Sunan Abu Dawood 5037

ادب کا بیان

5037Sunan Abu Dawood

کتنی بار چھینک کا جواب دینا چاہیے؟

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا عَطَسَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، ثُمَّ عَطَسَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الرَّجُلُ مَزْكُومٌ.

سلمہ بن الاکوع ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص کو نبی اکرم ﷺ کے پاس چھینک آئی تو آپ نے اس سے فرمایا:يرحمک الله اللہ تم پر رحم فرمائے اسے پھر چھینک آئی تو آپ نے فرمایا: آدمی کو زکام ہوا ہے ۔

Salamah bin al-Akwa said: when a man sneezed beside the prophet ﷺ , he said to him: Allah have mercy on you, but when he sneezed again, he said: The man has a cold in the head.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الزہد ٩ (٢٩٩٣)، سنن الترمذی/الأدب ٥ (٢٧٤٣)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٢٠ (٣٧١٤)، (تحفة الأشراف: ٤٥١٣)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الاستئذان ٣٢ (٢٧٠٣) (صحیح )