ادب کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 38 · 493 hadiths · Page 13 of 26

5018Sunan Abu Dawood

خوابوں کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ.

عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مومن کا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے ١ ؎۔

Ubadah bin al-Samit reported the Prophet ﷺ as saying: A believer’s vision is the forty-sixth part of Prophecy.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس کا ایک مفہوم یہ ہے کہ مومن کا خواب صحیح اور سچ ہوتا ہے اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ آپ کی نبوت کی کامل مدت کل تیئس سال ہے اس میں سے شروع کے چھ مہینے جو مکہ کا ابتدائی دور ہے اس میں آپ کے پاس وحی (بحالت خواب نازل ہوتی تھی اور یہ مدت کل نبوی مدت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے گویا سچا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ التعبیر ٢ (٦٩٨٧)، صحیح مسلم/ الرؤیا ٢ (٢٢٦٤)، سنن الترمذی/ الرؤیا ١ (٢٢٧١)، (تحفة الأشراف: ٥٠٦٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٨٥، ٥/٣١٦، ٣١٩)، دی/ الرؤیا ١ (٢١٨٢) (صحیح )
5019Sunan Abu Dawood

خوابوں کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا اقْتَرَبَ الزَّمَانُ لَمْ تَكَدْ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ أَنْ تَكْذِبَ، وَأَصْدَقُهُمْ رُؤْيَا أَصْدَقُهُمْ حَدِيثًا، وَالرُّؤْيَا ثَلَاثٌ: فَالرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ بُشْرَى مِنَ اللَّهِ، وَرُؤْيَا تَحْزِينٌ مِنَ الشَّيْطَانِ، وَرُؤْيَا مِمَّا يُحَدِّثُ بِهِ الْمَرْءُ نَفْسَهُ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يَكْرَهُ، فَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ وَلَا يُحَدِّثْ بِهَا النَّاسَ، قَالَ: وَأُحِبُّ الْقَيْدَ وَأَكْرَهُ الْغُلَّ، وَالْقَيْدُ ثَبَاتٌ فِي الدِّينِ، قال أبو داود: إِذَا اقْتَرَبَ الزَّمَانُ: يَعْنِي إِذَا اقْتَرَبَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ: يَعْنِي يَسْتَوِيَانِ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب زمانہ قریب ہوجائے گا، تو مومن کا خواب جھوٹا نہ ہوگا، اور ان میں سب سے زیادہ سچا خواب اسی کا ہوگا، جو ان میں گفتگو میں سب سے سچا ہوگا، خواب تین طرح کے ہوتے ہیں: بہتر اور اچھے خواب اللہ کی جانب سے خوشخبری ہوتے ہیں اور کچھ خواب شیطان کی طرف سے تکلیف و رنج کا باعث ہوتے ہیں، اور کچھ خواب آدمی کے دل کے خیالات ہوتے ہیں لہٰذا جب تم میں سے کوئی (خواب میں) ناپسندیدہ بات دیکھے تو چاہیئے کہ اٹھ کر نماز پڑھ لے اور اسے لوگوں سے بیان نہ کرے، فرمایا: میں قید (پیر میں بیڑی پہننے) کو (خواب میں) پسند کرتا ہوں اور غل (گردن میں طوق) کو ناپسند کرتا ہوں ١ ؎ اور قید (پیر میں بیڑی ہونے) کا مطلب دین میں ثابت قدم ہونا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جب زمانہ قریب ہوجائے گا کا مطلب یہ ہے کہ جب رات اور دن قریب قریب یعنی برابر ہوجائیں۔

Abu Hurairah reported the Prophet ﷺ as saying: When the time draws near, a believer’s vision can hardly be false. The truer one of them is in his speech, the truer he is in his vision. Visions are of three types: Good visions are glad tidings from Allah, a terrifying vision caused by the devil, and the ideas which come from within a man. So when one sees anything he dislikes, he should get up and pray, and should not tell it to the people. He said: I like a fetter and dislike a shackle on the neck; a fetter indicates being firmly established in religion. Abu Dawud said: “when the time draws near” means that when the day and night are equal.

Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ اس میں قرض دار رہنے یا کسی کے مظالم کا شکار بننے اور محکوم علیہ ہونے کی جانب اشارہ ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الرؤیا (٢٢٦٣)، سنن الترمذی/الرؤیا ١ (٢٢٧٠)، سنن الدارمی/الرؤیا ٦ (٢١٨٩)، (تحفة الأشراف: ١٤٤٤٤)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التعبیر ٢٦ (٧٠٧١) (صحیح )
5020Sunan Abu Dawood

خوابوں کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ عُدُسٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الرُّؤْيَا عَلَى رِجْلِ طَائِرٍ مَا لَمْ تُعَبَّرْ فَإِذَا عُبِّرَتْ وَقَعَتْ، قَالَ: وَأَحْسِبُهُ قَالَ: وَلَا تَقُصَّهَا إِلَّا عَلَى وَادٍّ أَوْ ذِي رَأْيٍ.

ابورزین ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: خواب پرندے کے پیر پر ہوتا ہے ١ ؎ جب تک اس کی تعبیر نہ بیان کردی جائے، اور جب اس کی تعبیر بیان کردی جاتی ہے تو وہ واقع ہوجاتا ہے ۔ میرا خیال ہے آپ نے فرمایا اور اسے اپنے دوست یا کسی صاحب عقل کے سوا کسی اور سے بیان نہ کرے ۔

Narrated Abu Razin: The Prophet ﷺ said: The vision flutters over a man as long as it is not interpreted, but when it is interpreted, it settles. And I think he said: Tell it only to one who loves (i. e. friend) or one who has judgment.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی تعبیر بیان کئے جانے تک اس خواب کے لئے جائے قرار اور ٹھہراؤ نہیں ہوتا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الرؤیا ٦ (٢٢٧٨)، سنن ابن ماجہ/الرؤیا ٦ (٣٩١٤)، (تحفة الأشراف: ١١١٧٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٠، ١١، ١٢، ١٣) سنن الدارمی/الرؤیا ١١ (٢١٩٤) (صحیح )
5021Sunan Abu Dawood

خوابوں کا بیان

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ زُهَيْرًا، يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: الرُّؤْيَا مِنَ اللَّهِ، وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ شَيْئًا يَكْرَهُهُ، فَلْيَنْفُثْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ لِيَتَعَوَّذْ مِنْ شَرِّهَا، فَإِنَّهَا لَا تَضُرُّهُ.

ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں اور برے خیالات شیطان کی طرف سے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی (خواب میں) ایسی چیز دیکھے جسے وہ ناپسند کرتا ہے، تو اپنے بائیں جانب تین بار تھوکے، پھر اس کے شر سے پناہ طلب کرے تو یہ اسے نقصان نہیں پہنچائے گا ۔

Abu Qatadah said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: A good vision comes from Allah and a dream (hulm) from the devil, so when one of you sees what he dislikes, he must spit on his left (three times), and seek refuge in Allah from its evil. It will then not harm him.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ الطب ٣٩ (٥٧٤٧)، التعبیر ٣ (٦٩٨٤)، ١٠ (٦٩٩٥)، ١٤ (٧٠٠٥)، ٤٦ (٧٠٤٤)، صحیح مسلم/الرؤیا ح ١ (٢٦٦١)، سنن الترمذی/الرؤیا ٥ (٢٢٧٧)، سنن ابن ماجہ/الرؤیا ٣ (٣٩٠٩)، موطا امام مالک/الرؤیا ١ (٤)، مسند احمد (٥/٢٩٦، ٣٠٣، ٣٠٤، ٣٠٥، ٣٠٩)، سنن الدارمی/الرؤیا ٥ (٢١٨٧)، (تحفة الأشراف: ١٢١٣٥) (صحیح )
5022Sunan Abu Dawood

خوابوں کا بیان

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الْهَمْدَانِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، قَالَا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: إِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ الرُّؤْيَا يَكْرَهُهَا فَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ، وَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ ثَلَاثًا، وَيَتَحَوَّلُ عَنْ جَنْبِهِ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ.

جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی خواب دیکھے جسے وہ ناپسند کرتا ہو تو اپنی بائیں جانب تین بار تھوکے تین بار شیطان سے اللہ کی پناہ طلب کرے، اور اپنے اس پہلو کو بدل دے جس پر وہ تھا ۔

Jabir reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: When one of you sees a vision which he dislikes, he must spit on his left (three times), seek refuge in Allah from the devil three times, and turn from the side on which he was lying.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الرؤیا ح ٢ (٢٢٦٢)، سنن ابن ماجہ/تعبیرالرؤیا ٤ (٢٩٠٨)، (تحفة الأشراف: ٢٩٠٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٥٠) (صحیح )
5023Sunan Abu Dawood

خوابوں کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَسَيَرَانِي فِي الْيَقَظَةِ، أَوْ لَكَأَنَّمَا رَآنِي فِي الْيَقَظَةِ، وَلَا يَتَمَثَّلُ الشَّيْطَانُ بِي.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جس نے مجھے خواب میں دیکھا تو وہ مجھے جاگتے ہوئے بھی عنقریب دیکھے گا، یا یوں کہا کہ گویا اس نے مجھے جاگتے ہوئے دیکھا، اور شیطان میری شکل میں نہیں آسکتا۔

Abu Hurairah said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: He who sees me in a dream will see me when awake or as if he will see me when awake, for the devil does not take my likeness.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٣٨ (١١٠)، الأدب ١٠٩ (٦١٩٧)، التعبیر ١٠ (٦٩٩٣)، صحیح مسلم/الرؤیا ١ (٢٢٦٦)، (تحفة الأشراف: ١٥٣١٠)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/تعبیر الرؤیا ٢ (٣٩٠١)، مسند احمد (١ /٢٣١، ٣٤٢، ٤١٠، ٤١١، ٤٢٥، ٤٦٣) (صحیح )
5024Sunan Abu Dawood

خوابوں کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ صَوَّرَ صُورَةً عَذَّبَهُ اللَّهُ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَنْفُخَ فِيهَا وَلَيْسَ بِنَافِخٍ، وَمَنْ تَحَلَّمَ كُلِّفَ أَنْ يَعْقِدَ شَعِيرَةً، وَمَنِ اسْتَمَعَ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ يَفِرُّونَ بِهِ مِنْهُ صُبَّ فِي أُذُنِهِ الْآنُكُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو کوئی تصویر بنائے گا، اس کی وجہ سے اسے (اللہ) قیامت کے دن عذاب دے گا یہاں تک کہ وہ اس میں جان ڈال دے، اور وہ اس میں جان نہیں ڈال سکتا، اور جو جھوٹا خواب بنا کر بیان کرے گا اسے قیامت کے دن مکلف کیا جائے گا کہ وہ جَو میں گرہ لگائے ١ ؎ اور جو ایسے لوگوں کی بات سنے گا جو اسے سنانا نہیں چاہتے ہیں، تو اس کے کان میں قیامت کے دن سیسہ پگھلا کر ڈالا جائے گا ۔

Ibn Abbas reported the Prophet ﷺ as saying: If anyone makes a representation of anything, Allah will punish him on the day of Resurrection for it until he breathes into it, but he will bw unable to do so. If anyone pretends to have had a dream which he did not see, he will gives the task of joining barley-seed. If anyone listens to other people’s talk when they try to avoid him, lead will be poured into his ears on the Day of resurrection.

Notes · وضاحت
١ ؎: اور وہ یہ نہیں کرسکے گا کیونکہ جَو میں گرہ لگانا ممکن نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التعبیر ٤٥ (٧٠٤٢)، سنن الترمذی/اللباس ١٩ (١٧٥١)، الرؤیا ٨ (٢٢٨٣)، سنن النسائی/الزینة من المجتبی ٥٩ (٥٣٦١)، سنن ابن ماجہ/الرؤیا ٨ (٣٩١٦)، (تحفة الأشراف: ٥٥٨٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢١٦، ٢٤١، ١٤٦، ٣٥٠، ٣٥٩، ٣٦٠) (صحیح )
5025Sunan Abu Dawood

خوابوں کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ كَأَنَّا فِي دَارِ عُقْبَةَ بْنِ رَافِعٍ، وَأُتِينَا بِرُطَبٍ مِنْ رُطَبِ ابْنِ طَابٍ، فَأَوَّلْتُ أَنَّ الرِّفْعَةَ لَنَا فِي الدُّنْيَا وَالْعَاقِبَةَ فِي الْآخِرَةِ، وَأَنَّ دِينَنَا قَدْ طَابَ.

انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے آج رات دیکھا جیسے ہم عقبہ بن رافع کے گھر میں ہوں، اور ہمارے پاس ابن طاب ١ ؎ کی رطب تازہ (کھجوریں) لائی گئیں، تو میں نے یہ تعبیر کی کہ دنیا میں بلندی ہمارے واسطے ہے اور آخرت کی عاقبت ٢ ؎ بھی اور ہمارا دین سب سے عمدہ اور اچھا ہوگیا ۔

Narrated Anas ibn Malik: The Prophet ﷺ said: One night it seemed to me in a dream that we were in the house of Uqbah ibn Rafi and were brought some of the fresh dates of Ibn tab. I interpreted it as meaning that to us is granted eminence (rifah) in this world, a blessed hereafter (aqibah), and that our religion has been good (tabah).

Notes · وضاحت
١ ؎: ابن طاب ایک قسم کی کھجو رہے، اس سے دین کی عمدگی اور پاکی نکلی رافع کے لفظ سے دنیا میں رفعت اور بلندی۔ ٢ ؎: اور عقبہ عاقبت کی بھلائی۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الرؤیا ٤ (٢٢٧٠)، (تحفة الأشراف: ٣١٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٨٦) (صحیح )
5026Sunan Abu Dawood

جمائی لینے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ ابْنِ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيُمْسِكْ عَلَى فِيهِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی جمائی لے تو اپنے منہ کو بند کرلے، اس لیے کہ شیطان (منہ میں) داخل ہوجاتا ہے ۔

Abu Saeed Al-Khudri reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: When one of you yawns, he should hold his hand over his mouth, for the devil enters.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الزہد ٩ (٢٩٩٥)، (تحفة الأشراف: ٤١١٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣١، ٣٧، ٩٣، ٩٦)، سنن الدارمی/الصلاة ١٠٦ (١٤٢٢) (صحیح )
5027Sunan Abu Dawood

جمائی لینے کا بیان

حَدَّثَنَا ابْنُ الْعَلَاءِ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سُهَيْلٍ نَحْوَهُ، قَالَ: فِي الصَّلَاةِ فَلْيَكْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ.

سہیل سے بھی اسی طرح مروی ہے اس میں یہ ہے (جب جمائی) نماز میں ہو تو جہاں تک ہو سکے منہ بند رکھے ۔

The tradition mentioned above has also been transmitted in a similar way by Suhail through a different chain of narrators. This version has; “during prayer, so he should hold as far as possible”.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٤١١٩) (صحیح )
5028Sunan Abu Dawood

جمائی لینے کا بیان

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعُطَاسَ وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ، فَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَرُدَّهُ مَا اسْتَطَاعَ، وَلَا يَقُلْ هَاهْ هَاهْ، فَإِنَّمَا ذَلِكُمْ مِنَ الشَّيْطَانِ يَضْحَكُ مِنْهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی کو ناپسند، لہٰذا جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے، تو جہاں تک ہو سکے اسے روکے رہے، اور ہاہ ہاہ نہ کہے، اس لیے کہ یہ شیطان کی طرف سے ہوتی ہے، وہ اس پر ہنستا ہے ۔

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Allah likes sneezing but dislikes yawning. So when one of you yawns, he should restrain it as much as possible, and should not say Ha, Ha, for that is from the devil who laughs at him.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/بدء الخلق ١١ (٣٢٨٩)، الأدب ١٢٥ (٦٢٢٣)، ١٢٦ (٦٢٦٢)، سنن الترمذی/الصلاة ٦ ١٥ (٣٧٠)، الأدب ٧ (٢٧٤٧)، (تحفة الأشراف: ١٤٣٢٢)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الزہد والرقاق ٩ (٢٩٩٥)، مسند احمد (٢ /٢٦٥، ٤٢٨، ٥١٧) (صحیح )
5029Sunan Abu Dawood

چھینک کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَطَسَ وَضَعَ يَدَهُ، أَوْ ثَوْبَهُ عَلَى فِيهِ، وَخَفَضَ أَوْ غَضَّ بِهَا صَوْتَهُ، شَكَّ يَحْيَى.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو جب چھینک آتی تھی تو اپنا ہاتھ یا اپنا کپڑا منہ پر رکھ لیتے اور آہستہ آواز سے چھینکتے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ sneezed, he placed his hand or a garment on his mouth, and lessened the noise. The transmitter Yahya is doubtful about the exact words khafada or ghadda (lessened).

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأدب ٦ (٢٧٤٥)، (تحفة الأشراف: ١٢٥٨١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٣٩) (حسن صحیح )
5030Sunan Abu Dawood

چھینک کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْيَانَ، وَخُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَمْسٌ تَجِبُ لِلْمُسْلِمِ عَلَى أَخِيهِ: رَدُّ السَّلَامِ، وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ، وَإِجَابَةُ الدَّعْوَةِ، وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعُ الْجَنَازَةِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانچ چیزیں ہر مسلمان پر اپنے بھائی کے لیے واجب ہیں، سلام کا جواب دینا، چھینکنے والے کا جواب دینا، دعوت قبول کرنا، مریض کی عیادت کرنا اور جنازے کے ساتھ جانا ۔

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: There are five qualities which a Muslim should display to his brother: return of salutation, response to the one who sneezes, acceptance of the invitation, paying sick visit to a patient, and accompanying the funeral.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٢ (١٢٤٠ تعلیقًا)، صحیح مسلم/السلام ٣ (٢١٦٢)، (تحفة الأشراف: ١٣٢٦٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٢١، ٣٧٢، ٤١٢، ٥٤٠) (صحیح )
5031Sunan Abu Dawood

چھینک کا جواب کیسے دے

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ سَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ، فَعَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، فَقَالَ سَالِمٌ: وَعَلَيْكَ وَعَلَى أُمِّكَ، ثُمَّ قال بَعْدُ: لَعَلَّكَ وَجَدْتَ مِمَّا قُلْتُ لَكَ، قال: لَوَدِدْتُ أَنَّكَ لَمْ تَذْكُرْ أُمِّي بِخَيْرٍ وَلَا بِشَرٍّ، قال: إِنَّمَا قُلْتُ لَكَ كَمَا قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، فقال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَعَلَيْكَ وَعَلَى أُمِّكَ، ثُمَّ قَالَ: إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَحْمَدِ اللَّهَ، قال: فَذَكَرَ بَعْضَ الْمَحَامِدِ، وَلْيَقُلْ لَهُ مَنْ عِنْدَهُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، وَلْيَرُدَّ يَعْنِي عَلَيْهِمْ: يَغْفِرُ اللَّهُ لَنَا وَلَكُمْ.

ہلال بن یساف کہتے ہیں کہ ہم سالم بن عبید کے ساتھ تھے کہ ایک شخص کو چھینک آئی تو اس نے کہا السلام عليكم (تم پر سلامتی ہو) تو سالم نے کہا: عليك وعلى أمك (تم پر بھی اور تمہاری ماں پر بھی) پھر تھوڑی دیر کے بعد بولے: شاید جو بات میں نے تم سے کہی تمہیں ناگوار لگی، اس نے کہا: میری خواہش تھی کہ آپ میری ماں کا ذکر نہ کرتے، نہ خیر کے ساتھ نہ شر کے ساتھ، وہ بولے، میں نے تم سے اسی طرح کہا جس طرح رسول اللہ ﷺ نے کہا، اسی دوران کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے اچانک لوگوں میں سے ایک شخص کو چھینک آئی تو اس نے کہا: السلام عليكم رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عليك وعلى أمك، پھر آپ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو الحمد الله کہے اللہ کی تعریف کرے پھر آپ نے حمد کے بعض کلمات کا تذکرہ کیا (جو چھینک آنے والا کہے) اور چاہیئے کہ وہ جو اس کے پاس ہو يرحمک الله (اللہ تم پر رحم کرے) کہے، اور چاہیئے کہ وہ (چھینکنے والا) ان کو پھر جواب دے، يغفر الله لنا ولکم (اللہ ہماری اور آپ کی مغفرت فرمائے) ۔

Narrated Salim ibn Ubayd: Hilal ibn Yasar said: We were with Salim ibn Ubayd when a man from among the people sneezed and said: Peace be upon you. Salim said: And upon you and your mother. Later he said: Perhaps you found something (annoying) in what I said to you. He said: I wished you would not mention my mother with good or evil. He said: I have just said to you what the Messenger of Allah ﷺ said. We were in the presence of the Messenger of Allah ﷺ when a man from among the people sneezed, saying: Peace be upon you! The Messenger of Allah ﷺ said: And upon you and your mother. He then said: When one of you sneezes, he should praise Allah. He further mentioned some attributes (of Allah), saying: The one who is with him should say to him: Allah have mercy on you, and he should reply to them: Allah forgive us and you.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأدب ٣ (٢٧٤٠)، النسائی في الکبری ١٠٠٥٣، وعمل الیوم واللیلة ٨٦ (٢٢٥)، (تحفة الأشراف: ٣٧٨٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٧) (ضعیف) (سند میں ہلال بن یساف اور سالم بن عبید کے درمیان ایک راوی ساقط ہے، اور عمل الیوم واللیلة (٢٢٩) سے ظاہر ہوتا ہے کہ دو راوی ساقط ہیں اور دونوں مبہم ہیں، مؤلف کی آگے آنے والی روایت (٥٠٣٢) سے ایک راوی خالد بن عرفجہ کا ساقط ہونا ظاہر ہوتا ہے، انہی اختلافات کی وجہ سے یہ حدیث ضعیف ہے )
5032Sunan Abu Dawood

چھینک کا جواب کیسے دے

حَدَّثَنَا تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ وَرْقَاءَ، عَنْ مَنْصُورٍ،عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَرْفَجَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ الْأَشْجَعِيِّ بِهَذَا الْحَدِيثِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

اس سند سے سالم بن عبید اشجعی سے یہی حدیث نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً مروی ہے۔

Narrated Salim ibn Ubayd al-Ashjai (RA) : The tradition mentioned above (No. 5013) has also been mentioned by Salim ibn Ubayd al-Ashjai to the same effect from the Prophet ﷺ through a different chain of narrators.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٣٧٨٦) (ضعیف )
5033Sunan Abu Dawood

چھینک کا جواب کیسے دے

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ: الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ، وَلْيَقُلْ أَخُوهُ أَوْ صَاحِبُهُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، وَيَقُولُ هُوَ: يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ.

ابوہریرہ ؓ کہتے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو چاہیئے کہ وہ کہے: الحمد لله على كل حال (ہر حالت میں تمام تعریفیں اللہ کے لیے سزاوار ہیں) اور چاہیئے کہ اس کا بھائی یا اس کا ساتھی کہے: يرحمک الله (اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے اب وہ پھر کہے: يهديكم الله ويصلح بالکم (اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہیں ٹھیک رکھے، اور تمہاری حالت درست فرما دے) ۔

Abu Hurairah reported the prophet ﷺ as saying: When one of you sneezes, he should say: praise be to Allah in every circumstance, and his brother or his companion should say: Allah in every on you! And he should then reply: May Allah guide you well-being.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأدب ١٢٦ (٦٢٢٤)، سنن النسائی/الیوم واللیلة (٢٣٢)، (تحفة الأشراف: ١٢٨١٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٥٣) (صحیح )
5034Sunan Abu Dawood

کتنی بار چھینک کا جواب دینا چاہیے؟

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: شَمِّتْ أَخَاكَ ثَلَاثًا، فَمَا زَادَ فَهُوَ زُكَامٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں تین بار اپنے بھائی کی چھینک کا جواب دو اور جو اس سے زیادہ ہو تو وہ زکام ہے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : Respond three times to your brother when he sneezes, and if he sneezes more often, he has a cold in his head.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٣٠٥١) (حسن )
5035Sunan Abu Dawood

کتنی بار چھینک کا جواب دینا چاہیے؟

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا أَنَّهُ رَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ، قَالَ أبو داود: رَوَاهُ أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ قَيْسٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

سعید بن ابی سعید ابوہریرہ ؓ سے اسی مفہوم کی حدیث کو مرفوعاً روایت کرتے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابونعیم نے موسیٰ بن قیس سے، موسیٰ نے محمد بن عجلان سے، ابن عجلان نے سعید سے، سعید نے ابوہریرہ سے، ابوہریرہ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Hurairah through a different chain from the prophet ﷺ . A transmitter Saeed bin Saeed said: I know him that he traced this tradition back to the prophet ﷺ . Abu Dawud said: Abu Nuaim transmitted it from Musa bin Qais, from Muhammad bin Ajlan, from Saeed, on the authority of Abu Hurairah, from the prophet ﷺ .

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٣٠٥١) (حسن )
5036Sunan Abu Dawood

کتنی بار چھینک کا جواب دینا چاہیے؟

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أُمِّهِ حُمَيْدَةَ أَوْ عُبَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِيهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: تُشَمِّتُ الْعَاطِسَ ثَلَاثًا، فَإِنْ شِئْتَ أَنْ تُشَمِّتَهُ فَشَمِّتْهُ، وَإِنْ شِئْتَ فَكُفَّ.

عبید بن رفاعہ زرقی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: چھینکنے والے کا جواب تین بار دو اس کے بعد اگر جواب دینا چاہو تو دو، اور نہ دینا چاہو تو نہ دو ۔

Narrated Ubayd ibn Rifaah az-Zuraqi (RA) : The Prophet ﷺ said: Invoke a blessing on one who sneezes three times; (and if he sneezes more often), then if you wish to invoke a blessing on him, you may invoke, and if you wish (to stop), then stop.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٩٧٤٦)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأدب ٥ (٢٧٤٤) (ضعیف) (سند میں راوی یزید بن عبدالرحمن کثیر الخطاء اور حمیدہ یا عبیدہ بنت عبید مجہول راوی ہیں )
5037Sunan Abu Dawood

کتنی بار چھینک کا جواب دینا چاہیے؟

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا عَطَسَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، ثُمَّ عَطَسَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الرَّجُلُ مَزْكُومٌ.

سلمہ بن الاکوع ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص کو نبی اکرم ﷺ کے پاس چھینک آئی تو آپ نے اس سے فرمایا:يرحمک الله اللہ تم پر رحم فرمائے اسے پھر چھینک آئی تو آپ نے فرمایا: آدمی کو زکام ہوا ہے ۔

Salamah bin al-Akwa said: when a man sneezed beside the prophet ﷺ , he said to him: Allah have mercy on you, but when he sneezed again, he said: The man has a cold in the head.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الزہد ٩ (٢٩٩٣)، سنن الترمذی/الأدب ٥ (٢٧٤٣)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٢٠ (٣٧١٤)، (تحفة الأشراف: ٤٥١٣)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الاستئذان ٣٢ (٢٧٠٣) (صحیح )