Sunan Abu Dawood 4746

سنت کا بیان

4746Sunan Abu Dawood

جنت اور جہنم کی تخلیق کا بیان

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا، فَقَالَ: مَا أَنْتُمْ جُزْءٌ مِنْ مِائَةِ أَلْفِ جُزْءٍ مِمَّنْ يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ، قَالَ: قُلْتُ: كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ: سَبْعُ مِائَةٍ، أَوْ ثَمَانِ مِائَةٍ.

زید بن ارقم ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، ہم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا تو آپ نے فرمایا: تم لوگ ان لوگوں کے ایک لاکھ حصوں میں کا ایک حصہ بھی نہیں ہو جو لوگ حشر میں حوض کوثر پر آئیں گے ۔ راوی (ابوحمزہ) کہتے ہیں: میں نے زید بن ارقم ؓ سے کہا: اس دن آپ لوگ کتنے تھے؟ کہا: سات سویا آٹھ سو۔

Narrated Zayd ibn Arqam (RA) : We were with the Messenger of Allah ﷺ . He said when we arrived at a halting place: You are not a hundred thousandth part of those who will come down to me at the pond. I (the narrator Abu Hamzah) asked: What was your number that day? He replied: Seven or eight hundred.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٣٦٦٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٦٧، ٣٦٩، ٣٧١) (صحیح )