2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 2:249

فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بِالْجُنُوْدِ١ۙ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ مُبْتَلِیْكُمْ بِنَهَرٍ١ۚ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَیْسَ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَطْعَمْهُ فَاِنَّهٗ مِنِّیْۤ اِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةًۢ بِیَدِهٖ١ۚ فَشَرِبُوْا مِنْهُ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ١ؕ فَلَمَّا جَاوَزَهٗ هُوَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ١ۙ قَالُوْا لَا طَاقَةَ لَنَا الْیَوْمَ بِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوا اللّٰهِ١ۙ كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِیْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِیْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 2:249 in the Quran reader

غرض جب طالوت فوجیں لے کر روانہ ہوا تو اس نے (ان سے) کہا کہ خدا ایک نہر سے تمہاری آزمائش کرنے والا ہے جو شخص اس میں سے پانی پی لے گا (اس کی نسبت تصور کیا جائیگا کہ) وہ میرا نہیں اور جو نہ پئے گا وہ (سمجھا جائیگا) میرا ہے ہاں اگر کوئی ہاتھ سے چلّو بھر پانی لے لے (تو خیر جب وہ لوگ نہر پر پہنچے) تو چند شخصوں کے سوا سب نے پانی پی لیا پھر جب طالوت اور مومن لوگ جو اس کے ساتھ تھے نہر کے پار ہوگئے تو کہنے لگے کہ آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکر سے مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں جو لوگ یقین رکھتے تھے کہ خدا کے روبرو حاضر ہونا ہے وہ کہنے لگے کہ بسا اوقات تھوڑی سی جماعت نے خدا کے حکم سے بڑی جماعت پر فتح حاصل کی ہے اور خدا استقلال رکھنے والوں کے ساتھ ہے

آیت نمبر : 249 اس میں گیارہ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ (آیت) ” فلما فصل طالوت بالجنود “۔ فصل کا معنی ہے جب وہ ان کے ساتھ نکلا فصلت انشیء فانفصل یعنی میں نے شے کو کاٹا پس وہ کٹ گئی۔ حضرت وہب بن منبہ ؓ نے کہا ہے : جب طالوت روانہ ہوا تو لشکریوں نے اسے کہا : بیشک ہم سے نہیں اٹھائے جاسکتے لہذا تم اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ ہمارے لئے نہرجاری کردے تو طالوت نے انہیں کہا : بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں ایک نہر سے آزمانے والا ہے۔ سدی کے قول کے مطابق فوجوں کی تعداد اسی ہزار تھی، اور حضرت وہب نے کہا ہے کوئی بھی اس سے پیچھے نہ رہا تھا سوائے اس کے جو صغر سنی یا کبر سنی یا مرض کی وجہ سے معذور تھا (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 334 دارالکتب العلمیہ) اور الابتلاء کا معنی الاختبار آزمائش اور امتحان ہے۔ اور النھر اور النھریہ دونوں لغتیں ہیں۔ اس کا معنی السعۃ سے ہے (یعنی وسعت خوشحالی) اور اس سے النھار بھی ہے تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔ حضرت قتادہ نے کہا : وہ نہر جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے انہیں آزمایا وہ اردن اور فلسطین کے درمیان ہے (2) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 334 دارالکتب العلمیہ) جمہور نے بنھر کو ہا کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے، اور مجاہد اور حمید الاعرج نے بنھرہاء کے سکون کے ساتھ قرات کی ہے اور اس ابتلاء کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا امتحان لیا، پس جس کی اطاعت وپیروی پانی کو ترک کرنے میں ظاہر ہوئی تو اس کے بارے یہ معلوم ہوگا کہ وہ اس کے سوا دیگر احکام میں بھی مطیع وفرمانبردار رہے گا، اور جس پر پانی کے بارے میں اس کی خواہش اور طلب غالب رہی اور اس نے حکم کی تعمیل نہ کی تو وہ بدرجہ اولی دیگر تکالیف ومصائب میں نافرمان ہوگا۔ پس روایت ہے کہ وہ نہر پر پہنچے اس حال میں کہ پیاس انہیں لگی ہوئی تھی اور نہر کا پانی انتہائی میٹھا اور خوبصورت تھا، سو اس لئے اطاعت کرنے والوں کو چلو میں لینے کی رخصت دی گئی، تاکہ ان سے شدت پیاس کی اذیت کچھ نہ کچھ ختم ہوجائے اور اس حال میں وہ نفس کا جھگڑا ختم کرسکیں (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 334 دارالکتب العلمیہ) اور یہ بیان فرما دیا کہ زندگی کی تنگی پر صبر کرنے والوں کی احتیاط کے وقت پیاس کے ضرر اور تکلیف کو ختم کرنے کے لئے ایک چلو کافی ہو رہے گا جن کا قصد و ارادہ آسودگی اور خوشگواری نہ ہو، جیسا کہ عروہ نے کہا ہے : واحسوا قراح الماء والماء بارد : اور انہوں نے خالص پانی تھوڑا تھوڑا پلایا اور پانی ٹھنڈا تھا۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : اس معنی کے مطابق حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے : حسب المرء لقیمات یقمن صلبہ (2) (جامع ترمذی، کتاب الزہد، جلد 2، صفحہ 60 وزارت تعلیم، ایضا، جامع ترمذی باب ما جاء فی کراھیۃ کثرۃ الاکل، حدیث نمبر 2302، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) آدمی کے لئے چند لقمے کافی ہیں جو اس کی صلب (ریڑھ کی ہڈی مراد پشت) کو سیدھا رکھ سکیں۔ اور بعض وہ لوگ جو معانی کی گہرائی میں غور وفکر کرتے ہیں انہوں نے کہا ہے : یہ آیت ایک مثال ہے جو اللہ تعالیٰ نے دنیا کے لئے بیان فرمائی ہے، پس اللہ تعالیٰ نے دنیا کو نہر سے تشبیہ دی ہے اور اس سے پانی پینے والے کو اس سے جو دنیا کی طرف مائل ہے اور اس سے حظ وافر لینے کا طالب ہے اور پانی نہ پینے والے کو دنیا سے انحراف کرنے والے اور اس میں زہد وتقوی اختیار کرنے والے کے ساتھ تشبیہ دی ہے اور اپنے ہاتھ سے ایک چلو لینے والے کو دنیا میں بقدر حاجت لینے والے کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ تینوں احوال مختلف ہیں۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : یہ کتنی حسین تعبیر ہے اگر اس تاویل میں تحریف اور ظاہر معنی سے خروج کا اندیشہ نہ ہو لیکن اس کا صحیح معنی دوسرا ہی ہے۔ مسئلہ نمبر : (2) جنہوں نے یہ کہا ہے کہ طالوت نبی تھے انہوں نے اس ارشاد سے استدلال کیا ہے : (آیت) ” ان اللہ مبتلیکم “ کہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں اس کی طرف وحی اور الہام فرمایا اور اس نے الہام کو ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی جانب سے آزمائش قرار دیا، اور جنہوں نے کہا وہ نبی نہ تھا انہوں نے کہا : اسے ان کے نبی حضرت شمویل (علیہ السلام) نے وحی کے سبب اس کے کی خبر دی جب طالوت نے اپنی قوم کو اس کے بارے آگاہ کیا اور بلاشبہ یہ آزمائش اس لئے آئی تاکہ صادق اور کاذب کے مابین تمیز ہو سکے۔ اور ایک قوم نے کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابی حضرت عبداللہ بن حذافہ ؓ نے اپنے ساتھیوں کی اطاعت وپیروی کو آزمائے کے لئے انہیں آگ روشن کرنے اور پھر اس میں کود جانے کا حکم ارشاد فرمایا، لیکن اسے اس معنی پر محمول کیا گیا کہ یہ آپ کا اس امر سے ڈرانے کے لئے مزاح ہے جس کا آپ نے انہیں مکلف اور پابند بنایا تھا، اس کا تفصیلی بیان سورة النساء میں آئے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ مسئلہ نمبر : (3) قولہ تعالیٰ (آیت) ” فمن شرب منہ فلیس منی “۔ یہاں شرب “ بمعنی کرع ہے (یعنی پانی پر منہ رکھ کر بلاواسطہ پانی پینا) اور فلیس منی کا معنی ہے وہ اس جنگ میں میرا ساتھی نہیں ہے اور اس نے انہیں اس جملہ کے ساتھ ایمان سے خارج نہیں کیا۔ سدی نے کہا ہے : وہ اسی ہزار تھے اور لامحالہ ان میں مومن، منافق، محنت کرنے والے اور سست سبھی تھے، اور حدیث طیبہ میں ہے :” من غشافلیس منا “۔ (1) (صحیح مسلم، کتاب الایمان، جلد 1، صفحہ 70، وزارت تعلیم) (جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں ہے) یعنی وہ ہمارے اصحاب میں سے نہیں ہے اور وہ ہمارے طریقہ اور ہماری ہدایت پر نہیں ہے، شاعر نے کہا ہے : اذاحاولت فی اسد فجورا فانی لست منک ولست منی : جب تو اخلاق میں فسق وفجور کا قصد کرے گا تو پھر میں تجھ سے نہیں ہوں اور تو مجھ سے نہیں ہے، کلام عرب میں یہ عام رائج ہے کہ جب کسی آدمی کا بیٹا اس کے اسلوب اور طریقہ کے خلاف چلے تو وہ بیٹے کو کہہ دیتا ہے : لست منی تو مجھ سے نہیں ہے۔ مسئلہ نمبر : (4) قولہ تعالیٰ (آیت) ” ومن لم یطعمہ فانہ منی “۔ کہا جاتا ہے : طعمت الشیء یعنی میں نے شے کو چکھا۔ اور اطعمتہ الماء یعنی میں نے اسے پانی چکھایا۔ اور یہاں ومن لم یشربہ نہیں کہا کیونکہ یہ اہل عرب کی عادت ہے کہ جب وہ کسی شے کو مکرر (دوبارہ) ذکر کریں تو وہ اسے دوسرے لفظ کے ساتھ مکرر لاتے ہیں اور لغۃ القرآن تو تمام لغات سے زیادہ فصیح ہے۔ لہذا اس میں اس کی جرح وقدح کا کوئی اعتبار نہیں جو یہ کہتا ہے : کہ طعمت الماء (میں نے پانی کھایا) نہیں جاسکتا۔ مسئلہ نمبر : (5) ہمارے علماء نے اس سے سد ذرائع کے قول پر استدلال کیا ہے کیونکہ ذوق (چکھنا) وہ کم سے کم شے ہے جو لفظ طعم میں داخل ہے اور جب طعم سے نہی واقع ہے تو شرب کے وقوع کا اس سے کوئی امکان نہیں ہے جو طعم سے اجتناب کرے گا، اسی مبالغہ کی خاطر کلام ومن لم یشرب منہ نہیں لائے۔ مسئلہ نمبر : (6) جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” ومن لم یطعمہ “ تو یہ اس پر دلیل ہے کہ پانی طعام ہے اور جب وہ طعام ہے تو پھر وہ (انسان کی زندگی) باقی رکھنے کے لئے خوراک ہے اور بدنوں کی خوراک اسی سے (حاصل ہوتی ہے) تو پھر یہ واجب ہے کہ اس میں ربا جاری ہو، ابن عربی نے کہا ہے : یہی مذہب صحیح ہے۔ (2) (احکام القرآن لابن العربی، جلد 1، صفحہ : 323، دارالفکر) ابو عمر نے بیان کیا ہے کہ امام مالک نے فرمایا : (دریا کے) کنارے پر پانی کی بیع پانی کے ساتھ کرنا متفاضل اور ایک خاص مدت تک اس میں کوئی حرج نہیں ہے، یہی امام ابوحنیفہ اور امام ابو یوسف رحمہما اللہ تعالیٰ کا قول ہے۔ اور امام محمد بن حسن نے کہا وہ اس لئے کہ ان کے نزدیک اس میں ربا ہے، کیونکہ ربا میں اس کی علت کیل اور وزن ہیں۔ اور امام شافعی نے کہا ہے : پانی کی بیع نہ متفاضلا جائز ہے اور نہ اس میں معینہ مدت کا ادھار جائز ہے، اور ربا میں اس کی علت یہ ہے کہ یہ جنس ماکول میں سے ہے۔ مسئلہ نمبر : (7) ابن عربی (رح) نے بیان کیا ہے کہ حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہنے کہا ہے : جس کسی نے کہا : اگر میرے فلاں غلام نے فرات سے پیا تو وہ آزاد ہے تو وہ آزاد نہیں ہوگا مگر یہ کہ وہ اس میں منہ لگا کر پانی پیے۔ الکرع کا معنی ہے کہ آدمی دریا سے اپنا منہ لگا کر بلاواسطہ پانی پیے، اور اگر اس نے اپنے ہاتھ سے پانی پیا یا برتن کے ساتھ اس سے پیا تو وہ آزاد نہ ہوگا، کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالی نے دریا میں منہ لگا کر پانی پینے اور ہاتھ کے ساتھ پانی پینے کے درمیان فرق کیا ہے۔ (1) (احکام القرآن لابن العربی، جلد 1، صفحہ : 323، دارالفکر) فرمایا یہ فاسد ہے، کیونکہ شرب الماء کا اطلاق لغت عرب میں ہر ہئیت اور صفت پر کیا جاتا ہے، ہاتھ کے ساتھ چلو بھر کر یا منہ لگا کر پینا یہ ایک ہی ہے اور جب لغۃ اور حقیقۃ وہ شرب پایا گیا جس کی قسم کھائی گئی ہے تو وہ حانث ہوگیا، پس اسے جان لو۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کا قول زیادہ صحیح ہے، کیونکہ اہل لغت نے ان دونوں کے درمیان فرق کیا ہے جیسا کہ کتاب وسنت نے فرق بیان کیا ہے۔ جوہری وغیرہ نے کہا ہے : کرع فی الماء کروعا (کہا جاتا ہے) جب کوئی اپنے منہ کے ساتھ پانی اس کے محل سے پیے نہ وہ ہتھیلی کے ساتھ پیے اور نہ کسی برتن کے ساتھ اور اس میں دوسری لغت ہے۔ کرع یعنی را کے کسرہ کے ساتھ یکرع، کر عا اور الکرع سے مراد بارش کا پانی ہے جو منہ میں پڑتا ہے۔ اور رہی حدیث طیبہ تو ابن ماجہ نے اپنی سنن میں ذکر کیا ہے کہ واصل بن عبدالاعلی، ابن فضیل نے لیث عن سعید بن عامر عن ابن عمر ؓ کی سند سے بیان کیا ہے کہ ہم ایک تالاب کے پاس سے گزرے اور ہم اس میں منہ لگاکر پانی پینے لگے تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم منہ لگا کر نہ پیو بلکہ اپنے ہاتھوں کو دھو اور پھر ان سے پانی پیو کیونکہ ہاتھ سے بڑھ کر اچھا اور پاکیزہ برتن کوئی نہیں ہے (2) سنن ابن ماجہ کتاب الاشربہ، جلد 1، صفحہ 253، وزارت تعلیم، ابن ماجہ باب الشرب بالاکف والکرع، حدیث نمبر 3423، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور یہ نص ہے لیث بن ابی سلیم مسلم نے اس کی روایت نقل کی ہے اور اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ مسئلہ نمبر : (8) قولہ تعالیٰ (آیت) ” الا من اغترف غرفۃ بیدہ “۔ الاغتراف ‘ کا ہم معنی ہے۔ اور غرفۃ غین کے فتحہ کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے اور یہ مصدر ہے اور اغترافۃ نہیں کہا، کیونکہ الغرف اور الاغتراف کا معنی ایک ہے۔ اور الغرفۃ کا معنی ہے ایک بار اور اسے غرفتہ غین کے ضمہ کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے۔ اور اس سین مراد وہ شی ہے جس کا چلو بھرا جاتا ہے اور بعض مفسرین نے کہا ہے کہ الغرفۃ ایک ہاتھ کے ساتھ چلو بھرنا اور الغرفۃ دو ہاتھوں کے ساتھ چلو بھرنا ہے۔ اور بعض نے کہا ہے : دونوں لغتیں ایک ہی معنی میں ہیں اور حضرت علی ؓ نے فرمایا : ہتھیلیاں صاف ترین برتن ہیں۔ اسی معنی میں حسن کا قول ہے : لایدلفون الی ماء بانیۃ الا اغترافا من الغدران بالزاح : الدلیف کا معنی ہے آہستہ چال۔ وہ برتن لے کر پانی کی طرف آہستہ چال نہیں چلتے مگر نہروں ہتھیلی کے ساتھ چلو بھرتے ہوئے (لیتے ہیں) میں (مفسر) کہتا ہوں : جو کوئی ان زمانوں میں بغیر شک اور ارتیاب کے خالص حلال کا ارادہ کرے تو اسے چاہیے کہ وہ چشموں اور ان دریاؤں سے جو مسخر کیے گئے ہیں اور رات دن جاری ہیں اپنی ہتھیلیوں کے ساتھ پانی پیے، اس کے سبب اللہ تعالیٰ سے نیکیاں کمانے، بوجھ اتارنے، نیکوکار ائمہ کرام کے ساتھ ملنے کا ارادہ اور نیت کرے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” جس نے اپنے ہاتھ کے ساتھ پانی پیا درآنحالیکہ وہ برتن پر قدرت رکھتا ہو (اور) اس سے وہ تواضع کا ارادہ رکھتا ہو اللہ تعالیٰ اس کے لئے اس کی انگلیوں کی تعداد کے مطابق نیکیاں لکھ دیتا ہے۔ اور یہ حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) کا برتن ہے جب انہوں نے پیالہ پھینکا تو کہا : اف یہ دنیا کے ساتھ ہے “ اسے ابن ماجہ نے حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث سے نقل کیا ہے۔ فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ ہم اپنے پیٹوں کے بل لیٹ کر پانی پئیں اور وہ منہ پانی پر رکھ کر پانی پینا ہے، اور آپ نے ہمیں منع کیا ہے کہ ہم ایک ہاتھ کے ساتھ چلو بھر کر پئیں اور فرمایا : ” تم میں سے کوئی اس طرح آواز نکال کر (پانی) نہ پیے جس طرح کتا آواز نکال کر پیتا ہے اور کوئی ایک ہاتھ کے ساتھ اس طرح نہ پیے جس طرح وہ قوم پیتی تھی جس پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوا اور کسی برتن میں رات کے وقت نہ پیے یہاں تک کہ وہ حرکت دے لے (خوب ہلالے) مگر یہ کہ برتن ڈھانپا ہوا ہو اور جس نے اپنے ہاتھ کے ساتھ پانی پیا اور وہ برتن پر قدرت رکھتا ہو (1) (سنن ابن ماجہ، کتاب الطب، جلد 1، صفحہ 253، ایضا ابن ماجہ باب الشرب والکرع، حدیث نمبر 3423، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) آگے حدیث سابقہ حدیث کی طرح ہے۔ اس کی اسناد میں بقیہ بن الولید ہے۔ ابو حاتم نے کہا ہے : اس کی حدیث لکھی جاتی ہے اور اس سے استدلال نہیں کیا جاتا اور ابو زرعہ نے کہا ہے : جب بقیہ ثقہ راویوں سے حدیث بیان کرے تو وہ ثقہ ہوتا ہے۔ مسئلہ نمبر : (9) قولہ تعالیٰ (آیت) ” فشربوا منہ الا اقلیلا منھم “۔ حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے، انہوں نے اپنے یقین کی مقدار پر پانی پیا اور کفار نے شدت پیاس کی بیماری والے کی طرح پیا اور گنہگاروں اور نافرمانوں نے اس سے تھوڑا کم پیا اور قوم سے چھہتر ہزار واپس لوٹ آئے اور بعض مومنین باقی رہ گئے اور جنہوں نے پانی چھوڑ دیا ان کی حالت اچھی رہی اور وہ ان کی نسبت زیادہ مضبوط رہے جنہوں نے چلو لے لیا تھا۔ مسئلہ نمبر : (10) قولہ تعالیٰ (آیت) ” فلما جاوزہ ھو “۔ اس میں ہاضمیر نہر کی طرف لوٹ رہی ہے اور ھو تاکید کے لئے ہے، (آیت) ” والذین “ یہ محل رفع میں ہے اور جاوزہ میں ضمیر فعل پر اس کا عطف ہے۔ کہا جاتا ہے : جاوزت المکان مجاوزۃ وجوازا، (میں نے مکان سے تجاوز کرلیا) اور کلام میں مجاز وہی ہے جو استعمال میں جائز ہو اور نافذ ہو اور اپنی علت پر برقرار ہو۔ حضرت ابن عباس ؓ اور سدی (رح) نے کہا ہے : اس (طالوت) کے ساتھ نہر کو چار ہزار آدمیوں نے عبور کیا، ان میں وہ بھی تھے جنہوں نے پانی پیا۔ پس جب انہوں نے جالوت اور اس کے لشکروں کی طرف دیکھا، ان کی تعداد ایک لاکھ تھی، تمام کے تمام ہتھیاروں کی شکایت کرنے لگے اور ان میں سے تین ہزار چھ سو اسی سے کچھ زائد واپس لوٹ گئے (2) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 336 دارالکتب العلمیہ) پس اس قول کی بنا پر کہا کہ وہ مومنین جنہیں اس وقت دوباہ اٹھائے جانے اور اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنے کا ایقان حاصل تھا ان کی تعداد اہل بدر کے برابر تھی، (آیت) ” کم من فئۃ قلیلۃ غلبت فئۃ کثیرۃ باذن اللہ “۔ اکثر مفسرین نے اس پر کہا ہے کہ اس کے ساتھ نہر کو عبور انہوں نے کیا جنہوں نے بالکل پانی نہ پیا اور بعض نے کہا : دشمن کی اتنی کثرت کے باوجود ہم ان کا مقابلہ کیسے کرسکتے ہیں تو ان میں سے جو صاحب عزم وہمت تھے۔ انہوں نے کہا : (آیت) ’ ’ کم من فئۃ قلیلۃ غلبت فئۃ کثیرۃ باذن اللہ “ ترجمہ : اللہ کے اذن سے بارہا چھوٹی جماعتیں بڑی جماعتوں پر غالب آئی ہیں۔ حضرت براء بن عازب ؓ نے بیان کیا ہے : ہم گفتگو کرتے رہتے تھے کہ اہل بدر کی تعداد ان اصحاب طالوت کی تعداد کی مثل تھی جنہوں نے اس کے ساتھ نہر کو عبور کیا وہ تین سو دس سے کچھ زائد آدمی تھے اور ایک روایت میں ہے : تین سو دس سے کچھ زائد آدمی تھے اور ایک روایت میں ہے تین سو تیرہ آدمی اور اس کے ساتھ صرف مومنین نے اسے عبور کیا تھا۔ (1) (صحیح بخاری باب : عدۃ اصحاب بدر، حدیث نمبر : 3663، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) مسئلہ نمبر : (11) قولہ تعالیٰ (آیت) ” قال الذین یظنوں یہاں ظن بمعنی یقین ہے۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ بمعنی شک ہو یقین نہ ہو، یعنی ان لوگون نے کہا جو وہم رکھتے تھے کہ انہیں طالوت کے ساتھ قتل کردیا جائے گا اور وہ شہداء بن کر اللہ تعالیٰ سے ملاقات کریں گے، پس قتل میں شک پڑگیا۔ قولہ تعالیٰ (آیت) ’ ’ کم من فئۃ قلیلۃ غلبت فئۃ کثیرۃ باذن اللہ “ الفئۃ کا معنی ہے لوگوں کی ایک جماعت اور ان کا ایک گروہ، یہ فاوت راسہ بالسیف اور فایتہ سے ماخوذ ہے یعنی میں نے اس کا سر تلوار سے کاٹ دیا، اور ان (صحابہ کرام) رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے قول میں ہے : (آیت) ’ ’ کم من فئۃ قلیلۃ “۔ الآیہ۔ یہ قتال پر انگیخت دلانا ہے اور صبر کا شعور بیدار کرنا ہے اور انکی اقتدا اور پیروی کرنا ہے جنہوں نے اپنے رب کی تصدیق کی۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : اسی طرح کرنا ہم پر بھی واجب ہے لیکن اعمال قبیحہ اور نیات فاسدہ اس سے مانع ہیں، یہاں تک کہ ہم میں سے بڑی تعداد دشمن کی قلیل تعداد کے سامنے شکست خوردہ ہوجاتی ہے جیسا کہ ہم نے کئی بار اس کا مشاہدہ کیا ہے اور ایسا ہمارے اپنے اعمال کے سبب ہے۔ اور بخاری میں ہے : حضرت ابوالدرداء ؓ نے فرمایا : بلاشبہ تم اپنے اعمال کے ساتھ جنگ لڑتے ہو، اور اس میں مسند روایت بھی ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” تمہارے ضعفاء کے سبب تمہیں رزق دیا جاتا ہے اور تمہاری مدد کی جاتی ہے (2) (صحیح بخاری، کتاب الجہاد جلد 1، صفحہ 405، وزارت تعلیم) پس اعمال فاسد ہوچکے ہیں، ضعفاء مہمل ہوگئے ہیں، صبر قلیل ہے، اعتماد ضعیف اور کمزور اور کمزور ہوچکا ہے اور تقوی زائل ہوگیا ہے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : (آیت) ” اصبروا وصابروا و رابطو، واتقواللہ “۔ (ال عمران : 200) ترجمہ : صبر کرو اور ثابت قدم رہو (دشمن کے مقابلہ میں) اور کمر بستہ رہو، (خدمت دین کے لئے) ہمیشہ اسی اللہ سے ڈرتے رہو) ۔ اور مزید فرمایا : (آیت) ” وعلی اللہ فتوکلوا “۔ (اور اللہ تعالیٰ پر ہی بھروسہ کرو) اور مزید فرمایا : (آیت) ” ان اللہ مع الذین اتقوا والذین ھم محسنون “۔ (النحل) ترجمہ : یقینا اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہے جو (اس سے) ڈرتے ہیں اور جو نیک کاموں میں سرگرم رہتے ہیں) مزید فرمایا : (آیت) ” ولینصرن اللہ من ینصرہ “۔ (الحج : 40) ترجمہ : اور اللہ تعالیٰ ضرور مدد فرمائے گا اس کی جو اس (کے دین) کی مدد کرے گا) مزید فرمایا : (آیت) ” اذا لقیتم فئۃ فاثبتوا واذکروا اللہ کثیرا لعلکم تفلحون “۔ (الانفال) ترجمہ : جب جنگ آزما ہو کسی لشکر سے تو ثابت قدم رہو اور ذکر کرو اللہ تعالیٰ کا کثرت سے تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ) پس یہی نصرت کے اسباب ہیں اور اس کی شرائط ہیں اور یہ ہمارے پاس معدوم ہیں، ہم میں موجود نہیں ہے۔ پس (آیت) ” انا للہ وانا الیہ رجعون “۔ اس پر جو مصیبت اور آفت ہم پر آئے اور ہم میں اترے بلکہ اسلام میں سے سوائے اس کے ذکر کے کوئی شے باقی نہیں رہی اور نہ ہی دین میں سے سوائے اس کی رسم کے کچھ باقی رہا ہے اور یہ فساد کے ظہور، رعونت وسرکشی کی کثرت اور ہدایت و راہنمائی کی قلت کے سبب ہے، یہاں تک کہ دشمن شرق وغرب اور بحر وبر میں غالب آچکا ہے، فتنے عام ہوگئے ہیں، آزمائشیں بڑھ گئی ہیں اور کوئی بچانے والا نہیں ہے مگر وہی جو رحم فرمانے والا ہے۔
Ayah 2:250

وَ لَمَّا بَرَزُوْا لِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَؕ Open ayah 2:250 in the Quran reader

اور جب وہ لوگ جالوت اور اس کے لشکر کے مقابل میں آئے تو (خدا سے) دعا کی کہ اے پروردگار ہم پر صبر کے دہانے کھول دے اور ہمیں (لڑائی میں) ثابت قدم رکھ اور (لشکر کفار پر فتح یاب کر)

آیت نمبر : 350۔ برزوا جب وہ براز میں آگئے اور براز سے مراد وسیع زمین میں سے کشادہ اور کھلا میدان ہے، جالوت عمالقہ کا امیر تھا اور ان کا بادشاہ تھا اس کا سایہ ایک میل تھا اور کہا جاتا ہے کہ (قوم) بربر اس کی نسل سے ہے اور اس کے بارے میں روایت ہے کہ اس کی فوج میں تین لاکھ گھڑ سوار تھے اور عکرمہ نے کہا ہے : نوے ہزار تھے اور جب مومنین نے اپنے دشمن کی کثرت کو دیکھا تو انہوں نے اپنے رب کی بارگاہ میں عجز و انکساری کی اور یہ رب العالمین کے اس قول کی طرح ہے : (آیت) ” وکاین من نبی قتل معہ ربیون کثیر، فما وھنو لما اصابھم فی سبیل اللہ وما ضعفوا وما استکانوا واللہ یحب الصبرین، وما کان قولھم الا ان قالوا ربنا اغفرلنا ذنوبنا “۔ الایہ (العمران) ترجمہ اور کتنے ہی نبی گزرے ہیں کہ جہاد کیا ان کے ہمراہ بہت سے اللہ والوں نے۔۔۔۔ اور نہیں تھی ان کی گفتگو بغیر اس کے کہ کہا انہوں نے اے ہمارے رب، بخش دے ہمارے گناہ۔ اور رسول اللہ ﷺ کا دشمن سے آمنا سامنا ہوتا تو آپ جنگ میں اس طرح دعا کرتے تھے : ” اللہم بک اصول واجول، (1) (سنن ابی داؤد، کتاب الجہاد جلد 1، صفحہ 354، وزارت تعلیم) ” اے اللہ ! میں تیری مدد ونصرت کے ساتھ ہی حملہ کرتا ہو اور پلٹ کر آتا ہوں۔ اور آپ ﷺ جب دشمن کے سامنے ہوتے تو اس طرح کہتے : اللہم انی اعوذ بک من شرورھم واجعلک فی نحورھم “۔ (2) (سنن ابی داؤد، کتاب الصلوۃ جلد 1، صفحہ 215، وزارت تعلیم) اے اللہ میں ان کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور تجھے ہی ان کے مقابلے میں دیکھتا ہوں ، “ اور آپ ﷺ نے بدر کے دن دعا مانگی حتی کہ آپ کے کندھوں سے آپ کی چادر مبارک گر گئی اور آپ اللہ تعالیٰ سے اپنا وعدہ پورا کرنے کی التجاء کرتے رہے۔ اس کا بیان سورة آل عمران میں آئے گا، انشاء اللہ تعالیٰ :
Ayah 2:251

فَهَزَمُوْهُمْ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۙ۫ وَ قَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ وَ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَهٗ مِمَّا یَشَآءُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ١ۙ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:251 in the Quran reader

تو طالوت کی فوج نے خدا کے حکم سے ان کو ہزیمت دی اور داؤد نے جالوت کو قتل کر ڈالا اور خدا نے ان کو بادشاہی اور دانائی بخشی اور جو کچھ چاہا سکھایا اور خدا لوگوں کو ایک دوسرے (پر چڑھائی اور حملہ کرنے) سے نہ ہٹاتا رہتا تو ملک تباہ ہوجاتا لیکن خدا اہل عالم پر بڑا مہربان ہے

(آیت) ” نمبر 251۔ قولہ تعالیٰ (آیت) ” فھزموھم باذن اللہ “۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر مدد ونصرت نازل فرمائی۔ (آیت) ” فھزموھم “ تو انہوں نے انہیں شکست دی (ان کمر توڑ دی) اور الھزم کا معنی ہے توڑنا، اور اسی سے ہے سقاء متھزم “ ، یعنی ایسی مشک جو خشکی کے سبب ٹوٹ جائے اور اسی سے وہ قول ہے جو زمزم کے بارے میں کہا گیا ہے یہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کا گڑھا ہے (ھزمۃ جبریل) یعنی حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے زمین کو اپنے پاؤں سے نیچے دبایا، گڑھا بن گیا اور پانی نکل آیا، اور الھزم سے مراد وہ خشک لکڑی بھی ہے جو ٹوٹ جاتی ہے۔ قولہ تعالیٰ (آیت) ” وقتل داؤد جالوت “ اس لئے کہ طالوت بادشاہ تھا اور جالوت کے ساتھ جنگ لڑنے کے لئے یہ اپنی قوم میں سے چنا گیا تھا، یہ قدو قامت کے اعتبار سے چھوٹا، زیادہ تر بیمار رہنے والا، زرد رنگ کا تھا اس کی (آنکھیں چھوٹی اور نیلی تھیں) اور جالوت لوگوں میں سے انتہائی مضبوط اور بہت زیادہ قوی تھا، اور یہ اکیلا لشکروں کو شکست دے سکتا تھا اور جالوت کو قتل کردیا گیا، حالانکہ وہ عمالقہ کا امیر اور سردار تھا اور (قتل کرنے والے) داؤد ابن ایشی تھے یہ ایشی ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ ہے، اور کہا جاتا ہے : وہ داؤد بن زکریا بن رشوی تھے، یہ یہوذا ابن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم (علیہم السلام) کی اولاد میں سے تھے اور بیت المقدس کے رہنے والے تھے، ان کی نبوت اور بادشاہت دونوں چیزیں اکٹھی عطا فرما دی گئیں۔ اس سے پہلے یہ چرواہے تھے اور یہ اپنے بھائیوں میں سے چھوٹے تھے اور ریوڑچراتے تھے اور ان کے ساتھ بھائی اصحاب طالوت میں سے تھے، پس جب جنگ شروع ہوئی تو انہوں نے اپنے دل میں کہا : میں ضرور بہ ضرور اس جنگ کو دیکھنے کے لئے جاؤں گا، جب اس راستے پر چلے ایک پتھر کے پاس سے گزرے تو اس نے آپ کو آواز دی اے داؤد، مجھے اٹھا لے، اور میرے ساتھ تو جالوت کو قتل کرے گا، پھر ایک دوسرے پتھر نے انہیں آواز دی، پھر ایک اور نے آواز دی، پس آپ نے انہیں اٹھا لیا اور انہیں اپنے تو بڑے میں رکھ لیا اور چل پڑے۔ پس جالوت (لشکر کی صفوں سے) باہر نکلا اور دعوت مبارزت دینے لگا تو لوگوں نے اس کے مقابلے کی جرات نہ کی اور کمزوری دکھائی یہاں تک کہ طالوت نے کہا : جو اس کا مقابلہ کرے گا اور اسے قتل کردے گا میں اس کا نکاح اپنی بیٹی سے کروں گا اور اپنے مال میں اسے حکم بناؤں گا، چناچہ حضرت داؤد (علیہ السلام) آئے اور کہا : میں اس کے ساتھ مقابلہ کروں گا اور اسے قتل کر دوں گا (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 337 دارالکتب العلمیہ) لیکن طالوت نے جب ان کی صغر سنی اور چھوٹے قد کو دیکھا تو انہیں کمزور قرار دے کر واپس لوٹا دیا۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) نیلگوں چھوٹے قد کے تھے، پھر طالوت نے دوبارہ اور سہ بارہ اعلان کیا اور پھر بھی حضرت داؤد (علیہ السلام) ہی باہر نکلے، تب طالوت نے ان سے کہا : کیا تو اپنی ذات میں کسی شے سے تجربہ رکھتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں : اس نے پوچھا : وہ کیسے ؟ انہوں نے فرمایا : ایک دفعہ ایک بھیڑیا میرے ریوڑ میں داخل ہوگیا تو میں نے اسے مارا، پھر اس کے سر کو پکڑ لیا اور میں نے اسے اس کے جسم سے الگ کردیا، طالوت نے کہا : بھیڑیا تو کمزور ہے، کیا اس کے علاوہ بھی تو کوئی تجربہ رکھتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں، ایک دفعہ ایک شیر میرے ریوڑ میں آگیا تو میں نے اسے مارا پھر میں نے اسے جبڑوں سے پکڑ لیا اور میں نے ان دونوں کو چیر ڈالا، کیا تو اسے شیر سے بھی زیادہ طاقتور جانتا ہے ؟ طالوت نے کہا : نہیں، طالوت کے پاس ایک زرہ تھی اور وہ اسی پوری آسکتی تھی جو جالوت کو قتل کرے گا، پس اس نے اس کے بارے آپ کو آگاہ کیا اور وہ زرہ آپ پر ڈال دی تو وہ بالکل برابر ہوگئی، پھر طالوت نے کا ہ : تو میرے گھوڑے پر سوار ہوجا، میرا ہتھیار پکڑلے (اور اس کے مقابلے میں جا) چناچہ آپ نے ایسا کرلیا، لیکن جب تھوڑا سا چلے تو واپس لوٹ آئے اور لوگوں نے کہا : یہ نوجوان تو بزدل ہوگیا ہے۔ تو حضرت داؤد (علیہ السلام) نے فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ نے اسے میرے سبب قتل نہ کیا اور اس کے خلاف اس نے میری مدد نہ فرمائی تو پھر یہ گھوڑا اور یہ ہتھیار میرے لئے نفع بخش نہیں ہیں۔ البتہ میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میں اس سے اپنی عادت کے مطابق ہی لڑوں۔ راوی کا بیان ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) مقلاع (پتھر پھینکنے کا گوپھیا، فلاخن) کے ساتھ پتھر پھینکنے کے لوگوں کی نسبت زیادہ ماہر تھے، پس آپ (گھوڑے سے) اترے اور اپنے تو برے کو اٹھایا اور اسے لٹکا لیا اور اپنا گوپھیا اٹھایا اور جالوت کی طرف چل نکلے، وہ مکمل اپنے ہتھیار پہنے ہوئے تھا اس کے سر پر خود تھا اس میں تین سو رطل تھے، جیسا کہ الماوردی وغیرہ نے ذکر کیا ہے تو جالوت نے انہیں کہا : اے نوجوان ! تو میری طرف نکلا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں، اس نے کہا : اس طرح جیسا کہ تو کتے کی طرف نکلا ہے۔ آپ نے فرمایا ہاں، بلکہ تو اس سے بھی آسان ہے، فرمایا : میں یقینا آج تیرا گوشت پرندوں اور درندوں کو کھلاؤں گا پھر وہ دونوں ایک دوسرے کے قریب ہوئے اور جالوت نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو حقیر جانتے ہوئے انہیں اپنے ہاتھ سے پکڑنے کی کوشش کی، تو حضرت داؤد (علیہ السلام) نے اپنا ہاتھ پتھر کی طرف بڑھایا اور روایت ہے کہ وہ پتھر جڑ چکے تھے اور وہ ایک پتھر بن گیا تھا، سو آپ نے اسے پکڑا اور اپنے گوپھیا میں رکھا اور اللہ تعالیٰ کا نام لیا اور اسے گھمایا اور پھینک دیا، پس وہ جالوت کے سر میں جا لگا اور اسے قتل کردیا اور اس کے سر کو کاٹ کر اپنے تو بڑے میں رکھ لیا اور لوگوں میں مل گئے، اور طالوت کی فوج نے حملہ کردیا اور یہی ہزیمت اور شکست تھی (2) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 337 دارالکتب العلمیہ) یہ بھی کہا گیا ہے کہ پتھر خود سے ناک کی جگہ پر جا لگا اور بعض نے کہا ہے : اسے آنکھ پر جا کر لگا اور اس کی گدی کی جانب سے نکل گیا اور اس کے لشکر کی ایک جماعت کو جا کر لگا اور اس نے انہیں قتل کردیا، یہ قول بھی ہے کہ پتھر ٹوٹ کر بکھر گیا یہاں تک کہ لشکر کے ہر فرد کو اس کا کچھ حصہ جا کر لگا اور یہ (سنگریزوں کی) اس مشت کی طرح تھا جو حضور نبی مکرم ﷺ نے غزوہ حنین کے دن بنی ہوازن پر پھینکی۔ واللہ اعلم ان آیات کے قصص میں لوگوں نے بہت زیادہ بیان کیا ہے اور میں نے تیرے لئے ان میں سے خاص مقصود کو ہی ذکر کیا ہے واللہ المحمود۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : طالوت کے اس قول کے بارے میں ہے ” جو اس کا مقابلہ کرے گا اور اسے قتل کرے گا تو میں اس کی شادی اپنی بیٹی سے کروں گا اور اسے اپنے مال میں حکم بناؤں گا “ یہ مفہوم ہماری شریعت میں بھی ثابت اور موجود ہے اور وہ ہے کہ امام وقت کہے : جو فلاں کا سر لائے گا تو اس کے لئے اتنا ہوگا، یا جو فلاں کو قید بنا کر لاے تو اس کے لئے اتنا انعام ہوگا، اس کا بیان سورة الانفال میں آئے گا، انشاء اللہ تعالیٰ ۔ اور اس میں اس پر دلیل ہے کہ مبارزت امام کی اجازت کے بغیر نہیں ہو سکتی، جیسا کہ امام احمد اور اسحاق وغیرہما اس کے بارے کہتے ہیں اور اس میں امام اوزاعی (رح) سے اختلاف منقول ہے، سو ان سے بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے کہا : کوئی بھی اپنے امام کی اجازت کے بغیر حملہ نہیں کرسکتا اور یہ بھی منقول ہے کہ انہوں نے کہا : کوئی حرج نہیں ہے۔ اور اگر امام مبارزت سے روک دے تو پھر اس کی اجازت کے بغیر کوئی مبارز طلب نہ کرے گا۔ اور ایک گروہ نے مقابلے کو مباح قرار دیا ہے اور انہوں نے امام کی اجازت ہونے یا نہ ہونے کا کوئی ذکر نہیں کیا یہ امام مالک کا قول ہے۔ امام مالک سے اس آدمی کے بارے پوچھا گیا جو دو صفوں کے درمیان کہتا ہے : کون مقابلہ کرے گا ؟ تو انہوں نے فرمایا اس کا انحصار اس کی نیت پر ہے اگر اس سے وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کا ارادہ رکھتا ہے تو میں امید رکھتا ہوں کہ اس کے لئے کوئی حرج نہ ہوگا، زمانہ ماضی میں ایسا کیا جاتا رہا ہے اور امام شافعی (رح) نے کہا ہے : مبارزت طلب کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ابن منذر نے کہا ہے : امام کی اجازت کے ساتھ مبارزت طلب کرنا اچھا ہے اور اس پر بھی کوئی حرج نہیں ہے جس نے امام کی اجازت کے بغیر مبارز طلب کیا یہ مکروہ نہیں ہے کیونکہ اس کے بارے میں کوئی مانع خبر نہیں جانتا۔ (آیت) ” واتہ اللہ الملک والحکمۃ “۔ سدی نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤدعلیہ السلام کو طالوت کا ملک (بادشاہی) اور شمعون کی نبوت عطا فرمائی۔ اور وہ جو اللہ تعالیٰ نے انہیں علم عطا فرمایا وہ زرہیں بنانے اور پرندوں کی گفتگو سمجھنے اور دیگر ان علوم کی انواع میں سے کئی عطا فرمائے جو اللہ تعالیٰ نے حضور نبی مکرم ﷺ کو عطا فرمائے ہیں (1) ، حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے : اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک زنجیر عطا فرمایا جو کہکشاں اور فلک سے ملا ہوا تھا اور اس کا ایک سرا حضرت داؤد (علیہ السلام) کی عبادت گاہ کے پاس تھا اور ہوا میں جو واقعہ بھی پیش آتا زنجیر بجنے لگتا اور اس سے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو اس واقعہ کا علم ہوجاتا جو وقوع پذیر ہوتا اور کوئی آفت زدہ اسے چھو لیتا تو وہ اس سے نجات پا جاتا اور یہ آپ کی قوم کے دین میں داخل ہونے کی ملامت تھی کہ وہ اسے اپنے ہاتھوں کے ساتھ مس کرتے پھر اپنی ہتھیلیوں کو اپنے سینوں پر مل لیتے اور وہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے بعد اس کے پاس فیصلے کرتے ہیں یہاں تک کہ اسے اٹھا لیا گیا۔ قولہ تعالیٰ (آیت) ” مما یشآء “ یہ بمنی مما شاء ہے اور کبھی ماضی کی جگہ مستقبل کا صیغہ رکھ دیا جاتا ہے اور یہ پہلے گزر چکا ہے۔ قولہ تعالیٰ (آیت) ” ولولا دفع اللہ الناس بعضھم ببعض لفسدت الارض ولکن اللہ ذوفضل علی العلمین “۔ اس میں دو مسئلے ہیں : قولہ تعالیٰ (آیت) ” ولولا دفع اللہ الناس بعضھم ببعض “۔ اسی طرح تمام کی قرات ہے سوائے حضرت نافع کے کیونکہ انہوں نے دفاع پڑھا ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ فعل کا مصدر ہو جیسا کہا جاتا ہے : حسبت الشیء حسابا ات ایابا، لقیتہ لقاء اور اس کی مثل کتبہ کتابا ہے اور اسی سے کتاب اللہ علیکم (النسائ) بھی ہے نحاس نے کہا ہے : یہ اچھا ہے پس دفاع اور دفع دونوں دفع کے مصدر ہوں گے، یہی سیبویہ کا مذہب ہے۔ اور ابو حاتم نے کہا ہے : دافع اور دفع دونوں کا معنی ایک ہے، جیسا طرقت النعمل اور طارقت ہے یعنی میں نے جوتے کو ایک دوسرے پر سیا، الخصف، کا معنی الخرز، سینا ہے۔ ابو عیبدہ نے جمہور کی قرات کو اختیار کیا ہے (یعنی) (آیت) ” ولولا دفع اللہ “ اور انہوں نے دفاع پڑھنے سے انکار کیا ہے اور کہا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ پر کوئی بھی غالب نہیں آسکتا، مکی نے کہا ہے : یہ وہم ہے باب مفاعلہ نے اس میں وہم پیدا کیا ہے اور ایسا نہیں ہے، اور لفظ اللہ، فعل کے سبب محل رفع میں ہے، یعنی لولا ان یدفع اللہ، اور دفاع مسیبویہ کے نزدیک مبتدا ہونے کے سب مرفوع ہے۔ ” الناس “ مفعول ہے اور (آیت) ” بعضھم الناس “ سے بدل ہے اور ” ببعض “ سیبویہ کے نزدیک مفعول ثانی کے محل میں ہے اور یہ ان کے نزدیک تیرے اس قول کی مثل ہے : ذھبت بزید، تو اس میں زید مفعول کے محل میں ہے، اسے جان لو، مسئلہ نمبر : (2) علماء کا ان لوگوں کے بارے میں اختلاف ہے جنہیں فساد سے بچایا گیا ہے وہ کون ہیں ؟ تو کہا گیا ہے : وہ ابدال ہیں اور وہ چالیس آدمی ہیں ان میں سے جب بھی کوئی فوت ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ دوسرے کو اس کا بدل بنا دیتا ہے اور جب قیامت قریب ہوگی تو وہ تمام فوت ہوجائیں گے ان میں سے بائیس شام میں ہیں اور اٹھارہ عراق میں ہیں۔ حضرت علی ؓ سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ان الابدال یکونون بالشام وھم اربعون رجلا کلما مات منھم رجل ابدل اللہ مکانہ رجلا یسقی بھم الغیث وینصربھم علی الاعداء ویصرف بھم عن اھل الارض البلائ “۔ (1) (بلاشبہ ابدال شام میں ہوں گے اور وہ چالیس آدمی ہیں جب بھی ان میں سے کوئی آدمی فوت ہوا اللہ تعالیٰ اس کی جگہ اور آدمی مقرر فرمادے گا انکے سبب اللہ تعالیٰ بارش برساتا ہے ان کے سبب دشمنوں کے خلاف مدد فرماتا ہے اور ان کے سبب اہل زمین سے بلائیں اور مصبیتیں دور فرماتا ہے۔ حکیم ترمذی نے اسے نوادر الاصول میں ذکر کیا ہے۔ اسی طرح حضرت ابو الدرداء ؓ سے بھی روایت کیا ہے : انہوں نے کہا : بلاشبہ انبیاء علیہم الصلوت والتسلیمات زمین کے اوتار ہیں اور جب نبوت کا سلسلہ منقطع ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے حضور نبی رحمت ﷺ کی امت سے ایک جماعت کو ان کا بدل بنا دیا۔ انہیں ابدال کہا جاتا ہے : اور کثرت صوم وصلوۃ کی وجہ سے ان لوگوں کو فضیلت نہیں دی گئی، بلکہ حسن خلق، صدق وورع، حسن نیت، تمام مسلمانوں کے لئے دلوں کا صاف اور سلامت ہونا اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی چاہنے کے لئے انہیں صبر، حلم، دانشمندی اور بغیر کسی ذلت کے تواضع و انکساری اختیار کرنے کی نصیحت کرنے کے سبب انہیں فضیلت دی گئی، اور وہ انبیاء (علیہم السلام) کے خلفاء ہیں، وہ ایسی قوم ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے لئے چن لیا ہے اور انہیں اپنی ذات کے بارے میں اپنے علم کے ساتھ خالص اور مختص کرلیا ہے اور وہ چالیس صدیق ہیں، ان میں سے تیس آدمی حضرت ابراہیم خلیل الرحمن کے یقین کی مثل پر ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے سبب اہل زمین سے مصائب اور لوگوں سے آفات اور آزمائشوں کو دور فرماتا ہے اور ان کے سبب اہل زمین پر بارش برسائی جاتی ہے اور انہیں رزق دیا جاتا ہے اور ان میں سے کوئی آدمی فوت نہیں ہوتا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ایسا آدمی پیدا فرما دے جو اس خلیفہ اور نائب ہوگا (1) (نوادر الاصول الی بیان عدد الابدال، جلد 1، صفحہ 69، دارصادر بیروت) حضرت ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا : اگر اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی فوجوں کے سبب دشمنوں کو دور نہ کرتا تو مشرکین غالب آجاتے اور وہ مومنین کو قتل کرتے اور شہروں اور مساجد کو برباد کردیتے۔ اور حضرت سفیان ثوری نے کہا ہے : مراد وہ گواہی اور شہادت دینے والے لوگ ہیں جن کے سبب حقوق حاصل کیے جاتے ہیں اور مکی نے بیان کیا ہے کہ اکثر مفسرین نے یہ معنی بیان کیا ہے : اگر اللہ تعالیٰ نماز پڑھنے والوں کے سبب انہیں نہ بچائے جو نماز نہیں پڑھتے اور تقوی اختیار کرنے والوں کے سبب ان کی حفاظت نہ کرے جو تقوی اختیار نہیں کرتے تو وہ لوگوں کو ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کر دے (2) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 338 دارالکتب العلمیہ) اسی طرح نحاس اور ثعلبی نے بھی ذکر کیا ہے، ثعلبی نے کہا ہے اور تمام مفسرین نے کہا ہے : اگر اللہ تعالیٰ نیکو کار مومنین کو فجار اور کفار سے نہ بچائے تو زمین برباد اور فاسد ہوجائے، اور ایک حدیث ذکر کی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ میری امت کے نماز پڑھنے والوں کے سبب نماز نہ پڑھنے والوں سے اور تزکیہ اختیار کرنے والوں کے سبب تزکیہ اختیار نہ کرنے والوں سے اور روزے رکھنے والوں کے سبب روزے نہ رکھنے والوں سے اور حج کرنے والوں کے سبب حج نہ کرنے والوں سے اور جہاد کرنے والوں کے سبب جہاد نہ کرنے والوں سے عذاب دور فرماتا رہے گا اور اگر وہ ان اعمال کے ترک کرنے پر جمع ہوگئے تو اللہ تعالیٰ انہیں آنکھ جھپکنے کی بھی مہلت نہ دے گا، پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ (آیت) ” ولولا دفع اللہ الناس بعضھم ببعض لفسدت الارض “۔ اور حضور نبی مکرم ﷺ سے مروی ہے، آپ نے ارشاد فرمایا : ان اللہ ملائکۃ تنادی کل یوم لولا عباد رکع واطفال رضع وبھائم رتع لصب علیکم العذاب صبا، (بےشک اللہ تعالیٰ کے فرشتے ہیں جو ہر روز ندا دیتے ہیں : اگر عبادت گزار بندے نہ ہوتے، شیر خوار بچے نہ ہوتے اور چرنے والے جانور نہ ہوتے تو تم پر عذاب موسلادھار برسا دیا جاتا) (3) (شعب الایمان، جلد 3، صفحہ 155 حدیث نمبر 9820، دارالکتب العلمیۃ) اسے ابوبکر الخطیب نے اسی معنی میں حضرت فضیل بن عیاض (رح) کی حدیث سے روایت کیا ہے۔ منصور نے ابراہیم عن علقمہ عن عبداللہ ؓ کی سند سے حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” اگر تم میں خشوع کرنے والے آدمی، چرنے والے جانور اور شیر خوار بچے نہ ہوں تو مومنین پر موسلا دھار عذاب برسا دیا جائے (1) (السنن الکبری للبیہقی، صلاۃ الاستسقاء جلد 3، صفحہ 345، دارالفکر) بعض نے یہ معنی لیا اور کہا : لولا عباد للالہ رکع وصبیۃ من الیتامی رضع : اگر اللہ تعالیٰ کے عبادت گزار بندے نہ ہوں اور شیر خوار یتیم بچے نہ ہوں۔ ومھملات فی الفلاۃ رتع صب علیکم العذاب الاوجع : اور جنگل میں چھوڑے گئے چرنے والے جانور نہ ہوں تو تم پر درد ناک عذاب موسلادھار برسا دیا جائے۔ اور حضرت جابر ؓ نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” بیشک اللہ تعالیٰ آدمی کے اپنے بیٹے اور پوتے کی اصلاح کرنے کے سبب اس کی اصلاح فرما دیتا ہے اس کے گھر والوں کی اور اس کے اردگرد کے گھروں کی (اصلاح فرما دیتا ہے) اور وہ مسلسل اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں رہتے ہیں جب تک وہ ان میں ہو۔ “ (2) (جامع البیان للطبری، جلد 2، صفحہ، 755) حضرت قتادہ نے بیان کیا ہے : اللہ تعالیٰ مومن کو کافر کے سبب آزماتا ہے اور کافر کو مومن کے سبب عافیت عطا کرتا ہے، اور حضرت ابن عمر ؓ نے بیان کیا کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ان اللہ لیدفع بالمؤمن الصالح عن مائۃ من اھل بیتہ وجیرانہ البلاء “۔ بیشک اللہ تعالیٰ نیک صالح مومن کے سبب اس کے گھر والوں اور پڑوسیوں میں سے سو افراد سے مصیبت اور آفت کو دور فرماتا ہے۔ (3) (تفسیر معالم التنزیل، جلد 1 صفحہ 355، درالفکربیروت) پھر حضرت ابن عمر ؓ نے یہ آیت پڑھی : (آیت) ” ولولا دفع اللہ الناس بعضھم ببعض لفسدت الارض “۔ اور کہا گیا ہے : یہ دفاع اور بچاؤ اس شریعت کے سبب ہے جو انبیاء ورسل (علیہم السلام) کی زبانوں پر شریعتوں میں سے جاری ہوئیں اور اگر ایسا نہ ہوتا تو لوگ ایک دوسرے سے زبردستی اشیاء چھینتے اور ایک دوسرے کا سامان لوٹتے اور ہلاک ہوجاتے، یہ حسین قول ہے کیونکہ روکنے اور دفاع وغیرہ میں عموم ہے، پس اس میں غور کرلو۔ (آیت) ” ولکن اللہ ذوفضل علی العلمین “۔ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا مومنین سے کفار کے شر کو دور کرنا یہ اس کا فضل اور خاص انعام ہے۔
Ayah 2:252

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 2:252 in the Quran reader

یہ خدا کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو سچائی کے ساتھ پڑھ کر سناتے ہیں (اور اے محمد ﷺ تم بلاشبہ پیغمبروں میں سے ہو

(آیت) تلک ایت اللہ نتلوھا علیک بالحق، وانک لمن المرسلین “۔ یہ آیتیں ہیں اللہ کی ہم پڑھتے ہیں انہیں آپ پر (اے حبیب) ٹھیک ٹھیک اور یقینا آپ رسولوں میں سے ہیں “۔ تلک مبتدا ہے اور (آیت) ” ایت اللہ “ اس کی خبر ہے اور اگر چاہے تو بدل بنالے اور خبر (آیت) ” نتلوھا علیک بالحق “۔ بنالے۔ (آیت) ” وانک لمن المرسلین “ یہ انکی خبر ہے یعنی وانک لمرسل “۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کا آگاہ فرمایا ہے کہ یہ آیات وہ ہیں جن کا ذکر پہلے ہوچکا ہے اور انہیں نبی مرسل کے سوا کوئی نہیں جانتا۔