Ayah 2:128آیت نمبر 128
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ربنا واجعلنامسلمین لک یہاں واجعلنا بمعنی صیرنا ہے اور مسلمین مفعول ثانی ہے۔ دونوں (ابراہیم و اسماعیل) نے ثبات اور دوام کی دعا مانگی۔ یہاں اسلام سے مراد ایمان اور اعمال دونوں ہیں۔ اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان الدین عند اللہ الاسلام (آل عمران : 19) اس آیت میں دلیل ہے ان علماء کی جو کہتے ہیں کہ ایمان اور اسلام ایک شے ہیں۔
ایک اور آیت سے انہوں نے اپنے اس قول کو قوت دی ہے۔ فاخرجنا ان کان فیھا من المؤمنین۔ فماوجد نا فیھا غیر بیتٍ من المسلمین۔ ( الذاریات) ( ہم نے نکال لیا وہاں کے تمام ایمانداروں کو پس نہ پایا ہم نے اس ساری بستی میں بجز ایک مسلم گھر کے ) ۔
حضرت ابن عباس اور عوف اور اعرابی نے مسلمین جمع کا صیغہ پڑھا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ومن ذریتنا امة مسلمة لک یعنی ہماری اولاد سے بنا۔ کہا جاتا ہے کہ ہر نبی نے اپنے لئے اور اپنی امت کے لئے دعا مانگی لیکن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے لئے، اپنی امت کے لئے اور اس امت (محمدیہ) کے لئے دعا مانگی۔ من ذریتنا میں من تبعیضیہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو آگاہ کردیا تھا کہ آپ کی اولاد میں سے کچھ ظالم ہوں گے۔ طبری نے حکایت کیا ہے کہ ومن ذریتنا سے خاص عرب مراد ہیں۔ سہیلی نے کہا : ان دونوں کی اولاد عرب ہیں کیونکہ عرب نبت بن اسماعیل کی اولا ہیں یا بنو تیمن بن اسماعیل کی اولاد ہیں۔ کہا جاتا ہے : قیدربن نبت بن اسماعیل۔۔۔ العدنانیه یہ نبت کی اولاد ہیں اور قحطانیہ قیدر بن اسماعیل کی اولاد ہیں یا ایک قول کے مطابق تیمن کی اولاد ہیں۔ ابن عطیہ نے کہا : یہ ضعیف ہے کیونکہ آپ کی دعوت عربوں میں ظاہر ہوئی تھی اور ان لوگوں میں جو عربوں کے علاوہ تھے۔
امة کا یہاں معنی جماعت ہے ایک شخص کو بھی امت کہا جاتا ہے خیر میں جس کی اقتدا کی جائے۔ اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان ابراٰھم کان امة قانت اللہ (النحل :120) (بلاشبہ ابراہیم ایک مرد کامل تھے اللہ کے مطیع تھے) نبی کریم ﷺ نے زید بن عمر بن نفیل کے بارے میں فرمایا تھا وہ ایک امت کی حیثیت سے اٹھایا جائے گا کیونکہ کوئی دوسرا اسکے دن میں شریک نہ تھا۔ واللہ اعلم
کبھی لفظ امة کا اطلاق دوسرے معانی میں بھی ہوتا ہے۔ اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اناوجدنآ اٰبآءنا علی امة (ذخرف :22) یعنی ہم نے اپنے آباء کو ایک دین اور ملت پر پایا۔ اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان ھذہٖ امتکم امة واحدۃ (الانبیاء :92) کبھی الحین اور الزمان کے معنی میں ہوتا ہے اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اد کر بعد امة (یوسف :45) (یعنی کچھ عرصہ کے بعد یاد آیا) کہا جاتا ہے ھذہ امة زید۔ یعنی یہ زید کی ماں ہے۔ امة کا معنی قامت بھی ہے۔ کہا جاتا ہے : فلان حسن الامه یعنی خوبصورت قامت والا ہے۔ شاعر نے کہا : وان معاویة الاکرمیہ ن حسان الوجوہ طوال الامم
بعض علماء نے فرمایا : الامة اس زخم کو بھی کہتے ہیں جو دماغ کی اصل تک پہنچ جاتا ہے۔ کہ ان جاتا ہے : رجل ماموم و امیم، ایسا جسے دماغ پر زخم لگا ہو۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وارنا منا سکنا، ارنا، یہ آنکھ سے دیکھنے سے ہے اور دو مفعولوں کی طرف متعدی ہے۔ بعض نے فرمایا :
یہ رؤیت قلب سے ہے، یہ کہنے والے پر لازم ہے کہ فعل اس کی طرف سے تین مفاعیل کی طرف متعدی ہو۔ ابن عطیہ نے کہا : کبھی ہمزہ کے باوجود رویت قلب سے دو مفعولوں کیطرف متعدی ہوتا ہے جس طرح بغیر ہمزہ کے دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوتا ہے۔ حطائط بن یعفر اخوالاسود بن یعفر نے کہا :
ارینی جو ادا مات ھزلا لاننی اری ما ترین او بخیلا مخلدا
حضرت عمر بن عبدالعزیز، حضرت قتادہ، حضرت ابن کثر، حضرت محیصن، سدی اور روح نے یعقوب اور رولیس السوسی نے ارنا قرآن میں راء کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور ابوحاتم نے اسے پسند کیا ہے۔ ابوعمر و نے راء کے کسرہ کے اختلاس کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی قراء نے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابوعبید نے اس کو اختیار کیا ہے، اصل میں ارئنا ہمزہ کے ساتھ تھا، جنہوں نے راء کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے انہوں نے کہا : ہمزہ اور اس کی حرکت ختم ہوگئی اور راء اپنی حالت پر ساکن باقی رہی اور انہوں نے شاعر کے قول سے استدلال کیا ہے :
ارنا ادارۃ عبداللہ نملوھا من ماء زمزم ان سالقوم قد ظمئوا
ہمیں عبداللہ کا لوٹا دکھاؤ ہم زمزم کے پانی سے اسے بھریں گے کیونکہ قوم پیاسی ہے۔ شاعر نے اسے ارنا پڑھا ہے۔
اور جن علماء نے راء کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے وہ ہمزہ محذوفہ کی حرکت کرکے را کو دیتے ہیں۔ ابوعمرو نے خفت کو طلب کیا ہے۔ شجاع بن ابی نصر سے مروی ہے وہ امین اور سچے تھے انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو خواب میں دیکھا تھا انہوں نے ابوعمرو کے حروف سے بہت سی اشیاء کا ذکر کیا تو صرف دو حروف کی تصحیح فرمائی۔ ایک یہ ارنا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ارنا اور دوسرا ماننسخ من آیة اوتساھا (مہوز) ۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : مناسکنا کہا جاتا ہے : لغت میں النسک کا معنی غسل ہے۔ کہا جاتا ہے : نسک ثوبه جب کوئی اپنے کپڑے کو دھوئے۔ یہ شرع میں عبادت کا اسم ہے کہا جاتا ہے رجل ناسک، جب کوئی شخص عابد ہو۔
علماء کا قول ہے۔ مجاہد، عطا، ابن جریج نے کہا المناسک سے مراد ذبح کی جگہیں ہیں۔ بعض نے فرمایا : تمام عبادات ہیں ہر وہ عمل جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جاتی ہے اسے منسک اور منسک کہا جاتا ہے۔ الناسک سے مراد عابد ہے۔ نحاس نے کہا نسک ینسک۔ اس صورت میں منسک کہنا واجب ہے۔
لیکن عرب کلام میں مفعل نہیں ہے۔ زہیر بن محمد سے مروی ہے، فرمایا : جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بیت الحرام کی بناء سے فارغ ہوئے تو عرض کی : اے رب ! میں فارغ ہوچکا ہوں تو ہمیں مناسک دکھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف جبریل امین کو بھیجا، پس آپ نے جبریل امین کے ساتھ حج کیا حتیٰ کہ جب عرفہ سے لوٹے اور دسویں کا دن آیا تو ابلیس آپ کے سامنے آیا جبریل امین نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کہا اسے کنکریاں مارو، تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اسے سات کنکریاں ماریں پھر اگلے دن اور تیسرے دن کنکریاں ماریں۔ پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ثبیر پہاڑ پر چڑھے اور کہا : اے اللہ کے بندو، اجیبوا (جواب دو ) پس سمندروں کے درمیان جو بھی ایسا شخص موجود تھا جس کے دل میں ذرہ برابر ایمان تھا اس نے آپ کی دعوت کو سن لیا۔ اور اس نے کہا : لبیک اللھم لبیک فرمایا : سطح زمین پر ہمیشہ سات یا اس سے زائد مسلمان ہوں گے۔ اگر یہ نہ ہوتا تو زمین اور اس کے رہنے والے ہلاک ہوجاتے۔ سب سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی پکار کا جواب اہل ایمان نے دیا۔ ابو مجلز سے مروی ہے، فرمایا : جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بیت اللہ کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو جبریل امین آپ کے پاس آئے اور انہیں بیت اللہ کا طواف دکھایا۔ فرمایا : میرا خیال ہے انہوں نے فرمایا : الصفا والمروۃ پھر دونوں جمرہ عقبہ کی طرف چلے سامنے شیطان آیا، جبریل امین نے سات کنکریاں اٹھائیں اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو سات کنکریاں دیں، پہلے جبریل امین نے کنکری ماری اور تکبیر کہی۔ پھر حضرت ابرہیم (علیہ السلام) سے کہا، کنکری مارو اور تکبیر کہو پس دونوں نے کنکریاں ماریں اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہی حتیٰ کہ شیطان چلا گیا پھر جمرہ کی طرف چلے۔ شیطان پھر سامنے آیا، جبریل نے سات کنکریاں لیں اور ابراہیم (علیہ السلام) کو بھی سات کنکریاں دیں۔ جبریل امین نے کہا : کنکری مارو اور تکبیر کہو دونوں نے کنکریاں ماریں اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہی۔ حتیٰ کہ شیطان چلا گیا۔ پھر جمرہ قصویٰ پر آئے، شیطان سامنے آیا، جبریل امین نے سات کنکریاں لیں اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو سات کنکریاں دیں اور کہا : کنکری مارو اور تکبیر کہو۔ دونوں نے کنکریاں ماری اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہی حتیٰ کہ شیطان چلا گیا پھر دونوں مزدلفہ میں آئے اور جبریل امین نے کہا : یہاں لوگ اپنی نمازوں کو جمع کریں گے پھر جبریل امین، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو لے کر عرفات میں آئے اور کہا : عرفت (تو نے جان لیا ؟ ) حجرت ابراہیم نے کہا : ہاں۔ اسی وجہ سے اس جگہ کو عرفات کہا جاتا ہے۔ روایت ہے، جبریل امین نے تین مرتبہ کہا عرفت، عرفت۔ یعنی منی، مزدلفہ اور اس جگہ کو پہچان لیا۔ حضرت ابراہیم نے کہا : ہاں۔ اسی وجہ سے اس مکان کو عرفات کہا جاتا ہے۔ خصیف بن عبدالرحمن سے مروی ہے کہ مجاہد نے انہیں بتایا کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا : وارنامنا سکنا یعنی الصفا والمردة۔ یہ نص قرآنی سے اللہ تعالیٰ نے شعائر میں سے ہیں پھر جبریل امین آپ کو لے کر نکلے جب جمرہ عقبہ سے گزرے تو اس پر شیطان بیٹھا تھا۔ جبریل امین نے حضرت ابراہیم سے کہا : تکبیر کہو اور اسے کنکری مارو، ابلیس، جمرہ وسطی پر چڑھ گیا۔ جبریل امین نے کہا تکبیر کہو اور اسے کنکری مارو پھر جمرہ قصویٰ پر اسی طرح ہوا۔ پھر وہ اسے مشعر حرام کی طرف لے گئے۔ پھر عرفہ میں لے آئے۔ پھر جبریل امین نے حضرت ابراہیم سے کہا کیا تو نے پہچان لیا جو میں نے تجھے دکھایا ؟ حضرت ابراہیم نے کہا : ہاں۔ اسی وجہ سے عرفات کو عرفات کہا جاتا ہے۔ جبریل امین نے کہا : تم لوگوں میں حج کا اعلان کرو۔ حضرت ابراہیم نے کہا : میں کیسے کہوں ؟ جبریل امین نے کہا : تم کہو : اے لوگو ! اپنے رب کا حکم قبول کرو۔ یہ تین مرتبہ وعلان کرو۔ حضرت ابراہیم نے ایسا ہی کیا۔ لوگوں نے کہا : لبیک اللھم لبیک۔ فرمایا : اس دن جس نے جواب دیا وہ حج کرے گا۔ دوسری روایت میں ہے جب آپ نے آوازدی تو آپ گھومے اور ہر طرف ندادی۔ مشرق ومغرب پر طرف سے لوگوں نے لبیک کہا۔ پہاڑجھک گئے حتیٰ کہ آپ کی آواز دور تک گئی۔ محمد بن اسحاق نے کہا : جب حضرت ابراہیم خلیل الرحمٰن صلوات اللہ علیہ بیت الحرم کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو جبریل امین آپ کے پاس آئے اور کہا : اس کے سات چکر لگاؤ۔ حضرت ابراہیم نے اس کے سات چکر لگائے اور حضرت اسماعیل بھی آپ کے ساتھ تھے، ہر طواف میں ہر رکن کا استلام کیا جب سات چکر دونوں نے مکمل کرلئے تو مقام کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھی۔ فرمایا : جبریل امین کھڑے ہوئے اور تمام مناسک دکھائے، صفا، مروہ، منی اور مزدلفہ۔ فرمایا : جب منیٰ میں داخل ہوئے اور عقبہ سے اترے تو شیطان سامنے آیا، جیسا کہ پہلے گزرا ہے۔ ابن اسحاق نے کہا : مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے پہلے تمام ارکان کا استلام کرتے تھے اور فرمایا : شام سے حضرت اسحاق اور سارہ (علیہما السلام) نے حج کیا تھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہر سال براق پر حج کرتے تھے ان کے بعد انبیاء اور امم نے حج کیا۔ محمد بن سابط نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے، فرمایا : ہر نبی جب اس کی امت ہلاک ہوجاتی تھی تو وہ مکہ میں آجاتا تھا اور یہاں وہ اور اس پر ایمان لانے والے عبادت کرتے تھے، حتیٰ کہ وہ فوت ہوجاتے تھے۔ مکہ میں حضرت نوح، حضرت ہود، اور حضرت صالح (علیہم السلام) کا وصال ہوا اور ان کی قبور زمزم اور حطیم کے درمیان ہیں۔ ابن وہب نے ذکر کیا ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان کے مومن ساتھی مکہ میں فوت ہوئے تھے ان کی قبور مکہ کی غربی جانب دار الندوہ اور نبی سہم کے درمیان ہیں۔ حضرت ابن عباس نے کہا : مسجد میں صرف دو قبریں ہیں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی قبر اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قبر۔ حضرت اسماعیل کی قبر حطیم میں ہے اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قبر حجر اسود کے مقابل ہے۔ عبداللہ بن ضمرہ السلوی نے کہا : رکن اور مقام کے درمیان ننانوے انبیاء کی قبور ہیں جو حج کے لئے آئے تھے یہاں دفن ہوئے۔ صلوات اللہ علیھم اجمعین۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وتب علینا حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کے اس قول کے معنی میں اختلاف ہے۔ تب علینا کہا حالانکہ انبیاء گناہ سے معصوم ہوتے ہیں۔ ایک گروہ نے کہا : انہوں نے اس عاد سے تثبیت اور دوام کو طلب کیا، نہ اس لئے کہ کہ ان کا کوئی گناہ تھا۔ میں کہتا ہوں : یہ اچھا جواب ہے اور اس سے احسن جواب یہ ہے کہ جب ان دونوں نے مناسک کو جان لیا اور بیت اللہ کو تعمیر کرلیا تو ان دونوں نے ارادہ کیا کہ وہ لوگوں کے لئے بیان کریں اور لوگوں کو بتائیں کہ یہ جگہ اور دوسرے مناسک حج گناہوں سے طہارت اور توبہ طلب کرنے کی جگہیں ہیں۔ بعض نے فرمایا : اس کا معنی ہے ہم میں سے جو ظالم ہیں ان کی توبہ قبول فرما۔ عصمت انبیاء پر کلام حضرت آدم (علیہ السلام) کے قبضہ میں گزرچکی ہے اور انک انت التواب الرحیم کے معنی میں بھی کلام گزر چکا ہے پس اعادہ کی ضرورت نہیں۔
Ayah 2:129آیت نمبر 129
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ربنا وابعث فیھم رسولاً ، رسول سے مراد حضرت محمد ﷺ ہیں۔ حضرت ابی کی قراءت میں ہے وابعث فی آخرھم رسولا منھم حضرت خالد بن معدان نے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ کے اصحاب کی ایک جماعت نے آپ سے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمیں اپنی ذات کے بارے میں بتایئے۔ فرمایا : ہاں میں اپنے باپ ابراہیم کی دعوت ہوں اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی بشارت ہوں۔ اور رسول بمعنی مرسل (بھیجا گیا) ہے یہ رسالت سے مفعول کا وزن ہے۔ ابن انباری نے کہا : ہوسکتا ہے کہ عربوں کے اس قول سے ہو : ناقة مرسال ورسلة۔ جب اونٹنی آرام سے چلنے والی ہو دوسری اونٹنیوں کے آگے چلنے والی ہو اور مہمل جماعت کے لئے المرسلة کہا جاتا ہے۔ رسل کی جمع ارسال ہے۔ کہا جاتا ہے : جاء القوم ارسالا۔ یعنی لوگ ایک دوسرے کے پیچھے آئے، اسی سے دودھ کو رسل کہا جاتا ہے کیونکہ وہ کھیری سے متواتر نکالا جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ویعلمھم الکتٰب والحکمة، الکتب سے مراد قرآن ہے اور حکمت سے مراد دین کی معرفت، اور فہم ہے جو تاویل میں سمجھ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک خصلت اور نور ہے۔ یہ مالک نے کہا ہے۔ یہ ابن وہب نے امام مالک سے روایت کیا ہے اور ابن زید نے بھی یہی کہا ہے۔ قتادہ نے کہا : حکمت سے مراد سنت اور شریعت کا بیان ہے۔ بعض نے فرمایا : اس سے مراد حکم اور قضا ہے، سب کا معنی قریب قریب ہے۔ تعلیم کی نسبت نبی کریم ﷺ کی طرف کی گئی ہے کیونکہ آپ وہ تمام امور عطا فرماتے ہیں جن میں غور وفکر کیا جاتا ہے آپ غور وفکر کے طرق کی تعلیم دیتے ہیں جو اللہ تعالیٰ آپ کو وحی کے ذریعے عطا فرمایا تھا۔
ویزکیھم یعنی شرک کی میل سے انہیں پاک کرتا ہے۔ ابن جریج وغیرہ سے مروی ہے، زکوٰۃ کا مطلب پاک کرنا ہے یہ پہلے گزرچکا ہے۔ بعض نے فرمایا : آیات سے مراد ظاہر الفاظ کی تلاوت ہے، کتاب سے مراد الفاظ کے معانی ہیں اور حکمت سے مراد حکم ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے خطاب کی مراد ہے کہ وہ مطلق ہے، مقید ہے، مفسر ہے، مجمل ہے، عموم وخصوص ہے۔ یہ معنی پہلے گزرچکا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
العزیز اس کا معنی ہے وہ محفوظ ذات جس کو نہ پایا جاسکتا ہے اور نہ مغلوب کیا جاسکتا ہے۔ ابن کیسان نے کہا : اس کا معنی ہے جس کو کوئی چیز عاجزنہ کرے۔ اس کی دلیل یہ ہے : وماکان اللہ لیعجزہ من شیء فی السمٰوٰ ت ولافی الارض (فاطر :44) ۔ الکسانی نے کہا : العزیز کا معنی غالب ہے۔ اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وعزنی فی الخطاب۔ ضرب المثل ہے : من عزیز یعنی جو غالب آیا اس نے سلب کیا۔ بعض نے فرمایا : العزیزوہ ہے جس کی کوئی مثال نہ ہو، اس کا بیان ہے : لیس کمثلهٖ شی۔ ہم نے اس معنی کو العزیز کے اسم کے تحت اپنی کتاب الاسنی فی شرح اسماء اللہ الحسنیٰ میں زیادہ بیان کیا ہے۔ الحکیم کا معنی پہلے گزرچکا ہے۔ الحمداللہ
Ayah 2:130آیت نمبر 130
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ومن یر غب ملةابراہیم الا من سفه نفسه، من استفہامیہ ہے۔ مبتدا کی حیثیت سے محل رفع میں ہے۔ یرغب، من کا صلہ ہے اور الا من سفه نفسه یہ خبر کی جگہ ہے، یہ تفریع اور توبیخ ہے اس سے پہلے نفی کا معنی ہے معنی وہ مایر غب کا معنی ہے یہ نحاس کا قول ہے۔ یعنی دین اور شرع ابراہیمی سے دلچسپی نہیں رکھتا۔ اور اس سے پہلے نفس کو دور رکھتا ہے جس نے اپنے نفس کو بیوقوف بنایا۔
قتادہ نے کہا : اس سے مراد یہودونصاریٰ ہیں انہوں نے ملت ابراہیمی سے اعراض کیا اور یہودیت ونصرانیت خودا یجا کی وہ اللہ کی طرف سے نہیں ہے۔ زجاج نے کہا : سفه کا معنی ہے اپنے نفس کی امر سے جاہل رہا اور اس میں عوروفکرنہ کیا۔ ابو عبیدہ کہا : اس کا معنی ہے اس نے اپنے نفس کو ہلاک کیا۔ ثعلب اور مبرد نے حکایت کیا ہے کہ سفه فاء کے کسرہ کے ساتھ اسی طرح متعدی ہے جس طرح سفه فاء کے فتحہ اور تشدید کے ساتھ متعدی ہے۔ یعنی اس نے اپنے نفس کے ساتھ ایسا فعل کیا کہ وہ سفیہ بن گیا۔ ان سے مروی ہے، یہ ایک لغت ہے جو بمعنی سفه ہے۔ یہ مہدوی نے حکایت کیا ہے۔ پہلا قول ماوردی نے ذکر کیا ہے رہا سغه فاء کے ضمہ کے ساتھ یہ متعدی نہیں ہوتا۔ یہ مبرد اور ثعلب کا قول ہے۔ کسائی نے اخفش سے حکایت کیا ہے کہ اس کا معنی ہے : جھل فی نفسهٖ ۔ فی کو حذف کیا گیا اور نفسه کو منصوب پڑھا گیا۔
اخفش نے کہا : اس کی مثل عقدۃ النکاح۔ (علی کو حذف کیا گیا) یہ سیبویہ کے مذہب پر جاری ہے اس سے عربوں سے حکایت کیا ہے ضرب فلان الظھروالبطن۔ اصل میں فی الظھر والبطن تھا فی کو حذف کیا گیا۔ فراء نے کہا : نفسه تمییز کی حیثیت سے منصوب ہے۔ ابن بحر نے کہا : اس کا معنی ہے کہ وہ اپنے نفس سے اور جو اس میں دلالات اور آیات ہیں ان سے غافل رہاجو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اس نفس سے اور جو اس میں کوئی نہیں ہے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی قدرت کو جان لیتا۔
میں کہتا ہوں : یہ زجاج کے قول کا معنی ہے۔ وہ اپنے نفس میں غوروفکر کرتا کہ وہ اپنے ہاتھوں سے پکڑتا ہے اور اپنے قدموں سے چلتا ہے، آنکھوں سے دیکھتا ہے، کا نوں سے سنتا ہے، زبان سے بولنا ہے، دودھ غنی ہونے کے وقت اس کی داڑھیں پیدا فرمائیں تاکہ وہ اس سے کھانے کو چبائے، معدہ بنایا گیا وہ غذا کو پکانے کے لئے ہے، جگر ہے جس کی طرف اس غذا کو صاف مال جاتا ہے اور اس کی نسیں اور رگیں ہیں جن کے ذریعے مختلف اطراف میں خون پہنچتا ہے۔ انتڑیاں ہیں جن کی طرف غذا کا فضلہ جاتا ہے اور نیچے والے بدن سے نکل جاتا ہے، اس سے انسان ستدلال کرسکتا تھا کہ اس کا کوئی خالق، قادر، علیم اور حکیم ہے، یہی معنی ہے اس آیت کا وفی انفسکم افلا تبصرون۔ (الذاریات) (تمارے وجود میں بھی (نشانیاں ہیں) کیا تمہیں نظر نہیں آتیں ) ۔
اس کی طرف خطابی نے اشارہ کیا ہے اس کا مزید بیان سورة الذاریات میں آئے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ اس آیت سے استدلال کیا ہے اس نے جس نے کہا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت ہماری شریعت ہے مگر جو اس سے، منسوخ ہوگیا یہ اس قول کی مانند ہے : ملة ابیکم ابرٰھیم (الحج :78) ۔ تمہارے باپ ابراہیم کی ملت ان اتبع ملىة ابراٰھیم (النحل :123) ۔ آپ ابراہیمی ملت کی اتباع کریں۔ مزید بیان آگے آئے گا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولقد اصطفینٰه فی الدنیا ہم نے اس کو رسالت کے لئے چن لیا اور ادناس (میل کچیل) سے صاف بنایا۔ اصطفینا اصل میں اصتفینا تھا۔ تاء کو طا سے بدلا کہ اطباق میں صاد کے ساتھ مناسبت ہوجائے یہ لفظ الصفوہ سے مشتق ہے۔ اس کا معنی ہے : جو زیادہ صاف ہو اس کا اختیار کرنا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وانه فی الاٰخرۃ لمن الصلحین، الصالح الاخرہ سے مراد کامیاب ہونے والا ہے۔ پھر یہ سوال کیا گیا ہے کہ فی الاٰخرۃ کیسے کیا گیا حالانکہ یہ صلہ میں داخل ہے ؟ نحاس نے کہا : اس کا جواب یہ ہے کہ اس کی تقدیر اس طرح نہیں ہے : انه لمن الصالحین فی الآخرۃ کہ صلہ مقدم ہو۔
اہل عرب کے اس کے متعلق تین اقوال ہیں : یہ کہ اس کا معنی ہے وہ آخرت میں صالح ہے پھر کلام میں حذف کیا گیا۔ بعض نے فرمایا : فی الاخرۃ، مصدر محذوف کے متعلق ہے یعنی صلاحة فی الاخرۃ۔ تیسرا قول یہ ہے کہ الصالحین، الدین صلحوا کے معنی
میں نہیں ہے۔ یہ اسم قائم بنفسہ ہے جیسے کہا جاتا ہے : الرجل، الغلام۔
میں کہتا ہوں : چوتھا قول یہ ہے کہ اس کا معنی ہے : انه فی عمل الاخرۃ لمن الصالحین کلام مضاف کے حذف پر ہے۔ حسین بن فضل نے کہا : کلام میں تقدیم وتاخیر ہے۔ کلام اس طرح ہے : ولقد اصطفینا فی الدنیا والآخرۃ وانه لمن الصالحین۔
حجاج بن حجاج نے روایت کیا ہے، یہ حجاج بن الاسود ہے اور وہی حجاج الاحول ہے جو زق العسل (شہد کا مشکیزہ) سے معروف تھا۔ فرمایا : میں نے معاویہ بن قرۃ سے سنا۔ انہوں نے فرمایا : اللھم ان الصالحین انت اصلحتھم ورزقتھم ان عملوابطاعتک فرضیت عنھم۔ اللھم کما اصلحتھم فاصلحنا وکمارزقتھم ان عملوا بطاعتک فرضیت عنھم فارزقنا ان نعمل بطاعتک وارض عنا۔ اے اللہ ! صالحین بخشی کہ وہ تیری طاعت کے اعمال کریں اور تو ان سے راضی ہوا۔ اے اللہ ! جس طرح تو نے انہیں صالحیت بخشی ہمیں صالحیت عطا فرما اور جس طرح تو نے انہیں اپنی طاعت کی توفیق بخشی اور تو انسے راضی ہوا ہمیں اپنی طاعت کی توفیق عطا فرما اور ہم سے راضی ہو۔
Ayah 2:131آیت نمبر 131
اذکا عامل اصطفینٰه کا قول ہے۔ یہ قول اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھا جب اللہ تعالیٰ نے ان کی ستارے، چاند اور سورج سے آزمائش کی۔ ابن کیسان اور کلبی نے فرمایا : اس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کی توحید کے ساتھ اپنے دین کو خالص کر۔ بعض نے فرمایا : اسلم کا معنی ہے خضوع وخشوع کر۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا ییہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اس وقت فرمایا : جب آپ سرنگ سے نکلے تھے۔ جیسا کہ سورة الانعام میں اس کا ذکر آئے گا۔ اسلام یہاں تمام وجوہ کے ساتھ ہے۔ کلام عرب میں اسلام کا معنی خضوع اور انقیاد ہے۔ پر اسلام، ایمان نہیں ہے اور ایمان، اسلام ہے کیونکہ جو اللہ پر ایمان لایا اس نے اللہ تعالیٰ کے لئے سر جھکا دیا اور اس کی اطاعت کی۔ اور ہر اسلام لانے والا ایمان لانے والا نہیں ہو سکتا ہے اس نے تلوار کے خوف سے کلمہ پڑھا ہو اور یہ ایمان نہیں ہوگا۔ قدریہ اور خوارج کا قول اسکے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا : اسلام ہی ایمان ہے۔ ہر مومن، مسلم، اور ہر مسلم، مومن ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ان الدین عنداللہ الاسلام (آل عمران : 19) یہ دلیل ہے کہ اسلام دین ہے اور جو مسلمان نہیں وہ مومن نہیں۔
اور ہماری دلیل یہ ارشاد ہے : قالت الاعراٰب اٰمنا قل لم تؤمنواولٰکن قولوٓا اسلمنا (الحجرات : 14) اعراب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے۔ آپ فرمایئے تم ایمان تو نہیں لائے البتہ یہ کہو کہ ہم نے اطاعت اختیار کرلی۔
اللہ تعالیٰ نے اس میں بیان فرمایا کہ ہر مسلمان، مومن۔ نہیں پس یہ دلیل ہے کہ ہر مسلمان، مومن نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے حضرت سعد بن ابی وقاص کو فرمایا : جب انہوں نے عرض کی تھی : حضور ! فلاں کو عطا فرمائیں وہ مومن ہے۔ نبی کریم ﷺ نے کہا بلکہ تم کہو مسلم ہے۔ اس حدیث کو مسلم نے نقل کیا ہے۔ یہ دلیل ہے کہ ایمان اسلام نہیں ہے کیونکہ ایمان باطنی چیز ہے اور اسلام ظاہر ہے۔ یہ واضح ہے کہ کبھی ایمان، اسلام کے معنی میں ہوتا۔ اسلام بولا جاتا ہے اور مراد ہوتا ہے کیونکہ ہر ایک دوسرے کو لازم ہے۔ جیسے اسلام جو ایمان کا ثمرہ، اور ایمان کی صحت پر دلیل ہے (یہی نقطہ ماتریدیہ کا ہے) ۔
Ayah 2:132آیت نمبر 132
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ووصی بھا ابرٰھیم، ھا ضمیر سے مراد ملت ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس سے مراد یہ کلمہ ہے اسلمت لرب العٰلمین۔ یہ زیادہ درست ہے کیونکہ یہ قریب مذکور ہے یعنی تم اسلمنا کہو۔ ووصی اور اوصی دونوں ہم معنی قریش کی لغتیں ہیں۔ مثلاً کرمنا اور اکرمنا۔ اوصی اور وصی دونوں طرح پڑھا گیا ہے۔ حضرت عبداللہ کے مصحف میں وصی تھا اور حضرت عثمان کے مصحف میں اوصیٰ تھا۔ یہ اہل مدینہ، شام اور دوسرے فراء کی قراءت ہے۔ وصی اسمیں کثرت کا معنی ہے۔ لفظ ابراہیم کو اسکے فعل کیوجہ سے رفع دیا ہے اور یعقوب، ابراہیم پر معطوف ہے۔ بعض نے فرمایا : یہ علیحدہ کلام ہے اسکا معنی ہے : واوصی یعقوب۔ مطلب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی اور انکے بعد حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی
حضرت ابراہیم کے بیٹے، ایک حضرت اسماعیل تھے۔ ان کی والد ہاجرہ قبطیہ بھی یہ آپ کے بڑے بیٹے تھے۔ حضرت ابراہیم نے انہیں مکہ کی طرف منتقل کیا تھا جبکہ یہ ماں کا دودھ پیتے تھے۔ بعض نے فرمایا : اس وقت ان کی عمر دو سال تھی۔ بعض نے فرمایا : چودہ سال تھی۔ پہلا قول اصح ہے جیسا کہ اس کا بیان سورة ابراہیم میں انشاء اللہ آئے گا۔ حضرت اسماعیل اپنے بھائی اسحاق سے چودہ سال پہلے پیدا ہوئے تھے اور ان کا وصال ہوا تو اس کی عمر ایک سو تہتر سال تھی۔ بعض نے فرمایا : ایک سو تیس سال تھی اور جب آپ کے والد حضرت ابراہیم کا وصال ہوا تو ان کی عمر 89 سال تھی۔ ایک قول کے مطابق حضرت اسماعیل ذبیح تھے۔ یہ اصح قول ہے جس طرح کہ اس کا بیان سورة الصافات میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔ آپ کی اولاد سے روم، یونان، ارمن اور جوان کے پیچھے آئے اور بنی اسرائیل تھے۔ حضرت اسحاق ایک سو اسی سال زندہ رہے، ارض مقدسہ میں ان کا وصال ہوا اور اپنے باپ حضرت ابراہیم کے پاس دفن کئے گئے پھر جب سارہ کا وصال ہو اتو حضرت (علیہ السلام) نے قنطورا بنت یقطن کنعانیہ سے نکاح کیا اس سے آپ کی یہ الاد ہوئی۔ مدین، مدائن، نہشان، زمران، شبوخ۔ پھر آپ کا وصال ہوا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وصال اور نبی کریم ﷺ کی پیدائش کے درمیان دو ہزار چھ سو سال کا فاصلہ تھا۔ یہود اس سے چار سو سال کم کرتے تھے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد کا ذکر سورة یوسف میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔
عمر وبن فائد اسواری اور اسماعیل بن عبداللہ مکی نے یعقوب، بنیهٖ کی بناء پر منصوب پڑھا ہے۔ اس صورت میں جن کو وصیت کی گئی ان میں حضرت یعقوب بھی داخل ہوں گے۔ قشیری نے کہا : یعقوب پر بنیه پر عطب کی بناء پر نصب پڑھی گئی ہے اور یہ بعید ہے کیونکہ جب حضرت ابرہیم نے وصیت کی تھی تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) ان کی اولاد کے درمیان موجود نہ تھے۔ یہ منقول نہیں ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے دادا ابراہیم (علیہ السلام) کو پایا تھا۔ وہ حضرت ابراہیم کے وصال کے بعد پیدا ہوئے تھے، اور حضرت یعقوب نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی تھی جس طرح حضرت ابراہیم نے وصیت کی تھی۔ حضرت یعقوب کی اولاد کے اسماء انشاء اللہ آئندہ آئیں گے۔
کلبی نے کہا : جب حضرت یعقوب (علیہ السلام) مصر میں داخل ہوئے تو آپ نے دیکھا کہ لوگ بتوں کی، آگ کی اور گائے کی
عبادت کرتے ہیں آپ نے اپنی اولاد کو جمع کیا اور ان پر آپ کو اندیشہ ہوا۔ فرمایا : تم میرے بعد کس کی عبادت کرو گے۔
کہا جاتا ہے : یعقوب کا یہ نام اس لئے رکھا گیا تھا کہ آپ اور آپ کے بھائی عیص جڑواں پیدا ہوئے تھے اور آپ اپنے بھائی عیص کی عقب (ایڑھی) کو پکڑے ہوئے تھے۔ لیکن اس قول میں نظر ہے کیونکہ یہ عربی اشتقاق ہے اور یعقوب عجمی اسم ہے۔ اگرچہ اس کے ساتھ نام رکھنے میں عربی میں موافقت ہے جسے حجل پر ندے کا جو مذکر ہوتا ہے اسے یعقوب کہا جاتا ہے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) ایک سوپینتالیس سال زندہ رہے تھے اور مصر میں آپ کا وصال ہوا تھا۔ آپ نے وصیت کی تھی کہ انہیں ارض مقدسی کی طرف لے جایا جائے اور ان کے باپ حضرت اسحٰق کے قریب دفن کیا جائے، تو حضرت یوسف (علیہ السلام) آپ کو ادھر لے گئے تھے اور ان کے والد حضرت اسحٰق کے پہلو میں انہیں دفن کیا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یبنی اس کا معنی ہے ان یا بنی، اسی طرح حضرت ابی، حضرت ابن مسعود اور حضرت ضحاک کی قراءت میں ہے۔ فراء نے کہا ان کو لغو کیا گیا ہے کیونکہ توصیة قول کی طرح ہے ہر کلام جو قول کے معنی کی طرف راجع ہوا، اس میں ان کا دخول جائزہوتا ہے اور اس کا لغو کرنا بھی جائز ہے۔ فراء نے کہا : نحویوں کا قول کہ (ان) کا ارادہ فرمایا اور ان کو لغو کیا گیا یہ کچھ نہیں ہے۔ نحاس نے کہا : یبنی نداء مضاف ہے۔ یہ یاء النفس ہے اس پر فتحہ ہی جائز ہے کیونکہ اگر اس کو ساکن کیا جائے تو دوساکنوں کا جمع ہونالازم آئے گا۔ اس کی مثال بمصر خی ہے ان اللہ میں ان کو کسرہ دیا گیا ہے کیونکہ اوصی اور قال ایک معنی میں ہیں۔ بعض نے فرمایا : قول کے اضمار کی وجہ سے ان پر کسرہ پڑھا گیا ہے۔ اصطفٰی کا معنی اختار ہے۔ راجز نے کہا :
یا بن ملوک ورثوا الاملاکا خلافة اللہ التی اعطاک
لک اصطفا ھا ولھا اصطفاک
اے بادشاہوں کے بیٹے اور انہوں نے تجھے املاک کا وارث بنا یا۔ اللہ کی خلافت وہ ہے جو تجھے عطا کی۔ تیرے لئے اس کو اس نے چنا ہے اور اس کے لئے تجھے اس نے چنا ہے۔
لکم الدین، الدین سے مراد اسلام ہے۔ الدین پر الف، لام عہد کے لئے ہے کیونکہ وہ اس دین کو جانتے تھے۔ فلا تموتن الا وانتم مسلمون اس میں ایجاز بلیغ ہے۔ اس کا معنی ہے اسلام کو لازم پکڑو اور اس پر دوام اختیار کرو اور اس سے جدا نہ ہوحتیٰ کہ تم فوت ہوجاؤ مختصر الفاظ ذکر فرمائے جن کے ضمن میں مقصود موجودہو اور وعظ اور موت کی یاد بھی اس کے ضمن میں ہے۔ یہ اس لئے کہ ہر انسان کو یہ تو یقین ہے کہ وہ فوت ہوگا اور یہ نہیں جانتا کہ کب مرے گا۔ جب کسی کو کسی ایسے امر کا حکم دیا جائے کہ اسے موت نہ آئے مگر اسی امر پرتو خطاب امر کے وقت سے ہمیشہ کے لئے متوجہ ہوتا ہے۔ لا نہی ہے اور تموتن نہی کی وجہ سے محل جزم میں ہے نون ثقیلہ کے ساتھ مؤکد کیا گیا ہے اور واو کو التقائے ساکنین کی وجہ سے حذف کیا گیا ہے الا وانتم مسلمون یہ مبتدا اور خبر محل حال میں ہیں یعنی تم اپنے رب پر اچھا گمان کرنے والے ہو۔ بعض نے فرمایا : اس کا معنی ہے : مخلصون (یعنی تم مخلص ہو) ۔ بعض نے فرمایا : مفوضون (تم اپنا آپ اپنے رب کے سپرد کرنے والے ہو) بعض نے فرمایا : مومنون (تم ایمان لانے والے ہو) ۔
Ayah 2:133آیت نمبر 133
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ام کنتم شھدآء، شھد آء کان کی خبر ہے غیر منصرف ہے کیونکہ اس میں الف تانیث ہے اور یہ الف جمع کی تانیث کے لئے داخل ہوتی ہے کس طرح ھاداخل ہوتی ہے۔ خطاب، یہود ونصاریٰ کو ہے جو حضرت ابراہیم کی طرف منسوب کرتے تھے کہ انہوں نے اپنے بیٹوں کو وصیت نہیں کی تھی اور وہ یہودیت اور نصرانیت پر تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کا رد فرمایا۔ یہ ارشاد تو بیخ کی جہت سے ہے : تم یعقوب کے پاس موجود تھے اور جو انہوں نے وصیت کی تھی تمہیں اس کا علم تھا جس کی بنا پر تم یہ دعویٰ کرتے ہو۔ یعنی تم اس وقت موجود نہ تھے بلکہ تم یہ جھوٹ گھڑ رہے ہو۔ اور ام بمعنی بل ہے۔ یعنی بلکہ کیا تمہارے اسلاف یعقوب کے پاس موجود تھے۔ پہلے اذ کا عامل شہادت کا معنی ہے اور دوسرا اذپہلے کا بدل ہے شھدآء شاھد کی جمع ہے۔ جس کا معنی ہے حاضر اور حضر یعقوب الموت کا معنی ہے حضرت یعقوب پر موت کے مقدمات اور اسباب موجود تھے دگر نہ آگے موت آجاتی تو اس کے لئے یہ کہنا ممکن نہ ہوتا۔ المعبود کو ما کے ساتھ تعبیر فرمایا۔ من نہیں فرمایا کیونکہ انہیں آزمانے کا ارادہ کیا تھا۔ اگر من فرماتے تو اس کا مقصود یہ ہوتا کہ آپ ان میں ہدایت یا فتہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ آپ کا مقصودان کا تجر بہ تھا آپ نے ماذکر فرمایا اللہ تعالیٰ کے علاوہ متعارف معبودان باطلہ جمادات تھے جیسے بت، آگ، سورج، اور پھر پس آپ نے پوچھا کہ کس کی عبادت کروگے ؟ اور من بعدی کا معنی ہے میرے وصال کے بعد۔ حکایت کیا گیا ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو اختیا ردیا گیا جس طرح انبیاء کو اختیار دیا جاتا ہے تو آپ نے موت کو اختیار فرمایا اور فرمایا : مجھے مہلت دو حتیٰ کہ میں اپنے بیٹوں اور اپنے گھر والوں کو وصیت کروں۔ آپ نے اپنے بیٹوں کو جمع فرمایا اور انہیں یہ فرمایا۔ پس وہ ہدایت یافتہ تھے انہوں نے کہا نعبدالٰھک الآیة اور بیٹوں نے دین پر اپنے ثبوت اور اللہ تعالیٰ کی معرفت دکھائی۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قالو نعبدالٰھک اٰبآئک ابرٰھٖم واسمٰعیل واسحٰق، ابراہیم، اسماعیل اور اسحاق یہ بدل کی حیثیت سے محل جر میں ہیں یہ غیر منصرف ہیں کیونکہ یہ عجمی ہیں۔ کسائی نے کہا : اگر تو چاہے تو اسحاق کو منصرف بنادے اور تو اسے السحق سے مشتق کرے اور یعقوب کو منصرف کرے اور تو اسے پرندوں سے بنائے۔
اللہ تعالیٰ نے چچا اور دادا اتمام کو اباء سے تعبیر فرمایا اور دادا کا ذکر پہلے فرمایا پھر اسماعیل چچا کا ذکر فرمایا کیونکہ یہ اسحاق سے بڑے تھے، الٰھا یہ الھک سے بدل ہے اور یہ معرفہ سے نکرہ بدل ہے اس کو وحدانیت کی صفت کے فائدہ کے لئے اس کا تکرار فرمایا، بعض نے فرمایا الٰھا حال ہے۔ ابن عطیہ نے کہا یہ حسن کا قول ہے کیونکہ غرض وحدانیت کی حالت کا اثبات ہے۔ حسن یعمر حجدری اور جاء عطاردی نے واله ابیک پڑھا ہے۔ اس کی دو دجوہ ہیں :
(1) مفرد ذکر کیا اور مراد صرف حضرت ابراہیم لئے اور اسماعیل کو اب بنانا پسند نہ کیا کیونکہ وہ چچا تھے۔ نحاس نے کہا : یہ واجب نہیں ہے کیونکہ عرب چچا کو اب کہتے ہیں۔
(2) سیبویہ کے مذہب کے مطابق ابیک جمع سالم ہوگی۔ سیبویہ نے اب کی جمع ابون اور ابین حکایت کی ہے۔ شاعر نے کہا :
فقلنا اسلموا انا اخوکم
اس میں اصل اخون تھا اضافت کی وجہ سے نون گرگیا ہے۔ ایک اور شاعر نے کہا :
فلما تبین اصواتنا بکین و فدیننا بالابینا
اس میں ابین، اب کی جمع ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ونحن له مسلمون یہ مبتدا خبر ہیں اور یہ حال ہونے کا احتمال رکھتا ہے۔ اس میں عامل نعبد ہے۔
Ayah 2:134آیت نمبر 134
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تلک امة قدخلت، تلک مبتدا ہے اور امة خبر ہے اور قد خلت، امة کی صفت ہے اگر تو چاہے تو قدخلت کو خبر بنادے اور امة، تلک سے بدل ہوگا۔ لھا ما کسبت، ما محل رفع میں ہے یا کو فیوں کے ایک قول کے مطابق صفت ہے ولکم ما کسبتم یہ لھاما کسبت کی مثل ہے۔ خیر اور شرکا ارادہ فرمایا ہے۔ اس میں دلیل ہے کہ اعمال اور کساب کی نسبت بندے کی طرف کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر اسے قدرت دی ہے اگر وہ اچھے اعمال پر اچھی جزا دے تو یہ اس کا فضل ہوتا ہے اور برے اعمال پر سزا دے تو یہ اسکا عدل ہے۔ یہ اہل سنت کا مذہب ہے قرآن میں اس مفہوم کی آیات کثیر ہیں۔ بندہ اپنے افعال کا مکتسب ہے اس معنی پر کہ فعل کے متصل اللہ تعالیٰ اسکے لئے قدرت پیدا فرما دیتا ہے اسکے ساتھ حرکت اختیاری اور حرکت رعشہ کے درمیان فرق پایا جاتا ہے۔ یہی قدرت اور تکلیف کا مدار ہے۔ جبریہ فرقہ نے بندے کے اکیساب کی نفی کی ہے وہ کہتے ہیں : بندہ نبات کیطرح ہے ہوائیں اسے گردش دیتی رہتی ہیں قدریہ اور معتزلہ کا قول ان دونوں قولوں کے خلاف ہے۔ وہ کہتے ہیں : بندہ اپنے افعال کا خالق ہے
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولا تسئلون عما کانوا یعملون یعنی کسی کے گناہ کی وجہ سے دوسرے سے مؤاخذہ نہ ہوگا۔ مثلا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولا تسئلون عما کانو یعملون یعنی کسی کے گناہ کی وجہ سے دوسرے سے مؤاخذہ نہ ہوگا۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لاتزر وازرۃ وزراخرٰی (انعام : 164) یعنی کوئی دوسرے کا بوجھ اٹھانے والا نہیں۔
Ayah 2:135آیت نمبر 135
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وقالو اکونو اھودا او انصٰرٰی تھتدوا ہر فرقہ نے اس کی طرف بلایا جس پر وہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد فرمایا، فرمایا : بل ملة یعنی اے محمد ﷺ تم کہو ہم ملت ابراہیم کی اتباع کریں گے اسی وجہ سے ملة کو نصف دی گئی ہے۔ بعض نے فرمایا اس کا معنی نھتدی بملة ابراھیم جب حرف جر حذف کیا گیا تو ملة منصوب ہوگیا اعرج اور ابن ہدایت تو ملت ابراہیمی ہے یا ہماری ملت دین ابراہیم ہے) حنیفا تمام ناپسندیدہ دنیوں سے انحراف کرکے دین حق، دین ابراہیم کی طرف مائل ہونے والا۔ یہ حال کی بنا پر نصب میں ہے۔ زجاج نے کہا : یعنی بل نتبع ملة ابراھیم فی ھذہ الحالة یعنی اس حال میں ہم ملت ابراہیمی کی اتباع کرتے ہیں۔ علی بن سلیمان نے کہا : یہ اعنی کی بنا پر منصوب ہے اور حال بنانا خطا ہے۔ یہ جائز نہیں ہے : جاءنی غلام ھند مسرعة۔ حضرت ابراہیم کو حنیف کہا گیا کیونکہ وہ اللہ کے دین اسلام کی طرف مائل ہوئے تھے۔ الحنف کا معنی مائل ہونا ہے۔ اسی سے ہے رجل حنفاء، رجل احنف۔ یہ
اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کے قدموں میں سے ہر ایک دوسرے کی طرف انگلیوں کے ذریعے مائل ہوتا ہے۔ ام الاحنف نے کہا :
واللہ لولا حنف برجله ما کان فی فتیانکم من مثلهٖ
اللہ کی قسم ! اگر اس کے پاؤں میں میلان نہ ہوتا تو تمہارے بچوں میں اس کی مثل نہ ہوتا۔ شاعر نے کہا :
اذا خول الظل العشی رأیته حنیفا و فی قرن الضحی یتنصر
الحرباء سورج ڈھلنے کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرتی ہے اور صبح کے وقت مشرق کی طرف منہ کرتی ہے۔ یہ نصاریٰ کا قبلہ ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : الحنف کا معنی استقامت ہے۔ دین ابراہیم کو اس کی استقامت کی وجہ سے حنیف کہا جاتا ہے۔ ٹیڑھی ٹانگوں واے کو استقامت سے فال پکڑے ہوئے احنف کہا جاتا ہے جس طرح سانپ کے ڈسے ہوئے کو سلیم کہا جاتا ہے اور ہلاکت کی جگہ کو مفازۃ کہا جاتا ہے۔ یہ اکثر کا قول ہے۔
Ayah 2:136آیت نمبر 136
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قولوا اٰمنا باللہ بخاری نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا ہے، فرمایا : اہل کتاب عبرانی زبان میں تو رات پڑھتے تھے اور اہل اسلام کے لئے عربی میں تفسیر بیان کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اہل کتاب کی نہ تصدیق کرو اور نہ تکذیب کرو بلکہ تم کہو : ہم اللہ پر ایمان لائے اور جو نازل کیا گیا۔ محمد بن سیرین نے کہا : جب کتاب کی نہ تصدیق کرو اور نہ تکذیب کرو بلکہ تم کہو : ہم اللہ پر ایمان لائے اور جو نازل کیا گیا۔ محمد بن سیرین نے کہا : جب تجھے کہا جائے تو مومن ہے ؟ تو تو کہہ : اٰمنا باللہ ومآ انزل الینا ومآ انزل الیٰ ابراھٖم واسمٰعیل واسحٰق الآیۃ۔
اکثر سلف نے کسی کے لئے یہ کہنا ناپسند کیا : انا مومن حقا مومن ہوں۔ اس کا بیان سورة الانفال میں آئے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ متقدمین میں سے کسی سے پوچھا گیا : کسی شخص سے پوچھا جائے کیا تو فلاں نبی پر ایمان لاتا ہے، اس نے اس نبی کا نام لیا جسے وہ شخص جانتا نہیں تھا۔ اب اگر وہ ہاں کہہ دے ہوسکتا ہے وہ نبی نہ ہو، تو وہ غیر نبی کی نبوت کی شہادت دینے والا ہوگا اور اگر وہ نہیں کہہ دے تو ہوسکتا ہے وہ نبی ہو تو وہ نبی کا انکار کرنے والا ہوگا۔ اب وہ شخص کیا کرے ؟ اس عالم نے فرمایا : اسے یوں کہنا چاہئے کہ اگر وہ نبی تھا تو میں اس پر ایمان لایا۔ اس آیت میں خطاب اس امت کو ہے جب ہیں ایمان سکھایا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : یہود کا ایک گروہ نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور سوال کیا کہ انبیاء میں سے کس پر ایمان لایا جائے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر ہوا تو انہوں نے کہا ہم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر اور جو اس پر ایمان لایا اس پر ایمان نہیں لاتے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اٰمنا باللہ ومآ انزل الینا وما انزل الیٰ ابرٰھٖم واسمٰعیل واسحٰق ویعقوب والاسباط، ابراھیم کی جمع براھیم ہے۔ اسماعیل کی جمع سماعیل ہے۔ یہ خلیل اور سبیویہ کا قول ہے۔ کو قیوں نے بھی یہی کہا ہے۔ انہوں نے براھمه اور سماعلة جمع بھی حکایت کی ہے اور انہوں نے براہم اور سماعل بھی حکایت کیا ہے۔ محمد بن زید نے کہا یہ غلط ہے کیونکہ زیادت کی جگہ نہیں ہے لیکن میں کہتا ہوں : ابارہ اور اسامع جمع ہے اور اباریه واسامیع جمع بھی جائز ہے۔ احمد بن یحییٰ نے براہ کو جائز قرار دیا ہے جیسے تصیغر میں کہا جاتا ہے بریه۔ اسحاق کی جمع اساحیق ہے۔ کو فیوں نے اساحقہ اور اساحق حکایت کیا ہے۔ اسی طرح یعقوب کی جمع یعاقیب ویعقبه وتعاقب حکایت کی۔ نحاس نے کہا : رہا اسرائیل۔ ہم کوئی ایسا عالم نہیں جانتے جس نے اس کی ابتدا سے ہمزہ حذف کیا ہو۔ کہا جاتا ہے اساریل۔ کو فیوں نے اسارله اور اسارل حکایت کیا ہے ان تمام میں جمع سالم بنائی جائے اور کہا جائے۔ ابراھیمون، اسحاقون، یعقوبون اور جمع سالم میں عمل نہیں ہے۔
الاسباط سے مراد حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد ہے، آپ کے بارہ بیٹے تھے، ان میں سے ہر ایک کی بہت سی اولاد تھی، اس میں سے ایک سبط تھا۔ بنی اسرائیل میں سبط حضرت اسماعیل کی اولاد میں سے قبیلہ کے قائم مقام تھا ان کو الاسباط کہا جاتا تھا۔ یہ سبط سے ہے۔ اس سے مراد درخت ہے یعنی وہ کثرت میں درخت کے قائم مقام تھے۔ اس کا مفرد سبطة ہے۔ ابواسحق زجاج نے کہا : تیرے اس چیز کو یہ سند بیان کرتی ہو، جو ہمیں محمد بن حعفر انباری نے بیان کی، فرمایا : ہمیں ابونجید الدقاق نے بیان کی فرمایا : ہمیں اسود بن عامر نے بیان کیا۔ فرمایا : ہمیں اسرائیل نے بیان کیا انہوں نے سماک سے انہوں نے عکرمہ سے انہوں نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا۔ فرمایا : تمام انبیاء بنی اسرائیل سے تھے سوائے دس کے۔ حضرت نوح، حضرت شعیب، حضرت ھود، حضرت صالح، حضرت لوط، حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب، حضرت اسماعیل اور حضرت محمد ﷺ اور کسی کے دو نام نہ تھے سوائے حضرت عیسیٰ اور حضرت یعقوب کے۔ السبط کا مطلب جماعت اور قبیلہ ہے۔ ایک اصل کی طرف لوٹنے والے۔ شعر سبط وسبط۔ سیدھے بال جو گھنگھریالے نہ ہوں لا نفرق بین احدمنھم۔ فراء نے کہا : اس کا مطلب ہے : ہم بعض پر ایمان نہیں لاتے اور نہ بعض کا انکار کرتے ہیں جیسے یہود و نصاریٰ نے کہا ہے۔
Ayah 2:137آیت نمبر 137
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فان اٰمنوا بمثل مآ اٰمنتم بهٖ ققد اھتدوا یہ خطاب حضرت محمد ﷺ اور آپ کی امت کو ہے۔ اس کا معنی ہے : اگر یہ ایمان لائیں تمارے ایمان کی مثل اور تصدیق کریں تمہاری تصدیق کی طرح تو وہ ہدایت یافتہ ہیں۔ دونوں ایمانوں کے درمیان مماثلت ہے۔ بعض نے فرمایا : باء زائدہ مؤکدہ ہے۔ ابن عبس اس طرح پڑھتے تھے جس طرح طبری نے حکایت کیا ہے۔ بعض نے فرمایا : زائدہ مؤکدہ ہے۔ ابن عبس اس طرح پڑھتے تھے جس طرح طبری نے حکایت کیا ہے۔ فان آمنوا بالذی آمنتم به قفد اھتدوا۔ یہ قراءت کا معنی ہے اگرچہ مصحف کے مخالف ہے۔ مثل کا لفظ زائدہ ہے جسے اس قول میں ہے : لیس کمثلهٖ شیء (الشوریٰ :11) (یعنی لیس کھوشی) میں مثل زائدہ ہے۔ شاعر نے کہا :
فصیروا مثل کعصف ماکول
اس مصرعہ میں بھی مثل زائدہ ہے۔
بقیہ نے روایت کیا ہے کہ ہمیں شعبہ نے ابوحمزہ سے انہوں نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے فرمایا : تم یہ نہ کہو : فان اٰمنوا بمثل مآ امنتم بهٖ ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی کوئی مثال نہیں ہے بلکہ تم کہو : بالذی آمنتم بهٖ ۔ علی بن نصر جہضیمی نے شعبہ سے روایت کرنے میں بقیہ کی متابعت کی ہے۔ یہ بیہقی نے ذکر کیا ہے۔ معنی یہ ہے : اگر وہ تمہارے نبی پر اور تمام انبیاء پر ایمان لائیں اور ان کے درمیان تفریق نہ کریں جس طرح تم نے تفریق نہیں کی تو وہ ہدایت پاجائیں گے اگر وہ اس کا انکار کریں سوائے تفریق کے وہ دین سے منہ پھیر کر شقاق کی طرف جانے والے ہیں فسیکفیکھم اللہ اہل نظر میں سے ایک جماعت نے حکایت کیا ہے۔ فرمایا لیس کمثلهٖ شیء (الشوریٰ :11) میں کاف زائدہ ہے۔ فرمایا : اور حضرت ابن عباس سے جو قراءت عامہ سے نہی مذکور ہے وہ اللہ تعالیٰ کی تشبیہ کی نفی میں مبالغہ کلئے ہے۔ ابن عطیہ نے کہا : یہ حضرت ابن عباس سے تفسیر کے طور پر ہے یعنی اس طرح تاویل کرنی چاہئے۔
بعض نے فرمایا : مثل اپنے معنی پر ہے یعنی نازل شدہ کی مثل اس کی دلیل یہ ارشاد ہے : وقل آمنت بما انزل اللہ من کتاب اور یہ ارشاد ہے : وقولوا اٰمنا بالذیٓ انزل الینا وانزل الیکم (العنکبوت : 46) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وان تولوا یعنی اگر وہ ایمان سے اعراض کریں فانما ھم فی شقاقٍ (وہ مخالفت پر کمر بستہ ہیں) زید بن اسلم نے فرمایا شقاق کا معنی جھگڑا ہے۔ بعض نے فرمایا : شقاق کا معنی جھگڑا کرنا ہے، مخالف کرنا اور دشمنی کرنا ہے۔ اس کی اصل الشق سے ہے جس کا معنی جانب ہے۔ گویا ہر فریق اپنے مخالف کی دوسری شق (طرف) میں ہوتا ہے۔ شاعر نے کہا :
الی کم تقتل العلماء و تفجر بالشقاق و بالنفاق
ایک اور شاعر نے کہا :
و الا فاعلموا وانتم بغاۃ ما بقینا فی شقاق
بعض نے فرمایا : شقاق، مشکل کام سے ماخوذ ہے، دونوں فریقوں میں سے ہر فریق دوسرے پر مشکل پیدا کرنے کا حریص ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فسیکفیکھم اللہ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی طرف سے اس کے دشمن کو کافی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے نبی سے وعدہ ہے کہ وہ ہر معاندد مخالف کی طرف سے مومنین کے ذریعے کفایت کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا فرمایا۔ یہ نبی قینقاع، بنی فریظہ کے قتل اور بنی نضیر کی جلاوطنی میں پورا ہوا۔ کاف، ہا، میم محل نصب میں، دونوں مفعول ہیں، اور غیر قرآن میں فسیکفیک ایاھم بھی جائز ہے۔ اس حرف فسیکفیکھم اللہ پر حضرت عثمان ؓ کا خون گرا تھا جب وہ شہید ہوئے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے ان کی شہادت کی خبر دی تھی۔ السمیع وہ کہنے والے کی بات کو سننے والا ہے العلیم اپنے بندوں میں جو نافذ کرتا ہے اور ان پر جاری کرتا ہے۔ حکایت ہے کہ ابودلامہ، منصور کے پاس گیا، اس کے اوپر ایک لمبی ٹوپی تھی اور ان کے کندھوں کے درمیان جبہ کے اوپر فسیکفیکھم اللہ وھو السمیع العلیم لکھا ہوا تھا اور اس کی کمر میں تلوار لٹک رہی تھی۔ منصور نے لشکر کو اس لباس کا حکم دیا تھا۔ منصور نے کہا : تیرا اس شخص کے بارے میں کیا خیال ہے جس کا چہرہ اس کے وسط میں ہو، جس کی تلوار اس کی سرین میں ہو اور کتاب اللہ کو پیٹھ کے پیچھے ڈالا ہوا ہو۔۔۔۔ منصور اس پر ہنسا اور اس لباس کو اسی وقت تبدیل کرنے کا حکم دیا۔
Ayah 2:138آیت نمبر 138
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : صبغة اللہ اخفش وغیرہ نے کہا : اس سے مراد اللہ کا دین ہے یہ ملة سے بدل ہے۔ کسائی نے کہا : یہ اتبعوا کی تقدیر پر منصوب ہے یا اغراء کی بناء پر منصوب ہے یعنی الزموا صبغة اللہ۔ اللہ کے دین کو لازم پکڑو۔ اگر اسے مرفوع پڑھا جائے تب بھی جائز ہے۔ یعنی ھی صبغة اللہ۔ شیبان نے قتادہ سے روایت کیا ہے۔ فرمایا : یہود اپنے بیٹوں کو یہودا رنگ کرتے تھے اور نصاریٰ اپنے بیٹوں کو نصاریٰ رنگ چڑھاتے تھے۔ اور اللہ کا رنگ اسلام ہے۔ زجاج نے کہا : یہ دلیل ہے کہ مبغة، ملة سے بدل ہے۔
مجاہد نے کہا : اس سے فطرۃ اللہ التی فطر الناس علیھا۔ ابواسحق نے کہا : مجاہد کا یہ قول اسلام کی طرف راجع ہے کیونکہ فطرۃ، مخلوق کی ابتدا ہے، اور جس پر وہ ابتدا پیدا کئے گئے ہیں وہ اسلام ہے۔ مجاہد، حسن، ابوالعالیہ اور قتادہ سے مروی ہے کہ الصبغة سے مراد دین ہے۔ اس کی اصل یہ ہے کہ نصاریٰ اپنے بچوں کو پانی رنگتے تھے اسے وہ معموریہ کہتے تھے اور کہتے : یہ ان کے لئے تطہیر ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : نصاریٰ کا جب کوئی بچہ پیدا ہوتا اور اس پر سات دن گزر جاتے تو وہ اسے پانی میں داخل کرتے جسے وہ اس کے لئے معمودیہ کا پانی کہتے تھے وہ اس پانی میں بچے کو رنگتے تاکہ اس کے ساتھ اس کے ختنہ کی جگہ کو پاک کریں کیونکہ ختنہ کرنا تطہیر ہے۔ جب وہ ایسا کردیتے تو کہتے اب یہ پکا نصرانی ہوگیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا اس پر رد فرمایا۔
ارشاد ہوا : صبغة اللہ یعنی اللہ کا رنگ ہے اور وہ اسلام ہے۔ دین کو استعارۃ اور مجازا صبغة کہا گیا ہے کیونکہ اسکے اعمال ظاہر ہوتے ہیں اور دیندار پر اس کی نشانی واضح ہوتی ہے جس طرح کپڑے پر رنگ کا اثر ظاہر ہوتا ہے۔ بعض شعراء ملوک ہمدان نے کہا :
و کل اناس لھم صبغة و صبغة ھمدان خیر الصبغ
صبغنا علی ذالک ابناءنا فاکرم بصبغتنا فی الصنغ
تمام لوگوں کا اپنا اپنارنگ ہوتا ہے اور ہمدان کا رنگ بہتر رنگ ہے۔ ہم نے اس پر اپنے بیٹوں کو رنگ کیا اور رنگوں میں کتنا بہتر ہمارا رنگ ہے۔
بعض نے فرمایا : الصبغة سے مراد غسل کرنا ہے اس لئے جو اسلام میں داخل ہونے کا ارادہ کرے۔ نصاریٰ کے معمودیہ کا یہ بدل ہے۔ یہ ماوردی نے ذکر کیا ہے۔ میں کہتا ہوں : اس تاویل پر کافر کا غسل کرنا واجب ہوگا۔
مسئلہ نمبر 2: صبغة اللہ کا معنی ہے : تم اسلام قبول کرنے کے وقت وہ غسل کرو جو اللہ تعالیٰ نے تم پر واجب کیا ہے۔ اس معنی میں قیس بن عاصم اور ثمامہ بن آثال کی احادیث بھی آئی ہیں جب انہوں نے اسلام قبول کیا تھا۔ ابو حاتم سبتی نے اپنی مسند صحیح میں حضرت ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ ثمامہ حنفی کو قید کیا گیا تو نبی کریم ﷺ ایک دن اس کے پاس سے گزرے تو اس نے اسلام قبول کیا۔ اسے رسول اللہ ﷺ نے ابو طلحہ کے باغ کی طرف بھیجا اور اسے غسل کا حکم دیا۔ پس اس نے غسل کیا اور دو رکعت نماز پڑھی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمہارے ساتھی کا اسلام خوبصورت ہے۔
حضرت قیس بن عاصم سے مروی ہے کہ انہوں نے اسلام قبول کیا تو نبی کریم ﷺ نے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل کرنے کا حکم دیا۔ یہ حدیث نسائی نے ذکر کی ہے اور ابو محمد عبدالحق نے اس صحیح کہا ہے بعض علماء نے فرمایا : اللہ کی قربت کو صبغه کہا جاتا ہے۔ ابن فارسی نے ” الجمل “ میں یہ حکایت کیا ہے۔ جوہری نے کہا : صبغة اللہ سے مراد اللہ کا دین ہے۔ بعض نے فرمایا : صبغةسے مراد ختنہ کرنا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ختنہ کیا تو ختنہ پر صبغہ جاری ہوا کیونکہ بچوں کو پانی میں رنگا جاتا تھا۔ یہ فراء کا قول ہے : ونحن له مخلصون یہ مبتداخبر ہیں۔
Ayah 2:139آیت نمبر 139
حسن نے کہا : ان کا جھگڑ نا یہ تھا کہ انہوں نے کہا : ہم تم سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے فریبی ہیں کیونکہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں۔ بعض علماء نے فرمایا ہم تم سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے فریبی ہیں کیونکہ ہمارے آباء اور ہماری کتب مقدم ہیں۔ اور اس لئے کہ ہم نے بتوں کی عبادت نہیں کی۔ آیت کا معنی یہ ہے : اے محمد ! ﷺ ان سے کہو : یعنی ان یہود ونصاریٰ کو کہو جو یہ کہتے ہیں کہ وہ اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ تم سے اللہ تعالیٰ کے زیادہ قریبی ہیں اپنے آباء اور اپنی کتب کے مقدم ہونے کی وجہ سے، اس میں دین کی تقدیم کی کیا تاثیر ہے۔ فی اللہ کا معنی ہے : اللہ کے دین میں، اس کے قرب میں۔
اکثر قراء کی قراءت اتحاجوننا ہے ایکم جنس کے دو متحرک حروف کا اجتماع جائز ہے۔ کیونکہ دوسرا حرف منفصل کی طرح ہے۔ ابن محیصن نے اتحاجونا ایک جیسے حروف کے اجتماع کو ادغام کے ساتھ پڑھا ہے۔ نحاس نے کہا : یہ جائز ہے لیکن اکثر علماء کے قول کے مخالف ہے۔ اتحاجون دوسرے نون کے حذف کے ساتھ بھی جائز ہے جس طرح نافع نے فبم تبشرون پڑھا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ونحن له مخلصون یعنی عبادت میں مخلص ہیں۔ اس میں تو بیخ ہے یعنی تم مخلص نہیں ہو پھر تم کیسے دعویٰ کرتے ہو کہ ہم تم سے زیادہ اللہ کے قریبی ہیں۔ اخلاص کا معنی ہے مخلوق کے ملاحظہ سے فعل کو پاک اور صاف کرنا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں بہتر شریک ہوں۔ پس جس نے میرے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا (کسی عمل میں) ہے وہ عمل میرے شریک کے لئے ہے۔ اے لوگو ! اپنے اعمال خالص اللہ تعالیٰ کے لئے کرو۔ اللہ تعالیٰ قبول نہیں فرمایا مگر وہ جو اس کے لئے خالص ہو، اور یہ نہ کہو کہ یہ اللہ کے لئے ہے اور رحم کے لئے ہے۔ پس وہ رحم (صلہ رحمی) کے لئے ہے اس میں سے اللہ کے لئے کچھ نہیں ہے اور یہ نہ کچھ نہیں ہے۔ یہ حضرت ضحاک بن قیس الفہری نے روایت کی ہے۔ فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔۔۔ آگے یہ حدیث ذکر کی ہے۔ اس کو دار قطنی نے نقل کیا ہے۔ رویم نے کہا : اخلاص یہ ہے کہ آدمی اس عمل پر دارین میں عوض نہ چاہتا ہو نہ فرشتوں سے کوئی حصہ چاہتا ہو۔
جنید نے کہا : اخلاص بندے اور اللہ کے درمیان راز ہے جسے فرشتہ بھی نہیں جانتا کہ وہ اسے لکھ لے۔۔۔ اور نہ شیطان جانتا ہے کہ وہ اسے خراب کردے۔ اور نہ خواہش جانتی ہے کہ وہ اسے مائل کردے۔ ابوالقاسم قشیری وغیرہ نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے ؛ فرمایا : میں نے جبریل امین سے پوچھا : اخلاص کیا ہے ؟ اس نے کہا : میں نے اللہ رب العزت سے اخلاص کے متعلق پوچھا کہ وہ کیا ہے ؟ فرمایا : یہ میرے روازوں میں سے ایک راز ہے اسے اپنے بندوں میں سے اس کے دل میں رکھتا ہوں جسے میں پسند کرتا ہوں۔