ادب کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 38 · 493 hadiths · Page 14 of 26

5038Sunan Abu Dawood

ذمی کافر کو چھینک کا جواب کیسے دیا جائے

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ الدَّيْلَمِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَتْ الْيَهُودُ تَعَاطَسُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَاءَ أَنْ يَقُولَ لَهَا: يَرْحَمُكُمُ اللَّهُ، فَكَانَ يَقُولُ: يَهْدِيكُمُ اللَّهُ، وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ.

ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس یہود جان بوجھ کر اس امید میں چھینکا کرتے کہ آپ ان کے لئے يرحمکم الله تم پر اللہ کی رحمت ہو کہہ دیں، لیکن آپ فرماتے: يهديكم الله ويصلح بالکم اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہارا حال درست کرے ۔

Narrated Abu Burdah (RA) : The Jews used to try to sneezes in the presence of the Prophet ﷺ hoping that he would say to them: Allah have mercy on you! but he would say: May Allah guide you and grant you well-being!

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأدب ٣ (٢٧٣٩)، (تحفة الأشراف: ٩٠٨٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٠٠، ٤١١) (صحیح )
5039Sunan Abu Dawood

ذمی کافر کو چھینک کا جواب کیسے دیا جائے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: عَطَسَ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَمَّتَ أَحَدَهُمَا وَتَرَكَ الْآخَرَ، قَالَ: فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَجُلَانِ عَطَسَا فَشَمَّتَّ أَحَدَهُمَا، قَالَ أَحْمَدُ: أَوْ فَسَمَّتَّ أَحَدَهُمَا وَتَرَكْتَ الْآخَرَ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا حَمِدَ اللَّهَ، وَإِنَّ هَذَا لَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ دو لوگوں کو نبی اکرم ﷺ کے پاس چھینک آئی تو آپ نے ان میں سے ایک کی چھینک کا جواب دیا اور دوسرے کو نہ دیا، تو آپ سے پوچھا گیا: اللہ کے رسول! دو لوگوں کو چھینک آئی، تو آپ نے ان میں سے ایک کو جواب دیا؟۔ احمد کی روایت میں اس طرح ہے: کیا آپ نے ان دونوں میں سے ایک کو جواب دیا، دوسرے کو نہیں دیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا: دراصل اس نے الحمد الله کہا تھا اور اس نے الحمد الله نہیں کہا تھا۔

Anas said: Two men sneezed in the presence of the prophet ﷺ . He said: Allah have mercy on you! To one and not to the other. He was asked: Messenger of Allah! Two persons sneezed. Ahmad’s version has: You invoked a blessing on one of them and left the other. He replied: This man praised Allah, and this man did not praise Allah.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأدب ١٢٣(٦٢٢١)، صحیح مسلم/الزہد ٩ (٢٩٩١)، سنن الترمذی/الأدب ٤ (٢٧٤٢)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٢٠ (٣٧١٣)، (تحفة الأشراف: ٨٧٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٠٠، ١١٧، ١٧٦) (صحیح )
5040Sunan Abu Dawood

پیٹ کے بل لیٹنے والے شخص کا حکم

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَعِيشَ بْنِ طَخْفَةَ بْنِ قَيْسٍ الْغِفَارِيِّ، قَالَ: كَانَ أَبِي مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى بَيْتِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَانْطَلَقْنَا، فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ، أَطْعِمِينَا فَجَاءَتْ بِحَشِيشَةٍ فَأَكَلْنَا، ثُمَّ قَالَ: يَا عَائِشَةُ، أَطْعِمِينَا، فَجَاءَتْ بِحَيْسَةٍ مِثْلِ الْقَطَاةِ فَأَكَلْنَا، ثُمَّ قَالَ: يَا عَائِشَةُ، اسْقِينَا، فَجَاءَتْ بِعُسٍّ مِنْ لَبَنٍ فَشَرِبْنَا، ثُمَّ قَالَ: يَا عَائِشَةُ، اسْقِينَا، فَجَاءَتْ بِقَدَحٍ صَغِيرٍ فَشَرِبْنَا، ثُمَّ قَالَ: إِنْ شِئْتُمْ بِتُّمْ، وَإِنْ شِئْتُمُ انْطَلَقْتُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ، قال: فَبَيْنَمَا أَنَا مُضْطَجِعٌ فِي الْمَسْجِدِ مِنَ السَّحَرِ عَلَى بَطْنِي، إِذَا رَجُلٌ يُحَرِّكُنِي بِرِجْلِهِ، فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ ضِجْعَةٌ يُبْغِضُهَا اللَّهُ، قَالَ: فَنَظَرْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

یعیش بن طخفہ بن قیس غفاری کہتے ہیں کہ میرے والد اصحاب صفہ میں سے تھے تو (ایک بار) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہمارے ساتھ عائشہ ؓ کے گھر چلو تو ہم گئے، آپ ﷺ نے فرمایا: عائشہ! ہمیں کھانا کھلاؤ وہ دلیا لے کر آئیں تو ہم نے کھایا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: عائشہ! ہمیں کھانا کھلاؤ تو وہ تھوڑا سا حیس ١ ؎ لے کر آئیں، قطاۃ پرند کے برابر، تو (اسے بھی) ہم نے کھایا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: عائشہ! ہم کو پلاؤ تو وہ دودھ کا ایک بڑا پیالہ لے کر آئیں، تو ہم نے پیا، پھر آپ ﷺ نے (ہم لوگوں سے) فرمایا: تم لوگ چاہو (ادھر ہی) سو جاؤ، اور چاہو تو مسجد چلے جاؤ وہ کہتے ہیں: تو میں (مسجد میں) صبح کے قریب اوندھا (پیٹ کے بل) لیٹا ہوا تھا کہ یکایک کوئی مجھے اپنے پیر سے ہلا کر جگانے لگا، اس نے کہا: اس طرح لیٹنے کو اللہ ناپسند کرتا ہے، میں نے (آنکھ کھول کر) دیکھا تو وہ رسول اللہ ﷺ تھے۔

Narrated Tikhfat al-Ghifari (RA) : Yaish ibn Tikhfat al-Ghifari said: My father was one of the people in the Suffah. The Messenger of Allah ﷺ said: Come with us to the house of Aisha (RA) . So we went and he said: Give us food, Aisha (RA) . She brought hashishah and we ate. He then said: Give us food, Aisha (RA) . She then brought haysah as small in quantity as a pigeon and we ate. He then said: Give us something to drink, Aisha (RA) . So she brought a bowl of milk, and we drank. Again he said: Give us something to drink, Aisha (RA) . She then brought a small cup and we drank. He then said: If you wish, you may spend the night (here), or if you wish, you may go to the mosque. He said: While I was lying on my stomach because of pain in the lung, a man began to shake me with his foot and then said: This is a method of lying which Allah hates. I looked and saw that he was the Messenger of Allah ﷺ .

Notes · وضاحت
١ ؎: حیس ایک عربی کھانا ہے جو کھجور، ستو، پنیر اور گھی سے بنتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/ المساجد ٦ (٧٥٢)، الأدب ٢٧ (٣٧٢٣)، (تحفة الأشراف: ٤٩٩١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٢٩) (ضعیف) (سند میں سخت اضطراب ہے، طخفة بن قیس (ف) سے یا طھفہ (ہ) سے، اس کو قیس بن طخفة نیز یعیش بن طخفة ابو تغفة کہتے ہیں، حتی کہ یہ بھی کہا گیا کہ وہ نہیں بلکہ ان کے والد صحابی تھے، لیکن پیٹ کے بل لیٹنے کی ممانعت ثابت ہے )
5041Sunan Abu Dawood

بغیر رکاوٹ والی چھت پر سونا صحیح نہیں ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا سَالِمٌ يَعْنِي ابْنَ نُوحٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ جَابِرٍ الْحَنَفِيِّ، عَنْ وَعْلَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَثَّابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلِيٍّ يَعْنِي ابْنَ شَيْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ بَاتَ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ لَيْسَ لَهُ حِجَارٌ، فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ.

علی بن شیبان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص گھر کی ایسی چھت پر سوئے جس پر پتھر (کی مڈیر) نہ ہو (یعنی کوئی چہار دیواری نہ ہو تو اس سے (حفاظت کا) ذمہ اٹھ گی (گرے یا بچے وہ جانے)۔

Narrated Ali ibn Shayban (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone spends the night on the roof of a house with no stone palisade, Allahs responsibility to guard him no longer applies.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠٠٢٠) (صحیح )
5042Sunan Abu Dawood

پاک ہو کر (باوضو) سونا باعث فضیلت ہے

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي ظَبْيَةَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَبِيتُ عَلَى ذِكْرٍ طَاهِرًا، فَيَتَعَارُّ مِنَ اللَّيْلِ، فَيَسْأَلُ اللَّهَ خَيْرًا مِنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ، قال ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ: قَدِمَ عَلَيْنَا أَبُو ظَبْيَةَ فَحَدَّثَنَا بِهَذَا الْحَدِيثِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ ثَابِتٌ: قَالَ فُلَانٌ: لَقَدْ جَهِدْتُ أَنْ أَقُولَهَا حِينَ أَنْبَعِثُ، فَمَا قَدَرْتُ عَلَيْهَا.

معاذ بن جبل ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو بھی مسلمان اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہوا باوضو سوتا ہے پھر رات میں (کسی بھی وقت) چونک کر اٹھتا ہے اور اللہ سے دنیا اور آخرت کی بھلائی کا سوال کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور دیتا ہے ۔ ثابت بنانی کہتے ہیں: ہمارے پاس ابوظبیہ آئے تو انہوں نے ہم سے معاذ بن جبل کی یہ حدیث بیان کی، جسے وہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔ ثابت بنانی کہتے ہیں: فلاں شخص نے کہا ١ ؎ کہ میں نے اپنی نیند سے بیدار ہوتے وقت کئی بار اس کلمہ کے ٢ ؎ ادا کرنے کی کوشش کی مگر کہہ نہ سکا ٣ ؎۔

Narrated Muadh ibn Jabal (RA) : The Prophet ﷺ said: If a Muslim sleeps while remembering Allah, in the state of purification, is alarmed while asleep at night, and asks Allah for good in this world and in the Hereafter. He surely gives it to him. Thabit al-Bunani said: Abu Zabyah came to visit us and he transmitted this tradition to us from Muadh ibn Jabal from the Prophet ﷺ . Thabit said: So and so said: I tried my best to utter these (prayers) when I got up, but I could not do.

Notes · وضاحت
١ ؎: ثابت بنانی نے کسی وجہ سے کہنے والے کا نام ظاہر نہیں کیا۔ ٢ ؎: اس سے مراد دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ سے خیر کا سوال ہے۔ ٣ ؎: شاید ایسا نسیان یا دنیاوی امور میں مشغولیت کے سبب ہوا ہو۔ واللہ اعلم
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الدعاء ١٦(٣٨٨١)، (تحفة الأشراف: ١١٣٧١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٣٥، ٢٤٤) (صحیح )
5043Sunan Abu Dawood

پاک ہو کر (باوضو) سونا باعث فضیلت ہے

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَامَ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَضَى حَاجَتَهُ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ نَامَ، قال أبو داود: يَعْنِي بَالَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات میں بیدار ہوئے پھر اپنی ضرورت سے فارغ ہوئے، پھر اپنا ہاتھ منہ دھویا، پھر سو گئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اپنی ضرورت سے فارغ ہونے کا مطلب ہے پیشاب کیا۔

Ibn Abbas said: The Messenger of Allah ﷺ got up at night, fulfilled his need and washed his face and hand and then slept. Abu Dawud said: that is to say, he urinated

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الدعوات ١٠ (٦٣١٦)، صحیح مسلم/الحیض ٥ (٧٦٣)، سنن النسائی/التطبیق ٦٣ (١١٢٢)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٧١ (٥٠٨)، (تحفة الأشراف: ٦٣٥٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣٤، ٢٨٣، ٢٨٤، ٣٤٣) (صحیح )
5044Sunan Abu Dawood

سوتے وقت کس طرف منہ رکھے؟

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ بَعْضِ آلِ أُمِّ سَلَمَةَكَانَ فِرَاشُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوًا مِمَّا يُوضَعُ الْإِنْسَانُ فِي قَبْرِهِ، وَكَانَ الْمَسْجِدُ عِنْدَ رَأْسِهِ.

ام سلمہ کی اولاد میں سے ایک شخص سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا بستر اس طرح بچھایا جاتا جس طرح انسان اپنی قبر میں لٹایا جاتا ہے، اور مسجد (نماز پڑھنے کی جگہ یا مسجد نبوی) آپ کے سرہانے ہوتی۔

Narrated Umm Salamah, Ummul Muminin (RA) : Some relative of Umm Salamah said: The bed of the Prophet ﷺ was set as a man is laid in his grave; the mosque was towards his head.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود (ضعیف) (اس کی سند میں ایک مبہم راوی ہے، معلوم نہیں صحابی ہے یا تابعی )
5045Sunan Abu Dawood

سونے کی دعا کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ سَوَاءٍ، عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْقُدَ، وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى تَحْتَ خَدِّهِ، ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ ثَلَاثَ مِرَارٍ.

ام المؤمنین حفصہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب سونے کا ارادہ فرماتے تو اپنا داہنا ہاتھ اپنے گال کے نیچے رکھتے، پھر تین مرتبہ اللهم قني عذابک يوم تبعث عبادک اے اللہ جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے اس دن مجھے اپنے عذاب سے بچا لے کہتے۔

Narrated Hafsah, Ummul Muminin (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ wanted to go to sleep, he put his right hand under his cheek and would then say three times: O Allah, guard me from Thy punishment on the day when Thou raisest up Thy servants.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٥٧٩٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٨٧) (صحیح) (لیکن تین بار لفظ صحیح نہیں ہے )
5046Sunan Abu Dawood

سونے کی دعا کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِر، قَالَ: سَمِعْتُ مَنْصُورًا يُحَدِّثُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ، قَالَ: قال لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَتَيْتَ مَضْجَعَكَ، فَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلَى شِقِّكَ الْأَيْمَنِ، وَقُلْ: اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، رَهْبَةً وَرَغْبَةً إِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَى مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ، قَالَ: فَإِنْ مِتَّ مِتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ، وَاجْعَلْهُنَّ آخِرَ مَا تَقُولُ، قَالَ الْبَرَاءُ: فَقُلْتُ: أَسْتَذْكِرُهُنَّ، فَقُلْتُ: وَبِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ، قال: لَا، وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ.

براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: جب تم اپنی خواب گاہ میں آؤ (یعنی سونے چلو) تو وضو کرو جیسے اپنے نماز کے لیے وضو کرتے ہو، پھر اپنی داہنی کروٹ پر لیٹو، اور کہو اللهم أسلمت وجهي إليك وفوضت أمري إليك وألجأت ظهري إليك رهبة ورغبة إليك لا ملجأ ولا منجى منك إلا إليك آمنت بکتابک الذي أنزلت وبنبيك الذي أرسلت اے اللہ میں نے اپنی ذات کو تیری تابعداری میں دے دیا، میں نے اپنا معاملہ تیرے سپرد کردیا، میں نے امید وبیم کے ساتھ تیری ذات پر بھروسہ کیا، تجھ سے بھاگ کر تیرے سوا کہیں اور جائے پناہ نہیں، میں ایمان لایا اس کتاب پر جو تو نے نازل فرمائی ہے، اور میں ایمان لایا تیرے اس نبی پر جسے تو نے بھیجا ہے آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تم (یہ دعا پڑھ کر) انتقال کر گئے تو فطرت (یعنی دین اسلام) پر انتقال ہوا اور اس دعا کو اپنی دیگر دعاؤں کے آخر میں پڑھو براء کہتے ہیں: اس پر میں نے کہا کہ میں انہیں یاد کرلوں گا، تو میں نے (یاد کرتے ہوئے) کہا وبرسولک الذي أرسلت تو آپ ﷺ نے فرمایا: ایسا نہیں بلکہ وبنبيك الذي أرسلت (جیسا دعا میں ہے ویسے ہی کہو) ۔

Al-Bara bin Azib said: The Messenger of Allah ﷺ said to me: When you go to your bed, perform ablution like the ablution for prayer, and then lie on your right side and say: O Allah I have handed over my face to thee, entrusted my affairs to thee, and committed my back to thee out of desire for and fear to thee. There is no refuge and no place of safety from thee except by having recource to thee. I believe in Thy Book which Thou hast sent down and in Thy prophet whom thou hast sent down. He said: If you die (that night), you would die in the true religion, and utter these words in the last of that you utter (other prayers). Al-Bara said: I said: I memorise them, and then I repeated, saying “and in Thy Messenger whom Thou hast sent”. He said: No, say: “and in Thy Prophet whom Thou hast sent.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٧٥ (٢٤٧)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء ١٧ (٢٧١٠)، سنن الترمذی/الدعوات ١١٧ (٣٥٧٤)، (تحفة الأشراف: ١٧٦٣)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الدعاء ١٥ (٣٨٧٦)، مسند احمد (٤/٢٩٠، ٢٩٢، ٢٩٣، ٢٩٦، ٣٠٠)، سنن الدارمی/الاستئذان ٥١ (٢٧٢٥) (صحیح )
5047Sunan Abu Dawood

سونے کی دعا کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ فِطْرِ بْنِ خَلِيفَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، قَالَ: قال لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ وَأَنْتَ طَاهِرٌ، فَتَوَسَّدْ يَمِينَكَ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ.

براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: جب تم پاک و صاف (باوضو) ہو کر اپنے بستر پر (سونے کے لیے) آؤ تو اپنے داہنے ہاتھ کا تکیہ بناؤ پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی۔

Al-Bara bin Azib said: The Messenger of Allah ﷺ said to me: when you go to bed while you are in the state of purification, lay your head on your right hand. He then mentioned the rest of the tradition in a similar manner as above.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٧٦٣) (صحیح )
5048Sunan Abu Dawood

سونے کی دعا کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْغَزَّالُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، وَمَنْصُورٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ الْبَرَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا، قَالَ سُفْيَانُ: قَالَ أَحَدُهُمَا: إِذَا أَتَيْتَ فِرَاشَكَ طَاهِرًا، وَقَالَ الْآخَرُ: تَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ، وَسَاقَ مَعْنَى مُعْتَمِرٍ.

اس سند سے بھی براء ؓ سے یہی حدیث نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً مروی ہے، سفیان ثوری کہتے ہیں: ایک راوی نے إذا أتيت فراشک طاهرا جب تم باوضو اپنے بستر پر آؤ کہا اور دوسرے نے توضأ وضوءک للصلاة تم جب نماز جیسا وضو کرلو کہا اور آگے راوی نے معتمر جیسی روایت بیان کی۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by al-Bara bin Azil from the prophet ﷺ to the same effect through a different chain of narrators. One transmitter said: when you go to your bed while you are in the state of purification. The other said: Perform ablution like the ablution for prayer. He then transmitted the tradition to the effect as Mu’tamir transmitted.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٥٠٤٦)، (تحفة الأشراف: ١٧٦٣) (صحیح )
5049Sunan Abu Dawood

سونے کی دعا کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَامَ، قَالَ: اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَحْيَا وَأَمُوتُ، وَإِذَا اسْتَيْقَظَ، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا، وَإِلَيْهِ النُّشُورُ.

حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سونے کے وقت فرماتے: اللهم باسمک أحيا وأموت اے اللہ میں تیرے ہی نام پر جیتا اور مرتا ہوں اور جب بیدار ہوتے تو فرماتے الحمد لله الذي أحيانا بعد ما أماتنا وإليه النشور شکر ہے اللہ کا جس نے ہمیں زندگی بخشی (ایک طرح سے) موت طاری کردینے کے بعد اور اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے ۔

Hudhaifah said: when the prophet ﷺ lay down on his bed (at night), he would say: O Allah! In Thy name I die and live. When he awoke, he said: praise be to Allah who has given us life after causing us to die and to whom we shall be resurrected.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الدعوات ٧ (٦٣١٢)، التوحید ١٣ (٧٣٩٤)، سنن الترمذی/الدعوات ٢٨ (٣٤١٧)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ١٦ (٣٨٨٠)، (تحفة الأشراف: ٣٣٠٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٨٥، ٣٨٧، ٣٩٧، ٣٩٩، ٤٠٧)، سنن الدارمی/الاستئذان ٥٣ (٢٧٢٨) (صحیح )
5050Sunan Abu Dawood

سونے کی دعا کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَوَى أَحَدُكُمْ إِلَى فِرَاشِهِ، فَلْيَنْفُضْ فِرَاشَهُ بِدَاخِلَةِ إِزَارِهِ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي مَا خَلَفَهُ عَلَيْهِ، ثُمَّ لِيَضْطَجِعْ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ لِيَقُلْ: بِاسْمِكَ رَبِّي وَضَعْتُ جَنْبِي، وَبِكَ أَرْفَعُهُ، إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے بستر پر سونے کے لیے آئے تو اپنے ازار کے کونے سے اسے جھاڑے کیونکہ اسے نہیں معلوم کہ اس کی جگہ اس کی عدم موجودگی میں کون آ بسا ہے، پھر وہ اپنے داہنے پہلو پر لیٹے، پھر کہے باسمک ربي وضعت جنبي وبك أرفعه إن أمسکت نفسي فارحمها وإن أرسلتها فاحفظها بما تحفظ به عبادک الصالحين تیرے نام پر میں اپنا پہلو ڈال کر لیٹتا ہوں اور تیرے ہی نام سے اسے اٹھاتا ہوں، اگر تو میری جان کو روک لے تو تو اس پر رحم فرما اور اگر چھوڑ دے تو اس کی اسی طرح حفاظت فرما جس طرح تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتا ہے ۔

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: when any of you goes to his bed, he should dust his bedding with the inner extremity of his lower garment, for he does not know what has come on it since he left it. He should then lie down on his right side and say: In Thy name, my mercy on it, but if Thou lettest it go, guard it with that which Thou guardest Thy upright servants.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الدعوات ١٣ (٦٣٢٠)، والتوحید ١٣ (٧٣٩٣)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء ١٧ (٢٧١٤)، (تحفة الأشراف: ١٤٣٠٦)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدعوات ٢٠ (٣٤٠١)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ١٥ (٣٨٧٤)، مسند احمد (٢/٤٢٢، ٤٣٢)، سنن الدارمی/الاستئذان ٥١ (٢٧٢٦) (صحیح )
5051Sunan Abu Dawood

سونے کی دعا کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ. ح وحَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ نَحْوَهُ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُإِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ: اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ وَرَبَّ الْأَرْضِ وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى، مُنَزِّلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ ذِي شَرٍّ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ، زَادَ وَهْبٌ فِي حَدِيثِهِ: اقْضِ عَنِّي الدَّيْنَ، وَأَغْنِنِي مِنَ الْفَقْرِ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب اپنے بستر پر سونے کے لیے جاتے تو فرماتے: اللهم رب السموات ورب الأرض ورب کل شىء فالق الحب والنوى منزل التوراة والإنجيل والقرآن أعوذ بک من شر کل ذي شر أنت آخذ بناصيته أنت الأول فليس قبلک شىء وأنت الآخر فليس بعدک شىء وأنت الظاهر فليس فوقک شىء وأنت الباطن فليس دونک شىء اقض عني الدين وأغنني من الفقر اے اللہ! آسمانوں و زمین کے مالک! اے ہر چیز کے پالنہار! اے دانے اگانے والے! اے بیج سے درخت پیدا کرنے والے! اے توراۃ، انجیل اور قرآن اتارنے والے! میں تیری پناہ چاہتا ہوں، ہر شر والے کے شر سے جس کی پیشانی تیرے قبضے میں ہے، تو سب سے پہلے ہے، تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں، تو سب سے آخر ہے، تیرے بعد کوئی چیز نہیں، تو سب سے ظاہر (اوپر) ہے، تجھ سے اوپر کوئی نہیں، تو چھپا ہوا ہے، تجھ سے زیادہ چھپا ہوا کوئی نہیں وہب نے اپنی حدیث میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ: تو میرا قرض اتار دے اور تنگ دستی سے نکال کر مجھے مالدار بنا دے۔

Abu Hurairah said: when the prophet ﷺ went to his bed, he used to say: O Allah! Lord of the heavens, Lord of the earth, Lord of everything, who splittest the grain and the kernel, who hast sent down the Torah, forelock Thou seizes. Thou art the first and there is nothing before thee; Thou art the Last and there is nothing after Thee; Thou art the Outward and there is nothing above Thee; Thou art the Inward and there is nothing below Thee. Wahb added in his version: pay the debt for me and grant me riches instead of poverty.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الذکر والدعاء ١٧ (٢٧١٣)، سنن الترمذی/الدعوات ١٩ (٣٤٠٠)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ١٥ (٣٨٧٣)، مسند احمد (٢/٤٠٤)، (تحفة الأشراف: ١٢٦٣١) (صحیح )
5052Sunan Abu Dawood

سونے کی دعا کا بیان

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا الْأَحْوَصُ يَعْنِي ابْنَ جَوَّابٍ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَحِمَهُ اللَّهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ عِنْدَ مَضْجَعِهِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِوَجْهِكَ الْكَرِيمِ وَكَلِمَاتِكَ التَّامَّةِ مِنْ شَرِّ مَا أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، اللَّهُمَّ أَنْتَ تَكْشِفُ الْمَغْرَمَ وَالْمَأْثَمَ، اللَّهُمَّ لَا يُهْزَمُ جُنْدُكَ وَلَا يُخْلَفُ وَعْدُكَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ، سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی خواب گاہ میں جاتے وقت یہ دعا پڑھتے تھے: اللهم إني أعوذ بوجهك الكريم وکلماتک التامة من شر ما أنت آخذ بناصيته اللهم أنت تکشف المغرم والمأثم اللهم لا يهزم جندک ولا يخلف وعدک ولا ينفع ذا الجد منک الجد سبحانک وبحمدک اے اللہ! میں تیری بزرگ ذات اور تیرے مکمل کلموں کے ذریعہ اس شر سے پناہ مانگتا ہوں جو تیرے قبضے میں ہے، اے اللہ تو ہی قرض اتارتا، اور گناہوں کو معاف فرماتا ہے، اے اللہ! تیرے لشکر کو شکست نہیں دی جاسکتی، تیرا وعدہ ٹل نہیں سکتا، مالدار کی مالداری تیرے سامنے کام نہ آئے گی، پاک ہے تیری ذات، میں تیری حمد و ثنا بیان کرتا ہوں ۔

Narrated Ali ibn Abu Talib: The Messenger of Allah ﷺ used to say when he lay down: O Allah, I seek refuge in Thy noble Person and in Thy perfect Words from the evil of what Thou seizest by its forelock; O Allah! Thou removest debt and sin; O Allah! thy troops not routed, Thy promise is not broken and the riches of the rich do not avail against Thee. Glory and praise be unto Thee!.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠٠٣٨) (ضعیف) (ابواسحاق مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں )
5053Sunan Abu Dawood

سونے کی دعا کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَإِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَكَفَانَا وَآوَانَا، فَكَمْ مِمَّنْ لَا كَافِيَ لَهُ وَلَا مُؤْوِيَ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب اپنے بستر پر آتے تو یہ دعا پڑھتے الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وکفانا وآوانا فکم ممن لا کا في له ولا مئوي تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہم کو کھلایا اور پلایا، دشمن کے شر سے بچایا، ہم کو پناہ دی، کتنے بندے تو ایسے ہیں جنہیں نہ کوئی بچانے والا ہے، اور نہ کوئی پناہ دینے والا ہے ۔

Anas said: When the Messenger of Allah ﷺ went to his bed, he would say: Praise be to Allah who has fed us, given us drink, satisfied us and given us refuge. Many there are who have no one to provide sufficiency for them, or give them refuge.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الذکر والدعاء ١٧ (٢٧١٥)، سنن الترمذی/الدعوات ١٦ (٣٣٩٦)، (تحفة الأشراف: ٣١١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٥٣، ١٦٧، ٢٣٥) (صحیح )
5054Sunan Abu Dawood

سونے کی دعا کا بیان

حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ التِّنِّيسِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي الْأَزْهَرِ الْأَنْمَارِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَإِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ مِنَ اللَّيْلِ، قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ وَضَعْتُ جَنْبِي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي وَأَخْسِئْ شَيْطَانِي وَفُكَّ رِهَانِي وَاجْعَلْنِي فِي النَّدِيِّ الْأَعْلَى، قال أبو داود: رَوَاهُ أَبُو هَمَّامٍ الْأَهْوَازِيُّ، عَنْ ثَوْرٍ، قَالَ أَبُو زُهَيْرٍ الْأَنْمَارِيُّ.

ابوالازہر انماری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رات میں جب اپنی خواب گاہ پر تشریف لے جاتے تو یہ دعا پڑھتے: بسم الله وضعت جنبي اللهم اغفر لي ذنبي وأخسئ شيطاني وفک رهاني واجعلني في الندي الأعلى اللہ کے نام پر میں نے اپنے پہلو کو ڈال دیا (یعنی لیٹ گیا) اے اللہ میرے گناہ بخش دے، میرے شیطان کو دھتکار دے، مجھے گروی سے آزاد کر دے اور مجھے اونچی مجلس میں کر دے، (یعنی ملائکہ، انبیاء و صلحاء کی مجلس میں) ۔

Narrated Abul Azhar al-Anmari (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ went to his bed at night, he would say: in the name of Allah, I have laid down my side for Allah. O Allah! forgive me my sin, drive away my devil, free me from my responsibility, and place me in the highest assembly. Abu Dawud said: Abu Hammam al-Ahwazi transmitted it from Thawr. He mentioned Abu Zuhair al-Anmari (instead of Abu al-Azhar).

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١٨٥٩) (صحیح )
5055Sunan Abu Dawood

سونے کی دعا کا بیان

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ ّالنَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِنَوْفَلٍ: اقْرَأْ: قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ، ثُمَّ نَمْ عَلَى خَاتِمَتِهَا، فَإِنَّهَا بَرَاءَةٌ مِنَ الشِّرْكِ.

نوفل ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ان سے کہا: قل يا أيها الکافرون پڑھو (یعنی پوری سورۃ) اور پھر اسے ختم کر کے سو جاؤ، کیونکہ یہ سورة شرک سے براءت ہے ۔

Farwah bin Nawfal quoted his father as saying that the Prophet ﷺ said to Nawfal (his father): Say, O infidels! and then sleep at its end, for it is a declaration of freedom from polytheism.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ٢٢ (٣٤٠٣)، (تحفة الأشراف: ١١٧١٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤٥٦)، سنن الدارمی/فضائل القرآن ٢٢ (٣٤٧٠) (صحیح )
5056Sunan Abu Dawood

سونے کی دعا کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ يَعْنِيَانِ ابْنَ فَضَالَةَ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَاأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ كُلَّ لَيْلَةٍ جَمَعَ كَفَّيْهِ، ثُمَّ نَفَثَ فِيهِمَا، وَقَرَأَ فِيهِمَا قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ، وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ، ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا مَا اسْتَطَاعَ مِنْ جَسَدِهِ: يَبْدَأُ بِهِمَا عَلَى رَأْسِهِ وَوَجْهِهِ، وَمَا أَقْبَلَ مِنْ جَسَدِهِ يَفْعَلُ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ہر رات جب اپنے بچھونے پر سونے آتے تو اپنی ہتھیلیوں کو ملاتے پھر ان میں پھونکتے اور ان میں قل هو الله أحد قل أعوذ برب الفلق اور قل أعوذ برب الناس پڑھتے، پھر ان کو جہاں تک وہ پہنچ سکتیں اپنے بدن پر پھیرتے، اپنے سر، چہرے اور جسم کے اگلے حصے سے پھیرنا شروع کرتے، ایسا آپ تین بار کرتے۔

Aishah said: Every night when he prophet ﷺ went to his bed, he joined his hands and breathed into them, reciting into them: ”say: he is Allah, One” and say ; I seek refuge in the Lord of the dawn and Say: I seek refuge in the Lord of men. Then he would wipe as much of his body as he could with his hands, beginning with his head, his face and the front of his body, doing that three times.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الدعوات ١٢ (٦٣١٩)، سنن الترمذی/الدعوات ٢١ (٣٤٠٢)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ١٥ (٣٨٧٥)، (تحفة الأشراف: ١٦٥٣٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١١٦، ١٥٤) (صحیح )
5057Sunan Abu Dawood

سونے کی دعا کا بیان

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ ابْنِ أَبِي بِلَالٍ، عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ: الْمُسَبِّحَاتِ قَبْلَ أَنْ يَرْقُدَ، وَقَالَ: إِنَّ فِيهِنَّ آيَةً أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ آيَةٍ.

عرباض بن ساریہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سونے سے پہلے المسبحات ١ ؎ پڑھتے تھے، اور فرماتے تھے: ان میں ایک آیت ایسی ہے جو ہزار آیتوں سے افضل ہے ۔

Narrated Irbad ibn Sariyah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to recite al-Musabbihat before going to sleep, and say: They contain a verse which is better than a thousand verses.

Notes · وضاحت
١ ؎: مسبحات وہ سورتیں ہیں جو لفظ یُسَبِّحُ یا سَبَّحَ سے شروع ہوتی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ٢٢ (٣٤٠٩)، (تحفة الأشراف: ٩٨٨٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٢٨) (ضعیف) (اس کے رواة بقیہ اور ابن ابی بلال ضعیف ہیں )