے پر استدلال صحیح نہیں ہے، دلائل کی روشنی میں صحیح بات یہی ہے کہ مردے سنتے نہیں ہیں، (ملاحظہ ہو علامہ آلوسی کی کتاب: ” کیا مردے سنتے ہیں؟ “ نیز مولانا عبداللہ بھاولپوری کا رسالہ ” سماع موتی “ )۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٣٢٣١)، (تحفة الأشراف: ١١٧٠) (صحیح )
براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ انصار کے ایک شخص کے جنازے میں نکلے، ہم قبر کے پاس پہنچے، وہ ابھی تک تیار نہ تھی، تو رسول اللہ ﷺ بیٹھ گئے اور ہم بھی آپ کے اردگرد بیٹھ گئے گویا ہمارے سروں پر چڑیاں بیٹھی ہیں، آپ ﷺ کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی، جس سے آپ زمین کرید رہے تھے، پھر آپ ﷺ نے سر اٹھایا اور فرمایا: قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ طلب کرو اسے دو بار یا تین بار فرمایا، یہاں جریر کی روایت میں اتنا اضافہ ہے: اور فرمایا: اور وہ ان کے جوتوں کی چاپ سن رہا ہوتا ہے جب وہ پیٹھ پھیر کر لوٹتے ہیں، اسی وقت اس سے پوچھا جاتا ہے، اے جی! تمہارا رب کون ہے؟ تمہارا دین کیا ہے؟ اور تمہارا نبی کون ہے؟ ہناد کی روایت کے الفاظ ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: پھر اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اسے بٹھاتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں: تمہارا رب (معبود) کون ہے؟ تو وہ کہتا ہے، میرا رب (معبود) اللہ ہے، پھر وہ دونوں اس سے پوچھتے ہیں: تمہارا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے: میرا دین اسلام ہے، پھر پوچھتے ہیں: یہ کون ہے جو تم میں بھیجا گیا تھا؟ وہ کہتا ہے: وہ اللہ کے رسول ﷺ ہیں، پھر وہ دونوں اس سے کہتے ہیں: تمہیں یہ کہاں سے معلوم ہوا؟ وہ کہتا ہے: میں نے اللہ کی کتاب پڑھی اور اس پر ایمان لایا اور اس کو سچ سمجھا جریر کی روایت میں یہاں پر یہ اضافہ ہے: اللہ تعالیٰ کے قول يثبت الله الذين آمنوا سے یہی مراد ہے (پھر دونوں کی روایتوں کے الفاظ ایک جیسے ہیں) آپ ﷺ نے فرمایا: پھر ایک پکارنے والا آسمان سے پکارتا ہے: میرے بندے نے سچ کہا لہٰذا تم اس کے لیے جنت کا بچھونا بچھا دو، اور اس کے لیے جنت کی طرف کا ایک دروازہ کھول دو، اور اسے جنت کا لباس پہنا دو آپ ﷺ فرماتے ہیں: پھر جنت کی ہوا اور اس کی خوشبو آنے لگتی ہے، اور تا حد نگاہ اس کے لیے قبر کشادہ کردی جاتی ہے ۔ اور رہا کافر تو آپ ﷺ نے اس کی موت کا ذکر کیا اور فرمایا: اس کی روح اس کے جسم میں لوٹا دی جاتی ہے، اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اسے اٹھاتے ہیں اور پوچھتے ہیں: تمہارا رب کون ہے؟ وہ کہتا ہے: ہا ہا! مجھے نہیں معلوم، وہ دونوں اس سے پوچھتے ہیں: یہ آدمی کون ہے جو تم میں بھیجا گیا تھا؟ وہ کہتا ہے: ہا ہا! مجھے نہیں معلوم، پھر وہ دونوں اس سے پوچھتے ہیں: تمہارا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے: ہا ہا! مجھے نہیں معلوم، تو پکارنے والا آسمان سے پکارتا ہے: اس نے جھوٹ کہا، اس کے لیے جہنم کا بچھونا بچھا دو اور جہنم کا لباس پہنا دو، اور اس کے لیے جہنم کی طرف دروازہ کھول دو، تو اس کی تپش اور اس کی زہریلی ہوا (لو) آنے لگتی ہے اور اس کی قبر تنگ کردی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ادھر سے ادھر ہوجاتی ہیں جریر کی روایت میں یہ اضافہ ہے: پھر اس پر ایک اندھا گونگا (فرشتہ) مقرر کردیا جاتا ہے، اس کے ساتھ لوہے کا ایک گرز ہوتا ہے اگر وہ اسے کسی پہاڑ پر بھی مارے تو وہ بھی خاک ہوجائے، چناچہ وہ اسے اس کی ایک ضرب لگاتا ہے جس کو مشرق و مغرب کے درمیان کی ساری مخلوق سوائے آدمی و جن کے سنتی ہے اور وہ مٹی ہوجاتا ہے آپ ﷺ فرماتے ہیں: پھر اس میں روح لوٹا دی جاتی ہے ۔
Narrated Al-Bara ibn Azib: We went out with the Messenger of Allah ﷺ accompanying the bier of a man of the Ansar. When we reached his grave, it was not yet dug. So the Messenger of Allah ﷺ sat down and we also sat down around him as if birds were over our heads. He had in his hand a stick with which he was scratching the ground. He then raised his head and said: Seek refuge with Allah from the punishment in the grave. He said it twice or thrice. The version of Jabir adds here: He hears the beat of their sandals when they go back, and at that moment he is asked: O so and so! Who is your Lord, what is your religion, and who is your Prophet? Hannads version says: Two angels will come to him, make him sit up and ask him: Who is your Lord? He will reply: My Lord is Allah. They will ask him: What is your religion? He will reply: My religion is Islam. They will ask him: What is your opinion about the man who was sent on a mission among you? He will reply: He is the Messenger of Allah ﷺ . They will ask: Who made you aware of this? He will reply: I read Allahs Book, believed in it, and considered it true; which is verified by Allahs words: Allahs Book, believed in it, and considered it true, which is verified by Allahs words: Allah establishes those who believe with the word that stands firm in this world and the next. The agreed version reads: Then a crier will call from Heaven: My servant has spoken the truth, so spread a bed for him from Paradise, clothe him from Paradise, and open a door for him into Paradise. So some of its air and perfume will come to him, and a space will be made for him as far as the eye can see. He also mentioned the death of the infidel, saying: His spirit will be restored to his body, two angels will come to him, make him sit up and ask him: Who is your Lord? He will reply: Alas, alas! I do not know. They will ask him: What is your religion? He will reply: Alas, alas! I do not know. They will ask: Who was the man who was sent on a mission among you? He will reply: Alas, alas! I do not know. Then a crier will call from Heaven: He has lied, so spread a bed for him from Hell, clothe him from Hell, and open for him a door into Hell. Then some of its heat and pestilential wind will come to him, and his grave will be compressed, so that his ribs will be crushed together. Jabirs version adds: One who is blind and dumb will then be placed in charge of him, having a sledge-hammer such that if a mountain were struck with it, it would become dust. He will give him a blow with it which will be heard by everything between the east and the west except by men and jinn, and he will become dust. Then his spirit will be restored to him.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم (٣٢١٢)، (تحفة الأشراف: ١٧٥٨) (صحیح) حدیث کا پہلا ٹکڑا گزر چکا ہے ملاحظہ ہو حدیث نمبر (٣٢١٢ )
ابوعمر زاذان کہتے ہیں کہ میں نے براء ؓ کو نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے سنا، پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Al-Bara (b. Azib) from the prophet ﷺ through a different chain of narrators is a similar way.