Ayah 2:272آیت نمبر : 272۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” لیس علیک ھدھم ولکن اللہ یھدی من یشآئ “۔ اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” لیس علیک ھدھم “۔ یہ کلام صدقات کے ذکر کے ساتھ متصل ہے، تو گویا اس میں مشرکین کو صدقہ دینے کے جواز کو بیان کیا ہے، حضرت سعید بن جبیر ؓ نے حضور نبی کریم ﷺ سے اس آیت کے سبب نزول کے بارے میں مرسل روایت بیان کی ہے کہ مسلمان ذمی لوگوں میں سے فقراء کو صدقہ دیتے رہتے تھے، جب مسلمان فقراء زیادہ ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لا تتصدقوا الاعلی اھل دینکم “ تم اپنے اہل دین کے سوا کسی کو صدقہ نہ دو ، تو یہ آیت نازل ہوئی جو اس کے لئے صدقہ مباح کر رہی ہے جو دین اسلام پر نہیں ہیں۔
اور نقاش نے ذکر کیا ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کے پاس صدقات لائے جاتے تھین، پس ایک یہودی آپ ﷺ کے پاس آیا اور اس نے کہا : مجھے کچھ عطا فرمائیے تو حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” لیس لک من صدقۃ المسلمین شئی “ (تیرے لئے مسلمانوں کے صدقہ میں سے کوئی شے نہیں ہے) پس وہ یہودی ابھی تھوڑی دور ہی گیا تھا تو یہ آیت نازل ہوئی گئی (آیت) ” لیس علیک ھدھم “ تو رسول اللہ ﷺ نے اسے بلایا اور اسے مال عطا فرما دیا، پھر اللہ تعالیٰ نے اسے آیت صدقات کے ساتھ منسوخ کردیا۔
اور حضرت ابن عباس ؓ نے روایت کیا ہے، انہوں نے فرمایا : انصار میں سے کچھ لوگوں کی بنی قریظہ اور بنی نضیر کے ساتھ رشتہ داریاں تھیں اور وہ انہیں اس تصور اور رغبت کے تحت صدقات نہیں دیتے تھے کہ جب وہ محتاج ہوں گے تو اسلام قبول کریں گے، پس یہ آیت ان کے سبب سے نازل ہوئی۔
اور بعض مفسرین نے بیان کیا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی بیٹی حضرت اسماء ؓ نے ارادہ کیا کہ وہ اپنے دادا ابو قحافہ کو کچھ دے پھر وہ اس سے رک گئیں اس لئے کہ وہ کافر ہیں، تب اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔
اور علامہ طبری نے بیان کیا ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کا صدقہ روکنے سے مقصود یہ تھا تاکہ وہ لوگ اسلام قبول کرلیں اور دین میں داخل ہوں جائیں، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو فرمایا (آیت) ” لیس علیک ھدھم “۔ (ان کو سیدھی راہ پر چلانا آپ کے ذمہ نہیں ہے)
اور یہ قول بھی ہے کہ (آیت) ” لیس علیک ھدھم “۔ ماقبل سے متصل نہیں ہے، پس یہ صدقات کے بارے میں اور انہیں کفار پر خرچ کرنے کے بارے میں ظاہر ہے بلکہ یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ اس کا معنی ابتدائے کلام ہو۔
مسئلہ نمبر : (2) ہمارے علماء نے کہا ہے : یہ صدقہ جو ان کے لئے مباح کیا گیا ہے جیسا کہ مذکورہ آثار اسے متضمن ہیں یہ نفلی صدقہ ہے اور جہاں تک فرض زکوۃ نے تعلق ہے تو وہ کسی کافر کو دینا جائز نہیں ہے کیونکہ حضور علیہ الصلوۃ والتسلیم کا ارشاد گرامی ہے :” مجھے حکم فرمایا گیا ہے کہ میں تمہارے اغنیاء اور خوشحال لوگوں سے صدقہ (زکوۃ) وصول کروں اور اسے تمہارے فقراء کی طرف لوٹا دوں (1) (صحیح بخاری، باب ماجاء فی العلم، حدیث نمبر 61، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
ابن منذر نے کہا ہے : اہل علم میں سے وہ تمام جن سے روایات محفوظ کی جاتی ہیں ان تمام نے اس پر اجماع کیا ہے کہ ذی کو مالوں کی زکوۃ میں سے کوئی شے نہ دی جائے گی، پھر انہوں نے ان میں سے ایک جماعت کا ذکر کیا ہے جنہوں نے اسے بیان کیا ہے اور کوئی اختلاف ذکر نہیں کیا۔
اور مہدوی نے بیان کیا ہے : مسلمانوں کو رخصت دی گئی ہے کہ وہ اس آیت کے تحت اپنے مشرک قرابتداروں کو فرض زکوۃ میں سے دیں، ابن عطیہ نے کہا ہے : یہ بالاجماع مردود ہے۔ واللہ اعلم۔
اور امام اعظم ابوحنیفہ نے کہا ہے : انہیں صدقہ فطر دیا جاسکتا ہے، ابن عربی نے کہا ہے : یہ ضعیف ہے اس کی کوئی اصل نہیں ہے اور ہماری دلیل یہ ہے کہ یہ صدقہ پاک کرنے والا اور واجب ہے لہذا کسی کافر کو نہیں دیا جائے گا جیسا کہ چوپائے اور عمدہ مال کا صدقہ اور حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اغنوھمعن سوال ھذا الیوم “ تم انہیں اس دن یعنی عید الفطر کے دن سوال کرنے سے غنی کر دو ۔ (یعنی تم انہیں اتنا دے دو کہ وہ اس دن سوال کرنے کے محتاج نہ رہیں)
میں (مفسر) کہتا ہوں : یہ ان کے عید میں مشغول ہونے کے سبب ہے اور یہ مشرکین میں ثابت نہیں ہوتا اور صدقہ فطر غیر مسلم کو دینا ان کے قول کے مطابق جائز ہے، جنہوں نے اسے سنت قرار دیا ہے اور ہمارے نزدیک دو قولوں میں سے ایک یہی ہے۔ اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے جیسا کہ ہم نے بیان کردیا ہے وہ آیت کو نیکی، کھانا کھلانے اور صدقات کے اطلاق میں عام قرار دیتے ہیں، ابن عطیہ نے کہا ہے : یہ حکم ان مسلمانوں کے لئے متصور ہے جو اہل ذمہ کے ساتھ اور اہل حرب میں سے جنہیں غلام بنایا گیا ہے ان کے ساتھ ہیں۔
میں کہتا ہوں : قرآن کریم میں ہے :
(آیت) ” ویطعمون الطعام علی حبہ مسکینا ویتیماواسیرا “۔ (الدھر)
ترجمہ : اور جو کھانا کھلاتے ہیں اللہ کی محبت میں مسکین، یتیم اور قیدی کو۔
اور اسیر (قیدی) دارالاسلام میں ہوتا ہے اور وہ مشرک ہی ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :
(آیت) ” لاینھکم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین ولم یخرجوکم من دیارکم ان تبروھم وتقسطوا الیھم (الممتحنہ : 8)
ترجمہ : اللہ تعالیٰ تمہیں منع نہیں کرتا کہ جن لوگوں نے تم سے دین کے معاملہ میں جنگ نہیں کی اور نہ انہوں نے تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا کہ تم ان کے ساتھ احسان کرو اور ان کے ساتھ انصاف کا برتاؤ کرو۔
پس ان آیات کا ظاہر انہیں جملہ صدقات دینے کے جواز کا تقاضا کرتا ہے، مگر حضور نبی کریم ﷺ نے ان سے فرض زکوۃ کو خاص کردیا ہے، آپ ﷺ نے حضرت معاذ ؓ کو فرمایا : ” ان کے اغنیاء اور خوشحال لوگوں سے صدقہ لو اور ان کے فقراء پر لوٹا دو (1) (صحیح بخاری کتاب الزکاۃ : حدیث نمبر : 1308، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور اس پر علماء نے اتفاق کیا ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے پس جب وہ محتاج ہوں کو انہیں نفلی صدقات میں سے دیا جائے گا۔ واللہ اعلم۔
ابن عربی نے کہا ہے : رہا گنہگار مسلمان تو اس بارے کوئی اختلاف نہیں ہے کہ اسے صدقہ فطر دیا جائے گا مگر وہ ارکان اسلام نماز، روزہ وغیرہ کو چھوڑ دے تو پھر اسے صدقہ نہیں دیا جائے گا یہاں تک کہ وہ توبہ کرلے، اور تمام گنہگار جو کہ گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں انہیں مسلمانوں میں سے شامل ہونے کی وجہ سے صدقہ دیا جائے گا اور صحیح مسلم میں ہے (2) (صحیح بخاری باب : اذا تصدق علی غنی وھو لا یعلم، حدیث نمبر : 1332، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) کہ وہ آدمی جس نے کسی غنی، چور اور زانی کو صدقہ دیا اور اس کا صدقہ قبول کرلیا گیا، اس کا بیان آگے آیۃ الصدقات میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔
مسئلہ نمبر : (3) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ولکن اللہ یھدی من یشآء “۔ یعنی اللہ تعالیٰ رہنمائی فرماتا ہے جس کی چاہتا ہے اس میں قدریہ اور معتزلہ کے گروہوں کا رد ہے، جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وما تنفقوا من خیر فلانفسکم وما تنفقون الا ابتغآء وجہ اللہ “۔ یہ شرط اور اس کا جواب ہے، اور اس آیت میں خیر سے مراد مال ہے، کیونکہ یہ انفاق کے ذکر سے مقترن ہے اور یہ قرینہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ اس سے مراد مال ہے اور جہاں ایسے قرینہ سے مقترن نہ ہو جو اس سے مراد مال ہونے پر دلالت کرتا ہو تو پھر یہ لازم نہیں ہے کہ یہ مال کے معنی میں ہو، جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” خیر مستقرا “۔ (الفرقان : 24) اور مزید ارشاد ہے : (آیت) ” مثقال ذرۃ خیرا یرہ “۔ (الزلزلۃ) الی غیر ذالک، اور یہ عکرمہ کے اس قول سے پرہیز اور احتیاط کرنا ہے کہ کتاب اللہ میں جہاں کہیں لفظ خیر ہے وہ مال کے معنی میں ہے۔
اور بیان کیا جاتا ہے کہ بعض علماء بہت سی نیکیاں کرتے ہیں پھر حلف اٹھا دیتے ہیں کہ اس نے کسی کے ساتھ خیر (نیکی) نہیں کی، تو اس بارے میں اسے کہا جائے تو وہ کہتا ہے : بلاشبہ میں نے اپنے ساتھ یہ عمل کیا ہے اور یہ آیت تلاوت کرتا ہے : (آیت) ’ وما تنفقوا من خیر فلاانفسکم “۔ پھر اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ وہ نفقہ جو قبولیت کے ساتھ شمار کیا جاتا ہے وہ وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا چاہنے کے لئے ہو اور ابتغآء یہ مفعول لہ ہے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے لئے شہادت ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی چاہنے کے لئے خرچ کرتے ہیں اور یہ آیت ان کی فضیلت اور مدح کے محل میں وارد ہوئی ہے اور پہلی تاویل کی بنا پر یہ ان پر شرط عائد کرنا ہے اور پھر یہ شرط ان کے علاوہ پوری امت کو شامل ہوگی، رسول اللہ ﷺ نے حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کو ارشاد فرمایا : ” انک لن تنفق نفقۃ تبتغی بھا وجہ اللہ تعالیٰ الا اجرت بھا حتی ماتجعل فی فی امراتک “۔ (1) (صحیح بخاری، کتاب الایمان، حدیث نمبر 54، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) (بلاشبہ تو ہر گز کوئی نفقہ خرچ نہیں کرے گا جس سے تو اللہ تعالیٰ کی رضا چاہے گا مگر تجھے اس کے عوض اجرت دی جائے گی یہاں تک کہ جو کچھ تو اپنی بیوی کے منہ میں بھی ڈالے گا۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ’ـ’ وما تنفقوا خیریوف الیکم وانتم لا تظلمون، یوف الیکم “۔ یہ قول باری تعالیٰ : (آیت) ” وما تنفقوا من خیرفلانفسکم “ کے لئے تاکید اور بیان ہے اور یہ کہ خرچ کرنے والوں کو خرچ کرنے کا ثواب پورا پورا دیا جائے گا اور اس سے کوئی شے کم نہیں کی جائے گی، پس ہی کمی ان کے لئے ظلم ہوگی۔
Ayah 2:273آیت : نمبر، 273۔
اس میں دس مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” للفقرآء۔ اس میں لام (آیت) ” وما تنفقوا من خیر “ کے متعلق ہے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ محذوف کے متعلق ہے اور تقدیر عبارت ہے : الانفاق او الصدقۃ للفقراء، سدی مجاہد وغیرہمانے کہا ہے : ان فقراء سے مراد فقراء مہاجرین ہیں جو قریش اور دوسرے قبائل سے تعلق رکھتے تھے، پھر یہ آیت ہر اس کو شامل ہے جو مستقبل میں فقراء کی صفت کے تحت داخل ہوگا اور مہاجرین فقراء کو ذکر کے ساتھ خاص اس لئے کیا گیا ہے کیونکہ وہاں ان کے سوا کوئی (فقیر) نہ تھا، اور یہ فقراء اہل صفہ تھے اور تقریبا چار سو افراد تھے، وہ فقر و افلاس کی حالت میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آتے تھے نہ ان کے اہل و عیال تھے اور نہ ہی ان کے پاس کوئی مال تھا پاس انکے لئے رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں ایک صفہ (سیاہ دار چبوترہ) تعمیر کیا گیا، پس ان کو اہل صفہ کہا گیا۔
حضرت ابوذر ؓ نے بیان فرمایا ہے : میں اہل صفہ میں سے تھا جب شام ہوتی تھی تو ہم رسول اللہ ﷺ کے دروازے پر حاضر ہوتے تھے تو آپ ﷺ ہر آدمی کو حکم ارشاد فرماتے تھے اور وہ ایک آدمی کو ساتھ لے جاتا تھا، اور اہل صفہ میں جو باقی رہ جاتے وہ دس یا اس سے کم افراد ہوتے تو حضور نبی مکرم ﷺ اپنا شام کا کھانا لے آتے اور ہم آپ ﷺ کے ساتھ کھانا تناول کرلیتے اور جب ہم فارغ ہوتے تو رسول اللہ ﷺ فرماتے : ناموا فی المسجد مسجد میں جا کر سوجاؤ۔
اور ترمذی نے حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے فرمایا : (یہ آیت) ” ولا تیمموا الخبیث منہ تنفقون “۔ ہم گروہ انصار کے بارے میں نازل ہوئی، ہم کھجوروں کے مالک تھے، فرمایا : ہر آدمی اپنے درخت سے اپنی حیثیت کے مطابق زیادہ یا کم کھجوریں لاتا تھا اور کوئی آدمی ایک خوشہ اور دو خوشے لے کر آتا تھا اور انہیں مسجد میں لٹکا دیتا تھا اور اہل صفہ کے لئے کوئی کھانے کی شے نہ ہوتی تھی تو ان میں سے جب کسی کو بھوک ستاتی تھی تو وہ اس خوشے کے پاس آتا، اسے اپنا عصا مارتا، تو اس سے خشک اور پکی کھجوریں گرپڑتی اور وہ کھا لیتا تھا اور کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو اچھی اور عمدہ شے میں رغبت نہ رکھتے تھے اور وہ ایسا خوشہ لے آتے جس میں ردی اور گھٹیا قسم کی کھجوریں ہوتی تھیں اور کوئی ایسا خوشہ لے کر آتا جو ٹوٹا ہوا ہوتا اور وہ اسے مسجد میں لٹکا دیتا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (آیت) ” یایھا الذین امنوا انفقوا من طیبت ما کسبتم ومما اخرجنا لکم من الارض ولا تیمموا الخبیث منہ تنفقون ولستم باخذیہ الا ان تغمضوا فیہ “۔
فرمایا : اگر تم میں سے کسی کو ایسا ہدیہ دیا جائے جیسا اس نے دیا ہے تو وہ اسے نہ لے گا مگر چشم پوشی کرتے ہوئے اور حیاء کرتے ہوئے، فرمایا پس اس کے بعد ہم میں سے ہر آدمی وہی لاتا تھا جو اس کے پاس عمدہ اور اچھی شے ہوتی تھی، فرمایا : یہ حدیث حسن، غریب، صحیح ہے۔
ہمارے علماء نے بیان کیا ہے کہ وہ مسجد میں ضرورت کے تحت رہتے تھے اور ضرورت کے تحت ہی صدقہ وغیرہ کھاتے تھے، پس جب اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر خوشحالی کے دروازے کھول دیئے وہ اس حالت سے مستغنی ہوگئے اور نکل گئے پھر وہ مالک بن گئے اور حاکم بن گئے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان فقراء مہاجرین کے وہ احوال بیان کئے جوان پر واپس مڑنے کو واجب کرتے ہیں اور فرمایا (آیت) ” الذین احصروا فی سبیل اللہ “۔ اور معنی ہے وہ جو روک دیئے گئے، حضرت قتادہ اور ابن نے کہا ہے : احصروا فی سبیل اللہ “۔ کا معنی ہے : جنہوں نے اپنے آپ کو دشمن کے خوف سے اپنے کاروبار میں تصرف کرنے سے روک لیا، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (آیت) ” لا یستطیعون ضربا فی الارض “۔ وہ زمین میں چلنے پھرنے کی استطاعت نہیں رکھتے کیونکہ تمام شہر مکمل طور پر کفر کے زیر تسلط ہیں اور یہ ابتدائے اسلام میں تھا اور انہیں اکتساب دولت سے باز رکھنے کی علت جہاد تھا اور کفار کا اسلام قبول کرنے سے انکار کرنا کاروبار تجارت میں تصرف کرنے سے مانع تھا، نتیجتا وہ فقراء ہی باقی رہے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ (آیت) ” لا یستطیعون ضربا فی الارض “۔ کا معنی ہے یعنی کیونکہ انہوں نے جہاد کو لازم پکڑ لیا ہے اور پہلا معنی زیادہ واضح اور ظاہر ہے۔ واللہ اعلم۔
مسئلہ نمبر : (2) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” یحسبھم الجاھل اغنیآء من التعفف “۔ یعنی بیشک انکے سوال کرنے اور مانگنے کو چھوڑنے اور ترک کرنے کے سبب اور ان کے اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے کے سبب ناواقف لوگ انہیں مالدار اور اغنیاء گمان کرتے ہیں، اس میں اس پر دلیل موجود ہے، کہ لفظ فقر کا اطلاق اس پر بھی کرنا جائز ہے جس کا لباس بہت قیمتی ہو اور وہ اسے زکوۃ دینے سے مانع نہیں ہوتا، تحقیق اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو زکوۃ دینے کا حکم ارشاد فرمایا ہے اور وہ ان مہاجرین میں سے تھے جو رسول اللہ ﷺ کی معیت میں جہاد کرتے تھے نہ وہ مریض تھے اور نہ ہی اندھے، اور ” التعفف “ یہ تفعل کے وزن پر ہے اور یہ عف من الشیء سے مبالغہ کا وزن ہے جب کوئی اس شے سے رکار ہے اور اس کی طلب سے احتیاط برتے، اس معنی کے ساتھ حضرت قتادہ وغیرہ نے تفسیر بیان کی ہے اور یحسبھم میں سین کو فتحہ اور کسرہ دونوں دیئے گئے ہیں اور یہ دو لغتیں ہیں۔
ابو علی نے کہا ہے : فتحہ زیادہ قیاس کے مطابق ہے کیونکہ اس کی ماضی میں عین کلمہ مکسور ہے، پس اس کا باب مضارع میں مفتوح آتا ہے اور کسرہ کے ساتھ پڑھنا اچھا اور حسین ہے، کیونکہ سماع اسی طرح ہے۔ اگرچہ یہ قیاس کے مقابلہ میں شاذ ہے اور ” من التعفف “ میں من ابتدائے غایت کے لئے ہے اور بعض نے کہا ہے : یہ بیان جنس کے لئے ہے۔
مسئلہ نمبر : (3) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” تعرفھم بسیمھم “۔ اس میں اس پر دلیل موجود ہے کہ شکل و صورت سے کسی پر جو آثار ظاہر ہوتے ہیں ان کا اعتبار میں خاصا اثر ہوتا ہے، یہاں تک کہ جب ہم کسی میت کو دارالاسلام میں دیکھیں اور اس پر زنار ہو (مراد وہ دھاگا سا ہے جو ذمی لوگ اپنی کمر میں باندھتے ہیں) اور وہ غیر مختون ہو تو اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں کیا جائے گا اور اکثر علماء کے قول کے مطابق اسے دار کے حکم پر آگے کردیا جائے گا اور اسی سے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بھی ہے۔
(آیت) ” ولتعرفنھم فی لحن القول “۔ (محمد : 30)
ترجمہ : اور آپ ضرور پہچان لیا کریں گے انہیں ان کے انداز گفتگو سے)
پس یہ آیت ایسے آدمی کو صدقہ دینا جائز ہونے پر دلیل ہے جس کے پاس اپنے وقار کو برقرار رکھنے کے لئے لباس، کپڑے وغیرہ موجود ہوں، اور علماء نے اس پر اتفاق کیا ہے، اگرچہ اس کے بعد اس مقدار میں انہوں نے اختلاف کیا ہے جو ضرور مند ہونے کی صورت میں وہ لے سکتا ہے، پس امام اعظم ابوحنیفہ (رح) نے اتنی مقدار کا اعتبار کیا ہے جس میں زکوۃ واجب ہوتی ہے اور امام شافعی (رح) نے ایک سال کی خوراک کا اعتبار کیا ہے اور امام مالک (رح) نے چالیس درہم کا اعتبار کیا ہے اور امام شافعی (رح) کمانے والے کو زکوۃ کا مصرف قرار نہیں دیتے۔
اور السیما (الف مقصورہ کے ساتھ) اس کا معنی علامت، نشانی ہے اور کبھی اسے مد کے ساتھ بھی پڑھا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے : السیماء “۔ اور یہاں اس کے معنی کی تعیین میں علماء کا اختلاف ہے۔
حضرت مجاہد نے کہا ہے : اس سے مراد خشوع اور تواضع ہے، سدی (رح) نے کہا ہے : ان کے چہروں پر حاجت اور فاقہ کشی اور تنگدستی کا اثر مراد ہے۔ ابن زید نے کہا ہے : ان کے کپڑوں کا پھٹا پرانا ہونا مراد ہے اور ایک قوم نے کہا ہے اور اسے مکی نے بیان کیا ہے کہ اس سے مراد سجدوں کا اثر ہے، ابن عطیہ نے کہا ہے : یہ قول اچھا ہے اور یہ اس لئے کہ وہ فارغ اور توکل کرنے والے لوگ تھے ان کا زیادہ تر نماز کے سوا کوئی شغل نہ تھا لہذا ان پر سجدوں کے نشانات تھے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : وہ سیما جس سے مراد سجدوں کا اثر ہے اس میں تو تمام صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین مشترک ہیں اللہ تعالیٰ نے سورة الفتح کے آخر میں ارشاد فرمایا ہے :
(آیت) ” سیماھم فی وجوھھم من اثرالسجود “۔ (الفتح : 29)
ترجمہ : ان (کین ایمان و عبادت) کی علامت انکے چہروں پر سجدوں کے اثر سے نمایاں ہے۔
لہذا اس معنی میں تو ان کے اور دوسروں کے درمیان کوئی فرق نہ رہا، پس کوئی معنی باقی نہ رہا، مگر یہ کہ سیما سے مراد فقر و افلاس اور حاجت مند ہونے کا اثر ہو یا پھر سجدوں کے نشانات دوسروں کے مقابلہ میں زیادہ ہوں، وہ رات کے قیام اور دن کے روزوں کی وجہ سے چہروں کی زردی سے پہچانے جاتے تھے۔ واللہ اعلم۔
اور رہا خشوع، تو اس کا محل دل ہے اور اس میں غنی اور فقیر سب مشترک ہوتے ہیں، نتیجتا جو معنی ہم نے اختیار کیا ہے اس کے سوا کوئی باقی نہیں رہا، والموفق الالہ۔
مسئلہ نمبر : (4) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” لا یسئلون الناس الحافا “۔ الحاف مصدر ہے جو حال کے محل میں واقع ہے، یعنی معنی والحفین، کہا جتا ہے : الحف، احفی اور الخ سوال میں اصرار کرنے کے معنی میں برابر ہیں اور کہا جاتا ہے، ولیس للملحف مثل الرد۔
اور الالحاف اللحاف سے مشتق ہے، سوال کرنے اور مانگنے میں وجوہ طلب پر مشتمل ہونے کی وجہ سے اسے یہ نام دیا گیا ہے جیسا کہ اللحاف ڈھانپنے کے معنی کو شامل ہوتا ہے، یعنی یہ سائل عوام الناس سے اپنا سوال کرتا ہے اور اپنے سوال میں خوب اصرار کرتا ہے۔ (گویا وہ ان کے ساتھ لپٹ کر سوال کرر ہا ہے) اسی معنی میں ابن احمر کا یہ قول ہے :
فضل یحفھن بقفقفیہ ویلحفھن ھفھافا ثخینا :
شاعر شترمرغ کا ذکر کر رہا ہے کہ وہ انڈوں کو اپنے پیروں کے نیچے چھپا لیتے ہیں اور وہ ان پر اس طرح پر ڈال لیتا ہے جیسا کہ لحاف اور وہ اپنے سخت ہونے کے ساتھ ساتھ بڑا باریک ہوتا ہے۔
نسائی اور مسلم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت نقل کی ہے (1) (صحیح بخاری، باب لایسئالون الناس الحافا، حدیث نمبر 4175، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مسکین وہ نہیں ہے جسے ایک یا دو کھجوریں اور ایک یا دو لقمے دیئے جاتے ہیں بلکہ مسکین تو پاکدامن بننے والا (سوال کے لئے ہاتھ نہ پھیلانے والا) ہے اگر چاہو تو یہ پڑھ لو (آیت) ” لا یسئلون الناس الحافا “۔
مسئلہ نمبر : (5) علماء نے قول باری تعالیٰ ، (آیت) ” لا یسئلون الناس الحافا “۔ کے معنی میں دو مختلف قول بیان کئے ہیں : پس ایک گروہ نے کہا ہے جن میں طبری اور زجاج ہیں کہ اس کا معنی ہے : وہ قطعا سوال نہیں کرتے اور یہ اس بنا پر ہے کہ وہ سوال سے کلی طور پر بچتے اور پاکدامن رہتے ہیں، یہی موقف جمہور مفسرین کا ہے اور پاکدامنی کی صفت ان کے لئے ثابت ہوتی ہے یعنی وہ لوگوں سے سوال نہیں کرتے نہ اصرار کے ساتھ اور نہ بغیر اصرار کے، اور ایک گروہ نے کہا ہے : اس سے مراد الحاف کی نفی ہے یعنی وہ اصرار اور لپٹے بغیر تو سوال کرتے رہتے ہیں اور یہ فہم کے زیادہ قریب اور اس میں جلدی آنے والی شے ہے اور اس میں اس کی بری حالت پر تنبیہ ہے جو لوگوں سے لپٹ کر سوال کرتا ہے۔
ائمہ نے روایت کیا ہے اور الفاظ امام مسلم کے ہیں کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” تم سوال میں اصرار نہ کرو قسم بخدا ! تم میں سے کوئی بھی مجھ سے کسی شے کا سوال نہیں کرتا تو اس کا سوال اس کے لئے مجھ سے کوئی شے نکال لاتا ہے اور میں اسے ناپسند کرتا ہوں، پس اس کے لئے اس میں برکت رکھ دی جائے گی جو کچھ میں نے اسے عطا کیا۔ “
اور مؤطا میں ہے، حضرت زید بن اسلم نے حضرت زید بن اسلم ؓ نے حضرت عطاء بن یسار ؓ سے اور انہوں نے بنی اسد کے ایک آدمی سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے کہا : میں اور میرے گھر والے بقیع غرقد میں اترے تو میرے گھر والوں نے مجھے کہا : تو رسول اللہ ﷺ کے پاس جا اور آپ سے ہمارے لئے کوئی چیز لے آتا کہ ہم اسے کھائیں اور وہ اپنے حاجت اور ضرورت ذکر کرنے لگے پس میں رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا تو میں نے آپ ﷺ کے پاس ایک آدمی کو سوال کرتے ہوئے پایا اور رسول اللہ ﷺ اسے فرما رہے تھے، ” لا اجد ما اعطیک “ میں کوئی ایسی شے نہیں پاتا جو میں تجھے دوں، وہ آدمی آپ سے پیٹھ پھیر کر لوٹا اس حال میں کہ وہ بڑے غصے میں تھا اور کہہ رہا تھا مجھے اپنی عمر کی قسم بلاشبہ آپ جسے چاہتے ہیں عطا فرماتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” بیشک یہ مجھ پر غصے ہو رہا ہے کہ میں نے اسے دینے کے لئے کوئی شے نہیں پائی تم میں سے جس نے اس حال میں سوال کیا کہ اس کے پاس ایک اوقیہ (چاندی) یا اس کے برابر (سامان) ہو تو تحقیق اس نے بالاصرار اور لپٹ کر سوال کیا۔ “۔
اسدی نے کہا ہے : پس میں نے کہا ہمارے لئے تو دودھ دینے والی ایک اونٹنی اوقیہ سے بہتر ہے۔
امام مالک (رح) نے کہا ہے : ایک اوقیہ میں چالیس درہم ہوتے ہیں۔ اس آدمی نے بیان کیا تو میں واپس لوٹ گیا اور میں نے آپ سے کچھ نہ مانگا پھر اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کے پاس جو اور کشمش لائے گئے تو آپ ﷺ نے انہیں ہمارے لئے تقسیم فرما دیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں غنی فرما دیا۔
ابن عبدالبر نے کہا ہے اسی طرح اسے مالک نے روایت کیا ہے اور ہشام بن سعد وغیرہ نے ان کی اتباع کی ہے اور یہ حدیث صحیح ہے اور علماء کے نزدیک جب صحابہ کا نام نہ لیا جائے اتو اس کا حکم کسی دوسرے آدمی کے حکم کی طرح نہیں ہے جب اس کا نام نہ لیا جائے، کیونکہ تمام صحابہ کرام سے جرح اٹھ چکی ہے اور ان کے لئے عدالت ثابت ہے۔ یہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ اس کے لئے سوال کرنا مکروہ ہے جس کے پاس ایک اوقیہ چاندی ہو، پس جس نے سوال کیا اس میں کہ اس کے پاس یہ حد ہو اور اتنی مقدار اور تعداد میں چاندی یا وہ شے ہو جو اس کے قائم مقام ہوتی ہے اور وہ اس کے مساوی ہو تو وہ منحف ہے (یعنی لپٹ کر سوال کرنے والا ہے) اور میں اہل علم میں سے کسی کو نہیں جانتا مگر ہر کوئی اس کے لئے سوال کو مکروہ قرار دیتا ہے جس کے پاس اتنی مقدار میں چاندی ہو یا اس کے مساوی سونا ہو، یہ حکم اس حدیث کے ظاہر کی بنا پر ہے اور جو شے بغیر سوال کے کسی کے پاس آجائے تو اس کے لئے اسے کھانا جائز ہے اگر وہ زکوۃ میں سے نہ ہو، اور یہ ان (مسائل) میں سے ہے جس میں میں کسی اختلاف سے واقف نہیں اور اگر وہ شے مال زکوۃ میں سے ہو تو اس میں اختلاف ہے اس کا بیان آیۃ الصدقات میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔
مسئلہ نمبر : (6) ابن عبدالبر نے کہا ہے : سوال کے معانی اور اس کی کراہیت کے بارے میں فقہاء جوابات اور اہل ورع کا مذہب بیان کیا گیا ہے اس میں سے احسن ترین وہ ہے جسے اثرم نے امام احمد بن حنبل ؓ سے بیان کیا ہے۔
آپ سے سوال کرنے کے بارے میں پوچھا گیا کہ یہ کب حلال ہوتا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : جب اس کے پاس اتنی شے بھی نہ ہو جس سے وہ اپنی صبح اور شام کا کھانا تیار کرسکے تیار کرسکے، یہ حضرت سہل بن حنظلیہ ؓ کی حدیث کے مطابق ہے (1) (ابی داؤد، باب من یعطی من صدقۃ وحد الغناء حدیث نمبر : 1388، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
ابو عبداللہ (یہ حضرت امام احمد (رح) کی کنیت ہے) کو کہا گیا اگر وہ سوال کرنے پر مجبور ہوجائے، تو آپ نے فرمایا : جب وہ مجبور جائے تو اس کے لئے مانگنا مباح ہے پھر کہا گیا : اور اگر وہ مانگنے سے باز رہے تو ؟ آپ نے فرمایا : یہ اس کین لئے بہت بہتر ہے۔ پھر آپ نے فرمایا : میں : کسی کے بارے یہ گمان نہیں رکھتا کہ وہ بھوک سے مرجائے گا ! اللہ تعالیٰ اسے اس کا رزق ضرور عطا فرمائے گا۔ (ما اظن احد ایموت من الجوع اللہ یاتیہ برزقہ) پھر آپ نے حضرت ابو سعید خدری ؓ کی حدیث ذکر فرمائی : من استعف اعفہ اللہ (2) (صحیح بخاری، باب الاستعفاف عن المسالۃ حدیث نمبر 1376، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) (جوپاکدامنی کا طالب ہو اللہ تعالیٰ اسے پاکدامن کر دے گا (یعنی جو سوال سے رکا رہا اللہ تعالیٰ اسے اس سے محفوظ کر دے گا۔ )
اور حضرت ابو ذر ؓ کی حدیث ہے حضور نبی مکرم ﷺ نے انہیں فرمایا : تعفف “ تو پاکدامن رہ (یعنی کسی سے نہ مانگ) ابوبکر نے بیان کیا ہے : میں نے آپ کو سنا۔ آپ سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا جا رہا تھا جس کے پاس کوئی شے نہیں ہوتی کیا وہ لوگ سے سوال کرسکتا ہے یا مراد رکھا سکتا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : کیا وہ مردار کھا سکتا ہے جو ایسے آدمی کو پائے جس سے وہ کچھ مانگ سکتا ہو، یہ بہت شفیع اور برا ہے، مزید بیان کیا اور میں نے آپ سے یہ بھی سنا کہ آپ سے سوال کیا گیا کیا آدمی کسی دوسرے کے لئے مانگ سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں، البتہ وہ تعریض کرسکتا ہے۔ (یعنی اشارۃ توجہ اس کی طرف دلوا سکتا ہے) جیسا کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے اس وقت فرمایا جب آپ ﷺ کے پاس ایک قوم آئی وہ ننگے پاؤں تھے، بدن پر کپڑے نہ تھے اور اپنے جسموں کو ادنی دھاری دار چادروں سے ڈھانپے ہوئے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا : تصدقوا (اے صحابہ) تم صدقہ کرو۔ آپ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا : اعطوھم تم انہیں دو ۔ ابو عمر نے بیان کیا ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : اشفعوا توجروا “ تم تم مدد کرو تم اجر دیئے جاؤ گے (1) (صحیح بخاری کتاب الزکاۃ حدیث نمبر 1342 ضیاء القرآن پبلی کیشنز) تو اس میں دوسرے کے لئے سوال کا اطلاق ہے۔ واللہ اعلم، اور فرمایا : الا رجل یتصدق علی ھذا “ کیا کوئی آدمی نہیں جو اس پر صدقہ کرسکتا ہو۔ ؟ ابوبکر نے بیان کیا ہے۔ امام احمد بن حنبل (رح) کو کہا گیا ایک آدمی اس آدمی کا ذکر کرتا ہے اور کہتا ہے : بیشک وہ محتاج ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : یہ تعریض ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ بیشک سوال تب بنتا ہے کہ وہ کہے : اعطہ تو اسے دے، پھر فرماما : میرے نزدیک یہ پسندیدہ نہیں ہے کہ آدمی اپنی ذات کے لئے سوال کرے تو پھر کسی دوسرے کے لئے یہ کیسے پسندیدہ ہو سکتا ہے ؟ البتہ میرے نزدیک تعریض کرنا پسندیدہ ہے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : ابو داؤد اور نسائی وغیرہما نے روایت کیا ہے کہ فراسی (بنی فراس بن مالک کا کوئی آدمی) نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ کیا میں سوال کرسکتا ہوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ” نہیں اور اگر تو سائل ہے تو پھر ضروری ہے کہ تو صالحین سے مانگ۔ “ پس آپ ﷺ نے حاجت و ضرورت کے وقت اہل فضل وصلاح کے سوال کو مباح قرار دیا ہے اور اگر وہ اپنی حاجت اللہ تعالیٰ کے پاس پیش کرے تو یہ اور اعلی ہے۔
حضرت ابراہیم بن ادھم (رح) نے کہا ہے : لوگوں سے حاجات کا مطالبہ کرنا یہ تیرے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان حجاب ہے۔ پس تو اپنی حاجت اس کے پاس پیش کر جو ہر قسم کے نفع اور نقصان کا مالک ہے اور چاہیے کہ تیرا بھاگ کر جانا اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اللہ تعالیٰ تجھے اپنے ماسوی سے کافی ہوجائے گا اور تو خوشحال اور مسرور زندگی گزارے گا۔
مسئلہ نمبر : (7) اگر بغیر مانگے کسی کے پاس کوئی شے آجائے تو اس کے لئے جائز ہے وہ اسے قبول کرلے اور اسے رد نہ کرے کیونکہ وہ رزق ہے جو اللہ تعالیٰ نے اسے عطا فرمایا ہے۔ امام مالک (رح) نے حضرت زید بن اسلم (رح) سے اور انہوں نے حضرت عطا بن یسار سے روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر بن خطاب ؓ کی طرف کچھ عطا (ہدیہ تحفہ) بھیجی تو آپ نے اسے واپس لوٹا دیا، تو رسول اللہ ﷺ نے آپ کو فرمایا : ” تم نے اسے کیوں لوٹا دیا ہے ؟ “ تو آپ نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ نے ہمیں بتایا نہیں ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کے لئے بہتر یہ ہے کہ وہ کوئی شے نہ لے ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” بلاشبہ وہ سوال کے بارے میں ہے اور رہی وہ شے جو بغیر مانگے مل جائے تو یقینا وہ رزق ہے جو اللہ تعالیٰ نے تجھے عطا فرمایا ہے۔ “ تو حضرت عمر بن خطاب ؓ نے کہا : قسم ہے مجھے اس ذات کی جس کے دست قدرت میں میری جان ہے۔ میں کسی سے کسی شے کے بارے میں سوال نہیں کروں گا اور بن مانگے جو شے بھی میرے پاس آئے گی میں اسے لے لوں گا۔
یہ نص ہے مسلم نے اپنی صحیح میں اور نسائی نے اپنی سنن میں (2) (صحیح بخاری، کتاب الاحکام، حدیث نمبر 6630، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور ان کے علاوہ دوسروں نے بھی حضرت ابن عمر ؓ سے روایت بیان کی ہیں کہ انہوں نے بیان کیا میں نے حضرت عمر ؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ مجھے عطیات عطا فرماتے رہتے تھے تو میں عرض کرتا : آپ اسے عطا فرما دیجئے جو مجھ سے زیادہ اس کا محتاج ہے حتی کہ ایک بار آپ ﷺ نے مجھے مال عطا فرمایا تو میں نے عرض کی : آپ مجھ سے زیادہ محتاج اور حاجت مند کو عطا فرما دیجئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” اسے لے لو اور اس مال میں سے جو تمہارے پاس آئے اور تو نہ اس پر جھانکنے والا ہے اور نہ سوال کرنے والا پس اسے اور اس مال کو لے لو اور تم اس میں اپنے نفس کی اتباع وپیروی نہ کرو “۔ نسائی نے خذہ کے قول کے بعد یہ اضافہ نقل کیا ہے۔ ” پس تم اسے اپنے پاس جمع کرلو یا اسے صدقہ کر دو ۔ “
اور مسلم نے حضرت عبداللہ بن سعدی مالکی سے حدیث نقل کی ہے (1) (صحیح بخاری، کتاب الاحکام، حدیث نمبر 6630، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ، کہ حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا : اذا اعطیت شیئا من غیر ان تسال فکل وتصدق “۔ (کہ جب تمہیں کوئی شے بغیر سوال کے دی جائے تو اسے کھاؤ اور صدقہ کرو) یہ روایت تمہارے لئے امام مالک (رح) کی مرسل حدیث کو صحیح بناتی ہے۔
الاثرم نے کہا ہے : میں نے ابو عبداللہ احمد بن حنبل (رح) سے سنا ان سے حضور نبی مکرم ﷺ کے اس ارشاد کے بارے میں سوال کیا گیا، ” جو شے تیرے پاس بغیر سوال اور بغیر اشراف کے آجائے ، “ اس میں اشراف سے آپ نے کون سا ارادہ کیا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ تو اس پر جھانکتا رہین اور اپنے دل میں یہ کہتا رہے، شاید یہ شے میری طرف بھیج دی جائے، آپ سے کہا گیا : اگرچہ وہ تعرض نہ بھی کرے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں بلاشبہ وہ (اشراف) دل کے ساتھ ہوتا ہے پھر آپ سے کہا گیا : یہ تو بہت سختی ہے آپ نے فرمایا : اگرچہ یہ شدید ہے لیکن یہ اسی طرح ہے۔ آپ سے کہا گیا : اگر کوئی آدمی مجھے عادی نہ بنائے کہ وہ میری طرف کوئی شے بھیجے مگر یہ کہ اس کا خیال میرے دل میں آئے اور میں کہوں : قریب ہے کہ وہ میری طرف کوئی شے بھیجے، تو آپ نے فرمایا : اشراف ہے، پس اگر وہ تیرے پاس آئے اس کے بغیر کہ تو اس کا تصور کرے اور نہ ہی وہ تیرے دل میں کھٹکے تو یہ وہ شے ہے جس میں اشراف نہیں ہے۔
ابو عمر نے کہا ہے : لغت میں الاشراف سے مراد اس شے کی طرف سراٹھانا ہے جو اس آدمی کے پاس ہو جس کی حرص ہو اور اس شے میں بھی حرص اور طمع ہو۔ اور یہ کہ وہ انسان کو خوش کرے اور یہ تعرض کرنے لگے۔ اور امام احمد (رح) نے اشراف کی تاویل میں جو کچھ کہا ہے وہ تضییق اور تشدید ہے اور وہ میرے نزدیک بعید ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لیے اس سے درگزر فرما لی ہے جو کچھ ان کے دلوں میں پیدا ہو، نہ زبان اس کے ساتھ بولے اور نہ ہی اعضاء اس کے مطابق عمل کریں، کفر کے سوا گناہوں میں سے دل جن کا اعتقاد رکھے وہ کوئی شے نہیں ہیں یہاں تک کہ وہ اس کے مطابق عمل کرے اور دل میں کھٹکنے والے خیال اور وہم سے بالاجماع درگزر کرلیا گیا ہے۔ (یعنی ان پر کوئی مواخذہ نہیں جب تک انہیں عملی جامہ نہ پہنایا جائے۔ )
مسئلہ نمبر : (8) کسی سے کچھ مانگنے میں اصرار کرنا اور اس سے مسغنی ہونے کے باوجود اس سے لپٹ جانا حرام ہے حلال نہیں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے کثرت مال کے باوجود لوگوں سے انکے مالوں کے بارے سوال کیا تو وہ (آگ کے) انگارے مانگ رہا ہے چاہے وہ قلیل طلب کرے یا زیادہ مانگے ، “ اسے حضرت ابوہریرہ ؓ نے روایت کیا ہے اور مسلم نے نقل کیا ہے۔
حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی مکرم ؓ نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی مسلسل (بھیک) مانگتا رہے گا یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے جا ملے گا اور اس کے چہرے میں گوشت (٭) (قاضی عیاض (رح) نے فرمایا ہے کہ وہ قیامت کے دن ذلیل و خوار ہو کر آئے گا اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کی کوئی حیثیت نہ ہوگی اور یہ بھی کہا گیا ہے یہ حدیث اپنے ظاہر پر ہی محمول ہے اسے اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ اس کے چہرہ میں فقط ہڈیاں ہوں گی گوشت نہ ہوگا۔ واللہ اعلم بالصواب) کا ٹکڑا تک نہ ہوگا۔ “ اسے مسلم نے بھی روایت کیا ہے۔ (1) (صحیح بخاری، باب من سال الناس تکثرا، حدیث نمبر 1381، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
مسئلہ نمبر : (9) سائل جب محتاج ہو تو کوئی حرج نہیں ہے کہ وہ تین بار تک عذر پیش کرتے ہوئے اور ڈراتے ہوئے اپنا سوال بار بار کرے اور ایسا نہ کرنا افضل ہے اور اگر وہ آدمی جس سے سوال کیا گیا ہے وہ اس کے بارے جانتا ہو اور وہ اس پر قادر بھی ہو جو شے اس نے مانگی ہے تو اس پر اسے عطا کرنا واجب ہے اور اگر وہ اس کے بارے ناواقف ہو تو وہ اسے اس خوف سے دے ددے کہ ہوسکتا ہے وہ اپنے سوال میں سچا ہو اور وہ اسے واپس لوٹانے میں کامیاب نہ ہوگا۔
مسئلہ نمبر : (10) اور اگر وہ ایسی شے کا محتاج ہو جس کے ساتھ وہ سنت کو قائم کرسکتا ہے مثلا ایسے کپڑے کے ساتھ آراستہ ہونا جسے وہ عید اور جمعہ ( کی نمازوں) میں پہنتا ہو۔ تو ابن عربی نے ذکر کیا ہے : ” میں نے خلیفہ بغداد کی جامع مسجد میں ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا یہ تمہارا بھائی ہے جو تمہارے ساتھ جمعہ کی نماز میں حاضر ہوتا ہے اور اس کے پاس کپڑے نہیں ہیں جن کے ساتھ یہ جمعہ کی سنت کو قائم کرسکتا ہو۔ پس جب دوسرا جمعہ آیا تو میں نے اس پر دوسرا لباس دیکھا تو مجھے بتایا گیا۔ ابو الطاہر سنی نے اسے یہ لباس پہنایا ہے۔ اور مدح وتعریف حاصل کی ہے۔
Ayah 2:274آیت نمبر : 274۔
اس میں ایک مسئلہ ہے :
حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت ابو ذر ؓ اور حضرت ابو امامہ ؓ ، حضرت ابو الدرداء رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین حضرت عبداللہ بن بشر غافقی، اور امام اوزاعی رحمۃ اللہ علہیم سے روایت ہے کہ یہ آیت ان گھوڑوں کے چارے کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں باندھے گئے ہوں، اور ابن سعد نے طبقات میں ذکر کیا ہے اور کہا ہے : مجھے محمد بن شعیب بن شابور سے خبر دی گئی ہے کہ انہوں نے کہا ہمیں سعید بن سنان نے یزید بن عبداللہ بن عریب عن ابیہ عن جدہ عریب کی سند سے خبر دی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے اس قول باری تعالیٰ کے بارے پوچھا گیا۔ (آیت) ” الذین ینفقون اموالھم بالیل والنھار سرا وعلانیۃ فلھم اجرھم عند ربھم ولا خوف علیھم ولا ھم یحزنون “۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ھم اصحاب الخیل کہ ان سے مراد گھوڑوں والے ہیں۔
اور اسی اسناد کے ساتھ انہوں نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : گھوڑے پر خرچ کرنے والا صدقے کے ساتھ اپنا ہاتھ پھیلانے والے کی طرح ہے۔ (یعنی کثرت سے صدقہ دینے والے کی طرح ہے) کہ وہ اسے بند نہیں کرتا۔ ان کا پیشاب اور ان کی لید قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک کستوری کی پاکیزگی کی طرح ہوگی۔ “
اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : یہ آیت حضرت علی بن ابی طالب ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ ان کے پاس چار دراہم تھے تو آپ نے ایک درہم رات کے وقت اور ایک درہم دن کے وقت، ایک درہم سرا اور ایک درہم جہرا صدقہ کردیئے، اسے عبدالرزاق نے ذکر کیا ہے اور کہا ہے ہمیں عبدالوہاب بن مجاہد نے اپنے باپ کے واسطہ سے حضرت ابن عباس ؓ سے اس کی خبر دی ہے۔
ابن جریج نے کہا ہے : یہ ایک آدمی کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس نے اس طرح عمل کیا اور انہوں نے حضرت علی ؓ یا کسی اور آدمی کا نام ذکر نہیں کیا۔
حضرت قتادہ ؓ نے کہا ہے : یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو اسراف اور کنجوسی کے بغیر خرچ کرتے ہیں اور بالیل والنھار کا معنی ہے فی اللیل والنھار (رات اور دن میں) اور فلھم میں فا داخل ہے کیونکہ کلام میں جزا کا معنی ہے اور یہ پہلے گزر چکا ہے اور زید فمنطلق کہنا جائز نہیں ہے۔