2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 2:49

وَ اِذْ نَجَّیْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ Open ayah 2:49 in the Quran reader

اور (ہمارے ان احسانات کو یاد کرو) جب ہم نے تم کو قوم فرعون سے مخلصی بخشی وہ (لوگ) تم کو بڑا دکھ دیتے تھے۔ تمہارے بیٹوں کو تو قتل کر ڈالتے تھے اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی (سخت) آزمائش تھی

آیت 49 اس آیت میں تیرہ مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذ نجینکم من ال فرعون، اذ حالت نصب میں ہے۔ اس کا اذ کروا نعمتی پر عطف ہے۔ یہ اور بعد والی آیات میں بنی اسرائیل کو وہ بعض نعمتیں یاد دلا نا ہے جو ان پر تھیں۔ یعنی تم میری نعمت کو یاد کرو کہ میں نے تمہیں دشمن سے نجات دی اور تم میں انبیاء بنائے۔ یہ خطاب موجودہ لوگوں کو ہے اور مرادان کے آباء ہیں۔ جیسا کہ فرمایا : انا لما طغا الماء حملنکم فی الجاریۃ۔ (الحاقہ) (یعنی ہم نے تمہارے آباء کو کشتی میں سوار کیا) بعض علماء نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے فرمایا : نجینکم کیونکہ آباء کی نجات، موجودہ لوگوں کی نجات کا سبب تھی اور نجینکم کا معنی ہے ہم نے تمہیں زمین کی اونچی جگہ پر ڈالا، یہ اصل ہے پھر ہر کامیاب ہونے والے کو ناجی کہا گیا۔ پس ناجی وہ ہوتا ہے جو تنگی سے خوشحالی کی طرف نکلتا ہے اسے اذا نجیتکم بھی پڑھا گیا ہے۔ مسئلہ نمبر 2: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : من ال فرعون، ال فرعون سے مراد اس کی قوم، اس کے متبعین اور اس کے دین کے پیروکار ہیں۔ اسی طرح آل رسول جو نبی کریم ﷺ کے دین، آپ کی ملت پر تھے کسی زمانہ میں بھی ہوں، خواہ ان کا نسبی تعلق ہو یا نہ ہو، اور جو آپ کے دین اور ملت پر نہ ہو وہ آپ کے اہل اور آل سے نہیں ہے اگرچہ اس کا نسبی اور قربت کا تعلق موجود بھی ہو۔ رافضیوں کا قول اس کے خلاف ہے۔ وہ کہتے ہیں : آل رسول فقط حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین ؓ ہیں۔ ہماری دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : واغرقنا ال فرعون (البقرہ :50) اور یہ ارشاد ہے : ادخلوا ال فرعون اشد العذاب۔ (غافر) یعنی آل سے مراد اس کے دین کی آل ہیں جبکہ انہیں اس کے ساتھ بیٹا، بیٹی، چچا، بھائی اور عصبہ ہونے کا رشتہ نہ تھا اور اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ جو مومن، موحد نہیں وہ آل محمد ﷺ سے نہیں اگرچہ وہ آپ ﷺ کا قریبی بھی ہو۔ اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ ابو لہب اور ابو جہل آل نبی اور اہل نبی ﷺ میں سے نہیں تھے اگرچہ ان دونوں کا نبی کریم ﷺ سے رشتہ تھا۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوع (علیہ السلام) کے بیٹے کے بارے میں فرمایا : انہ لیس من اھلک انہ عملٌ غیر صالحٍ (ہود : 46) اور صحیح مسلم میں حضرت عمرو بن عاص سے مروی ہے، فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو بلند آواز سے یہ کہتے ہوئے سنا : خبردار ! آل ابی۔۔۔۔ یعنی فلان۔۔۔۔ میرے اولیاء نہیں ہیں میرا مددگار اللہ تعالیٰ اور نیک مومنین ہیں (1) ۔ ایک طائفہ نے کہا : آل سے مراد حضرت ﷺ کی ازواج مطہرات اور آپ کی اولاد ہے۔ کیونکہ حضرت ابو حمید کی حدیث میں ہے، لوگوں نے کہا : یا رسول اللہ ! ﷺ ہم آپ پر درود کیسے پڑھیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اس طرح کہو : اللھم صل علی محمد و علی ازواجہ وذریتہ کما صلیت علی ال ابراہیم وبارک علی محمد وعلی ازواجہ وذریتہ کما بارکت علی آل ابراھیم انک حمید مجید (2) ۔ اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ اہل علم کے ایک گروہ نے کہا : اہل معلوم ہیں اور آل سے مراد متبعین ہیں۔ پہلا قول صحیح ہے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے اور حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی کی حدیث کی وجہ سے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جب کوئی قوم صدقہ لے کر آتی تو آپ ﷺ دعا فرماتے : اللھم صلی علیھم۔ میرا باپ صدقہ لے کر آیا تو یہ دعا دی اللھم صلی علی ال ابی اوفیٰ (3) ۔ مسئلہ نمبر 3: علمائے نحو کا اس میں اختلاف ہے کہ آل کو شہروں کی طرف مضاف کیا جائے گا یا نہیں۔ کسائی نے کہا : کہا جاتا ہے : آل فلان، آل فلانۃ، یہ نہیں کہا جاتا : ھو من ال حمص، اور نہ یہ کہا جاتا ہے : من ال المدینہ۔ اخفش نے کہا : رئیس اعظم کے بارے میں کہا جاتا ہے : جیسے آل محمد ﷺ ۔ آل فرعون۔ کیونکہ فرعون گمراہی میں ان کا رئیس تھا۔ اخفش نے کہا : ہم نے شہروں کے بارے میں سنا، وہ کہتے ہیں : اھل المدینہ، آل المدینہ۔ مسئلہ نمبر 4: نحویوں کا اختلاف ہے کہ آل کو ضمیر کی طرف مضاف کیا جائے گا یا نہیں۔ نحاس، زبیدی اور کسائی نے اس سے منع کیا ہے۔ پس صرف یہ کہا جائے گا : اللھم صل علی محمدٍ وآل محمدٍ ﷺ والہ نہیں کہا جائے گا۔ درست یہ ہے کہ یہ کہا جائے گا : اھلہ۔ علماء کے ایک طائفہ کا خیال ہے کہ آلہ کہا جائے گا ان علماء میں سے ابن السید بھی ہے اور یہ قول صحیح ہے کیونکہ سماع صحیح اس کی تائید کرتا ہے۔ عبد المطلب کے قول میں ہے : لا ھم ان العبد یم نع رحلہ فامنع حلالک وانصر علی آل الصلیہ بو عابدیہ الیوم آلک ان اشعار میں آل کو ضمیر کی طرف مضاف کیا گیا ہے۔ ندبہ نے کہا تھا : أنا الفارس الحامی حقیقۃ والدی وآلی کما تحمی حقیقۃ آلکا میں شہسوار ہوں اپنے والد کی عزت وجان کی حفاظت کرنے والا ہوں اور اپنی آل کی حفاظت کرنے والا ہوں جس طرح تمہاری آل کی عزت وجان کی حفاظت کرنے والا ہوں۔ مسئلہ نمبر 5: آل کی اصل میں علمائے نحو کا اختلاف ہے۔ نحاس نے کہا : اس کی اصل اھل ہے پھر ھاء کو الف سے بدلا گیا۔ اگر تو اس کی تصغیر بنائے گا تو اس کو اصل کی طرف لوٹائے گا۔ تو کہے گا : اھیل۔ مہدوی نے کہا : اس کی اصل اول ہے۔ بعض نے فرمایا : اصل اھل تھا ھاء کو ہمزہ سے قلب کیا گیا پھر ہمزہ کو الف سے بدلا گیا۔ اس کی جمع آلون ہے، اس کی تصغیر اویل ہے جیسا کہ نسائی نے بیان کیا ہے دوسرے لوگوں نے اھیل حکایت کیا ہے ہم نے نحاس سے یہ ذکر کیا ہے۔ ابو الحسن بن کیسان نے کہا : جب تو الا کی جمع بنائے گا تو کہے گا آلون اور جب تو الا کی جمع بنائے گا جس کا معنی سراب ہے تو تو کہے گا آوال، جیسے مال کی جمع اموال ہے۔ مسئلہ نمبر 6: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فرعون بعض علماء نے فرمایا : اس بادشاہ کا نام ہی فرعون تھا۔ بعض نے فرمایا : عمالقہ کے بادشاہوں میں سے ہر بادشاہ کا اسم فرعون تھا۔ جیسے فارس کے بادشاہ کا لقب کسریٰ ہوتا ہے روم کے بادشاہ کا اسم قیصر ہوتا ہے حبشہ کے بادشاہ کا اسم نجاشی ہوتا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ کے فرعون کا اسم قابوس تھا۔ اہل کتاب کے قول کے مطابق وہب نے کہا : اس کا نام ولید بن مصعب بن ریان تھا اس کی کنیت ابو مرہ تھی۔ وہ بنی عملیق بن لاوذ بن ارم بن سام بن نوح (علیہ السلام) سے تھا۔ سہیلی نے کہا : ہر شخص جو قبطیوں اور مصر کا والی بنا وہ فرعون کہلاتا تھا۔ فرعون اہل اصطخر میں سے فارسی تھا۔ مسعودی نے کہا : فرعون کی عربی میں تفسیر معروف نہیں۔ جو ہری نے کہا : فرعون، ولید بن معصب بادشاہ مصر کا لقب ہے۔ ہر سرکش فرعون ہے، العتاۃ، فراعنہ، قد تفرعن، وھو ذو فرعنہ، یعنی سازشی اور انکاری۔ حدیث پاک میں ہے : اخذنا فرعون ھذہ الامۃ ہم نے اس امت کے فرعون کو پکڑا۔ اس آیت میں فرعون حالت جری میں ہے لیکن عجمہ ہونے کی وجہ سے غیر منصرف ہے۔ مسئلہ نمبر 7: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یسومونکم بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے : وہ تمہیں چکھاتے ہیں۔ تم پر عذاب کو لازم کرتے ہیں، ابو عبیدہ نے کہا : وہ تمہیں مستحق قرار دیتے ہیں، کہا جاتا ہے : سامہ خطۃ خسفٍ ۔ جب کسی ذلت کا مستحق قرار دیا جائے، اسی سے عمرو بن کلثوم کا قول ہے : اذا ما الملک سام الناس خسفاً ابینا ان نقر الخسف فینا جب بادشاہ نے لوگوں کو ذلیل کیا تو ہم نے اپنے اندر ذلت کے ٹھہرائے جانے کا انکار کیا۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے تمہیں ہمیشہ دیتے ہیں۔ السوم کا معنی دوام بھی ہے۔ اسی سے سائمۃ الغنم ہے جو ہمیشہ چرنے والی ہوتی ہیں۔ اخفش نے کہا : یہ محل رفع میں ہے کیونکہ یہ نیا کلام ہے۔ اگر تو چاہے تو اسے حال کی حیثیت سے محل نصب میں کر دے۔ یعنی سائمین لکم۔ مسئلہ نمبر 8: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سوء العذاب۔ یہ یسومونکم کا مفعول ثانی ہے، اس کا معنی سخت عذاب ہے اور سوم العذاب کے معنی میں ہونا بھی جائز ہے اور اس کا سو ما سیئًا کے معنی میں نعت ہونا بھی جائز ہے۔ روایت ہے کہ فرعون نے بنی اسرائیل کو خدام اور اپنے ماتحت کردیا تھا اور ان میں اپنے کام تقسیم کر دئیے تھے۔ کچھ لوگ مکانات بناتے تھے، کچھ کھیتی باڑی کرتے تھے، کچھ خدمت کرتے تھے۔ اور فرعون کی قوم لشکر اور حکمران تھی اور بنی اسرائیل میں سے جس کا کوئی کام نہ تھا ان پر جزیہ لگایا گیا تھا اور یہی سوء العذاب سے مراد ہے۔ مسئلہ نمبر 9: یذبحون ابناء کم یہ یسو مونکم سے بدل ہونے کی بنا پر بغیر واو عطف کے ہے۔ جیسا سیبویہ نے کہا اور اس شعر سے استشہاد کیا ہے : متی تاتنا تلمم بنا فی دیارنا تجد حطبا جزلا وناراً تأججا جب ہمارے پاس آئے گا ہمارے شہروں میں اترے گا تو بہت زیادہ لکڑیاں روشن آگ پائے گی۔ فراء وغیرہ نے کہا : یذبحون بغیر واو کے یسومونکم کی تفسیر کے طور پر ہے جیسے تو کہتا ہے : اتانی القوم زید وعمرو۔ پس تفسیر کی بنا پر زید سے پہلے واو کی ضرورت نہیں۔ اس کی مثال یہ بھی ہے : ومن یفعل ذلک یلق اثاماً ۔ یضعف لہ العذاب (فرقان) اور سورة ابراہیم میں ویذبحون واو کے ساتھ ہے کیونکہ معنی یہ ہے کہ وہ تمہیں ذبح اور بغیر ذبح کے عذاب دیتے ہیں، پس یذبحون ابناء کم عذاب کی دوسری جنس ہے، ما قبل کی تفسیر نہیں ہے۔ میں کہتا ہوں : اس میں یہ احتمال ہے کہ اس میں واو زائدہ ہو۔ اس کی دلیل سورة بقرہ کی آیت ہے کبھی واو زائدہ بھی ہوتی ہے جیسا کہ شاعر نے کہا : فلما اجزنا ساحۃ الحی وانتحیٰ اس مصرعہ میں واو زائدہ ہے۔ مراد قد انتحیٰ ہے۔ ایک اور شاعر نے کہا : الی الملک القوم وابن الھمام ولیث الکتیبۃ فی المزدحم یہاں بھی الملک القرم، ابن الھمام، لیث الکتیبہ، سے ایک ہی مراد ہے۔ یہ اکثر ہوتا رہتا ہے۔ مسئلہ نمبر 10: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یذبحون اکثر قراء شد کے ساتھ پڑھتے ہیں کثرت کا معنی لینے کی بنا پر۔ ابن محیص نے یا کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ الذبح کا معنی الشق (چیرنا) ہے۔ الذبح سے مراد مذبوح (ذبح کیا گیا) ہے۔ الذباح، انگلیوں کی جڑوں میں پھٹن ہوجانا۔ ذبحت الدن میں نے مٹکے میں سوراخ کردیا۔ سعد الزابح ایک سعادت مند۔ المذابح۔ محاریب، المذابح، مذبح کی جمع۔ جب سیلاب آجائے اور زمین کو شق کر دے، تو جو شق بالشت بھر ہو اسے مذبح کہا جاتا ہے۔ فرعون بچوں کو ذبح کرتا تھا اور بچیوں کو باقی رکھتا تھا۔ بچیوں کو مال کے اعتبار سے نساء کے نام سے تعبیر فرمایا ہے۔ ایک جماعت نے کہا : یذبحون ابناء کم یعنی مردوں کو ذبح کرتے ہیں انہیں بیٹے کہا گیا جب وہ اسی طرح تھے۔ انباء سے مراد مرد لینے والوں نے نساء کم سے دلیل پکڑی ہے، پہلا قول اصح ہے کیونکہ یہ ظاہر ہے۔ واللہ اعلم۔ مسئلہ نمبر 11: اللہ تعالیٰ نے فعل کو آل فرعون کی طرف منسوب کیا ہے کیونکہ وہ فرعون کے حکم سے یہ کرتے تھے، چونکہ یہ کام ان کے سپرد تھا، اس لئے فعل کی نسبت ان کی طرف کی۔ نیز اس لئے تاکہ معلوم ہوجائے کہ کام کرنے والا اپنے کام کی وجہ سے مؤاخذہ کا حقدار ہوگا۔ طبری نے کہا : یہ ارشاد تقاضا کرتا ہے کہ جس کو کسی ظالم نے کسی کو قتل کرنے کا حکم دیا اور اس نے اسے قتل کردیا تو اس سے مؤاخذہ ہوگا۔ میں کہتا ہوں : علماء کے اس مسئلہ میں تین اقوال ہیں : دونوں کو قتل کیا جائے گا۔ ظالم حکم دینے کی وجہ سے اور مامور قتل کرنے کی وجہ سے۔ نخعی نے اسی طرح کہا ہے۔ امام شافعی اور امام مالک کا قول بھی یہی ہے مگر قدرے تفصیل کے ساتھ۔ امام شافعی نے فرمایا : جب سلطان کسی کو دوسرے شخص کو قتل کا حکم دے جبکہ مامور (جس کو حکم دیا گیا) جانتا ہو کہ اس نے اسے ظلماً قتل کرنے کا حکم دیا ہے، مامور اور امام دونوں پر قصاص ہوگا جیسے دونوں اکٹھا قتل کرنے والے ہوتے ہیں۔ اگر امام، مامور کو اس کے قتل پر مجبور کرے اور وہ جانتا ہو کہ وہ اسے ظلماً قتل کروا رہا ہے تو صرف امام پر قصاص ہوگا اور مامور کے بارے میں دو قول ہیں : ایک یہ کہ اس پر قصاص ہوگا اور دوسرا یہ کہ اس پر قصاص نہ ہوگا اور اس پر نصف دیت ہوگی۔ یہ ابن منذر نے بیان کیا ہے۔ ہمارے علماء نے فرمایا : مامور کی یا تو یہ کیفیت ہوگی کہ اس پر آمر کی اطاعت لازم ہوگی اور وہ امام کے شر سے خوفزدہ ہوگا جیسے سلطان اور سردار اپنے غلام کے لئے۔ پس اس صورت میں قصاص دونوں کو لازم ہوگا یا ایسا ہوگا کہ اس پر حکم دینے والے کی اطاعت لازم نہ ہوگی، تو اس صورت میں صرف قتل کرنے والے کو قتل کیا جائے گا حکم دینے والے کو نہیں جیسے باپ اپنے بیٹے کو یا استاد کسی لڑکے کو یا کاریگر اپنے شاگرد کو حکم دے جب کہ وہ بالغ ہو۔ اگر وہ بالغ نہ ہو تو قتل حکم دینے والے پر ہوگا اور بچے کی عاقلہ پر نصف دیت ہوگی۔ ابن نافع نے کہا : مالک کو قتل نہیں کیا جائے گا جب وہ اپنے غلام کو کسی انسان کے قتل کا حکم دے اگرچہ وہ غلام عجمی بھی ہو۔ ابن حبیب نے کہا : میں ابن القاسم کے قول کے مطابق کہتا ہوں کہ دونوں کو قتل کیا جائے گا۔ اگر ایسے شخص نے حکم دیا جس کی مخالفت میں مامور پر کوئی خوف نہیں ہے تو وہ اکراہ (مجبور کرنے) کے ساتھ لاحق نہیں ہوگا بلکہ مامور کو قتل کیا جائے گا آمر کو نہیں اور آمر کو سزا دی جائے گی اور قید کیا جائے گا۔ امام احمد نے اس سردار کے بارے میں فرمایا جو اپنے غلام کو حکم دیتا ہے کہ وہ کسی کو قتل کرے، تو سردار کو قتل کیا جائے گا۔ یہ قول حضرت علی ؓ اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا : غلام کو قید میں رکھا جائے گا۔ امام احمد نے فرمایا : غلام کو قید کیا جائے گا اور اسے مارا جائے گا اور ادب سکھایا جائے گا۔ ثوری نے کہا : سردار کو تعزیر لگائی جائے گی۔ حکم اور حماد نے کہا : غلام کو قتل کیا جائے گا۔ قتادہ نے کہا : دونوں کو قتل کیا جائے گا۔ امام شافعی نے فرمایا : اگر غلام فصیح تھا، سمجھدار تھا تو اسے قتل کیا جائے گا اور مالک کو سزا دی جائے گی اگر غلام عجمی تھا تو سردار پر قصاص ہوگا۔ سلیمان بن موسیٰ نے کہا : آمر کو قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کے ہاتھ کاٹے جائیں گے پھر اسے سزا دی جائے گی اور اسے قید کیا جائے گا۔ یہ ودسرا قول ہے۔ مامور کو قتل کیا جائے گا کیونکہ اس نے قتل کا فعل کیا ہے۔ اسی طرح عطا، حکم، حماد، شافعی، احمد اور اسحاق نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جو کسی کو دوسرے شخص کا حکم دیتا ہے۔ یہ ابن منذر نے ذکر کیا ہے۔ امام زفر نے کہا : ان میں سے کسی کو بھی قتل نہیں کیا جائے گا۔ یہ تیسرا قول ہے۔ ابو المعالی نے “ البرہان ” میں بیان فرمایا ہے : ان کا خیال ہے کہ آمر اور مباشران میں سے کوئی قصاص میں مستقل نہیں ہے اسی وجہ سے ان کے نزدیک کسی کو بھی قتل نہیں کیا جائے گا۔ واللہ اعلم مسئلہ نمبر 12: جمہور نے یذبحون مبالغہ کے لئے شد کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابن محیص نے یذبحون تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ پہلا اولیٰ ہے کیونکہ ذبح میں تکرار تھا۔ فرعون نے خواب میں دیکھا کہ ایک آگ بیت المقدس سے نکلی ہے اور اس نے مصر کے گھروں کو جلادیا ہے۔ اس کے خواب کی یہ تعبیر بتائی گئی کہ بنی اسرائیل سے ایک بچہ بڑا ہوگا، اس کے ہاتھوں فرعون کا ملک تباہ ہوگا۔ اس کے علاوہ بھی اقوال ہیں جو قریب المعنی ہے۔ مسئلہ نمبر 13: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وفی ذلکم یہ تمام امور کی طرف اشارہ ہے کیونکہ وہ خبر ہے وہ مفرد حاضر کی طرح ہے یعنی ان کے اس فعل میں تمہارے لئے آزمائش وامتحان ہے۔ بلاءٌ اس سے مراد نعمت ہے۔ اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ولیبلی المؤمنین منہ بلاءٌ حسناً (انفال : 17) (تا کہ احسان فرمائے مومنوں پر اپنی جناب سے بہترین احسان) ابو الہیثم نے کہا : بلا کبھی اچھی ہوتی ہے کبھی بری۔ اس کا اصل معنی المحنۃ، (آزمانا) ہے، اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو اچھے عمل کے ساتھ آزماتا ہے تاکہ وہ اس کے شکر کا امتحان لے۔ کبھی کسی ناپسندیدہ مصیبت سے آزماتا ہے تاکہ اس کے صبر کا امتحان لے۔ بعض علماء نے فرمایا : اچھائی کے لئے بلاءٌ اور برائی کے لئے بلاء یہ ہر وی نے حکایت کیا ہے۔ ایک قوم نے فرمایا : ذلکم کا اشارہ نجات دینے کی طرف ہے تو اس صورت میں بلا خیر میں ہوگا، یعنی تمہیں نجات دینا تم پر اللہ تعالیٰ کا انعام ہے۔ جمہور علماء نے کہا : اشارہ ذبح وغیرہ کی طرف ہے اور البلاء یہاں شر کے معنی میں ہے۔ معنی یہ ہے : ذبح میں مکروہ اور امتحان ہے۔ ابن کیسان نے کہا : خیر کے لئے فعل ابلاہ اللہ وبلاہ استعمال ہوتا ہے۔ شاعر نے کہا : جزی اللہ بالاحسان ما فعلا بکم وابلاھما خیر البلاء الذی یبلو اس شعر میں شاعر نے دونوں لغتوں کو جمع کیا ہے۔ اکثر خیر کے لئے ابلیتہ اور شر کے لئے بلوتہ اور آزمائش کے لئے ابتلیتہ وبلوتہ استعمال ہوتا ہے۔ یہ نحاس نے کہا ہے۔
Ayah 2:50

وَ اِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ فَاَنْجَیْنٰكُمْ وَ اَغْرَقْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ Open ayah 2:50 in the Quran reader

اور جب ہم نے تمہارے لئے دریا کو پھاڑ دیا تو تم کو تو نجات دی اور فرعون کی قوم کو غرق کردیا اور تم دیکھ ہی تو رہے تھے

آیت نمبر 50 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذ فرقنا بکم البحرفانجینکم، اذ محل نصب میں ہے اور فرقنا کا مطلب ہے ہم نے پھاڑ دیا، ہر حصہ ایک بڑے پہاڑ کی طرح۔ الفرق کا معنی جدا ہونا ہے۔ اسی سے فرق الشعر اسی سے الفرقان ہے کیونکہ قرآن نے حق و باطل کے درمیان جدائی کی۔ اسی سے فالفا رقات فرقاً ہے یعنی ملائکہ حق و باطل کے درمیان فرق کے ساتھ اترتے ہیں اسی سے یوم الفرقان ہے یعنی جنگ بدر کا دن۔ اس دن حق و باطل کے درمیان فرق ہوا۔ اسی سے وقرآنا فرقناہ یعنی قرآن کو ہم نے بیان کیا اور اسے ہم نے پختہ کیا۔ زہری نے فرقنا را کی شد کے ساتھ پڑھا ہے، یعنی ہم نے اسے جدا جدا کردیا۔ بکم کا معنی لکم ہے۔ با بمعنی لام ہے۔ بعض نے فرمایا : با اپنے معنی میں ہے۔ مطلب یہ ہے فرقنا البحر بدخولکم ایاہ۔ ہم نے دریا کو پھاڑ دیا تمہارے اس میں داخل ہونے کے ساتھ۔ یعنی وہ دو پانیوں کے درمیان ہوگئے یعنی ان کے ساتھ جدائی ہوگئی۔ یہ اولیٰ ہے فانفلق اس معنی کو بیان کرتا ہے۔ البحر اس کا یہ نام اس کی وسعت کی وجہ سے ہے۔ کہا جاتا ہے : فرس بحرٌ جبکہ گھوڑا زیادہ چلنے والا ہو۔ اسی سے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد مندوب گھوڑے کے بارے میں ہے جو ابو طلحہ کا تھا۔ وان وجدناہ لبحر اً ہم نے اسے تیز رفتار پایا (1) ۔ البحر، نمکین پانی کو بھی کہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے : ابحر الماء پانی نمکین ہوگیا۔ نصیب شاعر نے کہا : وقد عاد ماء الارض بحراً فزادنی الی مرضی ان ابحر المشرب العذب زمین کا پانی نمکین ہوگیا اس نے میری مرض میں اضافہ کیا کہ میٹھا پانی نمکین ہوگیا۔ البحر : شہر کو بھی کہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے : ھذہ بحرتنا یعنی یہ ہمارا شہر ہے۔ یہ اموی نے کہا ہے۔ البحر اس زخم کو بھی کہتے ہیں جو انسان کے گردے میں لگ جاتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں : لقیتہ صحرۃً بحرۃً یعنی اس میں سے بالکل واضح اور کھلے انداز میں ملا۔ کعب الاحبار سے ایک خبر میں مروی ہے، فرمایا : اللہ تعالیٰ کا ایک فرشتہ ہے جس کا نام صند فائیل ہے۔ تمام دریا اس کے انگوٹھے کے گڑھے میں ہیں۔ ابو نعیم نے یہ روایت ثور بن یزید عن خالد بن معدان عن کعب کے سلسلہ سے روایت کی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فانجینکم یعنی ہم نے تمہیں اس دریا سے نکالا۔ کہا جاتا ہے : نجوت من کذا نجاءٌ ونجاۃً میں نے اسے اس سے نکالا۔ اس کا مصدر نجاء (ممدود) اور نجاۃ (مقصور) دونوں طرح آتا ہے۔ الصدق منجاۃٌ سچ نجات دینے والا ہے۔ انجیت غیری ونجیتہ دونوں طرح پڑھا گیا ہے ( واذ نجینا کم اور فانجیناکم) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واغرقنا ال فرعون۔ کہا جاتا ہے : غرق فی الماء غرقا فھو غریق وغارق۔ اسی سے ابو النجم کا قول ہے : من بین مقتول وطافٍ غارقٍ اغرقہ وغرقہ فھو مغرق وغریقٌ۔ لجام مفرق بالفضۃ۔ یعنی چاندی سے مزین لگام۔ التغریق کا مطلب قتل بھی ہے۔ اعشی نے کہا : الا لیت قیسا غرقتہ القوابل (کاش ! قیس کو دایہ عورتیں قتل کر دیتیں) چونکہ دایہ عورت قحط کے سال نومولود کو جیلی کے پانی میں غرق کردیتی تھی خواہ وہ مذکر ہوتا یا مؤنث حتیٰ کہ وہ مرجاتا پھر ہر قتل کو تغریق بنایا گیا۔ اسی سے ذوالرمہ کا قول ہے : اذا غزقت ارباضھا ثنی بکرۃٍ بتیھاء لم تصبح رء وماً سلوبھا یعنی جب رسیوں نے جو ان اونٹنی کے دوسرے بطن کو قتل کر ڈالا تو وہ تھکاوٹ کی وجہ سے اپنے بچے پر مہربان نہ ہوئی۔ بنی اسرائیل کے نجات پانے کی کیفیت میں علماء کے مختلف اقوال طبری نے ذکر کیا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی کی گئی کہ وہ مصر سے بنی اسرائیل کو رات کے وقت لے کر چلیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو کہا کہ وہ قبطیوں عاریۃً سامان اور زیورات لیں۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے لئے یہ حلال کردیا تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو رات کے ابتدائی حصہ میں لے کر چلے۔ فرعون کو پتا چلا تو اس نے کہا : کوئی شخص ان کا پیچھا نہ کرے حتیٰ کہ مرغ اذان دے۔ اس رات مصر میں کسی مرغ نے اذان نہ دی۔ اللہ تعالیٰ نے اس رات بہت سے قبطیوں کے بیٹوں کو موت دی، وہ ان کے دفن میں مشغول ہوگئے۔ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پیچھے اس وقت نکلے جب سورج چڑھ چکا تھا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : فاتبعوھم مشرقین۔ (الشعراء) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) دریا کی جانب چلے تھے حتیٰ کہ اس کے کنارے پر پہنچ گئے۔ بنی اسرائیل کی تعداد چھ لاکھ سے کچھ زائد تھی اور فرعونیوں کی تعداد بارہ لاکھ تھی (1) ۔ بعض علماء نے فرمایا : فرعونیوں نے دس لاکھ گھوڑوں کے ساتھ ان کا پیچھا کیا۔ ان میں مؤنث گھوڑی کوئی نہیں تھی۔ بعض علماء نے فرمایا : حضرت یعقوب (علیہ السلام) مصر میں اپنی اولاد کے ساتھ 76 افراد میں داخل ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تعداد کو بڑھایا اور ان کی اولاد میں برکت دی حتیٰ کہ فرعونیوں سے نکل کر دریا کی طرف گئے تو وہ بوڑھوں اور بچوں اور عورتوں کے علاوہ چھ لاکھ تھے۔ ابوبکر عبد اللہ بن محمد بن ابی شیبہ نے ذکر کیا ہے، فرمایا : ہمیں شبابہ بن سوار نے انہوں نے یونس بن اسحاق سے انہوں نے عمرو بن میمون سے انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود سے روایت کر کے بتایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب بنی اسرائیل کو لے کر رات کو چلے تو فرعون کو خبر پہنچی۔ اس نے ایک بکری ذبح کرنے کا حکم دیا۔ وہ ذبح کی گئی۔ پھر اس نے کہا : اس کی کھال اتارنے سے فراغت سے پہلے میرے لئے چھ لاکھ قبطی جمع ہوں۔ فرمایا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) چلتے رہے حتیٰ کہ دریا تک پہنچ گئے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دریا سے کہا : پھٹ جا۔ دریا نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا : اے موسیٰ ! تو نے تکبر کیا ہے، کیا میں اولاد آدم میں سے کسی کے لئے پھٹا ہوں کہ تمہارے لئے پھٹ جاؤں ؟ راوی نے کہا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ایک شخص اپنے گھوڑے پر سوار تھا۔ اس شخص نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا : اے اللہ کے نبی ! کہاں کا حکم ہے ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : مجھے اسی جانب جانے کا حکم دیا گیا ہے۔ پس اس شخص نے اپنا گھوڑا دریا میں ڈال دیا۔ وہ گھوڑا تیرتا ہوا باہر نکل گیا۔ پھر اس شخص نے پوچھا : اب کس سمت کا حکم دیا گیا ہے ؟ فرمایا : اس طرف کا حکم دیا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس شخص نے کہا : اللہ کی قسم ! نہ تو نے جھوٹ بولا ہے اور نہ تجھ سے جھوٹ بولا گیا ہے پھر دوبارہ اس نے گھوڑا دریا میں ڈالا وہ تیرتا ہوا باہر نکل گیا۔ اس نے کہا : اے اللہ کے نبی ! کہاں کا حکم دیا گیا ہے ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : مجھے اسی طرف جانے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس شخص نے کہا : اللہ کی قسم ! نہ آپ نے جھوٹ بولا اور نہ آپ سے جھوٹ بولا گیا ہے۔ فرمایا : اللہ تعالیٰ نے حضرت (علیہ السلام) کی طرف وحی کی۔ ان اضرب بعصاک البحر (الشعراء : 63) (کہ اپنا عصا دریا پر مارو) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عصا مارا تو دریا پھٹ گیا اور ہر حصہ بڑے پہاڑ کی طرح تھا اس میں بارہ راستے تھے کیونکہ بارہ قبائل تھے ہر قبیلہ کا ایک راستہ تھا وہ ایک دوسرے کو دکھائی دیتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ پانی کے پہاڑوں میں کھڑکیاں اور سوراخ تھے جس سے وہ ایک دوسرے کو دیکھتے تھے۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ باہر نکل گئے اور فرعونی ابھی دریا کے اندر تھے تو دریا نے انہیں طمانچے مارے اور انہیں غرق کردیا۔ ذکر کیا جاتا ہے کہ وہ بحر قلزم تھا اور وہ شخص جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ گھوڑے پر سوار تھا وہ نوجوان یوشع بن نون تھا۔ اللہ تعالیٰ نے دریا کی طرف وحی فرمائی کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے پھٹ جائے جب وہ تجھ پر ضرب لگائیں۔ وہ دریا اس رات موجیں مارتا رہا جب صبح ہوئی تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دریا کو مارا اور اس کی کنیت ابو خالد رکھی۔ ابن ابی شیبہ نے بھی اس کو ذکر کیا ہے۔ اکثر مفسرین نے قصص میں یہ معنی بیان کیا ہے اور جو ہم نے ذکر کیا ہے وہ کافی ہے۔ مزید بیان انشاء اللہ تعالیٰ سورة یونس اور سورة الشعراء میں آئے گا۔ فصل : اللہ تعالیٰ نے نجات دینے اور غرق کرنے کا ذکر فرمایا اور اس دن کا ذکر نہیں فرمایا جس میں یہ سب کچھ ہوا۔ مسلم نے حضرت ابن عباس سے روایت فرمایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ طیبہ آئے تو یہود کو پایا کہ وہ عاشوراء کا روزہ رکھتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا کہ یہ کون سا دن ہے جس میں تم روزہ رکھتے ہو ؟ یہودیوں نے کہا : یہ ایک عظیم دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کو نجات عطا فرمائی اور فرعون اور اس کی قوم کو غرق کیا۔ پس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس دن بطور شکر روزہ رکھا تھا اس لئے ہم بھی روزہ رکھتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے تم سے زیادہ قریبی ہیں۔ پس رسول اللہ ﷺ نے اس دن کا روزہ رکھا اور اس دن روزہ رکھنے کا حکم بھی دیا (1) ۔ یہ حدیث بخاری نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام سے فرمایا : تم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیروی کرنے کے ان سے زیادہ مستحق ہو۔ پس تم روزہ رکھو۔ مسئلہ : ان احادیث کا ظاہر دلالت کرتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے عاشوراء کا روزہ رکھا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اقتدا میں اس دن کے روزے کا حکم دیا جیسا کہ یہود نے اس کے متعلق بتایا۔ حقیقت اس طرح نہیں کیونکہ حضرت عائشہ ؓ نے روایت کیا ہے، فرمایا : عاشوراء کے دن قریش زمانہ جاہلیت میں روزہ رکھتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ زمانہ جاہلیت میں عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے جب آپ ﷺ مدینہ طیبہ آئے تو خود بھی یہ روزہ رکھا اور اس روزے کا حکم بھی فرمایا۔ جب رمضان فرض ہوا تو عاشوراء کے دن کا روزہ ترک کردیا اور فرمایا : جو چاہے یہ روزہ رکھے اور جو چاہے یہ روزہ ترک کر دے (1) بخاری اور مسلم نے یہ حدیث نقل کی ہے۔ اگر کہا جائے کہ یہ احتمال ہے کہ قریش نے یہود کے خبر دینے کی وجہ سے یہ روزہ رکھا ہو کیونکہ وہ ان سے سنتے تھے کیونکہ یہودان کے نزدیک اہل علم تھے۔ پس نبی کریم ﷺ نے اسی طرح زمانہ جاہلیت میں مکہ میں روزہ رکھا ہو۔ جب آپ مدینہ طیبہ آئے اور یہود کو یہ روزہ رکھتے ہوئے پایا تو فرمایا : ہم تمہاری نسبت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زیادہ قریبی اور پیروی کے زیادہ مستحق ہیں (2) ۔ پس آپ ﷺ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اتباع میں روزہ رکھا۔ امر بصیامہ یعنی اس دن کے روزہ کے امر کو مؤکد فرمایا حتیٰ کہ چھوٹے بچے بھی یہ روزہ رکھتے تھے۔ ہم کہیں گے : یہ اس شخص کا شبہ ہے جو کہتا ہے کہ نبی کریم ﷺ شاید حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت کے مکلف تھے حالانکہ حقیقت ایسی نہیں جیسا کہ سورة انعام آیت 90 میں فبھدھم اقتدہ کے تحت مزید بیان آئے گا۔ مسئلہ : عاشوراء کے دن میں اختلاف ہے۔ کیا یہ نویں محرم الحرام کا دن ہے یا دسویں کا۔ امام شافعی کا مسلک یہ ہے کہ یہ نویں کا دن ہے۔ ان کی دلیل حکم بن اعرج کی حدیث ہے۔ انہوں نے کہا : میں حضرت ابن عباس ؓ کے پاس گیا وہ زمزم کے پاس اپنی چادر کو تکیہ بنائے ہوئے تھے۔ میں نے ان سے کہا : مجھے عاشوراء کے روزہ کے متعلق بتاؤ۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : جب تو محرم کا چاند دیکھے تو شمار کر اور تو نویں محرم الحرام کو روزہ سے ہو۔ میں نے پوچھا : کیا حضرت محمد ﷺ اس طرح روزہ رکھتے تھے ؟ انہوں نے کہا : ہاں (3) ۔ یہ مسلم نے نقل کیا ہے۔ حضرات سعید بن مسیب، حسن بصری، امام مالک اور سلف کی ایک جماعت کا نظریہ یہ ہے کہ وہ دسویں کا دن ہے۔ امام ترمذی نے حضرت حکم کی حدیث ذکر کی ہے اور اس پر صحت وحسن کا کوئی حکم بیان نہیں کیا پھر اس کے بعد یہ ذکر کیا : انبانا قتیبۃ انبأنا عبد الوارث عن یونس عن الحسن عن ابن عباس قالامر رسول اللہ ﷺ بصوم عاشوراء یوم العاشر۔ یعنی حضرت ابن عباس نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے دسویں کے دن عاشوراء کے روزے کا حکم دیا (4) ۔ پھر فرمایا : ابو عیسیٰ نے کہا : حضرت ابن عباس کی حدیث حسن، صحیح ہے۔ امام ترمذی نے کہا : حضرت ابن عباس سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا : نویں اور دسویں محرم کا روزہ رکھو اور یہود کی مخالفت کرو۔ اس حدیث کی وجہ سے امام شافعی، احمد بن حنبل اور اسحاق بھی یہی کہتے ہیں۔ دوسرے علماء نے کہا : حضرت ابن عباس کا سائل کو یہ کہنا : تو شمار کر اور نویں کے دن روزے سے ہو۔ اس میں دسویں کے روزے کے ترک پر کوئی دلیل نہیں ہے بلکہ وعدہ کیا کہ وہ دسویں کے ساتھ نویں کا بھی روزہ رکھے۔ پس دونوں دن روزہ رکھنا دونوں احادیث کو جمع کرنا ہے۔ اور حضرت ابن عباس کا حکم کو جواب جب اس نے پوچھا کیا رسول ﷺ روزہ رکھتے تھے ؟ حضرت ابن عباس نے فرمایا : ہاں۔ اس کا مطلب ہے اگر آپ زندہ رہتے۔ وگرنہ نبی کریم ﷺ نے کبھی نویں محرم کا روزہ نہیں رکھا تھا۔ اس کا بیان اس روایت میں ہے جو ابن ماجہ نے اپنی سنن میں اور مسلم نے اپنی صحیح میں حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے، فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لئن بقیت الی قابل لأصومن الیوم التاسع (1) اگر میں آئندہ سال تک باقی رہا تو میں نویں (محرم) کا روزہ ضرور رکھوں گا۔ فضیلت : حضرت ابو قتادہ نے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : عاشوراء کے دن کا روزہ، اللہ تعالیٰ سے اس پر امید کی جاتی ہے کہ پچھلے سال کا کفارہ بن جائے (2) ۔ اس روایت کو مسلم اور ترمذی نے نقل کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا : ہم کسی روایت کو نہیں جانتے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہو کہ عاشوراء کے دن کا روزہ سال کا کفارہ ہے (3) سوائے حضرت ابو قتادہ کی حدیث کے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وانتم تنظرون یہ جملہ حال ہے۔ اس کا معنی ہے تم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ فرعونی مردہ حالت میں پانی پر تیرنے لگے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں نے انہیں غرق ہوتے دیکھا اور اپنی نجات کو بھی دیکھا۔ اس میں اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : وانتم تنظرون یعنی تم عبرت کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے، کیونکہ وہ آنکھوں کے ساتھ دیکھنے اور آگاہ ہونے سے غافل تھے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی یہ ہے کہ تم اس آدمی کی حالت میں تھے جو دیکھنا چاہے تو دیکھ سکے جیسے تو کہتا ہے : ھذا الامر منک لمرأی ومسمع یعنی اس حالت میں ہے کہ تو اسے دیکھ سکے اور سن سکے اگر تو چاہے۔ یہ قول اور پہلا قول بنی اسرائیل کے احوال کے زیادہ مطابق ہے کیونکہ دریا سے نکلنے کے بعد بنی اسرائیل سے جو صادر ہوا اس میں متواتر عبرت نہیں ہے۔ یہ اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب انہیں نجات دی اور ان کے دشمن کو غرق کیا تو انہوں نے کہا : اے موسیٰ ! ہمارے دل مطمئن نہیں ہیں کہ فرعون غرق ہوگیا ہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے دریا کو حکم دیا اس نے فرعون کو باہر پھینک دیا اور انہوں نے اسے دیکھا۔ ابوبکر بن ابی شیبہ نے قیس بن عباد سے روایت کیا ہے کہ بنی اسرائیل نے کہا : فرعون نہیں مرا اور وہ کبھی نہیں مرے گا۔ جب اللہ تعالیٰ نے سنا کہ وہ اس کے نبی کو جھٹلا رہے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے اسے دریا کے کنارے پر پھینک دیا گویا وہ سرخ بیل ہے۔ بنی اسرائیل نے اسے دیکھا جب وہ مطمئن ہوگئے تو انہیں خشکی کے راستہ سے فرعون کے شہروں کی طرف بھیجا گیا حتیٰ کہ انہوں نے اس کے خزانے منتقل کیے اور نعمتوں میں غرق ہوگئے۔ انہوں نے ایک قوم کو دیکھا کہ وہ بتوں کے پاس معتکف ہے ت، تو بنی اسرائیل نے اسے دیکھا جب وہ مطمئن ہوگئے تو انہیں خشکی کے راستہ سے فرعون کے شہروں کی طرف بھیجا گیا حتیٰ کہ انہوں نے اس کے خزانے منتقل کیے اور نعمتوں میں غرق ہوگئے۔ انہوں نے ایک قوم کو دیکھا کہ وہ بتوں کے پاس معتکف ہے، تو بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا : اے موسیٰ ! ہمارے لئے ایک معبود بنائیں جس طرح ان کے لئے معبود ہیں۔ حتیٰ کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں جھڑکا اور فرمایا : کیا اللہ تعالیٰ کے علاوہ میں تمہارے لئے معبود تلاش کروں ؟ اس نے تمہیں اپنے زمانہ کے لوگوں پر فضیلت دی ہے۔ پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں ارض مقدس کی طرف چلنے کا حکم دیا جہاں ان کے آباء و اجداد کے گھر تھے، تاکہ وہ فرعون کی زمین سے پاک ہوجائیں۔ ارض مقدسہ اس وقت جابر لوگوں کے ہاتھ میں تھی جو اس پر غالب تھے۔ پس انہیں اس زمین سے نکالنے کے لئے جنگ کی ضرورت تھی تو بنی اسرائیل نے کہا : (اے موسیٰ ! ) کیا تم ہمیں جابر لوگوں کے لئے شکار بنانا چاہتے ہو ؟ اگر تم ہمیں فرعون کے ہاتھ میں رہنے دیتے تو ہمارے لئے بہتر تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : یقوم ادخلوا الارض المقدسۃ التی کتب اللہ لکم۔۔۔۔ الی قعدون۔ (المائدہ :21) (داخل ہوجاؤ اس پاک زمین میں جسے لکھ دیا ہے اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے۔۔۔۔ الخ ) حتیٰ کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کے لئے بد دعا فرمائی اور انہیں فاسقین کا نام دیا۔ پس وہ “ تیہ ” کے صحرا میں چالیس سال بطور سزا رہے پھر ان پر اللہ تعالیٰ نے سلویٰ اور بادل کے ذریعے احسان فرمایا۔۔۔۔ جیسا کہ آگے آئے گا۔۔۔۔ پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) طور سیناء کی طرف چلے تاکہ ان کے لئے تورات لے آئیں۔ پس انہوں نے پیچھے بچھڑے کو معبود بنا لیا۔۔۔۔ اس کا بیان آگے آئے گا۔۔۔۔ پھر انہیں کہا گیا : تم بیت المقدس پہنچ چکے ہو تو دروازہ میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو اور حطۃ ٌ کہتے ہوئے داخل ہو۔۔۔۔ اس کا بیان بھی آگے آئے گا۔۔۔۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) انتہائی حیاء دار اور پردہ پوش تھے۔ بنی اسرائیل نے کہا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو خصیتین کی بیماری ہے۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) غسل کرنے لگے تو اپنے کپڑے ایک پتھر پر رکھے تو وہ پتھر آپ کے کپڑے لے کر بنی اسرائیل کی مجالس کی طرف بھاگ گیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) برہنہ اس کے پیچھے دوڑے اور کہہ رہے تھے : اے پتھر ! میرے کپڑے۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے یہی مراد ہے : یایھا الذین امنوا لا تکونوا کالذین اذوا موسیٰ فبراہ اللہ مما قالوا (احزاب :69) (1) اس کا بیان بھی آگے آئے گا۔۔۔۔ پھر جب حضرت ہارون (علیہ السلام) کا وصال ہوگیا تو بنی اسرائیل نے کہا : تو نے ہارون کو قتل کیا ہے اور تو نے اس سے حسد کیا ہے حتیٰ کہ ملائکہ ان کی چارپائی لے آئے اور حضرت ہارون (علیہ السلام) اس پر مردہ تھے۔ اس کا بیان سورة مائدہ میں آئے گا۔ پھر انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے سوال کیا کہ وہ اپنی قربانی کی قبولیت کی نشانی جان لیں۔ پس ایک آگ آسمان سے آتی (اور ان کی قربانیوں کو کھا جاتی) تو یہ ان کی قربانیوں کی قبولیت کی نشانی تھی۔ پھر بنی اسرائیل نے سوال کیا کہ ہمارے لئے آپ دنیا میں گناہوں کے کفارات کو بیان فرمائیں۔ پس جو گناہ کرتا اس کے دروازے پر لکھا جاتا عملت کذا تو وہ پاک نہ ہوتا تھا حتیٰ کہ وہ کپڑے کو کاٹ دیتا تھا اور اپنے بدن سے جلد کو دور کردیتا تھا پھر انہوں نے تورات کو بدلا اور اللہ تعالیٰ پر افترا باندھا، اپنے ہاتھوں سے تورات میں لکھا اور تورات کے عوض سامان زندگی لیا، پھر یہاں تک پہنچے کہ اپنے انبیاء اور رسل کو قتل کیا یہ ان کے معاملات اپنے رب کے ساتھ تھے اور ان میں ان کا یہ کردار تھا اور یہ ان کا برا اخلاق تھا۔ انشاء اللہ ان میں سے ہر فصل کا پورا بیان اپنے مقام پر آئے گا۔ طبری نے کہا : ان مغیبات کا حضرت محمد ﷺ کی زبان کے ذریعے قرآن میں بیان جن کا عربوں کو علم نہ تھا اور یہ بنی اسرائیل کے حق میں واقع ہوئے تھے۔ یہ بنی اسرائیل کے پاس حضرت محمد ﷺ کی نبوت کی واضح دلیل تھے (2) ۔
Ayah 2:51

وَ اِذْ وٰعَدْنَا مُوْسٰۤى اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 2:51 in the Quran reader

اور جب ہم نے موسیٰ سے چالیس رات کا وعدہ کیا تو تم نے ان کے پیچھے بچھڑے کو (معبود) مقرر کرلیا اور تم ظلم کر رہے تھے

آیت نمبر 51 اس آیت میں چھ مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذ وعدنا موسیٰ اربعین لیلۃً ابو عمرو نے وعدنا بغیر الف کے پڑھا ہے۔ ابو عبید نے اسے اختیار کیا ہے اور اسے راجح قرار دیا ہے اور واعدنا کا انکار کیا ہے۔ انہوں نے کہا : مواعدہ انسان کی طرف سے ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ وعدہ اور وعید میں منفرد ہے۔ اسی پر ہم نے قرآن کے الفاظ کو پایا۔ جیسے ارشاد ہے : وعدکم وعد الحق (ابراہیم :22) (جو وعدہ تم سے کیا تھا وہ وعدہ سچا تھا) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وعد اللہ الذین امنوا منکم وعملوا الصلحت (نور :55) (وعدہ فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے جو ایمان لائے تم میں سے اور نیک عمل کیے) اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذ یعدکم اللہ احدی الطائفتین انھا لکم (انفال :7) (اور یاد کرو جب وعدہ تم سے اللہ نے ایک کا ان دو گروہوں سے کہ وہ تمہارے لئے ہے ) ۔ مکی نے کہا : الفاظ کا ظاہر بھی اس کی تائید کرتا ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے وعدہ ہے اس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے کوئی وعدہ نہیں ہے۔ پس اس کو واحد پر محمول کرنا واجب ہے ظاہر نص کی وجہ سے کیونکہ فعل صرف اللہ تعالیٰ کی طرف مضاف ہے۔ یہ حسن، ابو رجاء ابو جعفر، شیبہ اور عیسیٰ بن عمر کی قراءت ہے۔ قتادہ اور ابن ابی اسحاق نے بھی اسی طرح پڑھا ہے۔ ابو حاتم نے کہا : ہمارے عام لوگوں قراءت وعدنا بغیر الف کے ہے کیونکہ المواعدہ زیادہ تر دو شخصوں اور دو بدلہ دینے والوں کے درمیان ہوتا ہے ہر ایک دوسرے سے وعدہ کرتا ہے۔ جوہری نے کہا المیعاد کا معنی باہم وعدہ کرنا، وقت اور جگہ ہے۔ مکی نے کہا : المواعدہ اصل میں دو شخصوں کے درمیان ہوتا ہے۔ کبھی کلام عرب میں (باب) مفاعلہ کا صیغہ واحد کے لئے بھی آتا ہے۔ عرب کہتے ہیں : طارقت النعل، داویت العلیل، عاقبت اللص۔ ان تمام جملوں میں باب مفاعلہ کا صیغہ استعمال ہوا ہے حالانکہ ایک شخص کی طرف سے فعل ہوا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے مواعدہ کا لفظ خاص حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے وعدنا کے معنی کی طرح ہوگا۔ پس دونوں قرأتوں کا ایک معنی ہوجائے گا، واعدنا الف کے ساتھ اختیار کرنا اس لئے ہے کیونکہ یہ وعدنا کے معنی میں ہے اس کے دو معانی میں سے ایک معنی میں، نیز حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے وعدہ یا قبول کرنا ضروری ہے جو وعدہ کے قائم مقام ہے۔ پس مفاعلہ کا استعمال صحیح ہے۔ نحاس نے کہا : واعدنا (الف کے ساتھ) پڑھنا اجود اور احسن ہے۔ یہ مجاہد، اعرج، ابن کثیر، نافع، اعمش، حمزہ اور کسائی کی قراءت ہے اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد : وعد اللہ الذین امنوا منکم وعملوا الصلحت میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے کیونکہ واعدنا موسیٰ یہ باب الموافات ہے۔ وعدہ اور وعید میں سے کوئی شے نہیں ہے، یہ تیرے اس قول سے ہے : موعدک یوم الجمعہ موعدک موضع کذا اس میں فصیح واعدتہ کہنا ہے۔ ابو اسحاق زجاج نے کہا : یہاں واعدنا الف کے ساتھ بہتر ہے کیونکہ طاعت کا قبول کرنا مواعدہ کے قائم مقام ہے۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وعدہ ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے قبول اور اتباع ہے۔ یہ مواعدہ کے قائم مقام ہے۔ ابن عطیہ نے کہا : ابو عبیدہ نے وعدنا کو ترجیح دی ہے۔ یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اللہ تعالیٰ کے وعدہ کو قبول کرنا اور اس کا التزام کرنا یہ مواعدہ کے مشابہ ہے۔ مسئلہ نمبر 2: اللہ تعالیٰ کا ارشاد موسیٰ یہ عجمی اسم ہے۔ عجمہ اور تعریف کی وجہ سے غیر منصرف ہے۔ ایک روایت کے مطابق قبطی لوگ پانی کو موادر درخت کو شا (سا) کہتے ہیں۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تابوت میں پانی اور درخت کے پاس پائے گئے تو انہیں موسیٰ کہا گیا (1) ۔ سدی نے کہا جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کو ان پر خوف ہوا تو اس نے انہیں ایک تابوت میں رکھ دیا اور دریا میں پھینک دیا۔۔۔۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے الہام کیا تھا۔۔۔۔۔ اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ نام رکھا گیا (2) ۔ نقاش وغیرہ نے ذکر کیا ہے کہ جس عورت نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اٹھایا تھا اس کا نام صابوت تھا۔ ابن اسحاق نے کہا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا شجرہ نسب اس طرح ہے۔ موسیٰ بن عمران بن یصہر قاہث بن لاوی بن یعقوب اسرائیل اللہ بن اسحاق بن ابراہیم (علیہ السلام) (3) ۔ مسئلہ نمبر 3: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اربعین لیلۃً ، اربعین مفعول ثانی کی بنا پر منصوب ہے اور کلام میں حذف ہے۔ اخفش نے کہا : تقدیر عبارت اس طرح ہے : واذ واعدنا موسیٰ تمام اربعین لیلۃ جیسا کہ وسء ل القریۃ (یوسف : 82) میں مضاف حذف ہے الاربعون تمام اس وعدہ میں داخل ہیں۔ اکثر مفسرین کا قول ہے کہ یہ چالیس دن ذی القعدہ کا مہینہ اور دس دن ذی الحجہ کے تھے اور یہ اس کے بعد ہوا جب آپ نے دریا عبور کرلیا تھا اور آپ کی قوم نے آپ سے مطالبہ کیا کہ اللہ کی طرف سے ہمارے پاس کتاب لے آئیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے ستر چیدہ افراد لے کر باہر نکلے اور ایک پہاڑ پر چڑھے اور ان سے مکمل چالیس راتوں کا وعدہ فرمایا، تو مفسرین کے قول کے مطابق انہوں نے بیس دن اور بیس راتیں شمار کیں اور کہنے لگے : ہم سے وعدہ خلافی ہوئی ہے۔ پس انہوں نے ایک بچھڑے کو معبود بنا لیا۔ سامری نے انہیں کہا : یہ تمہارا خدا ہے اور موسیٰ کا خدا ہے، وہ سامری کی اس بات پر مطمئن ہوگئے۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) نے انہیں منع فرمایا اور فرمایا : یقوم انما فتنتم بہ وان ربکم الرحمٰن فاتبعونی واطیعوا امری۔ قالوا لن نبرح علیہ عکفین حتی یرجع الینا موسیٰ ۔ (طہٰ ) (اے میری قوم تم تو فتنہ میں مبتلا ہوگئے اس سے اور بلاشبہ تمہارا رب تو وہ ہے جو بےحد مہربان ہے پس تم میری پیروی کرو اور میرا حکم مانو تو قوم نے کہا ہم تو اسی کی عبادت پر جمے رہیں گے یہاں تک کہ لوٹ آئیں ہماری طرف موسیٰ (علیہ السلام ) ۔ حضرت ہارون کی صرف بارہ ہزار نے بات مانی باقیوں نے بچھڑے کی عبادت ترک کرنے میں حضرت ہارون کی اتباع نہ کی اور تمام لوگ اس بچھڑے کی عبادت میں گر گئے اور وہ دس لاکھ سے زائد تھے۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) واپس آئے تو انہیں اس حال میں پایا آپ نے تختیاں نیچے ڈال دیں۔ پس ان میں سے چھ اجزاء اٹھا لئے گئے اور ایک تختی باقی رہ گئی جس میں حرام، حلال اور جن احکام کی انہیں احتیاج تھی وہ باقی رہ گئی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس بچھڑے کو جلا دیا اور اس کی راکھ کو سمندر میں بکھیر دیا، بنی اسرائیل نے بچھڑے کی محبت کی وجہ سے اس دریا کا پانی پیا۔ پس ان کے ہونٹوں پر زردی ظاہر ہوئی اور ان کے پیٹ پھول گئے۔ پھر انہوں نے توبہ کی تو ان کی توبہ قبول نہ ہوئی حتیٰ کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فتوبوا الی بارئکم فاقتلوا انفسکم (البقرہ : 54) پس چاہئے کہ توبہ کرو اپنے خالق کے حضور سو قتل کرو اپنے آپ کو۔ پس انہوں نے خنجر اور تلواریں اٹھائیں اور سورج کے طلوع ہونے سے چاشت کے بلند ہونے تک ایک دوسرے کو قتل کرتے رہے۔ انہوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا کسی والد نے اپنے بیٹے کے بارے میں اور کسی بیٹے نے والد کے بارے میں، اور بھائی نے بھائی کے بارے میں نہ پوچھا جو سامنے آیا اسے تلوار سے قتل کردیا اسی طرح ہر ایک نے اپنی مثل کو قتل کیا حتیٰ کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں گڑ گڑا کر التجا کی : یارب ! بنی اسرائیل تو ختم ہوگئے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا اور ان پر اپنا فضل فرمایا۔ پس جو باقی بچ گئے ان کی توبہ قبول فرمائی اور جو مارے گئے انہیں شہداء میں شمار کردیا جیسا کہ آگے آئے گا مسئلہ نمبر 4: اگر کہا جائے کہ راتوں کو ذکر کے ساتھ خاص کیوں کیا گیا دنوں کا ذکر کیوں نہیں فرمایا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ رات دن سے پہلے ہوتی ہے، یہ رتبہ میں دن سے بلند ہے۔ اسی وجہ سے تاریخ راتوں کے ساتھ واقع ہوتی ہے۔ راتیں مہینوں کا آغاز ہیں اور دن ان کے تابع ہیں۔ مسئلہ نمبر 5: نقاش نے کہا : اس آیت میں صوم وصال کی طرف اشارہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اگر دنوں کا ذکر فرماتا تو یہ اعتقاد ممکن تھا کہ وہ رات کو افطار کرتے تھے۔ جب راتوں پر نص قائم فرما دی تو کلام کی قوت تقاضا کرتی ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے چالیس دن، راتوں سمیت صوم وصال رکھا۔ ابن عطیہ نے کہا : میں نے اپنے باپ سے سنا، وہ فرما رہے تھے : میں نے شیخ، زاہد، امام، واعظ ابو الفضل الجوہری (رح) سے سنا وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ اور نماز میں اس کے قریب ہونے کے بارے میں وعظ فرما رہے تھے کہ نماز کھانے پینے سے غافل کردیتی ہے اور وہ فرما رہے تھے : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کا کتنا قرب نصیب ہوگا کہ انہوں نے حضرت خضر (علیہ السلام) کی طرف جاتے ہوئے اپنے نوجوان ساتھی کو کہا تھا : آتنا غداءنا، اس قول کی وجہ سے انہوں نے زمانہ کے اسی روزے وصال کے ساتھ رکھے (1) ۔ میں کہتا ہوں : اس آیت سے علماء صوفیہ نے وصال پر استدلال کیا ہے اور ان میں افضل چالیس دن ہیں۔ مزید کلام صوم وصال پر، آیت صیام کے تحت اسی سورت میں آئے گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ اور اس آیت کے مزید احکام سورة اعراف میں ووعدنا موسیٰ ثلثین لیلۃً (اعراف :142) کے تحت آئیں گے۔ اور بچھڑے کا قصہ، اس کی کیفیت کا بیان اور اس کا ڈکارنا وغیرہ کا ذکر سورة اعراف میں اور سورة طہٰ میں آئے گا۔ ان شا ءللہ تعالیٰ ۔ مسئلہ نمبر 6: اللہ تعالیٰ کا ارشا ہے : ثم اتخذتم العجل من بعدہ یعنی تم نے بچھڑے کو معبود بنا لیا موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد۔ اتخذتم اصل میں ائتخذتم تھا یہ الاخذ سے مشتق ہے۔ اس کا وزن افتعلتم ہے دو ہمزوں کے امتناع کی وجہ سے دوسرے ہمزہ میں تسہیل کی گئی پھر ایتخذتم ہوا، اور یاء گردان میں مضطرب رہتی ہے یاتخذ میں الف ہوگئی موتخذ میں واو ہوگی۔ پس یہاں یاء کو ایک پختہ حرف سے بدلا گیا جو ما بعد کی جنس سے تھا اور وہ تاء ہے پھر ادغام کیا گیا پھر الف وصل کو نطق (بولنے) کے لئے لایا گیا۔ کبھی اس الف سے استغناء کیا جاتا ہے جب کلام کا معنی تقریر ہو جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قل اتخذتم عند اللہ عھدًا (البقرہ : 80) الف تقریر کی وجہ سے الف وصل سے استغناء کیا گیا۔ شاعر نے کہا : استحدث الرکب عن اشیاعھم خبراً ام راجع القلب من اطرابہ طرب اس شعر میں الف وصل ذکر نہیں کیا گیا کیونکہ الف تقریر موجود تھا۔ اسی طرح قرآن میں ہے : اطلع الغیب (مریم :78) اصطفی البنات (الصافات :153) استکبرت ام کنت من العالمین۔ (ص) ان تینوں مثالوں میں تقریر کی وجہ سے الف وصل ذکر نہیں کیا گیا۔ ابو علی فارسی کا مذہب یہ ہے کہ اتخذتم یہ تخذ سے ہے نہ کہ اخذ سے ہے۔ وانتم ظلمون یہ جملہ حال ہے، ظلم کا معنی پہلے گزر چکا ہے۔
Ayah 2:52

ثُمَّ عَفَوْنَا عَنْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:52 in the Quran reader

پھر اس کے بعد ہم نے تم کو معاف کردیا تاکہ تم شکر کرو

آیت نمبر 52 اس میں چار مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ثم عفونا عنکم، العفو، اللہ تعالیٰ کا اپنی مخلوق کو معاف کرنا۔ کبھی عفو سزا کے بعد ہوتا ہے اور کبھی سزا سے پہلے، بخلاف الغفران کے کہ اس کے ساتھ یقیناً عقوبت ہوتی ہے۔ ہر وہ شخص جو عقوبت کا مستحق ہو پھر اسے سزا (عقوبت) نہ دی گئی ہو تو اسے معاف کیا گیا۔ العفو کا مطلب گناہ کو مٹا نا ہے، یعنی ہم نے تمہارے گناہوں کو مٹا دیا اور تم سے تجاوز کیا۔ یہ عفت الریح الاثر سے ماخوذ ہے یعنی ہوا نے اثر مٹا دیا، عفا الشیء کسی شے کا کثیر ہونا یہ اضداد میں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : حتی عفوا (اعراف :95) مسئلہ نمبر 2: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : من بعد ذلک یعنی تمہاری بچھڑے کی عبادت کرنے کے بعد۔ بچھڑے کو عجل اس لئے کہا گیا کہ بنی اسرائیل نے اس کی عبادت میں جلدی کی تھی۔ واللہ اعلم العجل گائے کے بچے کو کہتے ہیں العجول بھی اسی کو کہتے ہیں اس کی جمع العجاجیل اور مؤنث عجلۃ ٌ آتی ہے۔ یہ ابو الجراح سے روایت ہے۔ مسئلہ نمبر 3: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے لعلکم تشکرون تاکہ تم شکر ادا کرو اللہ تعالیٰ کے عفو کا۔ لعل کا معنی پہلے گزر چکا ہے، رہا شکر تو لغت میں اس کا معنی ظہور (ظاہر ہونا) ہے۔ دابۃٌ شکور وہ جانور جس پر موٹا پا اس سے زیادہ ظاہر ہوجائے جتنا اسے چارہ ڈالا جاتا ہے۔ شکر کی حقیقت یہ ہے کہ کسی انسان کی اس نیکی اور اچھائی پر تعریف کرنا جو اس نے تمہارے ساتھ کی ہے جیسا کہ سورة فاتحہ میں گزر چکا ہے۔ جوہری نے کہا : الشکر کا مطلب محسن پر اس اچھائی کی وجہ سے تعریف کرنا جو اس نے تمہارے ساتھ کی ہے۔ کہا جاتا ہے : شکرتہ وشکرت لہ۔ لام صلہ افصح ہے، الشکران، الکفران کا متضاد ہے، تشکرت لہ یہ شکرت لہ کی مثل ہے۔ امام ترمذی اور ابو داؤد نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : لا یشکر اللہ من لا یشکر الناس (1) جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا نہیں کرتا۔ خطابی نے کہا : اس کلام کے دو معانی ہیں : ایک یہ کہ وہ جس کی طبع میں لوگوں کی نعمت کی ناشکری ہے اور ان کے احسان کا شکر ادا نہیں کرتا اس کی عادت سے، اللہ تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری ہے اور اس کے شکر کا ترک ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے احسان پر بندے کا شکر قبول نہیں کرتا جب بندہ لوگوں کے احسان کا شکر ادا نہیں کرتا اور لوگوں کے احسان کی نا شکری کرتا ہے کیونکہ ہر ایک امر دوسرے سے متصل ہے۔ مسئلہ نمبر 4: شکر کے معنی میں علماء کی عبارات : حضرت سہل بن عبد اللہ نے کہا : شکر کا مطلب، سراً اور علانیۃً معصیت سے اجتناب کے ساتھ ساتھ اطاعت کی ادائیگی میں کوشش کرنا ہے۔ ایک اور گروہ نے کہا : شکر کا مطلب انعام کرنے والے کے شکر کی بجا آوری میں تقصیر کا اعتراف ہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اعملوا ال داؤد شکرًا (سبا : 13) حضرت داؤد نے کہا تھا : یا رب ! میں تیرا کیسے شکر ادا کروں ؟ شکر بھی تو تیری طرف سے نعمت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اب تو نے مجھے پہچان لیا اور تو نے میرا شکر ادا کیا جب تو نے پہچان لیا کہ شکر بھی میری طرف سے نعمت ہے۔ حضرت داؤد نے عرض کی : یا رب ! مجھے اپنی سب سے زیادہ مخفی نعمتیں دکھا جو تو نے مجھ پر فرمائی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے داؤد ! سانس لے۔ حضرت داؤد نے سانس لیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کون ہے جو دن رات میں اس نعمت کو شمار کرسکتا ہے (2) ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کی : میں تیرا کیسے شکر ادا کروں ؟ چھوٹی سی نعمت جو تو نے اپنی نعمتوں میں سے میرے ہاتھ میں رکھی میرے سارے اعمال اس کا بدلہ نہیں ہو سکتے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو وحی فرمائی : اے موسیٰ ! اب تو نے میرا شکر ادا کیا (3) ۔ جنید نے کہا : شکر کی حقیقت شکر سے عجز ہے۔ حضرت جنید سے ہی مروی ہے، فرمایا : میں حضرت سری سقطی کے سامنے کھیل رہا تھا جبکہ سات سال کا تھا اور حضرت سری سقطی کے سامنے ایک جماعت شکر کے بارے گفتگو کر رہی تھی۔ حضرت سری سقطی نے مجھے فرمایا : اے لڑکے ! شکر کیا ہے ؟ میں نے کہا : اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی وجہ سے اس کی نافرمانی نہ کی جائے۔ حضرت سری سقطی نے مجھے فرمایا : مجھے اندیشہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرا حصہ تیری زبان ہو۔ جنید نے کہا : میں اس ایک کلمہ پر ہمیشہ روتا رہتا ہوں جو میرے متعلق حضرت سری سقطی نے کہا تھا۔ شبلی نے کہا : نیکیوں پر محافظت اور تواضع، شہوات کی مخالفت، طاعات میں دوام، زمین اور آسمانوں کے بہار کا مراقبہ، شکر ہے۔ حضرت ذوالنون مصری ابو الفیض نے کہا : جو تجھ سے بلند ہے اس کی اطاعت کرنا شکر ہے، ہم مثل کو بدلہ دینا شکر ہے، جو کم مرتبہ ہے اس کے ساتھ احسان اور فضل کا مظاہرہ کرنا شکر ہے۔
Ayah 2:53

وَ اِذْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ الْفُرْقَانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ Open ayah 2:53 in the Quran reader

اور جب ہم نے موسیٰ کو کتاب اور معجزے عنایت کیے تاکہ تم ہدایت حاصل کرو

آیت نمبر 53 اذ ماضی کے لئے اسم ہے اور اذا مستقبل کے لئے اسم ہے، اتینا کا مطلب ہے ہم نے عطا کیا۔ ان تمام الفاظ کے معانی پہلے گزر چکے ہیں۔ الکتب سے مراد بالا جماع تورات ہے اور الفرقان کے بارے اختلاف ہے۔ فراء اور قطرب نے کہا : اس کا معنی ہے : ہم نے موسیٰ کو تورات اور محمد ﷺ کو فرقان عطا کی۔ نحاس نے کہا : یہ اعراب اور معنی میں غلطی ہے، رہا اعراب تو کسی شے پر معطوف اس کی مثل ہوتا ہے اور اس قول کے اعتبار سے کسی شے پر معطوف اس کے خلاف ہوگا۔ رہا معنی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اتینا موسیٰ وھرون الفرقان (الانبیاء : 48) ابو اسحاق الزجاج نے کہا : فرقان سے مراد الکتاب ہی ہے تاکید کے لئے دو اسموں کے ساتھ اس کا ذکر دوبارہ کیا گیا۔ یہ فراء سے حکایت ہے، شاعر کا قول ہے : وقدمت الادیم لواھشیہ والفی قولھا کذباً ومیناً اس شعر میں کذب اور میں ایک ہی معنی میں ہیں۔ تاکید کے لئے دو اسم ذکر کیے گئے ہیں۔ ایک اور شاعر نے کہا : الاحبدا ھندٌ وارض بھا ھندٌ وھندٌ اتی من دونھا النأی والبعد اس شعر میں النأی اور البعدتا کید کے لئے معطوف کیے گئے ہیں۔ عشرہ کا قول ہے : حییت من طلل تقادم عھدہ اقوی واقفر بعد امر الھیثم نحاس نے کہا : یہ شعر میں ہوتا رہتا ہے، سب سے بہتر اس کے متعلق مجاہد کا قول ہے۔ الفرقان سے مراد حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے کی صلاحیت ہے (1) ، جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا فرمائی تھی۔ ابن زید نے کہا : الفرقان سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے دریا کا پھٹنا ہے حتیٰ کہ وہ پھٹ گیا تو انہوں نے دریا عبور کرلیا۔ بعض علماء نے فرمایا : الفرقان سے مراد مصیبت سے چھٹکارا ہے کیونکہ وہ قبطیوں سے دور ہوگئے تھے۔ اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان تتقوا اللہ یجعل لکم فرقاناً (انفال :29) بعض علماء نے فرمایا : الفرقان سے مراد حجت اور بیان ہے۔ یہ ابن بحر نے کہا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : واو زائد ہے معنی یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ہم نے کتاب فرقان عطا کی، واو کبھی لغت میں زائد بھی ہوتی ہے جیسے عرب کہتے ہیں : فلان حسن وطویل۔ شاعر نے کہا : الی الملک القرم وابن الھام ولیث الکتیبۃ فی المزدحم اس شعر میں واو دونوں جگہ زائدہ ہے، کیونکہ مراد الملک القرم، ابن الھمام لیث الکتیبہ ہے۔ اس تاویل کی دلیل یہ ارشاد ہے : ثم اتینا موسیٰ الکتب تماماً علی الذی احسن وتفصیلاً لکل شیءٍ (انعام : 154) (پھر عطا فرمائی ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب تاکہ پوری کردیں نعمت ان پر جو نیک عمل کرتے ہیں اور تاکہ تفصیل ہوجائے ہر چیز کی) یعنی حلال، حرام، کفر، ایمان، وعدہ، وعید وغیرہ سب کچھ بیان کردیا۔ بعض علماء نے فرمایا : الفرقان کا مطلب ان کے اور فرعون کی قوم کے درمیان جدائی ہے۔ یعنی ان کو نجات دی اور فرعونیوں کو غرق کیا۔ اس کی مثال یوم الفرقان ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس سے مراد جنگ بدر کا دن ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ اور آپ کے اصحاب کی مدد فرمائی تھی اور ابو جہل اور اس کے ساتھیوں کو ہلاک کیا تھا (1) ۔ لعلکم تھتدون تاکہ تم گمراہی سے ہدایت پاؤ۔ یہ پہلے گزر چکا ہے۔