ذمی کافر کو چھینک کا جواب کیسے دیا جائے
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ الدَّيْلَمِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَتْ الْيَهُودُ تَعَاطَسُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَاءَ أَنْ يَقُولَ لَهَا: يَرْحَمُكُمُ اللَّهُ، فَكَانَ يَقُولُ: يَهْدِيكُمُ اللَّهُ، وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ.
ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس یہود جان بوجھ کر اس امید میں چھینکا کرتے کہ آپ ان کے لئے يرحمکم الله تم پر اللہ کی رحمت ہو کہہ دیں، لیکن آپ فرماتے: يهديكم الله ويصلح بالکم اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہارا حال درست کرے ۔
Narrated Abu Burdah (RA) : The Jews used to try to sneezes in the presence of the Prophet ﷺ hoping that he would say to them: Allah have mercy on you! but he would say: May Allah guide you and grant you well-being!