Ayah 2:31آیت نمبر 31
اس میں سات مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وعلم ادم الاسماء کلھا، علم بمعنی عرف (پہچان کرانا) ہے اور یہاں تعلیم سے مراد اپنا علم ضروری الہام کرنا ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ وہ علم فرشتے جبریل کے واسطہ سے ہو جیسا کہ آگے آئے گا۔ اس کو علم مجہول کا صیغہ بھی پڑھا گیا ہے۔ پہلا لفظ زیادہ ظاہر ہے جیسا کہ آگے آئے گا۔ علماء صوفیہ نے کہا : اللہ تعالیٰ کے تعلیم حق دینے کے ساتھ حضرت آدم (علیہ السلام) نے ان اسماء کو جانا اور اللہ تعالیٰ کے یاد کرانے کے ساتھ انہوں نے یاد کیا اور جو اللہ تعالیٰ نے آدم سے عہد کیا تھا وہ بھول گئے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس میں ان کے نفس کے سپرد کردیا تھا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولقد عھدنا الی ادم من قبل فنسی ولم نجد لہ عزماً ۔ (طہٰ )
اور ہم نے حکم دیا تھا آدم کو اس سے پہلے (کہ وہ اس درخت کے قریب نہ جائے) سو وہ بھول گیا اور نہ پایا ہم نے (اس لغزش میں) اس کا کوئی قصد۔
ابن عطا نے کہا : اگر حضرت آدم (علیہ السلام) کے لئے ان اسماء کا علم منکشف نہ کیا جاتا تو ملائکہ کی نسبت حضرت آدم (علیہ السلام) خبر دینے سے زیادہ عاجز ہوتے۔ یہ واضح ہے۔
حضرت آدم (علیہ السلام) کی کنیت ابو البشر ہے۔ بعض نے فرمایا : ابو محمد ہے، حضرت محمد ﷺ کی کنیت خاتم الانبیاء بیان کی جاتی ہے یہ سہیلی کا قول ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : جنت میں حضرت آدم (علیہ السلام) کی کنیت ابو محمد تھی، زمین میں ابو البشر تھی، اس کی اصل دو ہمزوں کے ساتھ ہے (أأدم) کیونکہ یہ افعل کے وزن پر ہے مگر دوسرے ہمزہ کو لین کردیا، جب اس کو حرکت دینے کی طرف تو حجت پکڑے گا تو تو اسے واؤ بناوے گا تو جمع میں او ادم کہے گا کیونکہ یاء میں اس کی اصل معروف نہیں ہے عام طور پر اس میں واو رکھی جاتی ہے یہ اخفش سے مروی ہے۔
اس کے مادہ اشتقاق میں اختلاف ہے۔ بعض نے فرمایا : یہ ادمۃ الارض وادیمھا سے مشتق ہے جس کا معنی زمین کی سطح ہے، انسان اس سے پیدا ہوا اسی وجہ سے اس کا یہ نام رکھا گیا۔ یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ الادمۃ سے مشتق ہے، جس کا معنی گندمی رنگ ہے۔ الادمۃ میں اختلاف ہے۔ ضحاک نے کہا : اس سے مراد گندمی رنگ ہے۔ نضر نے کہا : یہ سفید رنگ ہے آدم (علیہ السلام) سفید تھے اور یہ عربوں کے اس قول سے ماخوذ ہے ناقۃٌ دماء، جب اونٹنی سفید ہو۔ اس اشتقاق پر اس کی جمع ادمٌ اور اوادم ہوگی جیسے حمر اور احامر ہے، کسی بھی طرح منصرف نہیں اور الادمۃ سے مشتق ہو تو اس کی جمع ادمون ہوگی۔ اس قول والوں پر اس کو منصرف بنانا لازم ہوگا۔
میں کہتا ہوں : صحیح یہ ہے کہ یہ ادیم الارض سے مشتق ہے۔ حضرت سعید بن جبیر نے کہا : آدم کو آدم اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ زمین کی سطح سے پیدا کیا گیا ہے انسان کو انسان اس لئے کہا جاتا ہے کہ کیونکہ یہ بھولا تھا۔ ابن سعد نے اسے طبقات میں ذکر کیا ہے۔
سدمی نے ابو مالک سے اور ابو صالح سے انہوں نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے، مرہ الہمدانی نے حضرت ابن مسعود سے حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کے قصہ میں روایت کیا ہے، فرمایا : اللہ تعالیٰ نے جبریل (علیہ السلام) کو زمین کی طرف بھیجا تاکہ اس کی مٹی لے آئے۔ زمین نے کہا : میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں کہ تو مجھ سے کچھ کمی کرے یا مجھے عیب لگائے۔ جبریل واپس آگئے اور مٹی نہ لے آئے۔ جبریل نے عرض کی : یا اللہ ! اس نے تیری پناہ مانگی تو میں نے اسے پناہ دے دی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے میکائیل کو بھیجا۔ زمین نے اس سے بھی پناہ چاہی تو انہوں نے پناہ دے دی۔ وہ بھی واپس آگئے اور اسی طرح کہا جس طرح جبریل نے کہا۔ پھر ملک الموت کو بھیجا۔ زمین نے اس سے پناہ مانگی تو ملک الموت نے کہا : میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں واپس جاؤں اور اس کا امر نافذ نہ کروں پس ملک الموت نے زمین کی سطح سے مٹی لی اور اسے مختلف جگہوں سے لیا کسی ایک جگہ سے نہ لیا، سرخ، سفید اور سیاہ مٹی سے لیا، اسی وجہ سے آدم (علیہ السلام) کی اولاد کے رنگ مختلف ہیں۔ اسی وجہ سے آدم کو آدم کہا جاتا ہے کیونکہ وہ زمین کی سطح سے لئے گئے تھے (1) ۔ ملک الموت مٹی لے کر اوپر گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے فرمایا : تجھے رحم نہ آیا جب زمین نے تیری بارگاہ میں تضرع وزاری کی۔ فرمایا : میں نے تیرا معاملہ اس کے قول سے زیادہ سخت دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تو آدم کی اولاد کی ارواح قبض کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، پھر مٹی کو تر کیا حتیٰ کہ وہ لیس دار مٹی بن گئی، الازب اس مٹی کو کہتے ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ ملی ہوئی ہوتی ہے، پھر اس مٹی کو چھوڑ دیا گیا حتیٰ کہ اس میں بدبو پیدا ہوگئی اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : من حما مسنون۔ (ص) فاذا سویتہ ونفخت فیہ من روحی فقعوا لہ سجدین۔ (الحجر) (میں پیدا کرنے والا ہوں بشر کو کیچڑ سے پس جب میں اس کو سنوادوں اور پھونک ماروں اس میں اپنی (طرف سے خاص) روح تو تم گر پڑنا اس کے آگے سجدہ کرتے ہوئے) ۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنے دست قدرت سے پیدا فرمایا تاکہ ابلیس ان پر بڑائی نہ جتلائے۔ فرمایا : کیا تو اس پر بڑائی جتلاتا ہے جسے میں نے اپنے دست قدرت سے پیدا کیا ہے اور میں اس کی وجہ سے فخر نہیں کرتا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے بشر بنایا، وہ جمعہ کے دن کی مقدار سے چالیس سال تک مٹی کا جسم رہا۔ پھر ملائکہ اس کے پاس سے گزرے تو وہ اس سے ڈر گئے، جب انہوں نے اسے دیکھا سب سے زیادہ ڈرنے والا ابلیس تھا وہ اس کے پاس سے گزرتا تھا تو اسے مارتا تھا، جسم سے آواز پیدا ہوتی تھی جس طرح ٹھیکری سے آواز پیدا ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے فرمایا : من صلصال کالفخار۔ (الرحمٰن)
شیطان کہتا : اللہ تعالیٰ نے اسے کس امر کے لئے پیدا کیا ہے ابلیس اس آدم کے ڈھانچہ کے منہ سے داخل ہوتا اور اس کی دبر سے نکل جاتا۔ ابلیس نے ملائکہ سے کہا : اس سے مت ڈرو یہ کھوکھلا ہے۔ اگر مجھے اس پر مسلط کیا گیا تو میں اسے ہلاک کر دوں گا۔ کہا جاتا ہے : ابلیس جب فرشتوں کے ساتھ آدم کے ڈھانچہ کے پاس سے گزرتا تو کہتا : کیا تم نے ملاحظہ کیا اسے جس کے مشابہہ تم نے کوئی مخلوق نہیں دیکھی۔ اگر اسے تم پر فضیلت دی جائے اور تمہیں اس کی اطاعت کا حکم دیا جائے تو تم ایسا کرو گے ؟ فرشتوں نے کہا : ہم اپنے رب کے حکم کی اطاعت کریں گے۔ ابلیس نے اپنے دل میں سوچا اگر اسے مجھ پر فضیلت دی گئی تو میں اس کی اطاعت نہیں کروں گا۔ اگر مجھے اس پر فضیلت دی گئی تو میں اسے ہلاک کردوں گا۔ جب وہ وقت آیا جب اللہ تعالیٰ نے آدم میں روح پھونکنے کا ارادہ کیا تو فرشتوں سے کہا : جب میں اس میں اپنی روح پھونکوں تو تم اس کے لئے سجدہ کرنا۔ جب اس میں روح پھونکی گئی اور روح آدم کے سر میں داخل ہوئی تو آدم نے چھینک ماری۔ فرشتوں نے اسے کہا : تم کہو الحمد للہ، آدم نے کہا : الحمد للہ ! اللہ تعالیٰ نے فرمایا : رحمک ربک (تیرا رب تجھ پر رحم فرمائے) جب روح آدم (علیہ السلام) کی آنکھوں میں پہنچی تو آدم (علیہ السلام) نے جنت کے پھلوں کو دیکھا۔ جب روح آدم کے پیٹ میں داخل ہوئی تو آدم کو کھانے کا شوق ہوا۔ پس وہ روح کے قدموں تک پہنچنے سے پہلے جلدی کرتے ہوئے جنت کے پھلوں کی طرف لپکے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا خلق الانسان من عجل (الانبیاء : 37) فسجد الملئکۃ کلھم اجمعون۔ الا ابلیس ابی ان یکون مع السجدین۔ (الحجر) (پس سر بسجود ہوگئے فرشتے سارے کے سارے سوائے ابلیس کے اس نے انکار کیا کہ وہ سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہو) ۔
ترمذی نے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے روایت کیا ہے، فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو اسی (مٹی کی) مٹھی سے پیدا فرمایا جو اس نے تمام زمین سے بھری تھی، پس بنو آدم زمین کی قدر پر پیدا ہوئے، بعض سرخ، بعض سفید اور بعض سیاہ پیدا ہوئے اور بعض گندمی رنگ پیدا ہوئے، کچھ نرم مزاج، کچھ سخت مزاج، کچھ خبیث اور کچھ نیک۔ ابو عیسیٰ نے کہا : یہ حدیث حسن صحیح ہے (1) ۔ ادیم جمع ہے آدم کی۔ شاعر نے کہا :
الناس اخیاف وشتی فی الشیم وکلھم یجعھم وجہ الادم
لوگ مختلف رنگوں میں ہیں اور خصائل میں بھی مختلف ہیں، سب کو زمین کی سطح جمع کرتی ہے۔
پس آدم، ادیم اور الأدم سے مشتق ہے نہ کہ الادمۃ سے مشتق ہے اللہ بہتر جانتا ہے۔ ہو سکتا ہے دونوں سے مشتق ہو، اس مسئلہ کی مزید وضاحت تخلیق آدم کے قصہ میں سورة انعام میں آئے گی۔
ادم، یہ غیر منصرف ہے، ابو جعفر نحاس نے کہا : ادم معرفہ ہونے کی صورت میں غیر منصرف ہے اس پر نحویوں کا اجماع ہے کیونکہ افعل کے وزن پر یہ معرفہ ہے اور بصریوں کے نزدیک اس کو منصرف ہونے سے کوئی چیز مانع نہیں مگر دو علتیں، اگر تو اسے نکرہ بنا دے اور یہ نعت نہ ہو۔ خلیل اور سیبویہ اسے غیر منصرف بناتے ہیں۔ اخفش سعید اسے منصرف بناتا ہے کہ یہ نعت ہے اور یہ فعل کے وزن پر ہے اگر نعت نہ ہو تو منصرف ہوگا۔ ابو اسحاق زجاج نے کہا : قول تو سیبویہ کا ہے۔ وہ نعت اور غیر میں فرق نہیں کرتے، کیونکہ یہ بعینہ وہی ہے۔
مسئلہ نمبر 2: اللہ تعالیٰ نے فرمایا الأسماء کلھا، الاسماء سے یہاں مراد عبارات ہیں۔ کبھی اسم بولا جاتا ہے اور مراد مسمیٰ ہوتا ہے جیسے تیرا قول یدٌ قائم۔ الاسد شجاعٌ۔ کبھی نام سے مراد ذات ہوتی ہے جیسے تیرا قول اسد کے تین حرف میں پہلی صورت میں اسم بولا گیا ہے مراد مسمّی ہے، دوسری صورت میں مسمی مراد نہیں ہوتا کبھی لغت میں ذات کے قائم مقام عبارت ہوتی ہے اس طرح کا استعمال اکثر ہے۔ اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وعلم ادم الاسماء کلھا یہ مشہور تاویلات پر ہے۔ اسی سے نبی کریم ﷺ کا قول ان اللہ تسعۃ وتسعین اسماً ۔ (2) کبھی یہ ذات کے قائم مقام ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے : ذات، نفس، عین اسمٌ یہ سب ہم معنی ہیں۔ اکثر اہل علم نے سبح اسم ربک الاعلیٰ ۔ (الاعلیٰ ) اور تبرک اسم ربک (الرحمٰن : 78) اور ان ھی الا اسماء سمیتموھا (النجم :23) میں اسم کو ذات پر محمول کیا ہے۔
مسئلہ نمبر 3: وہ اسماء جو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو سکھائے ان کے معنی میں اہل تاویل نے اختلاف کیا ہے۔ حضرات ابن عباس، عکرمہ، قتادہ، مجاہد، ابن جبیر نے کہا : علمہ اسماء جمیع الاشیاء کلھا جلیلھا وحقیرھا۔ (3) اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو تمام بڑی چھوٹی اشیاء کے اسماء سکھا دئیے۔
لوگوں نے برتنوں کے نام اور کوڑے کے نام کا ذکر کیا تو حضرت ابن عباس نے فرمایا : حضرت آدم (علیہ السلام) کو اللہ نے تمام چیزوں کے اسماء سکھائے۔
میں کہتا ہوں : یہ معنی مرفوع حدیث میں بھی مروی ہے اور لفظ کلھا بھی اسی بات کا تقاضا کرتا ہے کیونکہ کلھا یہ احاطہ اور عموم کے لئے وضع کیا گیا ہے، بخاری میں حضرت انس کی حدیث ہے جو انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : مومنین قیامت کے روز جمع ہوں گے اور کہیں گے : اگر ہم اپنے پروردگار کی بارگاہ میں سفارش طلب کریں۔ پس لوگ حضرت آدم (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے اور انہیں کہیں گے : انت ابو الناس خلقک اللہ بیدہ واسجدلک ملائکتہ وعلمک اسماء کل شیءٍ ، آپ لوگوں کے باپ ہیں اللہ تعالیٰ نے تجھے اپنے دست قدرت سے پیدا کیا، تیرے سامنے ملائکہ کو سجدہ کرا یا، تجھے ہر چیز کا نام سکھایا (1) ۔ الحدیث۔
ابن خویز منداد نے کہا : اس آیت میں دلیل ہے کہ لغت توقیفی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو تمام اور تفصیلی اسماء سکھائے۔ اسی طرح حضرت ابن عباس نے کہا : اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو ہر چیز کا نام بتایا حتیٰ کہ پیالے اور دودھ دوھنے کے برتن کا نام بھی بتایا۔
شیبان نے حضرت قتادہ سے روایت کیا ہے، فرمایا : حضرت آدم (علیہ السلام) کو اپنی مخلوق کے اسماء بتائے جبکہ ملائکہ کو نہ بتائے۔ چیز کا نام بتایا اور ہر چیز کی منفعت اس کی جنس کی طرف پھیری۔ نحاس نے کہا : یہ کچھ اس باب کے متعلق مروی ہے اس میں سے بہتر یہی قول ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اجناس کے اسماء بھی سکھائے اور ان کے منافق بھی بتائیے۔ یہ چیز اس طرح اور یہ اس کام کے لئے ہے۔ طبری نے کہا : اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو فرشتوں کے اسماء اور ان کو اپنی اولاد کے اسماء سکھائے۔ طبری نے اس قول کو پسند کیا ہے اور اس قول کی وجہ سے اسے ترجیح دی ہے : ثم عرضھم علی الملئکۃ۔
ابن زید نے کہا : حضرت آدم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے ان کی اولاد کے اسماء سکھائے۔ ربیع بن خثیم نے کہا : خاص فرشتوں کے اسماء سکھائے۔ قتبی نے کہا : جو کچھ زمین میں پیدا فرمایا ان کے اسماء سکھائے۔ بعض علماء نے فرمایا : اجناس اور انواع کے اسماء سکھائے (2) میں کہتا ہوں : پہلا قول زیادہ صحیح ہے جیسا کہ ابھی ہم نے ذکر کیا ہے اور آئندہ بھی انشاء اللہ ذکر کریں گے۔
مسئلہ نمبر 4: اہل تاویل کا اختلاف ہے کہ کیا ملائکہ پر اشخاص کے نام پیش کئے تھے یا صرف اسماء پیش کئے تھے بغیر اشخاص کے۔ حضرت ابن مسعود وغیرہ نے فرمایا : اشخاص کو پیش کیا گیا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : عرضھم (انہیں پیش کیا)
اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد : انبئونی باسماء ھؤلاء (ان کے اسماء بتاؤ) عرب کہتے ہیں : عرضت الشیء فاعرض میں نے چیز کو ظاہر کیا تو وہ ظاہر ہوگئی۔ اسی سے ہے عرضت الشیء للبیع میں نے چیز کو بیع کے لئے پیش کیا۔ حدیث پاک میں ہے : انہ عرضھم امثال الذر انہوں نے چیونٹیوں کی مثال میں پیش کیا (3) ۔
حضرت ابن عباس وغیرہ نے فرمایا : اسماء کو پیش کیا۔ حضرت ابن مسعود کے حرف میں ہے : عرضھن۔ انہوں نے ضمیر اسماء کی طرف لوٹائی اشخاص کی طرف نہیں، ھن ضمیر مؤنث کے ساتھ خاص ہے، اور حضرت ابی کے حرف میں ہے : عرضھا۔
مجاہد نے کہا : اصحاب الاسماء کو پیش کیا جنہوں نے کہا : اسماء سے مراد المسمیات ہے تو انہوں نے ابی کی قرأت عرضھا کو بنیاد بنایا۔ اور جنہوں نے عرضھم پڑھا انہوں کہا : لفظ اسماء اشخاص پر دلالت کرتا ہے اس لئے اسماء کے لئے عرضھم کہنا جائز ہے اور ھؤلاء میں اسماء کے اشخاص کی طرف اشارہ مراد ہے لیکن اگرچہ وہ غائب تھے پس وہ حاضر تھا جو ان میں سے تھا ایک سبب کی وجہ سے اور وہ ان کے اسماء تھے۔ ابن عطیہ نے کہا : وہ بات جو ظاہر ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو اسماء سکھائے اور ان اجناس کے ساتھ ان پر اسماء پیش کئے پھر ان چیزوں کو لائ کہ پر پیش کیا اور ان سے ان چیزوں کے اسماء پوچھے، جو حضرت آدم (علیہ السلام) نے سیکھ لئے تھے۔ پھر حضرت آدم (علیہ السلام) نے انہیں بتایا اس چیز کا یہ اسم ہے اس چیز کا یہ اسم ہے۔
الماوردی نے کہا : اصح یہ ہے کہ ذوات کو پیش کیا گیا تھا پھر ان چیزوں کے پیش کرنے کے زمانہ میں دو قول ہیں۔ (1) ان چیزوں کو تخلیق کرنے کے بعد انہیں پیش کیا۔ (2) اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے دلوں میں ان کی تصویریں ڈال دیں پھر انہیں پیش کیا۔
مسئلہ نمبر 5: اس میں اختلاف ہے کہ سب سے پہلے عربی زبان کس نے بولی۔ حضرت کعب الاحبار سے مروی ہے کہ سب سے پہلے جس نے عربی اور سریانی کتاب اور باقی کتب جس نے وضع کیں اور تمام زبانوں کے ساتھ کلام کی وہ حضرت آدم (علیہ السلام) تھے۔ یہ حضرت کعب الاحبار کے علاوہ علماء کا بھی قول ہے۔
اگر کہا جائے کہ حضرت کعب احبار سے بہتر وجہ مروی ہے، فرمایا : جس نے سب سے پہلے عربی بولی وہ حضرت جبریل (علیہ السلام) تھے انہوں نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی زبان پر عربی ڈالی تھی اور حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے سام کی زبان پر ڈالی تھی اسے ثوربن زید نے خالد بن معدان سے انہوں نے حضرت کعب سے روایت کیا ہے۔ نبی کریم ﷺ سے مروی ہے، فرمایا : جس نے واضح عربی زبان سب سے پہلے بولی وہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) تھے وہ اس وقت دس سال کے تھے۔ یہ بھی مروی ہے کہ سب سے عربی یعرب بن قحطان نے بولی۔ اس کے علاوہ بھی روایات ہیں۔ ہم کہیں گے : صحیح یہ ہے کہ سب سے پہلے انسانوں میں سے عربی بولنے والے حضرت آدم (علیہ السلام) تھے۔ قرآن اس کی شہادت دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وعلم ادم الاسماء کلھا۔ اور لغات ساری اسماء ہیں۔ پس یہ اس کے تحت داخل ہیں، سنت میں بھی اس طرح آیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : حضرت آدم (علیہ السلام) کو تمام اسماء سکھائے حتیٰ کہ پلیٹ اور پیالہ کا نام بھی سکھایا اور پہلے ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے سب سے پہلے عربی بولی تو اس میں احتمال ہے کہ یہ مراد ہو کہ حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے سب سے پہلے حضرت اسماعیل نے عربی بولی۔ اسی طرح اس قول کے علاوہ جو اقوال ہیں وہ بھی اس پر محمول ہوں گے کہ مذکور شخص نے اپنے قبیلہ سے پہلے عربی بولی۔ اس کی دلیل وہی ہے جو میں نے ذکر کردی ہے۔ اسی طرح جبریل نے فرشتوں میں سے سب سے پہلے عربی بولی اور اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو عربی سکھائی اس کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کی زبان سے یہ جاری فرمائی جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ھؤلاءِ ۔ یہ لفظ مبنی برکسرہ ہے تمیم اور بعض قیس اور اسد قبیلہ کی لغت میں ھؤلاء میں قصر ہے۔
اعشی نے کہا :
ھؤلا ثم ھؤلا کلا اعطیہ ت نعالا محذوۃً بمثال (1)
یہ لوگ پھر یہ لوگ یقیناً تو نے ان کو مثال کے ساتھ سلے ہوئے جوتے دئیے۔
عربوں میں سے بعض اسے ھولاء پڑھتے ہیں الف اور ہمزہ حذف کردیتے ہیں۔
مسئلہ نمبر 6: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ان کنتم صدقین یہ شرط ہے اور اس کا جواب محذوف ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے : ان کنتم صادقین ان بنی آدم یفسدون فی الارض فانبئونی یعنی اگر تم سچے ہو کہ بنی آدم زمین میں فساد برپا کریں گے تو پھر مجھے بتاؤ۔ یہ مبرد کا قول ہے صدقین کا معنی عالمین ہے یعنی اگر تم جاننے والے ہو۔ اسی وجہ سے ملائکہ کے لئے اجتہاد جائز نہیں ہے۔ فرشتوں نے کہا : سبحانک۔ تیری ذات پاک ہے۔ یہ نقاش نے بیان کیا ہے۔ اس نے کہا : اگر ان پر خبر دینے میں صرف سچ شرط نہ ہو تو پھر ان کے لئے اجتہاد جائز ہوتا جس طرح اس شخص کے لئے جائز تھا جسے اللہ تعالیٰ نے سو سال موت دی پھر پوچھا کم لبثت اس پر اصابت شرط نہیں تھی۔ فرمایا : اس نے صحیح بات نہ پائی تو اس پر سختی نہ فرمائی یہ واضح ہے اس میں کسی قسم کا خفا نہیں۔
طبری اور ابو عبید نے حکایت کیا ہے کہ بعض مفسرین نے کہا : ان کنتم کا معنی ہے اذ کنتم۔ طبری اور ابو عبید نے کہا : یہ غلط ہے (2) ۔
انبئونی کا معنی ہے : مجھے خبر دو ۔ النبأ خبر کو کہتے ہیں اسی سے النبی (ہمزہ کے ساتھ) ہے اس کا بیان آگے آئے گا انشاء اللہ
مسئلہ نمبر 7: بعض علماء نے فرمایا : خبر دینے کے امر سے یہ مسئلہ مستنبط ہوتا ہے کہ تکلیف مالا یطاق جائز ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ وہ نہیں جانتے۔ محققین اہل تاویل کہتے ہیں : یہ تکلیف کی جہت سے امر نہیں ہے یہ تقریر اور توقیف کی جہت سے ہے۔ تکلیف مالا یقاق پر تفصیلی کلام آگے آئے گا کیا تکلیف مالا یطاق واقع ہوا ہے یا نہیں۔ یہ تفصیلی گفتگو انشاء اللہ سورت کے آخر میں آئے گی۔
Ayah 2:32آیت نمبر 32
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قالوا سبحنک لا علم لنا الا ما علمتنا اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے سبحنک تو اس سے پاک ہے کہ تیرے سوا کوئی غیب جانے۔ یہ انبئونی کے ارشاد کا جواب ہے۔ فرشتوں نے جواب دیا کہ وہ تو صرف وہی جانتے ہیں جو وہ انہیں سکھاتا ہے اور وہ کوئی ایسی بات نہیں کہتے جس انہیں علم نہیں جیسا کہ ہم میں سے جہال کہا کرتے ہیں۔ ما علمتنا میں ما بمعنی الذی ہے یعنی وہ جو تو نے ہمیں سکھایا اور یہ بھی جائز ہے کہ مامصدر یہ ہو بمعنی الا تعلیمک ایانا یعنی مگر تیرے سکھانے کے ساتھ۔
مسئلہ نمبر 2: جس شخص سے کوئی علمی بات پوچھی جائے اور وہ نہ جانتا ہو تو اس پر واجب ہے کہ وہ فرشتوں، انبیاء، فضلاء علماء کی اقتداء کرتے ہوئے یہ کہے کہ اللہ جانتا ہے میں نہیں جانتا۔۔۔۔ لیکن نبی کریم ﷺ نے بتایا کہ علماء کی موت کے ساتھ علم اٹھا لیا جائے گا، پھر جہال لوگ باقی رہ جائیں گے جن سے فتوے طلب کئے جائیں گے وہ اپنی رائے سے فتوے دیں گے، وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے (1) ۔ نبی کریم ﷺ ، صحابہ کرام اور تابعین سے اس آیت کے معنی میں جو مروی ہے وہ البستی نے “ المسند الصحیح ” میں حضرت ابن عمر سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : بری جگہیں کون سی ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : میں نہیں جانتا حتیٰ کہ میں جبریل امین (علیہ السلام) سے پوچھ لوں۔ جبریل امین (علیہ السلام) سے آپ ﷺ نے پوچھا تو اس نے کہا : میں نہیں جانتا حتیٰ کہ میں میکائیل (علیہ السلام) سے پوچھ لوں، میکائیل (علیہ السلام) آئے اور کہا : اچھی جگہیں مساجد ہیں اور بری جگہیں بازار ہیں۔ حضرت صدیق اکبر ؓ نے وادی کو ایک مسئلہ میں کہا تھا تو لوٹ جا حتیٰ کہ میں لوگوں سے پوچھ لوں (2) ۔
حضرت علی ؓ فرمایا کرتے تھے : وابردھا علی الکبد۔ یہ تین مرتبہ فرمایا۔ لوگوں نے کہا : اے امیر المومنین ! یہ کیا ہے ؟ فرمایا : آدمی سے کوئی مسئلہ پوچھا جائے جو وہ نہ جانتا ہو تو وہ کہے : اللہ اعلم
حضرت ابن عمروؓ سے ایک شخص نے مسئلہ پوچھا تو آپ نے فرمایا : مجھے اس کا علم نہیں ہے۔ جب وہ شخص واپس چلا گیا تو حضرت ابن عمر سے فرمایا : ابن عمر نے ٹھیک کہا ہے ایسی بات پوچھی گئی جس کا اسے علم نہیں تھا تو کہا : مجھے اس کا علم نہیں۔ یہ دارمی نے اپنی مسند میں ذکر کیا ہے۔ صحیح مسلم میں ابی عقیل یحییٰ بن متوکل صاحب “ بہیتہ ” نے کہا : میں قاسم بن عبید اللہ اور یحییٰ بن سعید کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ یحییٰ نے قاسم سے کہا : اے ابا محمد ! تیرے جیسے شخص پر بہت بری بات ہے کہ اس دین کا کوئی مسئلہ تجھ سے پوچھا جائے پھر تیرے پاس اس کا علم نہ ہو اور نہ کوئی کشادگی کا راستہ ہو، یا کہا : نہ علم اور نہ نکلنے کا راستہ ہو۔ قاسم نے عقل بخشی ہے اس کے نزدیک اس سے بھی بری بات یہ ہے کہ انسان بغیر علم کے کوئی بات کرے یا کسی غیر ثقہ سے مسئلہ پوچھے۔ یحییٰ خاموش ہوگیا اور کوئی جواب نہ دیا۔ حضرت مالک بن انس نے فرمایا : میں نے ابن ہرمز کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ عالم کے لئے مناسب ہے کہ وہ اپنے شاگردوں کو لا ادری (میں نہیں جانتا) کی میراث دے تاکہ ان کے ہاتھوں میں اصل ہو۔ جب ان میں سے کسی سے وہ مسئلہ پوچھا جائے گا جو وہ نہیں جانتا ہوگا تو کہے گا : میں نہیں جانتا۔ ہیثم بن جمیل نے ذکر کیا ہے کہ میں امام مالک سے اڑتالیس مسائل پوچھنے کے لئے حاضر ہوا تو امام مالک نے بتیس مسائل میں فرمایا : میں نہیں جانتا۔
میں کہتا ہوں : صحابہ کرام، تابعین اور فقہاء مسلمین سے بہت سی ایسی مثالیں مروی ہیں۔ اس کو اس ریاست کے ترک اور علم میں انصاف نہ کرنے پر محمول کیا جائے گا۔ ابن عبد البر نے کہا : علم کی برکت اور اس کے آداب سے اس میں انصاف کرنا ہے جس نے انصاف نہیں کیا اس نے نہ سمجھا اور نہ سمجھنے کی کوشش کی۔ یونس بن عبد الاعلیٰ سے مروی ہے، فرمایا : میں نے ابن وہب کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ہمارے زمانہ میں انصاف سے کم کوئی چیز نہیں ہے۔
میں کہتا ہوں : یہ صورت امام مالک کے زمانہ میں تھی تو پھر آج ہمارے زمانہ میں کیا حالت ہوگی جبکہ ہمارے اندر فساد پھیل چکا ہے اور کمینے لوگوں کی کثرت ہے اور ریاست کے لئے علم طلب کیا جاتا ہے نہ کہ شعور و آگاہی کے لئے بلکہ دنیا میں ظاہر ہونے اور اس جنگ وجدل کے ذریعے اپنے ہم عصروں پر غلبہ پانے کے لئے حاصل کیا جاتا ہے جو جنگ وجدل دل میں قساوت پیدا کرتا ہے اور کینہ چھوڑتا ہے۔ اس کو عدم تقویٰ اور اللہ تعالیٰ کا خوف نہ ہونے پر محمول کیا جائے گا۔
کہاں گئی وہ روایت جو حضرت عمر سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا : اپنی عورتوں کے مہر چالیس اوقیہ سے زائد نہ رکھو اگرچہ عورت ذی العصبہ کی بیٹی ہو یعنی یزید بن حصین حارثتی کی بیٹی ہو جو زیادہ رکھے گا زیادتی بیت المال میں رکھی جائے گی۔ ایک عورت اٹھی جو صائب الرائے عورتوں میں سے تھی۔ اس کا منہ لمبا تھا اور ناک چپٹی تھی۔ اس عورت نے کہا : تجھے اس مہر کے تعین کا حق نہیں۔ حضرت عمر نے کہا : کیوں ؟ اس عورت نے کہا : اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اتیتم احدھن قنطاراً فلا فاخذوا منہ شیئًا (النساء :20) دے چکے ہو تم اسے ڈھیروں مال تو نہ لو اس مال سے کوئی چیز۔
حضرت عمر نے کہا : عورت صحیح ہے اور مرد نے غلطی کی (1) ۔
وکیع نے ابو معشر سے انہوں نے حضرت محمد بن کعب القرظی سے روایت کیا ہے، فرمایا : ایک شخص نے حضرت علی سے ایک مسئلہ پوچھا۔ حضرت علی نے جواب دیا تو اس شخص نے کہا : اے امیر المومنین ! مسئلہ اس طرح نہیں ہے بلکہ اس طرح ہے۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا : تو نے صحیح کہا اور میں نے غلطی کی ہر علم والے اوپر علم والا ہوتا ہے۔
ابو محمد قاسم بن اصبغ نے ذکر کیا ہے کہ جب میں مشرق کی طرف چلا تو میں قیروان میں اترا اور میں نے بکر بن حماد سے مسدد کی حدیث حاصل کی۔ پھر میں بغداد چلا گیا۔ میں لوگوں سے ملا۔ جب میں واپس آیا تو میں مسدد کی حدیث کی تکمیل کے لئے ان کی طرف لوٹا۔ ایک میں نے ان پر نبی کریم ﷺ کی حدیث پڑھی “ آپ ﷺ کے پاس ایک قوم آئی جس کا تعلق مضر قبیلہ سے تھا انہوں نے دھاری دار قمیص پہنی ہوئی تھیں بکر بن حماد نے کہا : حدیث میں لفظ مجتابی النمار نہیں مجتابی الشمار ہے۔ میں نے کہا : مجتابی النمار ہے۔ میں نے اندلس اور عراق میں جس شخص پر بھی یہ حدیث پڑھی میں نے اسی طرح پڑھی ہے۔
بکر بن حماد نے کہا : تو عراق میں جانے کی وجہ سے ہمارا مقابلہ کرتا ہے اور ہم پر فخر کرتا ہے۔ پھر مجھے فرمایا : ہمارے ساتھ اس شیخ کی طرف چلو۔۔۔۔ جو مسجد میں موجود تھے۔۔۔۔ اس کے پاس اس کا علم ہے۔ ہم ان کی طرف چلے۔ ہم نے ان سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا : ھو مجتابی النمار جیسا کہ میں نے کہا تھا۔ یہ لوگ دھاری دار کپڑے پہنتے تھے اور ان کے گریبان سامنے ہوتے تھے۔ النمار جمع ہے نمرۃ کی۔ بکر بن حماد نے اپنا ناک پکڑ لیا اور کہا : حق کے لئے میری ناک خاک آلود ہو، حق کے لئے میری ناک خاک آلود ہو پھر وہ واپس چلے گئے۔ یزید بن ولید بن عبدا لملک نے کتنا اچھا کہا ہے :
اذا ما تحدثت فی مجلس تناھی حدیثی الی ما علمت
ولم اعد علمی الی غیرہ وکان اذا ما تناھی سکت
جب میں کسی مجلس میں بات کرتا ہوں تو میری بات کی انتہا میرے علم تک ہوتی ہے۔ میں اپنے علم کو کسی غیر تک نہیں لے جاتا۔ جب میرے علم کی انتہا ہوتی ہے تو میں خاموش ہوجاتا ہوں۔
مسئلہ نمبر 3: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سبحنک۔ خلیل اور سیبویہ کے نزدیک سبحان مصدر ہونے کی بنا پر منصوب ہے۔ یہ اس معنی کو ادا کرتا ہے : نسبحک تسبیحاً ہم تیری تسبیح بیان کرتے ہیں۔ کسائی نے کہا : یہ نداء کی وجہ سے منصوب ہے (1) ۔
العلیم مبالغہ کے لئے اور اللہ کی مخلوق میں معلومات میں کثرت کا معنی دینے کے لئے فعیل کے وزن پر ہے۔ الحکیم اس کا معنی حاکم ہے، ان دونوں اسموں کے درمیان مزید مبالغہ ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی محکم ہے اس صورت میں حکیم فعل کی صفات سے ہوگا، پھر یہ مفعل سے فعیل کے وزن پر پھیرا گیا ہے جیسا کہ مسمع کو سمیع کی طرف اور مؤلم کو الیم کی طرف پھیرا گیا ہے یہ ابن انباری نے کہا ہے۔ ایک قوم نے کہا : الحکیم کا معنی ہے فساد سے روکنے والا۔ اسی سے حکمۃ اللجام کہا جاتا ہے کیونکہ وہ بھی گھوڑے کو مقصد کے بغیر بھاگنے اور چلنے سے روکتی ہے۔ جریر نے کہا :
أبنی حنیفہ احکموا سفھاء کم انی اخاف علیکم ان اغضبا (2)
کیا بنی حنیفہ نے اپنے نادان لوگوں کو روکا ہے۔ مجھے اندیشہ ہے کہ میں تم پر غصہ کروں گا یعنی کیا بنی حنیفہ نے اپنے بیوقوف لوگوں کو فساد سے روکا ہے۔
زہیر نے کہا :
القائد الخیل منکوبا دوابرھا قد أحکمت حکمات القد والابقا
وہ گھوڑوں کو چلاتا ہے حتیٰ کہ ان کے پاؤں گھس جاتے ہیں وہ روئی اور چمڑے کی لگاموں کے ساتھ روکے گئے ہیں۔
عرب کہتے ہیں : احکم الیتیم عن کذا وکذا۔ یتیم کو اس کام سے روکا گیا ہے۔ السورۃ المحکمۃ ایسی سورت جس میں کسی قسم کی تبدیلی نہ ہو اور اس کے ساتھ اس کو ملایا جائے جو اس سے خارج ہو اور اس پر زائد کیا جائے جو اس سے نہ ہو ایسی حکمت ہے، وہ بھی حکمت والے کو جہالت سے روکتی ہے۔ کہا جاتا ہے : احکم الشیء جب کوئی کسی کام کو پختہ کرے اور مقصود سے خارج ہونے والی چیز کو روکے۔ فھو محکم و حکیم کثرت اور زیادتی حکمت کا معنی ہے۔
Ayah 2:33آیت نمبر 33
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قال یادم انبئھم باسمائھم اس میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 : انبئھم باسمائھم اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی فضیلت اور بلند مرتبہ پر آگاہ کرنے کے لئے انہیں حکم دیا کہ فرشتوں کو ان چیزوں کے نام بتاؤ، اس کے بعد کہ پہلے ان پر ان چیزوں کو پیش کیا گیا تھا تاکہ فرشتے جان لیں کہ وہ زیادہ جاننے والا ہے اس کے متعلق جو ان سے پوچھی تھی۔ حضرت آدم (علیہ السلام) فرشتوں سے افضل تھے کہ اسے ان پر مقدم کیا اس کے لئے انہیں سجدہ کرنے کا حکم دیا اور انہیں آدم کا شاگرد بنایا اور انہیں حکم دیا کہ ان سے علم حاصل کرو۔ پس حضرت آدم (علیہ السلام) کو عظمت و جلال کا رتبہ حاصل ہوگیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے مسجود بنایا اور علم کے ساتھ خاص فرمایا۔
مسئلہ نمبر 2: اس آیت میں علم اور صاحب علم کی فضیلت کی دلیل ہے۔ حدیث پاک میں ہے فرشتے طالب علم کی رضا کے لئے اپنے پر بچھاتے ہیں (1) یعنی اس کے لئے تواضع و انکساری کرتے ہیں۔ فرشتے تمام لوگوں میں صرف اہل علم کے لئے ایسا کرتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ادب واحترام ان پر حضرت آدم (علیہ السلام) کے لئے لازم کیا تھا۔ پس یہ ادب ان فرشتوں نے سیکھا جب بھی کسی بشر میں علم ان کے سامنے ظاہر ہوا فرشتے اس کے لئے جھک گئے اور علم کی اور صاحب علم کی تعظیم کے لئے عاجزی کرنے لگے اور علم طلب کرنے اور علم سے مشغول ہونے کی وجہ سے یہ سب تعظیم و مرتبہ انہیں ملا۔ یہ مرتبہ تو طلباء کا ہے، علماء اور جو ربانیین ہیں ان کا مقام کتنا بلند ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان لوگوں میں سے کرے بیشک وہ عظیم فضل والا ہے۔
مسئلہ نمبر 3: اس باب میں علماء نے اختلاف کیا ہے کہ فرشتے افضل ہیں یا انسان افضل ہے علماء کے دو قول ہیں : ایک قوم کا خیال ہے کہ انسانوں میں سے رسل، فرشتوں میں رسل افضل ہیں، انسانوں میں سے اولیاء فرشتوں میں سے اولیاء پر افضل ہیں۔ دوسرے علماء کا خیال ہے : ملاء اعلی افضل ہے جنہوں نے فرشتوں کو فضیلت دی ہے۔ انہوں نے ان آیات اور احادیث سے حجت پکڑی ہے : عباد مکرمون۔ لا یسبقونہ بالقول وھم بامرہ یعملون۔ (الانبیاء) (وہ معزز بندے ہیں نہیں سبقت کرتے بات کرنے میں اور وہ اسی کے حکم پر کار بند ہیں) ۔
لا یعصون اللہ ما امرھم ویفعلون ما یؤمرون۔ (التحریم) لن یستنکف المسیح ان یکون عبداً للہ ولا الملئکۃ المقربون (النساء :172) ہرگز عارنہ سمجھے گا مسیح (علیہ السلام) کہ وہ اللہ بندہ ہو اور نہ ہی مقرب فرشتے (اس کو عار سمجھیں گے)
قل لا اقول لکم عندی خزائن اللہ ولا اعلم الغیب ولا اقول لکم انی ملک (الانعام :50) (آپ فرمائیے کہ میں نہیں کہتا تم سے کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہوں گا کہ خود جان لیتا ہوں غیب اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں) ۔
اور بخاری میں ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : من ذکرنی فی ملاء ذکرتہ فی ملاءٍ خبیر منھم (1) (جس نے مجھے مجمع میں یاد کیا میں نے اسے ان سے بہتر مجمع میں یاد کیا۔ ) یہ نص ہے۔
اور جن علماء نے بنی آدم کو ترجیح دی انہوں نے ان آیات اور احادیث سے استدلال کیا ہے : ان الذین امنوا وعملوا الصلحت اولئک ھم خیرالبریۃ۔ (البینہ) (یقیناً جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے وہی ساری مخلوق سے بہتر ہیں ) ۔
اورحضور ﷺ کا ارشاد ہے : ان الملائکۃ لتفع اجنحتھا رضی لطالب العلم (2) (بےشک فرشتے طالب علم کی رضا کے لئے اپنے بچھاتے ہیں۔ )
یہ حدیث ابو داؤد نے ذکر کی ہے، ایسی بہت سی احادیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل عرفات کی وجہ سے فرشتوں پر مباہات فرماتا ہے اور مباہات ہمیشہ افضل کی وجہ سے کیا جاتا ہے (3) ۔ واللہ اعلم بالصواب
بعض علماء نے فرمایا : کوئی قطعی دلیل نہیں ہے کہ انبیاء فرشتوں سے افضل ہیں اور نہ اس پر کوئی قطعی دلیل ہے کہ فرشتے انبیاء سے افضل ہیں کیونکہ اس کا طریق اللہ تعالیٰ کا کوئی ارشاد ہے یا رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے یا اجماع امت ہے اور اس بارے میں کوئی چیز بھی موجود نہیں ہے۔ قدریہ فرقہ اور قاضی ابوبکر کا نظریہ اس کے خلاف ہے۔ وہ کہتے ہیں : فرشتے افضل ہیں۔ قاضی نے کہا : ہمارے اصحاب نے اور شیعہ حضرات نے جو کہا ہے کہ انبیاء افضل ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو آدم کو سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا تھا۔ تو ان کو یہ کہا جائے گا کہ مسجود لہ، سجدہ کرنے والے سے افضل نہیں ہوتا، کیا آپ نے ملاحظہ نہیں کیا کہ کعبہ مسجود لہا ہے انبیاء اور ساری مخلوق اسے سجدہ کرتی ہے، پھر انبیاء بالاتفاق کعبہ سے بہتر و افضل ہیں، اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ سجدہ صرف اللہ تعالیٰ کے لئے ہوتا ہے کیونکہ سجدہ عبادت ہے اور عبادت صرف اللہ تعالیٰ کی ہوتی ہے۔ جب معاملہ اس طرح ہے تو سجدہ ایک چھت کی طرف ہونا اس کی دلیل نہیں ہے کہ وہ چھت سجدہ کرنے والے اور عابد سے افضل ہے اور یہ بات واضح ہے۔ مزید بیان اس کے بعد آئے گا۔
مسئلہ نمبر 4: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انی اعلم غیب السموت والارض اس آیت میں دلیل ہے کہ کوئی شخص غیب نہیں جانتا مگر جن کو اللہ تعالیٰ علم عطا فرمائے جیسے انبیاء کرام یا جن کے لئے اللہ نے علم غیب عطا فرمایا وہ کسی کو کچھ غیب کا علم عطا فرما دیں۔ پس یہ نجومی اور کاہن لوگ جھوٹے ہیں۔ مزید بیان انشاء اللہ سورة انعام میں آئے گا۔
مسئلہ نمبر 5: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے واعلم ما تبدون۔ یعنی ان کے قول کو میں جانتا ہوں جو انہوں نے کہا اتجعل فیھا من یفسد فیھا (البقرہ : 30) یہ مکی اور ماوردی نے کہا ہے زہرادی نے کہا اور جو انہوں نے ظاہر کیا وہ ان کا حضرت آدم (علیہ السلام) کو جلدی سے سجدہ کرنا ہے وما کنتم تکتمون۔
حضرات ابن عباس، ابن مسعود اور سعید بن جبیر نے فرمایا : اس سے مراد وہ ہے جو ابلیس نے کبر اور معصیت اپنے نفس میں چھپائی ہوئی تھی۔ ابن عطیہ نے کہا : تکتمون جمع کا صیغہ ہے جبکہ وہ چھپانے والا اس قول کے مطابق ایک تھا تو یہ مجازاً اور وسعت کی بنا پر ہے۔ کسی قوم کو کہا جاتا ہے جبکہ ان کے ایک بیوقوف نے جنایت کی ہوتی ہے : انتم فعلتم کذا تم نے یہ کیا ہے، یعنی تم میں سے ایک ایسا کرنے والا ہے۔ یہ سختی کرنے کا ارادہ سے ہوتا ہے (1) ۔
اسی سے یہ ارشاد ہے : ان الذین ینادونک من وراء الحجرات اکثرھم لا یعقلون۔ (الحجرات) حالانکہ ایک شخص عینیہ نے پکارا تھا یا بعض نے کہا : اقرع نے پکارا تھا۔
بعض علماء نے فرمایا : ظاہر کرنا اور چھپانا یہ تمام فرشتوں کے ظواہر اور اسرار کی معرفت کے عمومی معنی پر ہے۔ مہدی بن میمون نے کہا : ہم حضرت حسن کے پاس موجود تھے۔ ان سے حسن بن دینار نے پوچھا : فرشتوں نے کیا چھپایا تھا ؟ حسن نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے جب حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا تو فرشتوں نے ایک عجیب مخلوق دیکھی گویا ان کے دلوں میں کچھ خیال پیدا ہوا۔ فرمایا : پھر وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوئے اور آپس میں سرگوشی کرنے لگے اور کہا : تمہیں اس مخلوق سے کوئی پریشانی نہیں اللہ تعالیٰ نے کوئی مخلوق پیدا ہی نہیں فرمائی مگر ہم اس سے اس کے نزدیک افضل ہیں۔
ما تبدون سے ما اس کو اعلم کی وجہ سے نصب جائز ہے اس بنا پر کہ اعلم فعل ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ اعلم بمعنی عالم ہو اور اس کی وجہ سے ما منصوب ہو پس یہ حواج بیت اللہ کی مثل ہوگا۔ پہلے اس کی بحث گزر چکی ہے۔