کتنی بار چھینک کا جواب دینا چاہیے؟
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا عَطَسَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، ثُمَّ عَطَسَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الرَّجُلُ مَزْكُومٌ.
سلمہ بن الاکوع ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص کو نبی اکرم ﷺ کے پاس چھینک آئی تو آپ نے اس سے فرمایا:يرحمک الله اللہ تم پر رحم فرمائے اسے پھر چھینک آئی تو آپ نے فرمایا: آدمی کو زکام ہوا ہے ۔
Salamah bin al-Akwa said: when a man sneezed beside the prophet ﷺ , he said to him: Allah have mercy on you, but when he sneezed again, he said: The man has a cold in the head.