2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 2:140

اَمْ تَقُوْلُوْنَ اِنَّ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطَ كَانُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى١ؕ قُلْ ءَاَنْتُمْ اَعْلَمُ اَمِ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهَادَةً عِنْدَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:140 in the Quran reader

(اے یہود و نصاریٰ ! ) کیا تم اس بات کے قائل ہو کہ ابراہیم اور اسمعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد یہودی یا عیسائی تھے ؟ (اے محمد ﷺ ! ان سے) کہو کہ بھلا تم زیادہ جانتے ہو یا خدا ؟ اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو خدا کی شہادت کو چھپائے جو اس کے پاس (کتاب میں موجود) ہے اور خدا اس سے غافل نہیں جو کچھ تم لوگ کر رہے ہو

آیت نمبر 140 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ام تقولون یہ بمعنی قالوا ہے۔ حمزہ، کسائی اور عاصم نے اور ایک روایت میں حفض نے تقولون تاء کے ساتھ پڑھا ہے یہ عمدہ قراءت ہے کیونکہ مفصل ہے۔ گویا معنی ہے : کیا تم اللہ کے دین کے بارے میں ہم سے جھگڑتے ہو یا تم کہتے ہوا نبی اء کرام تمہارے دین پر تھے۔ یہ ام متصلہ ہے اور جنہوں نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے ان کی قراءت پر ام منقطعہ ہے پس یہ دو کلام ہوں گے۔ اور ام بمعنی بل ہوگا۔ ھودًا یہ کان کی خبر جملہ میں ہے اور غیر قرآن میں ھودا کو رفع ان کی خبر کی حیثیت سے جائز ہے اور کان ملغہ ہوگا۔ یہ نحاس نے ذکر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قل ءانتم اعلم ام اللہ یہ تقریر اور ان کے دعویٰ پر توبیخ ہے کیونکہ وہ یہود یا نصاریٰ تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کا رد فرمایا کہ وہ انہیں تم سے زیادہ جانتا ہے یعنی تم یہودو نصاریٰ نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ومن اظلم یہ لفظا استفہام ہے اور معنی ہے زیادہ ظالم نہیں ہے۔ ممن کتم شھادۃً مطلب یہ ہے کہ یہ جانتے تھے کہ انبیاء کرام اسلام پر تھے بعض علماء نے فرمایا : جو انہوں نے حضرت محمد ﷺ کی صفت سے چھپایا تھا۔ یہ قتادہ کا قول ہے۔ سیاق کلام کے اعتبار سے پہلا معنی زیادہ درست ہے۔ وما بغافل عما تعملون یہ وعید ہے اور آگاہ کرنا ہے کہ اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ رائیگاں نہیں چھوڑے گا بلکہ انہیں ان کے اعمال پر جزادے گا۔ غافل وہ ہوتا ہے جو امور کو جانتا نہیں ہے ان سے غفلت کی وجہ سے۔ یہ الارض الغفل سے ماخوذ ہے۔ یہ وہ زمین ہوتی ہے جس میں کوئی علامت نہیں ہوتی اور عمارت کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ ناقة غفل ایسی اونٹنی جس کی علامت نہ ہو۔ رجل غفل جو امور کا تجربہ نہ رکھتا ہو۔ کسائی نے کہا : ارض غفل، جس پر بارش نہ ہو۔ غفلت عن الشی غفلة وغفولا واغفلت الشئ۔ میں نے اسے چھوڑدیا ہے۔
Ayah 2:141

تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ١ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ١ۚ وَ لَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 2:141 in the Quran reader

یہ جماعت گزر چکی ان کو ان کے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمہارے اعمال (کا) اور جو عمل وہ کرتے تھے ان کی پرسش تم سے نہیں ہوگی

آیت نمبر 141 اس آیت کو دوبارہ ذکر فرمایا کیونکہ یہ تہدید و تخویف کا معنی ضمن میں لئے ہوئے ہے یعنی جب یہ انبیاء اپنی امامت اور فضل کے باوجود اپنے کسب کی جزا پائیں گے تو تم اس کے زیادہ لائق ہو۔ پس تاکید واجب تھی اس لئے اس کا تکرار فرمایا۔
Ayah 2:142

سَیَقُوْلُ السُّفَهَآءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلّٰىهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِیْ كَانُوْا عَلَیْهَا١ؕ قُلْ لِّلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ١ؕ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 2:142 in the Quran reader

احمق لوگ کہیں گے کہ مسلمان جس قبلے پر (پہلے سے چلے آتے) تھے (اب) اس سے کیوں منہ پھیر بیٹھے ؟ تم کہہ دو کہ مشرق و مغرب سب خدا ہی کا ہے وہ جس کو چاہتا ہے سیدھے راستے پر چلاتا ہے

آیت نمبر 142 اس میں گیارہ مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سیقول السفھاء من الناس اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ مومنین کے شام سے کعبہ کی طرف پھرنے میں وہ کہیں گے کہ انہیں کسی چیز نے پھیرا ہے۔ اور سیقول بمعنی قال ہے اور داخل کی جگہ مضارع کو رکھاتا کہ اس کی ہمیشگی پر دلالت کرے اور وہ اس قول پر ہمیشہ رہیں گے۔ من الناس کے قول کے ساتھ خاص فرمایا کیونکہ بیوقوف جمادات و حیوانات میں بھی ہوتے ہیں اور السفھآء سے مراد وہ تمام لوگ ہیں جنہوں نے ماء لاھم کہا۔ السفھاء جمع ہے اس کا واحد سفیہ ہے جس کی عقل کم ہو۔ یہ عربوں کے اس قول سے ہے ثوب سفیہ جب کپڑا کمزور بنا ہوا ہو۔ یہ پہلے گزر چکا ہے اور النساء سفائہ استعمال ہوتا ہے۔ المورج نے کہا : السفیہ وہ ہوتا ہے جو بہت زیادہ بہتان لگائے والا ہو، جھوٹ بولنے والا ہو اور اپنے علم کے خلاف کا ارادہ کرنے والا ہو۔ قطرب نے کہا : السفیہ سے مراد بہت زیادہ ظلم کرنے والا، جاہل ہے۔ السفھاء سے مراد یہاں مدینہ طیبہ کے یہود ہیں۔ یہ مجاہد کا قول ہے۔ سدی نے کہا منافقون ہیں۔ زجاج نے کہا : قریش کے کفار ہیں جب انہوں نے تحویل قبلہ کا انکار کیا تو کہا : محمد ﷺ اپنی پیدائش کی جگہ کا اشتیاق رکھتا ہے۔ عن قریب تمہارے دین کی طرف لوٹ آئے گا، یہود نے کہا : اس پر معاملہ ملتبس ہوگیا ہے اور یہ حیران ہے۔ منافقوں نے کہا : ماولھم عن قبلتھم اور مسلمانوں سے استہزاء کیا۔ ولھم کا معنی ہے : انہیں پھر یا۔ مسئلہ نمبر 2: ائمۃ نے روایت کیا ہے اور یہ لفظ امام مالک کے ہیں۔ حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے لوگ صبح کی نماز میں قباء میں تھے اچانک ایک آنے والا آتا اور کہا : رسول اللہ ﷺ پر آج رات قرآن نازل ہوا ہے اور انہیں کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پس تم کعبہ کی طرف منہ کرلو۔ ان صحابہ کے چہرے پہ کے شام کی طرف تھے تو وہ کعبہ کی طرف پھرگئے۔ امام بخاری نے حضرت براء سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سولہ ماہ یا سترہ ماہ بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی اور آپ پسند فرماتے تھے کہ آپ کا قبلہ بیت اللہ ہو۔ آپ ﷺ نے پہلی نماز جو کعبہ کی طرف منہ کرکے پڑھی وہ عصر کی نماز تھی اور صحابہ کرام نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی پھر جنہوں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی تھی ان میں ایک کسی اور مسجد والوں کے پاس سے گزرا جبکہ وہ رکوع میں تھے تو اس نے کہا : میں اللہ کی گواہی دیتا ہوں میں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ مکہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی ہے تو وہ صحابہ اسی حالت میں بیت اللہ کی طرف گھوم گئے اور تحویل قبلہ سے پہلے فوت ہوگئے تھے اور شہید ہوگئے تھے ہم نہیں جانتے کہ ان کے بارے میں کیا کہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی وما کان اللہ لیضیع ایمانکم (البقرہ : 143) اس روایت میں نماز عصر کا ذکر ہے۔ امام مالک کی روایت میں صبح کی نماز کا ذکر ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : نبی کریم ﷺ پر تحویل قبلہ کا حکم بنی سلمہ کی مسجد میں نازل ہوا تھا جبکہ آپ ظہر کی نماز میں دو رکعت پٖڑھ چکے تھے تو آپ نماز میں ہی پھرگئے تھے اس مسجد کو مسجد قبلتین کہا جاتا ہے۔ ابو الفرج نے ذکر کیا ہے کہ حضرت عباد بن نہیک نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ یہ نماز پڑھی تھی۔ ابو عمر نے ” التمہید “ میں حضرت نویلہ بنت اسلم ؓ سے روایت کیا ہے اور یہ مبایعات (بیعت کرنے والیوں) میں سے تھیں فرماتی ہیں : ہم ظہر کی نماز میں تھے۔ عباد بن بشر بن قیظی آیا اور کہا : رسول اللہ ﷺ نے قبلہ کی طرف منہ کرلیا ہے یا کہا : بیت حرام کی طرف منہ کرلیا ہے۔ پس مرد عورتوں کی جگہ پھرگئے اور عورتیں، مردوں کی جگہ پھر گئیں۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ آیت نماز کے علاوہ حالت میں نازل ہوئی۔ یہ اکثرت کا قول ہے۔ کعبۃ کی طرف پہلی نماز، نماز عصر پڑھی گئی۔ واللہ اعلم روایت ہے کہ جب قبلہ کی تحویل ہوئی تو پہلی نماز جس نے کعبہ کی طرف پڑھی وہ ابو سعید بن معلیٰ تھے۔ حضرت ابو سعید مسجد سے گزر رہے تھے، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا کہ آپ منبر پر لوگوں کو تحویل قبلہ کے بارے خطبہ دے رہے تھے اور آپ یہ آیت تلاوت کر رہے تھے۔ قد نریٰ ۔۔۔۔ فی السماء (البقرہ : 144) حتیٰ کہ آپ آیت سے فارغ ہوئے تو میں (ابو سعید) نے اپنے ساتھی سے کہا : آؤ ہم رسول اللہ ﷺ کے منبر سے اترنے سے پہلے دو رکعتیں پڑھ لیں۔ پس ہم پہلے کعبہ کی طرف نماز پڑھنے والے ہوں گے۔ پس ہم نے جانوروں کو چھپا دیا اور ہم نے دو رکعت نماز پڑھی۔ پھر رسول اللہ ﷺ اترے اور اس دن آپ نے لوگوں کو ظہر کی نماز پڑھائی۔ ابو عمر نے کہا ابو سعید بن معلیٰ کے لئے اس حدیث کے علاوہ کوئی حدیث نہیں ہے حالانکہ سورة فاتحہ کی فضیلت میں کنت اصلی والی حدیث موجود ہے جو بخاری نے نقل کی ہے، یہ پہلے گزر چکی ہے۔ مسئلہ نمبر 3: مدینہ طیبہ تشریف لانے کے کتنے عرصہ بعد تحویل قبلہ ہوا ؟ اس میں علماء کا اختلاف ہے۔ بعض نے فرمایا : سولہ ماہ یا سترہ ماہ بعد قبلہ تبدیل ہوا۔ جیسا کہ بخاری میں ہے۔ دار قطنی نے بھی یہ حدیث حضرت براء سے نقل کی ہے۔ فرمایا : ہم نے رسول اللہ ﷺ کے مدینہ طیبہ آنے کے بعد سولہ ماہ بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھئ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی خواہش دیکھی تو یہ آیت نازل ہوئی : قد نری تقلب وجھک فی السمآء (البقرہ : 144) اس روایت میں بغیر شک کے ت سولہ ماہ کا ذکر ہے۔ مالک نے یحییٰ بن سعید عن سعید بن مسیب کے سلسلہ سے روایت کیا ہے کہ تحویل قبلہ غزوہ بدر سے دو ماہ پہلے ہوا تھا۔ ابراہیم بن اسحاق نے کہا ہجرت کے دوسرے سال رجب میں قبلہ کی تبدیلی ہوئی تھی۔ ابو حاتم سبتی نے کہا : مسلمانوں نے بیت المقدس کی طرف سترہ ماہ اور تین دن متواتر نماز پڑھی۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ آپ ﷺ مدینہ طیبہ بارہ ربیع الاول کو آئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے استقبال کعبہ کا حکم منگل کے دن پندرہ شعبان کو دیا تھا۔ مسئلہ نمبر 4: علماء کا بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے کی کیفیت میں تین مختلف اقوال ہیں : (1) حسن نے کہا کہ یہ رائے اور اجتہاد سے تھا۔ عکرمہ اور ابو العالیہ کا یہ قول ہے۔ (2) دوسرا قول یہ ہے کہ آپ کو بیت المقدس اور کعبہ کے درمیان اختیار دیا گیا تھا تو آپ نے یہود کے ایمان لانے اور ان کے مائل کرنے کے لئے بیت المقدس کو اختیار فرمایا۔ یہ طبری کا قول ہے۔ زجاج نے کہا : مشرکین کی آزمائش کے لئے بیت المقدس کی طرف منہ کیا کیونکہ وہ کعبہ سے الفت رکھتے تھے۔ (3) تیسرا قول یہ ہے، یہ جمہور کا قول ہے اور حضرت ابن عباس وغیرہ کا قول ہے۔ اللہ تعالیٰ کے امر اور اس کی وحی کے ساتھ بیت المقدس کی طرف منہ کیا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو منسوخ کردیا اور کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے کا حکم دیا۔ اور جمہور نے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے استدلال کیا ہے : وما جعلنا۔۔۔۔۔ علی عقبیہ الآیۃ (اور نہیں مقرر کیا ہم نے بہت المقدس کو قبلہ جس پر آپ (اب تک) رہے مگر اس لئے کہ ہم دیکھ لیں کہ کون پیروی کرتا ہے (ہمارے) رسول کی (اور) کون مڑتا ہے الٹے پاؤں) ۔ مسئلہ نمبر 5: اس میں اختلاف ہے کہ جب ابتداء میں نماز مکہ میں فرض ہوئی تو کیا بیت المقدس کی طرف منہ کرنے کا حکم تھا یا مکہ کی طرف منہ کرنے کا حکم تھا ؟ علماء کی ایک جماعت نے کہا : بیت المقدس کی طرف منہ کرنے کا حکم تھا اور مدینہ طیبہ میں بھی سترہ ماہ بیت المقدس کی طرف منہ کرنے کا حکم تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کعبہ کی طرف قبلہ پھیر دیا۔ یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے۔ دوسرے علماء نے کہا : ابتدا میں نماز کعبہ کی طرف منہ کرکے پڑھان فرض کی گئی تھی آپ مکہ میں رہائش کے درمیان کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے رہے، جس پر حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) کی نماز تھی۔ جب آپ مدینہ طیبہ آئے تو سولہ یا سترہ ماہ بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو کعبہ کی طرف پھیر دیا۔ ابو عمر نے کہا : یہ میرے نزدیک اصح قول ہے۔ دوسرے علماء نے کہا : نبی کریم ﷺ جب مدینہ طیبہ آئے تو آپ نے یہود کی الفت چاہی تو آپ ﷺ ان کے قبلہ کی طرف متوجہ ہوئے تاکہ یہ چیز ان کو اسلام کیطرف بلانے کا باعث ہو جب ان کا عناد ظاہر ہوا اور آپ ان سے مایوس ہوگئے تو آپ نے کعبہ کی طرف پھرنا پسند کیا۔ آپ آسمان کی طرف دیکھتے تھے اور آپ کی محبت کعبہ کی طرف تھی کیونکہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قبلہ تھا، یہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : کیونکہ یہ عربوں کو اسلام کی طرف بلانے کا زیادہ باعث تھا۔ بعض نے فرمایا : اس میں یہود کی مخالفت تھی، یہ مجاہد سے مروی ہے۔ ابو العالیہ الریاحی سے مروی ہے، فرمایا : حضرت صالح (علیہ السلام) کی مسجد اور ان کا قبلہ کعبہ تھا، فرمایا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کعبہ کی طرف صخرہ کی جانب نماز پڑھتے تھے یہ تمام انبیاء کا قبلہ تھا۔ صلواٹ اللہ علیہم اجمعین۔ مسئلہ نمبر 6: اس آیت میں واضح دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام اور اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ناسخ و منسوخ ہیں۔ اس پر امت کا اجماع ہے مگر جس نے علیحدہ راہ اختیار کی۔ جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے اور علماء کا اجماع ہے کہ قبلہ اول قرآن سے منسوخ کیا گیا اور یہ دو مرتبہ منسوخ ہوا۔ ایک قول کے مطابق جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ مسئلہ نمبر 7: یہ آیت قرآن کے ساتھ سنت کے منسوخ ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ کیونکہ نبی کریم ﷺ نے بہت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی، جبکہ یہ قرآن میں حکم نہیں تھا اور یہ حکم سنت کی جہت سے تھا پھر یہ قرآن کے ساتھ حکم منسوخ ہوا اور اس عتبار سے کنت علیھا بمعنی انت علیھا ہوگا۔ مسئلہ نمبر 8: اس میں خبر واحد کے ساتھ قطعی علم کے جواز پر دلیل ہے، کیونکہ بیت المقدس کی طرف منی کرنا صحابہ کے نزدیک قطعی تھا پھر اہل قباء کے پاس آنے والا آیا اور انہیں بتایا کہ قبلہ مسجد حرام کی طرف پھر گیا ہے، تو انہوں نے اس کا قول قبول کیا اور وہ کعبہ کی طرف پھرگئے پس خبر واحد کے ساتھ انہوں نے متواتر کو ترک کردیا حالانکہ خبر واحد ظنی ہوتی ہے۔ علماء کا اس کے عقلاً جواز میں اور اس کے وقوع میں اختلاف ہے۔ ابو حاتم نے کہا : مختار اس کا عقلا جواز ہے اگر اس کے ساتھ شرع مکلف کرے، اور رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں قباء کے قصہ کی دلیل کے ساتھ اس کا وقوع بھی ہوا۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک شخص کو کسی علاقہ کا والی بنا کر بھیجتے تھے اور وہ ناسخ و منسوخ کا حکم پہنچاتے تھے۔ یہ رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد ممنوع ہے کیونکہ صحابہ کرام کا اس پر اجماع ہے کہ قرآن اور متواتر معلوم، خبر واحد کے ساتھ نہیں اٹھایا جائے گا۔ سلف و خلف میں سے کوئی بھی اس کے جواز کا قائل نہیں ہے اور جو منع کرتے ہیں انہوں نے اس سے حجت پکڑی ہے کہ یہ چیز محال تک پہنچاتی ہے اور وہ ہے ظن کے ساتھ قطعی امر کا اٹھانا۔ رہا اہل قبا کا قصہ اور نبی کریم ﷺ کا والی بھیجنا وہ علم کے افادہ کے قراء ن پر یا تو نقلاً اور تحقیقاً محمول ہے یا احتمالا اور تقدیرا اس سوال و جواب کی مکمل تفصیل اصل فقہ میں موجود ہے۔ مسئلہ نمبر 9: اس میں دلیل ہے کہ جس کو ناسخ نہ پہنچا ہو تو وہ پہلے حکم کا مکلف ہے، بخلاف اس کے جس نے کہا کہ پہلا حکم ناسخ کے وجود کے ساتھ ساتھ اٹھ جاتا ہے نہ کہ علم کے ساتھ۔ پہلا قول اصح ہے کیونکہ اہل قبا بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے یہاں تک کہ آنے والا اور اس نے انہیں ناسخ کے متعلق بتایا تو وہ کعبہ کی طرف پھرگئے۔ پس ناسخ کا وجود پایا گیا تو وہ لامحالہ اٹھانے والا ہے لیکن اس کے علم کی شرط کے ساتھ۔ لیکن ناسخ خطاب ہے اور وہ اس کے حق میں خطاب نہیں ہوتا جسے خطاب نہ پہنچا ہو۔ اس اختلاف کا فائدہ عبادات میں ظاہر ہوتا ہے جو نسخ کے بعد ادا کی گئیں اور نسخ کے پہنچے سے پہلے ادا کی گئیں، کیا ان کا اعادہ ہوگا یا نہیں ؟ اس پر مبنی ہے وکیل کے تصرف کا مسئلہ جو مؤکل کے معزول کرنے کے بعد تصرف کرتا ہے یا مؤکل کے مرف کے بعد تصریف کرتا ہے یا اسے علم پہنچنے سے پہلے تصریف کرتا ہے۔ اس کے متعلق دو قول ہیں : اسی طرح مضاریت کا مسئلہ ہے اور ھاکم جس کو والی بنائے جب وہ مر جائے یا معزول کیا گیا ہو تو صحیح یہ ہے کہ ان لوگوں میں سے ہر ایک کا فعل نافذ ہوگا اور اس کا حکم رد کیا جائے گا۔ قاضی عیاض نے کہا : اس شخص کے احکام میں کوئی اختلاف نہیں جس کو آزار کیا گیا ہو اور اسے آزادی کے علم نہ ہو اس کے اور لوگوں کے درمیان احکام آواز والے ہوں گے اور اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان اس کے احکام جائز ہوں گے۔ اور اس میں اختلاف نہیں کہ آزاد کی گئی عورت آزادی کے بعد پڑھی گئی کے بارے میں جس پر کوئی ایسا موجب طاری ہو جو اس کی عبادت کے حکم کو تبدیل کر دے جب کہ وہ اس کی عبادت میں ہو، قبا کے مسئلہ پر قیاس کرتے ہوئے۔ پس جس نے ایک حال پر نماز پڑھی پھر نماز مکمل کرنے سے پہلے اس کی وہ حالت بدل گئی تو وہ اپنی نماز کو مکمل کرے اور توڑے نہیں اور اس کی پہلی نماز ہوچکی ہے۔ اسی طرح جس نے برہنہ نماز پڑھی پھر نماز کے اندر ہی اسے کپڑا مل گیا یا حالت صحت میں نماز شروع کی پھر وہ مریض ہوگیا یا مریض تھا پھر صحیح ہوگیا یا بیٹھا تھا پھر قیام پر قادر ہوگیا یالونڈی نماز کے اندر ہی آزاد ہوگئی تو وہ اپنا پردہ لے لے اور سابقہ نماز پر بناء کرے۔ میں کہتا ہوں : جیسے کوئی تیمم کرکے نماز میں داخل ہوا پھر اسنے پانی پالیا تو وہ نماز کو نہ توڑے جیسا کہ امام مالک اور امام شافعی نے کہا ہے۔ بعض نے فرمایا : وہ نما زتوڑ دے یہ امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔ آگے آئے گا۔ مسئلہ نمبر 10: اس میں خبر واحد کے قبول پر دلیل ہے اور اس پر سلف کا اجماع ہے اور نبی کریم ﷺ کی عادت سے تو اتر کے ساتھ معلوم ہے کیونکہ آپ والیوں کو اور مبلغین کو بھجتے تھے جو ایک ایک ہوتے تھے تاکہ وہ لوگوں کو دین سکھائیں اور انہیں رسول اللہ ﷺ کے اوامرو نواہی بتائیں۔ مسئلہ نمبر 11: اسمیں دلیل ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر قرآن تھوڑا تھوڑا اترتا رہا اور ایک حال کے بعد دوسرے حال میں ضرورت کے مطابق اترتا رہا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا دین مکمل کیا جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا : الیوم اکملت کم دینکم (مائد : 3) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قل للہ المشرق والمغرف حجت قائم فرمائی یعنی مشارق و مغارب کی ملکیت اللہ تعالیٰ کے لئے ہے اور جو کچھ ان کے درمیان ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ کے لئے ہے۔ پس اس کے لائق ہے جس جہت کی طرف متوجہ ہونے کا حکم دے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یھدی من یشآء یہ اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قبلہ کی طرف ہدایت دی۔ الصرط سے مراد راستہ ہے المستقیم جس میں ٹیڑھا پن نہ ہو۔ یہ پہلے گزر چکا ہے۔
Ayah 2:143

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَ یَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْكُمْ شَهِیْدًا١ؕ وَ مَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِیْ كُنْتَ عَلَیْهَاۤ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یَّتَّبِعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ یَّنْقَلِبُ عَلٰى عَقِبَیْهِ١ؕ وَ اِنْ كَانَتْ لَكَبِیْرَةً اِلَّا عَلَى الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:143 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے تم کو امت معتدل بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور پیغمبر (آخر الزماں ﷺ تم پر گواہ بنیں اور جس قبلے پر تم (پہلے) تھے اس کو ہم نے اس لئے مقرر کیا تھا کہ معلوم کریں کہ کون (ہمارے) پیغمبر کا تابع رہتا ہے اور کون الٹے پاؤں پھرجاتا ہے اور یہ بات (یعنی تحویل قبلہ لوگوں کو) گراں معلوم ہوئی مگر جن کو خدا نے ہدایت بخشی ہے (وہ اسے گراں نہیں سمجھتے) اور خدا ایسا نہیں کہ تمہارے ایمان کو یونہی کھو دے خدا تو لوگوں پر بڑا مہربان (اور) صاحب رحمت ہے

آیت نمبر 143 اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: وکذلک جعلنکم امۃ وسطا مطلب یہ ہے کہ جس طرح کعبہ زمین کے درمیان ہے اسی طرح تمہیں امت وسط بنایا یعنی تمہیں انبیاء سے کم درجہ اور دوسری امتوں سے بلند درجہ بنایا۔ الوسط کا مطلب العدل ہے۔ اس کی اصل یہ ہے کہ اچھی چیز درمیانی چیز ہوتی ہے۔ ترمذی نے حضرت ابو سعید خدری سے اور انہوں نے نبی کریم ﷺ وکذلک جعلنکم امۃ وسطا کے تحت روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : عدلا یعنی وسط سے مراد عدل ہے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ قرآن میں ہے : قال اوسطھم یعنی درمیان والے اور بہتر شخص نے کہا۔ زبیر نے کہا : ھم وسط یرضی الانام بحکمھم اذا نزلت احدی اللیالی بمعظم ایک اور شاعر نے کہا : انتم اوسط حی علموا بصغیر الامر او احدی الکبر ایک اور شاعر نے کہا : لا تذھبن فی الامور فرطا لا تسألن ان سألت شططا ان تمام اشعار میں وسطا بہتر اور عمدہ کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ وسط الوادی وادی کی بہتر جگہ کو کہتے ہیں جس میں گھاس اور پانی زیادہ ہو۔ جب وسط میں نہ کمی ہوتی ہے نہ زیادتی تو وہ محمود ہوتا ہے۔ یعنی اس امت میں نہ تو نصاریٰ کا غلو ہے جو وہ انبیاء کرام کے بارے کرتے تھے اور نہ یہود کی طرح کوتاہی ہے جو وہ انبیاء کی شان میں کرتے تھے۔ حدیث پاک میں ہے : خیر الامور اوسطھا۔ بہتر کام اچھا کام ہوتا ہے۔ حضرت علی ؓ سے مروی ہے : علیکم بالنمط الاوسط۔ تم پر بہتر جماعت کو پکڑنا لازم ہے۔ بہتر جماعت وہ ہوتی ہے، بلند جس کی طرف اترتا ہے اور نیچے والا اس کی طرف بلند ہوتا ہے۔ فلان من اوسط قومہ، فلاں اپنی قوم سے بہتر ہے۔ وانہ لواسطۃ قومہ و وسط قومہ۔ یعنی وہ اپنی قوم سے بہتر ہے ان میں سے اہل حسب میں سے ہے۔ قد وسط وساطۃ وسطہ۔ الوسط سے نہیں ہے جو دو چیزوں کے درمیان ہوتا ہے الوسط (سین کے سکون کے ساتھ) ظرف ہے تو کہتا ہے : صلیت وسط القوم، جلست وسط الدار کیونکہ یہ اسم ہے۔ جوہری نے کہا : ہر وہ جگہ جہاں بین رکھنا صحیح ہو وہاں وسط ہوگا اور اگر جہاں بین رکھنا صحیح نہ ہو تو وہ وسط (حرکت کے ساتھ) ہوگا اور کبھی سین کو ساکن کیا جاتا ہے اس کی کوئی وجہ نہیں۔ مسئلہ نمبر 2: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لتکونوا لام کی کی وجہ سے منصوب ہے یعنی لان تکونوا۔ شھداء، کان کی خبر ہے۔ علی الناس یعنی محشر میں امتوں کے خلاف انبیاء کے گواہ بنو، جیسا کہ بخاری میں حضرت ابو سعید خدری سے ثابت ہے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے روز حضرت نوح (علیہ السلام) کو پکارا جائے گا۔ وہ کہیں گے : لبیک وسعدیک یا رب۔ اے رب ! میں حاضر ہوں، تیری سعادت سے سعادت حاصل کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : کیا تو نے پیغام پہنچایا تھا ؟ وہ کہیں گے : ہاں۔ پھر ان کی امت سے پوچھا جائے گا، کیا اس نے تمہیں پیغام پہنچایا تھا ؟ وہ کہیں گے : ہمارے پاس تو کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تیری گواہی کون دے گا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کہیں گے : حضرت محمد ﷺ اور آپ کی امت۔ پس یہ گواہی دیں گے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے تبلیغ کی تھی۔ اور حضرت محمد ﷺ تم پر گواہی دیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا یہی مطلب ہے : وکذلک جعلنکم امۃ وسطا لتکونوا شھدآء علی الناس ویکون الرسول علیکم شھیدا۔ ابن مبارک نے اس حدیث کو طویل ذکر کیا ہے۔ اس حدیث میں ہے : امتیں کہیں گی وہ ہمارے خلاف کیسے گواہی دیں گے جنہوں نے ہمیں پایا ہی نہیں۔ اللہ تعالیٰ پوچھیں گے : تم ان کے خلاف کیسے گواہی دو گے جن کو تم نے پایا ہی نہیں۔ امت محمدیہ کے لوگ کہیں گے : اے ہمارے رب ! ہماری طرف تو نے رسول مبعوث فرمایا، ہماری طرف تو نے اپنا عہد اور اپنی کتاب نازل فرمائی، تو نے خود ہم پر بیان کیہا کہ انہوں نے پیغام پہنچایا تھا۔ پس جو تو نے ہمیں عہد دیا تھا اس کی بناء پر ہم نے گواہی دی۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : انہوں نے سچ کہا۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے یہی مراد ہے : کذلک جعلنکم امۃ وسطا۔۔۔۔ الوسط سے مراد عدل ہے۔۔۔۔ لتکونوا شھدآء علی الناس ویکون الرسول علیکم شھیدا۔ ابن نعم نے کہا : مجھے کہ خبر پہنچی ہے کہ قیامت کے روز حضرت محمد ﷺ کی امت گواہی دے گی مگر وہ گواہی نہیں دے گا جس کے دل میں اپنے بھائی کے بارے میں عداوت ہوگی۔ ایک طائفہ نے کہا آیت کا معنی ہے : بعض بعض کے مرنے بعد گواہی دیں گے جیسا کہ صحیح مسلم میں حضرت انس سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : جب آپ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو اس پر خیر سے تعریف کی گئی۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا : اس پر واجب ہوگئی، واجب ہوگئی، واجب ہوگی۔ حضرت عمر نے عرض کی : میرا باپ اور میری ماں آپ پر قربان ہوں۔ جنازہ گزرا اس کی خیر کے ساتھ تعریف کی گئی تو آپ نے فرمایا : واجب ہوگئی، واجب ہوگی، واجب ہوگی ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس کی تم نے خیر کے ساتھ تعریف کی اس کے لئے جنت واجب ہوگی اور جس کی تم نے برائی بیان کی اس کے لئے آگ واجب ہوگئی۔ تم زمین میں اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو۔ تم زمین میں اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو۔ تم زمین میں اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو، تم زمین میں اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو۔ بخاری نے اس کے ہم معنی روایے کی ہے۔ بخاری اور مسلم کے علاوہ میں کئی طرق میں ہے پھر یہ آیت تلاوت فرمائی لتکونوا شھدآء۔۔۔۔ علیکم شھیدا۔ ابان اور لیث نے شہر بن جوشب سے انہوں نے حضرت عبادہ بن صامت سے روایت کیا ہے، فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت کو ایسی تین چیزیں عطا کی گئی ہیں جو سوائے انبیاء کے کسی کو عطا نہیں کی گئیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی مبعوث فرمایا تو اسے فرمایا : مجھ سے دعا مانگ میں تیری دعا قبول کروں گا اور اس (میری) امت کو فرمایا : ادعونی استجب لکم۔ (غافر : 60) تم مجھ سے مانگو میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ اور جب کسی نبی کو بھیجا تو اسے فرمایا : تم پر دین میں کوئی حرج نہیں اور اس امت کو بھی فرمایا : وما جعل علیکم فی الدین من حرج (الحج : 78) اور جب اللہ تعالیٰ نے کسی نبی کو مبعوث فرمایا تو اسے اپنی قوم پر شہید بنایا اور اس امت کو تمام لوگوں پر گواہ بنایا۔ اس حدیث کو حکیم ابو عبد اللہ نے ” نوادر الاصول “ میں نقل کیا ہے۔ مسئلہ نمبر 3: ہمارے علماء نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ہمیں اپنے خاص فضل سے آگاہ فرمایا کہ اس نے ہمیں عدالت کے اسم سے موسوم فرمایا اور تمام مخلوق پر گواہی کا مرتبہ عطا فرمایا۔ اس نے مرتبہ کے اعتبار سے ہمیں اول بنایا اور زمانہ کے اعتبار سے آخر بنایا۔ جس طرح فرمایا : نحن الآخرون والاولون۔ ہم زمانہ کے اعتبار سے آخری ہیں اور مرتبہ اعتبار سے اول ہیں۔ یہ دلیل ہے کہ عادل ہی صرف گواہی دیں گے غیر پر غیر کا قول نافذ نہ ہوگا مگر جب کہ وہ عادل ہو۔ عدالت کا بیان اور اس کا حکم انشاء اللہ سورت کے آخر میں آئے گا۔ مسئلہ نمبر 4: اس میں اجماع کی صحت اور اس کے ساتھ حکم کے وجوب پر دلیل ہے کیونکہ جب وہ عادل ہوں گے وہ لوگوں پر گواہی دیں گے، ہر ہر زمانہ کے لوگ بعد والوں پر گواہ ہیں۔ صحابہ کا قول تابعین پر حجت اور شاہد ہے اور تابعین کا قول بعد والوں پر حجت ہے۔ جب امت شہداء (گواہ) ہے تو اس کا قول قبول کرنا واجب ہے۔ اس شخص کے قول کا کوئی اعتبار نہیں جس نے کہا کہ اس سے پوری امت مراد ہے کیونکہ پوری امت کا اجماع تو قیامت تک ثابت نہ ہوگا۔ اصول فقہ کی کتب میں اس کا بیان ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ویکون الرسول علیکم شھیدا بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے قیامت کے روز رسول مکرم ﷺ تمہارے اعمال پر گواہ ہوں گے۔ بعض علماء نے فرمایا : علیکم بمعنی لکم ہے یعنی تمہارے لئے ایمان کی گواہی دے گا۔ بعض علماء نے فرمایا : تمہارے لئے تم پر تبلیغ کی گواہی دے گا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وما جعلنا القبلۃ التی کنت علیھا بعض علماء نے فرمایا : یہاں قبلہ سے قبلہ اولیٰ مراد ہے کیونکہ فرمایا کنت علیھا بعض نے فرمایا : دوسرا قبلہ مراد ہے اور کاف زائدہ ہے یعنی انت الآن علیھا جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے کنتم خیرا مۃ اخرجت للناس (آل عمران : 110) یعنی انتم خیر امۃ۔ یہ بعض علماء کا قول ہے۔ تفصیل آگے آئے گی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الا لنعلم من یتبع الرسول حضرت علی ؓ نے فرمایا : لنعلم کا معنی ہے لنری۔ (ہم دیکھ لیں) اور عرب رؤیت کی جگہ علم کو اور علم کی جگہ رؤیت کا استعمال کرتے ہیں۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الم ترکیف فعل ربک (الفیل : 1) اس میں الم تر بمعنی الم تعلم ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے مگر تاکہ تم جان لو کہ ہم جانتے ہیں کیونکہ منافقین شک میں تھے کہ اللہ تعالیٰ اشیاء کے پائے جانے سے پہلے انہین جانتا ہے۔ بعض نے فرمایا اس کا معنی ہے ہم یقین والوں کو شک کرنے والوں سے ممتاز کردیں۔ یہ ابن فورک نے بیان کیا ہے اور طبری نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے، بعض نے فرمایا : اس کا معنی ہے تاکہ نبی مکرم ﷺ اور آپ متبعین جان لیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی نسبت اپنی طرف کی جس طرح کہا جاتا ہے، امیر نے ایسا کیا حالانکہ وہ کام اس کے متبعین نے کیا ہوتا ہے۔ یہ مہدوی نے بیان کیا ہے اور عمدہ قول ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے تاکہ حضرت محمد ﷺ جان لیں۔ علم کی نسبت اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف کی تخصیص اور تفضیل کے لئے جس طرح اپنے اس ارشاد میں اپنی ذات کی طرف اشارہ فرمایا : اے ابن آدم ! میں مریض تھا تو نے میری عیادت نہیں کی۔ پہلا قول زیادہ واضح ہے کیونکہ اس کو معنی معاینۃ کا علم ہے جو جزا کا موجب ہے۔ اللہ تعالیٰ غیب اور شہادت کو جاننے والا ہے وہ کسی چیز کے پائے جانے سے پہلے بھی اسے جانتا ہے۔ معلومات پر احوال مختلف ہوتے ہیں اور اس کا علم مختلف نہیں ہوتا بلکہ تمام کے ساتھ ایک تعلق کے ساتھ معلق ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں جو اس معنی کی آیات موجود ہیں ان کا یہی معنی ہے مثلاً ولیعلم اللہ الذین امنوا ویتخذ منکم شھدآء (آل عمران : 140) ، ولنبلونکم حتی۔۔۔۔ والصبرین (محمد : 31) ۔ (یہ اس لئے کہ دیکھ لے اللہ تعالیٰ ان کو جو ایمان لائے اور بنائے تم میں سے کچھ شہید اور ہم ضرور آزمائیں گے تمہیں تاکہ ہم دیکھ لیں تم میں سے جو مصروف جہاد رہتے ہیں اور صبر کرنے والے ہیں) اور اس کے مشابہ آیات۔ یہ آیت قریش کے قول ماولھم۔۔۔ علیھا کا جواب ہے قریش کعبہ سے محبت کرتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے انہیں غیر مالوف سے آزمایا تاکہ ظاہر ہوجائے جو رسول کی اتباع کرتا ہے اس سے جو اتباع نہیں کرتا۔ زہری نے الا لیعلم پڑھا ہے۔ اس قراءت میں من محل رفع میں ہوگا کیونکہ فعل مجہول کا نائب فاعل ہے اور جمہور کی قراءت پر مفعول کی حیثیت سے منصوب ہے یتبع الرسول یعنی استقبال قبلہ کا جو حکم دیا گیا ہے اس میں رسول مکرم ﷺ کی پیروی کرتا ہے۔ ممن ینقلب علیٰ عقبیہ یعنی جو اس کے دین سے مرتد ہوتا ہے کیونکہ قبلہ جب تبدیل ہو اتو مسلمانوں میں سے کچھ مرتد ہوگئے تھے اور ایک قوم منافق ہوگئی تھی۔ وان کا نت لکبیرۃ یعنی قبلہ تبدیل ہونا بہت بڑا تھا۔ حضرت ابن عباس، مجاہد اور قتادہ کا یہ قول ہے۔ عربی میں تقدیر یوں ہوگی۔ وان کا نت التحویلۃ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وان کا نت لکبیرۃ۔ فراء کا خیال ہے : ان اور لام، بمعنی ما اور الا ہے۔ بصری کہتے ہیں : ان ثقیلۃ کو مخففہ کیا گیا ہے۔ اخفش نے کہا : یعنی قبلہ، یا تحویلہ یا تولیہ بھاری ہے۔ الا علی الذین ھدی اللہ یعنی اس نے ہدایت کو پیدا کیا۔ اس سے مراد دلوں میں ایمان ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اولئک کتب فی قلوبھم الایمان (مجادلہ : 22) ۔ یہ وہ لوگ ہیں نقش کردیا ہے اللہ نے ان کے دلوں میں ایمان۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وما کان اللہ لیضیع ایمانکم علماء کا اتفاق ہے یہ ان کے متعلق نازل ہوئی جو بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے ہوئے فوت ہوگئے تھے جیسا کہ بخاری میں حضرت براء بن عازب کی حدیث سے ثابت ہے۔ یہ حدیث پہلے گزر چکی ہے۔ ترمذی نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے، فرمایا : جب نبی کریم ﷺ کو قبلہ کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا گیا تو صحابہ نے کہا : یا رسول اللہ ﷺ ! ہمارے ان بھائیوں کا کیا ہوگا جو بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے ہوئے فوت ہوگئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : وما کان اللہ لیضیع ایمانکم امام ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن، صحیح ہے۔ نماز کو ایمان کہا گیا ہے کیونکہ یہ نیت، قول اور عمل پر مشتمل ہے۔ امام مالک نے فرمایا میں اس آیت کے ساتھ مرجئۃ کا قول ذکر کرتا ہوں کہ جو کہتے ہیں کہ نماز، ایمان میں سے نہیں ہے۔ محمد بن اسحاق نے کہا وما کان اللہ لیضیع ایمانکم یعنی قبلہ کی طرف متوجہ ہونے اور اپنے نبی کی تصدیق کی وجہ سے تمہارے ایمان کو ضائع نہیں کرے گا۔ مسلمانوں کی اکثریت اور اصولین کا نظریہ یہی ہے۔ ابن وہب، ابن قاسم، ابن عبد الحکم اور اشہب نے مالک سے روایت کیا ہے وما کان اللہ لیضیع ایمانکم فرمایا : ایمان سے مراد نماز ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان اللہ بالناس لرءوف رحیم، الرأفۃ، رحمت سے زیادہ ہوتی ہے۔ ابو عمرو بن العلاء نے کہا : الرأفۃ اکثر من الرحمۃ۔ ہم نے اپنی کتاب الاسنی فی شرح اسماء اللہ الحسنی میں اس کا لغوی معنی، اس کے اشعار اور معانی کا ذکر کیا ہے۔ کو فیوں اور ابو عمرو نے لرؤف، فعل کے وزن پر پڑھا ہے یہ بنی اسد کی لغت ہے۔ اسی سے ولید بن عقبہ کا قول ہے : وشر الطالبین فلا تکنہ یقاتل عمہ الرؤف الرحیم کسائی نے حکایت کیا ہے کہ بنی اسد کی لغت فعل کے وزن پر لرأف ہے۔ اوب جعفر بن القعقاع نے لروف بغیر ہمزہ کے ثقیل پڑھا ہے۔ اسی طرح کتاب اللہ میں ہر ہمزہ کو تسہیل کے ساتھ پڑھا ہے جو ساکن ہے یا متحرک ہے۔
Ayah 2:144

قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِی السَّمَآءِ١ۚ فَلَنُوَلِّیَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىهَا١۪ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:144 in the Quran reader

(اے محمد) ہم تمہارا آسمان کی طرف منہ پھیر پھیر کر دیکھنا دیکھ رہے ہیں سو ہم تم کو اسی قبلہ کی طرف جس کو تم پسند کرتے ہو منہ کرنے کا حکم دیں گے تو اپنا منہ مسجد حرام (یعنی خانہ کعبہ) کی طرف پھیر لو اور تم لوگ جہاں ہوا کرو (نماز پڑھنے کے وقت) اسی مسجد کی طرف منہ کرلیا کرو اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی ہے وہ خوب جانتے ہیں کہ (نیا قبلہ) ان کے پروردگار کی طرف سے حق ہے اور جو کام یہ لوگ کرتے ہیں خدا ان سے بیخبر نہیں

آیت نمبر 144 علماء نے فرمایا : یہ آیت، سیقول السفھاء کے قول پر نزول کے اعتبار سے مقدم ہے۔ تقلب وجھک کا معنی ہے : تیرا آسمان کی طرف اپنا چہرہ پھیرنا۔ یہ طبری کا قول ہے۔ زجاج نے کہا : آسمان کی طرف آپ کی نظریں پھیرنا۔ دونوں معانی ایک دوسرے کے قریب ہیں۔ السماء کو ذکر کے ساتھ خاص فرمایا کیونکہ یہ جو چیز اس کی طرف منسوب ہوتی ہے اس کی تعظیم کے ساتھ مختص ہے اور آسمان سے نازل ہوتی ہے مثلاً بارش، رحمت اور وحی۔ ترضاھا یعنی آپ جس کو پسند کرتے ہیں۔ آپ کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے کو پسند فرماتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی قد نریٰ تقلب وجھک فی السمآء۔ ابو اسحاق نے حضرت براء سے روایت کیا ہے، فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے سولہ یا سترہ ماہ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی اور رسول اللہ ﷺ کعبہ کی طرف منہ کرنا پسند کرتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی قد نری تقلب وجھک فی السمآء (البقرہ : 144) اس کا معنی اور اس پر کلام گزر چکا ہے۔ الحمدللہ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فول وجھک شطر المسجد الحرام اس میں پانچ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد فول یہ امر کا صیغہ ہے۔ شطر سے مراد طرف ہے المسجد الحرام سے مراد کعبہ ہے اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : پورے کعبہ کے سامنے۔۔۔ یہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے۔ حضرت ابن عمر نے فرمایا کعبہ کے پرنالہ کے سامنے۔ یہ ابن عطیہ کا قول ہے۔ اور میز اب یہ مدینہ طیبہ اور اہل شام کا قبلہ ہے اور اہل اندلس کا قبلہ ہے۔ میں کہتا ہوں : ابن جریج نے عطا سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بیت اللہ اہل مسجد کے لئے قبلہ ہے اور مسجد اہل حرم کے لئے قبلہ ہے اور حرم، میری امت کے مشرق و مغرب میں رہنے والے اہل زمین کا قبلہ ہے۔ مسئلہ نمبر 2: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : شطر المسجد الحرام، الشطر کے کئی محمل ہیں۔ طرف، جہت جیسا کہ اس آیت میں ہے۔ یہ ظرف مکان ہے جیسے تو کہتا ہے : تلقاءہ وجھتہ۔ ظرف کی حیثیت سے نصب دی گئی ہے یہ مفعول بہ کے قائم مقام ہے، فعل اس میں واقع ہوا ہے داؤد بن ابی ہند نے فرمایا : حضرت ابن مسعود کے مصحف میں اس طرح ہے : فول و جھک تلقاء المسجد الحرام شاعر نے کہا : اقول لام زنباع اقیمی صدور العیس شطر بنی تمیم ایک اور شاعر نے کہا : وقد اظلکم من شطر ثغرکم ھول لہ ظلم یغشا کم قطعا ایک اور شاعر نے کہا : الا من مبلغ عمرا رسولا وما تغنی الرسالۃ شطر عمرو اور شطر الشی کا معنی ہے : اس کا نصف۔ اسی سے حدیث ہے : الطھور شطر الایمان۔ طہارت ایمان کا نصف ہے۔ یہ اضداد میں سے ہے۔ کہا جاتا ہے : شطر الی کذا جب کوئی کسی چیز کی طرف متوجہ ہو۔ شطر عن کذا جب کسی سے اعراض کیا گیا ہو۔ شاطر اس شخص کو کہتے ہیں۔ جو ٹیڑھی راہ اختیار کرے اور وہ اپنے اہل کو خست کی وجہ سے عاجز کر دے۔ شطر وشطر شطارۃ۔ بعض علماء سے شاطر کا معنی پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : جو اس کام کو اختیار کرے جس سے اللہ نے منع کیا ہے۔ مسئلہ نمبر 3: اس میں علماء کا اختلاف نہیں کہ ہر افق میں کعبہ، قبلہ ہے اور اس پر اجماع ہے جو کعبہ کو دیکھ رہا ہو اس پر عین قبلہ کی طرف منہ کرنا فرض ہے۔ اگر اس نے اس کا استقبال ترک کردیا جبکہ وہ کعبہ کو دیکھنے والا تھا اور اس کی جہت کا عالم تھا تو اس کی نماز نہ ہوگی جو اس نے نماز پڑھی ہوگی اس کا اعادہ لازم ہوگا۔ ابو عمرو نے ذکر کیا ہے اور علماء کا اجماع ہے کہ جو کعبہ سے غائب ہے وہ کعبہ کی طرف منہ کرے۔ اگر اس پر کعبہ کی جہت مخفی ہو تو ستاروں، ہواؤں، پہاڑوں وغیرہ سے استدلال کرے اور جو مسجد حرام میں بیٹھا ہو اس کا چہرہ کعبہ کی طرف ہونا چاہئے اور اس کی طرف ایمان اور ثواب کی نیت سے دیکھے۔ روایت ہے کہ کعبہ کی طرف دیکھنا عبادت ہے۔ عطا اور مجاہد کا یہ قول ہے۔ مسئلہ نمبر 4: اس میں اختلاف ہے غائب کا عین کعبہ کی طرف منہ کرنا فرض ہے یا جہت کعبہ کی طرف منہ کرنا فرض ہے ؟ بعض علماء کا پہلا قول ہے۔ ابن عربی نے کہا : یہ ضعیف ہے کیونکہ یہ ایسی تکلیف ہے جس تک پہنچنا ممکن نہیں۔ بعض نے جہت کا قول کیا ہے۔ یہ تین وجوہ سے صحیح ہے : (1) ممکن وہ ہے جس کے ساتھ تکلیف مرتب ہو۔ (2) قرآن میں اس کا حکم ہے قول وجھک شطر المسجد الحرام، وحیث ما کنتم۔ یعنی زمین کے مشرق یا مغرب میں ہو فولوا وجوھکم شطرہ۔ (3) علماء نے لمبی صف سے حجت پکڑی ہے جو قطعی طور پر معلوم ہوتی ہے کہ وہ بیت اللہ کی عرض سے دگنی ہے۔ مسئلہ نمبر 5: اس آیت میں امام مالک اور ان کے موافق قول کرنے والوں کے نظریہ کی واضح حجت ہے کہ نمازی سامنے دیکھے، سجدہ نہ دیکھے۔ ثوری، امام ابو حنیفہ، امام شافعی، حسن بنی حی نے کہا : اپنے سجود کی جگہ کی طرف دیکھے۔ شریک قاضی نے کہا : قیام میں سجدہ کی طرف دیکھے اور رکوع میں قدموں کی طرف دیکھے اور سجدہ میں اپنے ناک کی جگہ کی طرف دیکھے اور قعدہ میں اپنی گود کی طرف دیکھے۔ ابن عربی نے کہا : سامنے دیکھے کیونکہ اگر وہ اپنے سر کو ٹیڑھا کرے گا تو اس کا سر میں جو قیام فرض تھا وہ ضائع ہوگیا، حالانکہ سر تمام اعضاء سے معزز عضو ہے اگر سر کو سیدھا کرے گا اور تکلیف سے زمین کی طرف دیکھے گا تو اسے بہت زیادہ مشقت اور حرج لاحق ہوگی اور دین میں ہم پر حرج نہیں رکھی گئی، لیکن جو اس پر قادر ہو اس کے لئے یہ افضل ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وان الذین اوتوا الکتب اس سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں لیعلمون انہ الحق من ربھم یعنی بیت المقدس سے قبلہ کا پھرنا حق ہے۔ اگر کہا جائے کہ وہ کیسے جانتے تھے جبکہ یہ نہ ان کے دین میں تھا اور نہ ان کی کتاب میں تھا ؟ اس کے دو جواب ہیں۔ ایک یہ کہ جب انہوں نے اپنی کتاب سے جان لیا تھا کہ حضرت محمد ﷺ نبی ہیں تو انہوں نے یہ بھی جان لیا تھا کہ وہ حق کہتے ہیں اور حق کا حکم دیتے ہیں۔ دوسرا جواب یہ ہے : انہوں نے اپنے دین سے نسخ کا جواز جان لیا تھا اگرچہ بعض نے اس کا انکار کیا ہے۔ پس وہ قبلہ کے جواز کو جاننے والے ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وما اللہ بغافل عما یعملون اس کا معنی گزر چکا ہے۔ ابن عامر، حمزہ اور کسائی نے تعلمون تا کے ساتھ پڑھا ہے یہ اہل کتاب یا حضرت محمد ﷺ کی امت کو خطاب ہے۔ اس کی دو وجہیں ہیں : یہ اللہ تعالیٰ کی طرف آگاہ کیا گیا ہے کہ وہ بندوں کے اعمال کو مہمل نہیں چھوڑے گا اور ان سے غافل نہیں ہوگا اور اس کے ضمن میں وعید ہے۔ باقی قراء نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔
Ayah 2:145

وَ لَئِنْ اَتَیْتَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ بِكُلِّ اٰیَةٍ مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَكَ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ١ۚ وَ مَا بَعْضُهُمْ بِتَابِعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ اِنَّكَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَۘ Open ayah 2:145 in the Quran reader

اور اگر تم ان اہل کتاب کے پاس تمام نشانیاں بھی لے کر آؤ تو بھی یہ تمہارے قبلہ کی پیروی نہ کریں اور تم بھی ان کے قبلہ کی پیروی کرنے والے نہیں ہو اور ان میں سے بھی بعض بعض کے قبلے کے پیرو نہیں اور اگر تم باوجود اسکے کہ تمہارے پاس دانش (یعنی وحی خدا) آچکی ہے ان کی خواہشوں کے پیچھے چلو گے تو ظالموں میں داخل ہوجاؤ گے

آیت نمبر 145 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولئن اتیت۔۔۔۔ قبلتک، کیونکہ انہوں نے کفر کیا ہے حالانکہ ان کے لئے حق واضح ہوچکا ہے، انہیں آیات و علامات نفع نہیں دیں گی۔ قبلہ کی جمع مکسر قبل ہے اور جمع سالم قبلات ہے اور کسرہ کو فتحہ سے بدلنا جائز ہے اور تو کہے قبلات اور کسرہ کو حذف کرنا اور باکو ساکن کرنا جائز ہے اور لئن کا جواب لو کے جواب کے ساتھ دیا گیا ہے۔ یہ اس کی ضد ہے کیونکہ لو اپنے جواب میں ماضی اور وقوع کو طلب کرتا ہے اور لئن استقبال کو طلب کرتا ہے۔ فراء اور اخفش نے کہا : لو کے جواب کے ساتھ جواب دیا گیا ہے کیونکہ اس کا معنی ہے لواتیت۔ اسی طرح لئن کے جواب کے ساتھ لو کا جواب دیا جاتا ہے تو کہتا ہے لو احسنت احسن الیک اسی کی مثل قرآن میں ہے : ولئن ارسلنا ریحا فراوہ مصفر لظلوا (روم : 51) یعنی لو ارسلنا ریحا۔ سیبویہ نے اس کی مخالفت کی ہے۔ اس نے کہا : لئن کا معنی لو کے مخالف ہے ایک دوسرے پر داخل نہیں ہوتا۔ اس کا معنی یہ کہ اگر آپ اہل کتاب کے پاس کوئی بھی نشانی لے آئیں وہ تمہارے قبلہ کی پیروی نہیں کریں گے۔ سیبویہ نے کہا : ولئن ارسلنا۔۔۔ لظلوا (روم : 51) کا معنی لیظلن ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وما انت بتابع قبلتھم یہ لفظا خبر ہے لیکن اپنے ضمن میں امر کو لئے ہوئے ہے یعنی اس میں سے کسی شے کی طرف مائل نہ ہوں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ یہود، نصاریٰ کے قبلہ کی پیروی کرنے والے نہیں اور نصاری، یہود کے قبلہ کی پیروی کرنے والے نہیں۔ یہ سدی اور ابن زید سے مروی ہے۔ یہ ان کے اختلاف، تدابر اور گمراہی کے متعلق اگاہ کیا گیا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا یہ معنی ہے کہ جو ان میں سے اسلام لے آئے ہیں وہ ان کے قبلہ کی پیروی کرنے والے نہیں جو اسلام نہیں لائے۔ اور جو اسلام نہیں لائے وہ اسلام لانے والوں کے قبلہ کی پیروی کرنے والے نہیں اور پہلا معنی زیادہ واضح ہے، واللہ تعالیٰ اعلم۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولئن اتبعت اھوآء ھم۔۔۔۔۔ لمن الظلمین اس آیت میں خطاب حضرت محمد ﷺ کو ہے اور مراد آپ ﷺ کی امت کے وہ لوگ ہیں جن کا خواہش کی پیروی کرنا جائز ہے اور خواہش کی پیروی کرنے سے ظالم ہوجاتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ کے لئے ایسا عمل کرنا جائز ہی نہیں ہے جس کی وجہ سے آپ ظالم ہوجائیں نبی کریم ﷺ کی عصمت اور آپ سے ایسے اعمال سرزد نہ ہونے کی قطعیت کی وجہ سے امت کے ارادہ پر محمول ہے۔ معاملہ کی بڑائی کی وجہ سے نبی کریم ﷺ کو خطاب کیا گیا نیز اس لئے کہ آپ پر یہ حکم نازل ہوا۔ الاھواء جمع ہے ھوی کی۔ یہ پہلے گزر چکا ہے اسی طرح علم کی تفسیر بھی گزر چکی ہے اعادہ کا فائدہ نہیں۔
Ayah 2:146

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنْهُمْ لَیَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَؔ Open ayah 2:146 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ ان (پیغمبر آخرالزماں ﷺ کو اس طرح پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانا کرتے ہیں مگر ایک فریق ان میں سے سچی بات کو جان بوجھ کر چھپا رہا ہے

آیت نمبر 146 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الذین اتینھم۔۔۔۔ ابنآءھم، الذین مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے اور یعرفونہ خبر ہے۔ الظلمین کی صفت ہونے کی بنا پر جر میں ہونا بھی صحیح ہے اور یعرفون کا حال ہونا صحیح ہے یعنی وہ آپ ﷺ کی نبوت اور آپ کی رسالت کی صداقت کو جانتے ہیں۔ ضمیر کا مرجع حضرت محمد ﷺ ہیں۔ یہ مجاہد اور قتادہ وغیرہما کا قول ہے۔ بعض نے فرمایا : اس کا مطلب ہے وہ بیت المقدس سے کعبہ کی طرف قبلہ کا پھرنا جانتے تھے کہ وہ حق ہے۔ یہ حضرت ابن عباس، ابن جریج، ربیع اور قتادہ کا قول ہے۔ معرفت میں ابناء (بیٹوں) کو ذکر کیا ہے ان کے نفسوں کا ذکر نہیں کیا اگرچہ نفس زیادہ قریب ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان پر ایک ایسا وقت گزرتا ہے کہ وہ اپنے نفس کے با رے میں کچھ نہیں جانتا اور کوئی ایسا وقت انسان پر نہیں گزرتا جس میں وہ اپنے بیٹے کو نہ جانتا ہو۔ روا یت ہے کہ حضرت عمر نے عبد اللہ بن سلام سے کہا کیا تو حضرت محمد ﷺ کو اسی طرح جانتا ہے جس طرح اپنے بیٹے کو جانتا ہے ؟ عبد اللہ بن سلام نے کہا : ہاں میں آپ کو اپنے بیٹے سے زیادہ جانتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے آسمان میں امین کو اپنی زمین میں اپنے امین کی طرف اس کی نعمت کے ساتھ بھیجا پس میں اسے جان گیا۔ اور میرا بیٹا میں نہیں جانتا اس کی ماں سے کیا ہوا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وان فریقا منھم لیکتمون الحق یعنی محمد ﷺ ۔ یہ مجاہد، قتادہ اور خصیف کا قول ہے۔ بعض نے فرمایا : الحق سے مراد استقبال کعبہ ہے جیسا کہ ابھی ہم نے ذکر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وھم یعلمون یہ عباداً ان کے انکار کی صحت میں ظاہر ہے۔ اسی طرح ہے : وجحدوا بھا واستیقنتھا انفسھم (النمل : 14) اور ارشاد ہے : فلما جآءھم۔۔۔ کفروا بہ (البقرہ : 89)
Ayah 2:147

اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ۠ Open ayah 2:147 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ یہ نیا قبلہ) تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا

آیت نمبر 147 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الحق من ربک، الحق سے مراد استقبال کعبہ ہے۔ نہ وہ جو یہود نے آپ کو اپنا قبلہ بنایا۔ حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے الحق کو منصوب پڑھا، یعلمون کی وجہ سے یعنی وہ حق کو جانتے ہیں اور الزم الحق کی تقدیر پر بھی اس کی نصب صحیح ہے اور رفع مبتدا ہونے کے اعتبار سے ہے یا مبتدا کے اضمار کی بنا پر ہے۔ تقدیر عبارت ہوگی ھو الحق، یا فعل کے اضمار پر ہوگا یعنی جاء الحق۔۔۔ نحاس نے کہا : سورة الانبیاء میں الحق فھم معرضون۔ ہم کسی کو نہیں جانتے کہ اسنے منصوب کے علاوہ پڑھا ہو۔ ان کے درمیان فرق یہ ہے کہ سورة بقرہ میں آیت کے آغاز میں جبکہ سورة انبیاء میں ایسا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فلا تکونن من الممترین۔۔ الممترین کا معنی ہے : شک کرنے والے۔ خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے اور مراد امت ہے، کہا جاتا ہے : امتری فلان فی کذا جب کسی کو کبھی یقین حاصل ہو اور کبھی شک لاحق ہو، اور وہ ان میں سے ہر ایک کو دوسرے سے دور کرے، اس سے المراء (جھگڑنا) ہے، ہر شخص اپنے مقابل کے قول میں شک کرتا ہے۔ الامتراء فی الشیء کسی شی میں شک کرنا، اسی طرح التماری ہے۔ طبری نے استشہاد کے طور پر اعشی کا قول ذکر کیا ہے کہ ممترین کا معنی شاکون ہے۔ تدر علی اسؤق الممترین رکضا اذا ما السراب ارحجن ابن عطیہ نے کہا : اس میں اسے وہم ہوا ہے کیونکہ ابو عبیدہ وغیرہ نے کہا : الممترون۔ شعر میں جو استعمال ہوا اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو اپنے پیروں کے ساتھ گھوڑوں کو تیز چلاتے ہیں۔ شعر میں شک کے معنی میں نہیں ہے جیسا کہ طبری نے کہا ہے۔ میں کہتا ہوں : اس میں شک کا معنی موجود ہے کیونکہ مالک اپنے گھوڑے کو آزماتا ہے کہ یہ چلنے کی عادت پر قائم ہے یا نہیں تاکہ اسے کوئی مصیبت لاحق نہ ہو، یا یہ ابتدا میں خریدنے کے وقت ہوتا ہے وہ اسے چلاتا ہے تاکہ اس کے چلنے کی مقدار جان لے۔ جوہری نے کہا مریت الفرس جب تو کوڑے وغیرہ کے ساتھ اس کا چلنا نکالے۔ اسم المریۃ ہے یہ میم کے کسرہ کے ساتھ ہے کبھی میم کو ضمہ دیا جاتا ہے، مریت الناقۃ مریا جب تو اس کی کھیری کو مس کرے تاکہ دودھ دو ہے، امرث جب اس کا دودھ اتر آئے۔ اسم المریۃ ہے میم کے کسرہ کے ساتھ اور میم کو ضمہ دینا غلط ہے۔ المریۃ کا معنی شک ہے کبھی اس کو ضمہ دیا جاتا ہے یہ ضمہ اور کسرہ دونوں کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔