جب دشمن بالکل قریب جائے تب تلوار نکالیں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ نَجِيحٍ وَلَيْسَ بِالْمَلْطِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ: إِذَا أَكْثَبُوكُمْ فَارْمُوهُمْ بِالنَّبْلِ وَلَا تَسُلُّوا السُّيُوفَ حَتَّى يَغْشَوْكُمْ.
ابواسید ساعدی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے بدر کے دن فرمایا: جب وہ (دشمن) تم سے قریب ہوجائیں تب تم انہیں تیروں سے مارنا، اور جب تک وہ تمہیں ڈھانپ نہ لیں ١ ؎ تلوار نہ سونتنا ۔
Narrated Abu Usayd as-Saeedi: The Prophet ﷺ said at the battle of Badr: When they come near you shoot arrows at them; and do not draw swords at them until they come near you.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی تلوار کی مار پر نہ آجائیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١١٩٠) (ضعیف) (اس کے راوی اسحاق مجہول، اور مالک بن حمزہ لین الحدیث ہیں، نیز پچھلی حدیث کے مضمون سے اس کے مضمون میں فرق ہے )