جابر بن عتیک ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ فرماتے تھے: ایک غیرت وہ ہے جسے اللہ پسند کرتا ہے، اور دوسری غیرت وہ ہے جسے اللہ ناپسند کرتا ہے، رہی وہ غیرت جسے اللہ پسند کرتا ہے تو وہ شک کے مقامات میں غیرت کرنا ہے، رہی وہ غیرت جسے اللہ ناپسند کرتا ہے وہ شک کے علاوہ میں غیرت کرنا ہے، اور تکبر میں سے ایک وہ ہے جسے اللہ ناپسند کرتا ہے اور دوسرا وہ ہے جسے اللہ پسند کرتا ہے، پس وہ تکبر جسے اللہ پسند کرتا ہے وہ لڑائی کے دوران آدمی کا کافروں سے جہاد کرتے وقت تکبر کرنا اور اترانا ہے، اور صدقہ دیتے وقت اس کا خوشی سے اترانا ہے، اور وہ تکبر جسے اللہ ناپسند کرتا ہے وہ ظلم میں تکبر کرنا ہے ، اور موسیٰ کی روایت میں ہے: فخر و مباہات میں تکبر کرنا ہے ۔
Narrated Jabir ibn Atik: The Prophet ﷺ said: There is jealousy which Allah loves and jealousy which Allah hates. That which Allah loves is jealousy regarding a matter of doubt, and that which Allah hates is jealousy regarding something which is not doubtful. There is pride which Allah hates and pride which Allah loves. That which Allah loves is a mans pride when fighting and when giving sadaqah and that which Allah hates is pride shown by oppression. The narrator Musa said: by boasting.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزکاة ٦٦ (٢٥٥٩)، (تحفة الأشراف: ٣١٧٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤٤٥، ٤٤٦) (حسن )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دس آدمیوں کو جاسوسی کے لیے بھیجا، اور ان کا امیر عاصم بن ثابت ؓ کو بنایا، ان سے لڑنے کے لیے ہذیل کے تقریباً سو تیر انداز نکلے، جب عاصم ؓ نے ان کے آنے کو محسوس کیا تو ان لوگوں نے ایک ٹیلے کی آڑ میں پناہ لی، کافروں نے ان سے کہا: اترو اور اپنے آپ کو سونپ دو، ہم تم سے عہد کرتے ہیں کہ تم میں سے کسی کو قتل نہ کریں گے، عاصم ؓ نے کہا: رہی میری بات تو میں کافر کی امان میں اترنا پسند نہیں کرتا، اس پر کافروں نے انہیں تیروں سے مارا اور ان کے سات ساتھیوں کو قتل کردیا جن میں عاصم ؓ بھی تھے اور تین آدمی کافروں کے عہد اور اقرار پر اعتبار کر کے اتر آئے، ان میں ایک خبیب، دوسرے زید بن دثنہ، اور تیسرے ایک اور آدمی تھے ؓ، جب یہ لوگ کفار کی گرفت میں آگئے تو کفار نے اپنی کمانوں کے تانت کھول کر ان کو باندھا، تیسرے شخص نے کہا: اللہ کی قسم! یہ پہلی بدعہدی ہے، اللہ کی قسم! میں تمہارے ساتھ نہیں جاؤں گا، میرے لیے میرے ان ساتھیوں کی زندگی نمونہ ہے، کافروں نے ان کو کھینچا، انہوں نے ساتھ چلنے سے انکار کیا، تو انہیں قتل کردیا، اور خبیب ؓ ان کے ہاتھ میں قیدی ہی رہے، یہاں تک کہ انہوں نے خبیب کے بھی قتل کرنے کا ارادہ کرلیا، تو آپ نے زیر ناف کے بال مونڈنے کے لیے استرا مانگا ١ ؎، پھر جب وہ انہیں قتل کرنے کے لیے لے کر چلے تو خبیب ؓ نے ان سے کہا: مجھے چھوڑو میں دو رکعت نماز پڑھ لوں، پھر کہا: اللہ کی قسم! اگر تم یہ گمان نہ کرتے کہ مجھے مارے جانے کے خوف سے گھبراہٹ ہے تو میں اور دیر تک پڑھتا۔
Abu Hurairah said “The Prophet ﷺ sent ten persons (on an expedition) and appointed Asim bin Thabit their commander. About one hundred men of Hudhail who were archers came out to (attack) them. When Asim felt their presence, they took cover in a hillock. They aid to them “Come down and surrender and we make a covenant and pact with you that we shall not kill any of you”. Asim said “I do not come to the protection of a disbeliever. Then they shot them with arrows and killed Asim in a company of seven persons. The other three persons came down to their covenant and pact. They were Khubaib, Zaid bin Al Lathnah and another man. When they overpowered them, they untied their bow strings and tied them with them”. The third person said “This is the first treachery. I swear by Allaah, I shall not accompany you. In them (my companions) is an example for me. They pulled him, but he refused to accompany them, so they killed him. Khubaib remained their captive until they agreed to kill him. He asked for a razor to shave his pubes. When they brought him outside to kill him. Khubaib said to them “Let me offer two rak’ahs of prayer”. He then said “I swear by Allaah, if you did not think that I did this out of fear. I would have increased (the number of rak’ahs).
Notes · وضاحت
١ ؎: سولی دیتے وقت بےپردہ ہونے کا خطرہ تھا، اس لئے خبیب ؓ نے استرا طلب کیا تاکہ زیر ناف صاف کرلیں۔
زہری سے روایت ہے کہ مجھے عمرو بن ابوسفیان بن اسید بن جاریہ ثقفی نے خبر دی (وہ بنو زہرہ کے حلیف اور ابوہریرہ ؓ کے اصحاب میں سے تھے) ، پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
Al Zuhri said “This tradition has been transmitted to me by Amr bin Abu Sufyan bin Usaid bin Jariyat Al Thaqafi who was an ally of Banu Zuhrah and a companion of Abu Hurairah. He then narrated the tradition. ”
براء ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جنگ احد میں عبداللہ بن جبیر ؓ کو تیر اندازوں کا امیر بنایا ان کی تعداد پچاس تھی اور فرمایا: اگر تم دیکھو کہ ہم کو پرندے اچک رہے ہیں پھر بھی اپنی اس جگہ سے نہ ہٹنا یہاں تک کہ میں تمہیں بلاؤں اور اگر تم دیکھو کہ ہم نے کافروں کو شکست دے دی ہے، انہیں روند ڈالا ہے، پھر بھی اس جگہ سے نہ ہٹنا، یہاں تک کہ میں تمہیں بلاؤں ، پھر اللہ تعالیٰ نے کافروں کو شکست دی اور اللہ کی قسم میں نے مشرکین کی عورتوں کو دیکھا کہ بھاگ کر پہاڑوں پر چڑھنے لگیں، عبداللہ بن جبیر کے ساتھی کہنے لگے: لوگو! غنیمت، غنیمت، تمہارے ساتھی غالب آگئے تو اب تمہیں کس چیز کا انتظار ہے؟ اس پر عبداللہ بن جبیر ؓ نے کہا: کیا تم وہ بات بھول گئے جو تم سے رسول اللہ ﷺ نے کہی ہے؟ تو ان لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم ضرور مشرکین کے پاس جائیں گے اور مال غنیمت لوٹیں گے، چناچہ وہ ہٹ گئے تو اللہ نے ان کے منہ پھیر دئیے اور وہ شکست کھا کر واپس آئے۔
Al Bara bin Azib said “On the day of the battle of Uhud the Messenger of Allah ﷺ appointed Abd Allaah bin Jubair commander of the archers who were fifty (in number). He said “If you see that the birds are snatching at us, do not move from this place of yours until I send for you and if you see that we defeated the people (the enemy) and trod them down, do not move until I send for you. Allaah then defeated them. He (narrator) said “I swear by Allaah, I saw women ascending the mountain. The companions of Abd Allaah bin Jubair said “Booty, O People, booty! Your companions vanquished, for what are you waiting?” ‘Ad Allaah bin Jubair said “Have you forgotten what the Messenger of Allah ﷺ had told you?” They said “We swear by Allaah. We shall come to the people and get the booty. So they came to them. Their faces were turned and they came defeated. ”
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجھاد ١٦٤ (٣٠٣٩)، والمغازي ١٠ (٣٩٨٦)، والتفسیر ١٠ (٤٥٦١)، (تحفة الأشراف: ١٨٣٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٩٤) (صحیح )
ابواسید ؓ کہتے ہیں کہ جب ہم نے بدر کے دن صف بندی کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کافر تمہارے قریب پہنچ جائیں ١ ؎ تب تم انہیں نیزوں سے مارنا، اور اپنے تیر بچا کر رکھنا ۔
Abu Usaid reported the Messenger of Allah ﷺ as saying to us at the battle of Badr when he drew up in rows. When they came near you, shoot arrows at them, but do not use all your arrows.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی تیر کی زد میں آجائیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجھاد ٧٨ (٢٩٠٠)، والمغازي ١٠ (٣٩٨٤)، (تحفة الأشراف: ١١١٩٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٩٨) (صحیح )
ابواسید ساعدی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے بدر کے دن فرمایا: جب وہ (دشمن) تم سے قریب ہوجائیں تب تم انہیں تیروں سے مارنا، اور جب تک وہ تمہیں ڈھانپ نہ لیں ١ ؎ تلوار نہ سونتنا ۔
Narrated Abu Usayd as-Saeedi: The Prophet ﷺ said at the battle of Badr: When they come near you shoot arrows at them; and do not draw swords at them until they come near you.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی تلوار کی مار پر نہ آجائیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١١٩٠) (ضعیف) (اس کے راوی اسحاق مجہول، اور مالک بن حمزہ لین الحدیث ہیں، نیز پچھلی حدیث کے مضمون سے اس کے مضمون میں فرق ہے )
علی ؓ کہتے ہیں کہ عتبہ بن ربیعہ آگے آیا اور اس کے بعد اس کا بیٹا (ولید) اور اس کا بھائی اس کے پیچھے آئے، پھر عتبہ نے آواز دی: کون میرے مقابلے میں آئے گا؟ تو انصار کے کچھ جوانوں نے اس کا جواب دیا، اس نے پوچھا: تم کون ہو؟ انہوں نے اسے بتایا (کہ ہم انصار کے لوگ ہیں) اس نے (سن کر) کہا: ہمیں تمہاری ضرورت نہیں، ہم اپنے چچا زادوں کو (مقابلہ کے لیے) چاہتے ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حمزہ! تم کھڑے ہو، علی! تم کھڑے ہو، عبیدہ بن حارث! تم کھڑے ہو ، تو حمزہ ؓ عتبہ کی طرف بڑھے، اور میں شیبہ کی طرف بڑھا، اور عبیدہ اور ولید (آپس میں بھڑے تو دونوں) کو دو دو زخم لگے، دونوں میں سے ہر ایک نے دوسرے کو نڈھال کردیا، پھر ہم ولید کی طرف مائل ہوئے اور اسے قتل کردیا، اور عبیدہ کو اٹھا کرلے آئے۔
Narrated Ali ibn Abu Talib: (At the battle of Badr) Utbah ibn Rabiah came forward followed by his son and his brother and cried out: Who will be engaged in single combat? Some young men of the Helpers responded to his call. He asked: Who are you? They told him. He said: We do not want you; we, in fact, want only our cousins. The Prophet ﷺ said: Get up Hamzah get up Ali; get up Ubaydah ibn al-Harith. Hamzah went forward to Utbah, I went forward to Shaybah; and after two blows had been exchanged between Ubaydah and al-Walid, they wounded one another severely; so we turned against al-Walid and killed him, and we carried Ubaydah away.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٠٠٥٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١١٧) (صحیح )
ہیاج بن عمران برجمی سے روایت ہے کہ عمران (یعنی: ہیاج کے والد) کا ایک غلام بھاگ گیا تو انہوں نے اللہ کے لیے اپنے اوپر لازم کرلیا کہ اگر وہ اس پر قادر ہوئے تو ضرور بالضرور اس کا ہاتھ کاٹ دیں گے، پھر انہوں نے مجھے اس کے متعلق مسئلہ پوچھنے کے لیے بھیجا، میں نے سمرہ بن جندب ؓ کے پاس آ کر ان سے پوچھا، تو انہوں نے کہا: نبی اکرم ﷺ ہمیں صدقہ پر ابھارتے تھے اور مثلہ ١ ؎ سے روکتے تھے، پھر میں عمران بن حصین ؓ کے پاس آیا اور ان سے (بھی) پوچھا: تو انہوں نے (بھی) کہا: رسول اللہ ﷺ ہمیں صدقہ پر ابھارتے تھے اور مثلہ سے روکتے تھے۔
Narrated Samurah ibn Jundub (RA) : Al-Hayyaj ibn Imran ibn Husayn reported that a slave of Imran ran away. He took a vow to Allah that if he overpowers him, he will cut off his head. He then sent me (to Samurah ibn Jundub) to ask him about this question for him. I came to Samurah ibn Jundub and asked him. He said: The Messenger of Allah ﷺ used to exhort us to give alms (sadaqah) and forbid us to mutilate (a slain). I then came to Imran ibn Husayn and asked him. He said: The Messenger of Allah ﷺ used to exhort us to give alms (sadaqah) and forbid us to mutilate (a slain).
Notes · وضاحت
١ ؎: مقتول کے اعضاء کاٹ کر اس کی شکل و صورت کو بگاڑ دینے کو مثلہ کہا جاتا ہے، مثلہ کا عمل درست نہیں ہے البتہ اگر کسی کافر نے کسی مقتول مسلم کا مثلہ کیا ہے تو اس کے بدلہ میں اس کا مثلہ کیا جاسکتا ہے، جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے عرینیوں کے ساتھ کیا تھا، اسی طرح اگر کسی مسلمان نے کسی مسلمان کے ساتھ مثلہ کیا ہے تو بطور قصاص اس کے ساتھ بھی ویسا ہی کیا جاسکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٤٦٣٧، ١٠٨٦٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٢٨، ٤٢٩)، سنن الدارمی/الزکاة ٢٤ (١٦٩٧) (صحیح) (متابعت سے تقویت پا کر یہ روایت صحیح ہے، ورنہ ہیاج لین الحدیث ہیں )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں کسی غزوہ میں مقتول پائی گئی تو رسول اللہ ﷺ نے عورتوں اور بچوں کے قتل پر نکیر فرمائی۔
Abd Allaah bin (Masud) said “A woman was found slain in one of the battles of the Messenger of Allah ﷺ . The Messenger of Allah ﷺ forbade to kill women and children.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجھاد ١٤٧ (٣٠١٤)، صحیح مسلم/الجھاد ٨ (١٧٤٤)، سنن الترمذی/الجھاد ١٩ (١٥٦٩)، سنن ابن ماجہ/الجھاد ٣٠ (٢٨٤١)، (تحفة الأشراف: ٨٢٦٨)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجھاد ٣ (٩)، مسند احمد (٢/١٢٢، ١٢٣)، سنن الدارمی/السیر ٢٥ (٢٥٠٥) (صحیح )
رباح بن ربیع ؓ کہتے ہیں کہ ہم ایک غزوہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، آپ نے دیکھا کہ لوگ کسی چیز کے پاس اکٹھا ہیں تو ایک آدمی کو بھیجا اور فرمایا: جاؤ، دیکھو یہ لوگ کس چیز کے پاس اکٹھا ہیں ، وہ دیکھ کر آیا اور اس نے بتایا کہ لوگ ایک مقتول عورت کے پاس اکٹھا ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ تو ایسی نہیں تھی کہ قتال کرے ١ ؎، مقدمۃ الجیش (فوج کے اگلے حصہ) پر خالد بن ولید ؓ مقرر تھے تو آپ ﷺ نے ایک شخص سے خالد بن ولید ؓ کے پاس کہلا بھیجا کہ وہ ہرگز کسی عورت کو نہ ماریں اور نہ کسی مزدور کو ٢ ؎۔
Narrated Rabah ibn Rabi (RA) : When we were with the Messenger of Allah ﷺ on an expedition, he saw some people collected together over something and sent a man and said: See, what are these people collected around? He then came and said: They are round a woman who has been killed. He said: This is not one with whom fighting should have taken place. Khalid ibn al-Walid was in charge of the van; so he sent a man and said: Tell Khalid not to kill a woman or a hired servant.
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ عورت اگر لڑائی میں حصہ لیتی ہے اور لڑتی ہے تو اسے قتل کیا جائے گا بصورت دیگر اسے قتل نہیں کیا جائے گا۔ ٢ ؎: یہاں مزدور سے مراد وہ مزدور ہے جو لڑتا نہ ہو صرف خدمت کے لئے ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الجھاد ٣٠ (٢٨٤٢)، (تحفة الأشراف: ٣٤٤٩، ٣٧٠٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٨٨، ٤/١٧٨، ٣٤٦) (حسن صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ بنی قریظہ کی عورتوں میں سے کوئی بھی عورت نہیں قتل کی گئی سوائے ایک عورت کے جو میرے پاس بیٹھ کر اس طرح باتیں کر رہی تھی اور ہنس رہی تھی کہ اس کی پیٹھ اور پیٹ میں بل پڑجا رہے تھے، اور رسول ﷺ ان کے مردوں کو تلوار سے قتل کر رہے تھے، یہاں تک کہ ایک پکارنے والے نے اس کا نام لے کر پکارا: فلاں عورت کہاں ہے؟ وہ بولی: میں ہوں، میں نے پوچھا: تجھ کو کیا ہوا کہ تیرا نام پکارا جا رہا ہے، وہ بولی: میں نے ایک نیا کام کیا ہے، عائشہ ؓ کہتی ہیں: پھر وہ پکارنے والا اس عورت کو لے گیا اور اس کی گردن مار دی گئی، اور میں اس تعجب کو اب تک نہیں بھولی جو مجھے اس کے اس طرح ہنسنے پر ہو رہا تھا کہ اس کی پیٹھ اور پیٹ میں بل پڑ پڑجا رہے تھے، حالانکہ اس کو معلوم ہوگیا تھا کہ وہ قتل کردی جائے گی ١ ؎۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : No woman of Banu Qurayzah was killed except one. She was with me, talking and laughing on her back and belly (extremely), while the Messenger of Allah ﷺ was killing her people with the swords. Suddenly a man called her name: Where is so-and-so? She said: I I asked: What is the matter with you? She said: I did a new act. She said: The man took her and beheaded her. She said: I will not forget that she was laughing extremely although she knew that she would be killed.
Notes · وضاحت
١ ؎: کہا جاتا ہے کہ اس عورت کا نیا کام یہ تھا کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دی تھیں، اسی سبب سے اسے قتل کیا گیا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٦٣٨٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٧٧) (حسن )
صعب بن جثامہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے مشرکین کے گھروں کے بارے میں پوچھا کہ اگر ان پر شب خون مارا جائے اور ان کے بچے اور بیوی زخمی ہوں (تو کیا حکم ہے؟ ) ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: وہ بھی انہیں میں سے ہیں اور عمرو بن دینار کہتے تھے: وہ اپنے آباء ہی میں سے ہیں ۔ زہری کہتے ہیں: پھر رسول اللہ ﷺ نے اس کے بعد عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرما دیا۔
Al Sab bin Jaththamah said that he asked the Messenger of Allah ﷺ about the polytheists whose settlemnst were attacked at night when some of their offspring and women were smitten. The Prophet ﷺ “They are of them. Amr bin Dinar used to say “they are regarded in the same way as their parents. ” Al-Zuhri said: Thereafter the Messenger of Allah ﷺ prohibited to kill women and children.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجھاد ١٤٦ (٣٠١٢)، صحیح مسلم/الجھاد ٩ (١٧٨٥)، سنن الترمذی/السیر ١٩ (١٥٧٠)، سنن ابن ماجہ/الجھاد ٣٠ (٢٨٣٩)، (تحفة الأشراف: ٤٩٣٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٨، ٧١، ٧٢، ٧٣) (صحیح) (زہری کا مذکورہ قول مؤلف کے سوا کسی کے یہاں نہیں ہے )
حمزہ اسلمی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو ایک سریہ کا امیر بنایا، میں اس سریہ میں نکلا، آپ ﷺ نے فرمایا: اگر فلاں کافر کو پانا تو اسے آگ میں جلا دینا ، جب میں پیٹھ موڑ کر چلا تو آپ ﷺ نے مجھے پکارا، میں لوٹا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اگر اس کو پانا تو مار ڈالنا، جلانا نہیں، کیونکہ آگ کا عذاب صرف آگ کے رب کو سزاوار ہے ١ ؎۔
Narrated Hamzah al-Aslami (RA) : The Messenger of Allah ﷺ appointed him commander over a detachment. He said: I went out along with it. He (the Prophet) said: If you find so-and-so, burn him with the fire. I then turned away, and he called me. So I returned to him, and he said: If you find so-and-so, kill him, and do not burn him, for no one punishes with fire except the Lord of the fire.
Notes · وضاحت
١ ؎: البتہ آگ سے کافروں کے کھیتوں، باغوں اور بستیوں کو جلانا ثابت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٣٤٤١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٩٤) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم کو ایک جنگ میں بھیجا اور فرمایا: اگر تم فلاں اور فلاں کو پانا ، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔
Abu Hurairah said: The Messenger of Allah ﷺ sent us along with a contingent, and said: If you find so-and-so. He then narrated the rest of the tradition to the same effect.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجھاد ١٤٩ (٣٠١٦)، سنن الترمذی/السیر ٢٠ (١٥٧١)، (تحفة الأشراف: ١٣٤٨١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٠٧، ٣٣٨، ٤٥٣) (صحیح )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ آپ اپنی ضرورت کے لیے گئے، ہم نے ایک چڑیا دیکھی جس کے ساتھ دو بچے تھے، ہم نے ان بچوں کو پکڑ لیا، وہ چڑیا آ کر زمین پر پر بچھانے لگی، اتنے میں نبی اکرم ﷺ آگئے، اور (یہ دیکھ کر) فرمایا: اس چڑیا کا بچہ لے کر کس نے اسے بےقرار کیا ہے؟ اس کے بچے کو اسے واپس کرو ، اور آپ نے چیونٹیوں کی ایک بستی کو دیکھا جسے ہم نے جلا دیا تھا تو پوچھا: اس کو کس نے جلایا ہے؟ ہم لوگوں نے کہا: ہم نے، آپ ﷺ نے فرمایا: آگ سے عذاب دینا آگ کے مالک کے سوا کسی کو زیب نہیں دیتا ۔
Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : We were with the Messenger of Allah ﷺ during a journey. He went to ease himself. We saw a bird with her two young ones and we captured her young ones. The bird came and began to spread its wings. The Messenger of Allah ﷺ came and said: Who grieved this for its young ones? Return its young ones to it. He also saw an ant village that we had burnt. He asked: Who has burnt this? We replied: We. He said: It is not proper to punish with fire except the Lord of fire.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٩٣٦٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤٠٤)، ویأتی ہذا الحدیث فی الأدب (٥٢٦٨) (صحیح )
واثلہ بن اسقع ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ تبوک کے سلسلہ میں منادی کرائی، میں اپنے اہل کے پاس گیا اور وہاں سے ہو کر آیا تو صحابہ کرام نکل چکے تھے، تو میں شہر میں پکار لگانے لگا کہ کوئی ایسا ہے جو ایک آدمی کو سوار کرلے، اور جو حصہ مال غنیمت سے ملے اسے لے لے، ایک بوڑھے انصاری بولے: اچھا ہم اس کا حصہ لے لیں گے، اور اس کو اپنے ساتھ بٹھا لیں گے، اور ساتھ کھانا کھلائیں گے، میں نے کہا: ہاں قبول ہے، انہوں نے کہا: ٹھیک ہے، اللہ کی برکت پر بھروسہ کر کے چلو، میں بہت ہی اچھے ساتھی کے ساتھ نکلا یہاں تک کہ اللہ نے ہمیں غنیمت کا مال دیا، میرے حصہ میں چند تیز رو اونٹنیاں آئیں، میں ان کو ہنکا کر اپنے ساتھی کے پاس لایا، وہ نکلے اور اپنے اونٹ کے پچھلے حصہ (حقیبہ) پر بیٹھے، پھر کہا: ان کی پیٹھ میری طرف کر کے ہانکو، پھر بولے: ان کا منہ میری طرف کر کے ہانکو، اس کے بعد کہا: تیری اونٹنیاں میرے نزدیک عمدہ ہیں، میں نے کہا: یہ تو آپ کا وہی مال ہے جس کی میں نے شرط رکھی تھی، انہوں نے کہا: میرے بھتیجے! تو اپنی اونٹنیاں لے لے، میرا ارادہ تیرا حصہ لینے کا نہ تھا۔
Narrated Wathilah ibn al-Asqa (RA) : The Messenger of Allah ﷺ announced to go on expedition for Tabuk. I went to my family and then proceeded (on journey). The vanguard of the Companions of the Messenger of Allah ﷺ had already proceeded. So I began to announce loudly in Madina: Is there anyone who takes a man on his ride, and he will get his share (from the booty? An old man from the Ansar (Helpers) spoke loudly: We shall have his share if we take him with us on our mount by turns, and he will have his meal with us. I said: Yes. He said: So go on journey with Allahs blessing. I then proceeded along with my best companion and Allah gave us booty. Some she-camels were given to me as my share of booty. I drove them till I reached him. He came out and sat on the rear part of the saddle of his camel. He then said: Drive them backward. He again said: Drive them forward. He then said: I find your she-camels very gentle. He said: This is your booty which I stipulated for you. He replied: Take your she-camels, my nephew; we did not intend (to get) your portion.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١٧٤٧) (ضعیف) (اس کے راوی عمرو بن عبد اللہ سے سیبانی لین الحدیث ہیں )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ہمارا رب ایسے لوگوں سے خوش ہوتا ہے جو بیڑیوں میں جکڑ کر جنت میں لے جائے جاتے ہیں ١ ؎۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying “Our Lord Most High is charmed with people who will be led to Paradise in chains. ”
Notes · وضاحت
١ ؎: مراد وہ لوگ ہیں جو قید ہو کر مسلمانوں کے ہاتھ میں آتے ہیں پھر اللہ انہیں اسلام کی توفیق دیتا ہے اور وہ اسلام قبول کرکے جنت کی راہ پر چل پڑتے ہیں یا وہ مسلمان قیدی مراد ہیں جو کفار کے ہاتھوں قید ہو کر انتقال کر جاتے ہیں پھر اللہ انہیں جنت میں داخل کرتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤٣٦٤)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجھاد ١٤٤ (٣٠١٠)، مسند احمد (٢/٣٠٢، ٤٠٦) (صحیح )
جندب بن مکیث ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن غالب لیثی ؓ کو ایک سریہ میں بھیجا، میں بھی انہیں میں تھا، اور آپ ﷺ نے ان کو حکم دیا کہ بنو الملوح پر کدید میں کئی طرف سے حملہ کریں، چناچہ ہم لوگ نکلے جب کدید میں پہنچے تو ہم حارث بن برصاء لیثی سے ملے، ہم نے اسے پکڑ لیا، وہ کہنے لگا: میں تو مسلمان ہونے کے لیے آیا ہوں، میں تو رسول اللہ ﷺ ہی کی طرف جا رہا تھا، ہم نے کہا: اگر تو مسلمان ہے تو ایک دن ایک رات کا ہمارا باندھنا تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گا اور اگر تم مسلمان نہیں ہو تو ہم تمہیں مضبوطی سے باندھیں گے، پھر ہم نے اس کو مضبوطی سے باندھ دیا۔
Narrated Jundub ibn Makith (RA) : The Messenger of Allah ﷺ sent Abdullah ibn Ghalib al-Laythi along with a detachment and I was also with them. He ordered them to attach Banu al-Mulawwih from all sides at al-Kadid. So we went out and when we reached al-Kadid we met al-Harith ibn al-Barsa al-Laythi, and seized him. He said: I came with the intention of embracing Islam, and I came out to go to the Messenger of Allah ﷺ . We said: If you are a Muslim, there is no harm if we keep you in chains for a day and night; and if you are not, we shall tie you with chains. So we tied him with chains.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٣٢٧٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٦٧، ٤٦٨) (ضعیف) (اس کے راوی مسلم جہنی مجہول ہیں )