2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 2:11

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ Open ayah 2:11 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ ڈالو تو کہتے ہیں ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں

آیت نمبر 11 اذا ظرف کی بنا پر حالت نصبی میں ہے اور اس میں عامل قالوا ہے، اذا یہ فعل منتظر کے وقوع پر دلالت کرتا ہے۔ جوہری نے کہا اذا اسم ہے جو زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے اور یہ جملہ کی طرف مضاف ہو کر استعمال ہوتا ہے مثلاً اجیئک اذا احمر البسر واذا قدم فلان، یعنی میں تیرے آؤں گا جب کھجوریں سرخ ہوجائیں گے اور جب فلاں آجائے اور جو چیز اس کے اسم ہونے پر دلالت کرتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ یوم کی جگہ واقع ہوتا ہے۔ مثلاً آتیک یوم یقدم فلان یہ ظرف ہے اور اس میں مجازاۃ کا معنی بھی پایا جاتا ہے۔ شرط کی جزا تین چیزیں ہوتی ہیں : الفعل، الفاء اور اذا۔ فعل کی مثال ان تاتنی آتک۔ فاء کی مثال ان تاتنی فانا احسن الیک، اذا کی مثال، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وان تصبھم سیئۃ بما قدمت ایدیھم اذاھم یقنطون۔ (الروم) اور اگر پہنچتی ہے انہیں کوئی تکلیف بوجہ ان کرتوتوں کے جو آگے بھیجے ہیں ان کے ہاتھوں نے تو وہ ما یوس ہوجاتے ہیں۔ مجازاۃ کے معنی میں اذا اس شعر میں استعمال ہوا ہے : اذا قصرت اسیافنا کان وصلھا خطانا الی اعدائنافتضارب جب ہماری تلواریں قاصر آجائیں گی تو ہمارے قدم انہیں ہمارے دشمنوں تک پہنچائیں گے اور ہم انہیں ماریں گے۔ تضارب کا عطف کان پر ہے، اس لئے یہ مجزوم ہے۔ اگر نضارب مجزوم نہ ہوتا تو فنضارب نصب کے ساتھ ہوتا کبھی اذا پر ما تا کیداً ذکر کیا جاتا ہے پھر اس کے ساتھ جزم دی جاتی ہے۔ فرزدق کا قول ہے : فقام ابو لیلیٰ الیہ ابن ظالم وکان اذا ما یسلل السیف یضرب ابو لیلی ابن ظالم اس کی طرف اٹھا اور وہ جب تلوار سونت لیتا ہے تو مار دیتا ہے۔ سیبویہ نے کہا : کعب بن زہیر نے جو کہا وہ عمدہ ہے : واذا ما تشاء تبعث منھا مغرب الشمس ناشطاً مذعوراً اور جب تو اس سے سورج کے غروب ہونے کے وقت چلنا طلب کرے گا تو وہ اس وقت بھی ایسی تیزی سے اٹھے گی جیسے کوئی جانور شکاری سے ڈرا ہوا ہوتا ہے۔ یعنی عمدہ یہ کہ اذا کے ساتھ جزم نہ دی جائے جیسے اس بیت میں جزم نہیں دی گئی۔ مبرد سے حکایات کیا گیا ہے کہ خرجت فاذاً زید میں اذا ظرف مکان ہے کیونکہ اپنے ضمن میں جثۃ کو لئے ہوئے ہے اور یہ مردود ہے کیونکہ اس کا معنی ہے خرجت فاذا حضور زید۔ یہ مصدر کو اپنے ضمن میں لئے ہوئے ہوتا ہے جیسے دوسرے ظرف زمانہ تقاضا کرتے ہیں۔ ان کا قول ہے۔ الیوم خمر وغداً امر۔ اس کا معنی ہے آج خمر کا وجود ہے اور کل امر کا وقوع ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قیل یہ قول سے مشتق ہے۔ اصل میں قول تھا۔ واؤ کے کسرہ کو قاف کی طرف نقل کیا گیا پھر واؤ یاء سے بدل گئ۔ اور قیل لھم میں لام کو لام میں ادغام کرنا بھی جائز ہے اور دو ساکنوں کو جمع کرنا بھی جائز ہے کیونکہ یاء حرف مدد لین ہے۔ اخفش نے کہا : قیل قاف اور یاء کے ضمہ کے ساتھ بھی جائز ہے۔ کسائی نے کہا : قاف کو ضمہ کی بودے کر پڑھنا بھی جائز ہے تاکہ دلالت کرے کہ یہ مجہول کا صیغہ ہے۔ یہ قیس قبیلہ کی لغت ہے، اسی طرح جیء، غیض، حیل، سیق، سییء اور سیئت (1) میں ہے۔ ہشام نے حضرت ابن عباس، رویس نے یعقوب سے اسی طرح روایت کیا ہے اور ان الفاظ میں سیی اور سیئت کو نافع نے خاص طور پر اشمام سے پڑھا ہے۔ ابن ذکوان نے حیل اور سیق میں بھی اشمام کیا ہے اور باقی قراء نے تمام میں کسرہ دیا ہے۔ ہذیل، بنود بیر جو اسد اور بنی فقعس سے تھے وہ اسے قول واؤ کے سکون کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : لا تفسدوا اس میں لاء نہی ہے، فساد، صلاح کی ضد ہے، اور فساد کی حقیقت، سیدھے راستہ سے عدل کر کے اس کی ضد کی طرف جانا ہے فسد الشیء یفسد فساداً وفسوداً وھو فاسد وفسید آیت میں اس کا معنی ہے زمین میں کفر کر کے اور اہل کفر سے محبت کر کے لوگوں کو محمد ﷺ پر ایمان لانے اور قرآن پر ایمان لانے میں جدائی کر کے فساد نہ کرو۔ بعض علماء نے فرمایا :۔ نبی کریم ﷺ کی بعثت سے پہلے زمین میں فساد تھا، زمین پر ہر قسم کے گناہ کئے جاتے تھے۔ جب نبی کریم ﷺ کی بعثت ہوئی تو فساد اٹھ گیا اور زمین کی اصلاح ہوگئی۔ جب منافقین نے پھر گناہ شروع کئے تو اس کی اصلاح کے بعد فساد کیا جیسا دوسری آیت میں فرمایا : ولا تفسدوا فی الارض بعد اصلاحھا (الاعراف :56) ( تم زمین میں فساد برپا نہ کرو اس کی اصلاح کے بعد) ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فی الارض، الارض مؤنث اسم جنس ہے، اس کے واحد کا حق تھا کہ ارضۃ کہا جاتا لیکن ایسا نہیں کیا۔ اس کی جمع ارضات آتی ہے کیونکہ عرب ایسی مؤنث کی جمع تاء کے ساتھ بناتے ہیں جس کے آخر میں تاء تانیث نہیں ہوتی مثلاً عرسات۔ پھر علماء کہتے ہیں ارضون۔ انہوں نے اس کی جمع واؤ، نون کے ساتھ بنائی ہے اور مؤنث کی جمع واؤ اور نون کے ساتھ نہیں آتی مگر یہ کہ وہ منقوص ہو جسے شبۃ اور ظبۃ، لیکن انہوں نے واؤ اور نون کو الف اور تا جو حذف ہیں ان کے عوض کو ذکر کیا ہے اور را کے فتحہ کو اپنی حالت پر رکھا ہے۔ اور کبھی ساکن کر کے پڑھا ہے۔ اس کی جمع اروض بھی بنائی جاتی ہے۔ ابو الخطاب نے کہا ہے کہ وہ کہتے ہیں ارض، اراض جیسا کہ اہل کے بارے میں کہا ہے : اھل، اھال، اور الاراضی بھی بغیر قیاس کے جمع آتی ہے۔ گویا انہوں نے آرضاً کی جمع بنائی۔ ہر وہ چیز جو نیچے ہو وہ ارض ہے ارض اریضہ یعنی پاکیزہ زمین جس کی اراضت ظاہر ہے۔ قد ارضت کا معنی ہے، پاکیزہ، عمدہ ہے۔ ابو عمرو نے کہا : نزلنا ارضاً اریضۃ یعنی ہم ایسی زمین میں اترے جو آنکھوں کو اچھی لگنے والی تھی۔ کہا جاتا ہے : لا ارض لک۔ جیسے کہا جاتا ہے : لا ام لک۔ الارض جانور کے نیچے والے پاؤں کو کہتے ہیں۔ حمید اپنے گھوڑے کا وصف بیان کرتے ہوئے کہتا ہے : ولم یقلب ارضھا البیطار ولا لحبلیہ بھا حبار الارض سے مراد نفضۃ (جھاڑنا ہے) اور الرعدۃ (کپکبی) کو بھی کہتے ہیں۔ حماد بن سلمہ نے قتادہ سے انہوں نے عبد اللہ بن حارث سے روایت کیا ہے فرمایا : بصرہ میں زمین پر زلزلہ آیا تو حضرت ابن عباس نے کہا : ازلزلت الارض ام بی ارض۔ کیا زمین لرز رہی ہے یا مجھ کو کپکپی طاری ہے۔ ذوالرمہ نے شکاری کا وصف بیان کرتے ہوئے کہا : اذا تو جس رکزا من سنابکھا او کان صاحب ارض او بہ الموم جب اس کے پاؤں کی مدہم سے آواز سنتا ہے یا اسے لرزہ ہے یا اسے برسام کی بیماری ہے۔ الارض کا معنی الرکام بھی ہے قد آوضہ اللہ ایراضاً یعنی اسے زکام لگا دیا۔ فسیل مستأرض دودیۃ مستأرضۃ (راء کے کسرہ کے ساتھ) جس کی زمین میں جڑ ہو۔ اور جب کھجور تنے پر اگ آئے تو اسے راکب کہتے ہیں۔ الاراض اون اور بالوں کی بنی ہوئی بڑی قالین۔ رجل اریض، متواضع اور نیکی کرنے والا شخص۔ اصمعی نے کہا : کہا جاتا ہے : ھو آرضھم ان یفعل ذلک۔ یعنی اس نے انہیں پیدا کیا۔ شیء عریض۔ اریض اس کی پیروی کرنے والا۔ بعض نے اس کو علیحدہ ذکر کیا کہ جدی اریض یعنی موٹا دنبہ یا موٹا تحفہ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : نحن اس کی اصل نحن ہے۔ حاء کی پیش نون کو دی گئی اور حاء کو ساکن کردیا۔ یہ ہشام بن معاویہ نحوی کا قول ہے، الزجاج نے کہا : نحن جمع کے لئے ہے اور جمع کی علامت میں سے واؤ ہے اور ضمہ واو کی جنس سے ہے، جب نحن کو حرکت دینے کی طرف مجبور ہوئے تو انہوں نے ایسی حرکت دی جو جماعت کے لئے تھی۔ زجاج نے کہا : اسی وجہ سے واؤ جمع کو اس ارشاد میں ضمہ دیا ہے : اولئک الذین اشتروا الضللۃ (البقرہ : 16) ( یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے گمراہی کو خریدا) محمد بن یزید نے کہا نحن، قبل اور بعد کی مثل ہے کیونکہ یہ دو یا زائد کی خبر دینے کے لئے ہے۔ انا، واحد کے لئے ہے نحن تثنیہ اور جمع کے لئے ہے۔ کبھی متکلم اس کے ساتھ اپنے متعلق خبر دیتا ہے جیسے نحن قمنا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : نحن قسمنا بینھم معیشتھم (الزخرف : 32) ہم نے خود تقسیم کیا ہے ان کے درمیان سامان زیست کو۔ اور مؤنث اس صورت میں مذکر کے قائم مقام ہوتی ہے جبکہ وہ کلام کرنے والی ہو۔ عورت کہتی ہے : قمت وذھبت، قمنا وذھبنا۔ وانا فعلت ذاک و نحن فعلنا یہ عربوں کا کلام ہے۔ خوب جان لو ! اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : مصلحون یہ اصلح سے اسم فاعل کا صیغہ ہے۔ الصلاح فساد کی ضد ہے، صلح لام کے ضمہ اور فتحہ کے ساتھ دونوں لغتیں ہیں۔ یہ ابن سکیت نے کہا ہے۔ صلوح، صاد کے ضمہ کے ساتھ صلح (بضم اللام) کا مصدر ہے۔ شاعر نے کہا : فکیف باطراقی اذا ما شتمتنی وما بعد شتم الوالدین صلوح جب تم مجھے گالی دو گے تو میں کیسے سر جھکاؤں گا، والدین کو گالی دینے کے بعد صلح نہیں ہوتی۔ اور صلاح مکہ کے اسماء میں سے ہے، الصلح صاد کے کسرہ کے ساتھ نہر کو کہتے ہیں۔ یہ انہوں نے اپنے گمان کے مطابق کیا ہے کیونکہ ان کے نزدیک ان کا فساد کرنا، اصلاح تھا۔ یعنی ہمارا کفار کی مدد کرنا اس لئے تھا کہ ہم ان کے اور مومنین کے درمیان اصلاح کرنا چاہتے تھے۔ یہ ابن عباس وغیرہ کا قول ہے۔
Ayah 2:12

اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 2:12 in the Quran reader

دیکھو ! یہ بلاشبہ مفسد ہیں لیکن خبر نہیں رکھتے

آیت نمبر 12 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الا انھم ھم المفسدون یہ منافقین کے قول کا رد ہے اور ان کو جھٹلانا ہے، ارباب المعانی نے کہا : جس نے دعویٰ ظاہر کیا اس نے جھوٹ بولا، کیا آپ نے ملاحظہ نہیں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا الا انھم ھم المفسدون یہ صحیح ہے ان کو کسرہ دیا گیا ہے، کیونکہ یہ ابتداء کلام میں ہے۔ یہ نحاس کا قول ہے۔ علی بن سلیمان نے کہا : ان پر فتحہ بھی جائز ہے جیسا کہ سیبویہ نے جائز قرار دیا ہے۔ حقا انک منطلق بمعنی الا ہے، اور “ ھم ” اس کا مبتدا ہونا جائز ہے۔ اور المفسدون خبر ہے پھر مبتدا اور خبر، ان کی خبر ہیں اور یہ بھی جائز ہے کہ “ ھم ” انھم میں جو ہاء اور میم ہے اس کی تاکید کے لئے ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ ہم فاصلہ ہو کو فی اس کو عماد کہتے ہیں اور المفسدون ان کی خبر ہے۔ تقدیر عبارت یوں ہے الا انھم المفسدون جیسا کہ اولئک ھم المفلحون۔ کے قول میں گزر چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولکن لا یشعرون ابن کیسان نے کہا : کہا جاتا ہے جو جانتا نہ ہو کہ وہ مفسد ہے تو اس کی مذمت نہیں ہوتی۔ مذمت تو اس کی ہوتی ہے جو جانتا ہو کہ وہ مفسد ہے پھر علم کے باوجود فساد برپا کرے۔ ابن کیسان نے کہا : اس کے دو جواب ہیں یہ خفیۃً فساد کرتے تھے اور ظاہر صلاح کرتے تھے اور وہ یہ نہ جانتے تھے کہ ان کا یہ معاملہ نبی کریم ﷺ کے پاس ظاہر ہوگا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ان کا فساد ان کے نزدیک صلاح تھا اور وہ نہ جانتے تھے کہ یہ فساد ہے۔ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی، حق کو ظاہر کرنے اور اس کی اتبع کو ترک کر کے۔ ولکن یہ حرف تاکید ور استدراک ہے اس میں نفی اور اثبات ضروری ہے۔ اگر اس سے پہلے نفی ہو تو اس کے بعد ایجاب ہوگا۔ اگر اس سے پہلے ایجاب ہو تو اس کے بعد نفی ہوگی۔ اس کے بعد ایک اسم پر اکتفا بھی جائز ہے جب پہلے ایجاب ہو۔ لیکن تو اس کے بعد ماقبل کا مخالف جملہ ذکر کرے گا جیسا کہ اس آیت میں ہے اور تیسرا قول ہے جاءنی زید ولکن عمرو لم یجئ۔ اور یہ جائز نہیں جاءنی زید لکن عمرو پھر تو خاموش ہوجائے کیونکہ لکن کی جگہ بل کی وجہ سے اس جیسی مثال میں مستغنی ہوجاتے ہیں۔ یہ اسی صورت میں جائز ہے جب پہلے نفی ہو جیسے تیرا قول ہے ما جاءنی زید لکن عمرو۔
Ayah 2:13

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا كَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ كَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَهَآءُ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَآءُ وَ لٰكِنْ لَّا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:13 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جس طرح اور لوگ ایمان لے آئے تم بھی ایمان لے آؤ تو کہتے ہیں کہ بھلا جس طرح بیوقوف ایمان لے آئے ہیں اسی طرح ہم بھی ایمان لے آئیں ؟ سن لو کہ یہی بیوقوف ہیں لیکن نہیں جانتے

آیت نمبر 13 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذا قیل لھم، ھم ضمیر سے مراد منافقین ہیں۔ یہ مقاتل وغیرہ کا قول ہے امنوا کما امن الناس یعنی تم بھی محمد ﷺ اور آپ کی شریعت کی تصدیق کرو جیسا کہ مہاجرین نے تصدیق کی اور اہل یثرب میں سے مختلف لوگوں نے تصدیق کی۔ امنوا میں الف قطعی ہے۔ تو کہتا ہے یؤ من، کاف نصب کے مقام پر ہے کیونکہ یہ مصدر محذوف کی صفت ہے یعنی ایمانا کا یمان الناس۔ اللہ تعالیٰ ارشاد ہے : قالوا انؤمن کما امن السفھاء یعنی اصحاب محمد ﷺ ۔ یہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے۔ حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ منافقین نے السفھاء سے اہل کتاب کے مؤمنین مراد لئے۔ یہ منافقین کا قول ہے۔ وہ پوشیدہ اور استہزاء کے طور پر یہ کہتے تھے : اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی مکرم ﷺ اور مومنین کو اس پر آگاہ فرمایا دیا۔ اور ثابت فرمایا کہ بیوقوفی، عقلوں کا نرم ہونا، بصیرت کا فاسد ہونا، ان کی اپنی ذوات میں ہے اور ان کی صفت ہے بتایا کہ یہی بیوقوف ہیں دلوں پر چڑھی ہوئی میل کی وجہ سے جانتے نہیں ہیں، کلبی نے ابو صالح سے انہوں نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ یہ یہود کے بارے میں نازل ہوئی۔ یعنی جب یہود کو کہا گیا کہ ایمان لاؤ جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے یعنی عبد اللہ بن سلام اور اس کے ساتھی تو انہوں نے کہا : کیا ہم ایمان لائیں جیسے السفھاء ایمان لائے یعنی جہال اور ناسمجھ۔ کلام عرب میں السفہ کا معنی ہے خفت اور رقت، کہا جاتا ہے۔ ثوب سفیہ جب کپڑے کی بنائی اچھی نہ ہو یا پرانا اور باریک ہو۔ تسفھت الریح الشجر ہوا نے درخت کو جھکا دیا۔ ذوالرمہ نے کہا : مشین کما افتزت رماح تسفھت اعالیھا مر الریاح النواسم وہ عورتیں چلیں جیسے نیزے حرکت کررہے ہوں ہلکی پھلکی ہوا کے چلنے نے ان کے اوپر والے حصوں کو جھکادیا۔ تسفھت الشیء کسی چیز کو حقیر سمجھنا۔ السفہ، حلم (دانشمندی) کی ضد ہے۔ کہا جاتا ہے : ان السفہ ان یکثر الرجل شرب الماء فلا یروی۔ سفاہیت ہے کہ آدمی زیادہ پانی پیے اور سیر نہ ہو۔ السفھاء کے دونوں ہمزوں میں چار وجوہ جائز ہیں۔ عمدہ وجہ یہ ہے کہ پہلے ہمزہ کو ثابت کرے اور دوسرے کو واؤ سے بدل دے۔ یہ اہل مدینہ کی قرأت ہے اور ابو عمر و کی قرأت سے معروف ہے اور اگر تو چاہے تو دونوں میں تخفیف کرے۔ پہلے تو ہمزہ اور واؤ کے درمیان پڑھے اور دوسرے کو خالص واؤ کے ساتھ پڑھے۔ اگر تو چاہے تو پہلے تخفیف کے اور دوسرے کو ثابت رکھے۔ اگر تو چاہے تو دونوں کو ثابت رکھے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولکن لا یعلمون یہ ولکن لا یشعرون۔ کی مثل ہے۔ یہ پہلے گزر چکا ہے۔ علم، معلوم کی معرفت کو کہتے ہیں جیسا کہ وہ معلوم ہے تو کہتا ہے : علمت الشیء اعلمہ علماً عرفتہ۔ عالمت الرجل فعلمتہ اعلمہ (لام کے ضمہ کے ساتھ) یعنی میں علم کے ساتھ اس پر غالب آیا۔
Ayah 2:14

وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۚ وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰى شَیٰطِیْنِهِمْ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ١ۙ اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 2:14 in the Quran reader

اور یہ لوگ جب مومنوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اور جب اپنے شیطانوں میں جاتے ہیں تو (ان سے) کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں اور ہم (پیروان محمد سے) تو ہنسی کیا کرتے ہیں

آیت نمبر 14 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذا لقوا الذین امنوا قالوا امنا یہ آیت منافقین کے ذکر میں نازل ہوئی۔ اصل میں لقوا، لقیوا تھا۔ ضمہ کو قاف کی طرف نقل کیا گیا اور یاء کو التقاء ساکنین کی وجہ سے حذف کیا گیا۔ محمد بن سمیقع یمانی نے لا قوا الذین آمنوا پڑھا ہے۔ اصل میں لا قیوا تھا۔ یاء کا ما قبل فتحہ تھا۔ اس لئے وہ الف سے بدل گئی پھر دو ساکن لام اور واؤ جمع ہوئے تو الف التقائے ساکنین کی وجہ سے حذف ہوگیا پھر واؤ کو ضمہ کے ساتھ حرکت دی گئی۔ اگر یہ کہا جائے کہ لاقوا میں واؤ کو کیوں ضمہ دیا گیا اور لقوا میں حذف کیوں کیا گیا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ لقوا میں جو واؤ ہے اس سے پہلے ضمہ تھا۔ اگر واؤ کو ضمہ کی حرکت دی جاتی تو زبان پر اس کا تلفظ ثقیل ہوتا پس اس کے ثقل کی وجہ سے اسے حذف کیا گیا اور لا قوا میں حرکت دی گئی کیونکہ اس سے پہلے فتحہ تھا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذا خلوا الی شیطینھم قالوا انا معکم اگر کہا جائے کہ خلوا کا صلہ الی کیوں ذکر ہوا جبکہ معروف یہ ہے کہ اس کا صلہ باء ہوتا ہے، اس کا جواب یہ ہوگا کہ یہاں خلوا بمعنی ذھبوا اور انصرفوا ہے۔ فرزدق کا قول ہے : کیف ترانی قالبا مجنی اضرب امری ظھرہ لبطن قد قتل اللہ زیاداً عنی (1) تو مجھے اپنے ڈھال پھیرنے والا کیسے دیکھتا ہے، میں اس کی پیٹھ پر اس کے بطن کے لئے مارتا ہوں اللہ تعالیٰ نے زیاد کو میری طرف سے قتل کردیا ہو جب صرف کے قائم مقام رکھا تو اس کا صلہ ذکر کیا۔ بعض علماء نے کہا : الی بمعنی مع ہے۔ اس قول میں ضعف ہے۔ بعض علماء نے کہا : الی بمعنی باء ہے (2) ۔ اس کا خلیل اور سیبویہ نے انکار کیا ہے۔ بعض علماء نے کہا : اس کا معنی ہے واذا خلوا من المؤ منین الی شیاطینھم۔ اس صورت میں الیٰ اپنے اصل معنی میں ہوگا۔ الشیاطین، شیطان کی جمع مکسر ہے۔ اس کے اشتقاق اور اس کے معنی کے متعلق قول اعوذ باللہ کے تحت گزر چکا ہے۔ یہاں شیطان سے کون مراد ہیں ؟ اس کے متعلق مفسرین کا اختلاف ہے۔ حضرت ابن عباس اور سدی نے کہا : یہ کفر کے سردار ہیں (3) ۔ کلبی نے کہا : یہ جنوں کے شیاطین ہیں۔ اکثر مفسرین نے کہا : یہ کاہن لوگ ہیں۔ الشیطنۃ کا لفظ وہ ہے جس کا معنی ہے ایمان اور خیر سے دور ہونا۔ جو کچھ ذکر کیا گیا ہے یہ سب کو شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انما نحن مستھزءون۔ یعنی ہمیں جس کی طرف بلایا جاتا ہے ہم اس کی تکذیب کرتے ہیں۔ بعض علماء نے اس کا معنی کیا ہے : ہم تمسخر کرتے ہیں۔ الھزء کا معنی ہے تمسخر کرنا اور دل بہلانا۔ کہا جاتا ہے : ھذء بہ واستھذاً ۔ راجز نے کہا : قد ھذئت منی ام طیسلہ قالت اراہ معدما لا مال لہ ام طیسلہ نے مجھ سے تمسخر کیا۔ اس نے کہا : میں اسے مفلس دیکھتی ہوں، اس کے پاس کوئی مال نہیں۔ بعض علماء نے فرمایا : استہزاء کا معنی انتقام لینا ہے جیسا کہ ایک شاعر نے کہا : قد استھزء وامنھم بالغی مدجج سراتھم وسط الصحاصح جثم انہوں نے ان سے دو ہزار ہتھیار بندوں کے ساتھ انتقام لیا۔ ان کے سردار چٹیل زمین کے درمیان اپنی زمین کو لاز پکڑے ہوئے تھے۔
Ayah 2:15

اَللّٰهُ یَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَ یَمُدُّهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 2:15 in the Quran reader

ان (منافقوں) سے خدا ہنسی کرتا ہے اور انہیں مہلت دیے جاتا ہے کہ شرارت و سرکشی میں پڑے بہک رہے ہیں

آیت نمبر 15 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اللہ یستھزیء بھم یعنی اللہ تعالیٰ ان سے انتقام لے گا اور انہیں سزا دے گا اور ان سے تمسخر کرے گا اور انہیں ان کے تمسخر کی سزا دے گا۔ سزا کو گناہ کے نام سے ذکر کیا جاتا ہے۔ یہ جمہور علماء کا قول ہے۔ اور عرب اپنے کلام میں اس قسم کی ترکیب کثرت سے استعمال کرتے ہیں۔ عمرو بن کلثوم کا قول ہے : الا لا یجھلن احد علینا فنجھل فوق جھل الجاھلینا (1) خبردار ! کوئی ہم پر (حملہ کر کے) جہالت کا مظاہرہ نہ کرے ورنہ ہم زمانہ جاہلیت کی جہالت سے زیادہ جہالت کا مظاہرہ کریں گے۔ اس نے اپنے غلبہ کو جہل سے تعبیر کیا۔ حالانکہ کوئی صاحب عقل جہالت پر فخر نہیں کرتا۔ یہ اس نے کلام کو ملانے کے لئے جہل کا لفظ استعمال کیا ہے پس یہ زبان پر خفیف ہوجائے گا حالانکہ اس کے لفظ اور اس کے اس مفہوم کے درمیان مخالفت ہے۔ عرب جب ایک لفظ کو کسی لفظ کے مقابلہ میں جواب اور جزا ذکر کرتے ہیں تو اس لفظ کی مثل ذکر کرتے ہیں، اگرچہ وہ لفظ اس کے معنی کے مخالف ہوتا ہے۔ اس کی مثالیں قرآن وسنت میں موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وجزؤا سیئۃ سیئۃ مثلھا (الشوریٰ : 40) اور برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے۔ اور فرمایا فمن اعتدی علیکم فاعتدوا علیہ بمثل ما اعتدٰی علیکم (البقرہ : 194) تو جو تم پر زیادتی کرے تو تم اس پر زیادتی کرو لیکن اسی قدر جتنی اس نے تم پر کی ہو۔ جزاء، سیئۃ (برائی) نہیں ہوتی اور قصاص (بدلہ) اعتدا نہیں ہوتا ہے کیونکہ قصاص تو ثابت حق ہوتا ہے۔ اسی طرح فرمایا ومکروا ومکر اللہ (آل عمران : 54) اور یہودیوں نے (مسیح (علیہ السلام) کو قتل کرنے کی) خفیہ تدبیر کی اور (مسیح کو بچانے کے لئے) اللہ نے بھی خفیہ تدبیر کی۔ انھم یکیدون کیدا۔ واکیدا کیداً ۔ (الطارق) یہ لوگ طرح طرح کی تدبیریں کر رہے ہیں اور میں بھی تدبیر فرما رہا ہوں۔ اسی طرح فرمایا : انما نحن مستھزءون۔ اللہ یستھزئ بھم (البقرہ) اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہ مکر ہے نہ استہزاء ہے اور نہ کید ہے بلکہ یہ ان کے مکر اور استہزا کی جزا ہے اور ان کے کید کی جزا ہے۔ اسی طرح فرمایا : یخدعون اللہ وھو خادعھم (النساء : 142) وہ دھوکا دے رہے ہیں اللہ کو اور اللہ تعالیٰ سزا دینے والا ہے انہیں (اس دھوکہ بازی کی) فیسخرون منھم سخر اللہ منھم (التوبہ : 79) تو یہ ان کا بھی مذاق اڑاتے ہیں اللہ تعالیٰ سزا دے گا انہیں اس مذاق کی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ان اللہ لا یمل حتی تملو (1) ولا یسأم حتی تساموا (2) یعنی اللہ تعالیٰ نہیں اکتاتا حتیٰ کہ تم اکتا جاؤ گے اور وہ ملول نہیں ہوتا حتیٰ کہ تم ملول ہوجاؤ گے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس حدیث میں حتیٰ بمعنی واؤ ہے یعنی اور تم اکتا جاؤ گے۔ بعض علماء نے فرمایا : اور تم اکتا جاؤ گے۔ بعض نے فرمایا : وہ تم سے تمہارے اعمال کا ثواب ختم نہیں کرے گا حتی کہ تم عمل چھوڑ دو گے۔ بعض علماء نے فرمایا : اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ایسے افعال کرے گا جو انسان کے خیال میں استہزا، دھوکہ اور مکر ہوں گے۔ جیسا کہ روایت ہے کہ آگ جم جائے گی جس طرح گھی کا تلچھٹ جم جاتا ہے۔ وہ اس آگ پر چلیں گے اور وہ انہیں نجات گمان کریں گے۔ پھر وہ انہیں دھنسا دے گی (3) ۔ کلبی نے ابو صالح سے انہوں نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے واذا لقوا الذین امنوا قالوا امنا (البقرہ : 14) سے مراد اہل کتاب ہیں، منافق لوگ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا اور ان کے استہزا کا ذکر فرمایا ہے۔ وہ جب اپنے شیطانوں کے پاس جاتے ہیں یعنی کفر کے رؤساء کے پاس جاتے ہیں جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ تو کہتے ہیں : ہم تمہارے ساتھ تمہارے دین پر ہیں۔ ہم تو محمد ﷺ کے اصحاب سے تمسخر کرنے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ آخرت میں انہیں اس تمسخر کی سزا دے گا ان کے لئے، جنت سے جہنم کا دروازہ کھولا جائے گا پھر انہیں کہا جائے گا : ادھر آؤ پس وہ آئیں گے تو وہ جہنم میں چلے جائیں گے اور مومنین اپنے پلنگوں پر بیٹھے انہیں دیکھ رہے ہوں گے۔ جب وہ دروازے پر پہنچیں گے تو اسے بند کردیا جائے گا پھر مومنین انہیں دیکھ کر ہنسیں گے، اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے یہی مراد ہے، اللہ یستھزئ بھم۔ یعنی آخرت میں اللہ انہیں اس استہزاء کی سزادے گا جب ان پر دروازے بند ہوں گے تو مومنین ان پر ہنسیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے : فالیوم الذین امنوا من الکفار یضحکون۔ علی الارائک ینظرون۔ ) المطففین) یعنی مومنین دوزخیوں کو دیکھ رہے ہوں گے : ھل ثوب الکفار ما کانوا یفعلون۔ (المطففین) کیوں کچھ بدلہ ملا کفار کو (اپنے کرتوتوں کا) جو وہ کیا کرتے تھے۔ ایک قوم نے کہا : یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور استہزاء سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو ان دنیوی نعمتوں کے ذریعے آہستہ آہستہ دوزخ کی طرف لے جا رہا ہے اللہ تعالیٰ ان کے لئے دنیا میں احسان ظاہر کرتا ہے جبکہ عذاب آخرت ان سے چھپائے ہوئے ہے۔ پس وہ گمان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے جبکہ اللہ تعالیٰ ان پر حتمی عذاب کا فیصلہ کرچکا ہے۔ یہ انسان کی سوچ میں گویا استہزا، مکر اور دھوکہ ہے۔ اس تاویل پر نبی کریم ﷺ کا ارشاد دلالت کرتا ہے : اذا رأیتیم اللہ عزوجل یعطی العبد ما یجب وھو مقیم علی معاصیہ فانما ذلک منہ استدراج۔ جب تم دیکھو کہ اللہ تعالیٰ بندے کو اس کی خواہش کے مطابق عطا فرمایا رہا ہے جبکہ وہ اس کی نافرمانی پر قائم ہے تو یہ اس کی طرف سے استدراج ہے، پھر اس آیت سے یہ مفہوم نکلتا ہے : فلما نسوا ما ذکر وا بہ فتحنا علیھم ابواب کل شیء حتی اذا فرحوا بما اوتوا اخذتھم بغتتۃ فاذاھم مبلسون۔ فقطع دابر القوم الذین ظلموا والحمد للہ رب العلمین۔ پھر جب انہوں نے بھلا دیں وہ نصیحتیں جو انہیں کی گئی تھیں۔ کھول دئیے ہم نے ان پر دروازے ہر چیز کے یہاں تک کہ جب وہ خوشیاں منانے لگے اس پر جو انہیں دیا گیا تو ہم نے پکڑ لیا انہیں اچانک اب وہ ناامید ہو کر رہ گئے۔ تو کاٹ کر رکھ دی گئی جڑ اس قوم کی جس نے ظلم کیا تھا اور تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں جو پروردگار ہے سارے جہاں والوں کا۔ بعض علماء نے سنستدرجھم من حیث لا یعلمون۔ (اعراف) کی تفسیر میں فرمایا : جب وہ کوئی گناہ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ انہیں ایک نعمت عطا فرما دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ویمدھم یعنی ان کے لئے مدت لمبی کردیتا ہے اور انہیں مہلت دیتا ہے اور انہیں ڈھیل دیتا ہے جیسا کہ ارشاد فرمایا : انما نملی لیزدادوا اثماً (آل عمران :178) (صرف اس لئے ہم انہیں مہلت دے رہے ہیں کہ وہ اور زیادہ گمراہی کریں) ۔ اس کی اصل زیادت ہے۔ یونس بن حبیب نے کہا : کہا جاتا ہے شر کے لئے مدّ اور خیر کے لئے امد استعمال ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وامددنکم باموال وبنین (الاسراء : 6) (اور ہم مسلسل تمہیں دیتے رہیں گے مال اور بیٹوں سے) اور فرمایا : وامددنھم بفاکھۃ ولحم مما یشتھون۔ (الطور :22) (اور ہم مسلسل دیتے رہیں گے انہیں (ایسے) میوے اور گوشت جو وہ پسند کریں گے) ۔ اخفش سے حکایت کیا گیا ہے کہ مددت لہ بو لا جاتا ہے جب تو اسے ترک کر دے اور امددتہ بالا جاتا ہے جو تو اسے عطا کرے۔ فراء اور لحیانی سے مروی ہے کہ مددت اس صورت میں استعمال ہوتا ہے جس کی زیادت اس کی مثل سے ہو۔ کہا جاتا ہے : مد النھر اور قرآن میں ہے والبحر یمدہ من بعدہ سبعۃ بحر (لقمان :27) (اور سمندر سیاہی بن جائے اور اس کے علاوہ سات سمندر) اور امددت اس صورت میں استعمال ہوتا ہے جب اس میں زیادتی اس کے غیر سے ہو جیسے تیرا قول امددت الجیش بمدد میں نے لشکر کی کمک کے ساتھ مدد کی۔ اسی سے ہے : یمددکم ربکم بخمسۃ الف من الملئکۃ (آل عمران :125) (مدد کرے گا تمہاری تمہارا رب پانچ ہزار فرشتوں سے) وامد الجرح (زخم میں پیپ پڑگئی) کیونکہ پیٹ زخم کے علاوہ ہے یعنی اس میں پیپ پڑگئی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فی طغیانھم یعنی کفرو گمراہی میں۔ طفیان کی اصل حد سے تجاوز کرنا ہے۔ اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انا لما طغا الماء (الحاقہ : 11) یعنی پانی بلند ہوا اور چڑھ گیا اور فرشتوں نے جو مقدار متعین کی تھی اس سے تجاوز کر گیا اور اللہ تعالیٰ نے فرعون کے بارے فرمایا : انہ طغی۔ (طہ) یعنی اس نے دعویٰ میں اسراف کیا کہ جب اس نے کہا : انا ربکم الاعلیٰ ۔ (النازعات) (میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں ) ۔ آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں لمبی عمر کے ساتھ ڈھیل دی حتیٰ کہ ان کی سرکشی میں اضافہ ہوگیا۔ پس وہ ان کے عذاب میں اضافہ کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یعمھون مجاہد نے فرمایا : یعنی وہ کفر میں متحیر ہیں اور بھٹک رہے ہیں۔ اہل لغت نے بیان کیا کہ عمہ الرجل یعمہ عموھا وعمھا فھو عمہ وعامہ کا معنی ہے آدمی حیران ہوگیا۔ کہا جاتا ہے : رجل عامہ وعمہ متردد اور حیران شخص۔ اس کی جمع عمہ ہے۔ عرب کہتے ہیں : ذھبت ابلہ العمھی۔ جب معلوم نہ ہو کہ اونٹ کہا چلا گیا۔ العمی آنکھ کے (اندھے پن) کے لئے استعمال ہوتا ہے اور العمہ دل کے اندھے پن کے لئے استعمال ہوتا ہے اور قرآن حکیم میں ہے : فانھا لا تعمی الابصار ولکن تعمی القلوب التی فی الصدور۔ (الحج) (حقیقت تو یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتی بلکہ وہ دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں میں ہوتے ہیں ) ۔
Ayah 2:16

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى١۪ فَمَا رَبِحَتْ تِّجَارَتُهُمْ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ Open ayah 2:16 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت چھوڑ کر گمراہی خریدی، نہ تو ان کی تجارت ہی نے کچھ نفع دیا اور نہ وہ ہدایت یاب ہی ہوئے

آیت نمبر 16 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اولئک الذین اشتروا الضللۃ بالھدی سیبویہ نے کہا : اشتروا میں واؤ کو ضمہ دیا گیا ہے تاکہ واؤ جمع اور واوصیلہ میں فرق ہوجائے جیسے وان لو استقاموا علی الطریقۃ (الجن : 16) ۔ ( اور اگر وہ ثابت قدم رہیں راہ حق پر) ۔ ابن کیسان نے کہا : واؤ میں ضمہ دوسری حرکات کی نسبت خفیف ہے کیونکہ ضمہ واو کی جنس سے ہے۔ الزجاج نے کہا : ضمہ کی حرکت دی گئی ہے جیسے نحن میں کہا گیا ہے۔ ابن ابی اسحاق، یحییٰ بن یعمر نے التقاء ساکنین کی اصل پر واو کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے (1) ۔ ابو زید انصاری نے قعنب ابی سمال عدوی سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے واو کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے کیونکہ فتحہ خفیف ہے اگرچہ اس کا ما قبل مفتوح ہے۔ کسائی نے واؤ کے ہمزہ اور اس کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے جیسے ادؤر، اشتروا، شراء سے مشتق ہے اور الشراء یہاں مستعار ہے۔ معنی یہ ہے کہ انہوں نے ایمان پر کفر کو پسند کیا جیسا کہ ارشاد فرمایا : فاستحبوا العمی علی الھدی (فصلت :17) ۔ یہاں شراء سے تعبیر فرمایا کیونکہ شراء اس چیز میں ہوتا ہے جس کو مشتری پسند کرتا ہے لیکن اگر شراء کا معنی معاوضۃ ہو تو پھر یہ معنی نہیں ہوگا کیونکہ منافقین مومن تھے ہی نہیں کہ وہ ایمان بیچتے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : انہوں نے گمراہی کو لیا اور ہدایت کو چھوڑ دیا۔ اس کا معنی ہے : انہوں نے ایمان کو بدلا اور کفر کو ایمان پر پسند کیا۔ وسعت کی بنا پر لفظ شراء کے ساتھ ذکر فرمایا کیونکہ شرا اور تجارت، تبدیلی چاہنے کی طرف لوٹتے ہیں۔ عرب اس شخص کے لئے شرا کو استعمال کرتے ہیں جو کسی چیز کو دوسری چیز سے بدلے۔ ابو ذؤیب نے کہا : ان تذعمینی کنت اجھل فیکم فانی شریت الحلم بعدک بالجھل (اگر تو مجھے گمان کرتی ہے کہ میں تم سے ناواقف ہوں تو میں نے تیرے بعد جہالت کے بدلے حلم کو اختیار کیا۔ ) الضلالہ کا اصل معنی حیرت ہے، نسیان کو بھی ضلالت کہتے ہیں کیونکہ اس میں بھی کچھ حیرت ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فعلتھا اذا وانا من الضالین۔ (الشعراء) اس آیت میں ضالین بمعنی ناسین (بھولنے والے) ہے۔ ہلاکت کو بھی ضلالت کہتے ہیں جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وقالوا ءاذا ضللنا فی الارض (السجدہ :10) (اور کہنے لگے کیا جب (مرنے کے بعد) ہم گم ہوجائیں گے زمین میں ) ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فماربحت تجارتھم اللہ تعالیٰ نے عربوں کی عادت کے مطابق ربح کی نسبت تجارت کی طرف کی۔ (مثلاً ) عرب کہتے ہیں : ربح بیعک وخسرت مفقتک لیل ونھار صائم۔ (1) معنی یہ ہے کہ تو نے اپنی بیع میں نفع اٹھایا اور تو نے اپنی بیع میں خسارہ اٹھایا، تو نے رات کو قیام کیا اور دن کو روزہ رکھا یعنی انہوں نے تجارت میں نفع نہ اٹھایا۔ شاعر نے کہا : نھارک ھائم و لیلک نائم کذلک فی الدنیا تعیش البھائم تو دن بھر گھومتا رہتا ہے اور رات بھر سویا رہتا ہے، دنیا میں حیوان اسی طرح زندگی گزارتے ہیں۔ ابن کیسان نے کہا : تجارۃ وتجائز، ضلالہ وضلائل جائز ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وما کانوا مھتدین (وہ گمراہی کو خریدنے میں ہدایت پانے والے نہ تھے ) ۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ اللہ تعالیٰ کے علم ازلی کی بات ہے (2) ۔ الاھتداء گمراہی کی ضد ہے۔
Ayah 2:17

مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِی اسْتَوْقَدَ نَارًا١ۚ فَلَمَّاۤ اَضَآءَتْ مَاحَوْلَهٗ ذَهَبَ اللّٰهُ بِنُوْرِهِمْ وَ تَرَكَهُمْ فِیْ ظُلُمٰتٍ لَّا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 2:17 in the Quran reader

ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے (شب تاریک میں) آگ جلائی، جب آگ نے اس کے اردگرد کی چیزیں روشن کیں تو خدا نے ان لوگوں کی روشنی زائل کردی اور ان کو اندھیروں میں چھوڑ دیا کہ کچھ نہیں دیکھتے

آیت نمبر 17 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : مثلھم کمثل الذی استوا قد نارا مثلھم مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے خبر کاف میں ہے یہ اسم ہے جیسا کہ اعشی کے قول میں ہے : اتنتھون ولن ینھی ذوی شطط کالطعن یذھب فیہ الزیت والفتل (3) کیا تم روکتے ہو جبکہ ظالم لوگ پیٹ تک پہنچنے والے تیر کی طرح نہ رکیں گے جس میں تیل اور ڈیوٹ چلی جاتی ہے۔ امراء القیس کا شعر ہے : ورحمنا بکابن الماء یجنب وسطنا تصوب فیہ العین طوراً وترتقی ان اشعار میں ک بمعنی مثل ہے یعنی مثل الطعن اور بمثل ابن الماء مراد لیا ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ خبر محذوف ہو۔ تقدیر کلام یوں ہو : مثلھم مستقر کمثل۔ اس صورت میں کاف حرف ہوگا، المثل، المثل والمثیل تمام کا معنی ایک ہے اور اس کا معنی شبیہ ہے۔ متماثلان کا معنی متشابھان ہے۔ اہل لغت نے اسی طرح کہا ہے (1) ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد الذی یہ اسم موصول واحد اور جمع کے لئے واقع ہوتا ہے۔ ابن الشجری ہبۃ اللہ بن علی نے کہا : کچھ عرب جمع کو واحد کے ساتھ تعبیر کرتے ہیں۔ جیسے شاعر نے کہا : وان الذی حانت بفلج دمائھم ھم القوم کل القوم یا ام خالد وہ لوگ جن کے خون بہنے کا وقت فلج کے مقام پر قریب آیا تو اے ام خالد ! وہ قوم ہی کامل قوم تھی۔ (اس شعر میں الذی کو جمع کے لئے استعمال کیا گیا ہے) ۔ بعض علماء نے اللہ تعالیٰ کے اس قول والذی جاء بالصدق وصدق بہ اولئک ھم المتقون۔ (الزمر) میں بھی یہی کہا ہے (یعنی الذی بمعنی الذین ہے) یہ اس لغت کے اعتبار سے ہوگا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : مثلھم کمثل الذی۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے : کمثل الذی استوقد۔ اسی لئے آگے فرمایا ذھب اللہ بنورھم (یعنی جمع کی ضمیر ذکر فرمائی) کلام کے آغاز کو واحد پر اور آخر کو جمع پر محمول کیا، رہا اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد وخضتم کالذی خاضوا (توبہ : 69) اس میں الذی مصدر محذوف کی صفت ہے تقدیر کلام اس طرح ہوگی : خضتم کالخوض الذی خاضوا۔ بعض علماء نے فرمایا : الذی اور استوقد واحد ذکر فرمایا کیونکہ آگ جلانے والا ایک تھا اگر آگ جلانا اس کے سپرد تھا۔ جب روشنی ختم ہوگئی تو ان تمام کی طرف رجوع فرمایا۔۔۔ فرمایا : بنورھم۔ استوقد بمعنی اوقد ہے جیسے استجاب بمعنی اجاب ہے سین اور تاء زائدہ ہیں۔ یہ اخفش کا قول ہے۔ شاعر کا قول ہے : وداع دعا یا من یجیب الی الندی فلم یستجبہ عند ذاک مجیب پکارنے والے نے پکارا : اے آواز کا جواب دینے والے ! اس وقت کسی جواب دینے والے نے جواب نہ دیا۔ نحویوں کا “ لما ” کے جواب میں اختلاف ہے اور نورھم کی ضمیر کے مرجع میں بھی اختلاف ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : لما کا جواب محذوف ہے اور وہ طفئت ہے اور نورھم کی ضمیر کے مرجع میں بھی اختلاف ہے۔ یہ ان کی آخرت کی حالت کی خبر دی جا رہی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : فضرب بینھم بسور لہ باب (الحدید :13) (پس کھڑی کردی جائے گی ان کے اور اہل ایمان کے درمیان ایک دیوار جس کا ایک دروازہ ہوگا) ۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا جواب “ ذھب ” ہے اور نورھم میں ضمیر کا مرجع الذی ہے، اس قول کے مطابق منافق کی تمثیل آگ جلانے کے ساتھ مکمل ہوگی کیونکہ آگ جلانے والے کی بقاء تاریکیوں میں جو نہیں دیکھتا، اس منافق کی بقا کی طرح ہے جو حیرت وتردد میں ہوتا ہے۔ آیت کی مراد یہ ہے کہ یہ منافقین کے لئے مثال دی گئی ہے یہ اس طرح ہے کہ جو وہ ایمان ظاہر کرتے ہیں اس ایمان کی وجہ سے ان کے لئے مسلمانوں کے احکام ثابت ہوتے ہیں۔ مثلاً نکاح، توراث، غنائم، نفسوں، اولاد اور اموال پر امن وغیرہ یہ مشابہ ہے اس شخص کے جو تاریک رات میں آگ جلاتا ہے اس وجہ سے روشنی ہوجاتی ہے وہ دیکھتا ہے جس سے بچنا اور امن مناسب ہوتا ہے۔ پھر جب وہ آگ بجھ جاتی ہے یا ختم ہوجاتی ہے تو اسے اذیت پہنچتی ہے اور وہ متحیر باقی رہ جاتا ہے۔ اسی طرح منافقین جب ایمان لائے تو انہوں نے اسلام کے کلمہ کے ساتھ دھوکا کیا پھر وہ مرنے کے بعد عذاب الیم کی طرف جائیں گے جیسا کہ قرآن حکیم نے بتایا : ان المنفقین فی الدرک الاسفل من النار (النساء : 145) (بےشک منافق سب سے نچلے طبقہ میں ہوں گے دوزخ (کے طبقوں) سے) اور ان کا نور چلار جائے گا، اس لئے وہ کہیں گے انظرونا نقتمس من نورکم (الحدید :13) ۔ ذرا ہمارا بھی انتظار کرو ہم بھی روشنی حاصل کریں تمہارے نور سے۔ بعض علماء نے کہا : منافقین کا مسلمانوں کی طرف متوجہ ہونا اور ان کے ساتھ ان کا کلام کرنا آگ کی طرح ہے اور ان کا ان کی مودت سے پھرنا اور ان کا ان سے منہ پھیرلینا اس آگ کے جانے کی طرح ہے (1) ، اس کے علاوہ بھی علماء کے اقوال ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ارًا، النار مؤنث ہے یہ نور سے مشتق ہے اس کا معنی بھی روشن کرنا ہے اور اس کا الف اصل میں واو کو یاء سے بدلا گیا کیونکہ ما قبل کسرہ ہے۔ ضاءت اور اضاءت دونوں لغتیں ہیں۔ کہا جاتا ہے : ضاء القمر یضواء ضوء واضاء یضییء۔ یہ لازم اور متعدی ہوتا ہے۔ محمد بن سمیقع نے ضاءت بغیر الف کے پڑھا ہے۔ عام لوگ الف کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ شاعر نے کہا : اضاءت لھم احسابھم ووجوھھم دجی اللیل حتی نظم الجذع ثاقبہ ما حولہ۔ ما زائدہ مؤکدہ ہے۔ بعض نے فرمایا : یہ اضاءت کا مفعول ہے اور حولہ ظرف مکان ہے اور حالت جری میں ہے کیونکہ حول اس کی طرف مضاف ہے، ذھب اور اذھب دونوں لغتیں ہیں اور یہ ذھاب سے مشتق ہے۔ اس کا معنی ہے کسی شے کا زوال۔۔۔ وترکھم یعنی انہیں باقی رکھا۔ فی ظلمت یہ ظلمۃ کی جمع ہے۔ اعمش نے لام کے سکون کے ساتھ ظلمات پڑھا ہے اور جنہوں نے لام کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے انہوں نے اسم اور لغت میں فرق کرنے کے لئے ایسا پڑھا ہے۔ اشہب عقیلی نے لام کے فتحہ کے ساتھ ظلمات پڑھا ہے۔ بصریوں نے کہا : ضمہ کو فتحہ سے بدلا گیا کیونکہ وہ خفیف ہے کسائی نے کہا : ظلمات، جمع الجمع ہے یہ ظلم کی جمع ہے۔ لا یبصرون فعل مضارع حال واقع ہو رہا ہے گویا یوں فرمایا : غیر مبصرین اس معنی کے اعتبار سے ظلمات پر وقف جائز نہ ہوگا۔
Ayah 2:18

صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَرْجِعُوْنَۙ Open ayah 2:18 in the Quran reader

(یہ) بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں کہ (کسی طرح سیدھے راستے کی طرف) لوٹ ہی نہیں سکتے

آیت نمبر 18 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے صم بکم عمی۔ صم یعنی ھم ھم یعنی یہ مبتدا محذوف کی خبریں ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود اور حضرت حفصہ کی قراءت میں صماً بکما ًعیماً میں بطور ذم نصب (1) بھی جائز ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ملعونین اینما ثقفوا (الاحزاب :61) (ان پر لعنت برس رہی ہوگی جہاں وہ پائے جائیں گے ) ۔ اسی طرح فرمایا : وامراتہ حما لۃ الحب۔ (اللہب) (اور اس کی جورو بھی بدبخت ایندھن اٹھانے والی ہے ) ۔ شاعر نے کہا : سقول اتخمر ثم تکنفونی عداۃ اللہ من کذب وزور انہوں نے مجھے شراب پلائی پھر مجھے گھیر لیا۔ اللہ ! دشمنوں کی جھوٹ اور غلط بیانی پر میں مذمت کرتا ہوں۔ اس شعر میں عداۃ اللہ بطور ذم منصوب ہے۔ اس مذہب کے مطابق مبصرون پر وقف صحیح ہے اور صما کو ترکھم کی وجہ سے نصب بھی جائز ہے۔ گویا فرمایا : ترکھم صمًا بکمًا عمیًا۔ انہیں بہر، گونگا، اندھا چھوڑ دیا۔ اس مذہب کے مطابق یبصرون پر وقف بہتر نہ ہوگا۔ الصمم کا معنی عرب کلام میں بند ہونا ہے۔ کہا جاتا ہے ؟ قناۃ صماء ایسا نیزہ جو اندر سے کھوکھلا نہ ہو صممت القارورۃ میں نے بوتل کو بند کردیا۔ فالاصم جس کے کان کے سوراخ بند ہوں۔ الابکم جو نہ بولتا ہے نہ سمجھتا ہے اور جو سمجھتا ہو بولتا نہ ہو اسے اخرس کہتے ہیں۔ بعض علماء نے کہا : اخرس اور ایکم ایک ہی ہیں۔ کہا جاتا ہے : رجل ایکم و بکیم یعنی جو پوری طرح گونگا ہو، گونگا پن بالکل ظاہر ہو۔ شاعر نے کہا : فلیت لسانی کان نصفین منھما بکیم ونصف عندی مجری الکواکب العمی، کا معنی بینائی کا چلا جانا، عمی فھواعمی، قوم عمی، اعماہ اللہ، تعامی الرجل جو آدمی اپنے آپ کو اندھا ظاہر کرے۔ عمی علیہ الامر، جب معاملہ ملتبس ہوجائے۔ اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فعمیت علیھم الانباء یومئذ (القصص :66) (اندھی ہوجائیں گی ان پر خبریں اس دن) جو کچھ ہم نے ذکر کیا ہے اس سے مقصود ان کے حواس سے جملہ اور اکات کی نفی نہیں بلکہ ایک مخصوص جہت سے ان کی نفی مقصود ہے۔ تو کہتا ہے : فلان اصم عن الخنا۔ شاعر نے کتنا خوب کہا ہے : اصم عما ساءہ سمیع۔ یعنی بری بات سننے سے بہرہ اس کے علاوہ کو خوب سننے والا ہے۔ ایک اور شاعر نے کہا : وعوراء الکلام صممت عنھا ولو انی اشاء بھا سمیع ٹیڑھی کلام والی، اس سے میں بہرہ ہوں اگر میں چاہوں تو اسے خوب سننے والا ہوں۔ دارمی نے کہا : اعمی اذا ما جارتی خرحت حتی یواری جارتی الجدر میں اندھا ہوتا ہوں جب میری پڑوسن نکلتی ہے حتیٰ کہ میری پڑوسن کو دیواریں چھپا لیتی ہیں۔ کسی نے ایک شخص کو وصیت کی جو اکثر بادشاہوں کے پاس جاتا تھا : ادخل اذا ما دخلت اعمی واخرج اذا ما خرجت اخرس جب تو بادشاہ کے پاس جائے تو اندھا ہو کر داخل ہو اور جب تو نکلے تو گونگا ہو کر نکل۔ قتادہ نے کہا : وہ حق سننے سے بہرے ہیں، حق کہنے سے گونگے ہیں، حق دیکھنے سے اندھے ہیں۔ میں کہتا ہوں : یہی معنی مراد ہے نبی کریم ﷺ کے ارشاد کا جو آپ نے آخر زمانہ کے والیوں کے متعلق حدیث جبریل میں فرمایا۔ واذا رایت الحفاۃ العراۃ الصم البکم ملوک الارض فذاک من اشراطھا۔ (جب تو دیکھے کہ ننگے پاؤں، برہنہ بدن، (حق سننے سے) بہرے، (حق کہنے سے) گونگے زمین کے بادشاہ بن گئے ہیں تو یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ہے (1 ) ۔ واللہ اعلم۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فھم لا یرجعون وہ حق کی طرف نہیں لوٹیں گے۔ یہ اس لئے فرمایا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے علم ازل میں تھا کہ وہ حق کی طرف نہیں لوٹیں گے۔ رجع بنفسہ رجوعاً رجعہ غیرہ کہا جاتا ہے یعنی یہ لازم اور متعدی استعمال ہوتا ہے۔ ہذیل کہتے ہیں : ارجعہ غیرہ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یرجع بعضھم الی بعض القول (سبا : 31) یعنی آپس میں ایک دوسرے کو ملامت کریں گے۔ جیسا کہ قرآن نے سورة سبا میں بیان فرمایا ہے۔