2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 2:5

اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ١ۗ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 2:5 in the Quran reader

یہی لوگ اپنے پروردگار (کی طرف) سے ہدایت پر ہیں اور یہی نجات پانے والے ہیں

آیت نمبر 5 نحاس نے کہا : اہل نجد کہتے ہیں : ألاک، بعض کہتے ہیں : ألالک، ک خطاب کے لئے ہے۔ کسائی نے کہا : جس نے اولئک کہا اس کا واحد ذالک ہے اور جس نے الان کہا اس کا واحد ذاک ہے اور الالک، اولئک کی مثل ہے۔ ابن سکیت نے شعر کہا ہے : الالک قومی لم یکونوا اشابۃ وھل یعظ الضلیل الا الالکا اس شعر میں الالک کا معنی اولئک ہے۔ بعض کہتے ہیں : اولئک غیر عقلاء کے لئے ہے۔ شاعر نے کہا : ذم المنازل بعد منزلۃ اللوی والعیش بعد اولئک الایام اس میں الئک غیر عقلاء کے لئے استعمال ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد ہے : ان السمع والبصر والفواد کل اولئک کان عنہ مسؤلا۔ (الاسراء) ہمارے علماء نے فرمایا : من ربھم کے کلمات میں قدریہ کا رد ہے جو کہتے ہیں کہ وہ ایمان اور ہدایت خود گھڑتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے قول سے پاک ہے۔ اگر بات اس طرح ہوتی جس طرح قدریہ نے کہا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا : من انفسھم اس پر اور ھدیٰ پر کلام گزر چکی ہے اس کے اعادہ کا کوئی فائدہ نہیں۔ واولئک ھم المفلحون، ھم میں یہ بھی جائز ہے کہ یہ دوسرا مبتدا ہو اور اس کی خبر المفلحون ہو۔ پھر یہ مبتدا خبر اولئک مبتدا کی خبر ہوں، اور یہ بھی جائز ہے کہ ھم زائدہ ہو۔ بصری علماء اسے فاصلہ کہتے ہیں اور کوئی علماء اسے عماد کہتے ہیں اور المفلحون، اولئک کی خبر ہو۔ الفلح کا لغوی معنی الشق اور القطع (پھٹنا اور کاٹنا) ہے۔ شاعر نے کہا ان الحدید بالحدید یفلح لوہے کے ساتھ لوہا کاٹا جاتا ہے۔ اسی سے فلاحۃ الارضین ہے جو زمین کو کھیتی کے لئے پھاڑنا ہے۔ یہ مفہوم ابو عبید نے بیان کیا ہے اسی وجہ سے کسان کو فلاح کہا جاتا ہے، جس کا نچلا ہونٹ کاٹا گیا ہو اسے افلح کہا جاتا ہے۔ جس کا شق ظاہر ہو۔ گویا مفلح مصائب ومشکلات کو کاٹتا جاتا ہے حتیٰ کہ اپنا مطلوب حاصل کرلیتا ہے، کبھی یہ غورو بقا میں استعمال ہوتا ہے، یہ لغت میں اس کی اصل ہے۔ اس سے مرد کو اپنی بیوی کو یہ کہنا ہے۔ استفلحی بامرک اس کا معنی ہے : اپنے امر میں کامیاب ہوجا۔ شاعر نے کہا : لو کان حی مدرک الفلاح ادر کہ ملاعب الرماح اس میں فلاح کامیابی کے لئے استعمال ہوا ہے۔ اضبط قریع سعدی نے زمانہ جاہلیت میں کہا تھا : لکل ھم من الھموم سعہ والمسئ والصبح لا فلاح معہ شاعر نے یہاں بھی فلاح کو کامیابی و کامرانی کے معنی میں استعمال کیا ہے۔ کسی نے کہا : لیس مع کر اللیل والنھار بقاء رات اور دن کی گردش کے ساتھ بقا نہیں۔ ایک اور نے کہا : نحل بلاداً کلھا حل قبلنا وترجو الفلاح بعد عاد و حمیر ہم ان تمام شہروں میں اترے جس طرح ہمارے بزرگ اترے اور ہم عاد اور حمیر کے بعد فلاح کی امید کرتے ہیں۔ عبید نے کہا : افلح بما شئت فقد یدرک بالض عف وقد یخدع الاریب جس کے ساتھ چاہے کامیاب ہوجا، ضعف وکمزوری ضرور آئے گی، کبھی ذہین وفطین بھی دھوکا کھا جاتا ہے۔ اولئک ھم المفلحون۔ کا معنی ہے جنت کی کامیابی حاصل کرنے والے اور اس میں باقی رہنے والے۔ ابن ابی اسحاق نے کہا : المفلحون سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے وہ سب کچھ پا لیا جو انہوں نے طلب کیا اور اس شر سے بچ گئے جس سے وہ بھاگے تھے، یہ ایک معنی ہے۔ کبھی الفلاح، السحور کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اسی مفہوم میں یہ حدیث ہے “ حتی کا د یفوتنا الفلاح مع رسول اللہ ﷺ قلت وما الفلاح قال السحور ”(1) حتیٰ کہ قریب تھا کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہمارا فلاح فوت ہوجاتا۔ میں نے پوچھا : الفلاح کیا ہے ؟ فرمایا : سحری کا کھانا۔ تو حدیث کا معنی یہ ہے کہ سحری کھانے کے ساتھ روزے کی بقا ہے، اسی وجہ سے سحری کے کھانے کو فلاح کہا جاتا ہے الفلاح، کرایہ پر جانور دینے والے کو کہتے ہیں۔ لھا رطل تکیل الزیت فیہ و فلاح یسوق لھا جمارا پھر الفلاح عرف میں، مطلوب کی کامیابی اور خوفناک چیز سے نجات کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ مسئلہ : اگر کوئی کہنے والا کہے کہ حمزہ نے یہ کیسے پڑھا۔ علیھم والیھم الدیھم جبکہ، من ربھم اور فیھم اور جنتیھم نہیں پڑھا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ علیھم الیھم ولدیھم میں یا الف سے بدلی ہوئی ہے۔ اصل میں علاھم، لداھم اور الاھم تھے۔ پس ھا اپنے ضمہ پر قائم ہے اور فیھم، من ربھم اور جنتیھم میں ایسا نہیں ہے۔ کسائی نے علیھم الذلہ اور الیھم اثنین میں حمزہ کی موافقت کی ہے۔ ان کے متعلق قراء سے یہی معروف ہے۔
Ayah 2:6

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 2:6 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہیں انہیں تم نصیحت کرو یا نہ کرو ان کے لئے برابر ہے، وہ ایمان نہیں لانے کے

آیت نمبر 6 جب پہلے مومنین اور ان کے احوال کا ذکر فرمایا تو کافروں اور ان کے انجام کا اب ذکر ہو رہا ہے۔ کفر، ایمان کی ضد ہے، آیت میں یہی مراد ہے کبھی کفر کا لفظ نعمت اور احسان کی ناشکری کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے، حدیث کسوف میں عورتوں کے متعلق نبی کریم ﷺ کا ارشاد اسی معنی میں ہے۔ فرمایا : ودایت النار قلم ارمنظراً کالیوم قط افظع ورایت اکثر اھلھا النساء قیل بم یا رسول اللہ ﷺ قال یکفر ھن قیل أیکفرون باللہ قال یکفرن العشیر ویکفرن الاحسان لو احسنت الی احداھن الدھر کلہ ثم رات منک شیئا قالت ما رایت منک خیراً قط (1) (بخاری) میں نے جہنم دیکھی اور میں آج کی طرح کبھی خوفناک منظر نہیں دیکھا۔ میں نے دوزخ میں اکثر عورتوں کو دیکھا۔ عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! ﷺ ایسا کیوں ؟ فرمایا : ان کے کفر کی وجہ سے۔ عرض کی گئی : کیا یہ اللہ سے کفر کرتی ہیں ؟ فرمایا : یہ خاوند کی ناشکری کرتی ہیں اور احسان کی ناشکری کرتی ہیں۔ اگر تو ان میں سے کسی سے پورا زمانہ احسان بھی کرے کبھی تجھ سے کوئی تھوڑی سی کمی دیکھے گی تو کہے گی : میں نے تجھ سے کبھی خیر نہیں دیکھی۔ عرب کلام میں کفر کی اصل ڈھانپنا اور پردہ ڈالنا ہے۔ شاعر کا قول ہے : فی لیلۃ کفر النجوم غمامھا۔ (رات کے بادلوں نے ستاروں کو چھپا دیا ) ۔ اسی وجہ سے رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ اپنی تاریکی کے ساتھ ہر چیز کو چھپالیتی ہے۔ شاعر نے کہا : فتذکرا ثقلا رشیداً بعدما القت ذکاء یمینھا فی کافر یہاں کافر ڈھانپنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ ذکاء، (ذال کے ضمہ اور مد کے ساتھ) یہ سورج کا اسم ہے۔ اسی سے شاعر کا قول ہے : فوردت قبل انبلاج الفجر وابن ذکاء کا من فی کفر وہ فجر پھوٹنے سے پہلے آئی جبکہ سورج رات میں چھپا ہوا تھا۔ کافر دریا، اور بڑی نہر کو کہتے ہیں، کافر، کسان کو بھی کہتے ہیں اس کی جمع کفار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کمثل غیث اعجب الکفار نباتہ (الحدید :20) یعنی کسان، کیوں کہ وہ دانے کو (زمین میں) چھپاتے ہیں۔ رمادمکفور چھپائی گئی راکھ۔ سفت الریح علیہ التراب ہوانے اس پر مٹی اڑائی۔ الکافر من الارض اس جگہ کو کہا جاتا ہے جو لوگوں سے دور ہو اور کوئی وہاں اترتا نہ ہو اور کوئی وہاں سے گزرتا نہ ہو۔ پس جو ایسی جگہوں پر اتریں انہیں اھل الکفور کہا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے : الکفور۔ یعنی دیہات۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سواء علیھم یعنی ان کے نزدیک آپ کا ڈرانا اور نہ ڈرانا برابر ہے یعنی ان پر یہ برابر ہے، برابری کی وجہ سے استفہام کو لایا گیا۔ اس کی مثل ہے : سواء علینا او عظت ام لم تکن من الوعظین۔ (الشعراء : 136) شاعر نے کہا : اسی مفہوم کو اپنے اس شعر میں بیان کیا ہے۔ ولیل یقول الناس من ظلماتہ سواء صحیحات العیون وعورھا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ء انذرتھم الانذار کا معنی ابلاغ اور اعلام (آگاہ کرنا) ہے اور یہ معنی صرف تخویف (ڈرانے) کی صورت میں ہوتا ہے جس سے بچنے کا زمانہ وسیع ہو۔ اگر بچنے کے لئے اس کا زمانہ وسیع نہ ہو تو اشعار ہوگا، انذارنہ ہوگا۔ شاعر نے کہا : انذرت عمراً وھو فی مھل قبل الصباح فقد عصی عمرو تنا ذر بنو فلاں ھذا الامر، بولا جاتا ہے جب بعض، بعض کو اس امر سے ڈرائیں۔ علماء نے اس آیت کی تاویل میں اختلاف کیا ہے۔ بعض نے فرمایا : یہ لفظ کے اعتبار سے عام ہے اور اس کا معنی اس شخص کے حق میں خاص ہے جس پر عذاب کا کلمہ ثابت ہوچکا ہے اور اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے کہ وہ کفر پر مرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ آگاہ کر دے اس بات پر کہ لوگوں میں اس حال والے بھی کچھ لوگ ہوں گے، کسی کو متعین نہیں فرمایا۔ حضرت ابن عباس اور کلبی نے فرمایا : یہ آیت یہود کے رؤساء کے بارے میں نازل ہوئی جس میں حیی بن اخطب، کعب بن اشرف اور ان جیسے دوسرے یہودی تھے۔ حضرت ربیع بن انس نے کہا : یہ ان لوگوں کے متعلق نازل ہوئی جو کفار کے سرداروں میں بدر کے دن قتل ہوئے تھے (1) ۔ پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ پس جنہوں نے کسی کو متعین کیا اس کی مثال اس شخص کی ہے جس پر غیب کھل گیا کہ اس کی موت کفر پر ہوگی۔ یہ اس آیت کے ضمن میں داخل ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لا یؤمنون یہ ترکیبی اعتبار سے مرفوع ہے اور ان کی خبر ہے، یعنی جنہوں نے کفر کیا وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ بعض نے فرمایا : یہ ان کی خبر ہے سواء اور اس کے بعد والا کلام صلہ کے قائم مقام ہے۔ یہ ابن کیسان کا قول ہے۔ محمد بن یزید نے کہا : سواء مبتدا کے اعتبار سے مرفوع ہےء انذرتھم ام لم تنذرھم خبر ہے، اور پورا جملہ ان کی خبر ہے۔ نحاس نے کہا : یعنی وہ بیوقوف ہیں انہیں ڈرانا کچھ مفید نہیں۔ ء انذرتھم کی قراءت میں قراء کا اختلاف ہے۔ اہل مدینہ، ابو عمرو، اعمش اور عبد اللہ بن ابی اسحاق نے پہلے ہمزہ کی تحقیق اور دوسرے ہمزہ کی تسہیل کے ساتھ پڑھا ہے، خلیل اور سیبویہ نے اسی کو پسند کیا ہے۔ یہ قریش اور سعد بن بکر کی لغت ہے، اسی کے مطابق شاعر کا قول ہے۔ ایا ظبیہ الوعساء بین جلاجل وبین النقا آنت ام ام سالم اس میں آنت پہلے ہمزہ کی تحقیق اور دوسرے ہمزہ کی تسہیل کے ساتھ ہے۔ اس شعر میں آنت ایک الف کے ساتھ آیا ہے۔ ایک اور شاعر نے کہا : تطاللت فاستثرفتہ فقلت لہ آنت زید الارانب میں نے اسے جھانک کر دیکھا اور اسے پہچان لیا میں نے اسے کہا : کیا تو خرگوشوں والا زید ہے۔ ابن محیصن سے مروی ہے کہ انہوں نے انذرتھم ام لم تنذرھم پڑھا ہے یعنی صرف ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے اس کے بعد الف نہیں پڑھا، دو ہمزوں کے جمع ہونے کی وجہ سے ایک کو حذف کیا گیا ہے یا اس لئے کہ ام استفہام پر دلالت کرتا ہے جیسا کہ ایک شاعر نے کہا : تروح من الحی ام تبتکر وما ذا یفیرک ولو تنتظر اس میں شاعر نے ہمزہ کو حذف کیا ہے۔ تروح سے مراد أتروح لیا ہے اور ام پر اکتفا کیا ہے۔ ابن ابی اسحاق سے مروی ہے کہ انہوں نے (أنذرتھم) پڑھا ہے۔ پس انہوں نے دو ہمزوں کو قائم رکھا ہے اور ان کے درمیان الف داخل کیا ہے تاکہ دو ہمزے جمع نہ ہوں۔ ابو حاتم نے کہا : ان دو ہمزوں کے درمیان الف داخل کرنا اور دوسرے ہمزہ کو تخفیف کے ساتھ پڑھنا جائز ہے۔ ابو عمرو، اور نافع اکثر ایسا کرتے تھے۔ حمزہ، عاصم اور کسائی نے دو ہمزوں کے ثبوت کے ساتھ پڑھا ہے (1) یہ ابو عبیدہ کا پسندیدہ قول ہے اور خلیل کے نزدیک یہ بعید ہے۔ سیبویہ نے کہا : یہ ثقل میں ضننوا کے مشابہ ہے۔ اخفش نے کہا : پہلے ہمزہ کی تخفیف اولیٰ ہے۔ یہ قول روی ہے کیونکہ عرب استقلال کے بعد اور ایک حرف کی ادائیگی کے بعد تخفیف کرتے ہیں۔ ابو حاتم نے کہا : دو ہمزوں کی تخفیف جائز ہے۔ یہ جمہور کے قول کے مخالف ہے۔ اخفش نے کہا : سعید نے ہمزہ کو ھاء سے بدلا ہے اور ھانذرتھم پڑھا ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے : ھیاک وایاک۔ اخفش نے کہا : ھا انتم اصل میں أاءتم تھا۔
Ayah 2:7

خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ عَلٰى سَمْعِهِمْ١ؕ وَ عَلٰۤى اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ١٘ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 2:7 in the Quran reader

خدا نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا رکھی ہے، اور ان کی آنکھوں پر پردہ (پڑا ہوا) ہے، اور انکے لئے بڑا عذاب (تیار) ہے

آیت نمبر 7 اس آیت میں دس مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر 1: ختم اللہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان نہ لانے کو ختم اللہ کے ارشاد سے بیان فرمایا ہے۔ الختم ختمت الشیء ختماً فھو مختوم ومختم (مبالغہ کے لئے شد پڑھی گئ ہے) کا مصدر ہے۔ اس کا معنی کسی شے کو ڈھانپ دینا اور اسے باندھ دینا ہے حتیٰ کہ اس میں کوئی چیز داخل نہ ہو۔ اس سے ختم الکتاب والباب اور اس کے مشابہ چیزیں ہیں حتی کہ اس کے اندر کوئی چیز نہیں پہنچ سکتی اور جو کچھ اس میں ہے اس کے علاوہ کچھ رکھا نہیں جاسکتا۔ اہل معانی نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے کفار کے دلوں کو دس اوصاف کے ساتھ موصوف فرمایا ہے۔ الختم، الطبع، الضیق، المرض، الرین، الموت، القساوۃ، الانصراف، الحمیۃ، الانکار، انکار کا ذکر اس آیت میں فرمایا : قلوبھم منکرۃ وھم مستکبرون۔ (النحل) الحمیۃ کے ذکر میں فرمایا : اذ جعل الذین کفروا فی قلوبھم الحمیۃ (الفتح : 62) قساوت کے ذکر میں فرمایا : فویل للقسیۃ قلوبھم من ذکر اللہ (الزمر :22) الانصراف کے ذکر میں فرمایا : ثم انصرفوا صرف اللہ قلوبھم بانھم قوم لا یفقھون۔ (توبہ) موت کے بارے میں فرمایا : ومن کان میتاً فاحیینہ (الانعام : 122) اور فرمایا : انما یستجیب الذین یسمعون والموتی یبعثھم اللہ (الانعام :36) رین کے بارے فرمایا کلا بل ران علی قلوبھم ما کانوا یکسبون۔ (المظففین) اور مرض کے بارے فرمایا : فی قلوبھم مرض (البقرہ :10) الضیق کے بارے فرمایا : ومن یرد ان یضلہ یجعل صدرہ ضیقا حرجا (الانعام : 125) الطبع کے بارے فرمایا : وطبع علی قلوبھم فھم لا یفقھون۔ (توبہ) اور فرمایا : بل طبع اللہ علیھا بکفرھم (النساء :155) اور الختم کے بارے میں فرمایا : ختم اللہ علی قلوبھم (البقرہ :7) ان تمام کا بیان انشاء اللہ اپنی اپنی جگہ پر آئے گا۔ مسئلہ نمبر 2: کبھی ختم (مہر لگا دینا) حسی ہوتا ہے اور کبھی معنوی ہوتا ہے جیسا کہ اس آیت میں معنوی ختم مراد ہے۔ دلوں پر مہر لگانے سے مراد اللہ تعالیٰ کے پیغام کو یاد نہ کرنا، اس کے مخاطبات کا مفہوم محفوظ نہ کرنا اور اس کی آیات میں غوروفکر نہ کرنا ہے اور کانوں پر مہر لگانے کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کو نہ سمجھنا جب ان پر تلاوت کیا جاتا ہے یا انہیں اللہ کی وحدانیت کی طرف بلایا جاتا ہے اور آنکھوں پر مہر لگانے کا مفہوم یہ ہے کہ اس کی مخلوقات اور اس کی مصنوعات کے عجائب میں غوروفکر کے لئے ہدایت حاصل نہ کرنا۔ یہ مفہوم حضرات ابن عباس، ابن مسعود، قتادہ وغیرہم نے بیان کیا ہے۔ مسئلہ نمبر 3: اس آیت میں بڑی واضح دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہدایت وضلال، کفر و ایمان کا خالق ہے۔ اے سننے والو ! عبرت حاصل کرو، اے مفکرین ! قدریہ فرقہ کی عقول پر تعجب کرو جو کہتے ہیں کہ ایمان وہدایت کا وہ خود خالق ہے، ختم کا معنی مہر لگانا ہے تو پھر ان کے لئے ایمان کہاں ہوگا اگرچہ اگرچہ وہ (ہزار) کوشش بھی کریں ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر لگادی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا گیا ہے تو پھر وہ کب ہدایت پائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے بعد انہیں کون ہدایت دے گا جب کہ اللہ نے انہیں گمراہ کردیا اور انہیں بہرہ کردیا اور ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا : ومن یضلل اللہ فما لہ من ھاد۔ (غافر : 33) ۔ (اور جسے گمراہ کر دے اللہ اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں) اللہ کا فعل ان لوگوں کے بارے عدل ہے جن کو اس نے گمراہ کیا اور رسوا کیا کیونکہ اس نے انہیں حق سے نہیں روکا جو اس کے لئے واجب تھا ورنہ اس سے صفت عدل زائل ہوجائے گی انہیں اس چیز نے روکا کہ جو اس نے ان پر فضل فرمایا تھا نہ کہ اس چیز نے جو ان کے لئے ثابت تھی۔ اگر وہ کہیں کہ ختم، طبع، غشاوہ سے مراد نام رکھنا، حکم لگانا اور خبر دیتا ہے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے، نہ کہ یہ فعل کی خبر دی گئی ہے ہم کہیں گے : یہ قول فاسد ہے کیونکہ ختم اور طبع کی حقیقت وہ فعل ہے جس کی وجہ سے دل مطبوع ومختوم ہوجاتا ہے یہ جائز نہیں ہے کہ اس کی حقیقت نام رکھنا اور حکم لگانا ہے۔ کیا آپ نے ملاحظہ نہیں فرمایا جب کہا جاتا ہے : فلاں طبع الکتاب وختمہ۔ اس کی حقیقت یہ ہے کہ اس نے ایسا فعل کیا جس کی وجہ سے کتاب مطبوع اور مختوم ہوگئی ہے نہ کہ نام رکھنا اور حکم لگانا۔ یہ ایسا مفہوم ہے جس میں اہل لغت کا کوئی اختلاف نہیں ہے نیز امت کا اجماع ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کفار کے دلوں پر مہر لگانے کی نسبت اپنی طرف مجازاً کی ہے، یہ ان کے کفر کی وجہ سے ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : بل طبع اللہ علیھا بکفرھم (النساء :155) (اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان پر مہر لگا دی) اور امت کا اس پر بھی اجماع ہے کہ طبع اور ختم ان کے دلوں پر نبی کریم ﷺ ، ملائکہ اور مومنین کی طرف بھی ممتنع ہے اگر ختم اور طبع نام رکھنا اور حکم لگانا ہوتا تو انبیاء اور مومنین کی طرف ممنوع نہ ہوتا کیونکہ وہ تمام کفار کا نام رکھ سکتے تھے کہ ان پر مہر لگائی گئی ہے ان کے دلوں پر ختم لگائی گئی ہے وہ گمراہی میں ہیں ایمان نہیں لائیں گے وہ تمام ان کفار پر حکم لگا سکتے تھے۔ پس ثابت ہوا کہ ختم اور طبع معنوی ہے نام رکھنا اور حکم لگانا نہیں ہے بلکہ یہ معنی ہے جو اللہ تعالیٰ دل میں پیدا فرماتا ہے جو اسے ایمان سے روکتا ہے۔ اس کی دلیل یہ ارشاد بھی ہے : کذلک نسلکہ فی قلوب المجرمین۔ لا یؤمنون بہ (الحجر) (اسی طرح ہم داخل کرتے ہیں گمراہی کو مجرموں کے دلوں میں وہ نہیں ایمان لائیں گے) اور فرمایا : وجعلنا علی قلوبھم اکنۃ ان یفقھوہ (الانعام : 25) (اور ہم نے ڈال دئیے ہیں ان کے دلوں پر پردے تاکہ نہ سمجھیں وہ اسے) ۔ مسئلہ نمبر 4: علیٰ قلوبھم اس میں دلیل ہے کہ دل کو تمام اعضاء پر فضیلت حامل ہے۔ دل انسان اور دوسری تمام چیزوں کا ہوتا ہے، ہر چیز میں سے جو خالص ہو اور جو چیز معزز ہو وہ اس کا دل ہے۔ دل، فکر کا مقام ہے اصل میں یہ مصدر ہے قلبت الشیء اقلبہ قلباً ۔ جب کوئی کسی چیز کو اس کے آغاز پر لوٹا دے، تو اس وقت یہ فعل استعمال کیا جاتا ہے قلبت الاناء۔ میں نے برتن کو الٹا کردیا پھر یہ لفظ نقل کیا گیا اور اس کے ساتھ اس عضو کا نام رکھا گیا جو معزز ترین عضو ہے کیونکہ خیالات جلدی سے اس کی طرف جاتے ہیں اور اس کی طرف لوٹتے ہیں۔ جیسا کہ کہا گیا ہے : ما سمی القلب الا من تقلبہ فاحذر علی القلب من قلب وتحویل قلب کو قلب اس کے پھر نے کی وجہ سے کہا جاتا ہے پس تو دل کی تبدیلی اور تحویل سے بچ۔ پھر جب عربوں نے اس مصدر کو اس شریف عضو کے لئے نقل کیا تو عظمت اس میں لازم ہوگئی۔ اس کے اور اس کی اصل کے درمیان فرق کرنے کے لئے یہ ہے۔ ابن ماجہ نے حضرت ابو موسیٰ سے انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : “ دل کی مثال اس تنکا کی ہے ہوائیں جسے صحراء میں گھماتی رہتی ہیں ” (1) ۔ اسی معنی کے لئے آپ ﷺ دعا کرتے تھے : اللھم یا مثبت القلوب ثبت قلوبنا علی طاعتک (اے اللہ اے دلوں کو ثابت رکھنے والے ! ہمارے دلوں کو اپنی طاعت پر ثابت رکھ (2) ۔ ) جب نبی کریم ﷺ اتنے عظیم منصب اور جلالت شان کے باوجود یہ دعا کرتے تھے تو ہمیں آپ ﷺ کی اقتدا میں یہ دعا بدرجہ اولیٰ کرنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ واعلموا ان اللہ یحول بین المرء قلبہ (الانفال :24) (اور خوب جان لو کہ اللہ (کا حکم) حائل ہوجاتا ہے انسان اور اس کے دل (کے ارادوں) کے درمیان) ۔ مسئلہ نمبر 5: جوارح اگرچہ دل کے تابع ہیں لیکن کبھی دل، جوارح کے اعمال سے متاثر ہوتا ہے اس تعلق کی وجہ سے جو ظاہر اور باطن کے درمیان ہے، اگرچہ دل ان اعضاء کا رئیس اور مالک ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : “ ایک شخص سچ بولتا ہے تو اس کے دل میں ایک سفید نکتہ پیدا ہوجاتا ہے اور کوئی شخص جھوٹ بولتا ہے تو اس کا دل سیاہ ہوجاتا ہے ”(1) ۔ ترمذی نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا ہے (اور اس کی سند صحیح ہے) ۔ “ ایک شخص گناہ کرتا ہے تو اس کا دل سیاہ ہوجاتا ہے پھر اگر وہ توبہ کرتا ہے تو اس کا دل صاف ہوجاتا ہے ” (2) ۔ فرمایا : یہی وہ الرین ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اس آیت کے اندر کیا ہے : کلا بل ران علی قلوبھم ما کانوا یکسبون۔ المطففین) مجاہد نے کہا : دل ہتھیلی کی مانند ہے ہر گناہ کی وجہ سے ایک انگلی بند ہوجاتی ہے۔ پھر مکمل بند کردیا جاتا ہے۔ میں کہتا ہوں : مجاہد کے اس قول میں اور نبی کریم ﷺ کے اس قول میں “ جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے جب وہ صحیح ہو تو پورا جسم صحیح ہوتا ہے اور جب وہ فاسد ہو تو پورا جسم فاسد ہوتا ہے۔ خبردار وہ ٹکڑا دل ہے ”(3) ۔ دلیل ہے کہ ختم حقیقی ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔ بعض علماء نے فرمایا : دل صنوبر کے مشابہ ہوتا ہے مجاہد کا قول اس کی تائید کرتا ہے۔ واللہ اعلم۔ مسلم نے حضرت حذیفہ سے روایت کیا ہے، فرمایا : ہمیں رسول اللہ ﷺ نے دو احادیث بیان فرمائیں۔ ایک تو میں دیکھ چکا ہوں جبکہ دوسری کا منتظر ہوں۔ آپ ﷺ نے ہمیں بیان فرمایا کہ امانت لوگوں کے دلوں کی جڑوں میں نازل ہوئی پھر قرآن نازل ہوا، لوگوں نے قرآن سے اس کو جانا اور حدیث سے اس کو پہچانا۔ پھر ہمیں امانت کے اٹھ جانے کے متعلق بتایا۔ فرمایا : ایک شخص سوئے گا تو اس کے دل سے امانت اٹھا لی جائے گی اس کا اثر ایک جلن کی مثل باقی ہوگا پھر وہ سوئے گا تو اس دل سے امانت اٹھالی جائے گی۔ پس اس کا اثر ایک چھالے کی مثل ہوگا جیسے تیرے پاؤں پر انگارہ گر جائے تو وہ جگہ پھول جاتی ہے تو اسے پھولا ہوا دیکھتا ہے حالانکہ اس کے اندر کچھ نہیں ہوتا، پھر آپ نے کنکری اٹھائی اور اسے اپنے پاؤں پر لڑھکایا۔ لوگ بیع وشراء کرتے رہیں گے کوئی ایک بھی امانت ادا کرنے والا نہ ہوگا حتیٰ کہ کہا جائے گا : فلاں قبیلہ میں ایک امین شخص ہے حتیٰ کہ اس شخص کے متعلق کہا جائے گا وہ کتنا پختہ آدمی ہے، کتنا ہوشیار اور کتنا عقلمند آدمی ہے حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان نہ ہوگا، مجھ پر ایک ایسا زمانہ بھی گزرا کہ میں پرواہ نہیں کرتا تھا کہ میں کس سے بیع کر رہا ہوں، اگر وہ مسلمان ہو تو اس کا دین مجھ پر میری امانت لوٹا دے گا اور اگر وہ نصرانی ہوگا تو اس کا سردار مجھ پر لوٹا دے گا لیکن آج میں تم سے صرف فلاں فلاں سے بیع کرتا ہوں (4) ۔ حدیث میں الوکت کا لفظ ہے اس کا مطلب ہے تھوڑا سا اثر، کچی کھجور میں جب پکنے کا تھوڑا سا نشان لگتا ہے تو عرب کہتے ہیں قدوکت فھو مرکت۔ اور المجل۔ اس سے مراد چھالہ ہے یعنی وہ پانی جو جلد اور گوشت کے درمیان ہوتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اس کی تفسیر اپنے اس قول (کجر دحرجتہ) سے فرمائی یعنی تو نے انگارے کو اپنے پاؤں پر گھمایا تو وہ پھول گیا، تو نے اسے ابھرا ہوا دیکھا۔۔۔ یہ احادیث دلالت کرتی ہیں کہ یہ سب کچھ دل میں محسوس ہوتا ہے اس میں یہ سب کچھ کہا جاتا ہے اسی طرح الختم اور الطبع ہے۔ حضرت حذیفہ کی حدیث میں ہے، فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا : دلوں کو نئے نئے فتنے لاحق ہوتے ہیں جیسے چٹائی ہوتی ہے، جس دل میں یہ فتنے راسخ ہوگئے اس میں سیاہ نکتہ پیدا ہوجاتا ہے اور جو دل ان فتنوں کا انکار کرتا ہے اس میں سفید نکتہ پیدا ہوجاتا ہے حتیٰ کہ دو دل ہوجاتے ہیں۔ ایک سفید جو صفا کی طرح ہوتا ہے اس کو کوئی فتنہ نقصان نہیں دے گا جب تک آسمان اور زمین قائم ہوں گی اور دوسرا دل سیاہ جس میں سیاہی ملی ہوتی ہے جیسے کو زہ ہوتا ہے جو ٹیڑھا ہوتا ہے وہ نیکی کو جانتا بھی نہیں وہ کسی برائی کا انکار نہیں کرتا، لیکن جو اس کے دل میں برائی راسخ ہوچکی ہوتی ہے (1) (وہ وہی کرتا ہے) ۔ مسئلہ نمبر 6: دل کو فواد اور صدر سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کذلک لنثبت بہ فؤادک (فرقان :32) اور فرمایا : الم نشرح لک صدرک۔ (الم نشرح) یعنی دونوں جگہ قلبک مراد ہے کبھی قلب سے مراد عقل لیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان فی ذلک لذکری لمن کان لہ قلب (ق :37) یہاں قلب سے مراد عقل ہے۔ اکثر علماء کے نزدیک دل، عقل کا محل ہے۔ مسئلہ نمبر 7: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وعلیٰ سمعھم اس آیت سے کانوں کو آنکھوں پر فضیلت دینے والے نے استدلال کیا ہے، کیونکہ کانوں کو آنکھوں پر مقدم کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قل ارءیتم ان اخذ اللہ سمعکم وابصارکم (الانعام :46) اور فرمایا : وجعل لکم السمع والابصار والافدۃ (النحل :78) فرمایا : کان چھ جہات، نور اور اندھیرے میں ادراک کرتے ہیں جبکہ آنکھ صرف سامنے کی جہت کا ادراک کرتی ہے اور روشنی کے ذریعہ سے اداراک کرتی ہے۔ اکثر متکلمین نے کانوں پر آنکھوں کو فضیلت دینے کا قول کیا ہے کیونکہ کان صرف آوازوں اور کلام کا ادراک کرتے ہیں جبکہ آنکھ جسموں، رنگوں اور تمام ہیعئتوں کا ادراک کرتی ہے۔ جب اس کے تعلقات زیادہ ہیں تو یہ افضل ہوئی اور انہوں نے آنکھ کے ساتھ چھ جہتوں سے ادراک کو جائز قرار دیا ہے۔ مسئلہ نمبر 8: اگر کوئی کہنے والا کہے کہ ابصار تو جمع اور سمع کو مفرد کیوں ذکر فرمایا ؟ اسے کہا جائے گا : سمع کو مفرد ذکر کیا کیونکہ یہ مصدر ہے قلت و کثرت کے لئے واقع ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے : سمعت الشیء اسمعہ سمعاً سماعاً ۔ پس السمع، سمعت کا مصدر ہے اور السمع اس عضو کا اسم بھی ہے جس کے ساتھ سنا جاتا ہے اس کو مصدر نام دیا گیا ہے۔ بعض علماء نے کہا : جب سمع کی اضافت جماعت کی طرف کی جائے تو یہ اس پر دلیل ہوتی ہے اس سے مراد جماعت کے کان ہوتے ہیں۔ جیسا کہ شاعر نے کہا : بھا جیف الحمری فاما عظامھا فبیض واما جلدھا فصلیب یہاں جلد سے مراد جلود ہے۔ مفرد ذکر کیا کیونکہ یہ معلوم ہے کہ جماعت کے لئے ایک جلد نہیں ہوتی۔ اس کی مثل ایک اور شاعر نے کہا : لا تنکر القتل وقد سبینا فی حلقکم عظم وقد شجینا اس شعر میں حلق سے مراد حلوق ہیں۔ اس کی مثل دوسرے شاعر کا قول ہے : کانہ وجہ ترکیین قد غضبا مستھدف نصعان غیر تذبیب اس شعر میں وجہ سے مراد وجھین ہے۔ شاعر نے کہا : وجہ ترکیین کیونکہ معلوم تھا کہ دو شخصوں کے لئے ایک وجد (چہرہ) نہیں ہوتا۔ اس کی مثالیں بہت سی ہیں اور علی اسماعھم بھی پڑھا گیا ہے، اور وعلی مواضع سمعھم کے معنی کا بھی احتمال ہے کیونکہ سمع پر مہر نہیں لگائی جاتی بلکہ سمع کی جگہ مہر لگائی جاتی ہے۔ پس مضاف کو حذف کیا گیا ہے اور مضاف الیہ کو اس کے قائم مقام رکھا گیا ہے کبھی سمع بمعنی استماع بھی ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے : سمعک حدیثی۔۔۔۔ ای استمعک الی حدیثی یعجبنی۔ مجھے تیرا میری بات کو غور سے سننا اچھا لگتا ہے۔۔۔۔ اسی مفہوم میں ذی الرمہ کا قول ہے جو ایک بیل کی تعریف کرتا ہے جو شکاریوں اور کتوں کی آواز غور سے سنتا ہے۔ وقد تو جس رکزا مقفر ندس بنبأۃ الصوت ما فی سمعہ کذب یعنی اس کے استماع میں کذب نہیں یعنی وہ سچا غور سے سننے والا ہے، الندس کا معنی ہے حاذق، النباۃ خفی آواز کو کہتے ہیں۔ اسی معنی میں الرکز ہے، السمع (سین کے کسرہ اور میم کے سکون کے ساتھ) سے مراد انسان کا اچھائی کے ساتھ ذکر ہے۔ کہا جاتا ہے : ذھب سمعہ فی الناس یعنی لوگوں میں اس کا ذکر پھیل گیا۔ السمع بجو سے بھیڑئیے کے بچے کو بھی کہتے ہیں۔۔۔۔ وعلیٰ سمعھم پر وقف ہے۔ غشاوۃ مبتدا ہے اور اس کا ما قبل خبر ہے۔ فی قلوبھم اور جو اس پر معطوف ہیں ان سب کی ضمیریں اس کے لئے ہیں جو اللہ کے علم میں ہیں کہ کفار قریش میں سے ایمان نہیں لائیں گے۔ بعض نے فرمایا : منافقین کے لئے ہے۔ بعض نے فرمایا : یہود کے لئے ہے۔ بعض نے فرمایا : تمام کفار کے لئے ہے۔ یہ قول زیادہ عام ہے۔ ختم (مہر) دلوں اور کانوں پر ہے اور غشاوۃ آنکھوں پر ہے۔ الغشاء کا معنی ڈھانپنا ہے۔ مسئلہ نمبر 9: اسی سے غاشیۃ السرج ہے۔ غشیت الشیء واغشیتہ۔ نابغہ نے کہا : ھلا سالت بنی ذبیا ما حسبی اذا الدخان تغشی الاشمط البرما تو نے بنی ذبیان سے کیوں نہیں پوچھا جو میرے لئے کافی ہے۔ دھواں ادھیڑ عمر والی قوم کے ساتھ شراب نہ پینے والے پر چھا جاتا ہے۔ ایک اور شاعر نے کہا : صحبتک اذ عینی علیھا غشاوۃ فلما انجلت نفسی الومھا میں نے تیری سنگت اختیار کی جبکہ میری آنکھوں پر پردہ تھا جب پردہ کھلا میں نے اپنے نفس کو ملامت کیا۔ ابن کیسان نے کہا : اگر اس کی جمع بنائی جائے تو یہ غشاوۃ کے حذف کے ساتھ ہوگا۔ فراء نے اس کی جمع غشاوی ذکر کی ہے جیسے اداوی جمع ہے۔ غشاوۃً نصب کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے اور اس سے پہلے جعل محذوف ہوگا اور یہ اس بات سے ہوگا علفتھا تبناً وماءً بارداً (میں نے اسے چارہ کھلایا اور ٹھنڈا پانی پلایا) ۔ ایک اور شاعر کا قول ہے : یا لیت زوجک قد غدا متقلدسیفا ورمحا کاش ! تیرا خاوند تلوار لٹکائے ہوئے اور نیزہ اٹھائے ہوئے جاتا۔ معنی ہے : اسقی تھا ماء میں نے اسے پانی پلایا، وحاملاً رمحاً ۔ کیونکہ نیزہ گلے میں لٹکایا نہیں جاتا۔ فارسی نے کہا : تو یہ استعمال وسعت واختیار کی حالت میں نہیں پائے گا۔ غشاوہ پر رفع پڑھنا احسن ہے، واو عاطفہ ہوگی جملہ کا جملہ پر عطف ہوگا اور فرمایا : میں نے غشاوہ سے واو کے ساتھ تصرف کرنے والا فعل نہیں سنا۔ بعض مفسرین نے کہا : کانوں اور آنکھوں پر غشاوہ ہے، وقف قلوبھم پر ہے۔ دوسرے مفسرین نے کہا : مہر تمام پر ہے اور غشاوۃٌ کا مطلب بھی ختم (مہر) ہے۔ اس صورت میں وقف غشاوۃ پر ہوگا۔ حسن نے غشاوۃ غین کے ضمہ کے ساتھ، ابو حیوہ نے اسے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے، ابو عمرو نے غشوہ پڑھا ہے اس نے اسے مصدر کی اصل کی طرف لوٹایا ابن کیسان نے فرمایا : غشوۃ اور غشوۃ پڑھنا جائز ہے اور بہتر غشاوۃ ہے اسی طرح ہر لفظ کو اسی طرح استعمال کرتے ہیں جو کسی چیز پر مشتمل ہونے پر دلالت کرے جیسے عمامہ، کنانۃ، قلادہ، عصابہ وغیرہ۔ مسئلہ نمبر 10: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولھم یعنی جھٹلانے والے کفار کے لئے عذاب عظیم عذاب عظیم ہے۔ عظیم، عذاب کی صفت ہے۔ عذاب کی کئی صورتیں ہیں : مثلاً کوڑے مارنا، آگ کے ساتھ جلانا، لوہے سے کاٹنا وغیرہ جو بھی انسان کو تکلیف پہنچائے وہ عذاب ہے۔ قرآن میں ہے : ولیشھد عذابھما طائفۃ من المؤمنین۔ (النور) اس کا معنی الجس اور المنع (روکنا) ہے۔ لغت میں کہا جاتا ہے : اعذبہ عن کذا یعنی میں نے اسے روک دیا۔ اسی سے عذوبۃ الماء ہے پانی کے لئے استعمال ہوتا ہے کیونکہ برتن میں پانی کو روکا جاتا ہے تاکہ صاف ہوجائے اور جو دوسرا مواد اس میں ملا ہوا ہے وہ جدا ہوجائے۔ اسی سے حضرت علی ؓ کا قول ہے : اعذبوا نساء کم عن الخروج، یعنی عورتوں کو باہر نکلنے سے روکو۔ حضرت علی ؓ سے مروی ہے، آپ ؓ نے ایک لشکر تیار کیا تو آپ نے فرمایا : اعذبوا عن ذکر النساء (انفسکم) اپنے نفس کو عورتوں کے ذکر سے روکو کیونکہ ان کا ذکر تمہیں جہاد سے محروم کرے گا۔ ہر وہ جسے تو کسی چیز سے روکے تو اس کے لئے اعذیتہ استعمال کرسکتا ہے۔ ضرب المثل میں ہے : لا لجمنک لجاماً معذباً ۔ (میں تمہیں ایسی لگام چڑھاؤں گا جو تجھے لوگوں پر چڑھنے سے روک لے گی ) ۔ کہا جاتا ہے : اعذب یعنی میں جاتا ہوں۔ اعذب غیرہ، غیر کو روکتا ہوں۔ یہ لازم اور متعدی دونوں طرح استعمال ہوتا ہے عذاب کو عذاب اسی لئے کہا جاتا ہے کیونکہ وہ بھی عذاب دئیے جانے والے کو روک دیتا ہے اور جسم کے مناسب سب خیر والی چیزوں کو اس سے روک لیتا ہے۔ اس کے مخالف چیزیں اس پر ڈالتا ہے۔
Ayah 2:8

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ مَا هُمْ بِمُؤْمِنِیْنَۘ Open ayah 2:8 in the Quran reader

اور بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ وہ ایمان نہیں رکھتے

آیت نمبر 8 اس آیت میں سات مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: ابن جریج نے مجاہد سے روایت کیا ہے، فرمایا : سورة بقرہ میں مومنین کے بارے چار آیات نازل ہوئیں، دو آیات کافروں کے بارے نازل ہوئیں اور تیرہ آیات منافقین کے بارے نازل ہوئیں۔ اسباط نے سدی سے ومن الناس کے تحت روایت کیا ہے، فرمایا : اس سے مراد منافقین ہیں۔ علماء صوفیاء نے فرمایا : الناس اسم جنس ہے اور اسم جنس کے ساتھ اولیاء کو مخاطب نہیں کیا جاتا ہے۔ مسئلہ نمبر 2: لفظ الناس کے بارے میں نحویوں کا اختلاف ہے۔ بعض نے فرمایا : یہ اسماء جموع میں سے ایک اسم ہے یہ بغیر لفظ کے انسان اور انسانۃ کی جمع ہے اس کی تصغیر نویس ہے۔ الناس، النوس سے مشتق ہے جس کا معنی حرکت ہے۔ کہا جاتا ہے : ناس ینوس یعنی حرکت کرنا۔ اسی سے ام زرع کی حدیث ہے اناس من حلی اذنی (1) ۔ (زیورات سے میرے کانوں کو حرکت دی) بعض نے فرمایا : اس کی اصل نسی سے ہے۔ ناس کا اصل نسی ہے قلب ہوا ہے۔ پس نیس بن گیا یا مفتوح ما قبل فتح کی وجہ سے الف سے بدل گئی ہے پھر الف، لام داخل ہوا ہے، بعض نے فرمایا : اس کی اصل الناس ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : نسی آدم عھد اللہ فسمی انساناً ۔ (آدم (علیہ السلام) اللہ کا عہد بھول گئے تو انہیں انسان کیا گیا) ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : آدم (علیہ السلام) بھول گئے تو ان کی اولاد بھی بھولی (2) ۔ قرآن میں ہے : ولقد عھدنا الی ادم من قبل فنسی (طہٰ :115) اس صورت میں ہمزہ زائدہ ہوگا۔ شاعر نے کہا : لا تنسین تلک العھود فانما سمیت انسانا لانک ناسی ان عہود کو مت بھول، تیرے بھولنے کی وجہ سے تجھے انسان کہا گیا ہے۔ ایک اور شاعر نے کہا : فان نسیت عھوداً منک سالغۃ فاغفر فادل ناس اول الناس اگر تو سابقہ عہود بھول گیا ہے تو توبہ کر۔ پہلا بھولنے والا پہلا انسان تھا۔ بعض علماء نے فرمایا : حضرت آدم کو انسان کہا گیا کیونکہ وہ حضرت حوا سے انس رکھتے تھے۔ بعض نے فرمایا : اپنے رب سے انس رکھتے تھے، اس صورت میں ہمزہ اصل ہوگا شاعر نے کہا : وما سمی الانسان الا لانسہ ولا القلب الا انہ یتقلب انسان کو انسان اس کے انس کی وجہ سے کہا جاتا ہے اور قلب کو قلب اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ پھرتا رہتا ہے۔ مسئلہ نمبر 3: اللہ تعالیٰ نے مومنین کا پہلے ذکر فرمایا۔ ان کے شرف اور ان کی فضیلت کی وجہ سے ان سے آغاز فرمایا۔ ان کے مقابلہ میں پھر کافرین کا ذکر کیا کیونکہ کفر اور ایمان دو طرفیں ہیں۔ پھر ان کے بعد منافقین کا ذکر فرمایا اور انہیں کافروں کے ساتھ ملایا کیونکہ ان میں بھی ایمان نہیں پایا جاتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وماھم بمؤمنین۔ اس آیت میں کر امیہ فرقہ کا رد ہے جنہوں نے کہا کہ ایمان زبان کے اقرار کا نام ہے اگرچہ دل میں اعتقاد نہ بھی ہو اور اس قول سے حجت پکڑی ہے : فاثابھم اللہ بما قالوا (مائدہ :85) (تو عطا فرمائے اللہ نے بعوض اس قول کے جو وہ کہتے ہیں) اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا جو انہوں نے کہا اور دل میں تصدیق رکھی اور اس حدیث سے استدلال کیا ہے۔ “ مجھے لوگوں سے جہاد کا حکم دیا گیا ہے حتیٰ کہ وہ کہیں لا الہ الا اللہ۔ جب وہ کہہ دیں گے تو انہوں نے مجھ سے اپنے خون اور اپنے مال محفوظ کر لئے ” (1) ۔ یہ کر امیہ کی عقل کا قصور اور فکر کا جمود ہے۔ قرآن و حدیث میں قول اور اعتقاد کے ساتھ عمل کا جو بیان ہے اس میں غوروفکر کے ترک کی وجہ سے ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : “ ایمان دل کی معرفت، زبان کے قول اور ارکان کے عمل کا نام ہے ” (2) ۔ اس حدیث کو ابن ماجہ نے اپنی سنن میں ذکر کیا ہے۔ محمد بن کرام سبحستانی اور اس کے ساتھیوں کا جو نظریہ ہے وہ نفاق ہے اور عین شقاق ہے۔ ہم خذلان اور برے اعتقاد سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ مسئلہ نمبر 4: ہمارے علماء نے فرمایا : مومن کی دو قسمیں ہیں : ایک وہ مومن جس سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے اور اس سے پیار کرتا ہے اور ایک وہ مومن جس سے اللہ تعالیٰ نہ محبت کرتا ہے نہ اس سے پیار کرتا ہے بلکہ اس سے بغض رکھتا ہے اور اس سے دشمنی کرتا ہے، پس ہر وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ یہ ایمان قبول کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس سے محبت و پیار کرتا ہے اور اس سے راضی ہوتا ہے اور ہر وہ شخص جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ یہ کفر اختیار کرے گا تو اللہ اس سے بغض رکھتا ہے، اس سے ناراض ہوتا ہے اور اس سے دشمنی رکھتا ہے اس کے موجودہ ایمان کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کے کفر اور گمراہی کی وجہ سے جس کے ساتھ وہ موافقت کرے گا۔ اسی طرح کافر کی بھی دو قسمیں ہیں : ایک کافر وہ جس کو اللہ تعالیٰ یقیناً عذاب دے گا اور ایک کافر وہ جس کو عذاب نہیں دے گا۔ وہ کافر جسے عذاب دیا جائے گا وہ ایسا کافر ہے جو کفر سے آخر تک موافقت کرے گا۔ پس اس پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے اس سے دشمنی کرتا ہے اور وہ کافر جس کو عذاب نہیں دیا جائے گا وہ ایسا کافر ہے جو بالآخر ایمان سے موافقت کرے گا اللہ تعالیٰ اس پر ناراض نہیں ہوتا اور اس سے بغض نہیں رکھتا، بلکہ اس سے محبت و پیار کرتا ہے، اس کے موجودہ کفر کی وجہ سے نہیں بلکہ اس ایمان کی وجہ سے جس سے بالآخر وہ موافقت کرے گا۔ پس مطلق قول کرنا جائز نہیں۔ مسئلہ نمبر 5: مومن ثواب کا مستحق ہوتا ہے اور کافر عذاب کا مستحق ہوتا ہے بلکہ اس کی موافات (ایمان پر خاتمہ) اس پر لگانا واجب ہے۔ اسی وجہ سے ہم نے کہا : اللہ تعالیٰ حضرت عمر سے اس وقت بھی راضی تھا جب بتوں کی عبادت کرتے تھے اور اسے ثواب دینے اور اس کے جنت میں داخل ہونے کا ارادہ رکھتا تھا۔ اس لئے نہیں کہ وہ بتوں کی عبادت کرتے تھے بلکہ اس ایمان کی وجہ سے بالآخر جس سے انہوں نے موافقت کرلی تھی اور اللہ تعالیٰ ابلیس پر ناراض تھا اس کی عبادت کی حالت میں بھی اس کے اس کفر کی وجہ سے بالآخر جس کے ساتھ اس نے موافقت کرنی تھی۔ قدریہ فرقہ والے اس مسئلہ میں مخالفت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ ابلیس پر اس کی عبادت کے وقت داخل نہیں تھا اور عمر کی بتوں کی عبادت کے وقت عمر سے راضی نہیں تھا۔ یہ قول فاسد ہے۔ جب ثابت ہے کہ ابلیس۔۔۔۔ کفر سے موافقت کرنی تھی اللہ اسے جاننے والا ہے اور عمر نے جس ایمان کی موافقت کرنی تھی اسے بھی جاننے والا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ ابلیس پر اللہ تعالیٰ ناراض تھا اور عمر پر راضی تھا اس پر امت کا اجماع دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرنے والا نہیں جس کے متعلق وہ جانتا ہے کہ وہ دوزخی ہے بلکہ اس سے ناراض ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرنے والا ہوتا ہے جس کے متعلق اسے معلوم ہے کہ وہ جنتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :“ ایمان (کا ثواب و کمال) خاتمہ پر ہے ” (1) ۔ اسی لئے صوفیاء وعلماء کہتے ہیں : ایمان وہ نہیں جس کے ساتھ بندہ قولاً اور فعلاً مزین ہے بلکہ ایمان ازل کے سوابق میں سعادت کا جاری ہوتا ہے۔ رہا اس کا ہیاکل میں ظہور تو وہ کبھی عارضی ہوتا ہے اور کبھی حقیقۃً ہوتا ہے۔ میں کہتا ہوں : یہ ثابت ہے جس طرح کہ صحیح مسلم وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن مسعود سے مروی ہے، فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بتایا جو سچے ہیں (اور) آپ سے سچ کہا گیا ہے، کہ تم میں کسی ایک کی تخلیق کو اس کی ماں کے بطن میں چالیس دن میں جمع کیا جاتا ہے پھر وہ اتنی مدت میں جما ہوا خون رہتا ہے پھر اتنی مدت میں گوشت کا ٹکڑا رہتا ہے پھر اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ بھیجتا ہے وہ اس میں روح پھونکتا ہے اور اس فرشتے کو چار کلمات کا حکم دیا جاتا ہے (یعنی) اس کا رزق، اس کی عمر، اس کا عمل اور اس کا بدبخت یا سعید ہونا لکھنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں کہ تم میں سے کوئی جنتیوں والے عمل کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ جنت اور اس کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے۔ پس اس پر نوشتہ تقدیر غالب آجاتا ہے۔ وہ دوزخیوں والا عمل کرتا ہے اور دوزخ میں داخل ہوجاتا ہے تم میں سے کوئی دوزخیوں والے اعمال کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ اس کے اور دوزخ کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے اس پر نوشتہ تقدیر غالب آتا ہے وہ جنتیوں والا عمل کرتا ہے اور جنت میں داخل ہوجاتا ہے (2) ۔ مسئلہ نمبر 6: امام حافظ ابو محمد عبد الغنی بن سعید مصری نے محمد بن سعید شامی کی حدیث الزندقہ کے بارے میں نقل کی ہے۔ محمد بن سعید سے مراد محمد بن ابی قیس ہے، انہوں نے سلیمان بن موسیٰ سے روایت کی ہے یہ سلیمان اشدق ہے، سلیمان نے حضرت مجاہد بن جبیر سے انہوں نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے، فرمایا : ہمیں ابو رزین عقیلی نے بتایا، فرمایا : مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں اور تو اے ابا رزین ! ایسے دودھ سے ہیں جس کا ذائقہ نہیں بدلا۔ ابو رزین نے کہا : میں نے عرض کی : اللہ تعالیٰ مردے کیسے زندہ کرے گا ؟ فرمایا : کیا تو کبھی بنجرز میں سے نہیں گزرا پھر تو سرسبز زمین سے نہیں گزرا پھر تو بنجرز میں سے نہیں گزرا پھر تو سرسبز سے نہیں گزرا ؟ میں نے عرض کی : کیوں نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : بالکل اسی طرح نشور ہوگا۔ ابو رزین نے کہا : میں نے عرض کی : میں کیسے جان لوں کہ مومن ہوں ؟ فرمایا : کوئی اس امت کا فرد نہیں ہے جس نے کوئی نیک عمل کیا پھر اس نے جان لیا کہ یہ نیک عمل ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی بہتر جزا عطا کرنے والا ہے یا اس نے برا عمل کیا پھر اس نے جانا کہ یہ برا عمل ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی سزا دینے والا ہے یا اسے معاف کرنے والا ہے، مگر بندہ مومن کی یہ شان ہوتی ہے۔ میں کہتا ہوں : یہ حدیث اگرچہ ایسی ہے کہ اس کی سند قوی نہیں ہے۔ اگر اس کا معنی صحیح بھی ہو تو پھر بھی حضرت ابن مسعود کی حدیث کے مخالفت نہیں ہے کیونکہ وہ خاتمہ پر موقوف ہے جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : اعمال کا دارومدار خاتمہ پر ہے (1) ۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ فی الحال مومن ہے۔ واللہ اعلم۔ مسئلہ نمبر 7 : علماء لغت نے فرمایا : منافق کو منافق اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ ایسی بات کا اظہار کرتا ہے جس کے مخالف وہ دل میں چھپائے ہوئے ہوتا ہے، اس کی تشبیہ جنگلی چوہا ہے اس کی ایک بل ہوتی ہے اسے نافقاء کہا جاتا ہے اور ایک اور اس کی بل ہوتی ہے جسے القاصعاء کہا جاتا ہے وہ زمین کو کریدتا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ زمین کے ظاہر تک یعنی معمولی سی مٹی تک پہنچ جاتا ہے۔ جب اسے کوئی خطرہ لاحق ہوتا ہے تو وہ اس مٹی کو دور کرتا ہے اور اپنی بل سے نکل جاتا ہے، اس کی بل کے ظاہر پر مٹی ہوتی ہے اور اس کے اندر سوراخ ہوتا ہے۔ اسی طرح منافق اس کا ظاہر ایمان ہوتا ہے اور باطن کوئی اور۔ یہ معنی پہلے گزر چکا ہے۔
Ayah 2:9

یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۚ وَ مَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَؕ Open ayah 2:9 in the Quran reader

یہ خدا کو اور مومنوں کو چکما دیتے ہیں مگر (حقیقت میں) اپنے سوا کسی کا چکما نہیں دیتے اور اس سے بیخبر ہیں

آیت نمبر 9 ہمارے علماء نے فرمایا : یخدعون اللہ کا معنی ہے : وہ اپنے گمان اور خیال کے مطابق اللہ تعالیٰ کو دھوکا دیتے ہیں۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ اس لئے فرمایا کیونکہ ان کا عمل، ایک دھوکا دینے والے کے عمل جیسا ہوتا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : کلام میں حذف ہے۔ اصل میں ہے یخادعون رسول اللہ ﷺ ۔ وہ اللہ کے رسول کو دھوکا دیتے ہیں۔ حسن وغیرہ سے مروی ہے، ان کے رسول اللہ کو دھوکا دینے کو اللہ تعالیٰ کو دھوکا دینے کے مترادف فرمایا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں آپ ﷺ کی رسالت کے ساتھ بلایا۔ اسی طرح جب انہوں نے مومنین کو دھوکا دیا تو یقیناً انہوں نے اللہ تعالیٰ کو دھوکا دیا۔ ان کا دھوکا یہ تھا کہ وہ ایمان ظاہر کرتے تھے جبکہ ان کے دلوں میں کفر تھا۔ یہ وہ اس لئے کرتے تھے تاکہ اپنے خون اور اپنے اموال بچا لیں اور وہ گمان کرتے تھے کہ وہ نجات پا گئے اور انہوں نے دھوکا دے دیا۔ یہ مفسرین کی ایک جماعت کا قول ہے۔ اہل لغت نے فرمایا : کلام عرب میں الخدع کا معنی ہے : فساد۔ ثعلب نے یہ ابن اعرابی سے روایت کیا ہے۔ اس نے شعر کہا ہے : ابیض اللون لذیذ طعمہ طیب الریق اذ الریق خدع رنگ سفید ہے ذائقہ لذیذ ہے، اس کا لعاب پاک ہے جب کہ اس کا لعاب فاسد ہوجائے۔ میں کہتا ہوں : اس اعتبار سے یخدعون اللہ کا معنی ہوگا : وہ اپنے ایمان اور اعمال کو ریاکاری کی وجہ سے اپنے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان خراب کردیتے ہیں۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ سے، تفسیر کے ساتھ آیا ہے جیسا کہ آگے آئے گا۔ اور قرآن حکیم میں ہے : یرآءون الناس (النساء : 142) (وہ لوگوں کے لئے دکھاوا کرتے ہیں ) ۔ بعض علماء نے فرمایا : خدع کا اصل معنی الاخفاء (چھپانا ہے) ہے۔ اسی سے مخدع البیت ہے جس میں کوئی چیز چھپائی جاتی ہے۔ یہ ابن فارسی وغیرہ نے بیان کیا ہے۔ عرب کہتے ہیں : انخدع الضب فی جحرہ۔ یعنی گوہ اپنے بل میں چھپ گئی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وما یخدعون الا انفسھم۔ اس میں نفی اور ایجاب ہے یعنی دھوکے کا انجام اپنے اوپر ہی نازل ہوگا۔ یہ عربوں کے کلام سے ہے : من خدع من لا یخدع فانما یخدع نفسہ، جو ایسی ذات کو دھوکا دیتا ہے جس کو دھوکا نہیں دیا جاسکتا تو وہ اپنے آپ کو دھوکا دیتا ہے اور یہ صحیح ہے کیونکہ دھوکا تو اسے دیا جاسکتا ہے جو بواطن کو نہ جانتا ہو، اور جو بواطن کو جانتا ہو جو اس کے ساتھ دھوکا کرتا ہے تو وہ اپنے آپ سے دھوکا کرتا ہے۔ یہ دلیل ہے کہ منافقین نے اللہ تعالیٰ کی ذات کو نہیں پہچانا کیونکہ اگر وہ اسے پہچانتے ہوتے تو وہ جان لیتے کہ اسے دھوکا نہیں دیا جاسکتا۔ پہلے نبی کریم ﷺ کا ارشاد گزر چکا ہے۔ فرمایا : اللہ تعالیٰ کو دھوکا نہ دو کیونکہ جو اللہ تعالیٰ کو دھوکا دیتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اس دھوکے کی سزا دیتا ہے اور وہ اپنے آپ کو دھوکا دیتا ہے اگر وہ سمجھے۔ تو صحابہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! اللہ تعالیٰ کو کیسے دھوکا دیا جاسکتا ہے ؟ فرمایا : تو وہ عمل کرتا ہے جس کا اللہ نے تجھے حکم دیا اور اس کے ساتھ تو غیر کی رضا چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دھوکا کی حقیقت کا بیان آگے اللہ یستھذئ بھم کے تحت آئے گا۔ نافع، ابن کثیر، ابو عمرہ نے دونوں جگہ یخادعون پڑھا ہے تاکہ دونوں لفظ متجانس ہوجائیں۔ عاصم، حمزہ، کسائی اور ابن عامر نے دوسری جگہ یخدعون پڑھا ہے اس کا مصدر خدع وخدیعۃ ہے۔ یہ ابو زید نے حکایت کیا ہے مورق العجلی یخدعون اللہ یعنی یا کے ضمہ، حا کے فتح اور دال کی تشدید کے ساتھ پڑھتے کثرت کا معنی لینے کے لئے۔ ابو طالوت عبد السلام بن شداد اور جارود نے یاء کے ضمہ، خا کے سکون اور دال کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے (1) اس معنی پر ما یخدعون الاعن انفسھم، حرف جر کو حذف کیا گیا ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واختار موسیٰ قومہ (الاعراف : 155) اصل میں من قومہ تھا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وما یشعرون یعنی وہ نہیں جانتے کہ ان کے دھوکے کا وبال ان کی طرف ہی لوٹنے والا ہے وہ گمان کرتے ہیں کہ وہ اپنے دھوکہ کی وجہ سے نجات پا گئے اور کامیاب ہوگئے۔ یہ دنیا میں ہے اور آخرت میں انہیں کہا جائے گا : ارجعوا وراء کم فالتمسوا نوراً ۔ واپس پلٹ جاؤ اور نور تلاش کرو، جیسا کہ آگے آئے گا۔ اہل لغت نے کہا : شعرت بالشیئ۔ یعنی میں نے اس کو جان لیا۔ اسی سے شاعر کی فطانت کی وجہ سے اسے شاعر کہا جاتا ہے کیونکہ شاعر جو معانی پہچانتا ہے وہ دوسرے نہیں پہچانتے۔ اسی سے عربوں کا قول ہے : لیت شعری۔ یعنی کاش میں جان لیتا۔
Ayah 2:10

فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ١ۙ فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ١ۙ۬ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ Open ayah 2:10 in the Quran reader

ان کے دلوں میں (کفر کا) مرض تھا خدا نے انکا مرض اور زیادہ کردیا اور ان کے جھوٹ بولنے کے سبب ان کو دکھ دینے والا عذاب ہوگا

آیت نمبر 10 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فی قلوبھم مرض یہ مبتدا اور خبر ہے۔ المرض سے مراد وہ فساد ہے جوان کے عقائد میں تھا یا تو یہ شک اور نفاق تھا یا انکار اور تکذیب تھی۔ معنی یہ ہے ان کے دل مریض ہیں کیونکہ وہ عصمت، توفیق، رعایت اور تائید سے خالی ہیں۔ ابن فارس لغوی نے کہا : مرض سے مراد ہر وہ چیز ہوتی ہے جو انسان کو صحت کی حد سے خارج کر دے خواہ وہ بیماری ہو یا نفاق ہو یا کسی امر میں کوتاہی ہو۔ قراء کا مرض کے راء کے فتحہ پر اجماع ہے مگر اصمعی نے ابو عمرو سے روایت کیا ہے کہ اس نے راء کو ساکن کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فزادھم اللہ مرضا بعض علماء نے فرمایا : یہ منافقین کے خلاف بددعا ہے۔ اس کلام کا معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے شک اور نفاق میں اضافہ فرمائے ان کے کفر پر جزا دیتے ہوئے، اور ان کی مدد کی جگہ ضعیف اور قدرت کی جگہ عجز میں اضافہ فرمائے۔ جیسے شاعر نے کہا : یا مرسل الریح جنوباً وصبا اذ غضبت زید فذدھا غضباً اے جنوب کی ہوا اور بادصبا کو چلانے والے ! جب بنو زید غضبناک ہوں تو ان کے غضب میں اضافہ کر۔ اس صورت میں آیت کے اندر دلیل ہے منافقین کے خلاف دعا کرنے اور انہیں دھتکارنے کی کیونکہ وہ اللہ کی بری ترین مخلوق ہیں۔ بعض علماء نے کہا : یہ ان کی مرض کی زیادتی کی اللہ تعالیٰ خبر دے رہا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کی مرض میں اضافہ کردیا۔ جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا : فزادتھم رجسا الی رجسھم (توبہ : 125) اہل معانی نے کہا : فی قلوبھم مرض ان کے دلوں میں مرض کا مطلب یہ ہے کہ وہ دنیا کی لذتوں سے پرسکون ہیں اور دنیا کی محبت ان کے دلوں میں ہے اور آخرت سے غافل ہیں اور آخرت سے اعراض کئے ہوئے ہیں اور فزادھم اللہ مرضا کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کے نفسوں کے سپرد کردیا ہے۔ ان پر دنیا کے غموں کو جمع کردیا ہے اس لئے وہ دین کے اہتمام کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوئے ولھم عذاب الیم یعنی دنیا فانی کے بدلے انہیں ایسا عذاب دیا جو ہمیشہ رہنے والا ہے۔ جنید نے کہا : دلوں کی بیماریاں خواہش نفس کی پیروی کی وجہ سے ہیں جیسا کہ اعضاء کی بیماریاں بدن کے مرض سے ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشادہ ہے : ولھم عذاب الیم، الیم کا معنی عرب کلام میں مؤلم ہے یعنی درد پہنچانے والا جیسے سمیع بمعنی مسمع ہوتا ہے۔ ذوالرمہ اونٹوں کا وصف بیان کرتے ہوئے کہتا ہے : ونرفع من صدور شمردلات یصک وجوھھا وھج الیم ہم لمبے اونٹوں کے سینوں کو بلند کرتے ہیں جبکہ ان کے چہروں کو تکلیف وہ گرمی رہی ہوتی ہے۔ الم کا معنی ہے تکلیف دینا، الایلام کا معنی ہے تکلیف دینا۔ الالم، تکلیف کو کہتے ہیں الم یألم الما۔ التالم کا معنی تکلیف محسوس کرنا۔ الیم کی جمع الماء ہے جیسے کریم کی جمع کرماء ہے آلام اس کی جمع اشراف کی طرح ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بمانوا یکذبون، ما مصدریہ ہے یعنی رسل کی تکذیب کی وجہ سے۔ اللہ تعالیٰ کا انکار اور اس کی آیات کی تکذیب کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں دردناک عذاب دیا۔ یہ ابو حاتم نے کہا ہے۔ عاصم، حمزہ اور کسائی نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس کا معنی ہے ان کے جھوٹ کی وجہ سے اور ان کے اس قول کی وجہ سے کہ ہم پر ایمان لائے حالانکہ وہ مومن نہ تھے۔ مسئلہ : نبی کریم ﷺ کو منافقین کے نفاق کا علم تھا تو ان کے قتل سے کیوں رکے رہے، اس کے متعلق علماء کے مختلف چار اقوال ہیں 1۔ بعض علماء نے فرمایا : آپ ﷺ نے انہیں قتل نہ فرمایا کیونکہ آپ ﷺ کے علاوہ کسی کو ان کی حالت کا علم نہ تھا اور اکثر علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ قاضی اپنے علم کی بنا پر قتل نہیں کرسکتا۔ باقی تمام احکام میں علماء کا اختلاف ہے، ابن عربی نے کہا : یہ قول درست نہیں کیونکہ مجذربن زیاد کو حارث بن سوید بن الصامت نے قتل کیا تھا کیونکہ مجذر نے حارث کے باپ سوید کو جنگ بعاث میں قتل کیا تھا۔ حارث اسلام لے آیا، جنگ احد میں مجذر کو غفلت میں پایا تو اسے قتل کردیا۔ جبریل امین نے اس کی خبر نبی کریم ﷺ کو دی اور اسے اس کے بدلے میں قتل کردیا، کیونکہ اس کا قتل دھوکے سے تھا اور دھوکے سے قتل کرنا اللہ کی حدود میں سے ایک حد ہے۔ میں کہتا ہوں : یہ ابن عربی کی غفلت ہے کیونکہ اگر اجماع مذکور ثابت ہے تو پھر اس واقعہ سے اجماع نہیں ٹوٹتا کیونکہ اجماع منعقد نہیں ہوتا، درثابت نہیں ہوتا مگر نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد اور وحی کے انقطاع کے بعد۔ یہ واقعہ تو عین وحی کے ساتھ تھا، پس اس سے حجت نہیں پکڑی جاسکتی ہے یا یہ بالا جماع منسوخ ہے۔ واللہ اعلم 2۔ امام شافعی کے پیروکار علماء فرماتے ہیں : آپ ﷺ نے انہیں قتل نہیں فرمایا کیونکہ زندیق وہ ہوتا ہے جو کفر کو چھپاتا ہے اور ایمان ظاہر کرتا ہے۔ اس سے توبہ طلب کی جاتی ہے اور اسے قتل نہیں کیا جاتا۔ ابن عربی نے کہا : یہ وہم ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ نے ان سے توبہ طلب نہیں کی تھی اور نہ یہ کسی اور نے کیا تھا، کسی نے یہ نہیں کہا کہ زندیق سے توبہ طلب کرنا واجب ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ان کے متعلق علم ہونے کے باوجود اعراض فرمایا۔ اصحاب شافعی میں سے یہ متاخر ہے۔ جس نے کہا زندیق سے توبہ طلب کرنا جائز ہے اس نے ایسی بات کہی ہے جو کسی کے لئے صحیح نہیں ہے۔ 3۔ آپ ﷺ نے تالیف قلوب کی مصلحت کی خاطر انہیں قتل نہیں کیا تاکہ وہ آپ سے متنفر نہ ہوجائیں۔ آپ ﷺ نے اس معنی کی طرف اشارہ فرمایا : جبکہ آپ ﷺ نے حضرت عمر سے فرمایا : معاذ اللہ ان یتحدث الناس انی اقتل اصحابی۔ (1) اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ لوگ کہیں کہ میں اپنے ساتھیوں کو قتل کرتا ہوں۔ اس کو بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔ مؤلفہ قلوب کو نبی کریم ﷺ عطا فرماتے تھے حالانکہ آپ ﷺ کو ان کی بداعتقادی کا علم تھا یہ ہمارے اور دو سرے علماء کا قول ہے۔ ابن عطیہ کا قول ہے : نبی کریم ﷺ کے منافقین کو قتل نہ کرنے کے بارے میں یہ اصحاب مالک کی دلیل ہے : اس پر محمد بن الجہم، قاضی اسماعیل، الابہری، ابن الماجشون نے نص قائم کی ہے اور اللہ تعالیٰ کے اس قول سے حجت پکڑی ہے لئن لم ینتہ المنفقون والذین فی قلوبھم مرض والمرجفون فی المدینۃ لنغرینک بھم ثم لا یج اور ونک فیھا الا قلیلا۔ ملعونین اینما ثقفوا اخذوا وقتلوا تقتیلاً ۔ (الاحزاب) قتادہ نے کہا : اس کا بمعنی ہے جب انہوں نے نفاق کا اعلان کیا۔ امام مالک نے فرمایا : نبی کریم ﷺ کے عہد میں جو نفاق تھا وہ آج زندقہ ہے۔ پس زندیق کو قتل کیا جائے گا جب اس پر گواہی قائم ہوجائے گی اور اس سے توبہ طلب نہیں کی جائے گی۔ یہ امام شافعی کا ایک قول ہے۔ امام مالک نے فرمایا : نبی کریم ﷺ منافقین کے قتل سے رک گئے تاکہ امت کو بیان کریں کہ حاکم اپنے علم کے مطابق فیصلہ نہیں کرسکتا کیونکہ منافقین کے خلاف گواہی نہیں تھی۔ قاضی اسماعیل نے کہا : عبد اللہ بن ابی پر گواہی نہ دی مگر صرف زید بن ارقم نے۔ اور جلاس بن سوید پر گواہی نہ دی مگر عمیر بن سعد نے جو اس کی پرورش میں تھا۔ اگر اس میں سے کسی ایک پر دو آدمی اس کے کفر اور نفاق کی گواہی دیتے تو اسے قتل کیا جاتا۔ امام شافعی نے دوسرے قول کے لئے حجت پکڑتے ہوئے کہا کہ اس شخص کے بارے سنت یہ ہے جس پر زندیق ہونے کی گواہی دی گئی ہو پھر وہ انکار کرے اور ایمان کا اعلان کرے اور دین اسلام کا اعلان کرے اور دین اسلام کے علاوہ ہر دین سے براءت کرے تو اس کا خون بہانا ممنوع ہے۔ اصحاب الرائے، احمد، طبری وغیرہم کا یہی نظریہ ہے۔ امام شافعی اور ان کے متبعین نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے منافقین کو قتل نہیں کیونکہ وہ اسلام کو ظاہر کرتے تھے حالانکہ آپ ﷺ کو ان کے نفاق کا علم تھا، وہ جس کو ظاہر کرتے تھے وہ ماقبل گناہوں کو ختم کردیتا ہے۔ طبری نے کہا : اللہ تعالیٰ نے بندوں پر احکام ظاہر رکھے ہیں، ان کے بواطن کا معاملہ اس کے اپنے سپرد ہے۔ مخلوق میں سے کسی کو یہ اختیار نہیں کسی کے لئے اس کے ظاہر کے خلاف فیصلہ کرے کیونکہ یہ ظنون کے مطابق حکم ہوگا۔ اگر کسی فرد کے لئے یہ جائز ہوتا تو نبی کریم ﷺ اس کے زیادہ لائق ہوتے۔ نبی کریم ﷺ نے منافقین کے ظاہر کی وجہ سے ان پر مسلمانوں والا حکم لگایا اور ان کے بواطن کو اللہ کے سپرد کیا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں واللہ یشھد ان المنفقین لکذبون۔ (المنافقون) میں ان کے ظاہر کی تکذیب کی ہے۔ ابن عطیہ مالکی اس الزام سے اس آیت کی وجہ سے بری ہیں جو ان پر لازم آتا ہے کیونکہ آیت میں اشخاص کو متعین نہیں کیا گیا۔ اس میں ہر اس شخص کے لئے زجروتوبیخ ہے جو بھی نفاق میں گھرا ہوا ہے اور ان میں سے ہر ایک کے لئے یہ کہنا باقی رہ گیا ہے اس میں سے میں مراد نہیں ہوں۔ میں مومن ہی ہوں، اگر کسی کو متعین کردیا جاتا تو اس کا جھوٹ کسی چیز کو ختم نہ کرتا۔ میں کہتا ہوں : اس انفصال میں نظر ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ انہیں جانتے تھے یا اللہ تعالیٰ کی عطا سے ان کی شخصیات اور ان کے اسماء کو جانتے تھے۔ حضرت حذیفہ نبی کریم ﷺ کے بتانے کی وجہ سے منافقین کو جانتے تھے حتیٰ کہ حضرت عمر، حضرت حذیفہ کو کہتے تھے : اے حذیفہ ! کیا میں ان میں سے ہوں، حذیفہ کہتے : نہیں۔ 4۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کے اصحاب کی حفاظت فرمائی تھی کہ منافقین انہیں خراب کرسکیں کیونکہ اللہ نے مومنین کو ثبات عطا فرمایا تھا اور اللہ تعالیٰ نے اصحاب کی حفافت فرمائی تھی کہ وہ ہمارے عام اور جاہل لوگوں کے نظریات خراب نہیں کریں گے۔