پاکی کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 1 · 389 hadiths · Page 18 of 20

342Sunan Abu Dawood

جمعہ کے غسل کا بیان

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الرَّمْلِيُّ، أَخْبَرَنَا الْمُفَضَّلُ يَعْنِي ابْنَ فَضَالَةَ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ رَوَاحُ الْجُمُعَةِ، وَعَلَى كُلِّ مَنْ رَاحَ إِلَى الْجُمُعَةِ الْغُسْلُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: إِذَا اغْتَسَلَ الرَّجُلُ بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ أَجْزَأَهُ مِنْ غُسْلِ الْجُمُعَةِ، وَإِنْ أَجْنَبَ.

ام المؤمنین حفصہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ہر بالغ پر جمعہ کی حاضری اور جمعہ کے لیے ہر آنے والے پر غسل ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جب آدمی طلوع فجر کے بعد غسل کرلے تو یہ غسل جمعہ کے لیے کافی ہے اگرچہ وہ جنبی رہا ہو۔

Narrated Hafsah, Ummul Muminin (RA) : The Prophet ﷺ said: It is necessary for every adult (person) to go for (saying) Friday (prayer), and for everyone who goes for Friday (prayer) washing is necessary. Abu Dawud said: If one takes bath after sunrise, even though he washes because of seminal emission, that will be enough for him for his washing on Friday.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الجمعة ٢ (١٣٧٢)، (تحفة الأشراف: ١٥٨٠٦) (صحیح )
343Sunan Abu Dawood

جمعہ کے غسل کا بیان

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ الْهَمْدَانِيُّ. ح حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ. ح حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، وَهَذَا حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ يَزِيدُ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ، في حديثهما عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَأَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلَبِسَ مِنْ أَحْسَنِ ثِيَابِهِ وَمَسَّ مِنْ طِيبٍ إِنْ كَانَ عِنْدَهُ، ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَلَمْ يَتَخَطَّ أَعْنَاقَ النَّاسِ، ثُمَّ صَلَّى مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ، ثُمَّ أَنْصَتَ إِذَا خَرَجَ إِمَامُهُ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ صَلَاتِهِ، كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ جُمُعَتِهِ الَّتِي قَبْلَهَا، قَالَ: وَيَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةِ: وَزِيَادَةٌ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، وَيَقُولُ: إِنَّ الْحَسَنَةَ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ أَتَمُّ، وَلَمْ يَذْكُرْ حَمَّادٌ كَلَامَ أَبِي هُرَيْرَةَ.

ابو سعید خدری اور ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے، اپنے کپڑوں میں سے اچھے کپڑے پہنے، اور اگر اس کے پاس ہو تو خوشبو لگائے، پھر جمعہ کے لیے آئے اور لوگوں کی گردنیں نہ پھاندے، پھر اللہ نے جو نماز اس کے لیے مقدر کر رکھی ہے پڑھے، پھر امام کے (خطبہ کے لیے) نکلنے سے لے کر نماز سے فارغ ہونے تک خاموش رہے، تو یہ ساری چیزیں اس کے ان گناہوں کا کفارہ ہوں گی جو اس جمعہ اور اس کے پہلے والے جمعہ کے درمیان اس سے سرزد ہوئے ہیں ، راوی کہتے ہیں: ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں: اور مزید تین دن کے گناہوں کا بھی، اس لیے کہ ایک نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: محمد بن سلمہ کی حدیث زیادہ کامل ہے اور حماد نے ابوہریرہ ؓ کا کلام ذکر نہیں کیا ہے۔

Abu Saeed al-Khudri and Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyone takes a bath on Friday, puts on his best clothes, applies a touch of perfume if has any, then goes to congregational prayer (in the mosque), and takes care not to step over people, then prayer what Allah has prescribes for him, then keeps silent from the time his Imam comes out until he finishes his prayer, it will atone for his sins during the previous week. Abu Hurairah said: (It will atone for his sins) for three days more. he further said: One is rewarded ten times for doing a good work. Abu Dawud said: The version narrated by Muhammad bin Salamah is perfect, and Hammad did not make a mention of the statement of Abu Hurairah.

Takhrij · تخریج
وقد تفرد بہ أبو داود (تحفة الأشراف: ٤٤٣٠)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجمعة ٨ (٨٥٨) من حديث أبي هريرة مختصرًا ومن غير هذا السند، وأدرج قوله: ” وثلاثة أيام “ في قوله ﷺ (حسن )
344Sunan Abu Dawood

جمعہ کے غسل کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلَالٍ، وَبُكَيْرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ حَدَّثَاهُ،عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ، وَالسِّوَاكُ، وَيَمَسُّ مِنَ الطِّيبِ مَا قُدِّرَ لَهُ، إِلَّا أَنَّ بُكَيْرًا لَمْ يَذْكُرْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ، وَقَالَ فِي الطِّيبِ: وَلَوْ مِنْ طِيبِ الْمَرْأَةِ.

ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر بالغ پر جمعہ کے دن غسل کرنا، مسواک کرنا اور خوشبو لگانا جو اسے نصیب ہو لازم ہے ، مگر بکیر نے (عمرو بن سلیم اور ابو سعید خدری کے درمیان) عبدالرحمٰن بن ابی سعید کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے، اور خوشبو کے بارے میں انہوں نے کہا: اگرچہ عورت ہی کی خوشبو سے ہو۔

Abdur-Rahman bin Abi Saeed al-Khudri quotes his father as saying: The Prophet ﷺ said: Washing and the use of tooth-stick are necessary for every adult (person) on Friday; and everyone should apply perfume whatever one has. The narrator Bukair did not mention of Abdur-Rahman; and about perfume he said that even it might be of the kind used by women.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجمعة ٣ (٨٨٠) (نحوہ)، صحیح مسلم/الجمعة ٢ (٨٤٦)، سنن النسائی/الجمعة ٦ (١٣٧٦)، (تحفة الأشراف: ٤١١٦، ٤٢٦٧)، وقد أخرجہ: (٣/٣٠، ٦٥، ٦٦، ٦٩) (صحیح )
345Sunan Abu Dawood

جمعہ کے غسل کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْجَرْجَرَائِيُّ حِبِّي، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، حَدَّثَنِي أَبُو الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيُّ،حَدَّثَنِي أَوْسُ بْنُ أَوْسٍ الثَّقَفِيُّ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ غَسَّلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاغْتَسَلَ ثُمَّ بَكَّرَ وَابْتَكَرَ وَمَشَى وَلَمْ يَرْكَبْ وَدَنَا مِنَ الْإِمَامِ فَاسْتَمَعَ وَلَمْ يَلْغُ، كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ عَمَلُ سَنَةٍ أَجْرُ صِيَامِهَا وَقِيَامِهَا.

اوس بن اوس ثقفی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جو شخص جمعہ کے دن نہلائے اور خود بھی نہائے ١ ؎ پھر صبح سویرے اول وقت میں (مسجد) جائے، شروع سے خطبہ میں رہے، پیدل جائے، سوار نہ ہو اور امام سے قریب ہو کر غور سے خطبہ سنے، اور لغو بات نہ کہے تو اس کو ہر قدم پر ایک سال کے روزے اور شب بیداری کا ثواب ملے گا ۔

Narrated Aws ibn Aws ath-Thaqafi (RA) : I heard the Messenger of Allah ﷺ say: If anyone makes (his wife) wash and he washes himself on Friday, goes out early (for Friday prayer), attends the sermon from the beginning, walking, not riding, takes his seat near the imam, listens attentively, and does not indulge in idle talk, he will get the reward of a years fasting and praying at night for every step he takes.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اپنی بیوی سے صحبت کرنے کے بعد اسے نہلائے اور خود بھی نہائے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٢٣٩ (٤٩٦)، سنن النسائی/الجمعة ١٠ (١٣٨٢)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٨٠ (١٠٨٧)، (تحفة الأشراف: ١٧٣٥) وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٨، ٩، ١٠)، سنن الدارمی/الصلاة ١٩٤ (١٥٨٨) (صحیح )
346Sunan Abu Dawood

جمعہ کے غسل کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: مَنْ غَسَلَ رَأْسَهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاغْتَسَلَ، ثُمَّ سَاقَ نَحْوَهُ.

اس سند سے بھی اوس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے جمعہ کے دن اپنا سر دھویا اور غسل کیا ، پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث بیان کی۔

Aws al-Thaqafi reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: If anyone washes his head on Friday and washes himself; and he narrated the rest of the tradition as above.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: ١٧٣٥) (صحیح )
347Sunan Abu Dawood

جمعہ کے غسل کا بیان

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَقِيلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمِصْرِيَّانِ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ ابْنُ أَبِي عَقِيلٍ: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَمَسَّ مِنْ طِيبِ امْرَأَتِهِ إِنْ كَانَ لَهَا وَلَبِسَ مِنْ صَالِحِ ثِيَابِهِ ثُمَّ لَمْ يَتَخَطَّ رِقَابَ النَّاسِ وَلَمْ يَلْغُ عِنْدَ الْمَوْعِظَةِ، كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا بَيْنَهُمَا، وَمَنْ لَغَا وَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ، كَانَتْ لَهُ ظُهْرًا.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے، اپنی عورت کی خوشبو میں سے اگر اس کے پاس ہو لگائے، اپنے اچھے کپڑے زیب تن کرے، پھر لوگوں کی گردنیں نہ پھاندے اور خطبہ کے وقت بیکار کام نہ کرے، تو یہ اس جمعہ سے اس (یعنی پچھلے) جمعہ تک کے گناہوں کا کفارہ ہوگا، اور جو بلا ضرورت (بیہودہ) باتیں بکے، اور لوگوں کی گردنیں پھاندے، تو وہ جمعہ اس کے لیے ظہر ہوگا ۔

Abdullah bin Amr al-As reported the Prophet ﷺ as saying: Whoever washed himself on Friday and applies perfume of his wife if she has one, and wears good clothes and does not step over the necks of the people (in the mosque to sit in the front row) and does not indulge in idle talk during the sermon, that will atone (for his sins) between the two Fridays. But he who indulges in idle talk and steps over the necks of people (in the mosque), that (Friday) will be for him like the noon prayer.

Takhrij · تخریج
تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: ٨٦٥٩) (حسن )
348Sunan Abu Dawood

جمعہ کے غسل کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ شَيْبَةَ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ الْعَنَزِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ مِنْ أَرْبَعٍ: مِنَ الْجَنَابَةِ، وَيَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَمِنَ الْحِجَامَةِ، وَمِنْ غُسْلِ الْمَيِّتِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ چار چیزوں کی وجہ سے غسل کرتے تھے: (ا) جنابت کی وجہ سے، (٢) جمعہ کے دن (٣) پچھنے لگانے سے، (٤) اور میت کو نہلانے سے۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Prophet ﷺ would take a bath because of sexual defilement on Friday, after opening a vein and after washing a dead body.

Takhrij · تخریج
تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٦١٩٣)، ویأتی عند المؤلف فی الجنازة برقم (٣١٦٠) (ضعیف) (اس کے راوی مصعب بن شیبہ ضعیف ہیں )
349Sunan Abu Dawood

جمعہ کے غسل کا بیان

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَوْشَبٍ، قَالَ: سَأَلْتُ مَكْحُولًا عَنْ هَذَا الْقَوْلِ: غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ، فَقَالَ: غَسَّلَ رَأْسَهُ وَغَسَلَ جَسَدَهُ.

علی بن حوشب کہتے ہیں کہ میں نے مکحول سے اس قول غسل واغتسل کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اس کا مطلب ہے کہ وہ اپنا سر اور بدن دھوئے۔

Makhul was asked about the meaning of words ghassala and ightasala (that occur in tradition 345) and he said: one should was ones head and body well (and not than one should makes ones wife wash).

Takhrij · تخریج
تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٩٤٧١) (صحیح )
350Sunan Abu Dawood

جمعہ کے غسل کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، فِي غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ، قَالَ: قَالَ سَعِيدٌ: غَسَّلَ رَأْسَهُ وَغَسَلَ جَسَدَهُ.

سعید بن عبدالعزیز سے غسل واغتسل کے بارے میں مروی ہے، ابومسہر کہتے ہیں کہ سعید کا کہنا ہے کہ غسل واغتسل کے معنی ہیں: وہ اپنا سر اور اپنا بدن خوب دھلے۔

Explaining the meaning of the words ghassala and ightasala (that occur in tradition 345) Saeed (b. Abd al-Aziz) said: One should wash ones head and body well (And not that one should make ones wife wash).

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٨٦٩١) (صحیح )
351Sunan Abu Dawood

جمعہ کے غسل کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ غُسْلَ الْجَنَابَةِ ثُمَّ رَاحَ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَدَنَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّانِيَةِ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَقَرَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّالِثَةِ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ كَبْشًا أَقْرَنَ، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الرَّابِعَةِ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ دَجَاجَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الْخَامِسَةِ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَيْضَةً، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ حَضَرَتِ الْمَلَائِكَةُ يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس شخص نے جمعہ کے دن غسل جنابت کی ط رح غسل کیا پھر (پہلی گھڑی میں) جمعہ کے لیے (مسجد) گیا تو گویا اس نے ایک اونٹ اللہ کی راہ میں پیش کیا، جو دوسری گھڑی میں گیا گویا اس نے ایک گائے اللہ کی راہ میں پیش کی، اور جو تیسری گھڑی میں گیا گویا اس نے ایک سینگ دار مینڈھا اللہ کی راہ میں پیش کیا، جو چوتھی گھڑی میں گیا گویا اس نے ایک مرغی اللہ کی راہ میں پیش کی، اور جو پانچویں گھڑی میں گیا گویا اس نے ایک انڈا اللہ کی راہ میں پیش کیا، پھر جب امام (خطبہ کے لیے) نکل آتا ہے تو فرشتے بھی آجاتے ہیں اور ذکر (خطبہ) سننے لگتے ہیں ۔

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Whoever takes bath due to sexual defilement on Friday and goes out (for Friday prayer), is treated like one who offers a camel as sacrifice; he who goes out in the second instance as one who offers a cow; he who goes out in the third instance is treated as one who offers horned cow ; he who goes out in the fourth instance is treated as one who offers hen ; he who goes out in the fifth instance is treated as one who offers an egg. When the Imam comes out (for sermon), the angels too attend to listen to the sermon.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجمعة ٤ (٨٨١)، وبدء الخلق ٦ (٣٢١١)، صحیح مسلم/الجمعة ٧ (٨٥٠)، سنن الترمذی/الجمعة ٦ (٤٩٩)، سنن النسائی/١٧٠٨، من الکبریٰ، (تحفة الأشراف: ١٢٥٦٩)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الإمامة ٥٩ (٨٦٥)، والجمعة ١٣ (١٣٨٦)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٨٢ (١٠٩٢)، موطا امام مالک/الجمعة ١(١)، مسند احمد (٢/٢٣٩، ٢٥٩، ٢٨٠، ٥٠٥، ٥١٢)، سنن الدارمی/الصلاة ١٩٣ (١٥٨٥) (صحیح )
352Sunan Abu Dawood

جمعہ کے دن غسل نہ کرنے کی اجازت

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّاسُ مُهَّانَ أَنْفُسِهِمْ، فَيَرُوحُونَ إِلَى الْجُمُعَةِ بِهَيْئَتِهِمْ، فَقِيلَ لَهُمْ: لَوِ اغْتَسَلْتُمْ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ لوگ اپنے کام خود کرتے تھے، اور جمعہ کے لیے اسی حالت میں چلے جاتے تھے (ان کی بو سے لوگوں کو تکلیف ہوتی تھی، جب اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے ہوا) تو ان لوگوں سے کہا گیا: کاش تم لوگ غسل کر کے آتے ۔

Aishah said: The people (mostly) were workers and they would come for Friday prayer in the same condition, so it was said to them: If only you were to perform Ghusl.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجمعة ١٦ (٩٠٣)، والبیوع ١٥ (٢٠٧١)، صحیح مسلم/الجمعة ١ (٨٤٧)، (تحفة الأشراف: ١٧٩٣٥)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الجمعة ٩ (١٣٨٠)، مسند احمد (٦/٦٢) (صحیح )
353Sunan Abu Dawood

جمعہ کے دن غسل نہ کرنے کی اجازت

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ أُنَاسًا مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ جَاءُوا، فَقَالُوا: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، أَتَرَى الْغُسْلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاجِبًا ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنَّهُ أَطْهَرُ وَخَيْرٌ لمن اغتسل، ومن لم يغتسل فليس عليه بواجب، وَسَأُخْبِرُكُمْ كَيْفَ بَدْءُ الْغُسْلِ، كَانَ النَّاسُ مَجْهُودِينَ يَلْبَسُونَ الصُّوفَ وَيَعْمَلُونَ عَلَى ظُهُورِهِمْ وَكَانَ مَسْجِدُهُمْ ضَيِّقًا مُقَارِبَ السَّقْفِ إِنَّمَا هُوَ عَرِيشٌ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ حَارٍّ وَعَرِقَ النَّاسُ فِي ذَلِكَ الصُّوفِ حَتَّى ثَارَتْ مِنْهُمْ رِيَاحٌ آذَى بِذَلِكَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، فَلَمَّا وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ الرِّيحَ، قَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ، إِذَا كَانَ هَذَا الْيَوْمَ فَاغْتَسِلُوا وَلْيَمَسَّ أَحَدُكُمْ أَفْضَلَ مَا يَجِدُ مِنْ دُهْنِهِ وَطِيبِهِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ثُمَّ جَاءَ اللَّهُ بِالْخَيْرِ، وَلَبِسُوا غَيْرَ الصُّوفِ وَكُفُوا الْعَمَلَ وَوُسِّعَ مَسْجِدُهُمْ وَذَهَبَ بَعْضُ الَّذِي كَانَ يُؤْذِي بَعْضُهُمْ بَعْضًا مِنَ الْعَرَقِ.

عکرمہ کہتے ہیں کہ عراق کے کچھ لوگ آئے اور کہنے لگے: اے ابن عباس! کیا جمعہ کے روز غسل کو آپ واجب سمجھتے ہیں؟ آپ نے کہا: نہیں، لیکن جو غسل کرے اس کے لیے یہ بہتر اور پاکیزگی کا باعث ہے، اور جو غسل نہ کرے اس پر واجب نہیں ہے، اور میں تم کو بتاتا ہوں کہ غسل کی ابتداء کیسے ہوئی: لوگ پریشان حال تھے، اون پہنا کرتے تھے، اپنی پیٹھوں پر بوجھ ڈھوتے تھے، ان کی مسجد بھی تنگ تھی، اس کی چھت نیچی تھی بس کھجور کی شاخوں کا ایک چھپر تھا، (ایک بار) ایسا ہوا کہ رسول اللہ ﷺ سخت گرمی کے دن نکلے، لوگوں کو کمبل پہننے کی وجہ سے بےحد پسینہ آیا یہاں تک کہ ان کی بدبو پھیلی اور اس سے ایک دوسرے کو تکلیف ہوئی، تو جب یہ بو رسول اللہ ﷺ کو محسوس ہوئی تو آپ نے فرمایا: لوگو! جب یہ دن ہوا کرے تو تم غسل کرلیا کرو، اور اچھے سے اچھا جو تیل اور خوشبو میسر ہو لگایا کرو ، ابن عباس کہتے ہیں: پھر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو وسعت دی، وہ لوگ اون کے علاوہ کپڑے پہننے لگے، خود محنت کرنے کی ضرورت نہیں رہی، ان کی مسجد بھی کشادہ ہوگئی، اور پسینے کی بو سے ایک دوسرے کو جو تکلیف ہوتی تھی ختم ہوگئی۔

Amr bin Abi Amr and Ikrimah reported: Some people of Iraq came and said: Ibn Abbas, do you regard taking a bath on Friday as obligatory ? He said: No, it is only a means of cleanliness, and is better for one who washes oneself. Anyone who does not take a bath, it is not essential for him. I inform you how the bath (on Friday) commenced. The people were poor and used to wear woolen clothes, and would carry loads on their backs. Their mosque was small and its rood was lowered down. It was a sort of trellis of vine. The Messenger of Allah ﷺ once came out on a hot day and the people perspired profusely in the woolen clothes so much so that foul smell emitted from them and it caused trouble to each other. When the Messenger of Allah ﷺ found the foul smell, he said: O people, when this day (Friday) comes, you should take bath and every one should anoint the best oil and perfume one has. Ibn Abbas then said: Then Allah, the Exalted, provided wealth (to the people) and they wore clothes other than the woolen, and were spared from work, and their mosque became vast. The foul smell that caused trouble to them became non-existent.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٦١٧٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة ٦ (٨٨٣)، مسند احمد (٦/٢٧٦) (حسن )
354Sunan Abu Dawood

جمعہ کے دن غسل نہ کرنے کی اجازت

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَوَضَّأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَبِهَا وَنِعْمَتْ، وَمَنِ اغْتَسَلَ فَهُوَ أَفْضَلُ.

سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے جمعہ کے دن وضو کیا، تو اس نے سنت پر عمل کیا اور یہ اچھی بات ہے، اور جس نے غسل کیا تو یہ افضل ہے ١ ؎۔

Narrated Samurah (RA) : If any one of you performs ablution (on Friday) that is all right; and if any of you takes a bath, that is better.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں اس بات کی صراحت ہے کہ جمعہ کے لئے وضو کافی ہے اور غسل افضل ہے فرض نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجمعة ٥ (٤٩٧)، سنن النسائی/الجمعة ٩ (١٣٨١)، مسند احمد (٥/١٥، ١٦، ٢٢)، (تحفة الأشراف: ٤٥٨٧) (حسن) (یہ حدیث متعدد صحابہ سے مروی ہے اور سب کی سندیں ضعیف ہیں، یہ سند بھی ضعیف ہے کیونکہ حسن بصری (رح) کا سمرہ ؓ سے حدیث عقیقہ کے سوا سماع ثابت نہیں، ہاں تمام طرق سے تقویت پا کر یہ حدیث حسن لغیرہ کے درجہ تک پہنچ جاتی ہے، متن کی تائید صحیح احادیث سے بھی ہوتی ہے )
355Sunan Abu Dawood

قبول اسلام کے وقت غسل کرنا مستحب ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الْأَغَرُّ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ جَدِّهِ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيدُ الْإِسْلَامَ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَغْتَسِلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ.

قیس بن عاصم ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں اسلام لانے کے ارادے سے حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے مجھے پانی اور بیر کی پتی سے غسل کرنے کا حکم دیا۔

Narrated Qays ibn Asim: I came to the Prophet ﷺ with the intention of embracing Islam. He commanded me to take a bath with water (boiled with) the leaves of the lote-tree.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٣٠٣ (٦٠٥)، سنن النسائی/الطھارة ١٢٦ (١٨٨)، (تحفة الأشراف: ١١١٠٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٦١) (صحیح )
356Sunan Abu Dawood

قبول اسلام کے وقت غسل کرنا مستحب ہے

حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أُخْبِرْتُ عَنْ عُثَيْمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْجَدِّهِ، أَنَّهُ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: قَدْ أَسْلَمْتُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلْقِ عَنْكَ شَعْرَ الْكُفْرِ يَقُولُ: احْلِقْ، قَالَ: وأَخْبَرَنِي آخَرُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِآخَرَ مَعَهُ: أَلْقِ عَنْكَ شَعْرَ الْكُفْرِ وَاخْتَتِنْ.

کلیب کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور بولے: میں اسلام لے آیا ہوں، تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا: تم اپنے (بدن) سے کفر کے بال صاف کراؤ ، آپ ﷺ فرما رہے تھے: بال منڈوا لو ، عثیم کے والد کا بیان ہے کہ ایک دوسرے شخص نے مجھے یہ خبر دی کہ نبی اکرم ﷺ نے دوسرے شخص سے جو ان کے ساتھ تھا فرمایا: تم اپنے (بدن) سے کفر کے بال صاف کرو اور ختنہ کرو ۔

Uthaim bin Kulaib reported from his father (Kuthair) on the authority of his grandfather (Kulaib) that he came to the Prophet ﷺ : I have embraced Islam. The Prophet ﷺ said to him: Remove from yourself the hair that grew during of unbelief, saying shave them. He further says that another person (other than the grandfather of Uthaim) reported to him that the Prophet ﷺ said to another person who accompanied him: Remove from yourself the hair that grew during the period of unbelief and get yourself circumcised.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١١١٦٨، ١٥٦٦٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤١٥) (حسن) ( اس کی سند میں ضعف ہے: ابن جریج اور عثیم کے درمیان ایک راوی مجہول ہے، نیز خود عثیم اور ان کے والد کثیر بن کلیب بھی مجہول ہیں، اس کو تقویت قتادہ اور ابو ہشام کی حدیث سے ہے جو طبرانی میں ہے ١٩ ؍ ١٤) (صحیح ابی داود: ٣٨٣)۔
357Sunan Abu Dawood

حالت حیض میں پہنے ہوئے لباس کو دھونے کا مسئلہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَتْنِي أُمُّ الْحَسَنِ يَعْنِي جَدَّةَ أَبِي بَكْرٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ مُعَاذَةَ، قَالَتْ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْحَائِضِ يُصِيبُ ثَوْبَهَا الدَّمُ، قَالَتْ: تَغْسِلُهُ، فَإِنْ لَمْ يَذْهَبْ أَثَرُهُ فَلْتُغَيِّرْهُ بِشَيْءٍ مِنْ صُفْرَةٍ، قَالَتْ: وَلَقَدْ كُنْتُ أَحِيضُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ حِيَضٍ جَمِيعًا لَا أَغْسِلُ لِي ثَوْبًا.

معاذہ کہتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے اس حائضہ کے بارے میں دریافت کیا جس کے کپڑے پر (حیض کا) خون لگ جائے، تو انہوں نے کہا: وہ اسے دھو ڈالے اور اگر اس کا اثر زائل نہ ہو تو اسے کسی زرد چیز سے (رنگ کر) بدل دے ، عائشہ ؓ کہتی ہیں: مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس تین تین حیض اکٹھے لگاتار آتے تھے، میں (ایام حیض میں پہنا ہوا) اپنا کپڑا نہیں دھوتی تھی ۔

Muadhah said that Aisha (RA) was asked about (washing) the clothes of a menstruating woman smeared with blood. She said: She should wash it; in case mark is not removed she should change it by applying some yellow color. I had three menstruations together while I lives with the Messenger of Allah ﷺ , but I did not wash my clothes.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧٩٧١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٥٠)، سنن الدارمی/الطھارة ١٠٤ (١٠٥٢) (صحیح )
358Sunan Abu Dawood

حالت حیض میں پہنے ہوئے لباس کو دھونے کا مسئلہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ يَذْكُرُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: مَا كَانَ لِإِحْدَانَا إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ تَحِيضُ فِيهِ، فَإِنْ أَصَابَهُ شَيْءٌ مِنْ دَمٍ بَلَّتْهُ بِرِيقِهَا ثُمَّ قَصَعَتْهُ بِرِيقِهَا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ہم میں سے کسی کے پاس سوائے ایک کپڑے کے کوئی اور کپڑا نہیں ہوتا تھا، اسی کپڑے میں اسے حیض (بھی) آتا تھا، اگر اس میں (حیض کا) کچھ خون لگ جاتا تو وہ اپنے تھوک سے اسے تر کرتی پھر اسے تھوک کے ذریعہ ناخن سے کھرچ دیتی تھی۔

Aishah said: Each of us (wives of the Prophet) had only one clothe in which she would menstruate. Whenever it was smeared with blood, she would moisten it with her saliva and scratch it with saliva.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحیض ١١ (٣١٢)، (تحفة الأشراف: ١٧٥٧٥)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الطھارة ١٠٤ (١٠٥٥) (صحیح )
359Sunan Abu Dawood

حالت حیض میں پہنے ہوئے لباس کو دھونے کا مسئلہ

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا بَكَّارُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي، قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلَتْهَا امْرَأَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ عَنْ الصَّلَاةِ فِي ثَوْبِ الْحَائِضِ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: قَدْ كَانَ يُصِيبُنَا الْحَيْضُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَلْبَثُ إِحْدَانَا أَيَّامَ حَيْضِهَا ثُمَّ تَطَّهَّرُ فَتَنْظُرُ الثَّوْبَ الَّذِي كَانَتْ تَقْلِبُ فِيهِ، فَإِنْ أَصَابَهُ دَمٌ غَسَلْنَاهُ وَصَلَّيْنَا فِيهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ أَصَابَهُ شَيْءٌ تَرَكْنَاهُ، وَلَمْ يَمْنَعْنَا ذَلِكَ مِنْ أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِ، وَأَمَّا الْمُمْتَشِطَةُ، فَكَانَتْ إِحْدَانَا تَكُونُ مُمْتَشِطَةً فَإِذَا اغْتَسَلَتْ لَمْ تَنْقُضْ ذَلِكَ وَلَكِنَّهَا تَحْفِنُ عَلَى رَأْسِهَا ثَلَاثَ حَفَنَاتٍ، فَإِذَا رَأَتِ الْبَلَلَ فِي أُصُولِ الشَّعْرِ دَلَكَتْهُ ثُمَّ أَفَاضَتْ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهَا.

بکار بن یحییٰ کی دادی سے روایت ہے کہ میں ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کے پاس گئی تو قریش کی ایک عورت نے ان سے حیض کے کپڑے میں نماز پڑھنے کے متعلق سوال کیا، تو ام سلمہ نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ہمیں حیض آتا تو ہم میں سے (جسے حیض آتا) وہ اپنے حیض کے دنوں میں ٹھہری رہتی، پھر وہ حیض سے پاک ہوجاتی تو ان کپڑوں کو جن میں وہ حیض سے ہوتی تھی دیکھتی، اگر ان میں کہیں خون لگا ہوتا تو ہم اسے دھو ڈالتے، پھر اس میں نماز پڑھتے، اور اگر ان میں کوئی چیز نہ لگی ہوتی تو ہم انہیں چھوڑ دیتے اور ہمیں ان میں نماز پڑھنے سے یہ چیز مانع نہ ہوتی، رہی ہم میں سے وہ عورت جس کے بال گندھے ہوتے تو وہ جب غسل کرتی تو اپنی چوٹی نہیں کھولتی، البتہ تین لپ پانی لے کر اپنے سر پر ڈالتی، جب وہ بال کی جڑوں تک تری دیکھ لیتی تو ان کو ملتی، پھر اپنے سارے بدن پر پانی بہاتی۔

Narrated Umm Salamah, Ummul Muminin (RA) : Bakkar ibn Yahya said that his grandmother narrated to him: I entered upon Umm Salamah. A woman from the Quraysh asked her about praying with the clothes which a woman wore while she menstruated. Umm Salamah said: We would menstruate in the lifetime of the Messenger of Allah ﷺ . Then each one of us refrained (from prayer) during menstrual period. When she was purified, she would look at the clothe in which she menstruated. If it were smeared with blood, we would wash it and pray with it; if there were nothing in it, we would leave it and that would not prevent us from praying with it (the same clothe). As regards the woman who had plaited hair - sometimes each of us had plaited hair - when she washed, she would not undo the hair. She would instead pour three handfuls of water upon her head. When she felt moisture in the roots of her hair, she would rub them. Then she would pour water upon her whole body.

Takhrij · تخریج
تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٨٢٩٨) (ضعیف) (اس کے راوی بکار بن یحییٰ اور ان کی دادی مجہول ہیں )
360Sunan Abu Dawood

حالت حیض میں پہنے ہوئے لباس کو دھونے کا مسئلہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْأَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: سَمِعْتُ امْرَأَةً تَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ تَصْنَعُ إِحْدَانَا بِثَوْبِهَا إِذَا رَأَتِ الطُّهْرَ، أَتُصَلِّي فِيهِ ؟ قَالَ: تَنْظُرُ، فَإِنْ رَأَتْ فِيهِ دَمًا فَلْتَقْرُصْهُ بِشَيْءٍ مِنْ مَاءٍ، وَلْتَنْضَحْ مَا لَمْ تَرَ وَلْتُصَلِّي فِيهِ.

اسماء بنت ابی بکر ؓ کہتی ہیں کہ میں نے ایک عورت کو رسول اللہ ﷺ سے پوچھتے سنا: جب ہم میں سے کوئی عورت پاکی دیکھ لے تو ایام حیض میں پہنے ہوئے کپڑوں کو وہ کیا کرے؟ کیا اس میں نماز پڑھے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ اسے دیکھے اگر اس کپڑے میں خون لگا ہوا نظر آئے تو تھوڑے سے پانی سے اسے کھرچ دے اور دھو لے یہاں تک کہ وہ چھوٹ جائے، اور اس میں نماز پڑھے ۔

Asma daughter of Abu Bakr said: I heard a woman asking the Messenger of Allah ﷺ : What should any of us to with her clothe (in which she menstruated) when she becomes purified ? Can she pray in that (clothe) ? He said: She should see; if she finds blood in it, she should scratch it with some water and (in case of doubt) sprinkle upon it (some water) and pray so long as she does not find (any blood).

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٧٤٢) (حسن صحیح) (اس سند میں ابن اسحاق مدلس راوی ہیں اور عنعنہ سے روایت کی ہے، مگر اگلی سند اور صحیحین کی سندوں میں ثقہ رواة ہیں )
361Sunan Abu Dawood

حالت حیض میں پہنے ہوئے لباس کو دھونے کا مسئلہ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهَا قَالَتْ: سَأَلَتِ امْرَأَةٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِحْدَانَا إِذَا أَصَابَ ثَوْبَهَا الدَّمُ مِنَ الْحَيْضَةِ، كَيْفَ تَصْنَعُ ؟ قَالَ: إِذَا أَصَابَ إِحْدَاكُنَّ الدَّمُ مِنَ الْحَيْضِ، فَلْتَقْرُصْهُ ثُمَّ لِتَنْضَحْهُ بِالْمَاءِ ثُمَّ لِتُصَلِّي.

اسماء بنت ابی بکر ؓ کہتی ہیں کہ ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: اللہ کے رسول! بتائیے اگر ہم میں سے کسی کے کپڑے میں حیض کا خون لگ جائے تو وہ کیا کرے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے کپڑے میں حیض کا خون لگ جائے تو اسے چٹکیوں سے مل دے، پھر اسے پانی سے دھو ڈالے پھر (اس میں) نماز پڑھے ۔

Asma daughter of Abu Bakr said: A woman asked the Messenger of Allah ﷺ : Messenger of Allah, what do you think if the clothe of any of us smeared with the blood of menstruation; what should she do ? He said: If (the clothe of) any of you is smeared with blood of menstruation, she should scratch it; then she should sprinkle water upon it and then she may pray.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٦٣ (٢٢٧)، والحیض ٩ (٣٠٧)، صحیح مسلم/الطھارة ٣٣ (٢٩١)، سنن الترمذی/الطھارة ١٠٤ (١٣٨)، سنن النسائی/الطھارة ١٨٥ (٢٩٤)، والحیض ٢ (٣٥٠)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١١٨ (٦٢٩)، (تحفة الأشراف: ١٥٧٤٣)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطھارة (٢٨/١٠٣)، مسند احمد (٦/٣٤٥، ٣٤٦، ٣٥٣)، سنن الدارمی/الطھارة ٨٢ (٧٩٩) (صحیح )