Sunan Abu Dawood 4743

سنت کا بیان

4743Sunan Abu Dawood

قیامت میں اٹھائے جانے اور صور کا بیان

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كُلَّ ابْنِ آدَمَ تَأْكُلُ الْأَرْضُ، إِلَّا عَجْبَ الذَّنَبِ، مِنْهُ خُلِقَ، وَفِيهِ يُرَكَّبُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: زمین ابن آدم (انسان) کے تمام اعضاء (جسم) کو بجز ریڑھ کی نچلی ہڈی کے کھا جاتی ہے اس لیے کہ وہ اسی سے پیدا ہوا ہے ١ ؎، اور اسی سے اسے دوبارہ جوڑ کر اٹھایا جائے گا ۔

Abu Hurairah reported the Messenger of AllSah ﷺ as saying: Every son of Adam will be devoured by the earth with the exception of the tail-bone from which he was created and from which he will be reconstituted.

Notes · وضاحت
١ ؎: تخلیق انسان کی ابتداء اسی سے ہوتی ہے، اور شاید وہ بہت چھوٹی ہوتی ہے جو لوگوں کو محسوس نہیں ہوتی، اس حدیث کے حکم سے انبیاء کرام مستثنیٰ ہیں کیونکہ إن الله حرم على الأرض أن تأكل أجساد الأنبياء ان کے بارے میں وارد ہے، اللہ نے زمین پر حرام قرار دے دیا ہے کہ وہ انبیاء (علیہم السلام) کے اجسام کو کھائے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الجنائز ١١٧ (٢٠٧٩)، (تحفة الأشراف: ١٣٨٣٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تفسیر الزمر ٤ (٤٨١٤)، تفسیر النبأ ١ (٤٩٣٥)، صحیح مسلم/الفتن ٢٨ (٢٩٥٥)، سنن ابن ماجہ/الزھد ٣٢ (٤٢٦٦)، موطا امام مالک/الجنائز ١٦ (٤٨)، مسند احمد (٢ /٣١٥، ٣٢٢، ٤٢٨، ٤٩٩) (صحیح )