Sunan Abu Dawood 5038

ادب کا بیان

5038Sunan Abu Dawood

ذمی کافر کو چھینک کا جواب کیسے دیا جائے

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ الدَّيْلَمِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَتْ الْيَهُودُ تَعَاطَسُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَاءَ أَنْ يَقُولَ لَهَا: يَرْحَمُكُمُ اللَّهُ، فَكَانَ يَقُولُ: يَهْدِيكُمُ اللَّهُ، وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ.

ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس یہود جان بوجھ کر اس امید میں چھینکا کرتے کہ آپ ان کے لئے يرحمکم الله تم پر اللہ کی رحمت ہو کہہ دیں، لیکن آپ فرماتے: يهديكم الله ويصلح بالکم اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہارا حال درست کرے ۔

Narrated Abu Burdah (RA) : The Jews used to try to sneezes in the presence of the Prophet ﷺ hoping that he would say to them: Allah have mercy on you! but he would say: May Allah guide you and grant you well-being!

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأدب ٣ (٢٧٣٩)، (تحفة الأشراف: ٩٠٨٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٠٠، ٤١١) (صحیح )