سلمہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم پر ابوبکر صدیق ؓ کو امیر بنا کر بھیجا، ہم نے مشرکین کے کچھ لوگوں سے جہاد کیا تو ہم نے ان پر شب خون مارا، ہم انہیں قتل کر رہے تھے، اور اس رات ہمارا شعار (کوڈ) أمت أمت ١ ؎ تھا، اس رات میں نے اپنے ہاتھ سے سات گھروں کے مشرکوں کو قتل کیا ٢ ؎۔
Narrated Salamah ibn al-Akwa (RA) : The Messenger of Allah ﷺ appointed Abu Bakr our commander and we fought with some people who were polytheists, and we attacked them at night, killing them. Our war-cry that night was put to death; put to death. Salamah said: I killed that night with my hand polytheists belonging to seven houses.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اے مدد کرنے والے دشمن کو فنا کر۔ ٢ ؎: اس حدیث سے کافروں پر شب خون مارنے کا جواز ثابت ہوا اگر اسلام کی دعوت ان تک پہنچ چکی ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الجھاد ٣٠ (٢٨٤٠)، (تحفة الأشراف: ٤٥١٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٦)، سنن الدارمی/السیر ١٥ (٢٤٩٥) (حسن )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سفر میں ساقہ (لشکر کے پچھلے دستہ) کے ساتھ رہا کرتے تھے، آپ ﷺ کمزوروں کو ساتھ لیتے، انہیں اپنے پیچھے سواری پر بٹھا لیتے اور ان کے لیے دعا کرتے۔
Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to keep to the rear when travelling and urge on the weak. He would take someone up behind him and make supplication for them all.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کروں جب تک کہ وہ لا إله إلا الله کی گواہی نہ دینے لگ جائیں، پھر جب وہ اس کلمہ کو کہہ دیں تو ان کے خون اور مال مجھ سے محفوظ ہوگئے، سوائے اس کے حق کے (یعنی اگر وہ کسی کا مال لیں یا خون کریں تو اس کے بدلہ میں ان کا مال لیا جائے گا اور ان کا خون کیا جائے گا) اور ان کا حساب اللہ پر ہوگا ۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying “ I am commanded to fight with men till they testify that there is no god but Allaah, when they do that they will keep their life and property safe from me, except what is due to them. (i. e., life and property) and their reckoning will be at Allaah’s hands. ”
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کروں جب تک کہ وہ لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله نہیں ہے کوئی معبود برحق سوائے اللہ کے اور محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں کی گواہی دینے، ہمارے قبلہ کا استقبال کرنے، ہمارا ذبیحہ کھانے، اور ہماری نماز کی طرح نماز پڑھنے نہ لگ جائیں، تو جب وہ ایسا کرنے لگیں تو ان کے خون اور مال ہمارے اوپر حرام ہوگئے سوائے اس کے حق کے ساتھ اور ان کے وہ سارے حقوق ہوں گے جو مسلمانوں کے ہیں اور ان پر وہ سارے حقوق عائد ہوں گے جو مسلمانوں پر ہوتے ہیں ۔
Narrated Anas ibn Malik: The Prophet ﷺ said: I am commanded to fight with men till they testify that there is no god but Allah, and that Muhammad is His servant and His Messenger, face our qiblah (direction of prayer), eat what we slaughter, and pray like us. When they do that, their life and property are unlawful for us except what is due to them. They will have the same rights as the Muslims have, and have the same responsibilities as the Muslims have.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٢٨ (٣٩٢)، سنن الترمذی/الایمان ٢ (٢٦٠٨)، سنن النسائی/تحریم الدم ١ (٣٩٧٢)، والإیمان ١٥ (٥٠٠٦)، (تحفة الأشراف: ٧٠٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٩٩، ٢٢٤) (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مشرکوں سے قتال کروں ، پھر آگے اسی مفہوم کی حدیث ہے۔
Anas bin Malik (RA) reported the Messenger of Allah ﷺ as saying “ I am commanded to fight with the polytheists. The rest of the tradition is to the same effect as mentioned above. ”
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٧٨٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/ الصلاة ٢٨ (٣٩٣ تعلیقًا) (صحیح )
اسامہ بن زید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حرقات ١ ؎ کی طرف ایک سریہ میں بھیجا، تو ان کافروں کو ہمارے آنے کا علم ہوگیا، چناچہ وہ سب بھاگ کھڑے ہوئے، لیکن ہم نے ایک آدمی کو پکڑ لیا، جب ہم نے اسے گھیرے میں لے لیا تو لا إله إلا الله کہنے لگا (اس کے باوجود) ہم نے اسے مارا یہاں تک کہ اسے قتل کردیا، پھر میں نے نبی اکرم ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن لا إله إلا الله کے سامنے تیری مدد کون کرے گا؟ میں نے کہا: اللہ کے رسول! اس نے یہ بات تلوار کے ڈر سے کہی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے اس کا دل پھاڑ کر دیکھ کیوں نہیں لیا کہ ٢ ؎ اس نے کلمہ تلوار کے ڈر سے پڑھا ہے یا (تلوار کے ڈر سے) نہیں (بلکہ اسلام کے لیے) ؟ قیامت کے دن لا إله إلا الله کے سامنے تیری مدد کون کرے گا؟ آپ ﷺ برابر یہی بات فرماتے رہے، یہاں تک کہ میں نے سوچا کاش کہ میں آج ہی اسلام لایا ہوتا۔
Usamah bin Zaid said “The Messenger of Allah ﷺ sent us with a detachment to Al Huruqat. They learnt about us and fled away. But we found a man, when we attacked him he uttered “There is no god but Allaah, still we struck him till we killed him. ” When I mentioned it to the Prophet ﷺ he said “Who will save you from “There is no god but Allaah” on the Day of Judgment? I said “Messenger of Allah ﷺ , he uttered it for the fear of the weapon. ” He said “Did you tear his heart so that you learnt whether he actually uttered it for this or not. Who will support you against “There is no god but Allaah”? He kept on repeating this till I wished I would have embraced Islam on that day.
Notes · وضاحت
١ ؎: جہینہ کے چند قبائل کا نام ہے۔ ٢ ؎: زبان سے کلمہ شہادت پڑھنے والے کا شمار مسلمانوں میں ہوگا، اس کے ساتھ دنیا میں وہی سلوک ہوگا جو کسی مسلم مومن کے ساتھ ہوتا ہے اس کے کلمہ پڑھنے کا سبب خواہ کچھ بھی ہو، کیونکہ کلمہ کا تعلق ظاہر سے ہے نہ کہ باطن سے اور باطن کا علم صرف اللہ کو ہے نبی اکرم ﷺ کے فرمان أفلا شققت عن قلبه کا یہی مفہوم ہے۔
مقداد بن اسود ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے بتائیے اگر کافروں میں کسی شخص سے میری مڈبھیڑ ہوجائے اور وہ مجھ سے قتال کرے اور میرا ایک ہاتھ تلوار سے کاٹ دے اس کے بعد درخت کی آڑ میں چھپ جائے اور کہے: میں نے اللہ کے لیے اسلام قبول کرلیا، تو کیا میں اسے اس کلمہ کے کہنے کے بعد قتل کروں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نہیں تم اسے قتل نہ کرو ، میں نے کہا: اللہ کے رسول! اس نے میرا ہاتھ کاٹ دیا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے قتل نہ کرو، کیونکہ اگر تم نے اسے قتل کردیا تو قتل کرنے سے پہلے تمہارا جو مقام تھا وہ اس مقام میں آجائے گا اور تم اس مقام میں پہنچ جاؤ گے جو اس کلمہ کے کہنے سے پہلے اس کا تھا ١ ؎۔
Al Miqdad bin Al Aswad reported that he said “Messenger of Allah ﷺ tell me if I meet a man who is a disbeliever and he fights with me and cuts off one hand of mine with the sword and then takes refuge by a tree and says “I embraced Islam for Allah’s sake. Should I kill him, Messenger of Allah ﷺ after he uttered it (the credo of Islam)? The Messenger of Allah ﷺ said “Do not kill him”. I said “Messenger of Allah ﷺ , he cut off my hand. The Messenger of Allah ﷺ said, Do not kill him. I f you kill him, he will become like you before you kill him and you will become like him before he uttered his credo which he has uttered now.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی وہ معصوم الدم قرار پائے گا اور تمہیں بطور قصاص قتل کیا جائے گا۔
جریر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ خثعم کی جانب ایک سریہ بھیجا تو ان کے کچھ لوگوں نے سجدہ کر کے بچنا چاہا پھر بھی لوگوں نے انہیں قتل کرنے میں جلد بازی کی، نبی اکرم ﷺ کو اس کی خبر پہنچی تو آپ نے ان کے لیے نصف دیت ١ ؎ کا حکم دیا اور فرمایا: میں ہر اس مسلمان سے بری ہوں جو مشرکوں کے درمیان رہتا ہے ، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: دونوں کی (یعنی اسلام اور کفر کی) آگ ایک ساتھ نہیں رہ سکتی ٢ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ہشیم، معمر، خالد واسطی اور ایک جماعت نے روایت کیا ہے اور ان لوگوں نے جریر کا ذکر نہیں کیا ہے ٣ ؎۔
Narrated Jarir ibn Abdullah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ sent an expedition to Khatham. Some people sought protection by having recourse to prostration, and were hastily killed. When the Prophet ﷺ heard that, he ordered half the blood-wit to be paid for them, saying: I am not responsible for any Muslim who stays among polytheists. They asked: Why, Messenger of Allah? He said: Their fires should not be visible to one another. Abu Dawud said: Hushaim, Mamar, Khalid bin al-Wasiti and a group of narrators have also narrated it, but did not mention Jarir.
Notes · وضاحت
١ ؎: نصف دیت کا حکم دیا اور باقی نصف کفار کے ساتھ رہنے سے ساقط ہوگئی کیونکہ کافروں کے ساتھ رہ کر اپنی ذات کو انہوں نے جو فائدہ پہنچایا درحقیقت یہ ایک جرم تھا اور اسی جرم کی پاداش میں نصف دیت ساقط ہوگئی۔ ٢ ؎: اس جملہ کی توجیہ میں تین اقوال وارد ہیں: ایک مفہوم یہ ہے کہ دونوں کا حکم یکساں نہیں ہوسکتا، دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے دارالاسلام کو دارالکفر سے علیحدہ کردیا ہے لہٰذا مسلمانوں کے لئے یہ درست نہیں ہے کہ وہ کافروں کے ملک میں ان کے ساتھ رہے، تیسرا یہ کہ مسلمان مشرک کی خصوصیات اور علامتوں کو نہ اپنائے اور نہ ہی چال ڈھال اور شکل و صورت میں ان کے ساتھ تشبہ اختیار کرے۔ ٣ ؎: یعنی: ان لوگوں نے اس حدیث کو عن قیس عن النبی ﷺ مرسلاً روایت کیا ہے، بخاری نے بھی مرسل ہی کو صحیح قرار دیا ہے مگر موصول کی متابعات صحیحہ موجود ہیں جیسا کہ البانی نے (ارواء الغلیل، حدیث نمبر: ١٢٠٧ میں) ذکر کیا ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ آیت کریمہ إن يكن منکم عشرون صابرون يغلبوا مائتين اگر تم میں سے بیس بھی صبر کرنے والے ہوں گے تو دو سو پر غالب رہیں گے (سورۃ الانفال: ٦٥) نازل ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر یہ فرض کردیا کہ ان میں کا ایک آدمی دس کافروں کے مقابلہ میں نہ بھاگے، تو یہ چیز ان پر شاق گزری، پھر تخفیف ہوئی اور اللہ نے فرمایا: الآن خفف الله عنكم اب اللہ نے تمہارا بوجھ ہلکا کردیا ہے وہ خوب جانتا ہے کہ تم میں کمزوری ہے تو اگر تم میں سے ایک سو صبر کرنے والے ہوں گے تو وہ دو سو پر غالب رہیں گے (سورۃ الانفال: ٦٦) ۔ ابوتوبہ نے پوری آیت يغلبوا مائتين تک پڑھ کر سنایا اور کہا: جب اللہ نے ان سے تعداد میں تخفیف کردی تو اس تخفیف کی مقدار میں صبر میں بھی کمی کردی۔
Ibn Abbas said “When the verse “If there are twenty amongst you patient and persevering, they will vanquish two hundred” was revealed. It was heavy and troublesome for Muslims when Allaah prescribed for them that one (fighting Muslim) should not fly from ten (fighting Non-Muslims). Then a light commandment was revealed saying “For the present Allaah hath lightened your (task). ” The narrator Abu Tawbah recited the verse to “they will vanquish two hundred. ” When Allaah lightened the number, patient and perseverance also decreased according to the number lightened from them. ”
عبداللہ بن عمر ؓ کا بیان ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے سرایا میں سے کسی سریہ میں تھے، وہ کہتے ہیں کہ لوگ تیزی کے ساتھ بھاگے، بھاگنے والوں میں میں بھی تھا، جب ہم رکے تو ہم نے آپس میں مشورہ کیا کہ اب کیا کریں؟ ہم کافروں کے مقابلہ سے بھاگ کھڑے ہوئے اور اللہ کے غضب کے مستحق قرار پائے، پھر ہم نے کہا: چلو ہم مدینہ چلیں اور وہاں ٹھہرے رہیں، (پھر جب دوسری بار جہاد ہو) تو چل نکلیں اور ہم کو کوئی دیکھنے نہ پائے، خیر ہم مدینہ گئے، وہاں ہم نے اپنے دل میں کہا: کاش! ہم اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کرتے تو زیادہ بہتر ہوتا، اگر ہماری توبہ قبول ہوئی تو ہم ٹھہرے رہیں گے ورنہ ہم چلے جائیں گے، ہم رسول اللہ ﷺ کے انتظار میں فجر سے پہلے بیٹھ گئے، جب آپ ﷺ نکلے تو ہم کھڑے ہوئے اور آپ کے پاس جا کر ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم بھاگے ہوئے لوگ ہیں، آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: نہیں، بلکہ تم لوگ عکارون ہو (یعنی دوبارہ لڑائی میں واپس لوٹنے والے ہو) ۔ عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں: (خوش ہو کر) ہم آپ کے نزدیک گئے اور آپ کا ہاتھ چوما تو آپ ﷺ نے فرمایا: میں مسلمانوں کی پناہ گاہ ہوں ، (یعنی ان کا ملجا و ماویٰ ہوں میرے سوا وہ اور کہاں جائیں گے؟ ) ۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : Ibn Umar was sent with a detachment of the Messenger of Allah ﷺ . The people wheeled round in flight. He said: I was one of those who wheeled round in flight. When we stopped, we said (i. e. thought): How should we do? We have run away from the battlefield and deserve Allahs wrath. Then we said (thought): Let us enter Madina, stay there, and go there while no one sees us. So we entered (Madina) and thought: If we present ourselves before the Messenger of Allah ﷺ , and if there is a change of repentance for us, we shall stay; if there is something else, we shall go away. So we sat down (waiting) for the Messenger of Allah ﷺ before the dawn prayer. When he came out, we stood up to him and said: We are the ones who have fled. He turned to us and said: No, you are the ones who return to fight after wheeling away. We then approached and kissed his hand, and he said; I am the main body of the Muslims.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجھاد ٣٦ (١٧١٦)، سنن ابن ماجہ/ الأدب ١٦ (٣٧٠٤)، (تحفة الأشراف: ٧٢٩٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٣، ٥٨، ٧٠، ٨٦، ٩٩، ١٠٠، ١١٠) ویأتی ہذا الحدیث فی الأدب (٥٢٢٣) (ضعیف) (اس کے راوی یزید بن ابی زیاد ضعیف ہیں )
ابوسعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ومن يولهم يومئذ دبره ١ ؎ بدر کے دن نازل ہوئی۔
Abu Saeed said “The verse “If any do turn his back to them on such a day” was revealed on the day of the Battle of Badr. ”
Notes · وضاحت
١ ؎: پوری آیت اس طرح ہے إلا متحرفا لقتال أو متحيزا إلى فئة فقد باء بغضب من الله ( سورة الانفال: ١٦) ” جو شخص لڑائی سے اپنی پیٹھ موڑے گا، مگر ہاں جو لڑائی کے لئے پینترا بدلتا ہو یا اپنی جماعت کی طرف پناہ لینے آتا ہو وہ مستثنی ہے باقی جو ایسا کرے گا وہ اللہ کے غضب میں آجائیگا “، حدیث میں مذکور ہے لوگوں نے خود کو اس آیت کا مصداق سمجھ لیا تھا تو اللہ کے رسول ﷺ نے ان کو مستثنی لوگوں میں سے قرار دیا۔
خباب ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ کعبہ کے سائے میں ایک چادر پر تکیہ لگائے ہوئے تھے، ہم نے آپ سے (کافروں کے غلبہ کی) شکایت کی اور کہا: کیا آپ ہمارے لیے اللہ سے مدد طلب نہیں کرتے؟ کیا آپ اللہ سے ہمارے لیے دعا نہیں کرتے؟ (یہ سن کر) آپ ﷺ بیٹھ گئے اور آپ کا چہرہ سرخ ہوگیا، اور فرمایا: تم سے پہلے آدمی کا یہ حال ہوتا کہ وہ ایمان کی وجہ سے پکڑا جاتا تھا، اس کے لیے زمین میں گڑھا کھودا جاتا تھا، اس کے سر کو آرے سے چیر کر دو ٹکڑے کردیا جاتا تھا مگر یہ چیز اسے اس کے دین سے نہیں پھیرتی تھی، لوہے کی کنگھیوں سے اس کے ہڈی کے گوشت اور پٹھوں کو نوچا جاتا تھا لیکن یہ چیز اسے اس کے دین سے نہیں پھیرتی تھی، اللہ کی قسم! اللہ اس دین کو پورا کر کے رہے گا، یہاں تک کہ سوار صنعاء سے حضرموت تک جائے گا اور سوائے اللہ کے یا اپنی بکریوں کے سلسلہ میں بھیڑئے کے کسی اور سے نہیں ڈرے گا لیکن تم لوگ جلدی کر رہے ہو ۔
Khabbab said “We came to the Messenger of Allah ﷺ while he was reclining on an outer garment in the shade of the Kaabah. Complaining to him we said “Do you not ask Allaah for help for us? And do you not pray to Allaah for us? He sat aright turning red in his face and said “A man before you (i. e., in ancient times) was caught and a pit was dug for him in the earth and then a saw was brought placed on his head and it was broken into two pieces but that did not turn him away from his religion. They were combed in iron combs in flesh and sinews above the bones. Even that did not turn them away from their religion. I swear by Allaah, Allaah will accomplish this affair until a rider will travel between San’a and Hadramaut and he will not fear anyone except Allaah, Most High (nor will he fear the attack of) a wolf on his sheep, but you are making haste.
عبیداللہ بن ابی رافع جو علی بن ابی طالب ؓ کے منشی تھے، کہتے ہیں: میں نے علی ؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے، زبیر اور مقداد تینوں کو بھیجا اور کہا: تم لوگ جاؤ یہاں تک کہ روضہ خاخ ١ ؎ پہنچو، وہاں ایک عورت کجاوہ میں بیٹھی ہوئی اونٹ پر سوار ملے گی اس کے پاس ایک خط ہے تم اس سے اسے چھین لینا ، تو ہم اپنے گھوڑے دوڑاتے ہوئے چلے یہاں تک کہ روضہ خاخ پہنچے اور دفعتاً اس عورت کو جا لیا، ہم نے اس سے کہا: خط لاؤ، اس نے کہا: میرے پاس کوئی خط نہیں ہے، میں نے کہا: خط نکالو ورنہ ہم تمہارے کپڑے اتار دیں گے، اس عورت نے وہ خط اپنی چوٹی سے نکال کردیا، ہم اسے نبی اکرم ﷺ کے پاس لائے، وہ حاطب بن ابوبلتعہ ؓ کی جانب سے کچھ مشرکوں کے نام تھا، وہ انہیں رسول اللہ ﷺ کے بعض امور سے آگاہ کر رہے تھے، آپ ﷺ نے پوچھا: حاطب یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے سلسلے میں جلدی نہ کیجئے، میں تو ایسا شخص ہوں جو قریش میں آ کر شامل ہوا ہوں یعنی ان کا حلیف ہوں، خاص ان میں سے نہیں ہوں، اور جو لوگ قریش کی قوم سے ہیں وہاں ان کے قرابت دار ہیں، مشرکین اس قرابت کے سبب مکہ میں ان کے مال اور عیال کی نگہبانی کرتے ہیں، چونکہ میری ان سے قرابت نہیں تھی، میں نے چاہا کہ میں ان کے حق میں کوئی ایسا کام کر دوں جس کے سبب مشرکین مکہ میرے اہل و عیال کی نگہبانی کریں، قسم اللہ کی! میں نے یہ کام نہ کفر کے سبب کیا اور نہ ہی ارتداد کے سبب، یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس نے تم سے سچ کہا ، اس پر عمر ؓ بولے: مجھے چھوڑئیے، میں اس منافق کی گردن مار دوں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ جنگ بدر میں شریک رہے ہیں، اور تمہیں کیا معلوم کہ اللہ نے اہل بدر کو جھانک کر نظر رحمت سے دیکھا، اور فرمایا: تم جو چاہو کرو میں تمہیں معاف کرچکا ہوں ۔
Ali said “The Messenger of Allah ﷺ sent me Al Zubair and Al Miqdad and said “Go till you come to the meadow of Khakh for there Is a woman there travelling on a Camel who has a letter which you must take from her. We went off racing one another on our horses till we came to the meadow and when we found the woman, we aid “Bring out the letter. She said “I have no letter”. I said “You must bring out the letter else we strip off your clothes”. She then brought it out from the tresses and we took it to the Prophet ﷺ . It was addressed from Hatib bin Abi Balta’ah to some of the polytheists (in Makkah) giving them some information about the Messenger of Allah ﷺ . He asked “What is this, Hatib? He replied, Messenger of Allah ﷺ do not be hasty with me. I have been a man attached as an ally to the Quraish and am not one of them while those of the Quraish (i. e. the emigrants) have relationship with them by which they guarded their family in Makkah. As I did not have that advantage I wanted to give them some help for which they might guard my relations. I swear by Allaah I am not guilty of unbelief or apostasy (from my religion). The Messenger of Allah ﷺ said “he has told you the truth. Umar said “Let me cut off this hypocrite’s head. The Messenger of Allah ﷺ said “He was present at Badr and what do you know, perhaps Allaah might look with pity on those who were present at Badr? And said “Do what you wish, I have forgiven you. ”
Notes · وضاحت
١ ؎: مدینہ سے بارہ میل کی دوری پر ایک مقام کا نام ہے۔
اس سند سے بھی علی ؓ سے یہی قصہ مروی ہے، اس میں ہے کہ حاطب بن ابی بلتعہ نے اہل مکہ کو لکھ بھیجا کہ محمد ﷺ تمہارے اوپر حملہ کرنے والے ہیں، اس روایت میں یہ بھی ہے کہ وہ عورت بولی: میرے پاس تو کوئی خط نہیں ہے ، ہم نے اس کا اونٹ بٹھا کر دیکھا تو اس کے پاس ہمیں کوئی خط نہیں ملا، علی ؓ نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس کی قسم کھائی جاتی ہے! میں تجھے قتل کر ڈالوں گا، ورنہ خط مجھے نکال کر دے، پھر پوری حدیث ذکر کی۔
Ali said “Hatib went and wrote to the people of Makkah that Muhammad ﷺ is going to proceed to them. This version has “She said “I have no letter. We made her Camel kneel down, but we did not find any letter with her. Ali said “By Him in Whose name oath is taken, I shall kill you or you should bring out the letter. He then narrated the rest of the tradition.
فرات بن حیان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے متعلق قتل کا حکم صادر فرمایا، یہ ابوسفیان کے جاسوس اور ایک انصاری کے حلیف تھے ١ ؎، ان کا گزر حلقہ بنا کر بیٹھے ہوئے کچھ انصار کے پاس سے ہوا تو انہوں نے کہا کہ میں مسلمان ہوں، ایک انصاری نے کہا: اللہ کے رسول! یہ کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے بعض لوگ ایسے ہیں کہ ہم انہیں ان کے ایمان کے سپرد کرتے ہیں، ان ہی میں سے فرات بن حیان بھی ہیں ۔
Narrated Furat ibn Hayyan (RA) : The Messenger of Allah ﷺ commanded to kill him: he was a spy of Abu Sufyan and an ally of a man of the Ansar. He passed a circle of the Ansar and said: I am a Muslim. A man from the Ansar said, Messenger of Allah, he is saying that he is a Muslim. The Messenger of Allah ﷺ said: There are people among you in whose faith we trust. Furat ibn Hayyan is one of them.
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک انصاری کے حلیف ہونے کے باوجود رسول اللہ ﷺ نے فرات بن حیان کے متعلق قتل کا حکم صادر فرمایا، اس سے معلوم ہوا کہ ذمی جاسوس کو قتل کرنا صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١١٠٢٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٣٦) (صحیح )
سلمہ بن الاکوع ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس مشرکوں میں سے ایک جاسوس آیا، آپ سفر میں تھے، وہ آپ کے اصحاب کے پاس بیٹھا رہا، پھر چپکے سے فرار ہوگیا، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس کو تلاش کر کے قتل کر ڈالو ، سلمہ بن اکوع ؓ کہتے ہیں: سب سے پہلے میں اس کے پاس پہنچا اور جا کر اسے قتل کردیا اور اس کا مال لے لیا تو آپ ﷺ نے اسے بطور نفل (انعام) مجھے دیدیا۔
Ibn Salamah bin Al Akwa repoted on the authority of his father. A spy of the polytheists came to the Prophet ﷺ when he was on a journey. He sat near his Companions and then slipped away. The Prophet ﷺ said “look for him and kill him”. He said “I raced to him and killed him. I took his belongings which he (the Prophet) gave me.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجھاد ١٧٣ (٣٠٥١)، (تحفة الأشراف: ٤٥١٤)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجھاد ١٣ (١٧٥٤) مطولاً، سنن ابن ماجہ/الجھاد ٢٩ (٢٨٣٦)، مسند احمد (٤/٥٠)، سنن الدارمی/السیر ١٥ (٢٤٩٥) (صحیح )
سلمہ بن الاکوع ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہوازن کا غزوہ کیا، وہ کہتے ہیں: ہم چاشت کے وقت کھانا کھا رہے تھے، اور اکثر لوگ ہم میں سے پیدل تھے، ہمارے ساتھ کچھ ناتواں اور ضعیف بھی تھے کہ اسی دوران ایک شخص سرخ اونٹ پر سوار ہو کر آیا، اور اونٹ کی کمر سے ایک رسی نکال کر اس سے اپنے اونٹ کو باندھا، اور لوگوں کے ساتھ کھانا کھانے لگا، جب اس نے ہمارے کمزوروں اور سواریوں کی کمی کو دیکھا تو اپنے اونٹ کی طرف دوڑتا ہوا نکلا، اس کی رسی کھولی پھر اسے بٹھایا اور اس پر بیٹھا اور اسے ایڑ لگاتے ہوئے تیزی کے ساتھ چل پڑا (جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ یہ جاسوس ہے) تو قبیلہ اسلم کے ایک شخص نے اپنی خاکستری اونٹنی پر سوار ہو کر اس کا پیچھا کیا اور یہ لوگوں کی سواریوں میں سب سے بہتر تھی، پھر میں آگے بڑھا یہاں تک کہ میں نے اسے پا لیا اور حال یہ تھا کہ اونٹنی کا سر اونٹ کے پٹھے کے پاس اور میں اونٹنی کے پٹھے پر تھا، پھر میں تیزی سے آگے بڑھتا گیا یہاں تک کہ میں اونٹ کے پٹھے کے پاس پہنچ گیا، پھر آگے بڑھ کر میں نے اونٹ کی نکیل پکڑ لی اور اسے بٹھایا، جب اونٹ نے اپنا گھٹنا زمین پر ٹیکا تو میں نے تلوار میان سے نکال کر اس کے سر پر ماری تو اس کا سر اڑ گیا، میں اس کا اونٹ مع ساز و سامان کے کھینچتے ہوئے لایا تو لوگوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ نے آ کر میرا استقبال کیا اور پوچھا: اس شخص کو کس نے مارا؟ لوگوں نے بتایا: سلمہ بن اکوع نے، آپ ﷺ نے فرمایا: اس کا سارا سامان انہی کو ملے گا ١ ؎۔
Salamh (bin Al Akwa) said “I went on an expedition with the Messenger of Allah ﷺ against Hawazin and while we were having a meal in the forenoon and most of our people were on foot and some of us were weak, a man came on a red Camel. He took out a rope from the lion of the Camel and tied his Camel with it and began to take meal with the people. When he saw the weak condition of their people and lack of mounts he went out in a hurry to his Camel, untied it made it kneel down and sat on it and went off galloping it. A man of the tribe of Aslam followed him on a brown she Camel which was best of those of the people. I hastened out and I found him while the head of the she Camel was near the paddock of the she Camel. I then went ahead till I reached near the paddock of the Camel. I then went ahead till I caught the Camel’s nose string. I made it kneel. When it placed its knee on the ground, I drew my sword and struck the man on his head and it fell down. I then brought the Camel leading it with (its equipment) on it. The Messenger of Allah ﷺ came forward facing me and asked “Who killed the man? They (the people) said “Salamah bin Akwa. He said “he gets all his spoil. ” Harun said “This is Hashim’s version.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ امن حاصل کرنے والے کافر کے متعلق اگر یہ معلوم ہوجائے کہ یہ جاسوس ہے تو اسے قتل کرنا جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ الجہاد ١٣ (١٧٥٤)، (تحفة الأشراف: ٤٥١٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٩، ٥١) (حسن) (مؤلف کی اس سند سے حسن ہے، نیز یہ واقعہ صحیحین میں بھی ہے، جیسا کہ تخریج سے واضح ہے )
نعمان بن مقرن ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (لڑائی میں) شریک رہا آپ جب صبح کے وقت جنگ نہ کرتے تو قتال (لڑائی) میں دیر کرتے یہاں تک کہ آفتاب ڈھل جاتا، ہوا چلنے لگتی اور مدد نازل ہونے لگتی۔
Narrated An-Numan ibn Muqarrin: I was present at fighting along with the Messenger of Allah ﷺ , and when he did not fight at the beginning of the day, he waited till the sun had passed the meridian, the winds blew, and help came down.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجزیة ١ (٣١٦٠)، سنن الترمذی/السیر ٤٦ (١٦١٣)، (تحفة الأشراف: ١١٦٤٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤٤٤) (صحیح )
قیس بن عباد ؓ کہتے ہیں کہ صحابہ کرام ؓ قتال کے وقت آواز ١ ؎ ناپسند کرتے تھے۔
Narrated Qays ibn Abbad (RA) : The Companions of the Prophet ﷺ , disliked shouting while fighting. A similar tradition has also been transmitted by Abu Bardah on the authority of his father from the Prophet ﷺ .
Notes · وضاحت
١ ؎: دوران قتال آواز کرنے سے مراد مجاہدین کا آپس میں ایک دوسرے کو بآواز بلند نام لے کر پکارنا یا ایسے الفاظ سے پکارنا ہے جس سے وہ فخر و غرور میں مبتلا ہوجائیں، اسے صحابہ ناپسند کرتے تھے۔
ابوبردہ ؓ اپنے والد (ابوموسیٰ اشعری ؓ) سے اور وہ نبی اکرم ﷺ سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٩١٢٨) (صحیح )
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٩١٢٨) (ضعیف) (سابقہ حدیث میں ہشام دستوائی نے اسے قیس بن عباد کا قول روایت کیا ہے مطر صدوق راوی ہیں لیکن علماء نے انہیں کثیر الخطا قرار دیا ہے )
براء ؓ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ کی حنین کے دن مشرکوں سے مڈبھیڑ ہوئی تو وہ چھٹ گئے (یعنی شکست کھا کر ادھر ادھر بھاگ کھڑے ہوئے) اور آپ ﷺ اپنے خچر سے اتر کر پیدل چلنے لگے۔
Al Bara said “When the Prophet ﷺ fought the polytheists in the battle of Hunain, they (the Muslims) retreated, he (the Prophet) came down from his mule and walked on foot.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٨٢٠)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجھاد ١٥ (١٦٨٨) (صحیح )