سنت کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 37 · 178 hadiths · Page 9 of 9

4755Sunan Abu Dawood

وزن اعمال کی ترازو کا بیان

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ حدثهم، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا ذَكَرَتِ النَّارَ، فَبَكَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا يُبْكِيكِ ؟، قَالَتْ: ذَكَرْتُ النَّارَ، فَبَكَيْتُ، فَهَلْ تَذْكُرُونَ أَهْلِيكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَّا فِي ثَلَاثَةِ مَوَاطِنَ، فَلَا يَذْكُرُ أَحَدٌ أَحَدًا عِنْدَ الْمِيزَانِ، حَتَّى يَعْلَمَ أَيَخِفُّ مِيزَانُهُ أَوْ يَثْقُلُ، وَعِنْدَ الْكِتَابِ حِينَ يُقَالُ: هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتَابِيَهْ حَتَّى يَعْلَمَ أَيْنَ يَقَعُ كِتَابُهُ، أَفِي يَمِينِهِ، أَمْ فِي شِمَالِهِ، أَمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِهِ ؟ وَعِنْدَ الصِّرَاطِ إِذَا وُضِعَ بَيْنَ ظَهْرَيْ جَهَنَّمَ، قَالَ يَعْقُوبُ، عَنْ يُونُسَ، وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِهِ.

حسن بصری کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ نے جہنم کا ذکر کیا تو رونے لگیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم کیوں روتی ہو؟ ، وہ بولیں: مجھے جہنم یاد آگئی تو رونے لگی، کیا آپ قیامت کے دن اپنے گھر والوں کو یاد کریں گے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین جگہوں پر تو وہاں کوئی کسی کو یاد نہیں کرے گا: ایک میزان کے پاس یہاں تک کہ یہ معلوم ہوجائے کہ اس کا میزان ہلکا ہے یا بھاری ہے، دوسرے کتاب کے وقت جب کہا جائے گا: آؤ پڑھو اپنی اپنی کتاب یہاں تک کہ یہ معلوم ہوجائے کہ اس کی کتاب کس میں دی جائے گی آیا دائیں ہاتھ میں یا بائیں ہاتھ میں، یا پھر پیٹھ کے پیچھے سے اور تیسرے پل صراط کے پاس جب وہ جہنم پر رکھا جائے گا ۔ یعقوب نے عن يونس کے الفاظ سے روایت کی اور یہ حدیث اسی کے الفاظ میں ہے۔

Aishah said that she thought of Hell and wept. The Messenger of Allah ﷺ asked her: What makes you weep ? She replied: I thought of Hell and wept. Will you remember your family on the 4th Day of resurrection ? the Messenger of Allah ﷺ said: There are three places where no one will remember anyone: at the scale until one knows whether his weight is light or heavy; at (the examination of) the book when one is commanded: Take and read Allah’s record, until he knows whether his book will be put into his right hand, or into his left hand, or behind his back ; and the path when it is placed across JAHANNAM.

Takhrij · تخریج
تفردبہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٦٠٥٨)، وقد أخرجہ: حم (٦/١٠١) (ضعیف) (اس کے راوی حسن بصری مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کئے ہیں )
4756Sunan Abu Dawood

دجال کا ذکر

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، أخبرنا حَمَّادٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ، عَنْأَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ بَعْدَ نُوحٍ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَ الدَّجَّالَ قَوْمَهُ، وَإِنِّي أُنْذِرُكُمُوهُ، فَوَصَفَهُ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: لَعَلَّهُ سَيُدْرِكُهُ مَنْ قَدْ رَآنِي وَسَمِعَ كَلَامِي، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ قُلُوبُنَا يَوْمَئِذٍ أَمِثْلُهَا الْيَوْمَ ؟ قَالَ: أَوْ خَيْرٌ.

ابوعبیدہ بن جراح ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: نوح کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں ہوا جس نے اپنی قوم کو دجال سے نہ ڈرایا ہو اور میں بھی تمہیں اس سے ڈراتا ہوں پھر رسول اللہ ﷺ نے ہمارے سامنے اس کی صفت بیان کی اور فرمایا: شاید اسے وہ شخص پائے جس نے مجھے دیکھا اور میری بات سنی لوگوں نے عرض کیا: اس دن ہمارے دل کیسے ہوں گے؟ کیا اسی طرح جیسے آج ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس سے بھی بہتر (کیونکہ فتنہ و فساد کے باوجود ایمان پر قائم رہنا زیادہ مشکل ہے) ۔

Narrated Abu Ubaydah ibn al-Jarrah: I heard the Prophet ﷺ say: There has been no Prophet after Noah who has not warned his people about the antichrist (Dajjal), and I warn you of him. The Messenger of Allah ﷺ described him to us, saying: Perhaps some who have seen me and heard my words will live till his time. The people asked: Messenger of Allah! what will be the condition of our hearts on that day? Like what we are today? He replied: Or better.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الفتن ٥٥ (٢٢٣٤)، (تحفة الأشراف: ٥٠٤٦) (ضعیف) (اس کے راوی عبداللہ بن سراقہ ازدی کا سماع ابوعبیدہ بن جراح سے نہیں ہے )
4757Sunan Abu Dawood

دجال کا ذکر

حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، فَذَكَرَ الدَّجَّالَ، فَقَالَ: إِنِّي لَأُنْذِرُكُمُوهُ، وَمَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا قَدْ أَنْذَرَهُ قَوْمَهُ، لَقَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ قَوْمَهُ، وَلَكِنِّي سَأَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلًا لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ: تَعْلَمُونَ أَنَّهُ أَعْوَرُ، وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ لوگوں میں کھڑے ہوئے، اللہ کی لائق شان حمد و ثنا بیان فرمائی، پھر دجال کا ذکر کیا اور فرمایا: میں تمہیں اس سے ڈراتا ہوں، کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی قوم کو اس سے ڈرایا نہ ہو، نوح (علیہ السلام) نے بھی اپنی قوم کو اس سے ڈرایا تھا، لیکن میں تمہیں اس کے بارے میں ایسی بات بتارہا ہوں جو کسی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتائی: وہ کانا ہوگا اور اللہ کانا نہیں ہے ۔

Ibn Umar reported: The Messenger of Allah ﷺ stood among the people and praised Allah in a way which is worthy of him, and mentioned the Antichrist (Dajjal), saying: I warn you of him, and there has been no prophet who has not warned his people about him, and Noah also warned his people about him. But I tell you about him a word which no Prophet had told his people: you should know that he will be blind in one eye, and Allah is not blind is one eye.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الفتن ٢٦ (٧١٢٧)، صحیح مسلم/الفتن ١٩ (٢٩٣١)، سنن الترمذی/الفتن ٥٦ (٢٢٣٦)، (تحفة الأشراف: ٦٩٣٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٣٥، ١٤٩) (صحیح )
4758Sunan Abu Dawood

خوارج کے قتل کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، أخبرنا زُهَيْرٌ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، وَمَنْدَلٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِي جَهْمٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ وَهْبَانَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا، فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ.

ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے جماعت ٢ ؎ سے ایک بالشت بھی علیحدگی اختیار کی تو اس نے اسلام کا قلادہ اپنی گردن سے اتار پھینکا ۔

Narrated Abu Dharr (RA) : The Prophet ﷺ said: He who separates from the community within a span takes off the noose of Islam from his neck.

Notes · وضاحت
١ ؎: خوارج جمع ہے خارجی کی، یہ ایک گمراہ فرقہ ہے، یہ لوگ علی ؓ کے ساتھ تھے پھر ان کے لشکر سے نکل کر فاسد عقیدے اختیار کئے اور آپ کے خلاف قتال کیا، ان کا عقیدہ ہے: کبیرہ گناہ کا مرتکب کافر ہے، یہ لوگ علی، عثمان، معاویہ اور عائشہ ؓ وغیرہم کی تکفیر کرتے ہیں، علی اور معاویہ نے ان لوگوں سے قتال کیا اور ان کے فتنہ کا سد باب کیا۔ ٢ ؎: امام جماعت سے یا مسلمانوں کے اجتماعی معاملہ سے علیحدگی اختیار کی وہ گمراہی و ہلاکت کا شکار ہوا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ، أبوداود، (تحفة الأشراف: ١١٩٠٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٨٠) (صحیح )
4759Sunan Abu Dawood

خوارج کے قتل کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، أخبرنا مُطَرِّفُ بْنُ طَرِيفٍ، عَنْ أَبِي الْجَهْمِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ وَهْبَانَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ أَنْتُمْ وَأَئِمَّةٌ مِنْ بَعْدِي يَسْتَأْثِرُونَ بِهَذَا الْفَيْءِ ؟، قُلْتُ: إِذَنْ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ أَضَعُ سَيْفِي عَلَى عَاتِقِي، ثُمَّ أَضْرِبُ بِهِ، حَتَّى أَلْقَاكَ، أَوْ أَلْحَقَكَ، قَالَ: أَوَلَا أَدُلُّكَ عَلَى خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ، تَصْبِرُ حَتَّى تَلْقَانِي.

ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارا کیا حال ہوگا ١ ؎ جب میرے بعد حکمراں اس مال فے کو اپنے لیے مخصوص کرلیں گے میں نے عرض کیا: تب تو اس ذات کی قسم، جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں اپنی تلوار اپنے کندھے پر رکھوں گا، پھر اس سے ان کے ساتھ لڑوں گا یہاں تک کہ میں آپ سے ملاقات کروں یا آ ملوں، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتاؤں؟ تم صبر کرنا یہاں تک کہ تم مجھ سے آ ملو ۔

Abu Dharr reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: How will you deal with the rulers (imams) who appropriate to themselves this booty? I said: I swear by him who sent you with the truth that at that time I shall put my sword on my shoulder and smite with it till I meet you, or I join you. He said: shall I not guide you to something better than that? You must show endurance till you meet me.

Notes · وضاحت
١ ؎: تم کیا کرو گے؟ صبر کرو گے یا قتال۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١١٩٠٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٧٩، ١٨٠) (ضعیف) (اس کے راوی خالد بن وھبان مجہول ہیں )
4760Sunan Abu Dawood

خوارج کے قتل کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، الْمَعْنَى، قَالَا: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ الْمُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ، وَهِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْالْحَسَنِ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَتَكُونُ عَلَيْكُمْ أَئِمَّةٌ، تَعْرِفُونَ مِنْهُمْ وَتُنْكِرُونَ، فَمَنْ أَنْكَرَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ هِشَامٌ بِلِسَانِهِ فَقَدْ بَرِئَ، وَمَنْ كَرِهَ بِقَلْبِهِ، فَقَدْ سَلِمَ، وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا نَقْتُلُهُمْ ؟، قَالَ ابْنُ دَاوُدَ: أَفَلَا نُقَاتِلُهُمْ ؟، قَالَ: لَا، مَا صَلَّوْا.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عنقریب تم پر ایسے حاکم ہوں گے جن سے تم معروف (نیک اعمال) ہوتے بھی دیکھو گے اور منکر (خلاف شرع امور) بھی دیکھو گے، تو جس نے منکر کا انکار کیا، (ابوداؤد کہتے ہیں: ہشام کی روایت میں بلسانہ کا لفظ بھی ہے (جس نے منکر کا) اپنی زبان سے انکار کیا) تو وہ بری ہوگیا اور جس نے دل سے برا جانا وہ بھی بچ گیا، البتہ جس نے اس کام کو پسند کیا اور اس کی پیروی کی تو وہ بچ نہ سکے گا عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا ہم انہیں قتل نہ کردیں؟ (سلیمان ابن داود طیالسی) کی روایت میں ہے: کیا ہم ان سے قتال نہ کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں جب تک کہ وہ نماز پڑھتے رہیں ١ ؎۔

Umm Salamah, wife of the Prophet ﷺ is reported to have said: The Messenger of Allah ﷺ said: You will have commanders some of whom you will approve and some of whom you will disapprove. He who expresses disapproval with his tongue (Abu Dawud said: This is Hisham’s version) is guiltless; and he who feels disapproval in his heart, is safe, but he who is pleased and follows them. He was asked; shall we not kill them, Messenger of Allah? Abu Dawud’s version has: Shall we not fight with them? He replied: No, so long as they pray.

Notes · وضاحت
١ ؎: منکر اور خلاف شرع کام کا انکار کرنا زبان سے نفاق سے براءت دلاتا ہے، اور جو شخص دل سے برا جانتا اور اس میں شریک نہیں ہوتا وہ گناہ سے بچ جاتا ہے، لیکن جو پسند کرے اور اس میں شریک ہو تو وہ انہی جیسا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ١٦ (١٨٥٤)، سنن الترمذی/الفتن ٧٨ (٢٢٦٥)، (تحفة الأشراف: ١٨١٦٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٩٥، ٣٠٢، ٣٠٥، ٣٢١) (صحیح )
4761Sunan Abu Dawood

خوارج کے قتل کا بیان

حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، أخبرنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، أخبرنا الْحَسَنُ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ الْعَنَزِيِّ، عَنْأُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَاهُ، قَالَ: فَمَنْ كَرِهَ، فَقَدْ بَرِئَ، وَمَنْ أَنْكَرَ، فَقَدْ سَلِمَقَالَ قَتَادَةُ: يَعْنِي مَنْ أَنْكَرَ بِقَلْبِهِ، وَمَنْ كَرِهَ بِقَلْبِهِ.

اس سند سے بھی ام سلمہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے، البتہ اس میں یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: جس نے ناپسند کیا تو وہ بری ہوگیا اور جس نے کھل کر انکار کردیا تو وہ محفوظ ہوگیا قتادہ کہتے ہیں: مطلب یہ ہے کہ جس نے دل سے اس کا انکار کیا اور جس نے دل سے اسے ناپسند کیا۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Umm Salamah through a different chain of narrators to the same effect. This version has: He who disapproves is guiltless, and he who disapproves is safe. Qatadah said: it means one who feels its disapproval in his heart, and one who expresses disapproval in his heart.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٨١٦٦) (صحیح )
4762Sunan Abu Dawood

خوارج کے قتل کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أخبرنا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ عَرْفَجَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: سَتَكُونُ فِي أُمَّتِي هَنَاتٌ وَهَنَاتٌ وَهَنَاتٌ، فَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُفَرِّقَ أَمْرَ الْمُسْلِمِينَ وَهُمْ جَمِيعٌ، فَاضْرِبُوهُ بِالسَّيْفِ كَائِنًا مَنْ كَانَ.

عرفجہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: میری امت میں کئی بار شر و فساد ہوں گے، تو متحد مسلمانوں کے شرازہ کو منتشر کرنے والے کی گردن تلوار سے اڑا دو خواہ وہ کوئی بھی ہو ۔

‘Arfajah told that he heard the Messenger of Allah ﷺ as saying: various corruptions will arise in my community, so strike with sword the one who tries to cause separation in the matter of Muslims when they are united, whoever he be.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ١٤ (١٨٥٢)، سنن النسائی/المحاربة ٦ (٤٠٢٥)، (تحفة الأشراف: ٩٨٩٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٤) (صحیح )
4763Sunan Abu Dawood

خوارج کے قتل کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الْمَعْنَى، قَالَا: أخبرنا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبِيدَةَ، أَنَّ عَلِيًّاذَكَرَ أَهْلَ النَّهْرَوَانِ، فَقَالَ: فِيهِمْ رَجُلٌ مُودَنُ الْيَدِ، أَوْ مُخْدَجُ الْيَدِ، أَوْ مَثْدُونُ الْيَدِ، لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا، لَنَبَّأْتُكُمْ مَا وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ يَقْتُلُونَهُمْ، عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْهُ ؟ قَالَ: إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ.

عبیدہ سے روایت ہے کہ علی ؓ نے اہل نہروان ١ ؎ کا ذکر کیا اور کہا: ان میں چھوٹے ہاتھ کا ایک آدمی ہے، اگر مجھے تمہارے اترانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں تمہیں بتاتا کہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کی زبان سے کس چیز کا وعدہ کیا ہے ان لوگوں کے لیے جو ان سے جنگ کریں گے، راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: کیا آپ نے اسے اللہ کے رسول ﷺ سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں رب کعبہ کی قسم۔

Ubaidah (al-salman) said: Ali mentioned about the people of al Nahrawan, saying: Among them there will be a man with a defective hand or with a small hand. if you were not to overjoy. I would inform you of what Allah has promised (the reward for) those who will kill them at the tongue of Muhammad ﷺ . I asked: Have you heard this from him? He replied: Yes, by the lord of the Kaabah.

Notes · وضاحت
١ ؎: بغداد اور واسط کے درمیان تین گاؤں ہیں جن میں ایک اونچائی پر ہے دوسرا درمیان میں اور تیسرا نشیب میں، اسی جگہ امیر المومنین علی ؓ نے خوارج کے ساتھ جنگ کی۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الزکاة ٤٨ (١٠٦٦)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٢ (١٦٧)، (تحفة الأشراف: ١٠٢٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٨٣، ٩٥، ١٤٤، ١٥٥، ١١٣، ١٢١، ١٢٢) (صحیح )
4764Sunan Abu Dawood

خوارج کے قتل کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: بَعَثَ عَلِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذُهَيْبَةٍ فِي تُرْبَتِهَا، فَقَسَّمَهَا بَيْنَ أَرْبَعَةٍ: بَيْنَ الْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ الْحَنْظَلِيِّ، ثُمَّ الْمُجَاشِعِيِّ، وَبَيْنَ عُيَيْنَةَ بْنِ بَدْرٍ الْفَزَارِيِّ، وَبَيْنَ زَيْدِ الْخَيْلِ الطَّائِيِّ، ثُمَّ أَحَدِ بَنِي نَبْهَانَ، وَبَيْنَ عَلْقَمَةَ بْنِ عُلَاثَةَ الْعَامِرِيِّ، ثُمَّ أَحَدِ بَنِي كِلَابٍ، قَالَ: فَغَضِبَتْ قُرَيْشٌ، وَالْأَنْصَارُ، وَقَالَتْ: يُعْطِي صَنَادِيدَ أَهْلِ نَجْدٍ وَيَدَعُنَا، فَقَالَ: إِنَّمَا أَتَأَلَّفُهُمْ، قَالَ: فَأَقْبَلَ رَجُلٌ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ، مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ، نَاتِئُ الْجَبِينِ، كَثُّ اللِّحْيَةِ، مَحْلُوقٌ، قَالَ: اتَّقِ اللَّهَ يَا مُحَمَّدُ، فَقَالَ: مَنْ يُطِيعُ اللَّهَ إِذَا عَصَيْتُهُ، أَيَأْمَنُنِي اللَّهُ عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ وَلَا تَأْمَنُونِي ؟ قَالَ: فَسَأَلَ رَجُلٌ قَتْلَهُ، أَحْسِبُهُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ، قَالَ: فَمَنَعَهُ، قَالَ: فَلَمَّا وَلَّى، قَالَ: إِنَّ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا، أَوْ فِي عَقِبِ هَذَا قَوْمًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ، يَقْتُلُونَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ، وَيَدَعُونَ أَهْلَ الْأَوْثَانِ، لَئِنْ أَنَا أَدْرَكْتُهُمْ قَتَلْتُهُمْ قَتْلَ عَادٍ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں علی ؓ نے نبی اکرم ﷺ کے پاس مٹی سے آلودہ سونے کا ایک ٹکڑا بھیجا ١ ؎، آپ ﷺ نے اسے چار لوگوں: اقرع بن حابس حنظلی مجاشعی، عیینہ بن بدر فزاری، زید الخیل طائی جو بنی نبہان کے ایک فرد ہیں اور علقمہ بن علاثہ عامری جو بنی کلاب سے ہیں کے درمیان تقسیم کردیا، اس پر قریش اور انصار کے لوگ ناراض ہوگئے اور کہنے لگے: آپ اہل نجد کے رئیسوں کو دیتے ہیں اور ہمیں چھوڑ دیتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: میں ان کی تالیف قلب کرتا ہوں اتنے میں ایک شخص آیا (جس کی آنکھیں دھنسی ہوئی، رخسار ابھرے ہوئے اور پیشانی بلند، داڑھی گھنی اور سر منڈا ہوا تھا) اور کہنے لگا: اے محمد! اللہ سے ڈرو، آپ ﷺ نے فرمایا: جب میں ہی اس کی نافرمانی کرنے لگوں گا تو کون اس کی فرمانبرداری کرے گا، اللہ تو زمین والوں میں مجھے امانت دار سمجھتا ہے اور تم مجھے امانت دار نہیں سمجھتے؟ تو ایک شخص نے اس کے قتل کی اجازت چاہی، میرا خیال ہے وہ خالد بن ولید ؓ تھے، تو آپ ﷺ نے منع فرمایا، اور جب وہ لوٹ گیا تو آپ نے فرمایا: اس کی نسل میں کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے، وہ ان کے گلوں سے نیچے نہیں اترے گا، وہ اسلام سے اسی طرح نکل جائیں گے جیسے تیر اس شکار کے جسم سے نکل جاتا ہے جسے تیر مارا جاتا ہے، وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے اور بت پوجنے والوں کو چھوڑ دیں گے، اگر میں نے انہیں پایا تو میں انہیں قوم عاد کی طرح قتل کروں گا ٢ ؎۔

Abu Saeed Al-khudri said: Ali sent some gold-mixed dust to the prophet ﷺ . He divided it among the four: al-Aqra bin Habis al-Hanzall and then al-Mujashi, uyainah bin Badr al-fazari, zaid al-khail al-Ta’l, next to one of Banu nabhan, and Alqamah bin ‘Ulathat al-Amiri (in general), next to one of Banu kulaib. The Quraish and the ansar became angry and said: He is giving to the chiefs of the people of Najd and leaving us. He said: I am giving them for reconciliation of their hearts. Then a man with deep-seated eyes, high cheek-bones, a projecting brow, a thick beard and a shaven head came forward and said: For Allah, Muhammad! He said: Who will obey Allah if I disobey Him? Allah entrusts me with power over the inhabitants of the earth, but you do not. A man asked to be allowed to kill him and I think he was Khalid bin al-Walid but he prevented him. Then when the man turned away, he said: From this one’s stock there will be people who recite the Quran, but it will not pass down their throats. They will sever from Islam and leave the worshippers of Idols alone; but if I live up to their time I shall certainly kill them as Ad were killed.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جس طرح زمین سے نکلا ویسے ہی مٹی سمیت بھیج دیا۔ ٢ ؎: یہ حدیث خوارج کے سلسلہ میں ہے، اعتراض کرنے والا خارجیوں کا سردار ہوا، ایک بات اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوئی کہ نبی کریم ﷺ نے جن لوگوں کو مال دیا تھا وہ نجدی تھے، اور یہ شخص نجدی نہیں تھا، اسی نے یا محمد کہا جو آج اہل بدعت نے اپنا شعار بنا رکھا ہے، ان لوگوں کو علی ؓ نے مقام نہروان میں قتل کیا، آپ ﷺ کے فرمان کہ میں قوم عاد کی طرح قتل کروں گا کا مطلب یہ ہے کہ ان کو نیست ون ابود کر دوں گا، جیسے قوم عاد نیست و نابود ہوگئی، قوم عاد سے مشابہت صرف کلی ہلاکت میں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأنبیاء ٦ (٤٦٦٧)، المغازي ٦١ (٤٣٥١)، تفسیرالتوبة ١٠ (٣٣٤٤)، التوحید ٢٣ (٧٤٣٢)، صحیح مسلم/الزکاة ٤٧ (١٠٦٣)، سنن النسائی/الزکاة ٧٩ (٢٥٧٩)، التحریم ٢٢ (٤١٠٦)، (تحفة الأشراف: ٤١٣٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤، ٣١، ٦٨، ٧٢، ٧٣) (صحیح )
4765Sunan Abu Dawood

خوارج کے قتل کا بیان

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ الْأَنْطَاكِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، وَمُبَشِّرٌ يَعْنِيَ ابْنَ إِسْمَاعِيلَ الْحَلَبِيَّ بِإِسْنَادِهِ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو، قَالَ يَعْنِي الْوَلِيدَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنِي قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي اخْتِلَافٌ وَفُرْقَةٌ، قَوْمٌ يُحْسِنُونَ الْقِيلَ وَيُسِيئُونَ الْفِعْلَ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ، لَا يَرْجِعُونَ حَتَّى يَرْتَدَّ عَلَى فُوقِهِ، هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ، طُوبَى لِمَنْ قَتَلَهُمْ وَقَتَلُوهُ، يَدْعُونَ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ وَلَيْسُوا مِنْهُ فِي شَيْءٍ، مَنْ قَاتَلَهُمْ كَانَ أَوْلَى بِاللَّهِ مِنْهُمْ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا سِيمَاهُمْ ؟ قَالَ: التَّحْلِيقُ.

ابو سعید خدری اور انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت میں اختلاف اور تفرقہ ہوگا، کچھ ایسے لوگ ہوں گے، جو باتیں اچھی کریں گے لیکن کام برے کریں گے، وہ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گا، وہ دین سے اسی طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے، وہ (اپنی روش سے) باز نہیں آئیں گے جب تک تیر سوفار (اپنی ابتدائی جگہ) پر الٹا نہ آجائے، وہ سب لوگوں اور مخلوقات میں بدترین لوگ ہیں، بشارت ہے اس کے لیے جو انہیں قتل کرے یا جسے وہ قتل کریں، وہ کتاب اللہ کی طرف بلائیں گے، حالانکہ وہ اس کی کسی چیز سے کچھ بھی تعلق نہیں رکھتے ہوں گے، جو ان سے قتال کرے گا، وہ لوگوں میں سب سے زیادہ اللہ سے قریب ہوگا لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان کی نشانی کیا ہوگی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: سر منڈانا ۔

Narrated Abu Saeed al-Khudri ; Anas ibn Malik: The Prophet ﷺ said: Soon there will appear disagreement and dissension in my people; there will be people who will be good in speech and bad in work. They recite the Quran, but it does not pass their collar-bones. They will swerve from the religion as an animal goes through the animal shot at. They will not return to it till the arrow comes back to its notch. They are worst of the people and animals. Happy is the one who kills them and they kill him. They call to the book of Allah, but they have nothing to do with it. He who fights against them will be nearer to Allah than them (the rest of the people). The people asked: What is their sign? He replied: They shave the head.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظر ما قبلہ ومابعدہ، (تحفة الأشراف: ١٣١٢) (صحیح) (قتادة کا ابوسعید خدری سے سماع نہیں ہے، ہاں، انس سے ثابت ہے )
4766Sunan Abu Dawood

خوارج کے قتل کا بیان

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ، قَالَ: سِيمَاهُمُ التَّحْلِيقُ وَالتَّسْبِيدُ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَأَنِيمُوهُمْ، قال أَبُو دَاوُد: التَّسْبِيدُ اسْتِئْصَالُ الشَّعْرِ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اسی طرح فرمایا، البتہ اس میں یہ ہے کہ آپ نے فرمایا: ان کی علامت سر منڈانا اور بالوں کو جڑ سے ختم کرنا ہے، لہٰذا جب تم انہیں دیکھو تو انہیں قتل کر دو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: تسبید: بال کو جڑ سے ختم کرنے کو کہتے ہیں۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Anas through a different chain of narrators in a similar manner. This version adds; Their sign is shaving the head and eliminating the hair. If you see them, kill them. Abu Dawud said: Tasmid means uprooting the hair.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٢ (١٧٥)، (تحفة الأشراف: ١٣٣٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٩٧) (صحیح )
4767Sunan Abu Dawood

خوارج کے قتل کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنه: إِذَا حَدَّثْتُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا، فَلَأَنْ أَخِرَّ مِنَ السَّمَاءِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَكْذِبَ عَلَيْهِ، وَإِذَا حَدَّثْتُكُمْ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ، فَإِنَّمَا الْحَرْبُ خَدْعَةٌ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: يَأْتِي فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ حُدَثَاءُ الْأَسْنَانِ، سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ، يَقُولُونَ مِنْ قَوْلِ خَيْرِ الْبَرِيَّةِ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، لَا يُجَاوِزُ إِيمَانُهُمْ حَنَاجِرَهُمْ، فَأَيْنَمَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ، فَإِنَّ قَتْلَهُمْ أَجْرٌ لِمَنْ قَتَلَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

سوید بن غفلہ کہتے ہیں کہ علی ؓ نے کہا: جب میں رسول اللہ ﷺ کی کوئی حدیث تم سے بیان کروں تو آسمان سے میرا گر جانا مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میں آپ پر جھوٹ بولوں، اور جب میں تم سے اس کے متعلق کوئی بات کروں جو ہمارے اور تمہارے درمیان ہے تو جنگ چالاکی و فریب دہی ہوتی ہی ہے، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: آخری زمانے میں کچھ ایسے لوگ آئیں گے جو کم عمر اور کم عقل ہوں گے، جو تمام مخلوقات میں بہتر شخص کی طرح باتیں کریں گے، وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے، ان کا ایمان ان کی گردنوں سے نیچے نہ اترے گا، لہٰذا جہاں کہیں تم ان سے ملو تم انہیں قتل کر دو، اس لیے کہ ان کا قتل کرنا، قیامت کے روز اس شخص کے لیے اجر و ثواب کا باعث ہوگا جو انہیں قتل کرے گا ۔

Ali said: When I mention a tradition to you from the Messenger of Allah ﷺ , it is dearer to me that I fall from the heaven than I lie on him. But when I talk to you about matters between me and you, then war is a deception. I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Towards the end of the time there will be people who are young in age and from Islam as an arrow goes through the animal aimed at, and their faith will not pass their throats. Wherever you meet them kill them, for their killing will bring a reward for him who kills them on the day of Resurrection.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المناقب ٢٥ (٣٦١١)، و فضائل القرآن ٣٦ (٥٠٥٧)، والمرتدین ٦ (٦٩٣٠)، صحیح مسلم/الزکاة ٤٨ (١٠٦٦)، سنن النسائی/المحاربة ٢٢ (٤١٠٧)، (تحفة الأشراف: ١٠١٢١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٨١، ١١٣، ١٣١) (صحیح )
4768Sunan Abu Dawood

خوارج کے قتل کا بیان

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِيزَيْدُ بْنُ وَهْبٍ الْجُهَنِيُّ، أَنَّهُ كَانَ فِي الْجَيْشِ الَّذِينَ كَانُوا مَعَ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَام الَّذِينَ سَارُوا إِلَى الْخَوَارِجِ، فَقَالَ عَلِيٌّ: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: يَخْرُج قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِي يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، لَيْسَتْ قِرَاءَتُكُمْ إِلَى قِرَاءَتِهِمْ شَيْئًا، وَلَا صَلَاتُكُمْ إِلَى صَلَاتِهِمْ شَيْئًا، وَلَا صِيَامُكُمْ إِلَى صِيَامِهِمْ شَيْئًا، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ يَحْسِبُونَ أَنَّهُ لَهُمْ، وَهُوَ عَلَيْهِمْ، لَا تُجَاوِزُ صَلَاتُهُمْ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، لَوْ يَعْلَمُ الْجَيْشُ الَّذِينَ يُصِيبُونَهُمْ مَا قُضِيَ لَهُمْ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنَكَلُوا عَنِ الْعَمَلِ، وَآيَةُ ذَلِكَ أَنَّ فِيهِمْ رَجُلًا لَهُ عَضُدٌ، وَلَيْسَتْ لَهُ ذِرَاعٌ عَلَى عَضُدِهِ، مِثْلُ حَلَمَتي الثَّدْيِ عَلَيْهِ شَعَرَاتٌ بِيضٌ، أَفَتَذْهَبُونَ إِلَى مُعَاوِيَةَ وَأَهْلِ الشَّامِ، وَتَتْرُكُونَ هَؤُلَاءِ يَخْلُفُونَكُمْ فِي ذَرَارِيِّكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ ؟ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَكُونُوا هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ، فَإِنَّهُمْ قَدْ سَفَكُوا الدَّمَ الْحَرَامَ، وَأَغَارُوا فِي سَرْحِ النَّاسِ، فَسِيرُوا عَلَى اسْمِ اللَّهِ، قَالَ سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ: فَنَزَّلَنِي زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ مَنْزِلًا مَنْزِلًا، حَتَّى مَرَّ بِنَا عَلَى قَنْطَرَةٍ، قَالَ: فَلَمَّا الْتَقَيْنَا وَعَلَى الْخَوَارِجِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ الرَّاسِبِيُّ، فَقَالَ لَهُمْ: أَلْقُوا الرِّمَاحَ وَسُلُّوا السُّيُوفَ مِنْ جُفُونِهَا، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يُنَاشِدُوكُمْ كَمَا نَاشَدُوكُمْ يَوْمَ حَرُورَاءَ، قَالَ: فَوَحَّشُوا بِرِمَاحِهِمْ وَاسْتَلُّوا السُّيُوفَ وَشَجَرَهُمُ النَّاسُ بِرِمَاحِهِمْ، قَالَ: وَقَتَلُوا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضِهِمْ، قَالَ: وَمَا أُصِيبَ مِنَ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ إِلَّا رَجُلَانِ، فَقَالَ عَلِيٌّ: الْتَمِسُوا فِيهِمُ الْمُخْدَجَ، فَلَمْ يَجِدُوا، قَالَ: فَقَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِنَفْسِهِ، حَتَّى أَتَى نَاسًا قَدْ قُتِلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، فَقَالَ: أَخْرِجُوهُمْ، فَوَجَدُوهُ مِمَّا يَلِي الْأَرْضَ فَكَبَّرَ، وَقَالَ: صَدَقَ اللَّهُ وَبَلَّغَ رَسُولُهُ، فَقَامَ إِلَيْهِ عَبِيدَةُ السَّلْمَانِيُّ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَقَدْ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِي وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ حَتَّى اسْتَحْلَفَهُ ثَلَاثًا، وَهُوَ يَحْلِفُ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: قَالَ مَالِكٌ: ذُلٌّ لِلِعْلِمْ أَنْ يُجِيبَ الْعَالِمُ كَلَّ مَنْ سَأَلَهُ.

زید بن وہب جہنی بیان کرتے ہیں کہ وہ اس فوج میں شامل تھے جو علی ؓ کے ساتھ تھی، اور جو خوارج کی طرف گئی تھی، علی نے کہا: اے لوگو! میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: میری امت میں کچھ لوگ ایسے نکلیں گے کہ وہ قرآن پڑھیں گے، تمہارا پڑھنا ان کے پڑھنے کے مقابلے کچھ نہ ہوگا، نہ تمہاری نماز ان کی نماز کے مقابلے کچھ ہوگی، اور نہ ہی تمہارا روزہ ان کے روزے کے مقابلے کچھ ہوگا، وہ قرآن پڑھیں گے، اور سمجھیں گے کہ وہ ان کے لیے (ثواب) ہے حالانکہ وہ ان پر (عذاب) ہوگا، ان کی صلاۃ ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گی، وہ اسلام سے نکل جائیں گے، جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے، اگر ان لوگوں کو جو انہیں قتل کریں گے، یہ معلوم ہوجائے کہ ان کے لیے ان کے نبی اکرم ﷺ کی زبانی کس چیز کا فیصلہ کیا گیا ہے، تو وہ ضرور اسی عمل پر بھروسہ کرلیں گے (اور دوسرے نیک اعمال چھوڑ بیٹھیں گے) ان کی نشانی یہ ہے کہ ان میں ایک ایسا آدمی ہوگا جس کے بازو ہوگا، لیکن ہاتھ نہ ہوگا، اس کے بازو پر پستان کی گھنڈی کی طرح ایک گھنڈی ہوگی، اس کے اوپر کچھ سفید بال ہوں گے تو کیا تم لوگ معاویہ اور اہل شام سے لڑنے جاؤ گے، اور انہیں اپنی اولاد اور اسباب پر چھوڑ دو گے (کہ وہ ان پر قبضہ کریں اور انہیں برباد کریں) اللہ کی قسم مجھے امید ہے کہ یہی وہ لوگ ہیں (جن کے بارے میں نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے) اس لیے کہ انہوں نے ناحق خون بہایا ہے، لوگوں کی چراگاہوں پر شب خون مارا ہے، چلو اللہ کے نام پر۔ سلمہ بن کہیل کہتے ہیں: پھر زید بن وہب نے مجھے ایک ایک مقام بتایا (جہاں سے ہو کر وہ خارجیوں سے لڑنے گئے تھے) یہاں تک کہ وہ ہمیں لے کر ایک پل سے گزرے۔ وہ کہتے ہیں: جب ہماری مڈبھیڑ ہوئی تو خارجیوں کا سردار عبداللہ بن وہب راسبی تھا اس نے ان سے کہا: نیزے پھینک دو اور تلواروں کو میان سے کھینچ لو، مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں وہ تم سے اسی طرح صلح کا مطالبہ نہ کریں جس طرح انہوں نے تم سے حروراء کے دن کیا تھا، چناچہ انہوں نے اپنے نیزے پھینک دئیے، تلواریں کھینچ لیں، لوگوں (مسلمانوں) نے انہیں اپنے نیزوں سے روکا اور انہوں نے انہیں ایک پر ایک کر کے قتل کیا اور (مسلمانوں میں سے) اس دن صرف دو آدمی شہید ہوئے، علی ؓ نے کہا: ان میں مخدج یعنی لنجے کو تلاش کرو، لیکن وہ نہ پا سکے، تو آپ خود اٹھے اور ان لوگوں کے پاس آئے جو ایک پر ایک کر کے مارے گئے تھے، آپ نے کہا: انہیں نکالو، تو انہوں نے اسے دیکھا کہ وہ سب سے نیچے زمین پر پڑا ہے، آپ نے نعرہ تکبیر بلند کیا اور بولے: اللہ نے سچ فرمایا اور اس کے رسول نے ساری باتیں پہنچا دیں۔ پھر عبیدہ سلمانی آپ کی طرف اٹھ کر آئے کہنے لگے: اے امیر المؤمنین! قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں کیا آپ نے اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے؟ وہ بولے: ہاں، اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں، یہاں تک کہ انہوں نے انہیں تین بار قسم دلائی اور وہ (تینوں بار) قسم کھاتے رہے۔

Salamah bin kuhail said: Zaid bin Wahb al-Juhani told that he was in the army which proceeded to (fight with) the Khawarij in the company of Ali. All then said: O people! I heard the Messenger of Allah ﷺ say: there will appear from among my community people who recite the Quran, and your recitation has no comparison with their recitation, and your prayer has no comparison with their prayer, and your fasts have no comparison with their fasts. They will recite the Quran thinking that it is beneficial for them, while it is harmful for them. Their prayer will not pass their collar-bones. They will swerve from Islam as an arrow goes through the animal shot at. If the army that is approaching them knows what (reward) has been decided for them at the tongue of their prophet ﷺ , they would leave (other good) activities. The sign of that is that among them there will be a man who has an upper arm, but not hand; on his upper arm there will be something like the nipple of a female breast, having white hair thereon. Will you go to Mu;awiyah and the people of Syria, and leave them behind among your children and property? I swear by Allah, I hope these are the same people, for they shed the blood unlawfully, and attacked the cattle of the people so go on in the name of Allah. Salamah bin kuhail said: Zaid bin Wahb then informed me of all the halting places one by one, (saying): Until we passed a bridge. When we fought with each other, Abdullah bin Wahb al-Rasibi, who was the leader of the Khawarij, said to them: Throw away the lances and pull out the swards from their sheaths, for I am afraid they will adjure you as they had adjured on the day of Harura. So they threw away their lances and pulled out their swords, and the people pierced them with their lances. They were killed (lying one on the other). On that day only two persons of the partisans (of Ali) were afflicted. Ali said: search for the man with the crippled hand. but they could not find it. Then ‘All got up himself and went to the people who had been killed and were lying on one another. He said: Take them out. They found him just near the ground. So he shouted: Allah is Most Great! He said: Allah spoke the truth, and His Messenger has conveyed. Ubaidat al-Salmani stood up to him, saying: Commander of the Faithful! Have you heard it from the Messenger of Allah ﷺ ? He said: Yes, by him, there is no god but He. He put to swear thrice and he swore.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ الزکاة ٤٨ (١٠٦٦)، (تحفة الأشراف: ١٠١٠٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٩٠) (صحیح )
4769Sunan Abu Dawood

خوارج کے قتل کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ جَمِيلِ بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَضِيءِ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: اطْلُبُوا الْمُخْدَجَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، فَاسْتَخْرَجُوهُ مِنْ تَحْتِ الْقَتْلَى فِي طِينٍ، قَالَ أَبُو الْوَضِيءِ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ حَبَشِيٌّ عَلَيْهِ قُرَيْطِقٌ لَهُ إِحْدَى يَدَيْنِ مِثْلُ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ، عَلَيْهَا شُعَيْرَاتٌ مِثْلُ شُعَيْرَاتِ الَّتِي تَكُونُ عَلَى ذَنَبِ الْيَرْبُوعِ.

ابوالوضی کہتے ہیں کہ علی ؓ نے کہا: مخدج (لنجے) کو تلاش کرو، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے: لوگوں نے اسے مٹی میں پڑے ہوئے مقتولین کے نیچے سے ڈھونڈ نکالا، گویا میں اس کی طرف دیکھ رہا ہوں، وہ ایک حبشی ہے چھوٹا سا کرتا پہنے ہوئے ہے، اس کا ایک ہاتھ عورت کے پستان کی طرح ہے، جس پر ایسے چھوٹے چھوٹے بال ہیں، جیسے جنگلی چوہے کی دم پر ہوتے ہیں۔

Ali said: search for the man with crippled hand. he then mentioned the rest of the tradition. This version has: They took him out from beneath the slain in the dust. Abu al-wadi said: As if I am looking at an ABYSSINIAN WITH A SHIRT ON HIM. HE HAD ONE OF HIS HANDS LIKE THE NIPPLE OF THE FEMALE BREAST, HAVING HAIR ON IT LIKE THE HAIR ON THE TAIL OF THE JERBOA.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠١٥٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٣٩، ١٤٠، ١٤١) (صحیح الإسناد )
4770Sunan Abu Dawood

خوارج کے قتل کا بیان

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: إِنْ كَانَ ذَلِكَ الْمُخْدَجُ لَمَعَنَا يَوْمَئِذٍ فِي الْمَسْجِدِ نُجَالِسُهُ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَكَانَ فَقِيرًا وَرَأَيْتُهُ مَعَ الْمَسَاكِينِ يَشْهَدُ طَعَامَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَعَ النَّاسِ، وَقَدْ كَسَوْتُهُ بُرْنُسًا لِي، قَالَ أَبُو مَرْيَمَ: وَكَانَ الْمُخْدَجُ يُسَمَّى نَافِعًا ذَا الثُّدْيَةِ، وَكَانَ فِي يَدِهِ مِثْلُ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ، عَلَى رَأْسِهِ حَلَمَةٌ مِثْلُ حَلَمَةِ الثَّدْيِ، عَلَيْهِ شُعَيْرَاتٌ مِثْلُ سِبَالَةِ السَّنَّوْرِ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَهُوَ عِنْدَ النَّاسِ اسْمُهُ حَرْقُوسُ.

ابومریم کہتے ہیں کہ یہ مخدج (لنجا) مسجد میں اس دن ہمارے ساتھ تھا ہم اس کے ساتھ رات دن بیٹھا کرتے تھے، وہ فقیر تھا، میں نے اسے دیکھا کہ وہ مسکینوں کے ساتھ آ کر علی ؓ کے کھانے پر لوگوں کے ساتھ شریک ہوتا تھا اور میں نے اسے اپنا ایک کپڑا دیا تھا۔ ابومریم کہتے ہیں: لوگ مخدج (لنجے) کو نافعا ذا الثدية (پستان والا) کا نام دیتے تھے، اس کے ہاتھ میں عورت کے پستان کی طرح گوشت ابھرا ہوا تھا، اس کے سرے پر ایک گھنڈی تھی جیسے پستان میں ہوتی ہے اس پر بلی کی مونچھوں کی طرح چھوٹے چھوٹے بال تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: لوگوں کے نزدیک اس کا نام حرقوس تھا۔

Abu Maryam said: This man with the crippled hand was on that day with us in the mosque. We would sit with him by day and by night, and he was a poor man. I saw him attending the meals of Ali (Allah be pleased with him) which he took with the people, and I clothed him with a cloak of mine. Abu Maryam said: The man with the crippled hand was called Nafi Dhu al-Thadyah (Nafi, man of nipple). He had in his hand something like a female breast with a nipple at it ends like the nipple of the female breast. If had some hair on it like the whiskers of cat. Abu Dawud said: Hw was known among the people by the name of Harqus.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠٣٣٣) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی نعیم حافظہ کے کمزور راوی ہیں )
4771Sunan Abu Dawood

چوروں سے لڑائی کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَسَنٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمِّي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أُرِيدَ مَالُهُ بِغَيْرِ حَقٍّ فَقَاتَلَ فَقُتِلَ، فَهُوَ شَهِيدٌ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس کا مال لینے کا ناحق ارادہ کیا جائے اور وہ (اپنے مال کے بچانے کے لیے) لڑے اور مارا جائے تو وہ شہید ہے ۔

Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Prophet ﷺ said: If the property of anyone is designed to be taken away without any right and he fights and is killed, he is a martyr.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدیات ٢٢ (١٤٢٠)، سنن النسائی/المحاربة ١٨ (٤٠٩٣)، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢١ (٢٥٨٠)، (تحفة الأشراف: ٨٦٠٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المظالم ٣٣ (٢٤٨٠)، صحیح مسلم/الایمان ٦٢ (٢٢٥)، مسند احمد (٢ /١٦٣، ١٩٣، ١٩٤، ٢٠٥، ٢٠٦، ٢١٠، ٢١٥، ٢١٧، ٢٢١، ٢٢٤) (صحیح )
4772Sunan Abu Dawood

چوروں سے لڑائی کا بیان

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ يَعْنِي أَبَا أَيُّوبَ الْهَاشِمِيَّ، عَنْ إبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرْ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ أَهْلِهِ، أَوْ دُونَ دَمِهِ، أَوْ دُونَ دِينِهِ، فَهُوَ شَهِيدٌ.

سعید بن زید ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو اپنا مال بچانے میں مارا جائے وہ شہید ہے اور جو اپنے بال بچوں کو بچانے یا اپنی جان بچانے یا اپنے دین کو بچانے میں مارا جائے وہ بھی شہید ہے ۔

Narrated Saeed ibn Zayd: The Prophet ﷺ said: He who is killed while protecting his property is a martyr, and he who is killed while defending his family, or his blood, or his religion is a martyr.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدیات ٢٢ (١٤٢١)، سنن النسائی/المحاربة ١٨ (٤٠٩٥، ٤٠٩٦، ٤٠٩٩)، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢١ (٢٥٨٠)، (تحفة الأشراف: ٤٤٥٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٨٧، ١٨٨، ١٨٩، ١٩٠) (صحیح )