انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے سواری عطا فرما دیجئیے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ہم تو تمہیں اونٹنی کے بچے پر سوار کرائیں گے وہ بولا: میں اونٹنی کے بچے کا کیا کروں گا؟ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: آخر ہر اونٹ اونٹنی ہی کا بچہ تو ہوتا ہے ۔
Narrated Anas ibn Malik: A man came to the Prophet ﷺ and said: Messenger of Allah! give me a mount. The Prophet ﷺ said: We shall give you a she-camels child to ride on. He said: What shall I do with a she-camels child? The Prophet ﷺ replied: Do any others than she-camels give birth to camels?
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البر والصلة ٥٧ (١٩٩١)، (تحفة الأشراف: ٦٥٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٦٧) (صحیح )
نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ ابوبکر ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے اندر آنے کی اجازت طلب کی تو سنا کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ اونچی آواز میں بول رہی ہیں، تو وہ جب اندر آئے تو انہوں نے انہیں طمانچہ مارنے کے لیے پکڑا اور بولے: سنو! میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اپنی آواز رسول اللہ ﷺ پر بلند کرتی ہو، تو نبی اکرم ﷺ انہیں روکنے لگے اور ابوبکر غصے میں باہر نکل گئے، تو جب ابوبکر باہر چلے گئے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: دیکھا تو نے میں نے تجھے اس شخص سے کیسے بچایا پھر ابوبکر کچھ دنوں تک رکے رہے (یعنی ان کے گھر نہیں گئے) اس کے بعد ایک بار پھر انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اجازت طلب کی تو ان دونوں کو پایا کہ دونوں میں صلح ہوگئی ہے، تو وہ دونوں سے بولے: آپ لوگ مجھے اپنی صلح میں بھی شامل کرلیجئے جس طرح مجھے اپنی لڑائی میں شامل کیا تھا، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ہم نے شریک کیا، ہم نے شریک کیا ۔
Narrated An-Numan ibn Bashir: When Abu Bakr asked the permission of the Prophet ﷺ to come in, he heard Aisha (RA) speaking in a loud voice. So when he entered, he caught hold of her in order to slap her, and said: Do I see you raising your voice to the Messenger of Allah? The Prophet ﷺ began to prevent him and Abu Bakr went out angry. The Prophet ﷺ said when Abu Bakr went out: You see I rescued you from the man. Abu Bakr waited for some days, then asked permission of the Messenger of Allah ﷺ to enter, and found that they had made peace with each other. He said to them: Bring me into your peace as you brought me into your war. The Prophet ﷺ said: We have done so: we have done so.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١١٦٣٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٧٢، ٢٧٥) (ضعیف الإسناد )
عوف بن مالک اشجعی ؓ کہتے ہیں کہ میں غزوہ تبوک میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، آپ چمڑے کے ایک خیمے میں قیام پذیر تھے، میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے جواب دیا، اور فرمایا: اندر آجاؤ تو میں نے کہا کہ پورے طور سے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: پورے طور سے چناچہ میں اندر چلا گیا۔
Awf bin Malik al-Ashjai said: I came to the Messenger of Allah ﷺ at the expedition to Tabuk when he was in a small skin tent. I gave him a salutation and he returned it, saying: come in. I asked: the whole of me Messenger of Allah? He replied: The whole of you. So I entered.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجزیة ١٥ (٣١٧٦)، سنن ابن ماجہ/الفتن ٤٢ (٤٠٤٢)، (تحفة الأشراف: ١٩٠٠٣، ١٠٩١٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٢) (صحیح )
یزید بن سعید ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: تم میں سے کوئی اپنے بھائی کا سامان (بلا اجازت) نہ لے نہ ہنسی میں اور نہ ہی حقیقت میں ١ ؎۔ سلیمان کی روایت میں ( لاعبا ولا جادا کے بجائے) لعبا ولا جدا ہے، اور جو کوئی اپنے بھائی کی لاٹھی لے تو چاہیئے کہ (ضرورت پوری کر کے) اسے لوٹا دے۔ ابن بشار نے صرف عبداللہ بن سائب کہا ہے ابن یزید کا اضافہ نہیں کیا ہے اور (رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا، کہنے کے بجائے) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہا ہے۔
Narrated Abdullah ibn as-Saib ibn Yazid: The Messenger of Allah ﷺ said: None of you should take the property of his brother in amusement (i. e. jest), nor in earnest. The narrator Sulayman said: Out of amusement and out of earnest. If anyone takes the staff of his brother, he should return it. The transmitter Ibn Bashshar did not say Ibn Yazid, and he said: The Messenger of Allah ﷺ said.
Notes · وضاحت
١ ؎: حقیقت میں لینے کی ممانعت کی وجہ تو ظاہر ہے کہ یہ چوری ہے اور ہنسی میں لینے کی ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ اس میں کوئی فائدہ نہیں بلکہ کبھی کبھی یہ چیز سامان والے کی ناراضگی اور اس کے لئے تکلیف کا باعث بن جاتی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الفتن ٣ (٢١٦٠)، (تحفة الأشراف: ١١٨٢٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٢١) (حسن )
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے کہ ہم سے صحابہ کرام ؓ نے بیان کیا کہ وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ جا رہے تھے، ان میں سے ایک صاحب سو گئے، کچھ لوگ اس رسی کے پاس گئے، جو اس کے پاس تھی اور اسے لے لیا تو وہ ڈر گیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان کے لیے درست نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو ڈرائے ١ ؎۔
Narrated Abdur Rahman ibn Abu Layla (RA) : The Companions of the Prophet ﷺ told us that they were travelling with the Prophet ﷺ . A man of them slept, and one of them went to the rope which he had with him. He took it, by which he was frightened. The Prophet ﷺ said: It is not lawful for a Muslim that he frightens a Muslim.
Notes · وضاحت
١ ؎: بطور مذاق بھی ایسا کرنا صحیح نہیں کیونکہ اس میں ایذا رسانی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٥٦٢٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٦٢) (صحیح )
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ دشمنی رکھتا ہے تڑتڑ بولنے والے ایسے لوگوں سے جو اپنی زبان کو ایسے پھراتے ہیں جیسے گائے (گھاس کھانے میں) چپڑ چپڑ کرتی ہے، یعنی بےسوچے سمجھے جو جی میں آتا ہے بکے جاتا ہے ۔
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Messenger of Allah ﷺ said: Allah, the Exalted, hates the eloquent one among men who moves his tongue round (among his teeth), as cattle do.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأدب ٧٢ (٢٨٥٣)، (تحفة الأشراف: ٨٨٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٦٥، ١٨٧) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کوئی باتوں کو گھمانا اس لیے سیکھے کہ اس سے آدمیوں یا لوگوں کے دلوں کو حق بات سے پھیر کر اپنی طرف مائل کرلے، تو اللہ قیامت کے دن اس کی نہ نفل (عبادت) قبول کرے گا اور نہ فرض ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: On the Day of resurrection Allah will not accept repentance or ransom from him who learns excellence of speech to captivate thereby the hearts of men, or of people.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٣٥١٠) (ضعیف) ( سند میں عبداللہ بن مسیب لین الحدیث ہیں )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ دو آدمی ١ ؎ پورب سے آئے تو ان دونوں نے خطبہ دیا، لوگ حیرت میں پڑگئے، یعنی ان کے عمدہ بیان سے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بعض تقریریں جادو ہوتی ہیں ٢ ؎ یعنی سحر کی سی تاثیر رکھتی ہیں راوی کو شک ہے کہ إن من البيان لسحرا کہا یا إن بعض البيان لسحر کہا۔
Abdullah bin Umar (RA) said: When two men who came from the east made a speech and the people were charmed with their eloquence, the Messenger of Allah ﷺ said: In some eloquent speech there is magic.
Notes · وضاحت
١ ؎: ان دونوں آدمیوں کے نام زبرقان بن بدر اور عمرو بن اہتم تھے اور رسول اللہ ﷺ کے پاس ان کی آمد کا و واقعہ ٩ ھ کا ہے۔ ٢ ؎: یہ خوبی اگر حق کی طرف پھیرنے کے لئے ہو تو ممدوح ہوتی ہے اور اگر باطل کی طرف پھیرنے کے لئے ہو تو مذموم۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/النکاح ٤٧ (٥١٤٦)، الطب ٥١ (٥٧٦٧)، سنن الترمذی/البر والصلة ٨١ (٢٠٢٩)، (تحفة الأشراف: ٦٧٢٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٦، ٥٩، ٦٢، ٩٤، ٤/٢٦٣) (صحیح )
ابوظبیہ کا بیان ہے کہ عمرو بن العاص نے ایک دن کہا اور (اس سے پہلے) ایک شخص کھڑے ہو کر بےتحاشہ بولے جا رہا تھا، اس پر عمرو نے کہا: اگر وہ بات میں درمیانی روش اپناتا تو اس کے لیے بہتر ہوتا، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: مجھے مناسب معلوم ہوتا ہے یا مجھے حکم ہوا ہے کہ میں گفتگو میں اختصار سے کام یعنی جتنی بات کافی ہو اسی پر اکتفا کروں اس لیے کہ اختصار ہی بہتر روش ہے۔
One day when a man got up and spoke at length Amr ibn al-As said If he had been moderate in what he said: It would have been better for him. I heard the Messenger of Allah ﷺ say: I think (or, I have been commanded) that I should be brief in what I say, for brevity is better.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠٧٤٧) (حسن الإسناد )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کسی کے لیے اپنا پیٹ پیپ سے بھر لینا بہتر ہے اس بات سے کہ وہ شعر سے بھرے، ابوعلی کہتے ہیں: مجھے ابو عبید سے یہ بات پہنچی کہ انہوں نے کہا: اس کی شکل (شعر سے پیٹ بھرنے کی) یہ ہے کہ اس کا دل بھر جائے یہاں تک کہ وہ اسے قرآن، اور اللہ کے ذکر سے غافل کر دے اور جب قرآن اور علم اس پر چھایا ہوا ہو تو اس کا پیٹ ہمارے نزدیک شعر سے بھرا ہوا نہیں ہے (اور آپ نے فرمایا) بعض تقریریں جادو ہوتی ہیں یعنی ان میں سحر کی سی تاثیر ہوتی ہے، وہ کہتے ہیں: اس کے معنی گویا یہ ہیں کہ وہ اپنی تقریر میں اس مقام کو پہنچ جائے کہ وہ انسان کی تعریف کرے اور سچی بات (تعریف میں) کہے یہاں تک کہ دلوں کو اپنی بات کی طرف موڑ لے پھر اس کی مذمت کرے اور اس میں بھی سچی بات کہے، یہاں تک کہ دلوں کو اپنی دوسری بات جو پہلی بات کے مخالف ہو کی طرف موڑ دے، تو گویا اس نے سامعین کو اس کے ذریعہ سے مسحور کردیا ۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: it is better for a man’s belly to be full of pus than to be full of poetry. Abu Ali said: I have been told that Abu Ubaid said: It means that his heart is full of poetry so much so that it makes him neglectful of the Quran and remembrance of Allah. If the Quran and the knowledge (of religion) are dominant, the belly will not be full of poetry in our opinion. Some eloquent speech is magic. It means that a man expresses his eloquence by praising another man, and he speaks the truth about him so much so that he attracts the hearts to his speech. He then condemns him and speaks the truth about him so much so that he attracts the hearts to another of his speech, as if he spelled the audience by it.
ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور باتیں کرنے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بعض بیان جادو ہوتے ہیں اور بعض اشعار حكم ١ ؎ (یعنی حکمت) پر مبنی ہوتے ہیں ۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : A desert Arab came to the Prophet ﷺ and began to speak. Thereupon the Messenger of Allah ﷺ said: In eloquence there is magic and in poetry there is wisdom.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں حُکْم، حِکْمَتْ کے معنی میں ہے جیسا کہ آیت کریمہ وآتیناہ الحُکْمَ صبیّاً میں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأدب ٦٩ (٢٨٤٥)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٤١ (٣٧٥٦)، (تحفة الأشراف: ٦١٠٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٦٩، ٣٠٩، ٣١٣، ٣٢٧، ٣٣٢) (صحیح )
بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: بعض بیان یعنی گفتگو، خطبہ اور تقریر جادو ہوتی ہیں (یعنی ان میں جادو جیسی تاثیر ہوتی ہے) ، بعض علم جہالت ہوتے ہیں، بعض اشعار حکمت ہوتے ہیں، اور بعض باتیں بوجھ ہوتی ہیں ۔ تو صعصہ بن صوحان بولے: اللہ کے نبی نے سچ کہا، رہا آپ کا فرمانا بعض بیان جادو ہوتے ہیں، تو وہ یہ کہ آدمی پر دوسرے کا حق ہوتا ہے، لیکن وہ دلائل (پیش کرنے) میں صاحب حق سے زیادہ سمجھ دار ہوتا ہے، چناچہ وہ اپنی دلیل بہتر طور سے پیش کر کے اس کے حق کو مار لے جاتا ہے۔ اور رہا آپ کا قول بعض علم جہل ہوتا ہے تو وہ اس طرح کہ عالم بعض ایسی باتیں بھی اپنے علم میں ملانے کی کوشش کرتا ہے، جو اس کے علم میں نہیں چناچہ یہ چیز اسے جاہل بنا دیتی ہے۔ اور رہا آپ کا قول بعض اشعار حکمت ہوتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ ان میں کچھ ایسی نصیحتیں اور مثالیں ہوتی ہیں، جن سے لوگ نصیحت حاصل کرتے ہیں، رہا آپ کا قول کہ بعض باتیں بوجھ ہوتی ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اپنی بات یا اپنی گفتگو ایسے شخص پر پیش کرو جو اس کا اہل نہ ہو یا وہ اس کا خواہاں نہ ہو۔
Narrated Buraydah ibn al-Hasib: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: In eloquence there is magic, in knowledge ignorance, in poetry wisdom, and in speech heaviness. Sasaah ibn Suhan said: The Prophet of Allah ﷺ spoke the truth. His statement In eloquence there is magic means: (For example), there is a right due from a man who is more eloquent in reasoning than the man who is demanding his right. He (the defendant) charms the people by his speech and takes away his right. His statement In knowledge there is ignorance means: A scholar brings to his knowledge what he does not know, and thus he becomes ignorant of that. His statement In poetry there is wisdom means: These are the sermons and examples by which people receive admonition. His statement In speech there is heaviness means: That you present your speech and your talk to a man who is not capable of understanding it, and who does not want it.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٩٧٩، ١٨٨١٧) (ضعیف) (سند میں عبداللہ بن ثابت ابوجعفر مجہول اور صخر بن عبداللہ لین الحدیث ہیں )
سعید بن المسیب کہتے ہیں کہ عمر ؓ حسان ؓ کے پاس سے گزرے، وہ مسجد میں شعر پڑھ رہے تھے تو عمر ؓ نے انہیں گھور کر دیکھا، تو انہوں نے کہا: میں شعر پڑھتا تھا حالانکہ اس (مسجد) میں آپ سے بہتر شخص (نبی اکرم ﷺ ) موجود ہوتے تھے۔
Saeed said: Umar passed by Hassan when he was reciting verses in the mosque. He looked at him. Thereupon he said: I used to recite verses when there was present in it the one who was better than you (i. e. the Prophet).
اس سند سے ابوہریرہ ؓ سے بھی اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے تو وہ (عمر ؓ) ڈرے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی اجازت کو بطور دلیل پیش نہ کردیں چناچہ انہوں نے انہیں (مسجد میں شعر پڑھنے کی) اجازت دے دی۔
The tradition mention above has also been transmitted by Saeed bin al-Musayyab through a different chain of narrators to the same effect. This version adds: so he (Umar’) feared that he would refer to the Messenger of Allah ﷺ ; therefore he allowed him.
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حسان ؓ کے لیے مسجد میں منبر رکھتے، وہ اس پر کھڑے ہو کر ان لوگوں کی ہجو کرتے جو رسول اللہ ﷺ کی شان میں بےادبی کرتے تھے، تو (ایک بار) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یقیناً روح القدس (جبرائیل) حسان کے ساتھ ہوتے ہیں جب تک وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے دفاع کرتے ہیں ۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to setup a pulpit in the mosque for Hassan who would stand on it and satirise those who spoke against the Messenger of Allah ﷺ . The Messenger of Allah ﷺ would say: The spirit of holiness (i. e. Gabriel) is with Hassan so long as he speaks in defence of the Messenger of Allah ﷺ .
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأدب ٦٩ (٢٨٤٦)، (تحفة الأشراف: ١٧٠٢٠، ١٦٣٥١)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/فضائل الصحابہ ٣٤ (٢٤٨٥)، مسند احمد (٦/٧٢) (حسن )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ آیت کریمہ والشعراء يتبعهم الغاو ون شاعروں کی پیروی وہ کرتے ہیں جو بھٹکے ہوئے ہوں (الشعراء: ٢٢٤) میں سے وہ لوگ مخصوص و مستثنیٰ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے إلا الذين آمنوا وعملوا الصالحات وذکروا الله كثيرا سوائے ان کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا (الشعراء: ٢٢٧) میں بیان کیا ہے۔
Ibn Abbas said: The verse “And the poets it is those straying in evil who follow them. He (Allah) then abrogated it and made an exception saying: Except those who believe and work righteousness, engage much in the remembrance of Allah.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٦٢٦٨) (حسن الإسناد )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز فجر سے (سلام پھیر کر) پلٹتے تو پوچھتے: کیا تم میں سے کسی نے آج رات کوئی خواب دیکھا ہے؟ اور فرماتے: میرے بعد نیک خواب کے سوا نبوت کا کوئی حصہ باقی نہیں رہے گا ١ ؎۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ finished the dawn prayer, he would ask: Did any of you have a dream last night? And he said: All that is left of Prophecy after me is a good vision.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی میری موت کے بعد وحی کا سلسلہ بند ہوجائے گا اور مستقبل کی جو باتیں وحی سے معلوم ہوتی تھیں اب صرف سچے خواب ہی کے ذریعہ جانی جاسکتی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٢٩٠٠، ١٣٥٠٨)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ الرؤیا ١ (٢)، مسند احمد (٢/٣٢٥) (صحیح الإسناد )