2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 2:87

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ قَفَّیْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ بِالرُّسُلِ١٘ وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١ؕ اَفَكُلَّمَا جَآءَكُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ١ۚ فَفَرِیْقًا كَذَّبْتُمْ١٘ وَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ Open ayah 2:87 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب عنایت کی اور ان کے پیچھے یکے بعد دیگرے بھیجتے رہے اور عیسیٰ بن مریم کو کھلے نشانات بخشے اور روح القدس (یعنی جبرئیل) سے ان کو مدد دی، تو جب کوئی پیغمبر تمہارے پاس ایسی باتیں لے کر آئے جن کو تمہارا جی نہیں چاہتا تھا تو تم سرکش ہوجاتے رہے اور ایک گروہ (انبیاء) کو تو جھٹلاتے رہے اور ایک گروہ کو قتل کرتے رہے

آیت نمبر 87 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لقد اتینا موسیٰ الکتب، کتاب سے مراد تورات ہے قفینا ہم نے پیچھے بھیجا۔ التقفیۃ پیچھا کرنا، پیچھے بٹھانا۔ یہ اتماع القفا سے ماخوذ ہے، القفا گردن کے پیچھے حصہ کو کہتے ہیں۔ تو کہتا ہے : استقفیتہ، جب تو کسی کے پیچھے آئے۔ اسی سے قافیۃ الشعر ہے کیونکہ وہ سارے کلام میں پڑھا جاتا ہے، القافیۃ کا معنی گدی ہے۔ اسی سے حدیث پاک ہے : یعقد الشیطان علی قافیۃ رأس احدکم (1) ۔ شیطان تم میں سے کسی کے سر کی گدی پر گرہ لگاتا ہے۔ القفی، القفارۃ دودھ وغیرہ جو اس شخص کے لئے ذخیرہ کیا جاتا ہے جس کا تو اکرام چاہتا ہے۔ قفوت الرجل یعنی میں نے فجور کے ساتھ اسے تہمت لگائی۔ فلان قفوتی۔ فلاں میری تہمت ہے۔ وقفوتی یعنی میری خبر ہے۔ ابن درید نے کہا : گویا یہ اضداد میں سے ہے۔ علماء نے فرمایا : یہ آیت اس آیت کی مثل ہے ثم ارسلنا رسلنا تترا (المومنون :44) ہر رسول حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک جو بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد آیا وہ تورات کے اثبات اور اس کے لزوم کے امر کے ساتھ آیا (2) ۔ کہا جاتا ہے : رسلٌ ورسلٌ یہ دونوں لغتیں ہیں، پہلی لغت حجاز ہے اور دوسری لغت تمیم ہے خواہ مضاف ہو یا مضاف نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واتینا عیسیٰ ابن مریم البینت، بینات سے مراد دلائل وبراہین ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے سورة آل عمران اور سورة مائدہ میں ذکر کیا ہے۔ یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے (3) ۔ وایدنہ یعنی ہم نے قوت دی۔ مجاہد اور ابن محیصن نے اسے آیدناہ مد کے ساتھ پڑھا ہے یہ دونوں لغتیں ہیں۔ بروح القدس ابو مالک اور ابو صالح نے ابن عباس اور معمر نے قتادہ سے روایت کیا ہے کہ اس سے مراد جبریل (علیہ السلام) ہیں۔ حضرت حسان نے کہا : وجبریل رسول اللہ فینا وروح القدس لیس بہ خفاء جبریل ہم میں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے والے ہیں اور وہ روح القدس ہیں اس میں کوئی خفا نہیں ہے۔ نحاس نے کہا : جبریل کو روح کہا گیا اور پھر القدس کی طرف مضاف کیا گیا کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی تکوین کے ساتھ روح تھا نہ اس طرح اس کی تکوینی تھی جس طرح والد، اولاد کی ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو روح کہا جاتا ہے۔ غالب بن عبد اللہ نے مجاہد سے روایت کیا ہے، فرمایا : القدس سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اسی طرح حسن نے فرمایا : القدس اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور اس کی روح جبریل ہے۔ ابو روق نے ضحاک سے روایت کیا ہے اور انہوں نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ روح القدس سے مراد وہ اسم ہے جس کے ساتھ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) مردوں کو زندہ کرتے تھے (4) ۔ حضرت سعید بن جبیر اور عبید نے بھی یہی کہا یہ اسم اعظم ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس سے مراد انجیل ہے اس کو روح کہا ہے جس طرح قرآن کو روح کہا ہے وکذلک اوحینا الیک روحاً من امرنا (الشوریٰ : 52) پہلا قول اظہر ہے۔ واللہ اعلم۔ القدس کا معنی طہارت بھی ہے، یہ پہلے گزر چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : افکلما جاء کم رسولٌ بما لا تھویٰ انفسکم یعنی جو تمہاری خواہشات کے موافق نہیں ہوتا۔ ضمیر عائد کو اسم کے طول کی وجہ سے حذف کیا گیا ہے۔ اصل اس طرح ہے : بما لا تھواہ (استکبرتم) اس کی بات قبول کرنے سے تکبر کیا رسولوں کو حقیر سمجھتے ہوئے اور رسالت کو مستعبد سمجھتے ہوئے۔ الھوی کا اصل معنی کسی چیز کی طرف مائل ہونا ہے اس کی جمع اھواء ہے جیسا کہ قران میں آیا ہے اس کی جمع اھویۃ نہیں آئی باوجود اس کے کہ عرب کہتے ہیں ندی اندیۃ۔ فی لیلۃ من جمادیٰ ذات اندیۃ لا یبصر الکلب فی ظلمائھا الطنبا جوہری نے کہا : یہ شاذ ہے۔ اور الھوی کو ھوی اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ وہ اپنے ساتھی کو آگ میں گراتی ہے۔ اسی وجہ سے یہ عام طور پر ایسی بات کے لئے استعمال ہوتا ہے جو حق نہ ہو اور جس میں خیر نہ ہو۔ یہ آیت اسی سے ہے۔ کبھی یہ حق میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ حضرت عمر نے بدر کے قیدیوں کے بارے میں کہا : ھوی رسول اللہ ﷺ ما قال ابوبکر ولم یھو ما قلت۔ رسول اللہ ﷺ کا میلان اس طرح ہوا جو ابوبکر نے کہا تھا اس طرف نہ ہوا جو میں نے کہا تھا (1) ۔ حضرت عائشہ نے نبی کریم ﷺ سے کہا تھا : واللہ ما اری ربک الایسارع فی ھواک (٭) ۔ اللہ تعالیٰ کی قسم ! میں تیرے پروردگار کو دیکھتی ہوں کہ وہ تیری خواہش کو جلدی پورا فرما دیتا ہے۔ ان دونوں احادیث کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ففریقاً کذبتم، کذبتم کی وجہ سے فریقاً منصوب ہے اور اسی طرح وفریقاً تقتلون ہے۔ پس کچھ ان میں سے جنہوں نے حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد (علیہما السلام) کو جھٹلایا اور کچھ ان میں سے تھے جنہوں نے حضرت یحییٰ اور حضرت زکریا (علیہما السلام) کو قتل کیا۔ اس کا بیان سورة سبحان میں آگے آئے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔
Ayah 2:88

وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا غُلْفٌ١ؕ بَلْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِیْلًا مَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 2:88 in the Quran reader

اور کہتے ہیں ہمارے دل پردے میں ہیں (نہیں) بلکہ خدا نے ان کے کفر کے سبب ان پر لعنت کر رکھی ہے پس یہ تھوڑے ہی پر ایمان لاتے ہیں

آیت نمبر 88 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وقالوا یعنی یہود قلوبنا غلف، غلفٌ لام کے سکون کے ساتھ ہے اس کی جمع اغلف ہے یعنی ہمارے دلوں پر پردے ہیں۔ یہ اس قول کی مثل ہے : قلوبنا فی اکنۃٍ مما تدعونا الیہ۔ (ہمارے دل غلافوں میں (لپٹے ہوئے) ہیں اس بات سے جس کی طرف آپ ہمیں بلاتے ہیں) ۔ مجاہد نے کہا غلفٌ یعنی ان پر پردہ ہے (2) ۔ عکرمہ نے کہا : یعنی ان پر مہر لگی ہوئی ہے۔ اہل لغت نے حکایت کیا ہے : غلفت السیف، میں نے تلوار کے لئے غلاف بنایا۔ فقلبٌ اغلف یعنی ایسا دل جو فہم وتمیز سے پوشیدہ ہے۔ حضرت ابن عباس، اعرج اور ابن محیصن نے غلف لام کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا : اس کا معنی ہے ہمارے دل علم سے بھرے ہوئے ہیں انہیں حضرت محمد ﷺ اور کسی دوسرے کے علم کی ضرورت نہیں (3) ۔ بعض نے فرمایا : یہ غلاف کی جمع ہے جیسے خمار، خمر۔ یعنی ہمارے دل علم کے برتن ہیں کیا وجہ ہے کہ تمہاری بات نہیں سمجھتے حالانکہ ہم نے بہت سا علم محفوظ کر رکھا ہے۔ بعض نے فرمایا : اس کا معنی ہے : حضرت محمد ﷺ کا علم ان سے کیسے پوشیدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا : بل لعنھم اللہ بکفرھم فقلیلاً ما یؤمنون۔ (لیکن (اپنی رحمت سے) دور کردیا انہیں اللہ نے بوجہ ان کے کفر کے پس نہیں ایمان لائیں گے مگر تھوڑے سے) پھر اس کا سبب بیان فرمایا کہ وہ ایمان سے کیوں بھاگتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے جو انہوں نے کفر کیا اور جرأت کی اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت کی ہے یہ گناہ پر بڑی سزا ہے۔ اللعن کی اصل دھتکارنا اور دور کرنا ہے بھیڑئیے کو لعین کہا جاتا ہے دھتکارے ہوئے شخص کو لعین کہا جاتا ہے۔ الشماخ نے کہا : ذعرت بہ القطا ونفیت عنہ مقام الذئب کالرجل اللعین اس شعر میں اصل کلام اس طرح تھی : مقام الذئب اللعین کالرجل۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی رحمت سے دور کردیا۔ بعض علماء نے فرمایا : اپنی توفیق اور اپنی ہدایت سے دور کردیا۔ بعض نے فرمایا : ہر خیر سے دور کردیا یہ عام ہے۔ فقیلاً مصدر محذوف کی صفت ہے۔ تقدیر اس طرح ہے :ایماناً قیلاً یومنون (1) ۔ معمر نے کہا : اس کا معنی ہے وہ اس میں سے تھوڑے پر ایمان لاتے ہیں جو ان کے ہاتھوں میں ہے اور اس میں سے اکثر کا انکار کرتے ہیں (2) ۔ قلیلاً حرف الصفہ کے نزع کے ساتھ منصوب ہے، اور ما صلۃ ہے یعنی فقلیلاً یومنون۔ واقدی نے کہا : اس کا معنی ہے نہ وہ تھوڑے پر ایمان لاتے ہیں نہ زیادہ پر جیسے تو کہتا ہے : ما اقل ما یفعل کذا یعنی اس نے کچھ بھی نہیں کیا۔ کسائی نے کہا : عرب کہتے ہیں : مررنا بارض قل ما تنبت الکرات والبصل یعنی ہم ایسی زمین سے گزرے جو کچھ نہیں اگاتی تھی۔
Ayah 2:89

وَ لَمَّا جَآءَهُمْ كِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ١ۙ وَ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۖۚ فَلَمَّا جَآءَهُمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوْا بِهٖ١٘ فَلَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:89 in the Quran reader

اور جب خدا کے ہاں سے انکے پاس کتاب آئی جو ان کی آسمانی کتاب کی بھی تصدیق کرتی ہے اور وہ پہلے (ہمیشہ) کافروں پر فتح مانگا کرتے تھے تو جس چیز کو وہ خوب پہچانتے تھے جب ان کے پاس آپہنچی تو اس سے کافر ہوگئے پس کافروں پر خدا کی لعنت

آیت نمبر 89 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولما جاء ھم یعنی یہود۔ (کتاب) یعنی قرآن۔ من عند اللہ مصدقٌ یہ کتاب کی صفت ہے اور غیر قرآن میں اس کو حال کے اعتبار سے منصوب پڑھنا بھی جائز ہے جس طرح حضرت ابی کے مصحف میں نصب کے ساتھ ہے (3) لما معھم۔ یعنی تورات، انجیل، یعنی قرآن انہیں بتاتا ہے جو انجیل اور تورات میں ہے وکانوا من قبل یستفتحون یعنی وہ مدد طلب کرتے ہیں الاستفتاح کا معنی مدد طلب ہے۔ استفتحت، میں نے مدد طلب کی۔ حدیث پاک میں ہے : نبی کریم ﷺ محتاج، کمزور مہاجرین کے وسیلہ سے مدد طلب کرتے تھے یعنی ان کی دعاؤں اور نمازوں کے وسیلہ سے مدد طلب کرتے تھے (4) ۔ اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فعسی اللہ ان یاتی بالفتح او امرٍ من عندہ (المائدہ : 52) (وہ وقت دور نہیں جب اللہ تعالیٰ (تمہیں) دے دے فتح کامل یا ظاہر کر دے کامیابی کی کوئی بات اپنی طرف سے) النصر کا معنی بند چیز کو کھولنا ہے۔ یہ اس قول کی طرف لوٹتا ہے فتحت الباب میں نے دروازہ کھولا۔ نسائی نے حضرت ابو سعید خدری سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اس امت کی، ان کے ضعیف لوگوں کی دعا، نماز اور اخلاص کی وجہ سے مدد فرمائی۔ نسائی نے حضرت ابو الدرداء سے روایت کیا ہے، فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا : میرے لئے کسی ضعیف کو طلب کرو کیونکہ تمہیں تمہارے ضعیفوں کی وجہ سے رزق دیا جاتا ہے اور مدد کی جاتی ہے (1) ۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : خیبر کے یہود غطفان سے جنگ کرتے تھے جب مقابلہ ہوا تو یہود کو شکست ہوئی۔ یہود پھر اس دعا کے ساتھ لوٹے۔ یا یہ معنی ہے کہ اس دعا کی انہوں نے پناہ لی۔ انا نسالک بحق النبی الامی الذی وعدتنا ان تخرجہ لنا فی آخر الزمان الاتنصرنا علیھم۔ ہم تجھ سے اس امی نبی کے واسطہ سے سوال کرتے ہیں جس کا تو نے ہم وعدہ فرمایا ہے کہ تو ہمارے لئے اسے آخر زمانہ میں نکالے گا ان کے خلاف ہماری مدد فرما۔ حضرت ابن عباس نے کہا : جب مقابلہ ہوا تو انہوں نے یہ دعا مانگی تو انہوں نے غطفان کو شکست دے دی۔ جب نبی کریم ﷺ مبعوث ہوئے تو انہوں نے انکار کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : وکانوا من قبل یستفتحون علی الذین کفروا یعنی اے محمد ! ﷺ تیرے وسیلہ سے فتح طلب کرتے تھے۔ فلعنۃ اللہ علی الکفرین۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ولما جاءھم، لما کا جواب فاء اور اس کا مابعد ہے جو اس قول میں ہے فلما جاءھم ما عرفوا فراء کے قول کے مطابق (2) دوسرے لما کا جواب کفروا ہے۔ اخفش سعید نے کہا : لما کا جواب محذوف ہے کیونکہ سامع کو معلوم ہے۔ یہ زجاج کا قول ہے (3) ۔ مبرد نے کہا لما کا جواب کفروا ہے اور لما کو دوبارہ ذکر کیا گیا۔ کلام کے طول کی وجہ سے یہ ذنب (گناہ) کی تقریر اور تاکید کے لئے مفید ہے۔
Ayah 2:90

بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ اَنْ یَّكْفُرُوْا بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بَغْیًا اَنْ یُّنَزِّلَ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ۚ فَبَآءُوْ بِغَضَبٍ عَلٰى غَضَبٍ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 2:90 in the Quran reader

جس چیز کے بدلے انہوں نے اپنے تئیں بیچ ڈالا وہ بہت بری ہے یعنی اس جلن سے کہ خدا اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنی مہربانی سے نازل فرماتا ہے خدا کی نازل کی ہوئی کتاب سے کفر کرنے لگے تو وہ (اس کے) غضب بالائے غضب میں مبتلا ہوگئے اور کافروں کیلئے ذلیل کرنے والا عذاب ہے

آیت نمبر 90 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بئسما اشتروا۔ بئس عرب کلام میں مذمت کے لئے جسے نعم مدح کے لئے ہے ان میں سے ہر ایک کی چار لغات ہیں : بئس بئس بئس بئس، نعم نعم نعم نعم۔ سیبویہ کا مذہب یہ ہے کہ ما، بئس کا فاعل ہے اور یہ اسمائے اجناس اور نکرات پر داخل ہوتا ہے اسی طرح نعم ہے تو کہتا ہے : نعم الرجل زیدٌ، نعم رجلاً زیدٌ جب اس کے ساتھ اسم بغیر الف، لام کے ہو تو اسے ہمیشہ نصب دی جاتی ہے جب اس پر الف لام ہو تو ہمیشہ مرفوع ہوتا ہے رجلاً پر نصب تمییز کی بنا پر ہے اور نعم میں ضمیر تفسیر کی شرط پر مضمر ہے اور زید دو اعتبار سے مرفوع ہے۔ ایک مبتدا محذوف کی خبر کے اعتبار سے گویا پوچھا گیا ممدوح کون ہے تو تو نے کہا : وہ زید ہے۔ دوسری وجہ مبتدا کی حیثیت سے اور اس کا ماقبل خبر ہے۔ ابو علی نے جائز قرار دیا ہے کہ اس کے ساتھ موصولہ اور غیر موصولہ ملا ہوا ہو اس حیثیت سے کہ وہ مبہمہ ہو جو کثرت پر دلالت کرتا ہے۔ کسی ایک کو خاص نہیں کرتا۔ سیبویہ کے نزدیک تقدیر اس طرح ہے (1) : بئس الشیء اشتروا بہ انفسھم ان یکفروا۔ پس ان یکفروا محل رفع میں مبتدا ہوگا اور اس کا ماقبل خبر ہوگا جیسے تیرا قول ہے بئس الرجل زیدٌ اور اس قول کے مطابق ما موصولہ ہوگا۔ اخفش نے کہا (2): ما تمییز کی بنا پر محل نصب میں ہے جیسے تیرا قول ہے : بئس رجلاً زیدٌ پس تقدیر عبارت اس طرح ہوگی : بئس شیئاً ان یکفروا۔ اشتروا بہ انفسھم۔ اس قول کے مطابق ما کی صفت ہوگا۔ فراء نے کہا : (3) بئسما ایک شے ہے حبذا کی طرح مرکب کیا گیا ہے اس قول کے مطابق یہ معرترضہ ہے۔ کیونکہ فعل بغیر فاعل کے رہ جائے گا۔ کسائی نے کہا : ما اور اشتروا، ایک اسم کے قائم مقام ہے اور یہ قائم بنفسہ ہے۔ تقدیر عبارت اس طرح ہوگی : بئس اشتراؤھم ان یکفروا۔ یہ قول مردود ہے کیونکہ نعم اور بئس اسم معین معرف پر داخل نہیں ہوتے۔ شراء ضمیر کی طرف مضاف ہونے کی وجہ سے معرفہ بن گیا ہے۔ نحاس نے کہا : ان اقوال میں سے واضح قول اخفش اور سیبویہ کا قول ہے۔ فراء اور کسائی نے کہا : ان یکفروا اگر تو چاہے تو ان کو محل جز میں کر دے بہ میں ھاء ضمیر کی طرف لوٹاتے ہوئے۔ فراء نے کہا : اس کا مطلب ہوگا اشتروا انفسھم بان یکفروا بما انزل اللہ۔ فاشتریٰ بمعنی باع اور بمعنی ابتاع ہے۔ مطلب یہ ہے : بئس الشیء الذی اختاروالانفسھم حیث استبدلوا لباطل بالحق والکفر بالایمان۔ (یعنی بری ہے وہ چیز جو انہوں نے اپنے نفسوں کے لئے اختیار کی اس حیثیث سے کہ انہوں نے حق کو باطل سے بدلا اور ایمان کو کفر سے بدلا) ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بغیاً اس کا معنی حسداً ہے یہ قتادہ اور سدی کا قول ہے (4) ۔ یہ مفعول لا جلہ ہے۔ یہ حقیقت میں مصدر ہے، اصمعی نے کہا : یہ عربوں کے اس قول سے ماخوذ ہے قد بغی الجرح، زخم خراب ہوگیا۔ بعض نے فرمایا : اس کا اصل معنی طلب کرنا ہے اسی وجہ سے زانیہ کو بغیا کہا جاتا ہے۔ ان ینزل اللہ یہ محل نصب میں ہے یعنی لان ینزل۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے اپنے نبی ﷺ پر فضل نازل کرنے کی وجہ سے۔ ابن کثیر، ابو عمرو، یعقوب اور ابن محیصن نے ان ینزل تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اسی طرح پورے قرآن میں تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے سوائے ما ینزلہ جو سورة الحجر میں ہے اور سوائے علی ان ینزل آیۃً جو سورة الانعام میں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فبأء و وہ لوٹے۔ اکثر یہ شر میں بولا جاتا ہے یہ پہلے گزر چکا ہے بغضبٍ علی غضب، غضب اللہ علیھم کا معنی گزر چکا ہے۔ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی طرف سے سزا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : پہلا غضب ان کے بچھڑے کی عبادت کرنے کی وجہ سے ہے اور دوسرا غضب حضرت محمد ﷺ کا انکار کرنے کی وجہ سے ہے۔ یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے۔ حضرت عکرمہ نے کہا کیونکہ انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا کفر کیا پھر حضرت محمد ﷺ کا انکار کیا یعنی یہود نے ایسا کیا۔ سعید نے قتادہ سے روایت کیا ہے، پہلا غضب ان کا انجیل کے انکار کی وجہ سے تھا، دوسرا قرآن کا انکار کرنے کی وجہ سے تھا۔ بعض نے فرمایا : مراد تائید ہے (1) اور اس حال کی شدت کے لئے دو غضبوں کا ذکر فرمایا نہ کہ دو معصیتوں کی تعلیل کے لئے دو غضبوں کا ذکر فرمایا : مراد تائید ہے (1) اور اس حال کی شدت کے لئے دو غضبوں کا ذکر فرمایا نہ کہ دو معصیتوں کی تعلیل کے لئے دو غضبوں کا ذکر فرمایا مھینٌ یہ الھوان سے ہے، یہ ہمیشہ دوزخ میں رہنے کا مقتضی ہے بخلاف مسلمان گنہگار کے خلود کے، کیونکہ مسلمانوں کا آگ میں جانا ان کی طہارت اور تمحیص کے لئے ہوگا جیسے زانی کو رجم کیا جاتا ہے، چور کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے، اس کا بیان سورة نساء میں حضرت ابو سعید خدری کی حدیث میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔
Ayah 2:91

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا نُؤْمِنُ بِمَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَ یَكْفُرُوْنَ بِمَا وَرَآءَهٗ١ۗ وَ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَهُمْ١ؕ قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُوْنَ اَنْۢبِیَآءَ اللّٰهِ مِنْ قَبْلُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:91 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے (اب) نازل فرمائی ہے اس کو مانو تو کہتے ہیں کہ جو کتاب ہم پر (پہلے) نازل ہوچکی ہے ہم تو اسی کو مانتے ہیں (یعنی) یہ اس کے سوا اور (کتاب) کو نہیں مانتے حالانکہ وہ (سراسر) سچی ہے اور جو ان کی (آسمانی) کتاب ہے اس کی بھی تصدیق کرتی ہے (ان سے) کہہ دو کہ اگر تم صاحب ایمان ہوتے تو خدا کے پیغمبروں کو پہلے ہی کیوں قتل کیا کرتے

آیت نمبر 91 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذا قیل لھم امنوا تصدیق کرو بما انزل اللہ یعنی قرآن قالوا نؤمن یعنی ہم تصدیق کرتے ہیں۔ بما انزل علینا یعنی تورات۔ ویکفرون بما ورآءہ یعنی جو تورات کے علاوہ ہے، یہ فراء کا قول ہے۔ قتادہ نے کہا : (2) جو تورات کے بعد ہے۔ یہی قول ابو عبیدہ کا ہے، معنی ایک ہے۔ جوہری نے کہا : وراء بمعنی خلف (پیچھے) ہے کبھی یہ بمعنی قدام (آگے) ہوتا ہے۔ یہ (وراء) اضداد میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وکان ورآءھم ملک (الکہف :79) (یعنی آگے بادشاہ تھا) وراء کی تصغیرو رئیۃ ہے یعنی ھاء کے ساتھ یہ شاذ ہے۔ وراء پر نصب ظرف کی بنا پر ہے۔ اخفش نے کہا : کہا جاتا ہے لقیتہ من وراء۔ غایت کی بنا پر اس کو رفع دیا جاتا ہے جب مضاف نہ ہو اسے اسم غیر متمکن بنائے گا، جیسے تیرا قول من قبل ومن بعد میں ہے۔ اذا انا لم اومن علیک ولم یکن لقاءک الا من وراء وراء جب مجھے تجھ پر امن نہ ہو تو تیری ملاقات پردے کے پیچھے ہوگی۔ میں کہتا ہوں : حدیث حضرت عائشہ میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قول ہے : انما کنت خلیلاً من وراء وراء۔ میں پردے کے پیچھے خلیل تھا۔ الوراء، پوتے کو بھی کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وھو الحق یہ مبتدا خبر ہیں۔ مصدقاً سیبویہ کے نزدیک حال مؤکدہ ہے لما معھم، ما محل جر میں ہے لام کی وجہ سے اور معھم، ما کا صلہ ہے اور معھم کو نصب ظرف مستقر کی بنا پر ہے اور جنہوں نے اس کو ساکن کیا ہے انہوں نے اس کو حرف بنایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قل فلم تقتلون انبیاء اللہ من قبل یہ یہود کا رد ہے کہ انہوں نے کہا تھا کہ وہ ایمان لاتے ہیں جو ان کی طرف نازل کیا گیا ہے۔ اس سے ان کی تکذیب ہے اور انہیں توبیخ ہے۔ معنی یہ ہے کہ تو نے کیسے قتل کیا حالانکہ تمہیں اس سے منع کیا گیا تھا۔ یہ خطاب ان لوگوں کو ہے جو حضرت محمد ﷺ کے زمانہ میں موجود تھے۔ اور مرادان کے اسلاف ہیں۔ خطاب ان کے بیٹوں کی طرف متوجہ ہے کیونکہ یہ ان کے پیروکار تھے جنہوں نے قتل کیا تھا جیسے ارشاد فرمایا : ولوکانوا یؤمنون باللہ والنبی وما انزل الیہ ما اتخذوھم اولیاء (المائدہ :91) (اور اگر وہ ایمان لائے ہوتے اللہ پر اور نبی پر اور جو اتارا گیا اس پر تو نہ بناتے ان کو اپنا دوست) جب یہ بھی ان کے پیچھے چلے تو یہ ان کے قائم مقام ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : کیونکہ یہ ان کے فعل پر راضی اور خوش تھے اس لئے یہ فعل ان کی طرف منسوب کیا گیا۔ تقتلون فعل مضارع ہے لیکن مراد ماضی ہے کیونکہ من قبل کے قول سے اشکال اٹھ گیا۔ جب کوئی اشکال نہ ہو تو ماضی کا مستقل کے معنی اور مستقبل کا ماضی کے معنی میں لانا جائز ہے۔ الحطیئۃ نے کہا : (1) شھد الحطیئۃ یوم یلقی ربہ ان الولید احق بالعذر اس شعر میں شھد بمعنی یشھد ہے۔ ان کنتم مؤمنین اگر تم ایمان کا اعتقاد رکھتے ہو تو پھر انبیاء کے قتل پر کیوں راضی ہو۔ بعض علماء نے فرمایا ان بمعنی ما ہے اور لم کی اصل لما ہے الف کو حذف کیا گیا استفہام اور خبر میں فرق کرنے کے لئے، اس پر وقف مناسب نہیں، کیونکہ اگر اس پر بغیر ھاء کے وقف کیا جائے گا تو غلطی ہوگی اور اگر اس پر ھاء کے ساتھ وقف کیا جائے گا تو تاریکی میں اضافہ ہوگا۔
Ayah 2:92

وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 2:92 in the Quran reader

اور موسیٰ تمہارے پاس کھلے ہوئے معجزات لے کر آئے تو تم ان کے ( کوہ طور پر جانے کے) بعد بچھڑے کو معبود بنا بیٹھے اور تم (اپنے ہی حق میں) ظلم کرتے تھے

آیت نمبر 92 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولقد جآء کم موسیٰ بالبینت اس میں لام، لام قسم ہے اور البینات سے مراد اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولقد اتینا موسیٰ تسع ایتٍ بینتٍ (الاسراء :101) ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نو واضح نشانیاں عطا فرمائیں۔ وہ یہ تھیں۔ عصا، سخت قحط سالی، ید بیضا، خون، طوفان، مکڑی، جوئیں، مینڈک اور دریا کا پھٹنا۔ بعض نے فرمایا البینات سے مراد تورات اور اس میں موجود ولالات ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ثم اتخذتم العجل اس میں توبیخ ہے، اور ثم تقریع میں واو سے زیادہ بلیغ ہے یعنی آیات میں غور وفکر کے بعد اور ان کے آنے کے بعد تم نے بچھڑے کو معبود بنایا۔ یہ آیت دلیل ہے کہ انہوں نے آیات میں غوروفکر کی مہلت کے بعد یہ جرم کیا اور یہ ان کا بہت بڑا جرم تھا۔ (1)
Ayah 2:93

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ١ؕ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اسْمَعُوْا١ؕ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا١ۗ وَ اُشْرِبُوْا فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْعِجْلَ بِكُفْرِهِمْ١ؕ قُلْ بِئْسَمَا یَاْمُرُكُمْ بِهٖۤ اِیْمَانُكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:93 in the Quran reader

اور جب ہم نے تم (لوگوں) سے عہد واثق لیا اور کوہ طور کو تم پر اٹھا کھڑا کیا (اور حکم دیا) کہ جو (کتاب) ہم نے تم کو دی ہے اسکو زور سے پکڑو اور (جو تمہیں حکم ہوتا ہے اس کو) سنو تو وہ (جو تمہارے بڑے تھے) کہنے لگے ہم نے سن تو لیا لیکن مانتے نہیں اور انکے کفر کے سبب بچھڑا گویا ان کے دلوں میں رچ گیا تھا۔ (اے پیغمبر ﷺ ! ان سے) کہہ دو کہ اگر تم مومن ہو تو تمہارا ایمان تم کو بری بات بتاتا ہے

آیت نمبر 93 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذا خذنا میثاقکم ورفعنا فوقکم الطور خذوا ما اتینکم بقوۃٍ واسمعوا اس پر کلام گزر چکی ہے۔ اسمعوا کا معنی ہے : اطاعت کرو اس سے مراد صرف قول کا ادراک نہیں ہے، بلکہ مراد یہ ہے کہ جو تم نے سنا اس پر عمل کرو اور اسے لازم پکڑو۔ اسی سے ہے سمع اللہ لمن حمدہ یعنی قبول فرمایا۔ شاعر نے کہا : (2) دعوت اللہ حتی خفت الا یکون اللہ یسمع ما اقول میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی حتیٰ کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ قبول نہ فرمادے جو میں کہتا ہوں۔ الراجز نے کہا : والسمع والطاعۃ والتسلیم خیرٌ واعفی لبنی تمیم قبول کرنا، اطاعت کرنا، تسلیم کرنا بنی تمیم کے لئے بہتر ومناسب ہے اور گناہوں کی معافی کا باعث ہے۔ قالوا سمعنا وعصینا اس میں اختلاف ہے کہ ان سے یہ الفاظ حقیقۃً زبان سے ادا ہوئے تھے یا انہوں نے ایسا فعل کیا تھا جو ان کو اس کے قول کے قائم مقام تھا۔ اس صورت میں یہ مجاز ہوگا۔ جیسے شاعر نے کہا : امتلا الحوض وقال قطنی مھلاً رویداً قد ملأت بطنی (3) حوض بھر گیا اور اس نے مجھے کہا : ٹھہر جاؤ میرا پیٹ تو نے بھر دیا ہے۔ انہوں نے جو کہا تھا نومن بما انزل علینا اس قول میں ان پر احتجاج (حجت) ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واشربوا فی قلوبھم العجل یعنی بچھڑے کی محبت ان کے دلوں میں راسخ ہوگئی۔ معنی یہ ہے کہ ان کے دلوں نے اس کی محبت کو پینا شروع کیا۔ یہ تشبیہ اور مجاز ہے مراد یہ ہے کہ ان کے دلوں میں بچھڑے کی محبت راسخ ہوگئی۔ (1) حدیث میں ہے تعرض الفتن علی القلوب کا لحصیر عوداً عوداً فأی قلب اشربھا نکت فیہ نکتۃٌ سوداء۔ (دلوں پر فتنے ڈالے جائیں گے چٹائی کی طرح بار بار، جو دل ان کو پیئے گا اس میں سیاہ نکتہ پیدا ہوجائے گا) اس حدیث کو مسلم نے نقل کیا ہے، کہا جاتا ہے : اشرب قلبہ حب کذا۔ اس کی محبت اس کے دل میں راسخ ہوگئی۔ زہیر نے کہا : فصحوت عنھا بعد حب داخل والحب تشربہ فؤادک داء (2) میں نے اس کی محبت کے دل میں داخل ہونے کے بعد صحت پائی، محبت دل کے لئے بیماری ہے۔ بچھڑے کی محبت کو شرب سے تعبیر فرمایا کھانے سے تعبیر نہیں فرمایا کیونکہ پانی کا پینا اعضاء میں جلدی چلا جاتا ہے حتیٰ کہ پیٹ تک پہنچ جاتا ہے جبکہ کھانا اتنا جلدی اعضا میں نہیں پہنچتا۔ اس معنی پر ایک تابعی نے زیادتی کی ہے اس نے اپنی بیوی عثمہ سے کہا : وہ کسی معاملہ میں اس پر ناراض ہوا تو اسے طلاق دے دی حالانکہ وہ اس سے بہت محبت کرتا تھا۔ عثمہ کی محبت میرے دل میں اتر گئی اور جنگل میں خوف زدہ کے ساتھ چلتی ہے۔ وہ محبت وہاں تک سرایت کرگئی ہے جہاں تک نہ کوئی پینا پہنچتا ہے نہ کوئی غم اور نہ کوئی خوشی پہنچتی ہے۔ جب میں اس سے کیا ہوا عہد یاد کرتا ہوں تو میں اڑنے کے قریب پہنچ جاتا ہوں کاش ! انسان اڑ سکتا ہوتا۔ سدی اور ابن جریج نے کہا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس بچھڑے کو توڑا اور اسے پانی میں بکھیر دیا۔ آپ نے بنی اسرائیل سے فرمایا : اس پانی سے پیو، وہ سب نے پیا۔ جو اس بچھڑے سے محبت کرتا تھا۔ اس کے ہونٹوں پر سونے کا برادہ نکلا (3) ، اور روایت ہے کہ کسی نے وہ پانی نہ پیا تھا مگر وہ مجنون ہوگیا تھا (4) ۔ یہ قشیری نے حکایت کیا ہے۔ میں کہتا ہوں : دریا میں اس کا بکھیرنا، اس پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد دلالت کرتا ہے : ثم لننسفنہ فی الیم نسفاً ۔ (طہ) (پھر ہم بکھیر کر بہادیں گے اس سمندر میں اس (کی راکھ) کو) ۔ اور رہا پانی کا پینا اور ہونٹون پر سونے کے برادہ کا ظہور، اس کو اللہ تعالیٰ کا قول رد کرتا ہے : واشربوا فی قلوبھم العجل۔ سیراب ہوچکے تھے ان کے دل بچھڑے (کے عشق) سے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے قل بئسما یامرکم بہ ایمانکم یعنی تمہارا وہ ایمان جو تم اپنے زعم سے کہتے ہو نؤمن بما انزل بعض نے فرمایا : یہ کلام نبی کریم ﷺ کو خطاب ہے۔ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ یہود کو توبیخ کرو یعنی اے محمد ! ﷺ آپ انہیں فرمائیں کہ بری ہیں تمہاری یہ اشیاء جو تم نے کیں اور جن کا تمہارے ایمان نے تمہیں حکم دیا (5) ۔ بئسما پر کلام پہلے گزر چکا ہے۔
Ayahs 2:94–95

قُلْ اِنْ كَانَتْ لَكُمُ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ اللّٰهِ خَالِصَةً مِّنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:94 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر آخرت کا گھر اور لوگوں (یعنی مسلمانوں) کے لئے نہیں اور خدا کے نزدیک تمہارے ہی لئے مخصوص ہے اگر سچے ہو تو موت کی آرزو تو کرو

وَ لَنْ یَّتَمَنَّوْهُ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:95 in the Quran reader

لیکن ان اعمال کی وجہ سے جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں یہ کبھی اس کی آرزو نہیں کریں گے۔ اور خدا ظالموں سے خوب واقف ہے

آیت نمبر 94 تا 95 جب یہود نے باطل دعوے کیے تو اللہ تعالیٰ نے ان دعوؤں کو اپنی کتاب میں ان کی طرف سے بیان فرمایا۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : لن تمسنا النارالا ایاماً معوددۃً (البقرہ : 80) اور انہوں نے کہا : ہرگز نہ چھوئے گی ہمیں دوزخ کی آگ بجز گنتی کے چند دن۔ وقالوا لن یدخل الجنۃ الا من کان ھودًا او نصری (البقرہ :111) اور انہوں نے کہا : ہرگز داخل نہ ہوں گے جنت میں مگر جو یہودی یا نصرانی ہوں گے) اور انہوں نے کہا : نحن ابنٰٓؤا اللہ واحبآؤہ (المائدہ :18) (ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں) اللہ تعالیٰ انہیں جھوٹا ثابت کیا اور اس پر حجت لازم فرمائی۔ اور فرمایا : اے پیارے محمد ! ﷺ انہیں کہو۔ ان کا نت لکم الدار الاخرۃ۔ دار آخرت سے مراد جنت ہے یعنی اگر تمہارے لئے جنت ہے فتمنوا الموت ان کنتم صدقین۔ تو موت کی تمنا کرو اگر تم اپنے اقوال میں سچے ہو) ۔ کیونکہ جس کا یہ اعتقاد ہو کہ وہ جنتی ہے تو اس کے نزدیک دنیوی زندگی سے موت محبوب ہوتی ہے کیونکہ اسے وہاں جنت کی نعمتیں ملیں گی اور اس سے دنیا کی تکالیف ختم ہوجائیں گی۔ پس وہ اپنے اعمال کی قباحت اور نحن ابنؤا اللہ واحباؤہ (المائدہ :18) کے قول کی وجہ سے اپنے کفر کی معرفت کی وجہ سے اور دنیا پر حرص کی وجہ سے موت کی تمنا کرنے سے رک گئے (1) ۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف سے اپنے سچے قول کے ساتھ خبر دی ولن یتمنوہ ابدًا بما قدمت ایدیھم واللہ علیمٌ بالظلمین۔ یہ ان کے جھوٹ کی تحقیق کے طور پر فرمایا اگر وہ تمنا کرتے تو مر جاتے اور اپنا ٹھکانا دوزخ میں دیکھ لیتے۔ بعض علماء نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے انہیں تمنا کے اظہار سے پھیر دیا اور اس سے روک دیا تاکہ نبی کریم ﷺ کے لئے معجزہ بن جائے۔ یہ تین وجوہ تھیں ان کے تمنا کو ترک کرنے کی۔ عکرمہ نے حضرت ابن عباس سے فتمنوا الموت کے تحت روایت کیا ہے کہ مراد یہ ہے کہ ہم میں سے اور تم میں سے ایک فریق کے جھوٹا ہونے پر موت کی دعا تو کرو (2) ۔ تو انہوں نے دعا نہ کی کیونکہ انہیں اپنے جھوٹا ہونے کا علم تھا۔ بعض علماء نے فرمایا : تمنا کبھی زبان سے ہوتی ہے اور کبھی دل سے ہوتی ہے پھر یہ کہاں سے معلوم ہوا کہ انہوں نے دل سے تمنا نہیں کی تھی۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس کے متعلق قرآن نے کہہ دیا ولن یتمنوہ ابدًا وہ ہرگز تمنا نہیں کریں گے۔ اگر وہ دلوں کے ساتھ تمنا کرتے تو اسے اپنی زبانوں سے ظاہر کرتے تاکہ نبی کریم ﷺ کی بات کو رد کردیں اور آپ ﷺ کی حجت کو باطل کردیں۔ یہ بالکل واضح ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : خالصۃٌ۔ اس کی نصب کان کی خبر کی بنا پر ہے۔ اگر تو چاہے تو اسے حال بنا دے۔ اور عند اللہ خبر ہو۔ ابدًا ظرف زمان ہے قلیل اور کثیر پر واقع ہوتا ہے جیسے حین اور وقت قلیل اور کثیر کے لئے استعمال ہوتے ہیں، عمر کی ابتدا سے موت تک کی مدت یہاں مراد ہے۔ بما میں ما بمعنی الذی ہے اور عائد محذوف ہے۔ تقدیر عبارت ہے : قدمتہ، اور ما مصدریہ ہو تو عائد کی ضرورت نہیں ہے ایدیھم محل رفع میں ہے یا سے ضمہ حذف کیا گیا ہے کسرہ کے ساتھ اس کے ثقل کی وجہ سے۔ اگر یہ محل نصب میں ہو تو تو اسے نصب دے گا کیونکہ نصب خفیف ہے اور شعر میں ساکن کرنا بھی جائز ہے۔ واللہ علیمٌ بالظلمین یہ مبتدا خبر ہیں۔
Ayah 2:96

وَ لَتَجِدَنَّهُمْ اَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰى حَیٰوةٍ١ۛۚ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا١ۛۚ یَوَدُّ اَحَدُهُمْ لَوْ یُعَمَّرُ اَلْفَ سَنَةٍ١ۚ وَ مَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ یُّعَمَّرَ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 2:96 in the Quran reader

بلکہ ان کو تم اور لوگوں سے زندگی کے کہیں حریص دیکھو گے یہاں تک کہ مشرکوں سے بھی ان میں سے ہر ایک یہی خواہش کرتا ہے ؟ کہ کاش وہ ہزار برس جیتا رہے مگر اتنی لمبی عمر اس کو مل بھی جائے تو اسے عذاب سے تو نہیں چھڑا سکتی اور جو کام یہ کرتے ہیں خدا ان کو دیکھ رہا ہے

آیت نمبر 96 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولتجدنھم احرص الناس علیٰ حیوۃٍ یعنی یہود زندگی پر لوگوں سے زیادہ حریص ہیں۔ ومن الذین اشرکوا بعض علماء نے فرمایا من الذین اشرکوا سے پہلے احرص محذوف ہے کیونکہ انہیں اپنے کرتوتوں کی معرفت تھی۔ اور انہیں معلوم تھا کہ اللہ کی بارگاہ میں ان کے لئے کوئی خیر نہیں ہے اور مشرکین عرب صرف دنیوی زندگی کو جانتے تھے، آخرت کے متعلق انہیں کوئی علم نہ تھا۔ آپ نے ان کے شاعر کا قول ملاحظہ نہیں کیا : تمتع من الدنیا فانک فان من النثوات والنساء الحسان تو نشہ اور حسین عورتوں سے لطف اندوز ہولے کیونکہ تو فنا ہونے والا ہے۔ احدھم میں ضمیر اس قول کے مطابق یہود کی طرف لوٹ رہی ہے۔ بعض نے فرمایا : حیوۃٍ پر کلام مکمل ہے، پھر مشرکین کے گروہ کے متعلق نئے سرے سے خبر دی جا رہی ہے۔ بعض نے فرمایا : اس سے مراد مجوسی ہیں (1) اور چھینک مارنے والے کو اپنی زبان میں دعا دیتے تھے جس کا معنی ہے : تو ہزار سال زندہ رہ۔ ہزار کا ذکر خصوصی طور پر فرمایا کیونکہ یہ حساب میں عقد کی انتہا ہے (2) ۔ حسن کا نظریہ ہے کہ الذین اشرکوا سے مراد مشرکین عرب ہیں ان کو خصوصی طور پر ذکر کیا گیا ہے کیونکہ وہ دوبارہ اٹھنے پر ایمان نہیں رکھتے تھے۔ وہ عمر کے لمبا ہونے کی تمنا کرتے تھے (3) ۔ سنۃ کی اصل سنھۃ ہے بعض نے فرمایا سنوۃٌ ہے۔ بعض نے فرمایا اس کلام میں تقدیم وتاخیر ہے معنی یہ ہے ولتجدنھم وطائفۃ من الذین اشرکوا احرص الناس علی حیاۃ۔ (تم انہیں اور مشرکین کے ایک طائفہ کو پاؤ گے زندگی پر سب لوگوں سے زیادہ حریص ) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یود احدھم لو یعمر الف سنۃٍ ، یود اصل میں یودد تھا، دال کو دال میں ادغام کیا گیا تاکہ ایک جنس کے دو متحرک حرف جمع نہ ہوجائیں دال کی حرکت واو کو دی گئی تاکہ یہ دلالت کرے کہ ایسا کیا گیا ہے۔ کسائی نے حکایت کیا ہے وددت، اس صورت میں یود، واو کے کسرہ کے ساتھ بھی جائز ہے یود کا معنی تمنا کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وما ھو بمذحذحہ من العذاب ان یعمر نحویوں کا ھو کے بارے میں اختلاف ہے۔ بعض نے فرمایا : یہ احد جو پہلے گزر چکا اس کے لئے ضمیر ہے۔ تقدیر یوں ہوگی : ما احدھم بمزحزحہ۔ اور مبتدا کی خبر مجرور ہے۔ ان یعمر، بمذحذح کا فاعل ہے۔ ایک فرقہ نے کہا : تعمیر کے لئے ضمیر ہے، تقدیر یوں ہوگی وما التعمیر بمذحذحہ۔ اور خبر مجرور ہے ان یعمر، اس قول کے مطابق تعمیر کا بدل ہے۔ طبری نے ایک فرقہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا ھو عماد ہے (1) ، (اسی کو فصل بھی کہتے ہیں) میں کہتا ہوں : اس قول میں بعد ہے کیونکہ عماد وہ ہوتی ہے جو دو متلازم چیزوں کے درمیان آجائے۔ مثلاً ان کان ھذا ھو الحق اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولکن کانوا ھم الظالمین (پہلی آیت میں کان کے اسم اور خبر کے درمیان ہے اور اسی طرح دوسری مثال میں بھی ہے) بعض علماء نے فرمایا : ما عامل حجازیہ ہے، اور ھو اس کا اسم ہے اور خبر بمذحذحہ ہے، ایک طائفہ نے کہا : ھو ضمیر شان ہے۔ ابن عطیہ نے کہا (2): اس میں بعد ہے کیونکہ نحویوں سے محفوظ قول یہ ہے کہ ضمیر شان وہ ہوتی ہے جس کی تفسیر ایسے جملہ کے ساتھ جاتی ہے جو حرف جر سے سلامت ہو۔ (بمذحذحہ ) ، الزحرحۃ کا مطلب ہے دور کرنا۔ کہا جاتا ہے : زحذحتہ میں نے اسے دور کیا۔ فتزخرح، یعنی وہ دور ہوا، اپنی جگہ سے ہٹ گیا۔ یہ لازم اور متعدی دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ شاعر نے متعدی استعمال کیا ہے۔ یا قابض من نفسٍ اذا احتضرت وغافر الذنب زحذحنی عن النار اے نفس سے روح قبض کرنے والے ! جب وہ قریب المرگ ہوجائے۔ اے گناہوں کو معاف کرنے والے ! مجھے آگ سے بچا لے۔ ذوالرمہ نے کہا : یا قابض الروح عن جسمٍ عصی زمناً وغافر الذنب زحذحنی عن النار اے جسم سے روح قبض کرنے والے ! جس نے ایک زمانہ نافرمانی کی۔ اے گناہوں کو بخشنے والے ! مجھے آگ سے بچا۔ ایک اور شاعر نے لازم معنی میں استعمال کیا ہے : خلیلی مابال الدحی لا یتذحذح وما بال ضوء الصبح لا یتوضح اے میرے دو دوستوں ! اس تاریکی کو کیا ہے یہ تو دور ہی نہیں ہوتی اور صبح کی روشنی کو کیا ہے واضح نہیں ہوتی۔ نسائی نے حضرت ابوہریرہ سے انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : جو اللہ تعالیٰ کے راستہ میں ایک دن روزہ رکھے گا اللہ تعالیٰ اس کے چہرہ کو آگ سے ستر سال دور کر دے گا٭۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واللہ بصیرٌ بما یعملون یعنی یہ جو ہزار سال زندہ رہنے کی تمنا کرنے والے ہیں ان کے اعمال کو اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے۔ جن قراء نے تعلمون تا کے ساتھ ُ ڑھا ہے (1) ان کے نزدیک تقدیر اس طرح ہے : قل لھم یا محمد اللہ بصیرٌ بما تعملون۔ اے پیارے محمد ! ﷺ تم انہیں فرماؤ کہ اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے جو تم کرتے ہو۔ علماء نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اپنا وصف بصیر فرمایا۔ اس کا یہ معنی ہے کہ وہ خفیہ امور کو جاننے والا ہے اور البصیر عرب کلام میں اسے کہتے ہیں جو کسی چیز کو جاننے والا اس کے متعلق باخبر ہو۔ عربوں کا قول ہے : فلان بصیر بالطب وبصیر بالفقہ وبصیر بملاقات الرجال، فلاں طب کو جاننے والا ہے فلاں فقہ کو جاننے والا ہے، مردوں سے ملاقات کو جاننے والا ہے۔ شاعر نے کہا : فان تسألونی بالنساء فانی بصیر بادواء النساء طبیب اگر تم مجھ سے عورتوں کے متعلق پوچھو گے تو میں عورتوں کے امراض کو جاننے والا اور طبیب ہوں۔ خطابی نے کہا البصیر کا معنی عالم ہے۔ البصیر کا معنی دیکھنے والا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اپنا وصف بصیر ذکر فرمایا اس کا مطلب ہے : دیکھی جانے والی اشیاء بنانے والا ہے۔ یعنی ان اشیاء کا ادراک کیا جاتا ہے آنکھوں کے ساتھ، اللہ تعالیٰ نے جو ادراک کرنے والا آلہ اور قوت پیدا فرمائی ہے اس کے ساتھ ان کا ادراک کیا جاتا ہے واللہ بصیرٌ بالعباد۔ (آل عمران) یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دیکھنے والا بنانے والا ہے۔
Ayah 2:97

قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰى قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:97 in the Quran reader

کہہ دو کہ جو شخص جبرئیل کا دشمن ہو (اس کو غصے میں مرجانا چاہئے) اس نے تو (یہ کتاب) خدا کے حکم سے تمہارے دل پر نازل کی ہے جو پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور ایمان والوں کے لیے ہدایت اور بشارت ہے

آیت نمبر 97 اس آیت کے نزول کا سبب یہ کہ یہود نے نبی کریم ﷺ سے کہا : کوئی نبی نہیں آیا مگر اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے ایک فرشتہ وحی اور رسالت کے ساتھ آیا، تمہارا ساتھی (فرشتہ) کون ہے تاکہ ہم آپ کی اتباع کریں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : جبریل، انہوں نے کہا : وہ تو جنگ وجدل کو لاتا ہے۔ وہ ہمارا دشمن ہے، اگر آپ میکائیل کا نام لیتے جو بارش اور رحمت لاتا ہے تو ہم آپ کی اتباع کرتے۔ پس اللہ تعالیٰ نے للکفرین۔ تک یہ آیت نازل فرمائی۔ اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیا ہے (2) ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فانہ نزلہ علیٰ قلبک، انہ میں ضمیر دو معانی کا احتمال رکھتی ہے پہلا معنی یہ کہ فان اللہ نزل۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے جبریل کو آپ کے دل پر اتارا۔ دوسرا معنی یہ کہ فان جبریل۔ یعنی جبریل نے قرآن کو آپ کے دل پر اتارا۔ قلب کو خصوصی طور پر ذکر فرمایا کیونکہ یہ عقل، علم اور معرف کے حصول کی جگہ ہے۔ یہ آیت جبریل کے شرف اور اس کے دشمنوں کی مذمت پر دلالت کرتی ہے۔ (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : باذن اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کے ارادہ اور اس کے علم سے۔ مصدقاً لما بین یدیہ اس سے مراد تورات ہے۔ وھدًی وبشری للمؤمنین اس کا معنی پہلے گزر چکا ہے۔
Ayah 2:98

مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ جِبْرِیْلَ وَ مِیْكٰىلَ فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:98 in the Quran reader

جو شخص خدا کا اور اس کے فرشتوں کا اور اس کے پیغمبروں کا اور جبرئیل کا اور میکائیل کا دشمن ہو تو ایسے کافروں کا خدا دشمن ہے

آیت نمبر 98 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : من کان عدوا للہ یہ شرط ہے اور اس کا جواب فان اللہ عدوٌ للکفرین ہے۔ یہ جبریل کے دشمنوں کے لئے وعید اور مذمت ہے اور یہ اعلان ہے کہ بعض کی عداوت اللہ تعالیٰ کی عداوت کا تقاضا کرتی ہے اور بندے کا اللہ تعالیٰ سے عداوت رکھنا معصیت ہے، اس کی اطاعت سے اجتناب ہے اور اس کے اولیاء سے دشمنی ہے اور اللہ تعالیٰ کا بندے کے لئے دشمنی رکھنا، اسے عذاب، اور اس پر عداوت کے اثر کا اظہار کرنا ہے (2) ۔ اگر یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبریل اور حضرت میکائیل کا خصوصی ذکر کیوں فرمایا اگرچہ ملائکہ کا ذکر ان کو بھی شامل تھا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ان کے شرف کی وجہ سے خصوصی ذکر فرمایا۔ جیسا کہ فرمایا : فیھما فاکھۃٌ ونخلٌ ورمان۔ (الرحمن) فاکھۃ ٌ (پھل) میں نخلٌ (کھجور) اور رمانٌ (انار) کا ذکر تھا لیکن ان کے شرف کے لئے علیحدہ ذکر فرما دیا۔ بعض علماء نے فرمایا : ان کا خصوصی ذکر کیا کیونکہ یہود نے ان کا ذکر کیا تھا، آیت کا نزول ان کے سبب سے تھا پس ان کا ذکر واجب تھا تاکہ یہود یہ کہیں کہ ہم نے اللہ تعالیٰ اور تمام فرشتوں سے عداوت نہیں کی۔ پس اللہ تعالیٰ نے تخصیص کے ذریعے ان کی تاویل کو باطل کرنے کے لئے نص قائم فرما دی، علماء لغت نے جبریل اور میکائیل میں کئی لغات بیان کی ہیں۔ جبریل میں دس لغات ہیں : 1۔ جبریل یہ اہل حجاز کی لغت ہے۔ حضرت حسان نے کہا : وجبریل رسول اللہ فینا (جبریل ہم میں اللہ کے رسول ہیں۔ ) 2۔ جبریل۔ (جیم کے فتحہ کے ساتھ) یہ حسن اور ابن کثیر کی قراءت ہے، ابن کثیر سے مروی ہے کہ اس نے کہا : میں نے نبی کریم ﷺ کو خواب میں دیکھا آپ جبریل اور میکائیل پڑھ رہے تھے میں ہمیشہ ان کو ایسا ہی پڑھوں گا۔ 3۔ جبرئیل (ہمزہ کے بعد یاء کے ساتھ جیسے جبرعیل) جیسا کہ اہل کوفہ نے پڑھا ہے (3) انہوں نے دلیل کے طور پر یہ شعر پڑھا ہے : شھدنا فما تلقی لنا من کتیبۃ مدعی الدھر الا جبرئیل امامھا (ہم نے دیکھا پس ہمیں ایک زمانہ کوئی لشکر نہ ملا مگر جبریل اس کے آگے تھا) یہ تمیم اور قیس کی لغت ہے۔ 4۔ جبریل (علی وزن جبرعل) مقصور ہے یہ ابوبکر عن عاصم کی قراءت ہے۔ (1) 5۔ اس کی مثل ہے مگر لام پر شد ہے یہ یحییٰ بن یعمر کی قراءت ہے۔ (2) 6۔ جبرائل (را کے بعد الف پھر ہمزہ) اس طرح عکرمہ نے پڑھا ہے۔ 7۔ اس کی مثل ہے لیکن ہمزہ کے بعد یا ہے۔ 8۔ جبرئییل (ہمزہ کے بعد دو یا کے ساتھ) اس طرح اعمش اور یحییٰ بن یعمر نے پڑھا ہے۔ (3) 9۔ جبرئین۔ (جیم مفتوحہ، ہمزہ مک سورة اور اس کے بعد یا اور نون کے ساتھ) 10۔ جبرین (جیم کے کسرہ، یا کی تسکین اور بغیر ہمزہ کے نون کے ساتھ) یہ بنی اسد کی لغت ہے (4) ۔ طبری نے کہا : اس طرح نہیں پڑھا گیا۔ نحاس نے کہا اور اس نے ابن کثیر کی قراءت ذکر کی ہے۔۔۔ کلام عرب میں فعلیل معروف نہیں ہے۔ فعلیل ہے۔ جیسے دہلیز، قطمیر، برطیل وغیرہ۔ یہ انکار نہیں کیا جاتا کہ جو عجمی کلام میں ہو اس کی عرب کلام میں مثال نہیں اور نہ یہ انکار ہے کہ اس میں تغیر کثیر ہے جیسے عرب کہتے ہیں : ابراھیم، ابرھم، ابراھم وابراھام۔ بعض علماء نے کہا : جبریل عجمہ اسم ہے عربوں نے اسے عربی بنایا اسی وجہ سے اس میں کئی لغات ہیں اور اسی وجہ سے یہ منصرف نہیں ہے۔ میں کہتا ہوں : کتاب کے آغاز میں گزر چکا ہے کہ صحیح یہ ہے کہ یہ الفاظ عربی ہیں ان کو جبریل واضح عربی زبان میں لے کر آئے ہیں۔ نحاس نے کہا : جبریل کی جمع مکسر جباریل بنائی جاتی ہے اور میکائیل میں چھ لغات ہیں : 1۔ میکاییل۔ یہ نافع کی قراءت ہے۔ میکائیل (ہمزہ کے بعد یاء کے ساتھ) یہ حمزہ کی قراءت ہے۔ میکال۔ یہ اہل حجاز کی لغت ہے اور ابو عمر و وحفص عن عاصم کی قراءت ہے۔ ابن کثیر سے تین وجوہ مروی ہیں۔ کعب بن مالک نے کہا : ویوم بدر لقینا کم لنا مددٌ فیہ مع النصر میکالٌ وجبریل جنگ بدر میں ہمارا تم سے مقابلہ ہوا تو ہمارے لئے مدد تھی اور اس مدد میں میکائیل وجبریل تھے۔ ایک اور شاعر نے کہا : (5) عبدوا الصلیب وکذبوا بحمداً وبجبریل وکذبوا میکالا انہوں نے صلیب کی عبادت کی اور محمد ﷺ کو جھٹلایا اور جبریل ومیکائیل کو جھٹلایا۔ 4۔ میکئیل جسے میکعیل یہ ابن محیصن کی قراءت ہے۔ 5۔ میکاییل (دویا) یہ اعمش کی قراءت ہے۔ (ان سے اختلاف کے ساتھ ) 6۔ میکاء ل۔ جیسے کہا جاتا ہے اسراء ل (ہمزہ مفتوحہ کے ساتھ) یہ عجمی اسم ہے اسی وجہ سے غیر منصرف ہے۔ حضرت ابن عباس نے ذکر کیا ہے کہ جبر، میکا اور اسراف یہ تمام عجمی الفاظ ہیں۔ ان کا معنی عبد، غلام ہے اور ایل اللہ تعالیٰ کا اسم ہے (1) ۔ اسی سے حضرت ابوبکر صدیق کا قول ہے جب انہوں نے مسیلمہ کذاب کی سجع سنی۔ یہ ایسی کلام ہے جو ال سے نہیں ہے یعنی اللہ کی طرف سے نہیں ہے (2) ۔ قرآن حکیم میں ہے : لا یرقبون فی مؤمن الا ولا ذمۃً (توبہ :10) ایک تاویل کے مطابق اس آیت میں الا سے مراد اللہ ہے۔ تفصیل آگے آئے گی۔ ماوردی نے کہا : جبرئیل اور میکائیل دو اسم ہیں ایک کا معنی عبد اللہ اور دوسرے کا معنی عبید اللہ ہے کیونکہ اہل سے مراد اللہ تعالیٰ ہے جبر کا معنی عبد ہے اور میکا کا معنی عبید ہے، گویا جبریل کا معنی عبد اللہ اور میکائیل کا معنی عبید اللہ ہے۔ یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے مفسرین میں اس کی مخالفت نہیں ہے۔ میں کہتا ہوں : بعض مفسرین نے یہ زیادہ کیا ہے : اسرافیل عبد الرحمٰن (3) ۔ نحاس نے کہا : جس نے حدیث کی تاویل کی کہ جبر سے مراد عبد اور أل سے مراد اللہ ہے تو انہیں یہ کہنا واجب ہے : ھذا جبریل، رایت جبریل، مررت بجبریل اور یہ نہیں کہا جاتا۔ تو ثابت ہوا کہ حدیث کا مطلب ہے یہ مسمیٰ ہے۔ دوسرے علماء نے فرمایا : اگر اس طرح ہوتا جس طرح انہوں نے کہا ہے تو یہ منصرف ہوتا۔ اس کا منصرف نہ ہونا دلیل ہے کہ یہ اسم واحد، مفرد ہے، مضاف نہیں ہے۔ عبد الغنی الحافظ نے، افلت بن خلیفہ۔۔۔۔ وہ فلیت العامری ہے جو ابو احسان ہے۔۔۔۔ عن جسرہ بنت وجاجہ عن عائشہ ؓ کے سلسلہ سے روایت کیا ہے کہ فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے دعا کی : اللھم رب جبریل ومیکائیل اسرافیل اعوذبک من حر النار و عذاب القبر۔ اے اللہ ! جبریل، میکائیل اور اسرافیل کے رب میں تجھ سے آگ کی گرمی اور عذاب قبر سے پناہ مانگتا ہوں۔
Ayah 2:99

وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ۚ وَ مَا یَكْفُرُ بِهَاۤ اِلَّا الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 2:99 in the Quran reader

اور ہم نے تمہارے پاس سلجھی ہوئی آیتیں ارسال فرمائی ہیں اور ان سے انکار وہی کرتے ہیں جو بد کردار ہیں

آیت نمبر 99 حضرت ابن عباس نے فرمایا : یہ ابن صوریا کا جواب ہے جب اس نے رسول اللہ ﷺ سے کہا آپ کوئی ایسی چیز نہیں لائے جس کو ہم پہنچانتے ہوں۔ آپ پر کوئی واضح آیت نہیں اتری کہ ہم آپ کی اتباع کریں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی۔ یہ طبری نے ذکر کیا ہے۔ (4)
Ayah 2:100

اَوَ كُلَّمَا عٰهَدُوْا عَهْدًا نَّبَذَهٗ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 2:100 in the Quran reader

ان لوگوں نے جب جب (خدا سے) عہد واثق کیا تو ان میں سے ایک فریق نے اسکو (کسی چیز کی طرح) پھینک دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں اکثر بےایمان ہیں

آیت نمبر 100 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : او کلما عھدوا عھدًا یہاں واو عطف کے لئے ہے اس پر الف استفہام داخل ہوا ہے، جیسے فاء پر داخل ہوتا ہے جیسے أفعکم الجاھلیۃ۔ أفانت تسمع الصم۔ افتتخذونہ وذریتہ، اور جس طرح ثم پر داخل ہوتا ہے۔ اثم اذا ما وقع۔ یہ سیبویہ کا قول ہے۔ اخفش نے کہا : یہ واو زائدہ ہے، کسائی کا مذہب یہ ہے کہ یہ او تھا تسہیل کے لئے واو کو حرکت دی گئی۔ ایک قوم نے او واو ساکن کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس صورت میں یہ بل کے معنی میں ہوگا، جیسے کوئی کہتا ہے : لا ضرینک پھر جواب دینے والا کہتا ہے : او یکفی اللہ۔ ابن عطیہ نے کہا ( 1): یہ تمام تکلف ہے۔ صحیح سیبویہ کا قول ہے کلما ظرف کی بنا پر منصوب ہے۔ آیت میں مراد مالک بن صیف ہے، اس کو ابن صیف بھی کہا جاتا ہے۔ اس نے کہا تھا : اللہ کی قسم ! ہماری کتاب میں ہم سے کوئی عہدو پیمان نہیں کیا گیا کہ ہم محمد ﷺ پر ایمان لائیں تو یہ آیت نازل ہوئی (2) ۔ بعض علماء نے فرمایا : یہود نے عہد کیا تھا کہ اگر حضرت محمد ﷺ مبعوث ہوں گے تو ہم ان پر ایمان لائیں گے اور اس کے ساتھ مل کر مشرکین عرب کی مخالفت کریں گے۔ جب آپ ﷺ مبعوث ہوئے تو انہوں نے آپ کا انکار کیا۔ عطا نے کہا : یہ وہ عہود تھے جو نبی کریم ﷺ اور یہود کے درمیان تھے۔ ان کو انہوں نے توڑا۔ جیسے قریظہ اور نضیر نے کہا۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : الذین عھدت منھم ینقضون عھدھم فی کل مرۃٍ وھم لا یتقون۔ (انفال) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : نبذہ فریقٌ منھم، النبذ کا معنی پھینکنا ہے، اسی سے النبیذ، المنبوذ پھینکا ہوا۔ ابو الاسود نے کہا : وخبرنی من کنت ارسلت انما اخذت کتابی معرضاً بشمالکا نظرت الی عنوانہ فنبذتہ کنبذک فعلاً اخلقت من نعالکا مجھے اس نے بتایا جسے میں نے بھیجا تھا تو نے میری کتاب اعراض کرتے ہوئے لی۔ اور تو نے اس کے عنوان کو دیکھا تو تو نے اسے اس طرح پھینک دیا جس طرح تو پرانی جوتی پھینکتا ہے۔ ایک اور شاعر نے کہا : ان الذین امرتھم ان یعدلو نبذوا کتابک واستحلوا المحرما بیشک وہ لوگ جنہیں تو نے عدل کرنے کا حکم دیا انہوں نے تیری کتاب کو پھینک دیا اور حرام کو حلال کیا۔ یہ مثال اس شخص کے لئے دی جاتی ہے جو کسی شے کو حقیر سمجھے اور اس پر عمل نہ کرے۔ عرب کہتے ہیں : اجعل ھذا خلف ظھرک دبرأ منک وتحت قدمک یعنی اس کام کو چھوڑ دے اور اس سے اعراض کر۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واتخذتموہ وراء کم ظھریا (ہود : 92) (اور تم نے ڈال دیا ہے اسے پس پشت) فراء نے یہ شعر پڑھا ہے : تمیم بن زید لا تکونن حاجتی بظھر فلا یعیا علی جوابھا اے تمیم بن زید ! میری حاجت کو پشت کے پیچھے نہ ڈال مجھے اس کا جواب عاجز نہیں کرے گا۔ بل اکثرھم یہ مبتدا ہے لا یؤمنون فعل مستقبل خبر ہے۔
Ayah 2:101

وَ لَمَّا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ نَبَذَ فَرِیْقٌ مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ١ۙۗ كِتٰبَ اللّٰهِ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ كَاَنَّهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ٘ Open ayah 2:101 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس خدا کی طرف سے پیغمبر (آخرالزمان ﷺ آئے اور وہ ان کی (آسمانی) کتاب کی تصدیق بھی کرتے ہیں تو جن لوگوں کتاب دی گئی تھی ان میں سے ایک جماعت نے خدا کی کتاب کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا گویا وہ جانتے ہی نہیں

آیت نمبر 101 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولما جاء ھم رسولٌ من عند اللہ مصدقٌ لما معھم یہ رسول کی نعت ہے اور حال کی بنا پر اسے منصوب پڑھنا جائز ہے نبذ فریقٌ یہ لما کا جواب ہے من الذین اوتوا الکتب کتب اللہ کتاب اللہ، نبذ کی وجہ سے منصوب ہے، مراد تورات ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ کا انکار اور آپ کو جھٹلانا، یہ کتاب اللہ (تورات) کو پھینکنا ہے۔ سدی نے کہا : انہوں نے تورات کو چھوڑ دیا اور آصف کی کتاب اور ہاروت وماروت کے جادو کو لے لیا (1) ۔ بعض علماء نے فرمایا : کتب اللہ سے قرآن مراد لینا بھی جائز ہے۔ شعبی نے کہا : قرآن ان کے ہاتھوں میں تھا اسے پڑھتے تھے لیکن اس پر عمل انہوں نے ترک کردیا۔ سفیان بن عینیہ نے کہا : انہوں نے اسے ریشم ودیباج میں لپیٹ دیا اور اسے سونے اور چاندی سے مزین کردیا لیکن اس کے حلال کو حلال نہ کیا اور اس کے حرام کو حرام نہ کیا۔ یہی نبذ ہے، اس کا بیان پہلے گزر چکا ہے۔ کا نھم لا یعلمون بےعلموں کے ساتھ انہیں تشبیہ دی۔ جب انہوں نے جاہلوں والا فعل کیا۔ یہ لفظ بھی آئیں گے کہ انہوں نے علم کے باوجود کفر کیا۔ (2)