لڑنے سے پہلے مشرکین کو اسلام کی دعوت دینا
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يُغِيرُ عِنْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ، وَكَانَ يَتَسَمَّعُ فَإِذَا سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَكَ وَإِلَّا أَغَارَ.
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ فجر کے وقت حملہ کرتے تھے اور غور سے (اذان) سننے کی کوشش کرتے تھے جب اذان سن لیتے تو رک جاتے، ورنہ حملہ کردیتے ١ ؎۔
Anas said “The Prophet ﷺ used to attack at the time of the dawn prayer and hear. If he heard a call to prayer, he would refrain from them, otherwise would attack (them).
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ جب اذان کی آواز آتی تو معلوم ہوجاتا کہ یہ لوگ مسلمان ہیں، اور اگر اذان کی آواز نہیں آتی تو ان کا کافر ہوجانا یقینی ہوجاتا اس لئے آپ ﷺ ان پر حملہ کردیتے، اور چونکہ ان تک اسلام کی دعوت پہنچ چکی تھی اس لئے بغیر دعوت دیئے حملہ کردیتے تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٦ (٣٨٢)، سنن الترمذی/السیر ٤٨ (١٦١٨)، (تحفة الأشراف: ٣١٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٣٢، ٢٢٩، ٢٤١، ٢٧٠، ٣٥٣) (صحیح )