قبول اسلام کے وقت غسل کرنا مستحب ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الْأَغَرُّ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ جَدِّهِ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيدُ الْإِسْلَامَ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَغْتَسِلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ.
قیس بن عاصم ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں اسلام لانے کے ارادے سے حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے مجھے پانی اور بیر کی پتی سے غسل کرنے کا حکم دیا۔
Narrated Qays ibn Asim: I came to the Prophet ﷺ with the intention of embracing Islam. He commanded me to take a bath with water (boiled with) the leaves of the lote-tree.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٣٠٣ (٦٠٥)، سنن النسائی/الطھارة ١٢٦ (١٨٨)، (تحفة الأشراف: ١١١٠٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٦١) (صحیح )