جہاد کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 11 · 309 hadiths · Page 8 of 16

2618Sunan Abu Dawood

جاسوس بھیجنے کا بیان

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: بَعَثَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُسْبَسَةَ عَيْنًا يَنْظُرُ مَا صَنَعَتْ عِيرُ أَبِي سُفْيَانَ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بسیسہ کو جاسوس بنا کر بھیجا تاکہ وہ دیکھیں کہ ابوسفیان کا قافلہ کیا کر رہا ہے۔

Anas said “the Prophet ﷺ sent Busaisah as a spy to see what the caravan of Abu Sufyan was doing. ”

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٤١ (١٩٠١)، مسند احمد (٣/١٣٦، (تحفة الأشراف: ٤٠٨) (صحیح )
2619Sunan Abu Dawood

جب مسافر کھجور کے درختوں یا دودھ والے جانوروں پر گذرے تو کھجور کھالے اور دودھ پی لے اگرچہ مالک کی اجازت نہ ہو

حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ الرَّقَّامُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ عَلَى مَاشِيَةٍ فَإِنْ كَانَ فِيهَا صَاحِبُهَا فَلْيَسْتَأْذِنْهُ فَإِنْ أَذِنَ لَهُ فَلْيَحْلِبْ وَلْيَشْرَبْ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهَا، فَلْيُصَوِّتْ ثَلَاثًا فَإِنْ أَجَابَهُ فَلْيَسْتَأْذِنْهُ وَإِلَّا فَلْيَحْتَلِبْ وَلْيَشْرَبْ وَلَا يَحْمِلْ.

سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کسی جانور کے پاس سے گزرے اور اس کا مالک موجود ہو تو اس سے اجازت لے، اگر وہ اجازت دیدے تو دودھ دوہ کر پی لے اور اگر اس کا مالک موجود نہ ہو تو تین بار اسے آواز دے، اگر وہ آواز کا جواب دے تو اس سے اجازت لے، ورنہ دودھ دوہے اور پی لے، لیکن ساتھ نہ لے جائے ١ ؎۔

Narrated Samurah ibn Jundub (RA) : The Prophet ﷺ said: When one of you comes to the cattle, he should seek permission of their master if he is there; if he permits, he should milk (the animals) and drink. If he is not there, he should call three times. If he responds, he should seek his permission; otherwise, he may milk (the animals) and drink, but should not carry (with him).

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حکم اس پریشان حال اور مضطر و مجبور مسافر کے لئے ہے جسے کھانا نہ ملنے کی صورت میں اپنی جان کے ہلاک ہونے کا خطرہ لاحق ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البیوع ٦٠ (١٢٩٦)، (تحفة الأشراف: ٤٥٩١) (صحیح )
2620Sunan Abu Dawood

جب مسافر کھجور کے درختوں یا دودھ والے جانوروں پر گذرے تو کھجور کھالے اور دودھ پی لے اگرچہ مالک کی اجازت نہ ہو

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، قَالَ: أَصَابَتْنِي سَنَةٌ فَدَخَلْتُ حَائِطًا مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ، فَفَرَكْتُ سُنْبُلًا فَأَكَلْتُ، وَحَمَلْتُ فِي ثَوْبِي، فَجَاءَ صَاحِبُهُ فَضَرَبَنِي وَأَخَذَ ثَوْبِي فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ: مَا عَلَّمْتَ إِذْ كَانَ جَاهِلًا، وَلَا أَطْعَمْتَ إِذْ كَانَ جَائِعًا، أَوْ قَالَ: سَاغِبًا وَأَمَرَهُ فَرَدَّ عَلَيَّ ثَوْبِي وَأَعْطَانِي وَسْقًا أَوْ نِصْفَ وَسْقٍ مِنْ طَعَامٍ.

عباد بن شرحبیل ؓ کہتے ہیں کہ مجھے قحط نے ستایا تو میں مدینہ کے باغات میں سے ایک باغ میں گیا اور کچھ بالیاں توڑیں، انہیں مل کر کھایا، اور (باقی) اپنے کپڑے میں باندھ لیا، اتنے میں اس کا مالک آگیا، اس نے مجھے مارا اور میرا کپڑا چھین لیا، میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا (اور آپ سے سارا ماجرا بتایا) ، آپ ﷺ نے مالک سے فرمایا: تم نے اسے بتایا نہیں جب کہ وہ جاہل تھا اور نہ کھلایا ہی جب کہ وہ بھوکا تھا ، اور آپ ﷺ نے اسے حکم دیا اس نے میرا کپڑا واپس کردیا اور ایک وسق (ساٹھ صاع) یا نصف وسق (تیس صاع) غلہ مجھے دیا۔

Narrated Abbad ibn Shurahbil: I suffered from drought; so I entered a garden of Madina, and rubbed an ear-corn. I ate and carried in my garment. Then its master came, he beat me and took my garment. He came to the Messenger of Allah ﷺ who said to him: You did not teach him if he was ignorant; and you did not feed him if he was hungry. He ordered him, so he returned my garment to me, and gave me one or half a wasq (sixty or thirty sas) of corn.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/آداب القضاة ٢٠ (٥٤١١)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٦٧ (٢٢٩٨)، (تحفة الأشراف: ٥٠٦١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٦٦) (صحیح )
2621Sunan Abu Dawood

جب مسافر کھجور کے درختوں یا دودھ والے جانوروں پر گذرے تو کھجور کھالے اور دودھ پی لے اگرچہ مالک کی اجازت نہ ہو

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ شُرَحْبِيلَ رَجُلًا مِنَّا مِنْ بَنِي غُبَرَ بِمَعْنَاهُ.

ابوبشر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عباد بن شرحبیل سے جو ہمیں میں سے قبیلہ بنو غبر کے ایک فرد تھے اسی مفہوم کی حدیث سنی۔

Abu Bishr said “I heard Abbad bin ‘Shurahbil a man of us from Banu Ghubar. He narrated the reast of the tradition to the same effect. ”

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٥٠٦١) (صحیح )
2622Sunan Abu Dawood

جب مسافر کھجور کے درختوں یا دودھ والے جانوروں پر گذرے تو کھجور کھالے اور دودھ پی لے اگرچہ مالک کی اجازت نہ ہو

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، وَأَبُو بَكْرٍ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ وَهَذَا لَفْظُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مُعْتَمِرِ بْنِ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي حَكَمٍ الْغِفَارِيَّ يَقُولُ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي، عَنْ عَمِّ أَبِي رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ، قَالَ: كُنْتُ غُلَامًا أَرْمِي نَخْلَ الْأَنْصَارِ، فَأُتِيَ بِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا غُلَامُ لِمَ تَرْمِي النَّخْلَ ؟ قَالَ: آكُلُ، قَالَ: فَلَا تَرْمِ النَّخْلَ وَكُلْ مِمَّا يَسْقُطُ فِي أَسْفَلِهَا ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ فَقَالَ: اللَّهُمَّ أَشْبِعْ بَطْنَهُ.

ابورافع بن عمرو غفاری کے چچا کہتے ہیں کہ میں کم سن تھا اور انصار کے کھجور کے درختوں پر ڈھیلے مارا کرتا تھا، لوگ مجھے (پکڑ کر) نبی اکرم ﷺ کے پاس لائے، آپ نے فرمایا: بچے! تم کھجور کے درختوں پر کیوں پتھر مارتے ہو؟ میں نے عرض کیا: (کھجوریں) کھانے کی غرض سے، آپ ﷺ نے فرمایا: پتھر نہ مارا کرو، جو نیچے گرا ہو اسے کھالیا کرو ، پھر آپ ﷺ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا، اور میرے لیے دعا کی کہ اے اللہ اس کے پیٹ کو آسودہ کر دے۔

Narrated The uncle of Abu Rafi ibn Amr al-Ghifari (RA) : I was a boy. I used to throw stones at the palm-trees of the Ansar. So I was brought to the Prophet ﷺ who said: O boy, why do you throw stones at the palm-trees? I said: eat (dates). He said: Do not throw stones at the palm trees, but eat what falls beneath them. He then wiped his head and said: O Allah, fill his belly.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البیوع ٥٤ (١٢٨٨)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٦٧ (٢٢٩٩)، (تحفة الأشراف: ٣٥٩٥) (ضعیف) (اس سند میں ابن أبی الحکم مجہول ہیں، اور ان کی دادی مبہم )
2623Sunan Abu Dawood

بعض لوگوں کے نزدیک مالک کی اجازت کے بغیر جانوروں کا دودھ نہ پینا چاہئے

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَحْلِبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ أَحَدٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تُؤْتَى مَشْرَبَتُهُ فَتُكْسَرَ خِزَانَتُهُ فَيُنْتَثَلَ طَعَامُهُ، فَإِنَّمَا تَخْزُنُ لَهُمْ ضُرُوعُ مَوَاشِيهِمْ أَطْعِمَتَهُمْ، فَلَا يَحْلِبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِهِ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی کسی کے جانور کو اس کی اجازت کے بغیر نہ دوہے، کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کے بالاخانہ میں آ کر اس کا گودام توڑ کر غلہ نکال لیا جائے؟ اسی طرح ان جانوروں کے تھن ان کے مالکوں کے گودام ہیں تو کوئی کسی کا جانور اس کی اجازت کے بغیر نہ دوہے ۔

Abdullah bin Umar (RA) reported the Messenger of Allah ﷺ as saying “One should not milk the cattle of anyone without his permission. Does anyone of you like that any one approaches his corn cell and its storage is broken and then the corn scatters away? Likewise, the teats of their Cattle store their food. Therefore none of you should milk the cattle of anyone without his permission. ”

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللقطة ٨ (٢٤٣٥)، صحیح مسلم/اللقطة ٢ (١٧٢٦)، (تحفة الأشراف: ٨٣٠٠، ٨٣٥٦)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/التجارات ٦٨ (٢٣٠٢)، موطا امام مالک/الاستئذان ٦ (١٧)، مسند احمد (٢/٤، ٦، ٥٧) (صحیح )
2624Sunan Abu Dawood

فرمانبرداری کا بیان

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: يَأَ ايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الأَمْرِ مِنْكُمْ سورة النساء آية 59، فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسِ بْنِ عَدِيٍّ بَعَثَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ أَخْبَرَنِيه ِ يَعْلَى، عَن سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ َعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں آیت يا أيها الذين آمنوا أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منکم اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ تعالیٰ کی اور فرمانبرداری کرو رسول ( ﷺ ) کی اور اپنے میں سے اختیار والوں کی (سورۃ النساء: ٥٩) عبداللہ (عبداللہ بن حذافہ) قیس بن عدی ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنہیں نبی اکرم ﷺ نے ایک سریہ میں بھیجا تھا۔

Ibn Juraij said “O ye who believe, Obey Allaah and obey the Messenger and those charged with authority amongst you. ” This verse was revealed about Abd Allaah bin Qais bin Adi whom the Prophet ﷺ sent along with a detachment. Yala narrated it to me from Saeed bin Jubair on the authority of Ibn Abbas.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیرسورة النساء ١١ (٤٥٨٤)، صحیح مسلم/الإمارة ٨ (١٨٣٤)، سنن الترمذی/الجھاد ٣ (١٦٧٢)، سنن النسائی/البیعة ٢٨ (٤١٩٩)، (تحفة الأشراف: ٥٦٥١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٣٧) (صحیح )
2625Sunan Abu Dawood

فرمانبرداری کا بیان

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ جَيْشًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَسْمَعُوا لَهُ وَيُطِيعُوا فَأَجَّجَ نَارًا، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَقْتَحِمُوا فِيهَا فَأَبَى قَوْمٌ أَنْ يَدْخُلُوهَا، وَقَالُوا: إِنَّمَا فَرَرْنَا مِنَ النَّارِ وَأَرَادَ قَوْمٌ أَنْ يَدْخُلُوهَا فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: لَوْ دَخَلُوهَا أَوْ دَخَلُوا فِيهَا لَمْ يَزَالُوا فِيهَا، وَقَالَ: لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر بھیجا، اور ایک آدمی ١ ؎ کو اس کا امیر بنایا اور لشکر کو حکم دیا کہ اس کی بات سنیں، اور اس کی اطاعت کریں، اس آدمی نے آگ جلائی، اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اس میں کود پڑیں، لوگوں نے اس میں کودنے سے انکار کیا اور کہا: ہم تو آگ ہی سے بھاگے ہیں اور کچھ لوگوں نے اس میں کود جانا چاہا، نبی اکرم ﷺ کو یہ خبر پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: اگر وہ اس میں داخل ہوگئے ہوتے تو ہمیشہ اسی میں رہتے ، اور فرمایا: اللہ کی معصیت میں کسی کی اطاعت نہیں، اطاعت تو بس نیکی کے کام میں ہے ٢ ؎۔

Ali (Allaah be pleased with him) said “The Messenger of Allah ﷺ sent an army and appointed a man as a commander for them and he commanded them to listen to him and obey. He kindled fire and ordered them to jump into it. A group refused to enter into it and said “We escaped from the fire; a group intended to enter into it. When the Prophet ﷺ was informed about it, he said “Had they entered into it, they would have remained into it. There is no obedience in matters involving disobedience to Allaah. Obedience is in matters which are good and universally recognized.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس آدمی کا نام عبداللہ بن حذافہ سہمی تھا جن کا تذکرہ پچھلی حدیث میں ہے، بعض لوگ کہتے ہیں: ان کا نام ” علقمہ بن مجزر تھا “۔ ٢ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ اگر امیر شریعت کے خلاف حکم دے تو اس کی اطاعت نہ کی جائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ٥٩ (٤٣٤٠)، والأحکام ٤ (٧١٤٥)، وأخبار الآحاد ١ (٧٢٥٧)، صحیح مسلم/الإمارة ٨ (١٨٤٠)، سنن النسائی/البیعة ٣٤ (٤٢١٠)، (تحفة الأشراف: ١٠١٦٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٨٢، ٩٤، ١٢٤) (صحیح )
2626Sunan Abu Dawood

فرمانبرداری کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ فِيمَا أَحَبَّ وَكَرِهَ مَا لَمْ يُؤْمَرْ بِمَعْصِيَةٍ فَإِذَا أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلَا سَمْعَ وَلَا طَاعَةَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان آدمی پر امیر کی بات ماننا اور سننا لازم ہے چاہے وہ پسند کرے یا ناپسند، جب تک کہ اسے کسی نافرمانی کا حکم نہ دیا جائے، لیکن جب اسے نافرمانی کا حکم دیا جائے تو نہ سننا ہے اور نہ ماننا ہے ۔

Abd Allaah bin Masud reported the Messenger of Allah ﷺ as saying “Listening and Obedience are binding on a Muslim whether he likes or dislikes, so long as he is not commanded for disobedience (to Allaah). If he is commanded to disobedience (to Allaah), no listening and disobedience are binding (on him).

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجھاد ١٠٨ (٢٩٥٥)، والأحکام ٤ (٧١٤٤)، صحیح مسلم/الإمارة ٨ (١٨٣٩)، (تحفة الأشراف: ٨١٥٠)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجھاد ٢٩ (١٧٠٧)، سنن النسائی/البیعة ٣٤ (٤٢١٧)، سنن ابن ماجہ/الجھاد ٤٠ (٢٨٦٤)، مسند احمد (٢/١٧، ٤٢) (صحیح )
2627Sunan Abu Dawood

فرمانبرداری کا بیان

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، عَنْ بِشْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ مَالِكٍ مِنْ رَهْطِهِ، قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً فَسَلَحْتُ رَجُلًا مِنْهُمْ سَيْفًا، فَلَمَّا رَجَعَ قَالَ: لَوْ رَأَيْتَ مَا لَامَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَعَجَزْتُمْ إِذْ بَعَثْتُ رَجُلًا مِنْكُمْ، فَلَمْ يَمْضِ لِأَمْرِي أَنْ تَجْعَلُوا مَكَانَهُ مَنْ يَمْضِي لِأَمْرِي.

عقبہ بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک سریہ (دستہ) بھیجا، میں نے ان میں سے ایک شخص کو تلوار دی، جب وہ لوٹ کر آیا تو کہنے لگا: کاش آپ وہ دیکھتے جو رسول اللہ ﷺ نے ہم کو ملامت کی ہے، آپ نے فرمایا: کیا تم سے یہ نہیں ہوسکتا تھا کہ جب میں نے ایک شخص کو بھیجا اور وہ میرا حکم بجا نہیں لایا تو تم اس کے بدلے کسی ایسے شخص کو مقرر کردیتے جو میرا حکم بجا لاتا ۔

Narrated Uqbah ibn Malik: The Prophet ﷺ sent a detachment. I gave a sword to a man from among them. When he came back, he said: Would that you saw us how the Messenger of Allah ﷺ rebuked us, saying: When I sent out a man who does not fulfil my command, are you unable to appoint in his place one who will fulfil my command.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٠٠١٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١١٠) (حسن )
2628Sunan Abu Dawood

لشکر کے سب لوگوں کو ملارہنا چاہئے

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ، وَيَزِيدُ بْنُ قُبَيْسٍ مِنْ أَهْلِ جَبَلَةَ سَاحِلِ حِمْصٍ وَهَذَا لَفْظُ يَزِيدَ قَالَا: حَدَّثَنَاالْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَلَاءِ، أَنَّهُ سَمِعَ مُسْلِمَ بْنَ مِشْكَمٍ أَبَا عُبَيْدِ اللَّهِ يَقُولُ: حَدَّثَنَا أَبُو ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيُّ، قَالَ: كَانَ النَّاسُ إِذَا نَزَلُوا مَنْزِلًا، قَالَ عَمْرٌو: كَانَ النَّاسُ إِذَا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا تَفَرَّقُوا فِي الشِّعَابِ وَالْأَوْدِيَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ تَفَرُّقَكُمْ فِي هَذِهِ الشِّعَابِ وَالْأَوْدِيَةِ، إِنَّمَا ذَلِكُمْ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَلَمْ يَنْزِلْ بَعْدَ ذَلِكَ مَنْزِلًا إِلَّا انْضَمَّ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ حَتَّى يُقَالُ لَوْ بُسِطَ عَلَيْهِمْ ثَوْبٌ لَعَمَّهُمْ.

ابوثعلبہ خشنی ؓ کہتے ہیں کہ لوگ جب کسی جگہ اترتے، عمرو کی روایت میں ہے: رسول اللہ ﷺ جب کسی جگہ اترتے تو لوگ گھاٹیوں اور وادیوں میں بکھر جاتے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارا ان گھاٹیوں اور وادیوں میں بکھر جانا شیطان کی جانب سے ہے ١ ؎، اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کسی جگہ نہیں اترے مگر بعض بعض سے اس طرح سمٹ جاتا کہ یہ کہا جاتا کہ اگر ان پر کوئی کپڑا پھیلا دیا جاتا تو سب کو ڈھانپ لیتا۔

Narrated Abu Thalabah al-Khushani (RA) : When the people encamped, (the narrator Amr ibn Uthman al-Himsi) said: When the Messenger of Allah ﷺ encamped, the people scattered in the glens and wadis. The Messenger of Allah ﷺ said: Your scattering in these glens and wadis is only of the devil. They afterwards kept close together when they encamped to such an extent that it used to be said that if a cloth were spread over them, it would cover them all.

Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ شیطان کا مقصد یہ ہے کہ تم ایک دوسرے سے جدا رہو تاکہ تمہارا دشمن تم پر بہ آسانی حملہ کرسکے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١١٨٧١)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ السیر (٨٨٥٦)، مسند احمد (٤/١٩٣) (صحیح )
2629Sunan Abu Dawood

لشکر کے سب لوگوں کو ملارہنا چاہئے

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَسِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْخَثْعَمِيِّ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ مُجَاهِدٍ اللَّخْمِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ كَذَا وَكَذَا، فَضَيَّقَ النَّاسُ الْمَنَازِلَ وَقَطَعُوا الطَّرِيقَ، فَبَعَثَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا يُنَادِي فِي النَّاسِأَنَّ مَنْ ضَيَّقَ مَنْزِلًا أَوْ قَطَعَ طَرِيقًا فَلَا جِهَادَ لَهُ.

معاذ بن انس جھنی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے نبی کریم ﷺ کے ساتھ فلاں اور فلاں غزوہ کیا تو لوگوں نے پڑاؤ کی جگہ کو تنگ کردیا اور راستے مسدود کردیئے ١ ؎ تو اللہ کے نبی کریم ﷺ نے ایک منادی کو بھیجا جو لوگوں میں اعلان کر دے کہ جس نے پڑاؤ کی جگہیں تنگ کردیں، یا راستہ مسدود کردیا تو اس کا جہاد نہیں ہے۔

Narrated Muadh ibn Anas al-Juhani (RA) : I fought along with the Prophet ﷺ in such and such battles. The people occupied much space and encroached on the road. The Prophet ﷺ sent an announcer to announce among the people: Those who occupy much space or encroach on the road will not be credited with jihad.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی بلا ضرورت زیادہ جگہیں گھیر کر بیٹھ گئے اور دوسروں پر راستہ تنگ کردیا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١١٣٠٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٤١) (حسن )
2630Sunan Abu Dawood

لشکر کے سب لوگوں کو ملارہنا چاہئے

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ أَسِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ مُجَاهِدٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ.

معاذ بن انس ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے اللہ کے نبی کریم ﷺ کے ساتھ غزوہ کیا، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔

Sahl bin Muadh reported on the authority of his father “We fought along with the Prophet of Allaah ﷺ . The rest of the tradition is to the same effect. ”

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١١٣٠٣) (حسن )
2631Sunan Abu Dawood

دشمن سے مقابلہ کی تمنا کرنا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مَعْمَرٍ، وَكَانَ كَاتِبًا لَهُ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى حِينَ خَرَجَ إِلَى الْحَرُورِيَّةِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَيَّامِهِ الَّتِي لَقِيَ فِيهَا الْعَدُوَّ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ وَسَلُوا اللَّهَ تَعَالَى الْعَافِيَةَ، فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا وَاعْلَمُوا أَنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ ظِلَالِ السُّيُوفِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ وَمُجْرِي السَّحَابِ وَهَازِمَ الْأَحْزَابِ اهْزِمْهُمْ وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْ.

عمر بن عبیداللہ بن معمر کے غلام اور ان کے کاتب (سکریٹری) سالم ابونضر کہتے ہیں کہ عبداللہ بن ابی اوفی ؓ نے ان کو جب وہ خارجیوں کی طرف سے نکلے لکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لڑائی میں جس میں دشمن سے سامنا تھا فرمایا: لوگو! دشمنوں سے مڈبھیڑ کی تمنا نہ کرو، اور اللہ تعالیٰ سے عافیت طلب کرو، لیکن جب ان سے مڈبھیڑ ہوجائے تو صبر سے کام لو، اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے ، پھر فرمایا: اے اللہ! کتابوں کے نازل فرمانے والے، بادلوں کو چلانے والے، اور جتھوں کو شکست دینے والے، انہیں شکست دے، اور ہمیں ان پر غلبہ عطا فرما ۔

Salim Abu Al Nadr, client of Umar bin Ubaid Allaah that is Ibn Mamar who Salim was his (Umar’s) secretary reported “When Abdullah bin Abi Afwa went out to the Haruriyyah (Khawarij), he wrote to him (Umar bin Ubaid Allaah), The Messenger of Allah ﷺ said on a ceratin day when he was fighting with the enemy. O people do not desire to meet the enemy, ask Allaah, Most High, for health and security. When you meet them (the enemy) have patience and endurance, you should know that paradise is under the shade of swords. He then said “O Allaah, Who sends down the Book, makes the cloud to travel and rotes the confederates, tout them and give us victory over them. ”

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجھاد ٩٨ (٢٩٣٣)، والمغازي ٢٩ (٤١١٥)، والدعوات ٥٧ (٦٣٩٢)، والتمني ٨ (٧٢٣٧)، والتوحید ٣٤ (٧٤٨٩)، صحیح مسلم/الجھاد ٧ (١٧٤٢)، (تحفة الأشراف: ٥١٦١)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجھاد ٨ (١٦٧٨)، سنن ابن ماجہ/الجھاد ١٥ (٢٧٩٦)، مسند احمد ٤/٣٥٤) (صحیح )
2632Sunan Abu Dawood

جب دشمن سے سامنا ہو تو کیا کہے

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا غَزَا قَالَ: اللَّهُمَّ أَنْتَ عَضُدِي وَنَصِيرِي بِكَ أَحُولُ وَبِكَ أَصُولُ وَبِكَ أُقَاتِلُ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب غزوہ کرتے تو فرماتے: اللهم أنت عضدي ونصيري بك أحول وبک أصول وبک أقاتل اے اللہ! تو ہی میرا بازو اور مددگار ہے، تیری ہی مدد سے میں چلتا پھرتا ہوں، اور تیری ہی مدد سے میں حملہ کرتا ہوں، اور تیری ہی مدد سے میں قتال کرتا ہوں ۔

Narrated Anas ibn Malik: When the Messenger of Allah ﷺ went on an expedition, he said: O Allah, Thou art my aider and helper; by Thee I move, by Thee I attack, and by Thee I fight.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ١٢٢ (٣٥٨٤)، سنن النسائی/الیوم واللیلة (٦٠٤)، (تحفة الأشراف: ١٣٢٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (/٣/١٨٤) (صحیح )
2633Sunan Abu Dawood

لڑنے سے پہلے مشرکین کو اسلام کی دعوت دینا

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ، قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى نَافِعٍ أَسْأَلُهُ عَنْ دُعَاءِ الْمُشْرِكِينَ عِنْدَ الْقِتَالِ، فَكَتَبَ إِلَيَّ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ وَقَدْ أَغَارَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَهُمْ غَارُّونَ وَأَنْعَامُهُمْ تُسْقَى عَلَى الْمَاءِ، فَقَتَلَ مُقَاتِلَتَهُمْ وَسَبَى سَبْيَهُمْ، وَأَصَابَ يَوْمَئِذٍ جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ، حَدَّثَنِي بِذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ وَكَانَ فِي ذَلِكَ الْجَيْشِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا حَدِيثٌ نَبِيلٌ رَوَاهُ ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ وَلَمْ يُشْرِكْهُ فِيهِ أَحَدٌ.

ابن عون کہتے ہیں کہ میں نے نافع کے پاس لڑائی کے وقت کفار و مشرکین کو اسلام کی دعوت دینے کے بارے میں پوچھنے کے لیے خط لکھا، تو انہوں نے مجھے لکھا: یہ شروع اسلام میں تھا (اس کے بعد) اللہ کے نبی کریم ﷺ نے قبیلہ بنو مصطلق پر حملہ کیا، وہ غفلت میں تھے، اور ان کے چوپائے پانی پی رہے تھے، آپ ﷺ نے ان میں سے جو لڑنے والے تھے انہیں قتل کیا، اور باقی کو گرفتار کرلیا ١ ؎، اور جویریہ بنت الحارث ٢ ؎ کو آپ ﷺ نے اسی دن پایا، یہ بات مجھ سے عبداللہ بن عمر ؓ نے بیان کی جو خود اس لشکر میں تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ایک عمدہ حدیث ہے، اسے ابن عون نے نافع سے روایت کیا ہے اور اس میں ان کا کوئی شریک نہیں۔

Ibn Awn said “I wrote to Nafi asking him about summoning the polytheists (to Islam) at the time of fighting. So, he wrote to me “This was in the early days of Islam. The Prophet of Allaah ﷺ attacked Banu Al Mustaliq while they were inattentive and their cattle were drinking water. So their fighters were killed and the survivors (i. e., women and children) were taken prisoners. On that day Juwairiyyah daughter of Al Harith was obtained. Abd Allaah narrated this to me, he was in that army. ” Abu Dawud said “This is a good tradition narrtted by Ibn Awn from Nafi and no one shared him in narrating it. ”

Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ جن کافروں اور مشرکوں تک اسلام کی دعوت ان پر حملہ سے پہلے پہنچ چکی ہو تو انہیں اسلام کی دعوت پیش کرنے سے پہلے ان سے قتال جائز ہے۔ ٢ ؎: یہ نبی اکرم ﷺ کی ازواج مطہرات میں سے ہیں، ان کا انتقال ٥٠ ہجری میں ہوا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العتق ١٣(٢٥٤١)، صحیح مسلم/الجھاد ١ (١٧٣٠)، (تحفة الأشراف: ٧٧٤٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣١، ٣٢، ٥١) (صحیح )
2634Sunan Abu Dawood

لڑنے سے پہلے مشرکین کو اسلام کی دعوت دینا

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يُغِيرُ عِنْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ، وَكَانَ يَتَسَمَّعُ فَإِذَا سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَكَ وَإِلَّا أَغَارَ.

انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ فجر کے وقت حملہ کرتے تھے اور غور سے (اذان) سننے کی کوشش کرتے تھے جب اذان سن لیتے تو رک جاتے، ورنہ حملہ کردیتے ١ ؎۔

Anas said “The Prophet ﷺ used to attack at the time of the dawn prayer and hear. If he heard a call to prayer, he would refrain from them, otherwise would attack (them).

Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ جب اذان کی آواز آتی تو معلوم ہوجاتا کہ یہ لوگ مسلمان ہیں، اور اگر اذان کی آواز نہیں آتی تو ان کا کافر ہوجانا یقینی ہوجاتا اس لئے آپ ﷺ ان پر حملہ کردیتے، اور چونکہ ان تک اسلام کی دعوت پہنچ چکی تھی اس لئے بغیر دعوت دیئے حملہ کردیتے تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٦ (٣٨٢)، سنن الترمذی/السیر ٤٨ (١٦١٨)، (تحفة الأشراف: ٣١٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٣٢، ٢٢٩، ٢٤١، ٢٧٠، ٣٥٣) (صحیح )
2635Sunan Abu Dawood

لڑنے سے پہلے مشرکین کو اسلام کی دعوت دینا

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ مُسَاحِقٍ، عَنْ ابْنِ عِصَامٍ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ فَقَالَ: إِذَا رَأَيْتُمْ مَسْجِدًا أَوْ سَمِعْتُمْ مُؤَذِّنًا فَلَا تَقْتُلُوا أَحَدًا.

عصام مزنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم کو ایک سریہ میں بھیجا اور فرمایا: جب تم کوئی مسجد دیکھنا، یا کسی مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سننا تو کسی کو قتل نہ کرنا ۔

Narrated Isam al-Muzani (RA) : The Messenger of Allah ﷺ sent us in a detachment and said (to us): If you see a mosque or hear a muadhdhin (calling to prayer), do not kill anyone.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/السیر ٢ (١٥٤٩)، (تحفة الأشراف: ٩٩٠١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٤٨) (ضعیف) (اس کے راوی عبد الملک لین الحدیث، اور ابن عصام مجہول ہیں )
2636Sunan Abu Dawood

لڑائی میں حیلہ کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْحَرْبُ خُدَعَةٌ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لڑائی دھوکہ و فریب کا نام ہے ١ ؎۔

Jabir reported the Messenger of Allah ﷺ as saying “War is deception. ”

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جنگ کے دوران کفار کو جہاں تک ممکن ہو دھوکہ دینا جائز ہے بشرطیکہ یہ دھوکہ ان سے کئے گئے کسی عہد و پیمان کے توڑنے کا سبب نہ بنے، تین مقامات جہاں کذب کا سہارا لیا جاسکتا ہے ان میں سے ایک جنگ کا مقام بھی ہے جیسا کہ صحیح حدیث سے ثابت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجھاد ١٥٧ (٣٠٣٠)، صحیح مسلم/الجھاد ٥ (١٧٣٩)، سنن الترمذی/الجھاد ٥ (١٦٧٥)، (تحفة الأشراف: ٢٥٢٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٠٨) (صحیح )
2637Sunan Abu Dawood

لڑائی میں حیلہ کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ غَزْوَةً وَرَّى غَيْرَهَا، وَكَانَ يَقُولُ: الْحَرْبُ خَدْعَةٌ، قَالَ أَبُو دَاوُد: لَمْ يَجِئْ بِهِ إِلَّا مَعْمَرٌ يُرِيدُ قَوْلَهُ الْحَرْبُ خَدْعَةٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِنَّمَا يُرْوَى مِنْ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، وَمِنْ حَدِيثِ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.

کعب بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب کسی غزوہ کا ارادہ کرتے تو جس سمت جانا ہوتا اس کے علاوہ کا توریہ ١ ؎ کرتے اور فرماتے: جنگ دھوکہ کا نام ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے معمر کے سوا کسی اور نے اس سند سے نہیں روایت کیا ہے، وہ اس سے آپ ﷺ کے قول الحرب خدعة کو مراد لے رہے ہیں، یہ لفظ صرف عمرو بن دینار کے واسطے سے جابر ؓ سے مروی ہے یا معمر کے واسطے سے ہمام بن منبہ سے مروی ہے جسے وہ ابوہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں۔

Narrated Kab ibn Malik: When the Prophet ﷺ intended to go on an expedition, he always pretended to be going somewhere else, and he would say: War is deception. Abu Dawud said: Only Mamar has transmitted this tradition. By this he refers to his statement War is deception through this chain of narrators. He narrated it from the tradition of Amr bin Dinar from Jabir, and from the tradition of Mamar from Hammam bin Munabbih on the authority of Abu Hurairah.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی مشرق کی طرف نکلنا ہوتا تو مغرب کا اشارہ کرتے، اور شمال کی طرف نکلنا ہوتا تو جنوب کا اشارہ کرتے، اصل بات چھپا کر دوسری بات ظاہر کرنا، یہی توریہ ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١١٥١)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجھاد ١٠٣ (٢٩٤٧)، والمغازي ٧٩ (٤٤١٨)، سنن الدارمی/السیر ١٤ (٢٤٨٤) (صحیح) دون الشطر الثاني